Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

Good morning ۔۔۔۔۔۔۔
سکندر نے عریشہ کو کچن میں جاتے دیکھا تو خود بھی اُس کے پیچھے اندر چلا آیا عریشہ نے دھیرے سے جواب دیا اور دوبارہ کام میں مصروف ہو گئی

کوئی مدد تو نہیں چاہیے نہ عریشہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندر کی آنکھیں اُس کے چہرے پر گڑی ہوئی تھی وہ آکر اُس کے پاس کھڑا ہو گیا تھا اور اُس کا یہ لوفرانا انداز عریشہ کو ذرا پسند نہیں آیا

نہیں ۔۔۔۔آپ چلیے نا سکندر بھائی میں بس پانچ منٹ میں ناشتہ لے آتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سکندر کو باہر بھیجنا چاہا

وہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ بھائی وغیرہ مت کہو۔۔۔۔۔۔بھائی بننے والی نا میری عمر ہے نا ارادہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گردن سہلاتے ہوئے بولا

ویسے تم نہیں جانتی مجھے کتنا افسوس ہوا تمہیں دیکھ کر اتنی خوبصورت لڑکی اور ایک پاگل سے شادی کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔بہت زیادتی ہوئی ہے تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔۔

سکندر۔۔۔۔۔۔۔تم یہاں کیا کر رہے ہو..
سکندر کے قدم اُس کی جانب بڑھ رہے تھے اور وہ گھبرا کر اپنے ہاتھ مروڑ رہی تھی جب رائنا کی اواز پر سکندر فوراً پیچھے ہوا اور عریشہ کی جان میں جان آئی

سنا نہیں تم نے سکندر ۔۔۔۔۔۔۔۔میں پوچھ رہی ہوں تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
رائنا نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے دوبارہ پوچھا

وہ۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے سوچا کہ ان کی کچھ مدد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مدد۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج تک تم نے پانی بھی خود سے لے کر لیا ہے جو چلے ہو مدد کرنے۔۔۔۔۔اگر مدد کرنا ہے تو اپنی لاڈ لی بہن کی کرو شاید اسی بہانے وہ کچن میں تشریف لے آئے۔۔۔۔۔۔۔
رائنا بھی جواب دینے میں ماہر تھی وہ جل کر اُسے دیکھتا ہوا باہر نکل گیا

یہ تمہیں تنگ تو نہیں کر رہا تھا نہ۔۔۔

نہیں آپی۔۔۔۔۔۔آپ کو۔کچھ چاہیے تھا۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے بات بدل دی وہ پہلے ہی دن شکایت نہیں کرنا چاہتی تھی

کچھ نہیں میں تو بس دیکھنے آئی تھی کے تمہیں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں
رائنا کہتی ہوئی فرج سے دودھ نکالنے لگی اور اُس سے بات کرتے ہوئے عریشہ دوبارہ کام میں مصروف ہو گئی

💜💜💜💜💜💜

ارے واہ۔۔۔۔۔۔۔۔کھانا تو لا جواب بنا ہے۔۔۔۔۔۔۔کیوں نفیسہ۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُس کے کھانے کی تعریف کرتے ہوئے نفیسہ بیگم کی جانب دیکھا وہ شکل بگاڑ کر بیٹھی تھی اُنھیں شاید امید نہیں تھی کے عریشہ کھانا بنا پایگی

سچ عریشہ۔۔۔۔۔۔بہت ہی ٹیسٹی کھانا بنایا ہے تم نے۔۔۔۔۔لگتا ہے تم سے تو سیکھنا پڑے گا کافی کچھ
رائنا نے بھی بہت دل سے اُس کی تعریف کی

اتنا اچھا کھانا تو ممّی کو بھی نہیں آتا مامی۔۔۔۔۔۔۔
زیان نے بھی عریشہ کی تعریف کی تو رائنا نے اُسے مصنوعی غصے سے گھورا

نفیسہ۔۔۔بہو سے رسوئی کروائی ہے ساس بن کر تو اب ذرا ہاتھ کھول کر نیک بھی دے دیں اُسے۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے نفیسہ بیگم کو یاد دلائے ہوئے کہا نفیسہ بیگم نےاپنی انگلی سے انگوٹھی اُتار کر عریشہ کے ہاتھ میں رکھی
رکھ لو پہلی رسوئی کا انعام ہے
کھانا اچھا بنا لیتی ہو۔۔۔۔۔۔
نفیسہ بیگم نے بے دلی سے تعریف کی

دادی نے ایک باکس اُس کی جانب بڑھایا

یہ کیا دادی۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہر نے کہا اُسے اپنی بیوی کے ہاتھ میں چوڑیوں کی آواز بہت اچھی لگتی ہی اسی لیے میں چاہتی ہن یہ چوڑیاں ہمیشہ تمہارے ہاتھ میں رہیں

اُس باکس میں سونے کی بریک چوڑیاں تھی عریشہ کو ماہر کی رات والی بات یاد آئی

اگر شاعرانہ انداز میں کہا جائے تو دل کرتا ہے بنانے والے کے ہاتھ چوم لوں۔۔۔۔۔۔۔

سکندر نے عریشہ کو دیکھتے ہوئے کہا عریشہ نے اُس کے انداز میں جو نوٹس کیا شاید کسی اور نے نہیں کیا تبھی کچھ کہا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

عریشہ تم کھڑی کیوں ہو بیٹا آؤ تم بھی بیٹھ جاؤ ناشتہ کرو۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُسے بیٹھنے کے لیے کہا

ہاں عریشہ جلدی سے تم بھی کھا لو پھر ہمیں باہر جانا ہے رات کے فنکشن کے لیے کچھ شاپنگ کرنے

آج ایک چھوٹی سی ریسیپشن پارٹی رکھی گئی تھی اس لیے رائنا نے بھی اُسے بیٹھنے کو کہا مگر وہ اس طرح کھڑی ادھر اُدھر شاید کسی کو ڈھونڈ رہی تھی
کیا ہوا عریشہ کیا سوچ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
رائنا نے اُسے بے چین دیکھ کے پوچھا

آپی وہ ماہر جی۔۔۔۔۔۔۔۔ماہر جی نہیں آئے ناشتہ کرنے
آخر اُس نے جھجھکتے ہوئے پوچھ ہی لیا

۔اُس کے یہاں آنے سے کچھ لوگوں کے حلق میں نوالے اٹک جاتے ہے اس لیے وہ اپنے کمرے میں کھانا کھاتا ہے
دادی مجھے بھوک نہیں ہے اگر آپ کہیں تو میں پہلے ماہر جی کو ناشتہ دے آؤں
عریشہ اُن کی بات کا مطلب سمجھ گئی تھی اور نفیسہ کا منہ بگڑتے ہوئے بھی دیکھ چکی تھی دادی نے اُس کی بات پر اثبات میں سے ہلا دیا
💜💜💜💜💜

ماہر جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ناشتے کی پلیٹ لے کر کمرے میں داخل ہوئی تو ماہر ڈرائنگ بک لیے کچھ بنا رہا تھا اُس کی آواز پر فورا بک اٹھا کر پیچھے چھپا لی

ماہر جی یہ کیا چھپا رہے ہیں آپ مجھ سے ۔۔۔۔۔۔
اُس کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولی

چھپا نہیں رہا ہوں ڈرائنگ بنا رہا ہوں تمہارے لیے

میرے لیے۔۔۔۔۔۔ تو مجھے بھی بتائیے نا
عریشہ نے خوش ہوتے ہوئے کہا

ابھی نہیں ۔۔۔۔۔جب کمپلیٹ ہو جائیگی تب ہی بتاؤنگا

چلیے ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔لیکن پہلے ناشتہ کر لیجئے ۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور ناشتے کی پلیٹ آگے کی
نہیں ماہر کو بھوک نہیں لگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ناشتہ نہیں کرنا۔۔۔۔ابھی ڈرائنگ بنانی ہے
اُس نے پلیٹ ہاتھ سے پیچھے کی

ماہر جی۔۔۔۔۔۔۔ڈرائنگ بعد میں بنا لیجئے گا ابھی آپ ناشتہ کیجئے ۔۔۔۔۔پھر آپکو دوائی بھی لینی ہے
عریشہ نے سمجھاتے ہوئے کہا

نہیں ماہر کو دوائی نہیں لینی۔۔۔۔۔ماہر کو دوائی گندی لگتی ہے
وہ برا منہ بناتے ہوئے بولا

ماہر جی اگر آپ دوائی نہیں لے گے تو ٹھیک کیسے ہونگے

ماہر تو پہلے سے ہی بلکل ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔
ماہر کے جواب پر عریشہ کو لگا وہ غلط کہہ گئی

ہاں ٹھیک تو ہے لیکن آپ کو اسٹرونگ بننا ہے نا تو دوائی تو لینی پڑے گی
وہ اُس کی بچکانہ ضد پر بچوں کی طرح اُسے سمجھانے لگی

ماہر الریڈی بہت اسٹرونگ ہے دیکھو ماہر کے مسلز بھی کتنے ہارڈ ہے
اُس نے اپنی ٹی شرٹ کی ہالف آستین کو اوپر کرکے اُسے اپنے مسلز دکھائے

لیکن آپ کو اور بھی بہت بہت بہت زیادہ اسٹرونگ ہونا ہے نہ سپر مین جیسی طاقت لانی ہے نہ
عریشہ اُسے منانے کی کوشش کرنے کے لیے بولی ماہر نے سر نفی میں ہلا دیا تو عریشہ نے پلٹ نیچے رکھتے ہوئی اُسے مصنوعی غصے سے دیکھا

ماہر جی آپ نے کیا کہا تھا ۔۔۔۔۔۔آپ میری ہر بات مانے گے کہا تھا نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے سنجیدگی سے کہا تو ماہر نے سر ہاں میں ہلا دیا

تو پھر چلیے ورنہ مجھے برا لگ جائیگا اور میں آپ سے ناراض ہو جاؤنگی۔۔۔۔۔۔۔
وہ دھمکی دینے لگی

اوکے ۔۔۔۔لیکن تمہیں ماہر کو اپنے ہاتھ سے کھلانا پڑیگا ۔۔۔تبھی ماہر کھائے گا۔۔۔۔۔۔اوکے۔۔۔۔
ماہر نے ایک نئی شرط رکھی عریشہ انکار نہیں کر سکتی تھی ورنہ پھر وہ ضد کرنے لگ جاتا اتنا تو وہ سمجھ ہی گئی تھی کے اُسے منانا بچے کو منانے جیسا ہے بہت مشکل

ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُس کی بات مانتے ہوئے اُسے کھلانا شروع کیا ماہر اُس سے باتیں کرتے ہوئے کھانے لگا اور وہ مسکراتے ہوئے اُسے دیکھنے لگی
💜💜💜💜💜💜

شام ہونے کو آئی تھی جب رائنا اور عریشہ واپس آئی رائنا نے اُسے نا صرف ریسیپشن کے لیے بلکہ اُس کے علاوہ بھی بہت ساری شاپنگ کروائی تھی کپڑے جویلری میک اپ اور بہت کچھ عریشہ کی زندگی میں یہ پہلی دفعہ تھا جب اُس نے اپنے لیے کچھ لیا تھا شاپنگ کے بعد رائنا نے اُسے پارلر میں تیار کروایا آج وہ اصلی معنی میں دلہن لگ رہی تھی آف وائٹ کلر کے لہنگے میں اورنج دوپٹہ اُس پر بہت سج رہا تھا
وہ دادی سے مل کر روم میں آئی تاکہ مہمانوں کے آنے سے پہلے ماہر کو تیار ہونے کے لیے کہہ سکے لیکن اندر آتے ہی وہ ماہر کو دیکھ کر حیران ہو گئی
ماہر آئینے کے سامنے کھڑا تھا بلیک ٹراؤزر اور سفید شرٹ میں کلین شیو کیے ہاتھ پر گھڑی باندھے وہ وہی تصویر والا ماہر لگ رہا تھا اپنے بالوں میں برش کرتے ہوئے اُن کو پیچھے کر رہا تھا لیکن اُس کے بال اتنے سلکی تھے کے بار بار اُس کے ماتھے پر آکر گر جاتے اُس نے آئینے میں عریشہ کے عکس کو دیکھا تو دیکھتا رہ گیا اُسے طرح جیسے عریشہ اُسے دیکھتی رہ گئی تھی

واو ۔۔۔۔۔بیوی تم تو بلکل دلہن جیسی لگ رہی
ہو۔۔۔۔۔۔۔لیکن تم دلہن کیوں بنی۔۔۔۔۔۔۔آج تمہاری شادی ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر بڑی آنکھیں کرکے حیرت سے بولا اُس کی بات پر عریشہ ہنس دی

نہیں ماہر جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج گھر میں فنکشن ہے نا اسی لیے

ہاں ۔۔۔۔دیکھو ماہر بھی فنکشن کے لیے ریڈی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ تو ٹھیک ہے لیکن یہ کیا آپ نے تو شرٹ کے بٹن غلط لگائے ہوئے ہے۔۔۔۔دکھائیے میں ٹھیک کرتی ہوں

عریشہ نے غور سے دیکھا تو پتہ چلا کہ اُس نے بٹن آگے پیچھے لگائے ہے عریشہ نے اُس کی شرٹ کے سارے بٹن دوبارہ سے کھولے اور ٹھیک سے لگانے لگی اُس کے بال ہوا سے اڑ کر ماہر کے چہرے پر آرہے تھی جس سے اُسے بہت اُلجھن ہو رہی تھی اُس نے عریشہ کے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے اُس کے گلے تک ہاتھ لے جا کر وہیں پکڑے رکھا عریشہ نے حیرت سے سر اٹھا کر دیکھا

بیوی تمہارے بال ماہر کی آنکھ میں آرہے ہے جب تک تم ماہر کے بٹن ٹھیک کروگی تب تک ماہر تمہارے بالوں کو ہولڈ کر کے رکھے گا اوکے

ماہر نے اُس کے پوچھنے سے پہلے ہی جواب دیا تو وہ مسکرا دی

ہاتھ ڈالیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُس کی شرٹ کو ٹھیک کرنے کے بعد کورٹ اٹھا کر اُسے پہنایا

ماہر ہینڈسم لگ رہا ہے نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نے آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر بولا

بہت ہینڈسم ۔۔۔۔لیکن ہاں آپ کو پارٹی میں اچھے سے رہنا ہوگا کوئی شرارت نہیں کرنی ہوگی۔۔۔اور بڑوں کی سب بات ماننی ہوگی
عریشہ نے کورٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے اُسے ہدایت دی جو دادی نے نے اُسے کہا تھا ماہر نے اُس کی جانب دیکھ کر مسکراتے ہوئے گردن ہلا دی عریشہ نے اپنی آنکھ سے کاجل انگلی پر لیتے ہوئے اُس کے کان کے پیچھے لگایا

یہ کیا لگایا بیوی تم نے ۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ بہت ہینڈسم لگ رہے ہیں نا اس لیے کالا ٹیکہ لگایا ہی تاکہ آپ کو کسی نظر نہ لگے۔۔۔۔۔اب چلیں
عریشہ نے وضاحت دی اور اُس کا ہاتھ تھام لیا

بیوی رُکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نے اُس کا ہاتھ ہلکے سے کھینچا وہ روک گئی ماہر اُس کے قریب آیا اور اپنی پہلی انگلی بہت احتیاط سے اُس کی آنکھ کے قریب لے جاکر آنکھ کے کنارے سے مس کیا
اب ماہر کی بیوی کو بھی کسی کی نظر نہیں لگے گی