Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 6)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 6)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
پارٹی کا ارینج لان میں ہی کیا گیا تھا۔۔۔
اندھیرے میں کھڑی زنیب اور رعنا کی سانسیں روکی تھی ۔۔۔
کیونکہ زنیب کو ایسا محسوس ہوا تھا جیسے کوئ اس کے بے حد قریب کھڑا اپنی نیلی آنکھوں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔۔
جبکہ حدید کے پاس کھڑی رعنا کو ایسا لگا تھا کوئ بے حد اس کے قریب سے گزار کر گیا تھا۔۔۔
اسے اپنے آس پاس صرف سگریٹ کی سمل آ رہی تھی ۔۔۔
ہادی تم نے سگریٹ پی ہے کیا ۔۔۔
یار مجھے اچھی نہیں لگتی یہ گندی چیز سانس بند ہونے لگ جاتا ہے ۔۔۔
کیا منہ میں ڈالا ہے جو تمہاری زبان نہیں چل رہی ابھی ۔۔۔
اپنی گردن حدید کی طرف کرتی وہ سرگوشی کرتے بول رہی تھی جبکہ نیلی آنکھیں سامنے تھوڑی سی روشنی میں انٹر ہوتے گرین آنکھیں لیے احمد پر تھی ۔۔۔
لیکن کوئ اور بھی تھا جو اس کی گول گھومتی نیلی آنکھوں کو اپنی گرین آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ک۔کون ہے یہاں۔۔
اپنی کمر پر گرفت محسوس کرتے زینب ہکلاتی بولی تھی ۔۔
لٹل ڈول ۔۔
وقار اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
و۔قار۔۔۔
زینب کے لبوں سے ہلکی سی سرگوشی گونجی تھی ۔۔۔
ہادی کتنی سمل ہے اس منحوس سگریٹ کی اففف میرا سانس بند ہو رہا صام انکل سے شکایت لگاٶ گی تمہاری بدمعاش۔۔۔
رعنا ابھی بھی اس کی طرف گردن کرتی بولی تھی۔۔۔
پاس کھڑے ایول بس اس کے قریب کھڑا نقاب سے نظر آتی صرف اس کی نیلی آنکھیں دیکھ رہا جبکہ ایک ہاتھ سے مسلسل سگریٹ پی رہا ۔۔
اففف توبہ کیا زبان کٹ گی ہے تمہاری جاٶ میں بابا کے پاس جا رہی ۔۔۔
رعنا اسے خاموش کھڑا دیکھ دور جاتی بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ لان کی ابھی کم لائٹس آن ہوئ تھی جب پریشان ہوتا احمد اندر آ رہا تھا۔۔۔۔
جنگلی بلی ۔۔۔
دور جاتی رعنا کو ایک بازو سے پکڑے ایول منٹوں میں قریب جاتا سرگوشی کرتا گم ہو چکا تھا۔۔۔
ب۔برفانی ریچھ۔۔
اپنے کانوں میں سالوں بعد ایسی سرگوشی سنتے رعنا کے دماغ پر سنسناہٹ ہوئ تھی ۔۔۔۔
ہیپی برتھ ڈے آغا ۔۔۔
ہیپی برتھ ڈے ۔۔۔
اس سے پہلے دور جاتے سایے کو وہ دیکھ پاتی جب لان میں ساری لائٹس آن ہوتے ہی سب نے شور مچاتے کہا تھا۔۔۔
رعنا اور زینب دونوں کے چہروں کے رنگ اُڑ چکے تھے ۔۔۔
مس فائر او مس فائر یار دیکھو آغا آ گے وش کرو ان کو ۔۔
پاس آتا حدید خوش ہوتا رعنا کی آنکھوں میں دیکھتے بولا تھا۔۔۔
و۔وہ آ۔آیا تھا ہادی ۔۔۔
وہ ی۔یہاں میں نے محسوس کیا تھا اس کو ۔۔
س۔سگریٹ پی ر۔رہا تھا ۔و۔۔۔
کیا بولی جا رہی ہو زرا سمجھ نہیں آ رہا میوزک اتنا زیادہ ہے ۔۔
رعنا آنکھوں میں آنسو لاتی سرگوشی میں بول رہی تھی جب حدید بولا تھا۔۔۔
اتنے شور میں اسے کچھ سنائ نہیں دے رہا۔۔۔
ہمم۔۔
آس پاس دیکھتے وہ خاموش ہو چکی تھی۔۔۔۔
————————————————————
تم ٹھیک ہو ۔۔
احمد جلدی سے وانیہ کو سینے سے لگاۓ پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔
مجھے کیا ہوا تھا یہ تو پلان تھا ۔۔۔
کانپتی ٹانگوں سے وانیہ بامشکل بولی تھی جبکہ دل سے ڈر رہی تھی اس کے غصے سے ۔۔۔
م۔۔۔
ارے آغا اپنے پیارے بھای سے پوچھ لے کتنا کام کیا میں نے ۔۔
وانیہ کو بچانے کے لیے حدید پاس آتا دانت نکالے بولا تھا۔۔۔
اچھا بولو نکمے نے کیا کام کیا آج ۔۔
احمد بھی خوش ہوتا اسے ہگ کیے بولا تھا۔۔۔۔
شکریہ ہادی ۔۔
وانیہ پاس سے گزارتی اس کے کان میں سرگوشی کرتی بولی تھی جبکہ وہ مسلسل خوش ہو رہی تھی ۔۔۔
دور کھڑے مہر نے غصے سے رخ بدلا تھا ۔۔۔
یہ لائٹس دیکھ رہے ع۔۔۔
تم نے لگوائ کیا ۔۔۔
حدید لان کی سجاوٹ دیکھاتے بول رہا تھا جب احمد بولا تھا۔۔۔
نہیں تو یہ مہر نے لگوای تھی۔۔۔۔
حدید دانت نکالے بولا تھا۔۔۔۔
اچھا سنے یہ کرسیاں جو ہے وہ۔۔
تم نے لگوائ کیا۔۔۔
احمد مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔
نہیں یہ سوہا نے لگوائ ۔۔۔
احمد ایک بار پھر بولا تھا جب وہ دانت نکالے بولا تھا۔۔
اچھا تم نے کیا کیا پھر ۔۔۔۔
حدید ایک ہر کا کام باری باری بتا رہا تھا جب احمد قہقہ روکے بولا تھا۔۔۔
مہر وقار زینب رعنا سوہا امن روشانے وانیہ سب ہی پاس کھڑے تھے ۔۔۔
میں نے بہت بڑا کام کیا آغا اففف میری کمر ۔۔۔۔
حدید اب سب کو چیئر پر بیھٹاے بولا تھا۔۔۔۔
سب اب حیران پریشان ہوتے اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے سب جانتے تھے اس نے کوئ کام نہیں کیا تھا۔۔۔
میں نے تم سب کو بیھٹایا ہے یہ بھی بڑا کامممممممم۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہہ ڈیول ڈیڈ ۔۔۔
نکمے ہڈحرام گدھے کس پر چلے گے ہو تمہارا باپ تو ایسا نہیں تھا ۔۔۔
حدید کی فرفر زبان چل رہی تھی جب پاس آتے صام اس کی کمر پر مکہ مارتے دانت پیستے بولے تھے ۔۔۔۔
ڈیڈ آپ نہیں جانتے میں کس پر گیا ہو وہ تو بڑا قابل انسان ہے اففف پوری دنیا ان کی عزت کرتی ہے ۔۔۔
حدید ان سے زرا دور جاتا دانت نکالے بولا تھا۔۔۔
کون ہے وہ ۔۔
صام اپنی گلاسز سے دیکھتی گرین آنکھوں میں تعجیب لاتے بولے تھے جبکہ ہاتھ اپنے جوتے پر گیا تھا۔۔۔
جنرل صام آفندی ۔۔۔۔
بیٹا باپ پر ہی جاتا ہے دادا جان نے بتایا تھا آپ بھی ایسے ہی تھے نکمے ہڈحرام ا۔۔۔۔
بچاٶ بچاٶ ظالموں کوئ تو بچاۓ ہاےےے میں معصوم بچہ۔۔۔۔
حدید بول رہا تھا جب دور سے اُڑتا ہوا صام کا بوٹ اس کے سیدھے منہ پر لگا تھا ۔۔۔۔
جب پورے لان میں بھاگتے وہ چلا رہا تھا ۔۔۔
جبکہ سب کے قہقے گونج رہے تھے اس کی حرکت پر ۔۔۔
اہہہہ اہہہہ جوگر ۔۔۔
روشانے چیئر سے اٹھتی منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
ہاے کتنے خوبصورت ہے سب افففف کاش ان میں سے کوئ مل جاۓ لائف بن جاۓ گی ۔۔۔
روشانے گزار رہی تھی جب اسے حدید کی یونی کی لڑکیاں پارٹی میں آی بول رہی تھی ۔۔۔۔
جب وہ سنتی روک چکی تھی۔۔۔۔
یار سب تو ٹھیک ہے لیکن حدید کی بات الگ ہے اففف کتنا فنی ہے ہاے کاش میرا ہوتا یہ ۔۔۔
ان میں سے ایک لڑکی دور کھڑے حدید کو دیکھتی بولی تھی جو اکیلے درختوں کے پاس کھڑا تھا۔۔۔
انہہہ شکل اس کی دیکھی ہے پتہ نہیں تمہیں یہ انسان کیوں اچھا لگتا ہے نہ کوئ لک نہ ہی کوئ رعب ۔۔۔
ایسے لڑکے کس کو پسند ہے سواۓ بولنے کے اس انسان کو کیا آتا ہے ۔۔
روشانے منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
آدھی سے زیادہ حدید صام آفندی سے دوستی کرنے کو ترستی ہے تمہارا کزن ہے تبھی تمہیں اس کی قدر نہیں ہے ۔۔۔
وہ لڑکی منہ بناتی روشانے سے بولی تھی اسے بہت برا لگا تھا حدید کے بارے میں غلط سنتے ۔۔۔
انہہ۔۔۔
روشانے اپنے بالوں کو جھٹکا دیتی وہاں سے واک آٶٹ کر چکی تھی۔۔۔۔
————————————————————
حدید سے دور رہا کرو مجھے اچھا نہیں لگتا ۔۔
کیک کٹ چکا تھا جب سب ہی کھانے میں بزی تھے تبھی وانیہ کے پاس آتا مہر زرا سرد لہجے سے بولا تھا۔۔۔
وجہ میرا دوست ہے بلکہ بہن ہے وہ میری ہر بات پر ساتھ دیتا ہے ۔۔۔
کبھی اس نے کمی محسوس نہیں ہونے دی ہر جگہ ساتھ دیا اس نے تم ایسے کیوں کہتے ہو ۔۔۔
مجھے افسوس ہوتا ہے تمہاری سوچ پر کزن ہے وہ میرا جیسے تم ہو کزن میرے۔۔۔
وانیہ بالاخر پھٹ پڑی تھی مہر پر وہ اکثر ایسے ہی کہتا تھا حدید کے بارے میں ۔۔۔
مجھے محبت ہے تم سے وانیہ تم سے جانتی ہو بلکہ جب سے ہوش سبھنالا ہے تب سے اب تو عشق بنتی جا رہی ہو تم بس اس لیے بول دیا اچھا سوری کرتا ہو اب معاف کر دو ۔۔۔۔
اس کی بات سنتا اچانک مہر سکون میں آتا اس کے پاس جاتا بولا تھا۔۔۔
ہاتھ مت لگاٶ مجھے کزن ہو تمہاری بیوی نہیں ۔۔۔
اپنے چہرے سے اس کا ہاتھ ہٹاتے وہ سرد لہجے سے بولی تھی ۔۔
اسے کبھی کبھی سمجھ نہیں آتی تھی مہر کی وہ کیوں اتنا غلط سوچتا تھا سب کے بارے میں ۔۔۔
چلو جب بیوی بنو گی تب پاس آنے دو گی مجھے ۔۔۔
مہر شوخ ہوتا اس کے چہرے کے قریب آتا بولا تھا۔۔۔
جب وہ شرمای تھی ۔۔۔
آہممم آہمممم لالہ میری بہن سے دور رہے ابھی بلکہ جلدی سے بارات لاۓ ہم اس کو رخصت کرے پھر ہی کوئ میرا سوچے گا شادی کا۔۔۔
پیچھے سے آتا حدید چاکلیٹ کھاتا ہوا بولا تھا۔۔۔
چاچو بلکل ٹھیک کہتے ہے تم گدھے ہو پورے۔۔۔
وانیہ شرماتی ہوئ اسے مکہ مارتی وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔
یار سوری میں نے ی۔۔
ارے چھوڑو سب یہی کہتے میرے بارے میں آو زرجان انکل کے پاس چلتے ہے تم بات کرو رشتے کی ۔۔
مہر حدید کو ہگ کیے بول رہا تھا جب وہ مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
————————————————————
یا میرے رب مجھے معاف کر دے میں اپنے کیے پر بہت شرمندہ ہو ۔۔۔
ایک بار بس ایک بار مجھے وہ مل جاۓ میں اپنی غلطی کی معافی مانگ لو گی ۔۔۔
بلکہ نہیں گناہ تھا میرا وہ میری وجہ سے وہ سب سے روٹھ کر چلا گیا ۔۔۔۔
مجھے معاف کر دے میرے رب ۔۔۔۔
رعنا حدید کے روم میں آتی روتی ہوئ جاۓ نماز پر بیٹھی نماز پڑھتی اب دعا مانگتی روتی بول رہی تھی ۔۔۔
بیٹا اس میں تمہارا کوئ قصور نہیں تھا تم نے جو بتایا تھا وہ سچ ہی تھا ۔۔۔
صام روم میں آتے پھوٹ پھوٹ کر روتی رعنا کے پاس بیٹھتے نرمی سے بولے تھے ۔۔۔۔
نہ۔نہیں و۔۔۔
بھول جاٶ اسے وہ مر چکا ہے ۔۔۔
مسلسل روتی رعنا کو اپنے شولڈر سے لگاۓ وہ سرد پن سے بولا تھا۔۔۔
ن۔نہیں و۔وہ زندہ ہے ا
۔انکل اب۔ابھی پارٹی م۔میں تھا وہ ۔۔۔
م۔میرے پاس تھا و۔ہ۔۔۔
رعنا روتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
اچھا چھوڑو اس کو باہر جاٶ وہ نکما تمہیں ڈھونڈ رہا ہے چلو شاباش جاٶ میرا بیٹا ۔۔۔
صام اس کی بات اگنور کرتے اس کا ماتھا چومتے بولے تھے ۔۔۔
————————————————————
صام یہ کیا حرکت ہے اتنی سردی میں شرٹ لیس ہو کر کھڑے ہے ۔۔۔
چلے شرٹ پہنے ۔۔۔
پارٹی ختم ہو چکی تھی جب سارے ہی اپنے
اپنے رومز میں چلے گے تھے ۔۔۔
تبھی روم میں آتی روحا سامنے کھڑے شرٹ لیس صام کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔
جو گم صم سے کھڑے تھے ۔۔۔
وہ آیا تھا انیجل ۔۔۔
محسوس کرو یہ لمس ہے اس کا ۔۔۔
یہاں تک تھا وہ میری آنکھوں کے سامنے سے وہ گزار گیا۔۔۔
پر افسوس میں روک نہ پایا اس کو ۔۔۔
روکتا بھی کیسے نفرت کرتا ہے مجھ سے وہ ۔۔
صام سامنے اپنی شرٹ کو دیکھتے مسکراتے بولے تھے جبکہ آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے ۔۔۔
ہمہ۔ہمارے حازم کی بات کر رہ۔رہے آپ ۔۔
کیسا تھا وہ ٹھیک تھا ا۔اور چہرہ کیسا تھا اب تو وہ بھی بڑا ہو چکا ہو گا ۔۔۔
روحا ان کے پاس آتی خود بھی روتی بولی تھی۔۔۔
نہیں حازم تو مر چکا ہے تب سے جب ہم سب نے چھوڑا تھا اسے اب وہ ایول بن چکا ہے ۔۔۔
صام دکھی ہوتے روحا کو اپنے سینے سے لگاتے بولے تھے۔۔۔
تم جانتی ہو رعنا نے بھی دیکھا تھا اسے وہ پارٹی میں آیا تھا۔۔۔
اور جانتی ہو اس کی گرین آنکھیں ویسی ہی ہے برف جیسی سرد ۔۔۔
صرف ایک پل کے لیے اس نے نظریں ملائ تھی مجھ سے اس وقت شدت سے دل چاہا تھا وقت روک جاۓ ۔۔۔
کیا سچی وہ آیا تھا لیکن سب تو کہتے ہے وہ مر چکا ہ۔۔۔
کبھی جسم سے خون جدا ہوتا ہے وہ میرا خون ہے وہی ایول تھا مجھے یقین ہے ۔۔۔
ایول کبھی نہیں مر سکتا وہ ڈیول کا ہے ۔۔۔
روحا روتی بول رہی تھی جب صام مسکراتے بولے تھے کافی عرصے بعد وہ آج مسکراۓ تھے اس کی ایک جھلک دیکھ کر ۔۔۔
اب دونوں ہی روم میں بیٹھے حازم کا بچپن کی باتیں کر رہے تھے ۔۔۔
صام کو اب پکا یقین ہو چکا تھا اس کا ایول زندہ ہے ۔۔۔
———————————————————–
ای۔ایول ۔۔
رکھ دو یہاں۔۔۔
ایول اپنے اسپشیل روم میں کھڑا سگریٹ پی رہا تھا ۔۔۔
جب اس کا خاص آدمی اندر آتا اتنی سردی سے کانپتا ہوا بولا تھا جب وہ دو ٹوک بنا دیکھے بولا تھا۔۔۔
ایول کا اسپشیل روم فل برف کا بنا ہوا تھا اکثر وہ تب اس روم میں آتا تھا جب اسے شدید غصہ آتا تھا اسے سردی کم ہی لگتی تھی ۔۔۔
تبھی اب بھی سگریٹ پیتا وہی کھڑا تھا۔۔۔
اس کا آدمی چپ چاپ برف کی بنی ٹیبل پر بوکس رکھتا وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔
ویسے کہ ویسے ہی آپ جنرل صام آفندی عرف ڈیول ۔۔۔
ایول اب بوکس اوپن کرتا اس کے اندر ایک پاٶں کا بلیک کلر کا بوٹ دیکھتا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا۔۔۔
““چند گھنٹے پہلے ۔۔۔
نہیں ہم کل یہ کام کرے گے آج لٹل چمپین کا برتھ ڈے ہے ویسے بھی کل تم اور فارس پاکستان آ رہے ہو ۔۔۔
مستقیم کو بخار ہے زرا ۔۔۔
نوفل اپنی فارم میں بزی ہے آج کل ہم یہ کام ک۔۔۔
صام تیار ہوۓ لان سے باہر آتے مسلسل فون میں بزی منان سے بات کرتے بول رہے تھے جب کسی سے ٹکراتے وہ گرتے گرتے بچے تھے جب کسی نے انہیں بازو سے پکڑتے بچایا تھا۔۔۔
شکریہ بی۔۔۔۔
صام اپنے سامنے گرین ہڈی پہنے ماسک لگاے شخص کی طرف دیکھتے بول رہے تھے ۔۔۔
جب وہ ایک نظر دیکھتا ان کا ہاتھ چھوڑتا لان سے باہر نکلتا لمبے لمبے قدم لیتا اندھیرے میں گم ہو چکا تھا۔۔۔۔
ب۔ب۔۔۔
نہیں آپ صرف جنرل صام آفندی ہے ہمارے کچھ نہیں لگتے ۔۔۔
ایول سب یاد کرتا اب بوٹ کو اٹھاۓ سامنے بنی شیشے کی کبڈ میں وہ بوکس رکھتا بولا تھا۔۔۔
جس کی وجہ سے ہم اکیلے رہ گے پہلے اس کی سزا بنتی ہے ۔۔۔
تیار رہو مس جنگلی بلی تمہارا دشمن واپس آ چکا ہے بہت جلد تم یہاں ہماری قید میں ہو گی ہماری جہنم میں ۔۔۔
اہااہاہہاہا ہاہااہاہاہاہا۔۔۔
ایول اب سگریٹ چھوڑتے شراب کی بوتل لبوں سے لگاتے شیطانی قہقہ لگاۓ بولا تھا۔۔۔
———————————————————-
آٶ آٶ جلدی ورنہ وہ ناراض ہو جاۓ گا ۔۔
تم جلدی نہیں چل سکتی کیا یار پاٶں ٹوٹ گے ہے کیا جلدی چلو ۔۔۔
اور تم زرا آنکھیں کھول لو دیکھ کر چلو جانتی ہو آج ضروری بات کرنی اس نے ۔۔۔
سوہا سب کو ڈانٹتی بول رہی تھی جو سب ہی منہ اندھیرے پیلس سے باہر نکلتی آہستہ آہستہ چلتی بیک سائیڈ پر بنی نیچے کو جاتی سڑھیوں سے نیچے اترتی بولی تھی ۔۔
جب نیند میں جاتی وانیہ نائٹی پہنے روشانے کو شال لے اور زینب کو چہرے پر ماسک لگاۓ وہ بولی تھی۔۔۔
جو سستی سے چل رہی تھی۔۔۔
کیا ضرورت تھی اس ٹائم بلانے کی یار نیند آ رہی ہے سردی بھی بہت ۔۔
روشانے ساتھ چلتی منہ بناے بول رہی تھی۔۔۔
ارے رکو رکو میں رہ گیا مہر جلدی چلو یار تم لیٹی چلتی ہو۔۔۔
پرپل ہڈی امن نے جبکہ گرے ہڈی مہر نے پہنی تھی جب وہ بنا دیکھے ان سب کے پیچھے چلتی سیڑھیوں سے اترتی بول رہی تھی۔۔۔
امن و۔ہی ر۔روک جا۔۔۔۔
اہہہہ اہہہہ اہہہہہہ ۔۔۔
سوہا سب سے آگے تھی ابھی وہ نیچے بنی بیسمنٹ کی لائٹ آن کر رہی تھی جب پیچھے سے بھاگتی آتی امن نیند میں جاتی زنیب سے ٹکڑائ تھی ۔۔۔
سوہا سب سے نیچے اس کے اوپر روشانے اس کے اوپر زینب پھر امن گری تھی ۔۔۔
اب حالت کچھ یوں تھی لائٹ آن ہوتے ہی وہ سربراہی کرسی پر
رعب سے بیٹھا اپنے سامنے گرے ان سب کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
سب سے نیچے سوہا تھی جو غصے سے چلا رہی تھی جبکہ اوپر امن تھی جو سب پر گری دانت نکال رہی تھی۔۔۔
مہر تو سائیڈ پر کھڑا وانیہ پر ہنس رہا تھا جو ان سب میں سینڈوچ بنی رو رہی تھی ۔۔۔
———————————————————–
کتنی رات ہو گی اب سونا چاہے ۔۔۔
صبح یونی بھی جانا ہے ۔۔۔
رعنا رات کو تحجد کی نماز پڑھتی اب حجاب اتارتی ہوئ بیڈ پر جاتی بیٹھتی بولی تھی ۔۔۔
کیا وہ واقعی ت۔۔۔
ک۔کون ہے ۔۔
رعنا بیڈ پر لیٹتی سوچ رہی تھی جب اسے اپنے روم کی لائٹ بند ہوتی کوئ اندر آتا دیکھ وہ گھبراتی بولی تھی۔۔۔
چلو ساتھ۔۔۔
رعنا کو بازو سے پکڑے وہ سرد انداز سے بولتا اسے کھڑا کر چکا تھا۔۔۔
ک۔کون ہے ب۔باب۔۔۔۔
رعنا اندھیرے میں ہی کھڑی گھبراتی چلا رہی تھی جب اس نے اس کے لبوں پر اپنا بھاری ہاتھ رکھتے اس کی آواز کو روکا تھا۔۔۔
رعنا کی حیرت سے آنکھیں پھٹی تھی ۔۔۔
اس کی جرات پر ۔۔۔
