Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

نفیسہ بیگم غصے سے ماہر کی جانب بڑھی تھی لیکن عریشہ فوراً ماہر کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی

نہیں امی جی پلیز جانے دیجئے۔۔۔۔۔۔۔ماہر جی نے جو کیا میرے لیے کیا۔۔۔۔۔۔پلیز انہیں معاف کر دیجئے

فنکشن میں ماہر نے عالیہ کی سہیلیوں پر جوس کا گلاس پھینک دیا تھا کیوں کہ وہ عریشہ پر ہنس رہی تھی تب تو نفیسہ بیگم کنٹرول کر گئی تھی لیکن اُن کے جاتے ہی وہ ماہر پر اپنا غصّہ نکال رہی تھی
بیچ میں سے ہٹ جاؤ لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لڑکے کی وجہ سے بار بار لوگو کے سامنے بے عزت ہونا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔خود تو پاگل ہے اسے کیا فرق پڑتا ہے لیکن بدنامی تو ہماری ہوتی ہے۔۔۔۔۔
ماہر عریشہ کے پیچھے کھڑا دانتوں سے ناخن چبانے رہا تھا چہرے پر ڈر اور نفیسہ بیگم اُسے غصے سے دیکھ رہی تھیں

بس نفیسہ۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اُسے روکنا چاہا

امی جی میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کے آئندہ ماہر جی ایسا کچھ نہیں کرینگے پلیز آج اُنھیں معاف کر دیجئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے ریکویسٹ کرتے ہوئے کہا

ہمارے معاملے نے دخل دینے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں تم ہٹو بیچ میں سے ۔۔۔۔۔اگر آج اسے سزا نہیں دی تو اگلے بار پھر یہی کریگا
نفیسہ بیگم اُس کے سائڈ سے آگے بڑھتی ماہر کا ہاتھ پکڑنے لگی تھی

نفیسہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے اس بار سختی سے پکارا تو وہ رک گئی

یہ ماہر کی بیوی ہے مت بھولو۔۔۔۔۔۔۔۔ماہر کے کسی بھی معاملے میں دخل دینا اس کا حق ہے ۔۔اور کن لوگوں کی پرواہ کر رہی ہو تم وہ جو ہمارے گھر آکر ہمارے ہی بہو بیٹے کا مذاق بنا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔اُن غیروں کے لیے اپنے ہی بیٹے کو سزا دو گی تم

بس یہ بات یہیں ختم کرو۔۔۔۔عریشہ ماہر کو لے کر اندر جاؤ ۔۔۔۔۔اور تم بھی جاؤ اپنے کمرے میں۔۔۔۔۔۔۔
دادی نے بات ختم کرتے ہوئے کہا نفیسہ بیگم تن فن کرتی چلی گئی اور ماہر کو لیے عریشہ بھی روم۔میں آگئی
💜💜💜💜💜💜

ماہر جی یہ آپ نے ٹھیک نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔میں نے آپ کو کہا تھا نہ کے کوئی شرارت نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔

لیکن وہ لوگ ماہر کی بیوی پر ہنس رہے تھے

لوگو کے ہنسنے سے کچھ نہیں ہوتا ماہر جی۔۔۔۔۔۔لوگ تو کسی کو خو

ش دیکھ ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔ اگر ہم لوگو کی باتوں کو دل سے لگا لیں تو جینا مشکل ہو جائیگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں صرف سن کر نظر انداز کر دینا چاہیے ۔۔۔۔۔یہی اُن کی باتوں کا جواب ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔

بیوی تم نے جو بولا ماہر کو کچھ بھی سمجھ نہیں آیا

ماہر جی آپ بھی نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلیے اب سو جائیے جلدی سے گڈ نائٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Good night
💜💜💜💜💜💜💜
آپی، آپ اتنی جلدی جا رہی ہے کچھ دن رک جائیے نا پلیز ۔۔۔۔۔
دو دن بعد رائنا نے جانے کی تیاری کر لی تھی عریشہ نے اُسے روکنے کی کوشش کی رائنا نے پچھلے دو دنوں میں اُس کا اتنا خیال رکھا تھا وہ اُسے بہت مس کرنے والی تھی

رک جاتی اگر زیان کے پاپا گھر پر اکیلے نا ہوتے۔۔۔۔اور کوئی ہے بھی نہیں نہ اُن کا خیال رکھنے کے لیے اسی لیے مجھے جانا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔لیکن تم فکر مت کرو زیان کو میں یہیں چھوڑ کر جا رہی ہوں اور یہ تمہیں بلکل بور نہیں ہونے دے گا
رائنا نے اُسے پہلے ہی بتا دیا تھا کے زیان کے پاپا کو سکندر پسند نہیں اسی لیے وہ نا اُس گھر میں آتے ہیں نہ عریشہ کا زیادہ رہنا پسند کرتے ہیں

آپ چلی جائیگی تو بلکل اچھا نہیں لگے گا۔۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا رائنا نے پیار سے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھا اس گھر میں دادی اور ماہر کے علاوہ کسی کو اُس سے فرق نہیں پڑتا تھا اور اب عریشہ کا اضافہ ہوا تھا

اچھا دادی میں نکلتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔خدا حافظ
وہ دونوں باہر آئی تو دادی صوفے پر بیٹھی تھی رائنا اُن سے گلے ملتے ہوئے بولی دادی نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دعا دی

آپی آپی آپی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ باہر نکلنے ہی والی تھی کے ماہر اُسے آواز دیتا ہوا سیڑھیاں اترنے لگا

ارے ماہر کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔دھیرے چلو گر جاؤگے
اُس کے ہاتھ میں چاکلیٹ کا باکس تھا جیسے اُس نے نیچے آکر چھپا لیا تھا

آپی۔۔۔۔۔ماہر آپ کے لیے گفٹ لے کر آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھا دکھاؤ۔۔۔۔۔۔۔
رائنا نے ہاتھ آگے بڑھایا

آنکھیں تو بند کرو نا۔۔۔۔۔۔۔

اچھا بابا کر لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رائنا نے آنکھیں بند کی تو ماہر نے باکس اُس کے ہاتھ میں رکھا اور تالیاں بجانے لگا

واو اتنی ساری چاکلیٹس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھینکو ماہر۔۔۔۔۔۔
رائنا نے مسکراتے ہوئے کہا
میں جا رہی ہُوں۔۔۔۔۔ تم اپنی بيوی کا خیال رکھنا اُسے تنگ مت کرنا اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اوکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رائنا کے تنبیہہ کرنے پر وہ فوراً بولا تھا
💜💜💜💜💜💜💜💜

Hi beautiful

رائنا کے جانے کے بعد وہ کچن میں ماہر کو ناشتہ کروانا تھا اس لیے پلیٹ لگانے لگی تب سکندر کی آواز سنائی دی تو پلٹی

کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اُس کے پاس آکر کھڑا ہوا تھا اور عریشہ گھبرا کر لب کاٹنے لگی
جی کچھ نہیں میں ماہر جی کے لیے ناشتہ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے اور قریب آنے لگا تھا جس سے عریشہ گھبرا کر چپ ہو گئی سکندر نے اُس کے چہرے پر آئی لیٹ کو انگلی سے پیچھے کیا

یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔
عریشہ نے اُس کا ہاتھ ہٹایا وہ مزید پیچھے نہیں ہو سکتی تھی

گھبراؤ مت عریشہ۔۔۔۔۔۔۔۔اس گھر میں صرف میں ہی تو ہوں جو تمہیں سمجھتا ہوں میں جانتا ہوں کتنی تکلیف ہوتی ہوگی تمہیں ماہر کو دیکھ کر۔۔۔۔۔۔وہ تو یہ بھی نہیں سمجھتا کے بیوی کیا ہوتی ہے شادی کیا ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔تو۔تمہاری خوشی کو کیا سمجھے گا لیکن تم فکر مت کرو میں ہوں نا
عریشہ نے جھکی نظریں اٹھا کر اسے حیرت سے دیکھا لفظ اتنے گندے نہیں تھے جتنی گندی اُس کی سوچ اور نظریں تھی

میں تمہارا خیال رکھوں گا۔۔۔۔۔۔ماہر نہیں تو اُس کا بھائی ہی سہی۔۔۔۔۔جو خوشی وہ تمہیں نہیں دے سکتی وہ میں دونگا۔۔۔۔۔ کبھی خود کو تنہا محسوس مت کرنا بس جب دل چاہے میرے پاس آجانا۔۔۔۔۔۔۔میں تمہاری تنہائی

وہ کہتا ہوا اُس کے قریب بڑھنے لگا تھا عریشہ اُس کی بات کے معنی سمجھ کر اندر تک کانپ گئی جانے کہاں سے اُس میں یہ ہمت آئی کے اُس نے سکندر کو دھکا دیا اور وہاں سے بھاگتی ہوئی باہر نکلی

روم میں آکر وہ بیڈ پر گر گئی اور منہ چھپائے رونے لگی ماہر ٹی وی پر کارٹون دیکھ رہا تھا اُسے روتا دیکھ اُس کے پاس آیا

کیا ہوا بیوی۔۔۔۔۔تم کیوں رو رہی ہو۔۔۔۔۔۔

ماہر جی پلیز مجھے اکیلا چھوڑ دیجئے آپ جائیے یہاں سے
اُس نے چہرہ دوسری جانب کر لیا ماہر اٹھ کر اُس طرف سے آیا اور بیڈ پر دوزانو بیٹھ گیا0

نہیں بیوی ماہر نہیں جائے گا۔۔۔۔۔۔۔ بتاؤ نا کیوں رو رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔ماہر سے غصّہ ہو کیا لیکن آج تو ماہر نے تمہاری بنگلس بھی نہیں مانگی
شادی والی رات اُس کا رونا ماہر کو لگا وہ پھر چوڑیوں کے لیے رو رہی ہے

ان بنگلس اور کھلونوں سے بڑھ کر بھی دکھ ہے ماہر جی زندگی میں ۔۔۔لیکن۔۔آپ نہیں سمجھے گے۔۔۔۔اس لیے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجئے۔۔۔۔۔رونے دیجئے مجھے آپ جائیے یہاں سے….
عریشہ غصے میں اُس پر چینخ پڑی تھی اور وہ ڈر گیا تھا

نہیں بیوی ماہر تمہیں نہیں رونے دیگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اگر تم روؤں گی تو ماہر کا بھی دل کریگا رونے کو۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس بار ڈرتے ہوئے بولا اور عریشہ اُس کی جانب حیرت سے دیکھتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئی وہ اُداس ہو گیا تھا شاید عریشہ کو روتا دیکھ کر عریشہ اُس کے سینے سے لگ گئی تھی

۔۔۔۔۔میں تھک گئی ہوں اپنی قسمت سے لڑتے لڑتے ماہر جی۔۔۔۔۔۔۔ہر بار ایک نیا غم ایک نئی مشکل میرے سامنے آجاتی ہے۔۔۔۔۔میں کیا کروں کیسے لڑوں ان مشکلوں سے میرا تو ساتھ دینے والا بھی کوئی نہیں ہے ماہر جی۔۔۔۔۔۔۔۔میں اکیلی انکا سامنا نہیں کرنا سکتی نا ہی ان سے بھاگ سکتی ہوں مجھے کوئی راستہ نظر نہیں آتا میں کیا کروں میں خود کو نہیں سنبھال سکتی اپنی زندگی کو بہتر نہیں بنا سکتی تو میں کیا آپ کے لیے کچھ کر پاؤں گی ماہر جی۔۔۔۔۔۔میری ہمت تو ان لوگوں باتیں سن کر ہی دم توڑ دیتی ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کے گرد بازو لپیٹے روتے ہوئے اپنے دل کی بات اُسے بتا رہی تھی اور ماہر نا سمجھے سے اُسے سن رہا تھا

ایک بات بولو بیوی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چپ ہو گئی تو ماہر نے دھیرے سے کہا عریشہ نے الگ ہو کر اُسے دیکھا اور سے اثبات میں ہلا دیا

تم نے جو بھی کہا ماہر کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔۔۔۔۔
وہ معصومیت سے آنکھیں بڑی کرکے بولا جیسے ڈر رہا ہو کے اُسے برا نہ لگ جائے عریشہ روتے روتے ہنس دی

آپ جائیے کارٹون دیکھیے۔۔۔۔۔۔۔میں بس ایسے ہی۔۔۔۔۔۔
وہ اُسے کیسے اپنی باتوں کا مطلب سمجھاتی ماہر اُس کے کہنے پر سے ہلاتے ہوئے وہاں سے اٹھ گیا

میں جانتی ہوں ماہر جی آپ یہ سب نہیں سمجھ سکتے لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کے وہ لوگ بھی نہیں سمجھتے جو خود کو عقلمند مانتے ہیں۔۔۔۔۔۔کمی آپ میں نہیں اُن لوگو میں ہے جو آپ کا مذاق بناتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آپ کو برا کہتے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ تو جو کرتے ہیں انجانے میں کرتے ہیں لیکن وہ سب تو جان بوجھ کر سوجھ سمجھ کر آپ پر طنز کرتے ہیں اور پھر بھی خود کو سمجھدار کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
میں کیا کروں ماہر جی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دور سے ہی اُسے دیکھ کر بات کر رہی تھی سکندر کی باتوں نے اُسے درا دیا تھا
رات کو عالیہ اور اُس کی سہیلیوں کا ہنسی اڑانا
مہمانوں کی طنزیہ نظریں

ماہر کی امی کا غصّہ کرنا
اور سکندر کی باتیں
یہ سب باتیں فلم کی طرح اُس کے دماغ میں چل رہی تھی

کاش کے آپ ٹھیک ہوتے تو یہ سب نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کے اپنے آپ کے خلاف ایسے سازشیں نا کرتے۔۔۔۔۔۔۔آپ پر طنز نا کرتے آپ کو برا بھلا نہ کہتے
آپ کی بیوی پر غلط نظر نہ ڈالتے
کسی کی ہمت نہیں ہوتی کے آپ کا مذاق اڑا سکے۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کو ٹھیک ہونا ہوگا ماہر جی۔۔۔۔انہیں جواب دینا ہوگا۔۔۔۔۔آپکو میرا ساتھ دینا ہوگا ماہر جی۔۔۔۔۔۔۔۔
میں آپ کو ٹھیک کر کے رہوں گی۔۔۔۔۔۔اب تک میں صرف اپنی قسمت پر روتی آئی ہو افسوس کرتی آئی ہوں کیوں کے میں کچھ کر نہیں سکتی تھی ۔لیکن اب میں کر سکتی ہوں اس بار اپنی قسمت کو بدل سکتی ہوں اور اس بار اللہ کو بھی میرا ساتھ دینا ہوگا۔۔۔۔۔۔اس بار میں لڑوں گی ماہر جی آپ کے لیے دادی کے لیے اپنے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور جیت کر رہوں گئی
اُس نے فیصلہ کر لیا تھا اس بار ہمت کرنی ہی ہے اپنی قسمت پر رونا نہیں ہے بلکہ اُسے اچھا بنانا ہے بس ماہر ٹھیک ہو جائے تو سب صحیح ہو جائے لیکن کیسے ۔۔۔۔بس یہ سوال تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
،💜💜💜💜💜💜💜