No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
Epi 2
عریشہ کو رائنا کمرے میں لے آئی تھی اور بیڈ پر بٹھا دیا تھا کمرے میں کوئی سجاوٹ یا بیڈ پر پھول وغیرہ نہیں تھے لیکن پھر بھی کمرہ بہت عالیشان تھا اتنا بڑا کے تائی امی کے گھر کے دو کمرے برابر اور رنگ برنگی دیواریں جہاں جگہ جگہ تصویریں اور شو پیس لگے تھے بیڈ کے سرہانے والی دیوار پر ایک بڑی سی تصویر لگی تھی وہ ماہر کی تصویر تھی یہ اُسے نیچے نام پڑھ کر پتہ چلا وہ اُس تصویر کو دیکھنے کے بعد اُس سے نظریں نہیں ہٹا پائی پچھلے کچھ دنوں سے اُس کے دل میں جتنے خدشات تھے سب غلط ثابت ہوئے تھے وہ کسی شہزادے سے کم نہیں تھا گندمی رنگت خوبصورت نقوش ۔۔۔۔۔۔۔۔گہری کالی آنکھیں۔۔۔۔۔۔۔کالے بال جو ماتھے پر بکھرے تھے ۔۔۔۔۔۔کسرتی بدن ۔۔۔۔ گرے سوٹ میں اپنا ہاتھ سامنے کرکے نظر کلائی پر بندھی قیمتی گھڑی پر رکھی ہوئی تھی دوسرا ہاتھ پینٹ کی جیب میں تھا کلین شیو کیے چہرے پر غضب کی کشش تھی
عریشہ اُس تصویر کو بے یقینی سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔وہ سانولی سے لڑکی جسے ہمیشہ بدصورت ہی کہا گیا تھا وہ چاہے اتنی بدصورت تھی نہیں لیکن ماہر کے مقابل میں وہ بہت عام تھی اُس تصویر میں ماہر کی عمر پچیس چھبیس سے زیادہ نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔اُس کمرے میں اور بھی بہت تصویریں تھی اُس کی دادی کے ساتھ فیملی کے ساتھ دوستوں کے ساتھ اور ہر تصویر میں ماہر کا مسکراتا ہوا چہرہ تھا عریشہ نے ایک تصویر سائڈ ٹیبل سے اٹھائے اُسے دیکھتے ہوئے دل سے دعا کی کے آگے بھی اُس کے خدشات غلط ثابت ہوتے رہے دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ تصویر رکھتے ہوئی فوراً سیدھی ہو کر بیٹھ گی اب ایک گھبراہٹ نے آن گھیرا تھا وہ جو اُس کے قریب آرہا تھا اُس سے سامنا ہونے کی گھبراہٹ عریشہ چہرہ چھپائے بیٹھی تھی اور دونوں ہاتھ آپس نے رگڑ رہی تھی ماہر آکر اُس کے قریب بیڈ پر بیٹھا تھا اور اُس کے چھپے ہوئے چہرے کو دیکھ رہا تھا اُس کے یوں دیکھنے سے عریشہ کی دھڑکنیں بڑھنے لگی تھی اُس خاموش کمرے میں عریشہ کی چوڑیوں کی آواز بار بار سنائی دے رہی تھی اُس نے دونوں ہاتھوں کو جوڑے رکھا تھا کے ماہر نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اُس کا ایک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا عریشہ نے دوسرے ہاتھ سے اپنا دل تھام لیا تھا ماہر ایک ہاتھ میں اسکا ہاتھ لیے دوسرے ہاتھ سے اُس کی چوڑیوں کو آگے پیچھے کر رہا تھا پہلے بہت دھیرے پھر اُس نے تیزی سے چوڑیوں کو آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا تھا اس حرکت پر عریشہ حیران ہوتی اُس کے پہلے ہی وہ چونکی جب ماہر نے ایک دم سے تالیاں بجانا شروع کر دی عریشہ نے گھونگھٹ کو پیچھے کرکے دیکھا تو وہ اُسے دیکھ کر ہنس رہا تھا اور دوبارہ اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُس کی چوڑیوں سے کھیل رہا تھا عریشہ کو اُس کی دماغی حالت اور شبہ ہوا اُس نے اپنا ہاتھ ایک دم سے پیچھے کھینچا جس پر ماہر نے اُسے منہ کھولے دیکھا
دو نا مجھے تمہاری بنگلس سے کھیلنا ہے
وہ ہاتھ آگے بڑھا کر اُس کا ہاتھ مانگ رہا تھا اور عریشہ صدمے سے اُسے دیکھ رہی تھی
پلیز دو نا ماہر کو تمہاری بنگلز بہت اچھی لگی اگر تم ماہر کو اپنی بنگلز سے کھیلنے دو گی تو ماہر بھی تم کو اپنے ٹویز دیگا
وہ کسی بچے کی طرح بات کر رہا تھا اور عریشہ اُس کے لب و لہجے پر شاک سے ہو کر اُسے دیکھ رہی تھی
پتہ ہے ماہر کے پاس بہت بہت بہت سارے ٹويز ہے پلین ہے۔۔۔۔۔۔روبوٹ ہے اور نئی والی کار بھی ہے ۔۔۔۔تمہیں کیا چاہیے
اُس نے اپنی انگلیوں پر گنتی کرتے ہوئی کہا عریشہ کا سر گھومنے لگا اتنی بڑا فریب کیا گیا اُس کے ساتھ اتنی بڑی بات چھپائی گئی اُس سے اُسے ایک پاگل کے حوالے کردیا اُس کے اپنوں نے وہ فورا بیڈ سے اُتری اور دروازے کی طرف بھاگی
بیوی رک جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نے اُسے روکنے کے لیے آواز دی اُس کے بیوی کہنے پر وہ حیران ہوتی رک کر پلٹی تھی
ماہر کو چھوڑ کر مت جاؤ
وہ بیڈ سے اتر کر اُس کے پاس آیا تھا اور معصومیت سے بولا
بیوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُس کے الفاظ دہرائے
ہاں دادی نے بولا کے تم میری بیوی ہو مطلب میری سب سے بیسٹ والی فرینڈ ہو۔۔۔۔ اور اب تم ماہر کے ساتھ ہی رہو گی ہمیشہ۔۔۔۔۔۔۔
اُس کی بات پر عریشہ نے ایک دم سے منہ پر ہاتھ رکھا اور رونے لگی اُس کے شوہر کے لیے بیوی کا مطلب یہ تھا
نہیں بیوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر ایکدم سے کہتا اُسکے پاس آیا
رونا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔دادی نے کہا ہے اگر ماہر کی بیوی روئے گی تو اللہ تعالیٰ ماہر سے ناراض ہو جائے گے پھر وہ ماہر کو کبھی چاکلیٹ اور ائس کریم نہیں دینگے
ماہر نے پریشان شکل بنائے کہا عریشہ کے رونے میں روانی آگئی اُس کی زندگی برباد ہو چکی تھی
پلیز نہیں رونا بیوی۔۔۔۔۔۔۔ماہر تمہیں تنگ نہیں کریگا۔۔۔۔۔تمہاری بنگلس بھی نہیں مانگے گا پرومیس
ماہر اُسے مزید روتا دیکھ اُداس ہو رہا تھا عریشہ نے دروازہ کھولا اور باہر بھاگنے لگی
بیوی رک جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نے اُسے روکنے کے لیے آواز دی لیکن وہ نہیں رکی سیڑھیاں اُتر کر ہال میں آچکی تھی اُسے یہاں نہیں رہنا تھا ایک پاگل کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھی دروازے سے باہر قدم رکھتے ہوئے وہ رک گئی ایک پل میں یاد آگیا کے آخر جائیگی کہاں تائی کے کہے لفظ اُن کی کڑواہٹ عریشہ کو سن کر گئی وہ وہیں دروازے میں بیٹھ گئی
عریشہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رائنا اُسے یوں چوکھٹ میں بیٹھے دیکھ کر گھبرا کر اُس کے پاس آئی
کیا ہوا عریشہ۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ساتھ آو
رائنا نے اُسے اٹھایا اور دادی کے کمرے میں لے آئی دادی سونے کی تیاری میں تھی عریشہ کو روتا دیکھ پریشان ہو گئی
کیا ہوا بچے ماہر نے کچھ کہہ دیا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُس کی باتوں کا برا نہیں ماننا ۔تم۔۔۔ ۔۔۔میں جانتی ہوں تمہارے لیے بہت مشکل ہوگا لیکن تم بہت جلد اُسے سمجھنے لگوں گی
عریشہ بے آواز روئے جا رہی تھی اور دادی اُسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی
عریشہ تمہیں پتہ تھا نا ماہر کے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔
۔رائنا جو کب سے چپ تھی اُس کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی
کچھ پتہ نہیں تھا مجھے۔۔۔۔۔۔۔کچھ نہیں بتایا گیا تھا مجھے ۔۔۔۔۔۔کیوں کہ کسی کو فرق ہی نہیں پڑتا تھا میری مرضی سے میری زندگی سے ۔۔۔۔۔۔کیوں کے میں کونسی حور ہوں جو ایک اچھے لڑکے ایک اچھی زندگی کی امید کر سکتی ہوں میں تو خود دوسروں پر بوجھ ہوں جسے ہلکا کرنے کے لیے چاہے کسی بھی دلدل میں دھکیلنا پڑے وہ غلط نہیں ہوگا
وہ اپنے اندر آتے اُبال کو چاہ کر بھی روک نہیں پائی
اور سخت لہجے میں بولی
مانا میں کوئی حور نہیں ہوں مگر میں پاگل بھی نہیں ہوں جو مجھے ایک پاگل سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کہتے کہتے روک گئی تھی
نہیں بیٹا رونا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم کبھی تجھے دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتے تھے ۔۔۔۔۔۔ہم نے کبھی نہیں چاہا تھا کے کوئی لڑکی بنا ماہر کے بارے میں جانے شادی کے لیے ہاں کرے ۔۔۔۔۔مگر تیری تائی نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا شاید یہی قسمت کو منظور ہوگا۔۔۔۔۔۔تو ہی میرے ماہر کا نصیب ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ماہر کو چھوڑ کر مت جا۔۔۔۔۔۔
اب دادی کی آنکھیں بھی بھیگنے لگی تھی اور عریشہ اُن کی مطلبی باتوں پر اُنھیں بے یقینی سے دیکھنے لگی وہ اُسے اپنے پاگل پوتے کے لیے اُس کی زندگی مانگ رہی تھی
نہیں دادی۔۔۔۔۔۔۔۔
رائنا نے اُنھیں سنبھالتے ہوئے کہا
ہمیں کوئی حق نہیں ہے عریشہ کو روکنے کا۔۔۔۔ اُس کی بھی اپنی مرضی ہے۔۔۔ اپنی خواہشیں ہے۔ ۔۔۔ہم اپنے مطلب کے لیے اُس کی خوشی کو نظر انداز نہیں کر سکتے ہم اس کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے دادی۔۔۔۔
وہ دادی کو سمجھانے لگی اور دادی بے بسی سے اُسے دیکھنے لگی
ہاں صحیح کہہ رہی ہے رائنا میں تیرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتی لیکن اپنے پوتے کی زندگی کی خاطر تیرے آگے ہاتھ جوڑ کر بھیک تو مانگ سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ جوڑے عریشہ کے آگے جھکنے کو تھی
دادی۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ ہڑبڑا کر اٹھی اور اُن کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیے
میرے بچے کو تیری ضرورت ہے بیٹا۔۔۔۔۔۔اُسے کسی اپنے کی ضرورت ہے ۔۔ اُسے چھوڑ کر مت جا ۔۔۔۔۔مجھے تجھ سے بہت امیدیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔رک جا بیٹا مت جا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے ماہر کو بس تو ہی بچا سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔اُس کے دشمنوں سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو ہی اُسے ٹھیک کر سکتی ہے۔۔۔۔
دادی زاروقطار رو رہی تھی اور عریشہ اُن کے گلے سے لگ گئی اب دونوں بے تحاشا رو کر اپنا گن ہلکا کر رہی تھی
ماہر ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا عریشہ۔۔۔۔۔۔۔وہ تو بہت ہی سمجھدار اور پیارا تھا اپنوں کے لیے جان تک دے دینے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب ماموں کا انتقال ہوا تب اُس نے چھوٹی سی عمر میں اُن کی ساری ذمےداریاں اپنے سر لے لی تھی آفس اور کام کے ساتھ دادی کہ بہت خیال رکھتا تھا وہ لیکن ایک دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ایکسیڈنٹ میں اُس کے سر پر بہت گہری چوٹ آئی تھی دو دن تک بے ہوش رہنے کے بعد جب اُسے ہوش آیا تو اُس کی حرکتیں عجیب سی ہو گئی تھی بہت کوششیں کی لیکن ٹھیک نہیں ہوا وہ۔۔۔۔۔اُس کا دماغ کسی بچے جیسا ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔پتہ نہیں کس گناہ کی سزا ملی اُسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ دادی سے الگ ہو کر رائنا کو دیکھنے لگی
گناہ۔۔۔۔۔۔اُس کا گناہ صرف اتنا تھا کے اُس کے باپ نے اُس کے لیے دوسری شادی کی تاکہ اُسے ماں ملے ۔۔۔۔۔۔۔اُس کا گناہ تھا کے اُس نے اپنوں پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا ۔۔۔۔۔۔ اُس کا گناہ تھا کے اُس کے باپ کی وصیت میں وہ ساری جائیداد کا اکلوتا وارث تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔جس جائیداد کے لیے اُس کے اپنے ہی دشمن بن گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے رائنا کی ادھُوری بات کو مکمل کیا تو عریشہ کی نظریں بھی دادی کے چہرے پر آٹھری
دادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رائنا نے اُنھیں روکنا چاہا
نہیں رائنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے مت روک۔۔۔۔۔عریشہ کا سب کچھ جاننا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ماہر کی بیوی ہے ۔ اُسے حق ہے سب جاننے کا۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے فیصلہ کیا تھا کے وہ عریشہ کو ساری حقیقت بتائیگی شاید تب عریشہ رک جائے
آؤ میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی اُس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے اُسے کمرے سے باہر لے آئی تھی اور عریشہ بس چلتی گئی
💜💜💜💜💜
