581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 9)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

““مہندی اسپشیل 💛💛

وانیہ بچہ بات کرنی میں نے تم سے ۔۔

احمد اس کے روم میں آتا پیار سے بولا تھا۔۔۔

جی لالہ آے ۔۔

آپنے آنسو صاف کرتی وہ زبردستی مسکراتی بولی تھی۔۔۔۔

تم جانتی ہو نہ میں تمہارے آنسو دیکھ کر ہی تڑپ جاتا ہو اب جلدی جلدی بتاٶ کیا بات ہوئ ہے جو شادی کرنی ہے صرف دو دن میں ۔۔۔

اور یہ آنسو کیوں جہاں تک میں جانتا ہو مہر تم سے محبت کرتا ہے ۔۔۔

احمد اس کے پاس بیڈ پر آتا اسے سینے سے لگاۓ بیٹھے بولا تھا۔۔۔

لال۔لالہ ۔و۔وہ محبت ک۔کرتا ہے لیکن اس میں ہمت نہیں ۔۔مجھے ایسی محبت منظور نہیں جس میں وہ سب کا سامنا کرنے کی ہمت پیدا نہ کر سکے۔۔۔

وانیہ اس کے سینے پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی۔۔۔۔

جان سے مار دو گا میں اسے ہمت بھی کیسے ہوئ میری بہن کو اتنا رولانے کی ۔۔۔

احمد شدید غصے میں آتا غرایا تھا۔۔

اس کے غصے کی شدت دیکھ وانیہ پوری کانپی تھی۔۔۔۔

ن۔نہیں لالہ ایسا مت کرنا آپ پلیز ۔۔۔

وانیہ اس کے ہاتھوں کو پکڑتی روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

“““کچھ گھنٹے پہلے ۔۔۔

مہر مجھے بات کرنی ہے تم سے ۔۔۔

مہر اپنے آفس ضروری فائلز دیکھ رہا تھا جب وانیہ آفس انٹر ہوتی جلدی سے بولی تھی۔۔۔

ریلکس یار تم بیٹھو تو سہی م۔۔

نہیں نہیں ابھی بات سنو بلکہ تم ابھی میرے ساتھ گھر چلو سب کو بتاٶ تم مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو ۔۔۔

لالہ بابا سب مان جاۓ گے ویسے بھی تم یافی پھپھو کے بیٹے ہو آو میرے ساتھ۔۔۔

مہر اسے پرسکون کرتا بول رہا تھا جب وانیہ اسی کا ہاتھ پکڑے اپنے ساتھ لے کر جاتی بولی تھی۔۔۔

ک۔کیا بولی جا رہی ہو سمجھ سے باہر ہے۔۔۔

مہر یکدم گھبراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

تم مجھ سے محبت کرتے ہو سب جانتے ہے ایک رشتہ آیا ہے تم کہو بابا سے مجھ سے شادی کرنی وہ مان جاۓ گے ۔۔۔

بتاٶ محبت کرتے ہو مجھ سے ۔۔۔

وانیہ اس کی گرے آنکھوں میں دیکھتے بولی تھی۔۔۔

ہاں کرتا ہو محبت بلکہ عشق ہو میرا ا۔۔۔

یہ تو اچھی بات ہے چلو بتاٶ سب کو میں صرف تم سے شادی کرو گی ۔۔۔

مہر تحمل سے بولا تھا جب وانیہ جلدبازی سے بولی تھی۔۔۔

روکو روکو وانیہ می۔میں تمہارے قابل نہیں ہو ۔۔۔

مہر ہکلاتا گھبراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

کیوں قابل نہیں ہو بزنس ٹائکون ہو اربوں کی دولت ہے کیا کمی ہے تمہارے پاس ۔۔۔

وانیہ چیختی ہوئ بولی تھی۔۔۔

نہیں ہو بس میں تمہارے قابل تم انکار کر دو شادی سے کچھ سال بعد میں ماموں جان سے بات ک۔۔۔۔

چٹاخ چٹاخ۔۔۔

کیا سمجھتے ہو مجھے محبت کا ڈرامہ کیا پھر کہتے ہو قابل نہیں ہو ۔۔۔

اہہہہ میں ہی پاگل ہو تمہاری کیئر اور توجہ کو محبت سمجھتی رہی تم نے کبھی اظہار بھی نہیں کیا مجھ سے ۔۔

بہت شکریہ تم نے اپنی اصلیت مجھے دیکھا دی ۔۔

وانیہ اسے تپھڑ مارتی اس کا کالر پکڑے طش سے چلائ تھی۔۔۔

وا۔وانی تم غلط سمجھ رہی ہو مجھے تم سے بہت محبت ہے لیکن میں واقعی تمہارے قابل نہیں ہو ا۔۔۔

میرے قابل جو ہے وہ مل جاۓ گا دو دن میں اسی انسان کی بیوی بنو گی جو میرے قابل ہو گا سمجھے تم ۔۔۔

آ جانا شادی پر۔۔۔۔

مہر اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑے دکھی انداز سے بول رہا تھا جب وہ پھر چلای تھی۔۔۔۔

کیا تم شادی کر لو گی اس انسان سے جس کو تم نے ن۔۔

ہاں کر لو گی وہ رشتہ میرے بابا لے کر آے ہے میں تمہاری اس جھوٹی محبت کے سہارے اپنے بابا کا وہ مان نہیں توڑ سکتی ۔۔

انہوں نے جو رشتہ دیکھا ہو گا وہ اچھا ہو گا تم سے بہتر۔۔

ایسی سو محبتیں میرے بابا کی محبت کے آگے میں قربان کر دو گی ۔۔۔

جس محبت میں اتنی ہمت نہ ہو وہ سب کا سامنا کر سکے مجھے ایسا بزدل شخص چاہے بھی نہ ۔۔۔

مہر بے تاب ہوتا بول رہا تھا جب وانیہ اس کے چہرے کے طرف حقارت سے دیکھتی بولتی وہاں سے واک آوٹ کر چکی تھی۔۔۔۔

کیا تم اس لیے اہتشام سے شادی کرنا چاہتی ہو صرف مہر کو بتانے ک۔۔۔

نہیں لالہ میں یہ شادی اپنی دلی رضامندی سے کرنا چاہتی ہو جہاں آپ سب خوش وہاں میں بھی خوش آپ بس شادی کی تیار کرے ۔۔۔

احمد اپنی سرخ آنکھیں ضبط سے بند کرتا بول رہا تھا جب وانیہ آنسو بہاتی بولی تھی۔۔۔

میں اپنی گڑیا کی بہت اچھی شادی کرو گا تم ایسا کرو ہادی کو منا لو وہ ایسے اداس ہو گیا ہے جیسے ہم تم پر ظلم کر رہے ۔۔۔

احمد اس کا ماتھا چومتا ہوا پیار سے بولا تھا۔۔۔

لالہ وہ تو پاگل ہے آپ فکر مت کرے اسے کوئ اور ہینڈل کر لے گا۔۔۔۔

وانیہ مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔

میری بیٹی کیا کر رہی ہے ۔۔

صام حدید کے روم میں آتے مسکراتے بولے تھے جہاں وہ پھولا سا منہ بناۓ بیٹھا تھا۔۔۔

کیا ڈیڈ اتنے خوبصورت بیٹے کو منٹوں میں بیٹی بنا دیتے ہے ۔۔

ہاے مجھ پر لڑکیاں دیوانی ہے ۔۔

حدید اپنے براٶن بالوں کو ہاتھوں سے سائیڈ پر کرتا ایک ادا سے بولا تھا۔۔۔

بیٹی ہی ہو میری ہر کام تمہیں آتا ہے یہ لڑکیوں جیسے زلفیں ۔۔

معصوم شریف سی بیٹی۔۔

صام اس کے قریب بیٹھتے اس کا ماتھا چومتے بولے تھے۔۔۔

تم میرے بہت بہادر بیٹے بھی ہو میرا حدید بیسٹ ہے تو یہ آنسو کیوں ۔۔

صام تو اپنے بیٹے کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ہی تڑپ گے تھے تبھی وہ ضبط سے بولے تھے۔۔۔

ڈ۔ڈیڈ میں کچھ بھی ہینڈل نہیں کر سکا لالہ کا وعدہ نہ نبھا سکا میں ۔۔۔

حدید روتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

لیکن جہاں تک میں جانتا ہو میرے بیٹے نے سب کو ہینڈل کیا ہے تم وانیہ کے لیے پریشان ہو وہ راضی ہے اس رشتے پر تم ایسا کرو گے تو سب ہی اداس ہو جاۓ گے ۔۔۔

میرے بہادر بیٹے ۔۔

صام خود بھی آبدیدہ ہوتے اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے بولے تھے۔۔۔

ارے میں تو دیکھ رہا تھا روتے وقت کیسا لگتا ہو مطلب وانیہ کی رخصتی پر آنسو بھی بہانے ہے اس کی دوست ہو ۔۔۔

حدید اچانک دانت نکالے بولا تھا۔۔۔

نکما ہڈحرام بدمعاش۔۔۔

صام اسے سینے سے لگاۓ بولے تھے۔۔۔

پھر میری شادی کب کرواۓ گے ڈیڈ۔۔۔

حدید دانت نکالے بولا تھا۔۔۔

ہاہااااہاہ ہااہاہااہا ہاہااہاہاہاا ۔۔۔

اس کی بات پر صام کافی عرصے بعد کھول کر قہقہ لگایا تھا۔۔۔

روم کے باہر کھڑی روحا اور سوہا مسکرائ تھی ان کا قہقہ سن کر ۔۔۔

احمد نے وانیہ کی ساری بات پورے گھر کو بتا دی تھی تبھی آفندی صاحب اپنی پوتی کی خواہش پر پورے پیلس کو سجانے کا آڈر دے دیا تھا۔۔۔۔

آہان کے دماغ میں یہی بات تھی شاہد زرجان مہر کا رشتہ مانگے لیکن پھر وانیہ کی بات سنتے وہ بھی خوش ہو گے تھے ۔۔۔

سب ہی مہندی کی تیاریوں میں بزی ہو چکے تھے ۔۔۔۔

تو ناظرین یہ دیکھے ہماری بیوٹی فل سی پھپھو زرجان انکل کی جانننننننن۔۔۔

کیا ہے پھپھو میں تو تعریف کر رہا تھا۔۔۔۔

حدید صبح واپس اپنی ٹون میں آتا سب کی تیاریوں کی ویڈیو بنانے میں بزی ہو چکا تھا۔۔۔

تبھی ہال میں آتی یافی کو دیکھ وہ بولا تھا جو یلیو انیڈ پنک ساڑھی میں تیار ملبوس تھی ۔۔

تبھی وہ ان کی ویڈیو بناۓ بول رہا تھا جب یافی نے مکہ اس کی کمر پر مارا تھا۔۔۔۔

صام بلکل ٹھیک کہتا ہے تم شرراتی زیادہ ہو گے ہو۔۔۔

یافی اس کا کان پکڑے مسکراتی بولی تھی۔۔۔

ارے پھپھو میں تو ایسا ہی ہو ویسے یہ بتاۓ اتنی جلدی کیوں آ گی ہے ۔۔

حدید دانت نکالے بولا تھا۔۔۔

و۔۔۔

ارے میرے انکل کا کیا ہو گا وہ تو اکیلے رہ گے ان کی حیسننننن بیوی ۔۔۔

ماما بڑی ماما بچاٶ مجھے ۔۔۔

حدید شرارتی انداز سے بول رہا تھا جب یافی کے ہاتھوں میں جوتا دیکھ وہ چیختا ہوا بھاگا تھا۔۔۔

ارے آغا بچاۓ مجھے پھپھو پیچھے پڑ گی ہے آہہہہہ۔۔۔

سیڑھیوں سے اوپر جاتے وہ سیدھا احمد سے ٹکڑایا تھا جب پیچھے سے اُڑتی ہوئ چیپل حدید کی کمر پر لگی تھی تبھی وہ چلایا تھا۔۔۔

رک ابھی تو میں صام کو شکایت لگاتی ہو۔۔۔

یافی اوپر آتی سرخ چہرہ لیے بولی تھی۔۔۔

میری پیاری سی پھپھو جان ارے زرجان انکل آپ جلدی آ گے۔۔۔

حدید یافی کو ہگ کیے بولا تھا۔۔۔

جب وہ پیچھے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

زرجان آپ مہر ا۔۔۔۔

یافی کے الفاظ وہی رک چکے تھے کیونکہ پیچھے کوئ نہیں تھا۔۔۔

یہ پورا شیطان ہے ۔۔

اپنے سامنے گھم حدید کو دیکھ وہ احمد کی طرف دیکھتی مسکراتی بولی تھی۔۔۔۔

پھپھو مہر اور امن نہیں آے ۔۔

احمد انہیں ہگ کیے آرام سے بولا تھا۔۔۔

مہر کو کام تھا شاہد امن کو بخار ہے وہ کہتی رسم کے وقت آ جاۓ گی۔۔۔

یافی مسکراتی بولی تھی۔۔۔

ہاےےے شکر میں بچ گیا پھپھو سے۔۔

یہ کون ہ۔۔۔ا

اہہہہہ اہہہہہہ اہہہہہہہ ۔۔

اپنے سامنے منظر دیکھتے وہ چیختا وہی گر کر بے ہوش ہو چکا تھا۔۔۔

اپنی پھپھو سے جان بچاتے وہ جلدی سے وانیہ کے روم میں گیا تھا لیکن وہاں کا منظر دیکھ وہ ڈر گیا تھا۔۔۔

ہادی ہادی کیا ہوا یہ ہم ہے ۔۔۔

وانیہ زینب سوہا روشانے رعنا اس پر جھکتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

جو وہی قالین پر سیدھا لیٹا ہوا ہوا تھا۔۔۔

ی۔یہ چڑیلیں کہاں سے آی یہ والی بھوت ہے شاہد ۔۔

حدید ان سب کے چہرے دیکھ ہکلاتا ہوا بولا تھا۔۔

کیا بکواس ہے زرافے یہ بلیک ماسک لگایا ہے ہم نے ۔۔

روشانے برا سا منہ بناے اس کے پیٹ پر لات مارتی بولی تھی۔۔۔

وہ سب بلیک ماسک لگاۓ سکون سے بیٹھی تھی تبھی وہ ڈر گیا سب کو دیکھ کر ۔

میرے معصوم و شریف چہرے پر بھی لگاٶ یہ والا ماسک حسین لگو گا۔۔۔

حدید اپنی آنکھوں میں چمک لاتے بولا تھا۔۔۔

افففف ہادی یہ لڑکیاں لگاتی ہے تم نکلو باہر ۔۔۔

زینب اور وانیہ اسے کالر سے گھسیٹتی ہوئ ویسے سے روم سے باہر نکالے بولی تھی۔۔۔

انہہہ معصوم لوگوں کی زندگی ہی نہیں ہے ۔۔

حدید اپنے کپڑے صاف کرتا فرش سے اٹھتا ہوا بولا تھا۔۔۔

تمہاری شکل ویسے ہی رہے گی بندریا جیسی ۔۔

تمہارا نام روشن دان ایویں رکھ دیا چڑیلوں کی کوئین ۔۔

حدید دوبارہ روم کے اندر گردن کیے دانت نکالے روشانے کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔

تم دفع ہو جاٶ ورنہ قتل

کر دو گی جاہل انسان ۔۔۔

روشانے نیل پالش کی شیشی اٹھاۓ اس کو مارتی غراتی بولی تھی۔۔۔

انہہ۔۔

حدید اسے تنگ کرتا اب سکون سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔

مہر تم تیار نہیں ہوۓ ۔۔

رات کو زرجان تیار ہوۓ مہر کے روم میں آتے بولے تھے ۔۔۔

نہیں بابا آپ جاۓ ۔۔

مہر سرد پن سے بولا تھا۔۔۔

دیکھو بیٹا جو اللہٌکو منظور وہی ہوتا ہے اب تم محبت نہیں کرتے تھے تو و۔۔۔

بابا وانیہ میرا عشق ہے میری رگ رگ میں بستی ہے میں کیسے یقین دلاو سب کو۔۔۔

زرجان اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے بول رہے تھے جب وہ طش سے چلایا تھا۔۔

پھر یہ سب ک۔۔۔

میں اس کے قابل نہیں ہو ۔۔۔

زرجان حیران ہوتے بول رہے تھے جب وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھ بولا ۔۔

کیوں قابل نہیں ہو خوبصورت ہو اتنی دولت ہے اتنے اچھے اخلاق کے مالک ہو ا۔۔۔

آپ بھول گے ہے میں ایک دہشت گرد کا بیٹا ہو بابا ۔۔۔

زرجان بول رہے تھے جب مہر پوری شدت سے چلاتا بولا تھا۔۔۔

زرجان ہکا بکا رہ گے تھے اس کی بات پر ۔۔۔

ہاں مانتا ہو تم اسی انسان کے بیٹے ہو لیکن میں نے اور فیا نے ہمیشہ تمہیں بیٹا سمجھ کر پلا ہے ۔۔

میں واقعی بھول گیا تھا تم میری اولاد نہیں ہو ۔۔

بابا میرا مقصد آپ کو ہرٹ کرنا نہیں تھا آج جس مقام پر ہو آپ کی وجہ سے ہو چاہے اس انسان نے پیدا کیا مجھے لیکن پلا آپ اور ماما نے ہی ہے ۔۔۔

مجھے اچھا انسان بنایا آپ کی وجہ سے مجھے یہ پیارے رشتے ملے ہے ل۔۔۔۔

لیکن کیا مہر بیٹا ۔۔۔

زرجان دکھی ہوتے بولے تھے جب مہر ان کے ہاتھوں کو پکڑے ان کو چومتے بولتا ہوا روکا تھا۔۔۔

جب وہ سوالیہ نظروں سے دیکھ بولے تھے۔۔۔

میرا ماضی میرا پیچھا نہیں چھوڑتا بابا اگر وانی سے شادی کر لو جب اسے پتہ چلے گا میں کون ہو وہ نفرت کرے گی ۔۔

ا۔۔۔

دیکھو دہشتگرد وہ انسان تھا تم نہیں تم تو چھوٹے معصوم سے بچے تھے ۔۔۔

تم زرجان ظفر خان کے اکلوتے بیٹے ہو مہر زرجان خان یہی نام تمہارا کافی ہے سب بھول جاٶ ۔۔۔

مجھے بابا مانتے ہو تم تو ابھی مہندی پر چلو بلکہ کچھ بھی نہیں بگڑا میں آہان سے بات کرتا ہو ۔۔۔

مہر بول رہا تھا جب زرجان سکون سے بولے تھے۔۔

نہیں میں اس کے قابل نہیں ہو میں لندن جا رہا ہو ایک گھنٹے میں فلائیٹ ہے میری ۔۔

مہر اپنی نظریں جھکاۓ بولا تھا۔۔۔

تم میری واقعی اولاد نہیں ہو میرے بیٹا اتنا بزدل نہیں ہو سکتا جیسے تم ہو جانا ہے شوق سے جاٶ۔۔۔۔

بابا م۔۔

بس بہت ہوا تم جاٶ یہاں سے اگر تمہارے ہی دماغ سے یہ فتور نہیں نکل رہا تو میں کیا کہا سکتا ہو۔۔۔

زرجان اچانک شدید طش میں آتے بول رہے تھے جب مہر نے روکا چاہا تبھی چلاتے وہ وہاں سے واک آوٹ کر چکے تھے۔۔۔

تم خوش ہو ۔

مہندی کے اسیٹج پر تیار سی وانیہ کے پاس آتے آفندی صاحب سر پر ہاتھ رکھتے بولے تھے۔۔۔

جی دادا جان ۔۔

وانیہ سر جھکاۓ آرام سے بولی تھی۔۔۔

میری بیٹی بہت پیاری ہے ۔۔۔

آفندی صاحب اس کا ماتھا چومتے ہوۓ پیار سے بولے تھے۔۔۔

شکر ہے آپی آپ نے آج کوئ پورا ڈریس پہنا ہے ۔۔

حدید سوہا کو تیار دیکھ بولا تھا جس نے یلیو شارٹ فراک کے ساتھ سیم کیپری پہنے بالوں کی چٹھایا کیے سادہ سی لک میں پیاری لگ رہی تھی روشانے زینب رعنا ان سب نے بھی سیم ایسی ڈرسینگ کی تھی ۔۔۔۔

فادی کو پسند ہے یہ۔۔۔

سوہا مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔

ہاے اووووےےے لڑکی شرم کرو تمہارا جوان خوبصورت بھای کھڑا ہے تم کیسے بول رہی ہو۔۔۔

حدید اسے ہگ کیے شرراتی انداز سے بولا تھا۔۔۔

انہہ بندر۔۔۔

سوہا اس کے پیٹ میں مکہ مارتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

ہاہاہہاہاہا ہاہہاہاہاہاا ہاہاہہاہاہا ۔۔۔

حدید کے ساتھ سب کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔

چلو بس کرو اگر تم نے برش کر ہی لیا ہے آج تو ۔۔۔

حدید دانت نکالتی روشانے کو دیکھ مذاق کرتا بولا تھا۔۔۔

روشانے کو سادہ سا تیار دیکھ حدید کی ہارٹ بیٹ مس ہوئ تھی ۔۔۔

یہ احساس اس کے لیے پہلی دفعہ تھا۔۔۔

تم بھی کر لو برش چچچچ دانت دیکھو اپنے ۔۔۔

روشانے اسے بالوں سے پکڑتی دانت پیستی ہوئ بولی تھی۔۔۔

ویسے تمہیں کیسے پتہ میں نے برش نہیں کیا ۔۔۔

حدید ڈھیٹ ہوتا بولا تھا۔۔۔

چچچچچچ لالہ ۔۔۔

زینب اپنا دل خراب کرتی بولی تھی۔۔۔

ویسے روشن دان میرے دانت دیکھو صاف ہ۔۔۔

ارے رکو سب کہاں چلی۔۔۔

حدید جان بوجھ کر روشانے کے قریب آتا بول رہا تھا جب وہ ساری ڈرتی ہوئ وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔

جب وہ مسکراتا ہوا سب کو بلا رہا تھا۔۔۔

تم بہت پیارے ہو کیوٹ سے ۔۔

فارس اپنی وہیل چیئر پر بیٹھا سوہا کا ویٹ کر رہا تھا جب اسی ٹیبل کی چیئرز پر کچھ لڑکیاں بیٹھتی ہوئ اسے دیکھ بولی تھی۔۔۔

شکریہ۔۔

فارس نے مسکراتے جواب دیا تھا۔۔۔

ویسے تمہاری خوبصورتی کے آگے یہ معذوری بھی نہیں دیکھتی ہم سے دوستی کرو گے۔۔۔

ان میں سے ایک لڑکی فارس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتی ہوئ مسکراتی بولی تھی۔۔۔۔

فارس کا ہاتھ ٹیبل پر پڑا تھا۔۔۔

فارس کو اب الجھن ہو رہی

تھی ان کی نظروں اور باتوں سے جو مسلسل اسے تنگ کرتی بول رہی تھی۔۔۔۔

یہ آنکھیں بھی پیاری ہے تمہاری سنہری ا۔۔۔۔

دور رہو اس سے ۔۔۔

اس سے پہلے لڑکی اس کی آنکھوں کو چھوتی بولتی جب سوہا وہاں آتی طش سے چلائ تھی۔۔۔

کیوں تم کون ہو اس کی جو اتنی تکلیف ہو رہی ہے ۔۔۔

وہ لڑکی سامنے سوہا کو دیکھ بولی تھی سب جانتی تھی وہ سوہا صام آفندی تھی جو تبھی بولتی جب اس کا دل چاہتا تھا۔۔۔

شوہر ہے یہ میرا اب دفع ہو جاٶ ساری یہاں سے ۔۔۔

سوہا فارس کی وہیل چیئر کو پکڑے غرای تھی۔۔

فارس تو منہ کھولے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔

انہہہ اب اتنا بھی خوبصورت نہیں یہ۔۔۔

سب اداس ہوتی نقلی غصہ شو کرواۓ وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔۔

کیوں جھوٹ بولا ہے تم نے سب سے کچھ شرم کرو ۔۔۔

فارس سب کو دور جاتا سوہا کی طرف اپنی آنکھیں اوپر اٹھاۓ بولا تھا۔۔۔

کون سا جھوٹ ۔۔

سوہا انجان بنی اس کے بالوں میں انگلیاں چلاے بولی تھی۔۔۔

ی۔یہی میں شوہر ہو تم۔۔۔۔

نہیں ہو شوہر لیکن بہت جلد تم بن جاٶ گے ۔۔۔

فارس اس کی گرین آنکھوں میں دیکھ پل میں گھبراتا بول رہا تھا جب سوہا اس کی طرف جھکتی اس کی آنکھوں میں دیکھ بھاری سرگوشی کرتی بولی تھی۔۔۔

ی۔یہ غلط ہے سوہ۔۔۔

کچھ غلط نہیں فادی محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے ۔۔

فارس اپنی گھبراہٹ پر قابو پاۓ بول رہا تھا جب وہ اپنے لب اس کی آنکھوں پر رکھتی بولی تھی۔۔۔۔

فارس کی آنکھیں سے آنسو گر کر ٹوٹا تھا۔۔۔

سوہا اچھے سے جانتی تھی وہ کس بات پر اتنا گھبراتا تھا۔۔۔

ویسے بہت پیارے لگ رہے ہو میرا دل کر رہا بابا سے کہو ہمارا نکاح کروا دے ۔۔۔

نکاح سے یاد آیا میری ساسو ماں کدھر ہے سلام کر لو ۔۔

فارس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے سوہا نے ہانیہ کا نام لیا تھا ۔۔۔

جب وہ آنکھیں پھاڑے اسے ہی دیکھ رہا ۔۔۔

وہ جانتا تھا اسی کے سامنے ہی سوہا اپنی نیچرل کے برعکس زیادہ بولتی تھی۔۔۔۔

آپ کو کیا ہوا اتنے غصے میں آ رہے ہے ۔۔

سوہا اپنے سامنے سرخ چہرہ لیے احمد کو آتا دیکھ سکون سے بولی تھی ۔۔۔

اسے پتہ تھا منٹوں میں احمد کو غصہ آتا تھا وہ یہی سمجھی تھی کسی بات کا غصہ ہو گا۔۔

ام۔امن نے خودکشی کی ہے ہمیں ہاسپٹل جانا ہو گا۔۔۔

احمد پہلے ہکلایا پھر خود پر قابو پاۓ وہ بولا تھا۔۔۔

کیااااا لیکن کیوں م۔مطلب م۔۔۔

میں نے بتا دیا ہے تم سب کو بتا دو میں جا رہا مہر کے پاس وہ ہاسپٹل ہی ہے امن کے پاس۔۔

سوہا گھبراتی بول رہی تھی جب اس کی سرخ گرین آنکھوں کی گھوری سے وہی رک گی تبھی وہ اپنی کہتا وہاں سے کار کی چابیاں لیے چلا گیا تھا۔۔۔۔

یافی تو امن کی حالت سن وہی پر رونا سٹارٹ کر چکی تھی۔۔۔۔

سب حیران تھے امن جیسی شرارتی بچی نے یہ کام کیوں کیا تھا۔۔۔