581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 29)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

“”ماضی ۔۔۔

میں اسے کیسے لے جاو صامے یہ ایک دہشتگرد کا ب۔۔۔

میری بات سنو ڈبل زی یہ معصوم سا ننھا بچہ ہے اسے کیا پتہ اس کے ماں باپ کیسے تھے وہ تو انجان تھا ہر بات سے ویسے بھی ضروری نہیں ہوتا بچے والدین پر ہی جاے ۔۔۔

مجھے یقین ہے تم اور یافی اس کی تربیت اچھی کرو گے یہ دل سے خیال نکال دو میں گاڑنٹئ دیتا ہو مہر زرجان خان کا بیٹا بن کر دیکھاے گا ۔۔۔

ہاسپٹل اتے زرجان روم میں بے ہوش مہر کو دیکھ بول رہا تھا جب صام سکون سے کھڑا بولا تھا اس کے شولڈر سے خون نکل کر جم گیا تھا ۔۔۔

ڈاکٹر نے بتایا تھ

ا مہر اب بلکل ٹھیک ہے بس ڈر کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گیا تھا ۔۔۔

صام کے کہنے پر ہی زرجان مہر کو اپنا بیٹا بنا کر لے گیا تھا ۔۔۔

یافی نے بھی مہر کو بلکل بیٹا بنا کر رکھا تھا ۔۔۔

احمد کے علاوہ کسی کو نہیں پتہ تھا مہر کون ہے ۔۔۔

ہاے شکر ہے تم سب بچ گے اپنے ڈیڈ سے ورنہ وہ تو ہمارے معصوم بچوں کو لندن بھیج دیتے ۔۔۔

روحا ان تینوں کو نہا لا کر لاتی بیڈ پر بیٹھاتی ان کو تیار کرتی بولی تھی ۔۔۔

سوہا اور حازم نے اپنا منہ بنایا ہوا تھا کیونکہ سوہا کو فارس کے پاس جانا تھا جبکہ حازم کو وانیہ چاہے تھی ۔۔

جبکہ حدید بے صبری سے اپنے ڈیڈ کا ویٹ کر رہا تھا ۔۔

تم لوگوں نے اب سکون سے سونا ہے اوکے ۔۔

روحا اب تینوں کو بیڈ پر لیٹاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ماما ڈیڈ کب آے گے ۔۔۔

حدید نے بے صبری سے پوچھا تھا۔۔۔

ہم فون کرتے ہے آ جاۓ گے تم سب یہاں لیٹ جاٶ ۔۔

روحا اس کے گال چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

وہ ایسا ہی تھا نرم دل کا مالک ہر وقت مسکراتا رہتا تھا ۔۔۔

کدھر تھے آپ جانتے ہے بچے ابھی تک نہیں سوۓ ہمارا جینا حرام کیا ہے تینوں نے حد ہے صام اتنی لاپرواہی کی ۔۔۔

آدھی رات کو صام جب چھپ کر روم میں آیا تھا جب روحا بنا روکے بولنا شروع ہو چکی تھی ۔۔۔

جہاں صام بلیک ہڈی پہنے سکون سے اسے دیکھتا مسکرا رہا تھا۔۔۔

کیسے دانت نکال رہے ہے توبہ ہے صام ۔۔۔

نوفل نے روحا سے جھوٹ بولا تھا کہ صام نے اپنا میشن پورا نہیں کیا تبھی وہ آگ بگولہ ہوتئ اس کا ویٹ کر رہی تھی ۔

بچے جاگ رہے ہے ابھی تک جاۓ ان کے پاس اب اور یہ ہڈی میں کیوں آے یونفارم کدھر ہے آپ کا۔۔۔

روحا صام کی گلاسز اتارے آرام سے بیڈ کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔۔

جہاں صرف حدید اور سوہا ان دونوں کو گھور رہے تھے ۔۔۔

ڈیڈ ڈیڈ ڈیڈ ۔۔۔۔

ارے ارے ایلفیوں سکون میں رہو میرے دشمن ہو جانتے ہو تم لوگوں کی وجہ سے میری انیجل مجھے بولی ہے چلو اب سو جاٶ ۔۔۔

سوہا حدید دونوں بیڈ سے اترتے صام کی ٹانگوں سے لگتے چلاے تھے جب ان دونوں کو اپنی گود میں اٹھاۓ صام دونوں کے گال چومتا روحا کی طرف دیکھتا بولا تھا جو شاہد نیند میں جا رہی تھی اب بیٹھی ہوئ ۔۔۔

ڈیڈ ایک کس دے میں سو جاٶ گا ۔۔۔

حدید اس کے ڈمپل پر لب رکھتا مسکراتا بولا تھا۔۔۔

موڈ تو نہیں اپنے دشمن کو کس دو لیکن یہ لو ۔۔۔

صام دونوں کے گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔

یار سوری میں جانتا ہو بچوں کے ساتھ تمہیں بھی نیند نہیں آتی پر کیا کرو کام تھا بہت ضروری وہی کر رہا تھا ۔۔۔

معاف کر دو اپنے معصوم ڈیول کو ۔۔۔۔

کافی دیر جب صام ان دونوں کو اپنے سینے سے لگاۓ کھڑا رہا تبھی وہ دونوں وہی نیند میں چلے گے تھے جب ان دونوں کو بے بی کوڈ میں ڈالتے صام اب روحا کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔

جو نیند سے بھری آنکھوں سے اسے ہی گھور رہی تھی ۔۔۔

ڈیول ڈیڈ ہمیں سونا ہے ۔۔۔

اس سے پہلے صام روحا کے قریب جاتا جب روم میں سپاٹ چہرہ لیے حازم آتا بولا تھا۔۔۔۔

آو میرے ببر شیر ۔۔۔

صام حازم کو اپنی گود میں اٹھاۓ خوش ہوتا بولا تھا۔۔۔

ہمیں سونا ہے ۔۔۔

حازم بس اپنی کہہ رہا تھا۔۔۔

سارے بچے سو گے اب کس نے سونا ہے سواۓ تمہارے ۔۔۔

صام حیران ہوتا بولا تھا کیونکہ سب ہی سو گے تھے سواۓ حازم کے ۔۔۔ پھر بھی وہ ہمیں کہہ رہا تھا۔۔۔

ڈیڈ ہمیں سونا ہے مطلب حازم صام آفندی کو سونا ہے ۔۔۔

ہہاہاہااہاہااہاہااہاہاااایاہایایہاا۔۔۔

ہاے ہمارا پیٹ درد کر رہا ہنستے ہوۓ ۔۔۔

اففف افففف اففففف کوئ تو آیا ایسا جو ڈیول کی ٹھکر کا ہو مزہ آ گیا ۔۔۔

اب بولے مسٹر ڈیول کیا کہے گے اپنے بیٹے کو ۔۔۔

صام تو صدمے میں چلا گیا تھا کیونکہ حازم بھی روحا کی طرح ہم کہا رہا تھا ۔۔۔

”ہم“لفظ سے صام کو چڑ ہو گی تھی ابھی بھی منہ کھولے وہ یہ سن رہا تھا ۔۔۔

جب روحا قہقہ لگاتی اس کے قریب آتی بولی تھی ۔۔۔

بڑے دانت نکل رہے ہے انیجل بھول گی ہو میں کون ہو ۔۔۔

روحا کو کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگاے صام شوخ ہوتا بولا تھا۔۔۔

ک۔کیا ک۔۔۔

ڈیڈ  یہ خون کہاں سے آیا ۔۔۔

روحا حازم کی طرف دیکھتی بول رہی تھی جب حازم اس کی ہڈی شولڈر سے نیچے

نیچے کرتا وہاں جما ہوا خون دیکھتے بولا تھا۔۔۔۔

خ۔خون کدھر ہے صام کیا ہوا آپ کو یہ سب کیسے ہوا ا۔۔۔۔

ششششش انیجل ریلکس ۔۔

تم بڑے پاپا کے پاس جاٶ شاباش ۔۔

روحا پریشان ہوتی بول رہی تھی جب صام اسے کہتا اب حازم کا گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔

اوکے۔۔۔

حازم اب کس لیتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔

ک۔کیوں کرتےہے آپ ایسا جانتے ہے ہم آپ کے بنا نہیں رہ سکتے پھر بھی صام جاۓ ہم بات نہیں کرتے ۔۔۔

روحا اب آنسو بہاتی صام کی ہڈی اتارے بولی تھی ۔۔۔

جہاں اس کے شولڈر کے ساتھ پورا سینہ بھی خون سے بھرا ہوا تھا۔۔

یار میرا کام ایسا ہے اب کیا آرمی چھوڑ دو ۔۔۔

جب بھی میرے وطن کو میری ضرورت ہو گی میں حاظر رہو گا تم مجھے نہیں روک سکتی ۔۔۔

یہ بس وہ بمب بلاسٹ میں ا۔۔۔

کیااااااا بمب بلاسٹ صام ۔۔۔

روحا جو اب میڈیسن باکس میں سے کاٹن نکالے آرام سے اس کا سنیہ صاف کر رہی تھی جب صام اسے کمر سے پکڑے بول رہا تھا تبھی چلای تھی ۔۔۔

جان بچ گی ہے تم اسی پر خوش رہو اب یہ آنسو مت بہاٶ ۔۔۔

ایک کپل تھا جو دہشتگرد تھا ابھی کچھ عرصہ پہلے وہ یہاں اسلام آباد آے تھے اپنے مقصد کی وجہ سے ۔۔۔

کافی مہنیوں سے ہم سب ان کی تلاش میں تھے کل رات ہمارے قابو میں آے جہاں وہ رہتے تھے وہاں انھوں نے بمب بلاسٹ کرنا تھا ۔۔

لیکن ہماری آرمی نے یہ کام ان کا ناممکن بنا دیا ۔۔۔

اب بات ختم اور تمہارا رونا بھی ۔۔۔

روحا منہ کھولے اس کی بات سن رہی تھی جیسے وہ کوئ اسے ناول کی سٹوری سنا رہا ہو اتنے سکون سے ۔۔۔

اگر کچھ ہو جاتا صام ہمارا کیا ہوتا ہمارے بچوں کا کیا ہوتا صام آپ نے ہمارا نہیں سوچا کی۔۔۔۔

پتہ ہے ایک فوجی کے لیے اس کے وطن کی مٹی زیادہ عزیز ہوتی ہے کیونکہ جب وہ فورس جوائن کرتا ہے تب وہ عہد کرتا ہے چاہے جان چلی جاۓ اس کی لیکن اپنے وطن پر ایک آنچ بھی نہیں آنے دے گا ۔۔۔

جب بمب بلاسٹ ہوا تب سوچا تھا تم سب کا جانتی ہو کیا سوچا تھا ۔۔۔

صام آرام سے روحا کو گود میں آٹھاۓ بیڈ پر بیھٹاتے بولا تھا۔۔۔

ہمممم۔۔۔

روحا اپنا سر اسی کے سینے پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔

اگر میں شہید ہو گیا تم کتنے فخر سے کہتی میرے شوہر نے وطن کی حفاظت کی خاطر اپنی جان کی پرواہ نہیں کی ۔۔۔

میرے بچے فخر سے کہتے ہمارے ڈیڈ کو اپنا وطن کتنا عزیز تھا ۔۔۔

یہ سب سوچا میں نے لیکن دیکھو میں آج پھر زندہ تمہاری سانسوں کے قریب ہو ۔۔۔

ہم آرمی والوں نے فورس جوائن کرتے وقت ایسی بہت سے صورتحال کے لیے خود کو ہینڈل کر لیا ہوتا ہے کیونکہ ہمارا کام ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔

اب اس ننھے سے دماغ پر زور مت دو سکون سے سو جاٶ۔۔۔

آپ آرام سے س۔

یہی رہو تم میرا آرام و سکون ہو ۔۔۔

روحا سب سنتی جلدی سے بیڈ پر لیٹتی ہوئ بول رہی تھی جب صام اسے دوبارہ بازوں سے پکڑے اپنے سینے پر لیٹاے بولا تھا۔۔۔

م۔می۔۔۔

سو جاٶ انیجل ورنہ ڈیول جاگ جاۓ گا پھر بھول جانا تم سو پاٶ گی ۔۔۔۔

صام اسے اپنے سینے سے لگاۓ آرام سے آہستہ سے بیڈ پر لیٹتا ہوا بولا تھا۔۔۔

انہہ ڈیول شکل دیکھی ہے اپنی ا۔۔۔

آو تمہیں اپنی شکل دیکھاٶ اچھے سے ۔۔۔

روحا اسی کے سینے میں منہ چھپاۓ بول رہی تھی جب اسے اپنے چہرے کے قریب کرتا وہ دمھکی دیتا بولا تھا۔۔۔

ن۔نہیں ہم سو رہے دیکھے ہماری طرف ۔۔۔

روحا جلدی سے آنکھیں زور سے بند کرتی بولی تھی۔۔۔

زہ تاسرہ مینہ کوم   ۔۔۔

(آئ لو یو )..

 صام اس کا گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔

تہ زماہ بدی شی۔۔

(آئ ہیٹ یو)..

جب روحا بھی آنکھیں بند کیے بولی تھی ۔۔۔

ہاہہاہاہااہاہاہ۔۔

صام کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔

کچھ دن بعد مہر کو بھی گھر لایا گیا تھا امن تو بے حد خوش ہو گی اس کا ساتھ پا کر ۔۔۔

یافی اور زرجان بھی اپنی فمیلی کو کمپلئیٹ دیکھ کر مہر نے بھی اپنا پاسٹ ایک خواب سمجھ کر بھول کر امن کے ساتھ بھای بن کر گزارنے کا فصیلہ کر لیا تھا ۔۔۔

سب ہی اپنی زندگیوں میں بے حد خوش تھے ۔۔۔

یہ دیکھو سب یہ میری لالہ ہے ۔۔۔

دو ہفتوں بعد مہر کو لیے امن آفندی ہاوس آی ہال میں بیٹھے سب بچوں کے پاس آتی فخر سے گردن اکڑے بولی تھی ۔۔۔

مہر ان دو ہفتوں میں پہلی دفعہ مسکرایا تھا امن کی بات پر ۔۔۔

یہ اتنا بڑا کیسے ہوا تمہارا لالہ میری بہن تو چھوٹی ہے ۔۔۔

پانچ سالہ روشانے اپنی پونی کو پکڑتے منہ کھولے بولی تھی ۔۔۔

میلی لالہ نے تھانا کھایا تھا شارا۔۔۔

امن مہر کی گود میں ہی بیٹھی خودی بولی تھی ۔۔۔

اچھاااااااااا۔۔۔

روشانے اور حدید نے گہری سوچ سوچتے ہانک لگای تھی ۔۔

سوہا اور حازم نے ایک نظر دیکھ مہر کو اگنور کیا تھا جبکہ وقار زینب روشانے حدید امن وانیہ سب ہی اس سے باتیں کرنے میں بزی تھے ۔۔۔

جس کا جواب وہ مسکراتا ہوا دے رہا تھا ۔۔۔

اسے سب ہی بہت پسند آے تھے ۔۔۔

امن تو سب سے فخر سے ملا رہی تھی اللہ نے اسے لالہ دیا ہے ۔۔۔

اب تو وہ رات کو بھی اس کے ساتھ سوتی تھی ۔۔۔

حازم اور سوہا جلیس ہو رہے تھے کیونکہ وانیہ حازم کو اگنور کیے مہر کے ساتھ بزی تھی جبکہ فارس بھی امن کے ساتھ بات کرنے میں بزی تھا ۔۔۔

اور حدید صام آفندی تو سب لڑکیوں کے درمیان شرماتا ہوا سب سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔

لیکن مسلسل روشانے کے تپھڑ کھاتے وہ وہی بھاں بھاں روتا خودی چپ ہو جاتا تھا ۔۔۔

تم وہ انسان ہو جو معصوم بچوں کے اعضا باہر کے مملک میں پیچتے ہو ۔۔۔

کیا تمہیں ان پر ترس نہیں آتا ۔۔۔

ڈیول اپنے ڈیول ہاوس آے اب بلیک ہڈی پہنے اپنے خوبصورت چہرے پر گلاسز لگاے وہ غرایا تھا جہاں ایک کرسی پر وہ انسان بیٹھا تھا جو اپنے گروہ کے ساتھ بچوں کو اغوا کرتے انہیں بھیگ مانگنے یا اعضا نکال کر سملگل کرتے تھے ۔۔۔

ریحان بٹ عرف گروجی ۔۔۔

وہ چالیس سال کا آدمی تھا ۔۔۔

اہہہہ کیا ہوا ڈیول ڈر گیا۔۔۔

گروجی نے مذاق آڑاتے ہوے سکون سے کہا تھا وہ جانتا تھا ڈیول کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ وہی جانتا تھا وہ پکڑے بچے کہاں اور کس کے پاس ہے ۔۔۔

ڈرو گے تو تم گرو جب تیری موت سامنے ہو گی ۔۔۔

اپنے ہاتھ میں چاقو کو گھوماتے صام نے اس کی ٹانگ پر وار کیا تھا ۔۔۔

اہہہہ ۔۔۔اہہہہہہ۔۔۔

ب۔بہت برا کر رہے ہو تم ڈیول ایک دن آے گا جب میں تیرے بچوں کا بھی یہی حال اہہہہہہہ ذہہہہہہہہہ۔۔۔

گرو اپنی خون سے لت پت ٹانگ پکڑتا غراتا بول رہا تھا جب صام نے وہی چاقو اس کے چہرے پر وار کیا تھا۔۔۔

گرو کے چہرے کا ایک سائیڈ کا ساری چمڑی اتری تھی ۔۔۔

صام کے سامنے اس کا چہرہ خوفناک ہو چکا تھا جہاں سائیڈ کی ناک انکھ گال خون سے بھری ہوی تھی ۔۔۔

م۔۔۔

ڈیول ڈ۔یڈ ہم آگے ۔۔۔

اس سے پہلے صام کچھ کہتا جب دھڑام کرتا حازم دروازہ کھول کر بھاگ کر آتا صام کی ٹانگ کو پکڑے بولا تھا ۔۔۔

بروان بال جو فوج کٹ کیے ہوے تھے خوبصورت پھولے گالوں اور تھوڑی پر پڑتے ڈمپل سرد برف جیسی گرین چمکتی آنکیھں اور چھوٹے سے آئ برو پر گرین کٹ سے ڈبل ایچ لکھا ہوا تھا ۔۔۔

ڈیول کی باہوں میں اب ننھے سے حازم کو دیکھ گروجی کی آنکھیں چمکی تھی ۔۔۔

حازم جو لاڈ سے صام کا گال چوم رہا تھا ۔۔۔

میرا ببر شیر اندر کیوں آے ۔۔

صام بھی گرو جی کو اگنور کیے حازم کی سرخ ننھی سی ناک چومتے بولا تھا ۔۔۔

ہم آپ کے ساۓ ہے خودی کہا تھا جہاں آپ وہاں ہم ۔۔

حازم مسکراتا ہوا صام کی گلاسز پر لب رکھتے بولا تھا۔ ۔۔

اہہہہ میرا ایلفی۔۔۔

صام اس کے دونوں گال چومتا ہوا بولا تھا وہ اتنی کم عمر میں ہی صام کا کاربن کاپی بنا ہوا تھا بلکہ وہ صام کی طرح ڈریسنگ کرتا تھا ۔۔۔

۔تمہارا بیٹا بہت خوبصورت ہے دیکھنا ایک وقت آے گا جب میں اسے تم سے بڑا حیوان بناو گا ڈی۔۔۔

حازم کی خوبصورتی دیکھ گروجی ہوس بھری نظروں سے دیکھ بول رہا تھا جب صام کے ہاتھوں سے چاقو لیے حازم نے گردن ٹیڑھی کیے گروجی کے ہاتھ پر مارا تھا جب اس کی انگلی کٹ کر دور جا گری تھی ۔۔۔

ہاہاہہاہاہہاہاہا حیوان کو کیا حیوان بنانا تم نے یہ میرا ایول ہے میں نہ سہی لیکن میرا ایول تمہیں موت کی نیند سلاے گا ۔۔

انہہہہ لے کر جاو اسے پولیس کے حوالے کرو کوشش کرنا یہ رہای نہ پا سکے ۔۔۔

صام اس کی بری حالت دیکھ قہقہ لگاتا ہوا اپنے ادمیوں کو کہتا اب حازم کو لے کر جاتا بولا تھا ۔۔۔

صام ڈرا تھا دل میں کہ کبھی اس کا بچہ گرو جیسے گندے انسان کے ہاتھ نہ لگے ۔۔۔

لیکین اسے یقین تھا وہ دن کبھی نہیں آے گا جب حازم اس گرو کے پاس ہو گا ۔۔۔

دور جاتے حازم نے صام کے شولڈر پر سر رکھتے گرو جی کی خوفناک شکل دیکھی تھی ۔۔۔

حازم کی جگہ کوئ اور بچہ ہوتا تو وہی ڈر کر بے ہوش جاتا اس کی شکل دیکھ کر ۔

“””کچھ سال بعد ۔۔۔

سر یہ شعیب خان کی بیٹی ہے ۔۔۔

دانش کا آدمی اس کے سامنے بچوں کی پک رکھتا ہوا بولا تھا جہاں کافی بچوں کے درمیان رعنا کی یونفارم پہنے پک بھی تھی ۔۔۔

بہت خوبصورت پھول ہے جیسے نازک سا گلاب ہو ۔۔۔

شراب کا گلاس لبوں سے لگاے وہ خباثت سے پک پر انگلیاں چلاتا بولا تھا ۔۔۔

کیا کرنا اس کا ۔۔۔

اس کا آدمی سر جھکاے بولا تھا ۔۔۔

مجھے یہ بچی چاہے یہ میری رکھیل ہو گی آخر شعیب خان سے بدلا بھی لینا ہے ۔۔۔

وہ اپنی گندی سوچ لاتا ہوا مسلسل پک کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

جی سر ۔۔۔

وہ حکم مانتا ہوا بولا تھا ۔۔

ہاہہاہہاہاہاہہاہا ہاہہاہاہہاہاہاہ ہاہہذہاہہاہاہاہاہ۔۔۔

شیعب خان  اب تیار رہنا اپنے مکافات کی سزا پانے کے لیے جو کچھ تم نے میری بہن کے ساتھ کیا تھا اس سے بتر تمہاری بیٹی کو دو گا بہت جلد ملے گے ۔۔۔

ہاہاہہاہاہہاہاہاہ ہاہہاہہاہاہاہہاہ۔۔۔

افسوس تمہاری بیٹی کی عزت بچانے کے لیے کوئ نہیں ہو گا ۔۔۔

شراب پیتے اب وہ اپنا پلان بنتا خود تیار ہو رہا ۔۔

جبکہ وہاں دوسری طرف سب ہی اپنی لائف میں بے حد خوش تھے ۔۔۔

وہ سارے سمجھے تھے کہ غموں کا بادل چھٹ چکا ہے لیکن وہ بھول چکے تھے جب میصبت اتی ہے وہ ہر حال میں آکر رہتی ہے ۔۔۔