No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
وہ ماہر کو ہسپتال لے کر آئی تھی جس کے لیے وہ بہت مشکل سے راضی ہوا تھا
ماہر کا ٹریٹمنٹ میں ہی کر رہا ہوں جو دوائیاں میں نے اُسے دی ہے مجھے یقین تھا وہ اُس پر اثر کریگی لیکن پتہ نہیں کیوں وہ کوئی رسپانس نہیں کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔ حالانکہ پہلے ایک مہینے میں اُس کی حالت میں سدھار ہو رہا تھا لیکن اب کوئی چینجز نہیں ہو رہے اُس میں۔۔۔۔۔۔۔میں نے دوائی چینج بھی کی لیکن کوئی فرق نہیں پڑا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر واحد مشہور سائیکیکٹرسٹ تھے اور ماہر کا علاج شروع سے اُن کے پاس ہی چل رہا تھا یہ اُسے دادی سے پتہ چلا اُس نے ڈاکٹر کی بات پر دور بیٹھے ماہر کو دیکھا جو فش پوٹ میں موجود مچھلیوں کو دیکھ کر خوش ہو رہا غا
تو اب ہمیں کیا کرنا ہوگا ڈاکٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے ماہر کا بلڈ ٹیسٹ کرنا ہوگا تبھی کچھ پتہ چلےگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے آخر دوائی اُس پر اثر کیوں نہیں کر رہی ہے میں نے پہلے بھی یہ کہا تھا لیکن ماہر کی امی نے منع کردیا کے بس دوائی ہی دے دوں۔۔۔میں اُنھیں فورس نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔لیکن یہ ٹیسٹ کرنا بہت ضروری ہے عریشہ
ڈاکٹر واحد نے اُسے تفصیل سے سمجھاتے ہوئے کہا وہ پریشان ہو کر اُنھیں دیکھنے لگی ماہر نے کہا تھا اُسے انجکشن سے ڈر لگتا ہے اور عریشہ اُسے یہ یقین دلا کے لائی تھی کے انجکشن نہیں لینا پڑیگا
ڈاکٹر میں نے بہت مشکل سے ماہر جی کو یہاں آنے کے لیے راضی کیا ہے اُنھیں انجکشن سے بہت ڈر لگتا ہے اُنھیں بہت غصّہ آئیگا سن کر۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے اپنا ڈر بتاتے ہوئے کہا ڈاکٹر وحید مسکرانے لگے
کوئی بات نہیں یہاں دِن بھر ماہر جیسے انجکشن سے ڈرنے والے بچے آتے ہے ہم اُسے ہینڈل کر لینگے ڈونٹ وری۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے عریشہ کو تسلی دی لیکن وہ اب بھی پریشان تھی
ماہر جی اگر میں آپ سے کچھ مانگوں تو آپ دینگے
وہ ماہر کے پاس آئی اُسے سمجھانے کی غرض سے اُس کی بات پر ماہر ہونٹ پر انگلی رکھے سوچنے لگا
اوکے ۔۔۔۔۔۔۔لیکن وہ بڑا والا ٹیڈی بیر مت مانگنا اُس کے بنا ماہر کو نیند نہیں آتی نا۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سوچ کر اُس کی بات مانتے ہوئے بولا اُس کی بات پر عریشہ مسکرا دی
ماہر جی ڈاکٹر انکل آپ کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک چھوٹا سا انجکشن لگانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔
اُس نے جھجھکتے ہوئے کہا اُس کی بات ختم ہوتے ہی ماہر نے ڈاکٹر کی جانب دیکھا جو شیشی سے انجکشن میں دوائی بھر رہا تھا
نئیں بیوی ماہر کو انجکشن نہیں لگوانا۔۔۔۔
ماہر نے عریشہ کا دوپٹہ ۔پکڑ لیا تھا اور کبھی اُسے کبھی ڈاکٹر کو دیکھتے ہوئے ڈرنے لگا
کچھ نہیں ہوگا ماہر جی ۔۔۔۔۔۔۔ میں ہوں نہ آپ کے پاس ۔۔۔۔۔۔اِدھر دیکھیے میری طرف۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُس کے پاس بیٹھتے ہوئے اُس کا چہرہ دونوں ہاتھوں سے اپنی جانب کیا ماہر اُسے خوفزدہ ہو کر دیکھنے لگا ڈاکٹر نے دوسری طرف سے آکر اُس کے بازو میں انجکشن لگایا جس پر ماہر زور سے چینخا تھا
بس ہو گیا۔۔۔۔دیکھیے کچھ بھی نہیں ہوا
ماہر نے عریشہ کو غصے سے دیکھا اور پیر پٹختے ہوئے دروازے کی جانب بڑھا
ماہر جی میری بات تو سنئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عریشہ اُس کے پیچھے چلی تھی
ماہر تمہاری کوئی بات نہیں سنے گا تم گندی ہو جھوٹی ہو چیٹر ہو ماہر کی دوست نہیں ہو تم۔۔۔۔۔۔ماہر تم سے کٹٹی ہے ۔۔۔۔۔اب تم سے کبھی بھی بات نہیں کریگا۔۔۔۔۔۔
۔۔سیڑھیاں جلدی جلدی اترتے ہوئے وہ آکر گاڑی میں بیٹھ گیا عریشہ بھی اندر بیٹھ گئی اور ڈرائیور کو چلنے کے لیے کہا
سوری نا ماہر جی ۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز میری طرف دیکھیے تو صحیح۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر اُس سے منہ پھیرے کھڑکی کے باہر دیکھ رہا تھا
نئیں ماہر تمہاری طرف دیکھے گا بھی نہیں اور بات بھی نہیں سنے گا تم گندی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سوری بھی تو بول رہی ہوں نہ۔۔۔۔اور آگے سے کبھی ایسا نہیں ہوگا پکّا۔۔۔۔۔دیکھیے بیوی نے اپنے کان بھی پکڑ لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے دونوں کان پکڑے لیکن ماہر نے اُس کی جانب دیکھا ہی نہیں
بھیّا گاڑی روکنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے آئس کریم پالر دیکھا تو گاڑی رکوا کر باہر آگئی
ماہر جی آپ کو آئس کریم کھانی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے ماہر کی جانب سے آکر پوچھا تو ماہر نے اُسے خفگی سے دیکھتے ہوئے سے اثبات میں ہلا دیا مطلب اُس کا غصّہ عریشہ سے تھا ائس کریم سے نہیں
یہ لیجئے آپ کا فیوریٹ چاکلیٹ فولیور۔۔۔۔۔۔
وہ واپس اندر آئی کو آئس کریم کپ اُس کی جانب بڑھایا ماہر نے وہ لے کے واپس منہ پھر لیا
اب تو غصّہ تھوک دیجئے نا ماہر جی ورنہ مجھے رونا آجیگا۔۔۔۔۔۔
عریشہ اُداس ہوتے ہوئے بولی
اوکے ماہر گھر جا کر غصّہ تھوک دیگا ۔۔۔۔۔گاڑی میں تھوکنا گندی بات ہوتی ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہر نارمل ہو کے اب اُسے سمجھانے لگا عریشہ اُس کی نا سمجھی پر ہنس دی
💜💜💜💜💜
مامی آپ بھی ہمارے ساتھ لوڈو کھیلو نا
ماہر اور زیان ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے لوڈو کھیل رہے تھے ماہر جیتنے پر تالیاں بجا رہا تھا اور زیان مایوس شکل بنائے بیٹھا تھا عریشہ ماہر کے لیے کھانا لے کر وہاں آئی
نہیں زیان مجھے لوڈو کھیلنا نہیں آتا
عریشہ کو کبھی موقع ہی لب ملا تھا کوئی کھیل۔کھیلنے کا اس کا بچپن تو کھو چکا تھا
کوئی بات نہیں مامی میں آپ کو سکھا دونگا
تم کیوں سکھاؤ گے…… بیوی ماہر تم کو سکھائے گا اس کے بعد ہم دونوں مل کر سب کو ہرائینگے
ماہر نے زیان کو زبان دکھائی
ماموں خود تو روز مجھ سے ہار جاتے ہو آپ کیا مامی کو سکھاؤ گے۔۔۔۔مامی میں آپ کو سکھاؤنگا
بیوی صرف ماہر سے سیکھے گی کیوں کے بیوی ماہر کی بیسٹ فرینڈ ہے
ماہر نے عریشہ کا بازو دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا تھا
مامی آپ کی نہیں میری بیسٹ فرینڈ ہے
زیان بھی آج ضد پے تھا
بیوی تم ماہر کی فرینڈ ہو نا زیان کی نہیں ہو نا
ماہر نے اُس کی جانب دیکھا
مامی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بسس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ دونوں کیوں جھگڑا کر رہے ہیں میں آپ دونوں کی دوست ہوں اور آپ دونوں مل کر مجھے سکھائے گے اوکے۔۔۔۔۔۔
اوکے۔۔۔۔۔
دونوں ایک آواز میں کہا اور عریشہ ہنس دی
بیوی جلدی کھلاؤ نا ماہر کو بہت بھوک لگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ماموں اتنے بڑے ہو گئے ہو پھر بھی مامی کے ہاتھ سے کھانا کھاتے ہو شیم شیم۔۔۔۔۔۔۔۔
زیان ماہر کے مقابلے میں زیادہ سمجھدار تھا
بیوی تم ماہر کو کھلا رہی ہو نا اس لیے یہ جیلس ہو رہا ہے۔۔۔۔
ماہر عریشہ کے کان کے قریب ہاتھ لے جاتے ہوئے بولا اور دھیرے سے ہنسنے لگا
ماہر بھائی اندر جائیے اپنے روم میں۔۔۔۔۔۔
عالیہ اندر آتے ہوئے بولی
کیا ہوا عالیہ۔۔۔۔۔
میرے کچھ فرینڈز آئے ہیں آپ ماہر بھائی کو اندر لے کر جائیے
عریشہ کے پوچھنے پر اُس نے نے نیازی سے جواب دیا کچن کے سامنے بڑا سا ڈائننگ ایریا تھا اور ٹھیک سامنے صوفے رکھے ہوئے تھے
نہیں ماہر نہیں جائیگا۔۔۔۔بیوی ماہر نہیں جائیگا ماہر کو بھوک لگی ہے
ماہر نے اُس کے کچھ کہنے سے پہلے جلدی سے کہا
بھوک لگی ہے تو اپنے روم۔میں جا کر کھانا کھائیے۔۔۔۔میرے دوست باہر کھڑے ویٹ کر رہے ہیں جلدی کیجئے
ماہر جی چلیے ہم اندر کھا لینگے۔۔۔چلو زیان۔۔۔۔۔
وہ اٹھی اور پلیٹ بھی ہاتھ میں اٹھا لی
نہیں بیوی ماہر کو یہیں کھانا ہے اندر نہیں جانا۔۔۔۔۔۔
ماہر نے عریشہ کا ہاتھ پکڑ لیا
کمپرومائز نہیں کرنا ہے عریشہ
اگر ان کے منہ بند کرنے ہے تو تجھے منہ کھولنا ہوگا
عریشہ اُسے سمجھاتی اس کے پہلے دل سے آواز آئی وہ واپس بیٹھ گئی اور اسپون اُس کی جانب بڑھایا
لیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔
عالیہ نے اُسے واپس بیٹھتے دیکھا تو اُس کی پیشانی پر لکیریں پر گئی
سنا نہیں آپ نے میں نے کیا کہا۔۔۔۔۔لے کر جائیے انہیں
تم نے نہیں سنا عالیہ۔۔۔۔۔۔۔۔ماہر جی نہیں جانا چاہتے اندر۔۔۔آخر ان کے یہاں بیٹھنے سے پریشانی کیا ہے
اُس کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی عریشہ نے اُسے دیکھا
پریشانی ہے میں نہیں چاہتی کے یہ میرے دوستوں کے سامنے اپنا پاگلپن کرے اور میری امیج خراب ہو
تمیز سے بات کرو عالیہ۔۔۔۔۔مت بھولو یہ تمہارے بڑے بھائی ہے۔۔۔۔اور جن کے لیے تم انہیں پاگل کہہ رہی ہو وہ غیر لوگ ہے
عریشہ نے سختی سے کہا
مجھے تم سے بحث نہیں کرنی انہیں لے کے جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔
ماہر جی کہیں نہیں جائے گے وہ اپنے گھر میں اپنی جگہ پر ہے اگر کسی کو اُن سے پرابلم ہے تو اُسے گھر میں آنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔
اور اگر تمہیں اپنے بھائی کی موجودگی سے شرم آرہی ہی تو تم اپنے دوستوں کو لے کر کہیں اور جا سکتی ہو
عریشہ نے اُسے آرام سے جواب دیا اور اُس سے نظریں ہٹا لی
مام۔۔۔۔۔مام باہر آئیے۔۔۔۔۔
عالیہ نے زور سے پکارا
کیا ہوا کیوں چلا رہی ہو
نفیسہ بیگم جھنجھلا کر باہر نکلی تو عالیہ نے مرچ مسالہ لگا کر سب بتا دیا
آپ ہی بتائیے امی جی میں نے کچھ غلط کہا کیا۔۔۔۔۔۔آپ ہی تو کہتی ہے نا کہ کے ماہر جی آپکو سب سے عزیز ہے
نفیسہ کے دیکھنے پر عریشہ اُس کے پاس آئی نفیسہ کے جھوٹے پیار جتانے کا آج اُس نے فائدہ اٹھانا چاہا
تم غلط سمجھ رہی ہو عریشہ۔۔۔۔۔۔ عالیہ نے صرف اسلئے ایسا کہا کیوں کے وہ نہیں چاہتی کوئی اس کے بھائی کا مذاق بنائے۔۔۔۔
نفیسہ نے بجائے اُس سے الجھنے کے میٹھے الفاظ استعمال کیے
وہی تو میں کہہ رہی ہو امی جی عالیہ کو ایسے دوست بنانے ہی نہیں چاہیے۔۔۔۔۔۔جو اس کے بھائی کا مذاق بناتے وقت اپنی دوستی بھی بھول جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوست ایسے نہیں ہوا کرتے عالیہ یا شاید انہیں یقین ہوگا کے اس سے تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے عالیہ کو لاجواب کر دیا تھا
امی جی آپ ہی کہیے نا عالیہ سے کے اپنے دوستوں کو لے کر کسی ہوٹل یا کیفے میں چلی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔آپ بھی تو نہیں چاہے گی کے کوئی ماہر جی کا مذاق بنائے ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُسے پتہ تھا کے نفیسہ بیگم سے کیس طرح بات کرنا ہے اسلئے وہ اُن نے چہرے پر موجود غصّہ نظر انداز کرتی ہوئی بولی عالیہ نے اپنی ماں کو خاموش دیکھا تو اُسے گھور کر پلٹی
واقعی بہت قابو میں رکھا ہے آپ نے اپنی بہو کو۔۔۔۔۔۔۔
جاتے ہوئے وہ دبی آواز میں اپنی ماں کو طعنہ مارنا نہیں بھولی
۔رکو عالیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ اُس کے پاس آئی
آج اپنے دوستوں کو یہ ضرور بتا دینا کے یہ گھر ماہر جی کا ہے اور جو اُن کی عزت کریگا اس گھر میں صرف اسی کی عزت ہوگی۔۔۔۔۔۔
اُسے جتانے کے ساتھ وہ دھمکا بھی چکی تھی وہ پر پٹختی ہوئی ماں کو گھور کر باہر نکل گئی اور نفیسہ بیگم عریشہ کا نیا روپ دیکھ کر حیران رہ گئی
💜💜💜💜💜💜💜💜😝
میرا دل بہت بے چین ہے ڈاکٹر جاننے کے لیے کے رپوٹ میں کیا ہوگا اسی لیے آپ کا میسیج آتے ہی میں یہاں آگئی۔۔۔۔۔
صبح جلدی سے وہ ہسپتال چلی آئی تھی ڈاکٹر کا میسیج آتے ہی
میرا شک صحیح تھا عریشہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہر پر میری دوائی اس لیے اثر نہیں کر رہی ہے کیوں کہ اُسے ایک اور دوائی بھی دی جا رہی ہے۔۔۔۔
عریشہ کو ڈاکٹر کی بات حیران کر گئی
یہ ایک ایسی دوائی ہے جس سے ماہر پر نا تو کوئی اور دوائی اثر کر سکتی ہے نا ہی اُس کی حالت میں سدھار ہو سکتا ہے
لیکن ڈاکٹر میں تو آپ کو ساری دوائیاں دکھا چکی ہوں وہ سب آپ کی ہی دی ہوئی ہے اور اُس کے علاوہ تو کوئی دوائی نہیں دی جاتی اُنھیں ۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے دماغ پر زور ڈال کر سوچا لیکن اُسے کچھ یاد نہیں آیا
ہو سکتا ہے تمہیں پتہ نہ چلا ہو ۔۔۔۔۔۔۔تمہاری غیر موجودگی میں کبھی اُسے یہ دوائی دی گئی ہو
اُن کی باتوں میں موجود اشارے کو عریشہ سمجھ گئی تھی ڈاکٹر واحد اُن کے گھر کے ہر راز سے واقف تھے شاید
اُس دوائی کو بند کرنا بہت ضروری ہے عریشہ جب تک وہ بند نہیں ہوگی کوئی دوائی کا فائدہ نظر نہیں آئیگا تمہیں بہت دھیان رکھنا ہوگا کے وہ دوائی اُسے کیسے دی جا رہی ہے اُس کے کھانے کی ہار چیز کا سیمپل مجھے بھیجو چاکلیٹ ۔۔۔۔آئس کریم یہاں تک کہ پانی کا بھی ٹیسٹ کر کے ہی پتہ چلے گا کچھ ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا اور اُس نے سر اثبات میں ہلا دیا
💜💜💜💜💜💜💜
