Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

وہ دروازے کے قریب کھڑا اس اُلجھن میں تھا کے دستک دے یا نہ دے اندر جائے یا نا جائے جیسے ہی اُس نے دروازے پر دستک دینے کے لیے ہاتھ رکھا عریشہ نے دروازہ کھولا تھا اور وہ گرتے گرتے بچا تھا عریشہ اُسے حیرت سے دیکھ رہی تھی اور وہ سیدھا ہو کر بمشکل مسکرا رہا تھا عریشہ نے واپس اندر جاتے ہوئے اُس کی جانب پشت کر دی تھی ماہر نے اپنی بیوقوفی پر سر پے ہاتھ مارا اور اندر آیا
وہ ۔۔۔۔۔۔میں یہ پوچھنے آیا تھا کے ۔۔۔۔۔۔یہ میرا روم تھا ۔۔۔۔مطلب ہے۔۔۔۔۔مطلب تھا۔۔۔۔۔۔۔افف
اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا بولے شاید وہ پہلا لڑکا تھا جو کسی لڑکی سے مخاطب ہونے میں گھبرا رہا تھا وجہ تھی اُس لڑکی کی آنکھیں جو ہر وقت اُسے کھا جانے والے انداز میں دیکھتی تھی

مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔۔مجھے کہاں سونا ہے۔۔۔۔۔۔
آخر اُس نے اطمینان رکھتے ہوئے پوچھا

جہنم میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عریشہ نے اُس کی جانب دیکھ کے ہاتھ باندھتے ہوئے جواب دیا ماہر نے لب بھینچ کر اُسے دیکھا

میں پہلے کبھی گیا نہیں تمہارے پاس فل ایڈریس ہو تو دے دوگی پلیز۔۔۔۔۔
ماہر نے بنا غصّہ کیے اُسی کے انداز میں پوچھا

باہر نکلیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ کی بے حسی پر وہ آنکھیں چھوٹی کیے اُسے دیکھنے لگا

دروازہ وہاں ہے ۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُس کے یوں دیکھنے پر اشارے سے دروازے کی جانب ہاتھ بڑھایا

مجھے پتہ ہے۔۔۔۔

پیروں کا بھی پتہ ہوگا آپ کو انہیں استمال کرکے باہر جائیے اب ۔۔۔
عریشہ نے وہیں انداز برقرار رکھا نا وہ ناراضگی دکھا رہی تھی نا غصّہ اس وقت وہ ہٹلر لگ رہی تھی ماہر اُسے دیکھ کر سر نفی میں ہلاتے ہوئے باہر نکل گیا لیکن دروازے میں رک کر۔اُسے ایک بار اور گھورنا نہیں بھولا

وہاں سیڑھیاں ہے ۔۔۔ ۔
اُس کے دیکھنے پر عریشہ دروازہ بند کرنے کے ارادے سے آگے بڑھی

پتہ ہے مجھے۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نے پہلی بار اُسے غصے سے جواب دیا اور اب سچ میں اُسے برا لگا تھا عریشہ کا یہ انداز

ہاں آپ کو تو سب پتہ ہے سوائے میرے۔۔۔۔۔۔۔
اور پہلی ہی دفعہ اُس نے عریشہ کے لہجے میں ناراضگی محسوس کی تھی
💜💜💜💜💜💜

پتہ نہیں وہ کیا چاہتی ہے ۔۔۔۔بات کرنا تو دور میری کوئی بات سننے کو بھی تیار نہیں ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔بار بار غصّہ کرتی رہتی ہے گھورتی رہتی ہے منہ پر دروازہ بند کر دیتی ہی مجھے بہت انسلٹ فیل ہونے لگی ہے اب

عریشہ سیڑھیاں اترتی ہوئی ماہر کو فون پر بات کرتے دیکھ کر رک گئی
وہ غصے میں لگ رہا تھا

وہ تکلیف میں ہے ماہر۔۔۔۔۔۔۔۔دل ٹوٹا ہے اسکا۔۔۔۔۔اور تمہیں اُسے سنبھالنا ہوگا ۔۔۔۔۔۔اُس نے بھی ہمیشہ تمہیں سنبھالا نا ہر مشکل سے لڑ کر تمہارا ساتھ دیا اب جب اُسے تمہاری ضرورت ہے تو کیا تم اُسے اکیلا چھوڑ دوگے
رائنا نے اُسے سمجھانے کی کوشش کی

میں کوشش تو کر رہا ہوں نہ آپی۔۔۔۔میرے لیے بھی بہت مشکل ہے مگر میں پھر بھی پیچھے نہیں ہٹا ۔۔۔اُس کا غصّہ اُس کی بے حسی سب اگنور کررہا ہوں میں صرف دادی کے لیے ۔۔۔دادی یہ سوچ سوچ کر پریشان رہتی ہے کے میں سب کچھ بھول گیا ہوں مجھے میری شادی یاد نہیں۔۔۔میں اُن کی خاطر ایک نئی شروعات کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔صرف اسی لیے میں بار بار اُس سے بات کرنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر کے لہجے میں صاف ظاہر ہو رہا تھا کے عریشہ پر وہ کتنا ناراض تھا لیکن عریشہ کو اُس کی یہ بات ٹھیس پہنچا گئی کے وہ یہ سب صرف دادی کے لئے کر رہا ہے

وہ بہت سمجھدار ہے ماہر میں خود پہلی بار اُسے ایسے دیکھ رہو ہوں اور شاید اُس کی ناراضگی جائز ہے اتنا کچھ کرنے کے بعد کم سے کم یہ نہیں ڈسرو کرتی تھی وہ۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے لیکن اُس کی بھی تو کوئی غلطی نہیں ہے نہ ۔۔۔۔۔۔۔وہ پیار کرتی ہے تم سے۔۔۔۔۔۔

رائنا کی بات پر وہ ایک پل چپ رہا

مجھے نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔۔اگر ایسا ہوتا تو یوں بار بار انسلٹ کرنے کی بجائے میری بات سنتی اٹلسٹ یہ تو جان لیتی کے میں کیا سوچتا ہوں ۔۔۔مگر اُسے تو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا مجھ سے ۔۔۔۔۔اُسے فرق نہیں پڑتا تو مجھے بھی فرق نہیں پڑتا
ماہر نے لا پرواہی صرف ظاہر کی تھی حالانکہ اُسے فرق پڑتا تھا عریشہ آگے مزید نہیں سن سکے اور واپس اوپر چلی گئی

ماموں چلیے نا لوڈو کھیلتے ہے ۔۔۔
رائنا سے بات ختم کرکے ماہر وہ سوچتا ہوا بیٹھا تھا تب زیان اُس کے پاس آیا

کیا لوڈو کھیلوں یار یہاں میری زندگی سے کھیل رہی ہے وہ۔۔۔۔
وہ اُسے طرح اپنی سوچ میں گم بولا
کون ماموں۔۔۔۔۔

وہی ہٹلر آف مائے لائف عریشہ۔
ماہر نے اُس کی جانب دیکھا

آپ مامی کو عریشہ کیوں بول رہی ہو اب
زیان نے حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا

تو کیا تمہاری طرح مامی بولوں

پہلے تو آپ اُن کو بیوی بولتے تھےنا

کیا۔۔۔۔۔
زیان کی بات پر اُس کا منہ کھلا

ہاں پہلے تو آپ ہمیشہ مامی کو بیوی بولتے تھے اب کیوں عریشہ بول رہے ہو۔۔۔۔

۔ارے یار چھوٹے نواب تب ہی تو میں سوچو جب بھی اُسے نام لے کر بلاؤں تو مجھے کھانے کو۔کیوں دوڑتی ہے۔۔۔۔۔ لیکن بیوی۔۔۔بیوی کیسے بلا سکتا ہوں میں اُسے۔۔۔۔۔۔۔
اُسے سمجھ آگیا تھا کے اُس کے پکارتے ہی عریشہ کا چہرہ کیوں بدل جاتا ہے

جیسے پہلے بولتے تھے ۔۔۔۔

پہلے کی بات اور تھی یار چھوٹے نواب ۔۔۔۔۔۔ اچھا ایک بات بتا اور کیا کیا کرتا تھا میں پہلے۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نے اُس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا

پہلے آپ ہمیشہ مجھ سے لڑتے تھے۔۔۔۔ٹوئیس بھی نہیں دیتے تھے ۔۔۔۔۔

یار اپنی شکایتیں لے کر مت بیٹھ جا۔۔پہلے ہی میری زندگی اُلجھی پڑی ہے اور تجھے کھلونوں کی پڑی ہے یہ بتا عریشہ کے ساتھ میں کیسے رہتا تھا
ماہر نے عاجزی سے کہا

مامی کے ساتھ تو آپ بہت اچھے سے رہتے تھے آپ کی بیسٹ فرینڈ ہے نہ وہ ۔۔۔۔۔۔ہمیشہ آپ اُن کے ساتھ رہتے تھے کھیلتے بھی اُن کے ساتھ تھے ۔۔۔۔۔کھاتے بھی اُن کے ہاتھ سے تھے ۔۔۔۔۔اور مجھے چڑھاتے بھی تھے۔۔۔۔۔۔۔
آخری بات پر اُس نے منہ بنایا تو ماہر بنا ہنسے نہیں رہ سکا

سوری یار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا بتا مامی کو کیا پسند ہے ۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نے اُس کے گال پر پیار کرتے ہوئے اُسے خود سے لگاتے ہوئے پوچھا

وہ تو مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیان نے کندھے اچکا دیے

💜💜💜💜💜💜💜💜💜

میں یہاں نہیں رہ پاونگی دادی۔۔۔۔مجھے جانے دیجئے
اُس نے ماہر کی باتیں سننے کے بعد وہاں نا رہنے کہا فیصلہ کیا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کے دادی کی خاطر ہی سہی لیکن ماہر سمجھوتہ کر

ایسا مت کہو بیٹا تمہارے بغیر یہ گھر کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔مت جاؤ
دادی جان سے ایک ہی بات کیے اُسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی

نہیں دادی میں جس کام کے لیے یہاں رکی تھی وہ ہو گیا ہے ماہر جی ٹھیک ہوگئے ہے اب میں یہاں رک کر کیا کرونگی۔۔۔۔اب مجھے چلے ہی جانا چاہیے

تم بھلے ہی ماہر میں لیے آئی تھی لیکن اب مجھے بھی تمہاری ضرورت ہے تم میری بیٹی ہو ماہر سے پہلے میرا حق ہے تم پر ۔۔۔۔۔۔میں نہیں جانے دونگی تمہیں

پلیز دادی مت روکیے مجھے۔۔۔۔ نہیں ہوگا مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیشہ ہی مجھے چھوٹا محسوس کروایا گیا کسی کی زندگی میں میری کوئی اہمیت تھی نا ضرورت۔۔۔میں بوجھ ہی رہی ہمیشہ جسے کوئی نہ کوئی برداشت کرتا رہا یہاں آکر میں خود سے ملی مجھے اتنی اہمیت دی آپ نے اتنا پیار دیا جو مجھے شاید زندگی بھر بھی نا ملتا یہ ہی میرے لیے کافی ہے دادی۔۔۔۔۔
اب میں اس گھر کا بوجھ نہیں بننا چاہتی ۔۔۔۔میں نہیں چاہتی ماہر جی کسی کے لیے بھی اپنی زندگی کا سمجھوتہ کرے اُنھیں بھی حق ہے اپنی زندگی اپنی خوشی اپنی مرضی سے جینے کا میں اُن کے قابل نہیں ہوں دادی وہ مجھ سے بہت اوپر ہے اُن کی بھی اپنی خواہشیں رہی ہوگی کیوں وہ اپنی خواہشیں بھول کے سمجھوتہ کرلے میں اپنے آپ کو اُن اور تھوپنا نہیں چاہتی دادی غلطی تو میری ہی تھی جو یہ بات بھول کر اُن سے محبت کر لی کے میں اُن کے لائق ہوں بھی یا نہیں ۔۔۔۔
اُس نے اپنے گال صاف کیے دادی نے کچھ کہنا چاہا لیکن اُس نے سر نفی نے ہلا دیا

کچھ مت کہیے دادی۔۔۔۔بس مجھ سے وعدہ کیجئے آپ ماہر جی کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کریگی نا اُن سے ناراض ہوگیں ۔۔۔۔۔بلکہ ہمیشہ اُن کی خوشی میں خوش رہےگی
اُس نے دادی کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا اُنہوں نے اُسے گلے لگا لیا
💜💜💜💜💜💜💜