Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 46) Last Episode (Part - 2)

581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 46) Last Episode (Part - 2)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

“””کچھ گھنٹے پہلے ۔۔۔۔

اہہہ میرا بے بی کتنا کیوٹ ہے ۔۔۔

کار میں بیٹھی رعنا گود میں لیے پری وش کے گال چومتی بولی تھی جبکہ ایول غصہ کنٹرول کیے کار ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔۔

روشنی بہت لکی ہے اسے اتنی پیاری بیٹی ملی ہے افففف کتنی سوفٹ ہو چھوٹی سی ۔۔۔۔

رعنا مسلسل ایول کو اگنور کیے پری وش کے گال چومتی سرگوشیاں کرتی بول رہی تھی ۔۔۔

ا۔۔۔

بس کرو چالیس سے اوپر اس بچی کے کس لے چکی ہو

کیا کھانے کا ارادہ ہے ۔۔۔

چھوڑو اسے خبردار اگر اب تم نے کس کیا تو ۔۔۔

کافی دیر کنٹرول کرنے بعد بالآخر وہ پھٹ ہی پڑا تھا اسے جلیسی فیل ہو رہی تھی رعنا پری وش کو ٹائم دے رہی تھی ۔۔۔

تمہیں مسئلہ ہے برفانی ریچھ میں کرو گی کس تم روک نہیں سکتے ا۔۔۔۔۔

وہ لال چہرہ لیے پری وش کے گال چومتی اسے تنگ کرتی بول رہی تھی ۔۔۔۔

جب ایول کار کو آٹومیٹک پر لگاے اس کے اوپر جھکتا نرمی سے اس کے لبوں کو چھو چکا تھا ۔۔۔۔

اب کرو کس پھر سے اس بچی کو تو جب بھی اسے کس کرو گی ہماری شدت تم پر بھرتی جاے گی جنگلی بلی ۔۔۔۔

اس کا لال چہرہ دیکھ وہ اب پری وش کو دیکھ بولا تھا جو اپنی آنکھیں بڑی کیے ایول اور رعنا کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

ڈ۔ڈر۔ڈرتی نہیں ہو میں تم سے انہہہ اپنا یہ رعب کسی اور پر ڈالا کرو دیکھنا میں کرت۔کرتی ک۔۔۔۔۔

وہ اپنی سانسوں کو بحال کیے لال چہرہ لیے پری وش کے گال پکڑتے شدت سے کس کرتی بول رہی تھی جب وہ مسکراتا ہوا اس پر دوبارہ جھکتا سانسوں کو شدت سے قید کر چکا تھا ۔۔۔۔

ت۔ت۔تم زرا بھی اچھے ۔نہیں ہ۔ہ۔۔۔

اب وہ چڑتی ہوئ پری وش کو جیتنی بار کس کرتی ویسے ہی وہ بھی ضدی بنتا ہوا ہر منٹ بعد اس کی سانسوں کو روک لیتا تھا ۔۔۔

کار ویسے ہی اپنا سفر جاری رکھے آگے جا رہی تھی جبکہ وہ دونوں ہی لڑنے میں بزی تھے ۔۔۔۔

ب۔ب

بس کر۔ک۔۔۔۔

ہار تھک کر وہ ہی ہار مانتی لال انار جیسی شکل اور لب لیے وہ بول رہی تھی جب اس کی گود سے پری وہ کو اٹھاے وہ بیک سیٹ پر اسے رکھتا خود اب وہ اس پر مکمل حاوی ہوتا پوری شدت سے اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کر چکا تھا ۔۔۔۔

اہہہ۔اہہہہا۔۔۔اہہہہہ۔۔۔

ک

کون کہتا ہے ت۔تم ک۔کھڑوس ہو ت۔تم پاگل بے شرم بہت ہی برے انسان ہو ایول ۔۔۔۔

م۔مجھ۔مجھے نہیں پتہ تھا تم۔اتنے رومانٹک بلکہ بے شرم کو کچھ لحاظ کرو جلیسی میں آ کر میری کیا حالت کر دی تم نے ۔۔۔۔

رعنا پر ایول کی شدت مسلسل بڑھ رہی تھی وہ جو سمجھی تھی ایول مذاق میں اسے تنگ کرنے کے لیے یہ سب کر رہا تھا لیکن اب اپنی سانسوں پر اس کی اتنی شدت پاتے اسے فیل ہوا تھا جیسے وہ مر جاے گی ۔۔۔

تبھی اسے خود سے دور کرتی وہ سانسوں کے درمیان گہرے سانس لیتی لال چہرہ لیے بول رہی تھی ۔۔۔۔

کیا ہے اب کھانا ہے مجھے ۔۔۔

اسے بولتی اس نے جیسے ہی اسے دیکھا تھا جو سب اگنور کیے اپنے ہاتھ پر تھوڑی اٹکاے اسے ہی اپنی لال انگارہ گرین آنکھوں اور گلابی لبوں سے اسے ہی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا جب وہ اپنا ڈوپٹہ اور شرٹ ٹھیک کرتی پھنکاری تھی ۔۔۔

ہمیں یہ تمہارے چہرے کے حسین رنگ بہکاتے ہے بہت خوبصورت لگتی ہو ایسے تم جنگلی بلی ۔۔۔۔

وہ اس کے بالوں کی آوارہ لیٹوں کو اپنی انگلی میں لپٹتے ہوے بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

جب وہ شرماتی ہوئی نظریں جھکا گی تھی ۔۔۔۔

تنہا کے بے شرم ہ۔۔۔

آؤ ہم بتاے کتنے بے شرم ہے ۔۔۔

وہ لال چہرے سے بول رہی تھی جب وہ شوخ ہوتا اس کی شرٹ کو اپنی طرف کھینچتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

کچھ شرم کرو ہم دونوں کے ساتھ بچی بھی ہے ایول ۔۔۔

ویسے تمہارا یہ روپ سب کو دیکھنا چاہے ۔۔۔

میری توبہ اگر میں تمہارے ساتھ اکیلی او ایسے سفر میں ۔۔۔۔

کار ایول ہاؤس آتی خودی رک چکی تھی جب وہ جلدی سے پری وش کو لے باہر جاتی بولتی بھاگی تھی ۔۔۔

ہاہہاہاہہاہاہاہ ہہاہاہاہاہ۔۔۔۔

گیٹ کراس کرتی اسے دور جاتے دیکھ وہ قہقہ لگا چکا تھا ۔۔۔۔

یہ کیا بے ہودگی ہو رہی ہے ۔۔

روشانے جو حدید کے ساتھ ا کر خوش تھی اسے بلانے وہ ہوٹل کے روم سے باہر نکلی تھی جب سامنے ہی حدید کے ساتھ انس کو دیکھ غرای تھی ۔۔۔

جو حدید کو کمر سے پکڑے اس پر جھکا ہوا تھا ۔۔۔

مطلب ک۔۔۔۔

تم دور رہا کرو ہادی سے میں جانتی ہو وہ زیادہ ہی نرم دل کا مالک ہے ہر کسی سے بات کر لیتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں تم جیسے لوگ اس پر یہ گندے طریقے اپناے ۔۔۔

نوفل بابا کے بیٹے ہو تم ورنہ میں کبھی بھی تمہیں اپنے گھر برداشت نہ کرو ۔۔۔

ہو گیا تم ایک خواجہ سر۔۔۔

روشنییییی۔۔۔۔۔

حدید بول رہا تھا جب وہ اسے اگنور کرتی انس کو دیکھ نفرت سے بول رہی تھی جو خاموشی سے سن رہا تھا ۔۔۔۔

جب حدید غرایا تھا ۔۔۔۔

مجھ پر چیخ رہے ہو تم اور خود تم دونوں کیا کر رہے تھے کتنی دفعہ کہا ہے مجھے یہ خواجہ سرا نہیں پسند نفرت ہے یہ تمہیں بھی ایسے بنا دے گا ہادی ۔۔۔

بابا یا چاچو کو پتہ چلا تمہیں دوستی کتنی ہے اس انسان کے ساتھ وہ بھی نفرت کرے گ۔۔۔

انس انس انس رکو یار ۔۔۔۔

انس اپنی توہین ہوتے دیکھ آنسو کنٹرول کیے وہاں سے بنا کچھ کہے گیا تھا جب وہ شدت سے چلایا تھا ۔۔۔۔

کیا حرکت تھی یہ روشنی جانتی ہو وہ کیا کر رہا اور تم کیوں اتنا گندہ سوچتی ہو ۔۔

میں نے ہمیشہ اسے بڑے بھای والی محبت دی ہے ۔۔

اور تم کیا کہتی ہو بڑے بابا یا ڈیڈ کو پتہ چلا میری انس کے ساتھ دوستی کا ۔۔۔

تو سنو سب کا دماغ تمہارے جیسا گندہ نہیں ہوتا بڑے پاپا بڑے بابا ڈیڈ زرجان انکل سب نے نوفل بابا کے ساتھ اپنی دوستی کی مثال دی انھوں نے اپنی دوستی کا عہد پورا کیا پوری زندگی ۔۔۔۔

اور تم یہ سب بکواس کر رہی ہو جاؤ جا کر پہلے ڈیڈ لوگوں کی دوستی کا سنو انھوں سب نے اپنی دوستی کو کیسے بچایا کیسے حفاظت کی ہے نوفل بابا بھی خواجہ سرا ہے ۔۔۔۔

گروجی کو پکڑنے کے لیے مجھے جانا تھا انس تو میری گردن پر چیپ سیٹ کر رہا تھا تم پہلے پوچھ تو لیتی ۔۔۔

افسوس صد افسوس مجھے تم پر کس لڑکی سے عشق کیا میں نے جیسے پتہ ہی نہیں دوسروں کی عزت کیسے کی جاتی ہے پہلے وہ سیکھ لو عزت کرنا سب کی پھر میرے پاس آنا ۔۔۔۔

وہ لال چہرہ لیے اپنی کہتا اسے چھوڑے وہاں سے گیا تھا ۔۔۔۔

ہادی ہادی ہادی ۔۔۔

وہ شرمندہ ہوتی اس کے پیچھے بھاگتی چیخی تھی ۔۔۔

جبکہ وہ چلا گیا تھا ۔۔۔۔

چپ چپ بلکل چپ دیکھو میں فیڈر تیار کر رہی ہو۔۔۔۔

جب سے رعنا ایول ہاؤس آئ تھی وہ مسلسل پری وش کو ہینڈل کر رہی تھی اب بھی وہ کچن میں کھڑی اس کا فیڈر تیار کرتی اسے چپ کروا رہی تھی ۔۔۔

اچھا دیکھو میں فیڈر پینے والی اگر تم نہیں پیو گی تو ۔۔۔

اسے مسلسل روتا چپ کرواتے اب وہ نقلی فیڈر کو اپنے لبوں سے لگاے اسے لالچ دیتی بول رہی تھی ۔۔۔

جبکہ پری وش بھاں بھاں کرتی رونا سٹارٹ کر چکی تھی ۔۔۔۔

افففف اس کے رونے سے سر پھٹ جانا ہمارا ۔۔۔

وہ اتنی خاموشی میں صرف پری وش کا رونا سنتا اپنے روم سے باہر اتا سیڑھیوں سے آتارتا ہوا کچن کی طرف آتا بولا تھا جب اندر کا منظر دیکھ وہ چپ کھڑا ہو چکا تھا ۔۔

بےبی پنک نائٹ شرٹ اور ٹراؤذر پہنے گولڈن با ل بکھیرے وہ اسے بہلانے میں بزی تھی ۔۔۔۔۔۔۔

یہ جنگلی بلی کو کیا ہوا اتنی بڑی ہو کر بچی کا فیڈر کیوں پی رہی ہے زرا مینرز نہیں ہے اس میں ۔۔۔۔

اس کی حرکتیں دیکھ وہ اندر قدم رکھتا ہوا جھنجھلاتے بولا تھا ۔۔۔۔

شکر ہے تم اے اسے پکڑو میرے خیال سے یہ ہادی کو یاد کر رہی ہے تمہاری شکل ہادی سے ملتی ہے اسے پکڑ لو ۔۔۔۔

تب میں اسے فیڈر دے دو گی ۔۔

اسے اندر آتا دیکھ وہ جلدی سے اسے پکڑے کرسی پر بیٹھاے اس کی گود میں پری وش کو لیٹاے اپنا پلان سنا رہی تھی ۔۔۔

اٹھاؤ اسے ہمیں نہیں پسند بچے کتنا روتے ہے ا۔۔۔۔

یار تھوڑا سا ہنس لو اس کا باپ مسکراتا ہے اب اس بچی کو کیا پتہ تم اس کے بڑے پاپا ہو بابا نہیں چلو تھوڑی سی مسکان دو اسے دیکھ کر وہ خوش ہو جاے گی ۔۔۔۔

وہ بیزار سی شکل بناے بول رہا تھا جب وہ فیڈر لیتی پری وش کے منہ میں دے نیا آڈر دے چکی تھی ۔۔۔

پری وش ایول کو حدید سمجھتی کھکھلاتی ہوئ سارا فیڈر خوشی سے ختم کر رہی تھی ۔۔۔

جبکہ رعنا اس پر جھکی اسے فیڈر دے رہی تھی اور ایول نے بیزار سی شکل بنای ہوئ تھی ۔۔۔

ہاہہاہاہہاہاہ ہاہہاہاہہاہاہ دیکھا اسے بھی یہی لگا تم بابا اس کے دیکھ کیسے کھیل رہی ہے ۔۔۔

پری وش اپنے ننھے ہاتھوں سے ایول کی شیو کو پکڑنے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی جب رعنا قہقہ لگاے بولی تھی کیونکہ پری وش ایول کے پیٹ میں ننھی سی ٹانگیں مارتی کھیل رہی تھی ۔۔۔

اچھا اس نے ڈکار لینا ہے ایسے اٹھ کر چکر لگاؤ اور آہستہ سے تھپکی دو وہ دودھ ہضم کر لے گی ۔۔۔

وہ اب ایول کو کھڑا کرتی اس کے ہاتھوں۔ میں ننھی سی پری وش کو دے بولی تھی ۔۔۔

ایول کے ہاتھوں میں وہ بلکل چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی ۔۔۔۔

جیسے وہ اب شولڈر سے لگا چکا تھا ۔۔۔۔

افففف یہ کیا کر دیا اس نے دودھ نکال دیا برفانی ریچھ اپنے ہاتھوں کو ہلکا کر کے تھپکی دینی تھی ۔۔۔۔

ایول اس کے کہنے پر ویسے ہی پری وش کو لگاے چکر لگا رہا تھا جب اس نے ایول کے شولڈر پر الٹی کرتے سارا دودھ نکال دیا تھا ۔۔۔۔

اپنی شرٹ کو گندہ دیکھ اس نے رعنا کو گھورا تھا جو اسے ہی بول رہی تھی ۔۔۔

پکڑو اسے ہمیں نہیں پسند یہ بچے ہر وقت رونا ان کا اتنا شور کرتے ہے اوپر سے نخرے اٹھاؤ ان کے ۔۔۔

انہہہہ حور کو دے کر روم میں آو ا۔۔۔۔

کل کو ہمارے بے بی بھی ہو گے تب بھی ایسا کرو گے ۔۔۔

وہ طش سے بول رہا تھا جب پری وش کو اپنی گود میں لیتی وہ بولی تھی ۔۔۔۔

ہمارا بے بی نہیں ہو گا ہم نہیں چاہتے ہمارے علاؤہ تم کسی سے پیار کرو ۔۔۔

تم پر صرف ہمارا حق ہے آج پتہ چلا ڈیڈ کیوں ہم تینوں کو دشمن ایلفیاں کہتے رہے ہے ۔۔۔

وہ دو ٹوک کہتا وہاں سے بھاری قدم لیے جاتا بولا تھا ۔۔۔

کیوں نہیں ہو گے بے بی میرے ہو گے مجھے تو پسند بچے ۔۔۔

وہ منہ برا سا بناے خودی بولتی شرما گی تھی ۔۔۔۔

سوری ہادی ۔۔۔

روشانے کو احساس ہوا وہ کتنا غلط بول چکی ہے تبھی وہ انس سے ملتی معافی مانگ چکی تھی وہ اپنے کیے پر شرمندہ بھی تھی ۔۔۔

تبھی ہادی کو منانے کے لیے وہ انس سے میک اپ کروا کر آی تھی ۔۔۔

جب حدید اپنے کام سے فارغ ہوتا ہوٹل روم انٹر ہوا تھا جبھی وہ اسے بیک ہگ کیے لاڈ سے بولی تھی ۔۔۔

میں ناراض ن۔۔۔۔

وہ واپس اس کی طرف پٹلتا ہوا بولتے چپ ہوا تھا ۔۔۔

جہاں ریڈ ساڑھی پہنے میک اپ کیے کرلی بالوں کا بن بناے وہ حدید پر اپنی بجلیاں گرا رہی تھی ۔۔۔

جبھی وہ چپ ہوا تھا ۔۔۔

جاو یہاں سے تم میں ناراض نہیں ہو نہ ہی سوری کرو ۔۔۔

وہ نظریں چڑہاے اس کے پاس سے گزاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

غلطی تمہاری ہے اتنی محبت دے کر اپنا عادی بنا لیا مجھے تو وہ بچی بھی تمہارے ساتھ پسند نہیں جو مجھ سے زیادہ وہ تمہارا پیار لیتی ہے تمہیں میرے لاڈ اٹھانے چاہے ۔۔۔

جانتے ہو مجھے تم سے بے پناہ عشق ہے حدید میں نہیں جانتی کب سے تبھی تمہارا کسی اور کو توجہ دینا مجھے اچھا نہیں لگتا ۔۔۔

تمہاری خوشی کی خاطر میں نے انس سے بھی معافی مانگ لی ۔۔۔۔

مجھ جیسی لڑکی سے اتنا عشق کرنا مجھے شوک کر جاتا ہے میری ہر غلطی کو تم نے ہنس کر معاف کیا اور گناہ کو اپنا نام دیا ۔۔۔۔

دور جاتے حدید کو گردن سے پکڑتے وہ اس کے سینے سے لگی روتی ہوئی سرگوشی کی تھی ۔۔۔

تمہارا ہی ہو کون سا کسی کا ہونا میں تم میرا بچپن کا عشق ہو ۔۔

تمہیں تنگ کرنے میں مزہ آتا تھا لیکن جس دن تم نے بتایا تقی کا تب میں بہت دکھی ہوا تھا ۔۔۔۔

تمہاری خواہش پوری کرنے کے لیے میں نے سوچ لیا تھا تقی کے لیے بڑے بابا کو منا لوں گا ۔۔۔۔

پہلے اس کی انفارمیشن چاہے تھی مجھے ۔۔

لالہ کے پاس ایک دن گیا تو دیکھا گروجی کے پاس ایک لڑکا کھڑا کہہ رہا تھا وہ اس کی بہن کو اپنے پاس رکھ لیے اور اس کا قرص معاف کر دے ۔۔۔۔

میں اور لالہ ادھر ہی تھے اس لڑکے کی بہن خواجہ سرا تھی وہ گروجی جیسے حیوان کے حوالے کر چکا تھا ۔۔۔۔

اس سے پہلے اس کی روتی بہن پر گروجی کے بندے اپنا ظلم ڈھاتے جب لالہ نے باہر جا کر یہ کہا تھا وہ اس کی بہن کو اپنے پاس ہمشیہ ایول ہاؤس رکھے گے ۔۔۔

ایول کی بات گروجی کہاں ٹال سکتے تھے وہ حور نام کی لڑکی جو تقی کی سگی بہن تھی لالہ کے پاس آگی تھی ۔۔۔

تقی کے سامنے گروجی نے کہا تھا وہ اس کا قرضہ تب معاف کر سکتے ہے جب وہ کسی خوبصورت لڑکی کو لاے ۔۔۔

تمہیں تقی سے محبت تھی لیکن اسے نہیں تھی وہ کوئ امیر لڑکا نہیں تھا لڑکیاں پھسا کر گروجی کے حوالے کرنا اس کا کام تھا ۔۔۔

جب اپنے قرضے کی ادائیگی پر اس نے ایک پک سامنے رکھی تھی گروجی کے کہ وہ اس لڑکی کو بہت جلد یہاں لاے گا ۔۔۔۔

میرے اور لالہ پر پہاڑ ٹوٹا تھا وہ پک دیکھ کر جس میں تم تقی کے ساتھ سلیفی لے رہی تھی ۔۔۔۔

ہم دونوں بھائیوں نے ضبط کیا تھا ورنہ اسی وقت تقی کو موت کی نیند سلاتے تمہاری محبت تھی تبھی میں نے لالہ کو کہا اسے معاف کر دے شاہد وہ ایسا کام نہ کرے ۔۔۔

لیکن جو اس رات ہوا وہ میری برداشت سے باہر تھا تبھی اس کی یہ حالت کی تھی ۔۔۔۔

تم سے شروع سے اب تک عشق یہ سوچ کر نہیں کیا تھا کہ تم بھی کرو بلکہ مجھے تمہاری نفرت بھی قبول تھی پر افسوس میں اس رات تمہیں بچا نہ سکا ۔۔۔

پری وش گناہ نہیں ہے روشنی وہ ننھی سی پری ہے مت نفرت کرو اس بچی سے اس کا کیا قصور ہے ابھی بھی ٹائم ہے اسے اپنی ممتا میں لے لو ۔۔۔

کمر سے پکڑتے وہ اس کے کان میں سرگوشیاں کر رہا تھا ۔۔۔

ہمممم۔۔۔

اسے زور سے ہگ کیے وہ آنکھیں بند کیے اس کی قربت محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔

ت۔تم نے مجھے معاف کر دیا کیا ۔۔

اپنی کمر پر اس کا ہاتھ ریگنتے محسوس کیے وہ آنکھیں بند کیے ہی کھڑی تھی جب اپنے بلاؤز کی زپ اوپن ہوتے دیکھ وہ ہکلاتی ہوش میں آئ بولی تھی ۔۔۔۔

اتنی تیار ہو کر آئ ہو کوئ پاگل ہی ہو گا جو ناراض رہ سکے میں تو تب بھی ناراض نہیں ہوتا تھا تم سے جب تم لڑتی تھی اب تو تم عشق کرتی مجھ سے تمہارے باقول ۔۔۔۔

وہ اسے پکڑتے بیڈ پر گراے اس پر جھکتا اس کی گردن کو چومتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

م۔میں کہاں لڑتی تھی تم ہی تنگ اتنا کرتے تھے میں تو معصوم سی ہو ۔۔۔۔

اپنی ساڑھی کا پلو گرتے وہاں شولڈر پر اس کے لب محسوس کیے وہ گہرا سانس لیتی بولی تھی ۔۔۔

معصوم صرف میں ہو اور شریف بھی ۔۔۔

وہ اپنے لب اس کے گال پر رکھتا بولا تھا ۔۔۔

د۔دیکھ رہی ہو۔میں مع۔معصومی۔۔۔

وہ لال چہرہ لیے بول رہی تھی جب حدید اپنی شرٹ اتارے لاہٹ آف کرتا اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کرتا اس کی آواز روک چکا تھا ۔۔۔۔

اپنے جسم پر اس کا لمس پاتے روشنی نے شرماتے ہوے آنکھیں بند کی تھی ۔۔۔

وہ خوش تھی حدید کا ساتھ پاتے اسے ایسا ہمسفر ملا تھا ۔۔۔

کیا واقعییییی ماما اففففف مجھے یقین نہیں آرہا ۔۔۔۔

رعنا روحا کی بات فون پر سنتی چہکی تھی روم میں وہ پری وش کو سلا چکی تھی جبکہ ایول روم سے باہر تھا ۔۔۔۔

روحا نے اسے بتایا تھا ڈاکٹر نے اسے گڈ نیوز سنای تھی رعنا ماں بنے والی ہے ۔۔۔۔

افففف ایول کو کیسے بتاو گی ہاے کتنی شرم آرہی ہے میرا ننھا سا برفانی ریچھ اے ۔۔۔۔

کیا سوچا جا رہا ہے جنگلی بلی ۔۔۔۔

وہ فون بند کیے خود شرماتی ہوئی سوچ رہی تھی جب وہ اسے بیک ہگ کیے اپنی تھوڑی اس کے شولڈر پر رکھے سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

و۔وہ ایول م۔۔۔۔

اچھا جاؤ پہلے کپڑے چینج کرو آج ہم تمہارا میک اپ کرے گے ۔۔۔

وہ گھبراتی شرماتی بول رہی تھی جب وہ اس کا گال سہلاتے بولا تھا ۔۔۔

کپڑے کیوں تیار کرنے ابھی تو رات نہیں ہوئ ۔۔

وہ حیران ہوتی بولی تھی ۔۔۔

ہم کہا رہے جاؤ ۔۔۔

کپڑے واش روم میں ہے ۔۔۔

وہ سکون سے کہتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

وہ اس کی سنتی ہوئ واش روم گی تھی ۔۔۔

افففف یہ پہنا ہے کتنی شرم آئ گی یہ برفانی ریچھ کچھ زیادہ ہی بے شرم ہ۔۔۔۔

مولانی باہر آؤ ورنہ ہم خود اے گے ۔۔۔۔

وہ بلیک نیٹ کی نائٹی پہنے واش روم میں گھبراتی کھڑی سوچ رہی تھی ۔۔۔

جب وہ کافی دیر کا ویٹ کرتا باہر سے اب غرایا تھا ۔۔۔۔

میں تو ہر غرض نہیں جاو گی اب جو مرضی کرے ی۔۔۔

اہہہہ ایہہہہہہ۔۔۔۔

وہ ہمت جمع کیے دل میں بول رہی تھی جب وہ بنا ویٹ کیے دروازہ توڑتا ہوا اندر آیا تھا ۔۔۔۔

جہاں وہ بلیک نائٹی پہنے گولڈن بالوں کو کھولا چھوڑے وہ ہاتھوں میں منہ چھپاے تھر تھر کانپتی ہوئ کھڑی تھی ۔۔۔

نائٹی سے دیکھتی اس کی برہنہ دودھیا رنگت کی ٹانگیں ایول کے سامنے تھی ۔۔

دن با دن پاگل کرتی ہو ہمیں پھر بھی شکوہ کرتی ہو ہم کھڑوس ہے ۔۔۔

وہ اسے گود میں اٹھاے باہر جاتا بولا تھا جبکہ وہ سانس روکے بس اس کی باہوں میں تھی ۔۔۔۔

ن۔نہیں م

میں نے کب کہا ایسا ۔۔۔۔

اسے وہ بیڈ پر گرا چکا تھا جب وہ جلدی سے اٹھتے اپنی ٹانگوں کو فولڈ کرتے بولی تھی ۔۔۔

ایول کا ایسا روپ دیکھ وہ ایک بار پھر ڈر چکی تھی ۔۔۔

ماما سے شکایت لگاتی ہو تم ہم جانتے ہے ۔۔۔۔

اسے ٹانگوں سے پکڑتے وہ اپنی طرف کھینچتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ما۔ماما یہ یاد آیا میری بات سن۔۔۔۔

سسس۔۔۔۔

روحا کی بات یاد کرتے وہ جلدی سے اسے بتانے والی تھی کہ ایول باپ بنے والا ہے جب وہ اس پر جھکتا ہوا کان کی لو کو کاٹ چکا تھا ۔۔۔

جب وہ سسکی تھی۔۔۔

آج کی رات کوئ بات نہیں ہو گی بس ہماری خاموشی ہو گی ۔۔۔۔

اپنی شرٹ اتارے وہ اس پر جھکتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ح۔حازم ت

۔تمہارے آٹھ پیکس ہ۔ہے ۔۔۔

وہ جو گھبراتی ہوئ اس کے مضبوط سینے پر ہاتھ رکھ چکی تھی جب اچانک آنکھیں کھولے وہ اس کے مضبوط برہنہ سینے پر بنے آٹھ پیکس کو دیکھ حلق تر کیے بولی تھی ۔۔۔

ہاں تمہیں پسند جو تھے بچپن سے ۔۔۔

وہ اپنی ناک سے اس کی گردن کو سہلاے بولا تھا ۔۔۔۔

ت۔تمہیں یاد تھا کیا ۔۔۔

وہ نرمی سے چھوتی ہوئی لال چہرے کو لیے بولی تھی ۔۔۔

“””یہ کیا حرکت تھی جنگلی بلی ۔۔۔

نو سالہ حازم اپنے سامنے رعنا کو دیکھ غرایا تھا جو مارکر لیے مسکراتی اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔

حازم گہری نیند سو رہا تھا جب وہ بلی جیسے قدم رکھتی اس کے روم میں انٹر ہوے بیڈ پر آتی حازم کی شرٹ اوپن کیے اس کے سینے پر مارکر سے آٹھ پیکس بنا چکی تھی ۔۔۔

مقصد صرف اسے تنگ کرنا تھا جس میں کامیاب ہوئ تھی۔ ۔۔۔

تبھی وہ نیند سے جاگتا اپنا سینہ دیکھ باہر آتا اس پر غرایا تھا ۔۔۔۔

دیکھو برفانی ریچھ تم سب سے الگ ہو میں نے دیکھا سب کے چھ پیکس ہے تمہارے آٹھ ہونے چاہے جو کہ میں نے مارکر سے بنا دے یونیک لگو سب سے ۔۔۔

وہ دانت نکالے بولی تھی ۔۔۔

تمہیں اچھے لگتے کیا اگر اچھے لگتے تو ہم بھی تمہارے بناے گے ۔۔۔

وہ شدت ضبط سے کہتا اس کی طرف بڑھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

م۔میں لڑکی ۔ہ۔ہو ا۔۔۔

مامامماماما ماممامامماماما۔۔۔۔

ڈرپوک جنگلی بلی ۔۔۔۔

اسے اپنے قریب آتے دیکھ وہ جلدی سے کہتی وہاں سے بھاگتی چیخی تھی جب وہ سردپن سے بولتا واپس روم میں گیا تھا ۔۔۔۔”””

ایول اس کی شرارت یاد کرتا بولا تھا ۔۔۔

ہاں تمہاری ہر بات یاد ہے ہمیں کیونکہ ۔۔۔

کیونکہ میں ت۔تمہاری دشمن ہو ۔۔۔

وہ اپنے لب اس کی تھوڑی پر رکھتا ہوا سکون سے بول رہا تھا جب وہ گہرے سانس لیتی بولی تھی ۔۔۔۔

پہلے تھی دشمن اب تو ہمارا بے پناہ جنون بن چکی ہو ہماری رگوں میں تمہاری یہ سانس دوڑتی ہے ۔۔۔

تمہاری یہ بہکی سانسیں یہ مدہوش کرتی قربت ہمیں تمہارا جنونی بناتی ہے ۔۔۔

جو کہ تمہارا کسی کی طرف دیکھنا بھی ہمیں جلیس فیل کرواتا ہے ۔۔۔

وہ اب اس کی نائٹی کی ڈوری کو کھولتے بہکی بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

م

میں نے کچھ بتانا ہے اہ۔۔۔۔

ہم نے پہلے ہی کہا ہے آج کی رات کوئ بات نہیں ہو گی صرف ہماری خاموشی ہو گی ۔۔۔۔

آج ہم تمہیں بتاے گے کتنے جنونی ہے تمہارے لیے تمہارے بے پناہ عشق نے ہمیں جنونی بنا دیا ۔۔۔

وہ اسے دور کرتی بولنے کی کوشش کر رہی تھی جب دونوں کلاہیوں کو تکیے کے ساتھ لگاتے وہ اس کی نائٹی شولڈر سے نیچے سرکاتے دل کے مقام پر اپنے سرد لب رکھتے بولا تھا ۔۔۔۔

ح۔حاز۔حازم بچ۔بچئ سو رہی ہ۔۔۔۔

وہ اس کا دھیان پری وش پر لگانے کی کوشش کرتی بول رہی تھی جو اپنی بے باک شرارتوں میں بزی تھا ۔۔۔

بچی سو رہی ہے ہمیں تنگ مت کرو اپنا کام کرنے دو ۔۔۔

وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاے اس کے لبوں کو اپنے ہونٹوں میں لیتا بہکا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

آہستہ آہستہ اس کی شدت رعنا پر زیادہ ہو رہی تھی ۔۔۔۔

گ۔گھ۔گھر چلتے ہ۔۔۔۔

ابھی نہیں کچھ دیر بعد چلے گے ۔۔۔

اس سے دور ہوتی وہ لال چہرہ لیے حیا سے بول رہی تھی جب وہ دوبارہ اس پر حاوی ہوتا اپنی شدتیں لٹاتے بولا تھا ۔۔۔۔

اس کی جنونی شدت بھری قربت میں رعنا گھبراتی شرماتی اسی کے سینے میں منہ چھپاے پناہ مانگ رہی تھی ۔۔۔۔

جبکہ وہ پوری شدت سے اسے بتا رہا تھا وہ کتنا بڑا جنونی ہو گیا تھا اس کے لیے ۔۔۔۔

جنگلی بلی کیوں سو کر ہمیں دوبارہ بہکا رہی ہو “

ایول اپنی شدتیں اس پر لیٹتا ہوا اب مسکرا کر اسکا کھلتا چہرہ اور اپنی شرٹ میں اسکو دیکھ کر ایول کا دل اس پر مزید بہکا تھا ۔۔۔

تبھی اسکی گردن میں چہرہ چھپا کر وہ دھیمے لہجے میں بولا ۔۔۔

رعنا آنکھیں بند کیے خاموشی سے اس کے سینے پر سو رہی تھی ۔۔۔

اسکا کوئ ریسپوںس نہ پا کر ۔۔ ایول دوبارہ اپنی بے باک منمانیوں پر اترنے لگا تھا ۔۔۔۔

ب۔برفانی رپچھ نہ کرو ” آپنی شرٹ کے اندر اس کا ہاتھ جاتے اور گردن پر اس کے لبوں کا لمس پاتے اسنے کسم کروکہتے بدل لی تھی ۔۔۔

کتنی دفعہ کہا ہے ہمیں اگنورنس نہیں برداشت ۔۔۔۔

وہ اس کا چہرہ اپنی طرف کرتا دبوچتے ہوے غرایا تھا ۔۔۔

کدھر اگنور کیا ہے میں نے ۔۔۔

مندی مندی آنکھوں سے اسکو دیکھتے بولی تھی ۔۔۔

اسکی نیلی آنکھوں میں نیند کے خمار کی سرخی بکھرے سنہری بالوں لال ہوتے چہرے کو دیکھ کر ایول نے اسکی جان پر پھر جان لیوا حملہ کیا تھا اپنی سانسوں کو دوبارہ قید میں محسوس کیے وہ پھڑپھڑا کر رہ گئ تھی ۔۔۔

اسکی سانس اس شدت پر روکنے کو تھی ۔۔ رعنا نے اسکی کمر پر مکے برسا دیے تھے ۔۔۔

اگنور ہونا بنتا بھی نہیں ہمارا جانتی ہو نہ ہم کتنے جنونی ہے ا۔۔۔۔

تم اب ڈانٹ رہے ہو ۔۔۔

وہ اس کی گردن پر اپنی شدت کے نشانوں کو دیکھ انگلی سے سہلاے بول رہا تھا جب وہ روٹھی بچی بنی اس سے بولی تھی ۔۔۔

غصہ بھی ہم کرے گے ۔ ۔پیار ہم کرے گے ۔ ڈانٹے گے بھی ہم ۔۔۔ اور آنکھیں بھی ہم نکالے گ۔۔۔

اور میرا کام کیا ۔۔۔

وہ اس کے بھیگے لبوں کو دیکھ بہکا ہوا بول رہا تھا جب وہ پھر بولی تھی ۔۔۔

تمھارا کام صرف ہماری بانہوں میں شرمانا ہے ۔۔۔ سمجھی ۔۔۔

وہ نرمی سے اسکی آنکھوں کو چھومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ایول تم میری بات نہیں سن رہے پہلے بھی نہیں سنی اب سن ل۔۔۔

بھاںںںں بھاںںںںں۔۔۔

وہ ایک بار پھر اسے بتانے کے لیے بول رہی تھی جب اچانک پری وش کے رونے کی آواز سنای دی تھی ۔۔۔

یہ آٹھ گی ہے تم تیار ہو جاو ماما کے پاس جا کر اسے چھوڑ کر آتے ہے ۔۔۔

اس کا رونا سن کر وہ جلدی سے اسے بھی اٹھاے بولا تھا جب وہ شرماتی ہوئی قالین پر کھڑی ہوئ تھی۔ ۔۔۔

اچھا سنو رات کو تمہارے یہ ناخن کاٹیں گے ہم تم واقعی جنگلی بلی ہو ہمیں زخمی کرتی ہو ۔۔۔

دور جاتی رعنا کو دیکھ وہ آواز دیتا بولا تھا ۔۔۔

جب وہ اسے دیکھ شرماتی ہوئی واش روم بھاگی تھی ۔۔۔

کیونکہ واقعی ایول کے مضبوط برہنہ سینے پر اس کے ناخنوں کے سرخ لاتعداد نشانات تھے ۔۔۔۔

اس کی حرکت پر وہ مدھم سا مسکرایا تھا ۔۔۔۔

کی۔کیا کر رہے ہو ایول دیکھ کر کار چلاؤ ۔۔۔

رعنا ایول کے شولڈر پر مکہ مارتے لال ہوتے چہرے سے بولی تھی ۔۔۔

جو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا گود میں رعنا کو بیھٹاے سکون سے کار ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ فرنٹ سیٹ پر کوڈ میں پری وش سو رہی تھی ۔۔۔

وہ سکون سے کار ڈرائیو کرتا کبھی کبھی رعنا کی گردن یا کان کو چوم لیتا تھا تبھی وہ بولی تھی ۔۔۔

پیار کر رہے ہے ویسے بھی تمہاری شکایت رہتی ہم ان رومانٹک ہ۔۔۔

افففف تم یہ بات نہیں چھوڑ سکتے ایول پتہ نہیں کون سا ایسا ٹائم تھا جو میں نے کہہ دیا ۔۔۔

وہ اپنی ناک اس کی ناک سے سہلاے بول رہا تھا جب وہ زرا غصہ کرتی بولی تھی۔ ۔

پھر بتاؤ ہم ہے ۔۔۔

کیا بتاو ۔۔۔

وہ دوبارہ اپنا منہ اس کی گردن میں چھپاے سرگوشی کرتا بول رہا تھا جب وہ دور ہوتی بولی تھی ۔۔۔

یہی کہ ہم رومانٹک ہے یا نہیں ۔۔۔

وہ اب کار کو چھوڑے رعنا کو کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگاے نرمی سے اس کے لب چھوتے بولا تھا ۔۔۔۔

افففف تم بے شرم ہو چھوڑو مجھے میری عزت تو کار میں بھی سیف نہیں ۔۔۔

اسے دور کرتی وہ بامشکل وہاں سے کھسکتی ہوی پری وش کی سیٹ پر آتی بولی تھی ۔۔۔

وہ آفندی پلیس جا رہے تھے دونوں ۔۔۔۔

اچھا مانی تو سہ۔۔۔۔

ایوولللللللللل۔۔۔۔

وہ اس کے قریب جھکتا ہوا بول رہا تھا جب سامنے سے آتے ٹرک کو دیکھ وہ چیخی تھی ۔۔۔۔

افففف جنگلی بلی کون سا کار لگ رہی ت۔۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہہ اہہہہہہ ۔۔۔

ایول نے جلدی سے کار کو موڑا تھا تبھی وہ اس کی طرف دیکھ بول رہا تھا جب چاروں طرف سے گولیاں چلائیں گی تھی جس کی آواز سنتے وہ چیخی تھی ۔۔۔۔

ریلکس کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔۔

وہ جلدی سے الرٹ ہوتا کار کو فاسٹ ڈرائیو کیے بولا تھا ۔۔۔

گروجی کے آدمیوں نے اس پر حملہ کر دیا تھا اپنی جان سے زیادہ اسے ان دونوں کی فکر تھی رعنا تو ڈر سے اس کے سینے سے لگتی رو رہی تھی ۔۔۔۔

پری وش بھی گولیوں کی آواز سنتے رونا شروع کر چکی تھی ۔۔۔

کچھ نہیں ہو گا میں الرٹ سائرن دے چکا ہو بہت جلد ہادی یا ڈیڈ تمہیں لے جاے گے کیونکہ اب وقت آگیا ہے شیر کا میدان میں آنے کا ۔۔۔۔

میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتی حازم کچھ کرو چاہے مجھے بھی یہ کچھ کر لے۔ تب بھی نہیں چھوڑو گی تمہیں ۔۔

کافی دیر ان سب سے مقابلہ کرتے وہ کار کو ویسے ہی گھوما کر جنگل والے راستے لایا تھا جب اس نے دیکھا وہ ہار نہیں مان رہے تبھی واچ سے بٹن کلک کرتا وہ بولا تھا جب وہ روتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔۔

بس کھیل ختم تمہارا ایول شرافت سے گولڈن بیوٹی مجھے دو ورنہ تم میں گولی مار دو گا ۔۔۔

ایول کی چلتی کار جٹھکے سے روکی تھی جب سامنے کار سے باہر آتے گروجی نے گن باہر نکالے دھمکی دی تھی ۔۔۔

بلکل نہیں تم چاہے جان لے لو ۔۔۔

وہ طش سے غراتا ہوا باہر نکلے بولا تھا ۔۔۔۔

پانچ تک گنو گا تمہاری بیوی میرے پاس ہونی چاہے ورنہ تم دنیا سے گے ۔۔۔

وہ شیطانی مسکراہٹ لاے اب گنتی کاوئٹ کرتے بولے تھے ۔۔۔

باہر ہرگز مت نکلنا ج۔۔۔۔

گروجی کی گنتی سنتے وہ ونڈو میں جھکتے اندر رعنا کو دیکھ بول رہا تھا جب اندر اسے نا پاتے وہ باہر کو دیکھا جہاں وہ روتی ہوئی گروجی کے پاس جا رہی تھی ۔۔۔۔

م۔میں بے پناہ عشق کرتی ہو ایول ایک بار پھر اپنی وجہ تمہیں میصبت میں نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔

ضروری نہیں ہوتا عشق میں زندہ رہا جاے کبھی اپنے عشق کو بچانے کے لیے مرنا پڑتا ہے میں تمہیں بچانے کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہو ۔۔۔

وہ روتی ہوئی اپنی نیلی آنکھوں سے اسے دیکھتی کار میں گروجی کے ساتھ بیھٹتی بولی تھی ۔۔۔

اتنی بزدل تم نہیں ہو سکتی ابھی تک تمہیں بچایا اگے بھی بچا لیتے تم ہمیشہ مجھے آدھے راستے میں دھوکا دیتی ہو رعنااااااااااااا ۔۔۔۔

وہ شدت ضبط سے وہی اکیلا کھڑا زمین پر بیٹھتا غرایا تھا ۔۔۔۔

گروجی کے بندے وہاں سے چلے گے ۔۔۔۔

“”کچھ گھنٹے بعد۔۔۔۔

ن۔نہیں نہی۔نہیںںںںں۔۔۔

ایوللللل ایوللللل ۔۔

سب سے لڑتے لڑتے ایول اب تھک گیا تھا رعنا کی فکر کرتے وہ مسلسل کمزور ہو رہا تھا اگر وہ اکیلا ہوتا تو سب کو منٹوں میں موت دیتا لیکن یہ خون کا کھیل اس کے سامنے کھیلتے وہ خود تھک چکا تھا کتنی مشکل سے اس نے رعنا کو سمجھایا تھا وہ اب اس کی وجہ سے کوئ خون خرابہ نہیں کرے گا لیکن اب وہ خود اس کے لیے ہی لڑ رہا تھا ۔۔۔۔

چار آدمیوں نے ایول کو اٹھایا تھا جب سامنے کھڑے دو آدمیوں نے شیشے کا ٹبیل اٹھاے ایول کے سر پر مارا تھا۔۔۔۔

اتنی بھاری ضرب پر ایک پل کو ایول اندھیرہ چھاتے محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔

دور کھڑی رعنا نے یہ منظر روتے چیختے دیکھا تھا ۔۔۔۔

جہاں ایول کے سر سے خون کا فورارہ پھوٹا تھا۔۔۔۔

م۔مت کرو ایول کے ساتھ ایسا تم جو کہو گے میں کرو گی بس اسے چھوڑ دو ۔۔۔۔

وہ دوبارہ روتی منت کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

آنکھوں پر جمے خون سے وہ بامشکل رعنا کو دیکھ پایا تھا اب تو اس میں بھی ہمت نہیں رہی تھی لڑنے کی ۔۔۔

میری رکھیل بن کر ر۔۔۔۔

م۔میں ت۔تیار ہو تم بس اسے چھوڑ دو ۔۔۔۔

گروجی اسے بالوں سے پکڑتے بول رہا تھا جب وہ بامشکل لفظ ادا کر پای تھی ۔۔۔۔

چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔

رعنا کو ویسے ہی گھسٹتے وہ لے کر جاتا بولا تھا ۔۔۔

رعناااااااااااااا۔۔۔۔

اپنے اوپر حاوی ہوتے آدمیوں کے درمیان وہ فرش پر گرا دور جاتی رعنا کو دیکھ چیخا تھا ۔۔۔۔

م۔مجھے معاف ک۔کر دینا ایول میں تمہیں بچانے کے لیے خود اور ہمارے بچے کی جان لے رہی ہو ۔۔۔۔

رعنا اپنے ہاتھوں میں پکڑے وہ کیپسول کو منہ میں ڈالتی نگلتی ہوئ روتی ہوے سوچا تھا ۔۔۔

آج صبح ہی وہ روحا کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس گی تھی جب ڈاکٹر نے اسے گڈ نیوز سنای تھی وہ بہت خوش تھی کہ ایول خوش ہو گا بچے کا جان کر اس سے پہلے وہ یہ گڈ نیوز اسے دیتی جب یہ سب ہو گیا تھا ۔۔۔۔

دوسری طرف وہ ہمت جمع کرتا سب کو مارتا ہوا اس روم کی طرف بھاگا تھا جہاں گروجی رعنا کو روم میں لے کر گیا تھا ۔۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ ۔۔

اس سے پہلے وہ اندر جاتا جب اسے پری وش کے رونے کی آواز آئ تھی ۔۔۔۔

لالہ میری بیٹی کا خیال رکھنا آپ کے ہادی کی اولاد ہے یہ پری ۔۔۔۔

ایول نے جیسے ہی موڑ کر دیکھا تھا وہ پریشان ہو گیا تھا کیونکہ گروجی کے آدمی پری وش کو لیے بلڈنگ کی ونڈو سے نیچے گرا چکے تھے ۔۔۔۔

ایول نے منٹوں میں فضیلہ کیا تھا اسے اپنے ہادی کی اولاد کو بچانا ہے ۔۔۔۔

جلدی سے وہ بھاگتا ہوا بلڈنگ سے نیچے کودتا پری وش کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔

بلڈنگ سے نیچے لیٹکتے اس نے بامشکل پری وش کا گرل سے اٹکے کمبل کو پکڑا تھا ۔۔۔۔

تم ہمارے ہادی کی بیٹی ہو اس حساب ہے ہم تمہارے بڑے پاپا ہوے تو کیسے کچھ ہونے دیتے تمہیں ۔۔۔۔

وہ ہمت جمع کرتا اسے واپس اپنی باہوں میں لے چکا تھا جب اسے روتا دیکھ اپنے قدموں پر کھڑا ہوتے اس کا گال چومتے بولا تھا ۔۔۔

لالہ لالہہہہہ ک۔۔۔

پکڑو اسے ہم آتے ہے ۔۔۔

حدید اور صام وہاں آگے تھے جب ہادی چیختا ہوا آیا تھا تبھی اسے پکڑاتے وہ روم کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔

تجھے ہم نے باپ جیسی عزت دی ہمیشہ یہ سوچا تھا کہ آسان موت دے گے بلکہ تجھے پولیس کے حوالے کر دیا کیونکہ ہم نہیں مارنا چاہتے تھے ایسے انسان کو جس نے ہمیں بچایا جس نے ہمیں انسان سے حیوان بنایا ۔۔۔۔

لیکن تو کیمنے انسان تو ہمارے ہی جنون کی سانس ختم کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔

وہ جیسے ہی روم میں ایا تھا تو آپے سے باہر ہوتا گروجی کی گردن دبوچتے غرایا تھا ۔۔۔

گروجی رعنا کو روم میں لاتے بیڈ پر گرایا تھا اس سے پہلے وہ کچھ کرتے جب رعنا کے منہ سے جھاگ نکلنی شروع ہو چکی تھی اس کی نیلی آنکھیں سرخ ہوتی بند ہو رہی تھی ۔۔۔

وہ پریشان سا اسے دیکھنے میں بزی تھا جب ایول پاس آتا غرایا تھا ۔۔۔

ن۔نہیں ایس مت کرو اسے میں نے ن۔نہیں ۔۔۔

اہہہہہہ اہہہہہہ۔۔۔

گروجی ایول کو غصے میں دیکھ پہلی دفعہ ڈرتے روتے بول رہے تھے جب اس نے بنا وقت ضائع کیے ان کے شولڈر پر اپنے مکے مارتے بازوں کو توڑا تھا ۔۔۔

درد کی شدت سے وہ چلاے تھے ۔۔۔

تجھے فرصت سے موت دیتے لیکن تم اس قابل بھی نہیں کہ تو اگلی سانس بھی لے سکے ۔۔۔۔

بیڈ پر اس کی نظر پڑی تھی جہاں رعنا بے ہوش منہ سے جھاگ نکالے لیٹی تھی ۔۔۔

تبھی وہ ان کی گردن کو موڑتے ہوے غرایا تھا ۔۔۔۔

اہہہہہہہ اہہہہہہہہہ ذہہہہہہہہ۔۔۔۔

گروجی کی گردن دو ٹکڑے ہوے تھے جب وہ ہاتھوں میں ان کی مردہ گردن کے ٹکڑے دیکھ شدت سے روتا غرایا تھا ۔۔۔۔

صام کے بعد ایول نے ہمیشہ گروجی کو عزت دی تھی اس کی نظروں میں ہر وہ پل گزارا تھا کیسے گروجی نے اس پالا تھا ۔۔۔

بہت شوق تھا مرنے کا تمہیں جو مر رہی ہو زندہ ہو گی تم تبھی ہم تمہیں روزانہ موت دے گے۔۔۔۔

اب وہ رعنا کو باہوں میں اٹھاے باہر کی طرف بھاگتے غصے سے بولا تھا ۔۔۔۔

ک۔کیسی ہے وہ ڈاکٹر دیکھ کتنی ڈاکٹرز ہے اسے بچنا چاہے ا۔۔۔۔

دیکھیں مسٹر حازم ہمیں بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے ہم آپ کے بچے کو نہ بچا سکے ۔۔۔۔

باقی ان کی باڈی سے زہر نکال لیا ہے اگر تھوڑی سی بھی دیر ہوتی تو ان کا ہارٹ فیل ہو جاتا ۔۔۔

وہ ہاسپٹل لایا تھا کافی دیر بعد ڈاکٹر نے باہر آتے یہ خبر ان سب کو سنای تھی ۔۔۔۔

جہاں سب ہی کھڑے تھے ۔۔۔

ب۔چہ کون سا بچہ آپ یہ بتاے وہ کیسی ہے اب ہمیں ملنا اس سے ۔۔۔۔

وہ شوک ہوتا بولا تھا ۔۔۔

ابھی ہم ان کے ہوش میں آنے کا ویٹ کر رہے ہے جیسے ہی وہ ہوش میں آئ آپ کو اجازت ہو گی م۔۔۔۔

روکے روکے۔۔۔۔

وہ بول رہی تھی جب وہ ان سنا کرتا روم کے اندر داخل ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔

تبھی وہ بولی تھی ۔۔۔

ٹھیک ہو جاؤ پلیز ہم نہیں رہ سکتے تمہارے بنا ۔۔۔۔

ی۔ یہ کہتے ہمارا بچہ مر گیا ۔لیکن تم نے کب بتایا تھا ہمیں ۔۔۔۔

ہم نے ایسا کیا ہم کبھی معاف نہیں کر سکے گے خود کو ۔۔۔۔

وہ کافی دیر اس کے پاس بیٹھا سرگوشیاں کر رہا تھا ۔۔۔

رعنا نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولی تھی جب وہ اس کے چہرے پر جھکتے روتے ہوے بولا تھا ۔۔۔

ت۔تم بچ۔بچ گے حا۔حازم می۔میں خوش ہو۔۔۔

وہ اپنے کمزور سے ہاتھ اٹھاے اس کے چہرے پر رکھتے روتے ہوے بولی تھی ۔۔۔۔

ہ۔ہمیں معاف کر دو ہم اپنی اولاد کو نہ بب۔بچا س۔۔۔۔

نہیں ۔ح۔حازم ت۔تم نہیں جانتے ۔تھے پر م۔میں جانتی تھی پھر بھی ایسا گناہ کیا تمہیں بچانے کے لیے میں نے اس کی جان لے لی ۔۔۔

وہ اس کا چہرہ دیوانہ وار چومتا بول رہا تھا جب وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوی بولی تھی ۔۔۔

اسے دکھ تھا اپنے بچے کے جانے پر ۔۔۔۔

رو کیوں رہی ہو دیکھنا ہمارا رب دے گا بچہ ہم اسے بہت پیار سے رکھے گے تم مت رو ہمیں تکلیف ہوتی ہے مولانی ۔۔۔

اس کے سینے پر سر رکھے وہ بچوں جیسا بولا تھا ۔۔۔

کتنا ڈر گیا تھا یہ سوچ کر ہی اس کی جنگلی بلی اگر واقعی اسے چھوڑ کر چلی جاے گی تو کیسے رہے گا وہ ۔۔۔۔

رعنا اسے چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔۔

“””دو سال بعد ۔۔۔۔

یار فادی کہاں ہے یہ دونوں میرا جینا حرام کیا ہے کب سے ویٹ کر رہی ہو دونوں آ جاے ڈیڈ کے پاس جانا ہے ۔۔۔

لالہ کا چار بار فون آ چکا ہے ۔۔۔۔

سوہا لال چہرہ لیے روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔۔

سوہا اور فارس کی دو بیٹیاں ہوئ تھی جڑواں جو شکل سے فارس اور سوہا دونوں کی کاربن کاپی تھی گرین آنکھوں والی پر حرکتوں سے وہ پوری شیطان کی نانیاں تھی ۔۔۔۔

دو سال کی عمر میں وہ سب کا جینا حرام کر چکی تھی اس کی شرارتوں سے اکثر سوہا چڑ جاتی تھی ۔۔۔

وہ حیران تھی خود وہ اتنی خاموش طیبعت کی مالک تھی بیٹیاں کس پر چلی گی تھی ۔۔۔۔

آج زوبی کی شادی تھی تبھی اس نے وہاں جانا تھا خود وہ تیار ہو چکی تھی پر بڑی بیٹی احواد اور چھوٹی بیٹی لاثمہ اسے نہیں ملی رہی تھی ۔۔۔

بابا ماما کو مت بتانا ہم یہاں ہے ۔۔۔

فارس جو سوہا کو دیکھ رہا تھا جب اس کی شرٹ میں گھسی ہوئی احواد اور لاثمہ سرگوشی کرتی بولی تھیں ۔۔۔

وہ سوہا سے چھپ کر فارس کی شرٹ کے اندر چھپی بیٹھی تھی ۔۔۔۔

اب بولو بھی کہاں ہے یہ دونوں ۔۔۔

وہ دوبارہ چیخی تھی ۔۔۔۔

افففف ماما کتنی بار کہا غصہ مت کیا کرے سمجھتی ہی ن۔۔۔۔

اوپسسسسس ہم تو باہر اگیئں ۔۔۔۔

سوہا کی غصے بھری آواز سنتے وہ دونوں ہی اپنی ننھی سی گردنیں باہر نکالے بول رہی تھی جب اسے خود کو گھورتا پاکر وہ جلدی سے نکلتی باہر کو بھاگی تھی ۔۔۔۔

دونوں کی شکلوں کے ساتھ آنکھیں حرکتیں یہاں تک کہ آوازیں بھی ملتی تھی وہ ہر کام مل کر کرتی تھی کوئ آج تک جان نہیں پایا تھا دونوں میں سے کون زیادہ شرارتی تھی احواد یا لاثمہ ۔۔۔۔

اہہہہ اہہہہہہ پتہ نہیں کون سا ٹائم تھا جو یہ پیدا ہوی کس پر چلی گ۔۔۔۔

میرے سالے پر چلی گی یہ دونوں ہر وقت اس کے ساتھ رہتی تھی تم حدید صام آفندی۔۔۔۔

سوہا طش سے بول رہی تھی جب وہ اسے کمر سے پکڑتے دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔

تمہارا بھی قصور ہے انہیں ڈانٹتے نہیں ہو سر پر چڑ گی ا ۔۔۔

آجکل کچھ زیادہ بول رہی ہو تم ۔۔۔

وہ پھر بول رہی تھی جب فارس نے اس کی سانسوں کو روکتے کہا تھا ۔۔۔۔

اہہہہ باہر آؤ لیٹ ہو رہے ہم ۔۔۔

وہ لال ہوتے چہرے کے ساتھ دور ہوتی باہر کو جاتی بولی تھی ۔۔۔

وہ دونوں خوش تھے اپنی بیٹیوں سے جنھوں نے گھر رونق لگای ہوئ تھی لیکن تنگ بھی تھے جو ہر وقت شرارت کرتی تھی ۔۔۔۔

مہر جلدی کرو تیار ہو گی رشنا ۔۔۔

وانیہ تیار ہوتی روم میں آتی بولی تھی جہاں مہر تیار ہوا دو سالہ رشنا کو گود میں بیٹھاے اس کی پونیاں بنا رہا تھا ۔۔۔

مہر اور وانیہ کی بیٹی پیدا ہوی تھی گرے آنکھوں والی بلکل مہر کی کاربن کاپی کر بات پر جلدی غصہ کرنے والی ۔۔۔

رشنا مہر جو گھر کی رونق تھی ۔۔۔

ہاں ہو گی مہررانی تم پریشان نہ ہوا کرو ۔۔۔

رشنا کو نیچے قالین پر کھڑا کیے وہ مسکراتا بولا تھا ۔۔۔

مجھ سے تیار کہاں ہوتی ہے تمہارے پاس ہی تیار ہو جاتی آرام سے ۔۔۔

وہ باہر جاتی رشنا کو دیکھ بولی تھی جب مہر نے اسے کمر سے پکڑا تھا ۔۔۔۔

بچی ہے ابھی آہستہ آہستہ تمہارے پاس بھی آجایا کرے گی ویسے بھی بیٹیاں باپ کے زیادہ قریب ہے ۔۔۔

وہ مسکراتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

رشنا کو لالہ کا بیٹا نہیں پسند حالانکہ مجھے تو شروع سے اپنا پھپھو کا بیٹا پسند تھا ۔۔۔۔

وانیہ شرماتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔

میں پسند تھا تبھی بے پناہ عشق بنی رشنا کو بھی پسند ہو گا بس بچے ہے سارے ابھی ۔۔۔

مہر پرسکون ہوتا ایسے ہی بولا تھا ۔۔۔

اچھا چلو باہر تو چل۔۔۔۔

پہلے مجھے خوش کرو ۔۔۔

وہ دور ہوتی بول رہی تھی جب وہ مسکراتا ہوا اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔۔

جی تو ناظرین میں ہو آپ سب کا معصوم حیسن حدید صام آفندی ۔۔۔

جی جیسا کہ آپ کو پتہ ہو گا میری شادی ہو گی اب تو ماشاءاللہ سے میری بیٹی ہے پری وش ۔۔۔

اے میں آپ کو بتاو گا اس ہنگامہ پلیس کی لڑکیوں کا سگھڑ پن ۔۔۔۔

حدید تیار ہوا کچن میں آتا ویڈیو بناے سب کو بتا رہا تھا ۔۔۔۔

ہاں تو میرے بھائیوں ان کی بہنوں اے دیکھیں ان کو ۔۔۔

یہ ہے میری بلکہ پلیس کی بڑی بہو امن احمد آفندی۔۔۔

جی تو ان کا ایک پیارا سا بیٹا ہے شکل سے اپنے باپ پر گیا پر حرکتیں ماں جیسی ہے شرارتی ۔۔۔۔

گرے آنکھوں والا اریل احمد آفندی ۔۔۔

یہ دیکھے امن کوشش کر رہی اسے کچھ کھلانے کی ۔۔۔

حدید امن کی طرف کمیرہ کرتے چہکتا بولا تھا ۔۔۔

جہاں دو سالہ اریل تیار ہوا فیڈر لینے سے انکار رہا تھا جبکہ امن غصے سے منہ بنا رہی تھی ۔۔۔

یہ نہیں کھاتی لالہ میں کیا کرو ۔۔۔۔

امن رونی شکل بناے بولی تھی ۔۔۔۔

آغا کو کہے یہ اسی سے ڈرتا ہے ۔۔

حدید اسے مشورہ دیتا بولا تھا جب اریل نے ڈرتے ہوے فیڈر پکڑتے لبوں سے لگایا تھا ۔۔۔۔

یہ ہے میری بہن یہ جیتنی پرسکون ہے اس کی بیٹیاں اتنی ہی خطرناک مطلب شرارتییییییہہیییی۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہہ ۔۔

سوری ماموں جانننننن ۔۔۔

حدید سوہا کی طرف کمیرہ کیے بول رہا تھا جب اڑتی ہوئی چیپل حدید کے سر پر پڑی تھی جب وہ دونوں ہی معصوم سا چہرہ بناے وہاں سے بھاگتی بولی تھی ۔۔۔۔

روکو ابھی یہ میرے دشمن ہے فادی نے کہا ہو گا مجھ معصوم کو تنگ کرنے کے لیے ۔۔۔

ہاہہاہاہا ہاہہاہاہہاہاہ۔ ۔۔

حدید اپنی ویڈیو چھوڑے ان کے پیچھے بھاگتا بولا تھا ۔۔۔۔

جب سوہا کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔۔

آغا ۔۔۔

امن منہ بناے روم میں انٹر ہوتی بولی تھی جو تیار ہوا اپنا کام لیپ ٹاپ پر کر رہا تھا ۔۔۔

بولو آغا کی جان ۔۔۔

وہ بزی ہوتا بولا تھا ۔۔۔

امن ویسے ہی گھورتی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

احمد جانتا تھا جب تک وہ اس پر توجہ نہیں دیا دے گا وہ ویسے ہی کھڑی رہے گی ۔۔۔

تبھی لیپ ٹاپ سائیڈ پر کرتا وہ اسے دیکھ پھر بولا تھا ۔۔۔

آغا اریل کھانا نہیں کھاتی تنگ کرتی مجھے ۔۔

وہ اسے فری دیکھ جلدی سے اس کی گود میں بیٹھتے منہ بناے بولی تھی ۔۔۔

یار کھا لیے گا بچہ ہے ا۔۔۔

کہاں بچہ ہے احواد اور لاثمہ کا پاٹنر ہے ہر کرائم کا اتنا شرارتی ہے بلکہ ان دونوں کا فیورٹ کزن ہے ۔۔۔

شکل سے اتنا معصوم اور شرارتیں دیکھے ویسے کھانا بھی نہیں کھاتی وہ نخرے کرتا ۔۔۔

امن کے بالوں کو سہلاے وہ بول رہا تھا جب وہ روزانہ کی طرح شکایت لگا رہی تھی ۔۔

احواد اور لاثمہ کی ہر شرارت مین اریل شامل ہوتا تھا ۔۔۔

یار پہلے اپنی یہ مذکر مؤنث ٹھیک کرو میں پریشان ہو جاتا کس کا بول رہی ہو ۔۔۔

وہ مسکراتا ہوا اس کے لبوں کو چھوے بولا تھا ۔۔۔

آپ پیار نہیں کرتی مجھ سے تبھی ڈانٹ د۔۔۔

افففف پاگل لڑکی میرا بے پناہ عشق بن چکی ہو اتنا پیارا بیٹا ہے پھر بھی شکوہ پیار نہیں کرتا تم سے حد ہے ۔۔۔

وہ منہ پھلائے بول رہی تھی جب اسے کمر سے پکڑتے اس کے لبوں پر جھکتا وہ مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

امن خوش تھی اس کے ساتھ پر وہ جانتی تھی واقعی احمد اس سے بے پناہ عشق کرتا تھا ۔۔۔۔

یہ لے ماما پانی پیے ۔۔۔

روشنی روم میں تھی جب وہ بیڈ کے پاس آتی ننھی سی پری وش ہاتھوں میں گلاس لیے اس کے پاس آتی بولی تھی ۔۔۔

دو سال کچھ ماہ کی پری وش چھوٹی سی فراک پہنے سر پر چھوٹا سا ڈوپٹہ لے فکر مند سی کھڑی تھی ۔۔۔

وہ بلکل حدید جیسی تھی نرم دل ہر کسی کی مدد کرنے والی روشانے نے آج تک اسے قبول نہیں کیا تھا بلکہ وہ اب پھر ماں بنے والی تھی پری وش روشانے کو چھوڑے سب کے پاس رہی تھی لیکن اسے دل سے محبت تھی اپنی ماں سے وہ سوچتی ضرور تھی کہ اس کا قصور کیا ہے جس سے اس کی ماں نفرت کرتی تھی لیکن وہ حدید کی غیر موجودگی میں بلکل ویسا ہی روشانے کا خیال رکھنے کی کوشش کرتی تھی ۔۔۔۔

م۔میری بیٹی ہو تم صرف میری یہاں آو ۔۔۔

روشانے روتی ہوئی آخر اس پر پیار آتے سینے سے لگاے بولی تھی ۔۔۔۔

ماما مت روے طیبعت خراب ہو جاے گی ۔۔۔

ننھی سی پری وش فکرمند ہوتی اس کے آنسو صاف کیے بولی تھی ۔۔۔

میری ہو میری کتنی بدنصیب تھی جو تمہیں پیار نہیں د۔۔۔۔

پری بیٹا ۔۔۔

روشانے مسلسل اس کا چہرہ دیوانہ وار چومتی ہوئ بول رہی تھی جب اندر آتے حدید نے اسے پکارہ تھا ۔۔۔

سچی بابا میں نے کچھ نہیں کیا ماما پتہ نہیں کیوں ر۔۔۔۔

مجھے پتہ میرا بیٹا بہت پیارا اچھا جاؤ باہر تمہارے کزنز آگے ہے ۔۔۔

وہ بھاگتی ہوئی حدید کی ٹانگوں سے لگی بول رہی تھی جب اسے گود میں اٹھاے وہ اس کا گال چومتا پیار سے بولا تھا ۔۔۔

اب احساس ہو گیا نہ وہ تمہاری بیٹی ہے تو آج سے اپنے پاس رکھا کرو ا۔ ۔

ن۔نہیں م۔مین نہیں چاہتی وہ میرے جیسے بنے وہ رعنا جیسے بنے بلکہ سب جیسی بنے کبھی میرے سایے جیسی نہ ہو میں تو بدک۔۔۔۔

روشنیییی کیوں سب بھول نہیں جاتی تمہارا کردار پہلے جیسا ہی اچھا ہے ۔۔۔

میں جانتا ہو تم کتنی پیاری ہو ۔۔۔

وہ روتی اس کے سینے سے لگتی بول رہی تھی جب وہ اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ی۔یہ بےبںی بھی ماما پالے گی مں۔۔۔۔

وہ پھر روتی بول رہی تھی جب اس کی آواز کو حدید نے اپنے طریقے سے خاموش کروایا تھا ۔۔۔۔

اکثر روشنی ایسی حالت میں ہوتی ری ایکٹ کرتی تھی جب حدید اسے سبنھال لیتا تھا ۔۔۔۔

بری بات بیٹا کیسے منہ بنا رہے ہو لالہ کے بیٹے کا نام سن کر ۔۔۔۔

زینب ننھے سے آریز خان کو تیار کرتی بولی تھی جو بلکل وقار جیسا نیلی آنکھوں والا تھا اس کا ابھی سے دشمن حازم جا بیٹا زرغام آفندی تھا ۔۔۔۔

وہ اسے تیار کیے بتا رہی تھی جب وہ برا سا منہ بناے بھاگا تھا ۔۔۔۔

کیا ہوا لٹل ڈول منہ کیوں بنایا ہے ۔۔۔

وقار روم میں آتا اسے کمر سے پکڑتے بولا تھا ۔۔۔

زرغام ابھی چھوٹا ہے اور آریز کی اس کے نفرت بلاوجہ ہے حالانکہ وہ بولتا بھی نہیں ابھی اور یہ بلکل تمہارے جیسے غصے والا ہے ۔۔۔

وہ پریشان ہوتی بول رہی تھی ۔۔۔۔

جب وقار مسکرایا تھا ۔۔۔

میں حازم کا سالا ہو آج تک اسے اچھا نہیں لگا میں تو یہ میرا بیٹا ہے اچھی بات آریز کو زرغام نہیں پسند بدلہ پورا ہوا ۔۔۔۔

ہاہہاہاہہاہاہ ہاہہاہاہہاہاہ۔۔۔

وہ قہقہ لگاے بولا تھا ۔۔۔

جاے میں بات نہیں کرتی کتنے برے آپ ۔۔۔

زینب دور جاتی روٹھی ہوی بولی تھی ۔۔۔

ارے یار اچھا سوری اب خوش ۔۔۔

اسے باہوں سے پکڑتے وہ اس کے لبوں کو قید کیے مسکراتا بولا تھا ۔۔۔

زینب خوش تھی وقار کے ساتھ ۔۔۔

تم تیار نہیں ہوے ابھی تک ایول جلدی کرو ۔۔۔

رعنا روم میں آتی بولی تھی جہاں وہ شرٹ لیس صوفے پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا ۔۔۔

ہم نہیں جا رہے ہمارا دشمن تمہارے ساتھ رہے گا ہمیں اچھا نہیں لگتا ۔۔۔

وہ روٹھا روٹھا سا بولتا سگریٹ پی رہا تھا ۔۔۔

اففف چھوٹا بچہ ہے صرف چند ماہ کا ہماری اولاد ہ۔۔۔

دشمن پلس چونا پلس ایلفی پلس گوند ہے وہ ۔۔۔

رعنا اس کے پاس آتی بول رہی تھی جب وہ بیزار ہوتا بولا تھا ۔۔۔

رعنا حازم کا بیٹا ہوا تھا کچھ ماہ پہلے جس کا نام انھوں نے زرغام حازم آفندی رکھا تھا ۔۔۔

شکل سے وہ بلکل رعنا جیسا تھا نیلی آنکھوں والا خوبصورت سا بچہ لیکن حرکتیں اس کی حازم جیسی تھی ۔۔۔

بلکل خاموش سا بچہ جو روتا بھی سوچ سمجھ کر تھا ۔۔۔

یہ آنکھیں ریڈ ہوئ سر درد کر رہا کیا ۔۔۔

وہ اس کے پاس آتی آنکھوں کو دیکھ پریشانی سے بولی تھی ۔۔۔

ہاں باہر زینب امن روشانے وانیہ سب کے ساتھ تھے افففف کتنا بولتی ہے ساری ہمارا تو سر درد کرنے لگ گے چار پین کلر لی پر درد ختم ن۔۔۔۔

ہم جانتے تھے ہمارے ہر درد کی دوا تمہارا یہ دہکتا ہوا لمس اور قربت ہے ۔۔۔

وہ اپنا ماتھا مسلتا ہوا بول رہا تھا جب رعنا نے جھک کر اس کا ماتھا چوما تھا جبھی وہ اسے گود میں بیٹھاے اس کی گردن پر ناک کو سہلاے بولا تھا ۔۔۔

بس کرو تمہیں بہانہ چاہے میرے قریب آنے کا تم زرا زرغام کو دیکھ میں تیار ہو جاؤ ۔۔۔

اپنے لبوں پر اسے جھکتے دیکھ وہ جلدی سے دور ہوتی کہتی واش روم گی تھی ۔۔۔۔

اس کے دور جانے پر ایول نے منہ بنایا تھا ۔۔۔

جننننن ماموں جاننننننن۔۔۔

احواد اور لاثمہ زرغام کے پاس بیٹھی میک اپ سے اس کے خوبصورت چہرے پر اپنے کارنامے بنانے میں بزی تھی جب روم میں انٹر ہوتے حازم کو دیکھ وہ ڈرتی ہوئ بیڈ سے گری تھی ۔۔۔

وہ صرف حازم سے ڈرتی تھی ان کے باقول وہ جن ہے

حازم نے ایک نظر ان ننھی پریوں کو دیکھا پھر بیڈ پر لیٹے زرغام کو دیکھا تھا جو سکون سے لیٹا اپنی نیلی آنکھوں سے سب کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

مولانییہییہی ہمارا دشمن گندہ ہو گیا ہ۔۔۔

اسے پانی سے صاف کر دو حازم ۔۔۔

حازم زرغام کے چہرے پر عیجب سے نقشے نگار دیکھتے غرایا تھا جب وڈارب روم میں تیار ہوتی رعنا بولی تھی ۔۔۔

اوکے ۔۔۔

حازم کی غراہٹ سنتے وہ دونوں کب کی بھاگ چکی تھی ۔۔۔

ایول ایول کیا یہ کر رہے ہو بیٹا ہے ہمارا کچھ شرم کرو ۔۔۔

وہ اپنی ساڑھی کا پلو ٹھیک کرتی آ رہی تھی جب وہ سامنے ایول کو زرغام کی ایک ٹانگ سے پکڑتے واش روم جاتے دیکھ ویسے ہی چیختی ہوئ اس کے پیچھے آی تھی ۔۔

اس سے پہلے وہ اسے باتھ ٹب میں گراتا جب رعنا نے اسے پکڑا تھا ۔۔۔

خودی کہا پانی سے صاف ک۔۔۔۔

وہ اسے دیکھتا اچانک روکا تھا ۔۔۔

وہ تو اکثر اس کی سادگی دیکھ کر بہک جاتا تھا آج تو وہ فل تیار ہوئ تھی ۔۔۔

بیٹا ہے ہمارا زیادہ نہ سہی کم ہی پیار دے دیا کرو ۔۔۔۔

میں نے نہیں دیکھا تم نے کبھی اسے پکڑا ہو اب سن رہے ہو تم میری با۔۔۔۔

وہ واش روم سے نکلتی ہوئ اسے گود میں اٹھاے بیڈ کی طرف جاتی بول رہی تھی یہ روزانہ کا کام تھا حازم زرغام سے جلیس ہوتا تھا ۔۔۔

اسے صرف رعنا چاہے تھی اور یہی حال زرغام کا تھا وہ بھی کسی کے پاس نہیں جاتا تھا بس رعنا کی گود میں رہتا تھا ۔۔۔

وہ جو گرے پلو کے ساتھ اسے سنا رہی تھی جب حازم نے اسے کمر سے پکڑتے دیوار سے پین کیا تھا ۔۔۔۔

ہمیں نہیں پسند کہ تمہاری باہوں میں ہمارے علاؤہ کوئ اور ہو ۔۔۔

وہ اپنے لب اس کی گردن پر رکھتے جنونی انداز سے بولا تھا ۔۔۔

کیا مطلب تمہارا وہ ہمارا خون ہے پھر ب۔۔۔

تو ہم سے بھی بات کیا کرے وہ صرف تم اس کی بات سنتی ہو کیسے تمہارا چہرہ دیکھ وہ خوش ہوتا ہے ہم بھی تو باپ ہے اکڑ دیکھو اس کی بولتا بھی نہیں ۔۔۔

وہ اسے دور کرے بیڈ پر لیٹا لیٹ زرغام کو سیدھا کرتی بول رہی تھی جب حازم نے اسے دوبارہ دیوار سے پین کرتے اس کے لبوں کے پاس بنے ننھے تل کو چومتے بولا تھا ۔۔۔۔

چھوٹا بچہ ہے کہاں بولنا سکھے گا یہ تو میری ممتا ہے جو اس کی ہر بات سمجھ لیتی ہے ہر وقت تم میرے معصوم سے بچے کے پیچھے پڑے رہتے ہ۔۔۔۔

معصوم صرف ہم ہے سنا تم نے یہ ہم سے بھی زیادہ اکڑ والا ہو گا باپ کو نخرے دیکھاتا ہے تم بس ہمارا سوچا کرو ۔۔۔

پیدا ہو گیا اب بڑا ہو جاے گا وہ ۔۔۔

وہ اسے سمجھاتی بول رہی تھی جب وہ اس کے شولڈر پر کس کرتا جنونی ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

کیا دماغ خراب ہے ننھی سی جان ہےا ۔۔۔

رعنا اس کی شدتیں برادشت کرتی لال ہوتے چہرے سے بول رہی تھی جب وہ اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں لیتا گرفت سخت کر چکا تھا ۔۔۔۔

ا۔ایول ت۔تم واقعی جنونی اور پاگل ہو گے میرے لیے اففففف۔۔۔

اس کی گرفت سے نکلتی وہ اپنے لبوں کو ہاتھ لگاے بولی تھی جہاں سے خون کی بوند نکل رہی تھی ۔۔۔

ہمیں جنونی بنانے والی بھی تم ہو مولانی ۔۔۔

اسے دوبارہ اپنی گرفت میں لیتے وہ اس کی سانسوں کو روکتا بولا تھا ۔۔۔۔

بھاںںںں بھاںںںںںں۔۔۔

زرغام دونوں کو ایسی حالت میں دیکھ پہلی دفعہ گلا پھاڑے رونے لگ گیا تھا ۔۔۔

جب رعنا حازم سے دور ہوتی بیڈ پر پڑے اسے گود میں اٹھاے چپ کروایا تھا ۔۔۔

تم دیکھ لینا یہ ہم سے دو ہاتھ آگے ہو گا دشمن ۔۔۔

زرغام کو چپ ہوتا دیکھ وہ جھنجھلاتا ہوا کہتا وہاں سے غصے سے تن فن کرتا نکل گیا تھا ۔۔۔

اففففف ۔۔۔

اپنے دل پر ہاتھ رکھے وہ شرمای تھی کیونکہ اس کی ہارٹ بیٹ اتنی ہی تیز چل رہی تھی ۔۔۔

ویسے انیجل اتنے خوبصورت دشمن پلس ایلفیاں دینے کا شکریہ ۔۔۔

سب ہی زوبی کی شادی میں اے تھے جب حدید نے شور مچایا تھا ساری فمیلی مل کر ایک فوٹو لے سب ہی اپنی اپنی فمیلی کے ساتھ اسیٹچ پر کھڑے تھے جب روحا کی کمر میں ہاتھ ڈالے صام ان کے کان میں سرگوشی کرتے مسکراے تھے ۔۔۔۔

شکریہ آپ کا ڈیول جو اتنی محبت دی ہم بہت خوش ہے ۔۔۔

روحا بھی شرماتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔

ویسے انیجل میں کیا سوچ رہا تھا ۔۔۔

وہ شوخ ہوتے بولے تھے جب روحا نے ان کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔

میں سوچ رہا تھا ہماری ایک بیٹی اور ہونی چ۔۔۔

ڈیولللللللل شرم کرے کچھ ہمارے بچوں کے بھی بچے ہو کہ لیکن آپ کو عقل نہیں آی بے شرم ٹھرکی انسان ۔۔۔

ان کی بات سنتے وہ سرخ چہرہ لیے ہلکی آواز میں چخی تھی ۔۔۔

ہاہاہاہاہاہا ہاہہاہاہاہاہ۔۔۔

ہاے میں بہت معصوم ہو انیجل ۔۔۔

وہ دل کھول کر قہقہ لگاتے بولے تھے ۔۔۔۔

زہ تاسرہ مینہ کوم ۔۔۔

(آئ لو یو )..

صام ان کا گال چومتے ہوے بولے تھے ۔۔۔

تہ زماہ بدی شی۔۔

(آئ ہیٹ یو)..

جب روحا بھی آنکھیں بند کیے بولی تھی ۔۔۔

ہاہہاہاہااہاہاہ۔۔

صام کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔۔۔

وہی سب نے اپنی خوش حال فمیلی کی فوٹو لی تھی ۔۔۔

سب ہی اپنی اپنی زندگیوں میں بے حد خوش تھے ۔۔۔

جہاں کھڑا ہر کپل اپنی فمیلی کے ساتھ خوش تھے ۔۔۔

ختم شد۔۔۔۔۔