Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

Excuse me۔۔۔۔۔۔۔۔
دھیان کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک لڑکی اس سے ٹکرائی تھی اور اُسے کھڑی گھور رہی تھی سکندر نے اس کے آگے چٹکی بجائی

سنائی نہیں دیتا یا اندھی ہو ہٹو سامنے سے
وہ اسی طرح کھڑی رہی تو وہ نا گواری سے بولا مگر وہ ٹس سے مس نا ہوئی سکندر خود ہی سائڈ سے نکلنے لگا تو وہ پھر سامنے آکر اس کا راستہ روک گئی سکندر دوسری سائڈ سے آیا تو پھر ہٹ کر اس کے سامنے ہو گی سکندر نے اُسے غصے و حیرت سے دیکھا

کر کیا رہی ہو تم۔۔۔۔

میں کیا کر رہی ہوں یہ تو تقدیر کر رہی ہے جو مجھے آج اپنے خوابوں کے شہزادے سے ملا دیا
وہ اس کے غصے کو نظر انداز کیے شرماتے ہوئے بولی

۔۔۔۔۔میں نے جتنا سوچا تھا اس سے کہیں زیادہ ہینڈسم ہے آپ
وہ شرمنانے کی بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے انگلیاں مروڑ رہی تھی اور سکندر حیرت سے اس کی باتیں سن رہا تھا

راستہ چھوڑو جانے دو مجھے

میں تو ہٹنا چاہتی ہوں لیکن کیا کروں میری نظریں آپ کے چہرے سے ہٹنے کو تیار ہی نہیں ہے بس کہہ رہی ہے دیکھے جاؤ دیکھے جاؤ دیکھے جاؤ
اس نے مسکرا کر کہتے ہوئے آنکھیں بند کی اور اتنی دیر میں سکندر وہاں سے نکل گیا

یہ کون ہے اور ایسے کھلے عام سکندر پر لائن کیوں مار رہی ہے
ماہر نے اس منظر کو دیکھ کر کہا اریشہ ہنسی اس کی بات پر

کیوں کے یہ لائن اُسے سکندر کی امی نے دی ہے۔۔۔۔
اریشہ نے ہنستے ہوئے بتایا تو ماہر نے اُسے نا سمجھنے والے انداز میں دیکھا

یہ نایاب ہے ماہر جی سکندر کی کزن اور امی جی اسے اپنی بہو بنانا چاہتی ہے

اچھا لیکن یہ ایسی حرکتیں کیوں کر رہی ہے
ماہر حیران ہوتے ہوئے بولا

کیوں کے میں نے اُسے ایسا کرنے کو کہا ہے
میں نے اُسے سکندر کے بارے میں سب بتا دیا اور وہ تیار ہے سکندر سے شادی کرنے کے لیے اور بس ایک کوشش کر رہی ہے اس کا دل بدلنے کی محبت سخت سے سخت دل کو پگھلا دیتی ہے ماہر جی اور سکندر کو نفرت سے نکالنے کے لیے محبت کی ضرورت پڑےگی اور نایاب پر مجھے پورا یقین ہے وہ سکندر کو بدل دیگی
اریشہ نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا

اتنی انٹیلیجنٹ ہو تم۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نے اس کو مسکرا کے دیکھا

وہ تو میں ہوں۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں گھما کر بولی ماہر نے اُسے گلے لگانا چاہا تو فوراً پیچھے ہٹ گئی

کیا کر رہے ہے مہندی بگڑ جائے گی۔۔۔۔۔

یہ مہندی ہلدی شادی میرے لیے مصیبت بن گئی ہے ملنے تک موقع نہیں مل رہا تم سے
وہ جھنجھلا کر بولا

بس اور ایک دن کی تو بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اریشہ نے اس کی حالت پڑ ہنستے ہوئے کہا

اور اس کے بعد۔۔۔۔۔۔
وہ شرارت سے مسکرایا اور اس کی جانب جھکا

اس کے بعد آپکا سر۔۔۔۔۔۔۔
اریشہ جلدی سے کہہ کر اندر بھاگ گئی۔
💜💜💜💜💜💜

عریشہ کی ہر شکایت کو اُس نے ختم کر دیا تھا آج اُسے دوبارہ اپنی زندگی میں شامل کر کے اُس رشتے کو مضبوط کر لیا تھا اب کوئی کمی نہیں تھی جو اُن کے درمیان خلش پیدا کر سکے آج صحیح معنی میں خوش تھی اُس کا دل خوش تھا اور وہی مسکراہٹ اُس کے ہونٹوں پر بھی نظر آرہی تھی ماہر کی محبت نے اُسے زیادہ خوبصورت بنا دیا تھا اور کچھ سرخ جوڑے اور دلہن کے روپ میں سفید سلور قمیص میں وہ بھی ہر حد سے بڑھ کر دلکش لگ رہا تھا اُس کے چہرے اور آنکھیں سے صاف عریشہ کی محبت جھلکتی تھی

مام مجھے اس سب میں کوئی انٹریسٹ نہیں ہے آپ مجھے کیوں لے کر آئی ہے
شادی کے فنکشن میں نفیسہ اُسے زبردستی لے کر آئی تھی جب کے اُسے سخت کوفت محسوس ہو رہی تھی

تجھے کسی سے ملوانے

کس سے

۔وہ دیکھ رہے ہو۔۔۔۔وہ نایاب ہے تمہارے ماموں کی بیٹی ۔۔۔۔۔
نفیسہ نے دور کھڑی نایاب کی جانب اشارہ کیا کو اس کے دیکھتے ہے مسکرائی

تو میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔
اس نے نایاب کے بعد نفیسہ کو دیکھا

تمہیں کیسی لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
نفیسہ نے جھجھکتے ہوئے پوچھا کے جانے کیا کہہ دے سکندر نے اُنہیں مشکوک نگاہوں سے دیکھا

میں چاہتی ہوں تم اس سے شادی کرو۔۔۔۔۔۔۔
اس کی نظروں سے وہ سمجھ گئی تھی کے وہ پھٹ سکتا ہے اس لیے فوراً بولی اور سکندر نے دوبارہ نایاب کو دیکھ اب کی بات نایاب نے پوری بے شرمی سے اُسے آنکھ ماری

شادی وہ بھی اس سے۔۔۔۔۔۔۔

مجھے شادی ہی نہیں کرنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔وہ نفیسہ کی جانب دیکھ کے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے وہاں سے چل دیا بنا اُسے ایک بھی بات کا موقع دیے

کہاں جا رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔
نایاب نے سامنے آکر اس کا راستہ روکا سکندر اس کے سائڈ سے نکلنے لگا وہ پھر سامنے آگئی اور اپنا ہاتھ آگے کر دیا

میرے فنگر میں یہ رنگ پھنس گئی ہے آپ نکال دینگے پلیز مجھ سے نکل نہیں رہی ہے

میں نوکر نہیں ہوں تمہارا ہٹو یہاں سے۔۔۔۔۔۔
سکندر نے غصے سے کہا اور وہاں سے جانے لگا

جائیے ویسے بھی یہ کام آپ کے بس کا نہیں ہے
نایاب کی بات پر وہ رک کر پلٹا

کیا کہا تم نے۔۔۔۔

یہی کے یہ اتنا آسان کام نہیں ہے جو آپ کر پائے
نایاب نے بات کو دہرایا سکندر واپس اس کے پاس آیا اور اس کے چہرے پر نظریں جمائے اس کا ہاتھ پکڑا اور پوری طاقت لگا کے رنگ کو باہر کھینچا لیکن رنگ اتنی تائٹ تھی نہیں اس لیے فوراً نکل گئی اور وہ حیرت سے رنگ کو دیکھنے لگا نایاب کھلکھلا کر ہنسی

یہ کیا بکوس ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بكواس نہیں بہانا آپ کے قریب آنے کا
نایاب نے مسکراتے ہوئے کہا

کیوں یہ پاگل پن کر رہی ہو تم

سکندر حیران ہوتے ہوئے بولا پہلی دفع اُس نے کوئی بےشرم لڑکی دیکھی تھی

کیوں کے۔۔۔۔

وہ شرماتے ہوئے اُسے دیکھنے لگی

I love you۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور جلدی سے کہہ کر بھاگ گئی سکندر نے فوراً اطراف میں دیکھا کے کوئی دیکھ تو نہیں رہا پھر اُسے جاتے ہوئے دیکھ اور سر نفی میں ہلا دیا

💜💜💜💜💜💜💜💜

کہاں جا رہے ہو ۔۔۔۔

کمرے کے دروازے تک پہنچا تو رائنا نے آکر اُس کا راستہ روک دیا

اندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے میرا نیک نکالو۔۔۔

وہ کس لیے۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہر نے حیرت سے پوچھا

اندر جانے کے لیے۔۔۔۔۔

آپ بڑی بہن ہے میری ۔۔۔۔۔۔۔نیک چھوٹی بہن مانگتی ہے ۔۔۔۔۔۔

ماہر نے اُسے یاد دلاتے ہوئے کہا

تو کیا ہوا اب مجھے بھی تو کسی نے نیک لینا ہے اُس کے لیے بڑا بھائی کہاں سے بناؤں اس لیے چھوٹے سے ہی لے رہی ہوں

رائنا اپنی جانب سے خلاصۃ کیا

نہیں یہ چیٹنگ ہے آپ نہیں مانگ سکتی

میں تو مانگ سکتی ہوں نا بھائی۔۔۔۔۔۔۔

عالیہ نے وہاں آتے ہوئے کہا تھوڑا جھجھکتے ہوئے کے جانے اُس کا ریکشن کیسا ہو ماہر اُس کی بات پر مسکرایا اور والیٹ سے کچھ پیسے نکال کر اُس کی جانب بڑھائے جس پر رائنا نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھتے ہوئے اُسے گھورا ماہر نے ہنستے ہوئے باقی کے نوٹ نکال کر اُس کی طرف بڑھائے

اب تو جانے دیجئے مجھے۔۔۔۔۔۔۔

رائنا اور عالیہ اُس کی بات پر ہنس دی اور اسکا راستہ چھوڑ دیا

💜💜💜💜💜💜

وہی کمرہ جہاں آج پھر وہ دلہن بن کر بیٹھی تھی وہ کمرہ اور دلہن آج دونوں بدلے ہوئے تھے آج اُس سجے سجائے کمرے میں موم بتی کی ڈھیروں روشنی اُسے روشن کیے ہوئے تھی آج وہاں گلاب کی مہک فضاؤں میں گھلی ہوئی تھی عریشہ کے دل میں آج کوئی ڈر کوئی خدشہ نہیں تھا بس خوشی تھی ایک عام لڑکی کی طرح مشکلیں تو آئیں تھی لیکن اُن مشکلوں سے لڑ کر وہ جیتی تھی اور آج اپنے کھوئے ہوئے پل واپس پا کر خوش تھی سامنے لگی ماہر کی تصویر دیکھ کر وہ مسکرائی تھی اُس تصویر کو پہلی دفع دیکھتے ہی اُس کے دل میں وہ شخص اُتر چکا تھا اور اب اُس کے عشق میں عریشہ خود کو بھول چکی تھی دروازہ کھلنے کی آواز پر اُس نے دوپٹہ چہرے کے آگے کر لیا ماہر اندر آکر اُس کے قریب بیٹھ گیا تھا اور اُس کے چہرے سے دوپٹہ ہٹا کر پیچھے کیا اور ہاتھ گال پر رکھے اُسے غور سے دیکھنے لگا عریشہ نے نظریں نہیں اٹھائی

اب اس کے بعد لگا دل تو دل لگی ہوگی۔

ہم تم پر اپنی محبت تمام کر بیٹھے۔۔۔۔

وہ اُسی انداز میں اُسے دیکھتے رہا اور عریشہ نے اُسے داد دینے والے انداز میں دیکھا وہ سیدھا ہو کر بیٹھا اور اُس کے چہرے پر بکھرتے بالوں کو دھیرے سے اُس کے چہرے سے ہٹایا

بکھری ہوئی زلف اشارہ میں کہہ گئی

میں بھی شریک ہوں تیرے حالِ تباہ میں

اُس نے دوبارہ شعر پڑھا لیکن اُس کی قربت پر وہ چاہ کے بھی مسکرائی نا پائی ماہر نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اُس پر اپنے ہونٹ رکھے

تجھے چھو کر دیکھوں تو

میری محبت روحانی لگے

اور تیری محبت روانی لگے

ماہر نے اُسے گلے لگاتے ہوئے اُسے اپنے حصار میں قيد کیا تھا اور اُس کے دوپٹے کو اُس سے الگ کیا

تیری خوشبو تیری باتیں تیرا چہرہ تیری یادیں

چھپانے کو میرے دل۔میں ہزاروں قید خانے ہے

ماہر نے اُس کے بالوں کی خوشبو کی اپنے اندر ااتارتے ہوئے اُس کے کان میں سرگوشی کی تھی عریشہ اُس کے اس نئے روپ پر حیران بھی تھی اور سرشار بھی ماہر نے اُس کے پیشانی پر ہونٹ رکھتے ہوئی بنا ہٹائے اُس کے ہونٹوں تک لے گیا تھا اور دھیرے سے چھو کر اُنھیں آزاد کیا تھا

ملا لوں تیری سانسوں کو اپنی سانسوں میں۔

قریب اتنا آؤں کے انتہا کر دوں۔۔۔۔۔۔

وہ جب بولا تو اُس کے اتنے قریب تھا کے اُس کے لب ہلتے ہوئے عریشہ کے گالوں کو چھو رہے تھی ۔۔۔۔۔۔۔اور اُس کی سانسوں کی تپش سے عریشہ کے گال دہکنے لگے تھے۔ اُس نے دونوں ہاتھ ماہر کی پشت پر رکھ دیئے تھے۔ اُس کے سارے منصوبے فیل ہو گئے تھے ماہر کو تنگ کرنے کے۔۔۔۔۔ماہر ایک بار پھر اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اُس کے ہونٹوں پر جھکا تھا اور عریشہ نے اُس کے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے اُسے روکا تھا

کیا بات ہے آج تو آپ کے اندر مرزا غالب نظر آرہا ہے

ابھی عمران ہاشمی بھی نظر آئے گا

ماہر نے اُس اپنے ہونٹوں سے اُسکی انگلی ہٹاتے ہوئے شرارت سے کہا

رکیے۔۔۔۔۔۔۔پہلے منہ دکھائی ۔۔ ۔۔۔۔

اُس کے آگے بڑھنے پر عریشہ نے اُس کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے پیچھے کیا

ابھی اتنا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔

وہ بدمزہ ہوتے ہوئے بولا

جی ہاں۔۔۔۔بہت ضروری ہے نکالئے جلدی۔۔۔۔۔۔

عریشہ نے اُس کے غصے کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا تو وہ اُسے خفگی سے گھورتے ہوئے وہاں سے اٹھا اور عریشہ ہنس دی ماہر نے ڈراور سے باکس نکال کر اُس کے ہاتھ میں رکھا اور کھول کر اُس میں سے ایک خوبصورت سا نیکلس نکالا جو نازک سا ڈائمنڈ کا تھا ماہر نے بنا کچھ کہے اُس کے گلے میں نیکلس پہناتے ہوئے اُس کی پشت پر ہونٹ رکھے عریشہ نے اُسے گھورا

ایسے کیا دیکھ رہی ہو اب تو شادی ہو گئی نا اور اس بار پورے ہوش و حواس میں ہر رسم پوری کر کے کی ہے اسلئے خبردار جو اب کوئی نخرے کیے

وہ اُس کے گھورنے پر مصنوعی غصے سے بولا اور اریشہ بنا ہنسے نہ رہ سکی

ماہر بھی اُس کے ہنسنے پر ہنستے ہوئے اُسے دیکھنے لگا

ویسے ہم مردوں کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے سماج نے۔۔۔۔لڑکیوں کو منہ دکھائی اور ہم مردوں کو کچھ نہیں یہ کیا بات ہوئی

ماہر نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا

بات تو صحیح ہے ۔۔۔۔۔۔

عریشہ نے ہنسی روکے کہا

اور نہیں تو کیا ہمیں بھی منہ دکھائی ملنا چاہیے کیا ہم لوگو کا منہ نہیں ہوتا

ماہر نے دکھی ہوتے ہوئے کہا

واقعی بڑے افسوس کی بات ہے۔۔لیکن خیر۔۔۔۔۔۔۔آپ فکر مت کیجئے میں آپ کے ساتھ یہ زیادتی نہیں ہونے دونگی۔۔۔۔۔بتائیے کیا چاہیے آپ کو۔

پکّا دوگی۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہر نے اُس کے سر سے مانگ ٹیکہ نکالتے ہوئے پوچھا

ہاں بلکل۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے نا ۔۔۔۔۔کھیلنے کے لیے۔۔۔۔۔پیارے پیارے کیوٹ کیوٹ سے بچے چاہیے

ماہر نے سوچتے ہوئے کہا اور مسکرایا

بچے۔۔۔۔۔۔عریشہ نے حیرت سے پوچھا

ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔یہی کوئی ۔۔۔۔دس بارہ۔۔۔۔۔۔

ماہر اُسے دیکھ کر شرارت سے مسکرایا

بس۔۔۔۔۔۔۔۔

اریشہ نے وہی حیرانی اب بھی ظاہر کی

بسس ۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہر نے احسان جتانے والے انداز میں کہا اور اریشہ نے اُسے گھورتے ہوئے اُسے دھکا دیا وہ بیڈ پر گرا عریشہ نے اُس کے سینے پر ہلکے ہاتھوں سے وار کیے اور وہ ہنستا چلا گیا

آپ مردوں کی ڈیمانڈ ایسی ہوتی ہے اسی لیے یہ آپشن نہیں دیا آپ کو۔۔

عریشہ اُسے شرم دلاتے ہوئے بولی ماہر نے اُس کے دونوں ہاتھ پکڑتے ہوئے اُسے خود پر گرایا

بدتمیز لڑکی اتنا بھی نہیں جانتی کے آج کی رات شوہر پر ہاتھ نہیں اٹھاتے ۔۔۔۔۔۔

اور شوہر بے شرمی کرے تو کیا کرنا چاہیے

عریشہ نے اُسے گھورتے ہوئے کہا

خود بھی بے شرم ہو جانا چاہیے

اُس کے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے وہ مسکرا کر بولا

اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عریشہ بھی اُس کی بات پر ہنسی اور جلدی اُسے اُس کے ہونٹوں پر کس کر پیچھے ہوئی

لیجئے ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔

دھیرے سے ہنستے ہوئے بولی ماہر نے آنکھیں پھاڑے حیرت اور خوشی کے ملے جول تاثرات سے اُسے دیکھا اور اُس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے قریب کرنا چاہا عریشہ نے کشن کھینچ کر بیچ میں رکھ دیا اور ماہر کے ہونٹوں نے اُس کشن کو چھوا تب تک عریشہ اٹھ کر بیڈ سے اتر گئی

This is not fair۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اٹھتے ہوئے بولا

Everything is fair in love and war

عریشہ نے کشن اُس کی جانب اچھالا اور ہنستے ہوئے بولی

اچھا تو یہ بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہر نے کھڑے ہو کر بیڈ سے چھلانگ لگائی اور اُسے کوئی بھی موقع دیے بنا اپنی گرفت میں لے کر سختی سے خود میں بھیچ لیا

زندگی میں مشکلیں بھی آتی ہے لیکن اُن کا سامنا کرنے والا ہی عقل مند ہے قسمت پر رونے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ہمیں خود مضبوط بن کر اپنی زندگی کی کمیوں کو ختم کرنا ہوگا اس کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے ایک ہمت اور دوسرا خدا پر یقین اور یہی ہے جو ایک دن اُس کمی کو آپ کی زندگی کی خوبصورتی بنا دےگی

So….

Stay positive…

Stay happy….