Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

دادی ماہر کہاں ہے آپ کو بتا کر گیا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رائنا نے ڈائننگ ٹیبل پر بھی ماہر کو غیر حاضر دیکھ کے دادی سے پوچھا

نہیں مجھے تو نہیں پتہ صبح سے نہیں دیکھا میں نے اُسے
دادی کے جواب پر اریشہ بھی پریشان ہو گئی کیوں کے صبح سے دوپہر ہو گئی تھی اور اب تک وہ نظر نہیں آیا تھا

پتہ نہیں کہاں گئے ہے کچھ بتایا بھی نہیں فون بھی نہیں اٹھا رہے ہیں
اریشہ نے پریشان ہوتے ہوئے کہا

لو آگیا۔۔۔۔۔
دادی نے دروازے کی جانب دیکھ کے کہا اور باقی سب نے بھی اس جانب دیکھا ماہر کے پیچھے سکندر تھا جسے دیکھ کر دادی نفیسہ سمیت سب کھڑے ہوگئے

یہ یہاں کیا کر رہا ہے ماہر۔۔۔۔یہ تو جیل۔میں تھا نا
دادی اس کے پاس آتے ہوئے بولی

میں اسے لے کر آیا ہوں دادی میں نے کیس واپس لے لیا ہے
ماہر نے دھیرے سے کہا اور نفیسہ کی جانب دیکھا

کیوں ۔۔۔۔۔۔۔کیا کوئی کسر باقی رہ گئی تھی یا جب تک یہ تمہیں جان سے مار نہیں دیتا تمہیں اس کا گناہ نظر نہیں ائیگا
دادی نے غصے سے کہا

ایسی بات نہیں ہے دادی میں اسے کبھی معاف نہیں کرونگا کیوں کے اس نے ساری حدیں توڑ دی ہے ۔۔۔میں اسے واپس لایا ہوں صرف مام کے لیے

میں جانتا ہوں مام اس کے جیل جانے سے بہت دکھی ہے میں اس کے گناہ کی سزا مام کو تو نہیں دے سکتا نا۔۔۔۔۔۔لیکن اسے سزا بھی ضرور ملےگی اور اس کی سزا ہوگی کے ہم میں سے کوئی بھی اسے تب تک معاف نہیں کریگا جب تک یہ اپنی غلطی سمجھ نہیں لیتا

یہ تو نہیں ہے بیٹا جسے کسی کے ناراض رہنے یا معاف نا کرنے سے فرق پڑےگا ۔۔۔۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں یہ کبھی نہیں سدھرے گا
دادی نے اُسے غصے سے دیکھا سکندر کے چہرے پر کوئی تاثرات نہیں تھے جس سے اس کی سوچ کا اندازہ لگایا جا سکے

پلیز دادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمہاری دادی صحیح کہہ رہی ہے ماہر۔۔۔۔۔۔اسے سزا ملنی چاہیے۔۔۔۔۔۔اور میرے لیے تم اسے کیسے واپس لا سکتے ہیں غلطی تو میں نے بھی کے ہے سزا تو مجھے بھی ملني ہی چاہیے نا۔۔۔۔۔۔۔
نفیسہ نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا

دادی ماہر جی بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔ہمیں سکندر کو ایک۔موقع ضرور دینا چاہیے ۔۔۔۔آخر وہ اس گھر کا بیٹا ہے ۔۔۔۔پوتا ہے آپ کا۔۔۔۔۔۔اس نے غلطی ضرور کی لیکن ہمیشہ سے مجرم نہیں ہے وہ اگر ہم آج اُسے موقع دے تو ہو سکتا ہے اُسے اپنی غلطی کا احساس ہو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا ہم اُسے سدھرنے کا ایک موقع نہیں دے سکتے دادی
اریشہ نے دادی کے پاس آکر اُنہیں سمجھاتے ہوئے کہا

تم لوگوں کو اگر یہی صحیح لگتا ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔اتنا کچھ کر چکے ہیں یہ لوگ کے اب یقین کرنے کو دل نہیں کرتا ۔۔۔۔
دادی نے بے نیازی سے جواب دیا اور اپنے کمرے میں چلی گئی ظاہر تھا وہ نا خوش ہے ماہر کو سمجھ نہیں آیا وہ کیا کرے اریشہ سکندر کے سامنے آئی اور اُسے دیکھ کر سکندر نے نفرت سے منہ پھیر لیا

تمہیں مجھ سے یہی ناراضگی ہے نا۔۔۔۔ کے۔میں نے تمہیں چیلنج کیا تھا ۔۔۔۔۔تمہیں غصّہ دلایا تھا۔۔۔۔میں تمہیں وہ یاد دلانے نہیں بلکہ
آج میں تم سے معافی مانگنے آئی ہوں
میں اپنی ہار مانتی ہوں سکندر
پلیز پچھلی باتوں کو بھول جاؤ
نفرت کچھ نہیں دیتی سوائے تکلیف کے
میں جانتی ہوں اس نفرت نے اندر ہی اندر تمہیں بھی بہت ہے چین کرکے رکھا ہے کم سے کم خود کے لئے ہی اسے ختم کردو اب ہم سب تمہیں خوش دیکھنا چاہتے ہیں تم ہمارے دشمن نہیں ہو سکندر اسی لیے تمہیں یہ موقع دیا ہے اور اگلی بار شاید کبھی تمہیں دوسرا موقع نا ملے
اریشہ نے نرمی سے سمجھاتے ہوئے کہا سکندر اس کی جانب دیکھ کے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا

سکندر کی طرف سے میں تم دونوں سے معافی مانگتی ہوں بیٹا

ایسا مت کہیے مام پلیز۔۔۔۔۔
نفیسہ کے ہاتھ جوڑنے پر ماہر نے اُن کے ہاتھ پکڑ لیے

میں دادی سے بات کرکے آتا ہوں۔۔۔۔۔۔
وہ دادی کو منانے اُن کے کمرے میں چلا گیا

💜💜💜💜💜💜

کہاں جا رہی ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نفیسہ کے جانے کی بات سن کر ماہر حیرت سے اُن کے پاس آکر بولا

بیٹا اب ہمیں یہاں سے جانے دو ہم اس قابل نہیں ہے کے تمہارے ساتھ رہ سکے ۔۔۔۔۔۔تم۔نے اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی اپنا بڑا پن دکھا کر ہمیں معاف کردیا لیکن اب سب کا سامنا کرنے بھی شرم محسوس ہوتی ہے اس لیے میں یہاں سے جانا چاہتی ہوں تاکہ کم سے کم اب تمہاری زندگی میں سکون رہے

میں آپ کو کہیں نہیں جانے دونگا
ماہر نے فوراً کہا

نہیں بیٹا میں یہاں نہیں رہ سکتی میں اس عزت اور پیار کے لائق نہیں ہوں مجھے اتنا مان دے کر اور شرمندہ مت کرو
نفیسہ سر جھکا گئی

رک جاؤ نفیسہ ۔۔۔۔۔جو بیت گیا اُسے بھول جاؤ ہم بھی سب کچھ بھول چکے ہیں تمہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں اپنی غلطیوں پر پچھتاوا ہے اور تم بدل گئی ہو اتنا ہی کافی ہے۔۔۔۔۔۔اب ایک نئے سرے سے شروعات کرو پرانی باتوں کو بھول کر یہیں اچھا ہوگا
دادی کو جب یقین ہو گیا کے واقعی نفیسہ سدھر چکی ہے تو ماہر کی بات اُنہیں غلط نہیں لگی

چاہوں بھی تو اپنی غلطیوں کو نہیں بھول سکتی میں ۔۔۔۔۔پھر بھی آپ لوگوں کی بات نہیں ٹالنا چاہتی لیکن کچھ وقت کے لیے مجھے یھاں سے جانے دیجئے۔۔۔۔۔ میں سکندر کو اس گھر سے دور لےجانا چاہتی ہوں تاکہ اس کے ذہن سے یہ سب بری باتیں نکل جائے وہ اپنی نفرت بھول کر ایک نئی شروعات کر سکے ۔۔۔۔۔بہت ضدی ہے وہ اگر یہاں رہیگا تو اسکے ذہن میں وہی ساری باتیں چلتی رہیگی میں اُسے اس سب سے باہر نکالنا چاہتی ہوں اسی لیے ہمیں جانا ہی ہوگا
میں سوچ رہی ہم ہم سب کچھ وقت کے لیے دہلی چلے جائے عالیہ بھی وہاں پڑھنا چاہتی ہے اور سکندر کے ماموں بھی وہی رہتے ہے
انہوں نے دادی کی بے مانتی ہوئے ماہر کی جانب دیکھ کے اپنے جانے کی اصل وجہ بتائی

ٹھیک ہے اگر آپ صرف کچھ وقت کے لیے جانا چاہتی ہے تو میں آپ کو نئی روکونگا کیوں کے میں بھی یہی چاہونگا جو آپ چاہتی ہے۔ ۔لیکن ابھی نہیں میری اور اریشہ کی شادی جب تک نہیں ہو جاتی۔ ۔۔۔۔۔۔تب تک آپ کہیں نہیں جائیگی

لیکن بیٹا۔۔۔۔۔۔

امی جی۔۔۔۔۔کیا آپ ہماری خوشیوں میں شریک نہیں ہونا چاہے گی ۔۔۔۔۔۔۔اگر آپ نہیں ہوگی تو سب ادھورا ادھورا لگے گا اس لیے پلیز رک جائیے

وہ مزید انکار کرتی اس کے پہلے اریشہ بول پڑی تو انہوں نے بات مان لی

۔ٹھیک ہے۔ ۔۔۔۔۔
انہوں نے مسکرا کر عریشہ کو دیکھا

اور آپ فکر مت کیجئے میرے پاس ایک بہت اچھی ترکیب ہے سکندر کا دھیان پرانی باتوں سے ہٹانے کی آئے میرے ساتھ
اس نے نفیسہ کا بیگ اندر لے جاتے ہوئے کہا

💜💜💜💜💜💜

اریشہ لڑکیوں کے درمیان بیٹھی تھی اور وہ سب اس کا ہاتھ تھامے مہندی لگا رہی تھی ماہر دور سے ہی اُسے دیکھ رہا تھا اور زیان کے سوالوں کے جواب دے رہا تھا

ماموں یہ سب مامی کے ہاتھ میں مہندی کیوں لگا رہے ہیں

کیوں کے وہ دلہن بننے والی ہے۔۔۔۔۔اسلئے
ماہر نے سوچتے ہوئے جواب دیا

تو آپ کو مہندی کیوں نہیں لگا رہے

میں دلہن نہیں بننے والا ہوں اس لیے
اس نے بے زاری سے جواب دیا وہ اس کے سوالوں سے تھک چکا تھا اور اریشہ سے بات کرنے کے لیے ترس چکا تھا

ماموں مجھے بھی مہندی لگانی ہی۔۔۔۔۔۔

چھوٹے نواب لڑکے مہندی نہیں لگاتے
ماہر نے پیار سے اس کے گرد ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے اپنے قریب کیا

کیوں۔۔۔۔۔۔۔

کیوں کے ۔۔۔لڑکوں کو مہندی پسند نہیں ہوتی
ماہر نے سوچتے ہوئے جواب دیا

پر مجھے تو پسند ہے نا تو میں کیوں نہیں لگا سکتا

میرے باپ مجھے معاف کر دے میرے پاس تیرے سوالوں کا جواب نہیں ہے
ماہر نے عاجز ہو کر کہا اور جیسے ہی اریشہ کو وہاں سے اٹھ کے جاتے ہوئے دیکھا اس کے پیچھے چلا آیا لیکن وہ اس سے ایک بھی بات کرتا اس کے پہلے رائنا وہاں آگئی

کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر کو اریشہ کے پیچھے جاتے دیکھ وہ آنکھیں دکھاتی بولی اس نے سر نفی میں ہلا دیا اور اریشہ مسکرائی

جاؤ یہاں سے۔۔۔۔

کیوں جلاّد بن رہی ہے آپ مجھے مہندی تو دیکھنے دیجئے۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نے خفگی سے کہا

کل دیکھ لینا ابھی جاؤ کہا نا ابھی دلہن سے نہیں مل سکتے یہیں رول ہے
اس کے نا ماننے پر رائنا نے اس کا بازو پکڑ کے باہر کی جانب کیا تھا

پتہ نہیں کس کمینے نے یہ رول بنایا تھا مل جائے بس ایک بار
وہ بڑبڑاتا ہوا سیڑھیاں اترا تھا اور دوسری جانب سے سکندر کو گھر کے باہر جاتے دیکھ وہی رک کر کچھ سوچنے لگا تھا اریشہ اُسے پریشان دیکھ کر اس کے پاس آئی

کیا ہوا کیا سوچ رہے ہیں آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔

سوچ رہا ہوں پتہ نہیں سکندر کے دماغ میں کیا چل رہا ہے کہیں وہ کچھ اور تو کرنے کی نہیں سوچ رہا
ماہر نے پریشانی سے کہا اُسے ڈر تھا کہیں اب بھی سکندر اپنی نفرت میں کوئی غلط قدم نہ اٹھا لیں

نہیں۔ ۔۔۔۔اب وہ کچھ نہیں کریگا
اریشہ نے یقین دلاتے ہوئے کہا

تمہیں کیسے پتہ

کیوں کے میں نے اُسے ایسی جگہ اُلجھا دیا ہی جہاں بڑے بڑے سورما بھی اپنی اکڑ بھول جاتے ہیں
اریشہ نے ہنستے ہوئے کہا تو ماہر نے اُسے سوالیہ نظروں سے دیکھا

مطلب

مطلب بتاونگی نہیں دکھاؤں گی۔۔۔ چلیے
وہ ماہر کے آگے سیڑھیاں اترتے ہوئے بولی اور ماہر اس کے پیچھے چل دیا

💜💜💜💜💜💜💜💜