581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 24)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

م۔میم وہ ملک رحمان کا کوی آدمی آپ کو یہ دے کر گیا ہے ۔۔

زینب جب اپنے کیبن میں آی تو اس کا ایک جوئنرکولنک ہاتھ میں ایک لفافہ پکڑے اندر آتا بولا تھا۔۔

کیا ہے اس میں ۔۔

زینب اپنی کرسی پر بیٹھتی بولی تھی آج اس کا موڈ ویسے ہی خراب تھا ایک دن ہو گیا وقار نے اسے منایا ہی نہیں تھا وہ ناراض ہو کر گھوم رہی تھی ۔۔۔

تبھی برا منہ بناے وہ بولی تھی۔۔

پ۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہ ۔۔

اس سے پہلے وہ کچھ کہتا جب باہر سے شیشے ٹوٹنے کی آواز سن کر زینب چلای تھی ۔۔

می۔میم باہر لگتا رحمان کے بندے ا گے ہے آپ یہی رہنا۔۔۔

باہر سب کے چیخو و پکار کو سن کر وہ ڈرتا ہوا کہتا زینب کو کیبن میں لاک کرتا بولا تھا۔۔۔

سب جانتے تھے پچھلے ایک ماہ سے زینب کی جان کو خطرہ تھا کسی نہ کسی بہانے وہ اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی گی تھی۔۔۔

و۔وقار کو فون کرتی ہو ۔۔

ڈرتی ہوی زینب کافی دیر سب کی غرانے کی آوازیں سنتی جلدی سے فون نکالے بولی تھی۔۔

افففف فون بند جا رہا ہے کیا کرو ۔۔

مسلسل اسے کال ٹرای کیے وہ تنگ آتی بولی تھی کیونکہ وقار کا فون بند جا رہا تھا۔۔

ٹھاہہہہ ٹھاہہہہ اے لڑکی نکلو باہر ابھی کہ ابھی۔۔

باہر سے اس کے کیبن کے ڈور کو لات اور مکے مارتے رحمان کے آدمی غراے تھے۔۔

ہ۔ہادی۔لالہ ہاں ۔۔۔

زینب جلدی سے حدید کو کال ملاتی بولی تھی۔۔

ہلیو لالہ وہ میں ا۔۔

سوری میرا بچہ میں زرا بزی ہو بعد میں کال کرتا ۔۔

زینب نے جیسے ہی اسے کال ملای تھی جب اس کی سنے بنا ہی حدید جلدی سے کہتا کال کٹ کر چکا تھا۔۔۔

ہاےےےے لالہ نے بھی بات نہیں سنی ۔۔

چاچو ک۔۔

اہہہہہ اہہہہہہہ۔۔۔

زینب اب واقعی خود کو اکیلا پاتی ڈرتی سوچ رہی تھی جب جھٹکے میں ڈور کا شیشہ ٹوٹا تھا تبھی وہ چلای تھی۔۔

اپنے سامنے اتنے ہٹے کٹے پہلوان جیسے بد صورت مرد دیکھ زینب کی سانسیں خشک ہوی تھی۔۔

نکلو باہر کہاں چپ کر بیٹھی تھی۔۔

ان میں سے دو آدمی اس کے قریب آتے بازوں سے پکڑے باہر کی طرف لے کر جاتے بولے تھے۔۔

چ۔چھوڑو میرا ہاتھ جانور کہی کے تم لوگ جو مرضی کرو میں کبھی بھی وہ ویڈیو نہیں دو گ۔۔۔

چٹاخخخخ۔۔۔

ساتھ جاتی زینب ان سب کو مکے مارتی بول رہی تھی جبکہ باہر ہال میں کافی لوگ زخمی حالت میں گرے اسے دیکھ رہے تھے جب ان میں سے کسی نے اس کے نرم گال پر تھپڑ مارا تھا۔۔۔

ابے ہٹ سامنے سے کیا کھڑا ہو گیا

تمہیں سنای نہیں د۔۔۔

وہ اسے لیے چلتے جا رہے تھے جب کسی چٹان جیسے شخص سے ٹکراتے بول رہے تھے جب اپنے پولیس یونیفارم پہنے وقار کو دیکھ روکے تھے۔۔۔

چھوڑ اس کو ۔۔

اپنی نیلی آنکھوں سے گھورتے وہ زینب کا سرخ گال اور لبوں سے نکلتا خون دیکھ بولا تھا۔۔۔

اوےےے نکل یہاں س۔۔

وہ سب ہمت جمع کرتے بول رہے تھے جب وقار نے بنا لحاظ کیے ان سب پر شوٹ کیا تھا۔۔

خبردار اگر میری عزت کو ہاتھ بھی لگایا کاٹ کر رکھ دو گا تم سب کے ہاتھ۔ چھوڑ ابھی اسے ورنہہہہہہ ۔۔

وقار غصے سے باہر ہوتا شدید طش سے چلایا تھا۔۔

ت۔تم نہیں جانتے کس سے پنگا لے رہے ہو وہ ت۔۔

اپنے دو ٹکے کے باس سے کہنا میں اسے کتوں سے بتر موت دو گا ایک بار مل جاے وہ بس مجھے۔۔

وہ نڈر ہوتے بول رہے تھے جب سب پر حاوی ہوتا وہ بولا تھا وہ بنا دیکھے سب کو مسلسل مارتا فرش پر گرا چکا تھا۔۔

زینب کو کانپتی ہوی وہی منہ کھلے وقار کا غصہ دیکھ رہی تھی جو پاگل ہوا سب کو اکیلا ہی مار رہا تھا۔۔۔

ب۔با با وہ۔۔

بیٹا اسے گھر لے جاؤ میں دیکھ لیتا ہو اب ۔۔۔

مستقیم بھی ہال میں پولیس لیے انٹر ہوے تھے جب وہ بھاگتی ان کے سینے سے لگی بول رہی تھی جب وہ وقار کو دیکھتے سردپن سے بولے تھے۔۔۔

تم اس چینل کے اونر ہو خودی چپ کر کے کھڑے ہو کے کر جاؤ ان سب کو اور اس کو سیل کرو ۔۔

جہاں لڑکیوں کی عزت کی حفاظت نہیں ہوتی ۔۔

مستقیم اپنی اسٹک گھوماے طش سے غراے تھے ۔۔

وقار زینب کو گود میں اٹھاے لے کر چلا گیا تھا زینب ڈر سے ابھی بھی کانپتی اس کے سینے سے لگی تھی۔۔

س۔س ۔سر معاف کر د۔۔

جانتا ہو سب اپنا پیت بھرنے کے لیے تم جیسے دوسروں کی زندگیوں سے کھیل جاتے ہو چلو پولیس اسٹیشن ۔۔

اونر ان کے پاس آتا بول رہا تھا جب وہ اپنی کہتے باہر چلے گے تھے۔۔

ماما یہ کیا کر دیا میرا بیسٹ فرنیڈ ا رہا ہے اپنی وائف کے ساتھ آپ نے یہ زمہ داری امن کو دے دی آپ جانتی ہے بچی ہے وہ کچھ بھی نہیں کرنا آتا اسے حد ہے ۔۔

احمد ہیر کے روم میں آتا ہوا طش سے بولا تھا ۔۔

آج اس کے دوست نے اسے ملنے کافی سال بعد آنا تھا جس پر احمد نے اس کی دعوت اپنے گھر رکھی تھی جب ہیر نے کھانا بنانے کی دمہ داری امن کو دی تھی وہ خود چاہتی تھی کھانا بنانا ۔۔

فکر مت کرو ہر کام میں نے کر دیا ہے بس کھانا رہتا ہے امن اور روشنی بھی بنا ل۔۔

کییییییاااااا آپ نے ان دو لڑکیوں کو کھانے کا کہا جن کو انڈا بھی ابالنا نہیں آتا اففففف میرا سر پھٹ جاے گا۔۔۔

روشانے کا سن کر احمد اب شدید طش سے چلایا تھا ۔

ہو جاے گا سب اب اتنی بھی بری نہیں ہے وہ دون۔۔

اہہہہہ اہہہہہ جانور دفع ہو جاؤ تم یہاں سے ۔۔

ہیر بول رہی تھی جب کچن سے روشانے اور حدید کے چلانے کی آواز سنای دی تھی۔۔

افففف ماما میرا سر پھٹ جاے گا میں کھانا باہر سے آڈر کرنے والا یہاں کھانا نہیں جنگ ہو رہی ہے ۔۔۔

وانیہ بچہ ہوتی تو اتنے مزے کا کھانا بنا دیتی ویسے میں اسے بلا لیتا ہو ۔۔۔

احمد فون نکالے اب باہر جاتا بولا تھا۔۔

ہیر مسکرای تھی اس کی بات پر ۔۔

جی تو ناظرین یہ ہے ہمارے ہنگامہ پیلس کی سگھڑڑڑڑڑ لڑکیاں دیکھے کچن کا حال ۔۔

یہ والی کیوٹ سی میری بھابھی ہے اور یہ گھونسلے کے سر والی میری وائف ہے ۔۔۔

جی جی بس شادی کرنی ہی پڑی مجھے معصوم کو بس لڑکیاں اب خودکشی مت کرے۔۔

حدید ان دونوں کی ہلیپ کروانے کچن آیا تھا جبکہ روشانے اور امن نے کوی چیز بنانے کی بجاے کچن کی ہر چیز زمین بوس کی تھی پاؤں رکھنے کی بھی جگہ نہیں تھی ۔۔۔

تبھی کافی ٹائم بعد حدید فون سے ویڈیو بناے بول رہا تھا جب روشانے نے چدای پین اس کے سر پر مارا تھا۔۔۔

ارے ہادی لالہ ایسی نہ کرے کام کرنے دے یہ پتہ نہیں کیا ہو گی ۔۔

کیک بناتے امن نے بیزار سی شکل بناے بولی تھی ۔۔

انڈوں کے چھلکے روشانے اور امن کے بالوں پر اٹکے ہوے تھے۔۔

دیکھو کتنا پیارا ہے یہ تھوڑی سی کالی مرچ ڈال لو مزہ اے گا ۔۔

انڈوں کے چھلکوں سے پھسلتا ہوا حدید اس کے قریب آتا بولا تھا۔۔

واقعی کیا لیکن کیک میں مرچ کب ڈالتے ہے ۔۔

امن برا سا منہ بناے بولی تھی سب کچھ اس نے جیسے تیسے تیار کر لیا تھا پر وہ کیک بنانے پر رک گی تھی۔۔

یہ جو کمبا کھڑا کیا ہے اس سے پوچھو کچھ ۔۔

شلیف پر اب تھک کر بیٹھتی روشانے کو دیکھ وہ بولا تھا ۔۔

تم مر جاؤ دفع ہو جاؤ یہاں سے ۔۔

اہہہہہ اہہہہہ ماما ماما ۔۔۔

شلیف پر سے گلاس اٹھاے روشانے اس کی کمر پر نشانہ بناتی بولی تھی جب وہ چیختا چلاتا باہر کی طرف بھاگا تھا ۔۔

افففف ہادی لالہ بھی نہ ۔۔

مرچوں سے بھرے ہاتھ کو منہ پر مارتی امن بولی تھی جب تھوڑی دیر بعد چلای بھی تھی ۔۔

اہہہہہ اہہہہہ میری آنکھیں ۔۔۔

احمد ہال میں بیٹھا تھا جب امن روشانے حدید کے چلانے کی آواز سنتے اس نے سر پکڑا تھا۔۔۔

ہادی بیٹا ۔۔

حدید اپنے روم کی طرف کپڑے چینج کرنے جا رہا تھا جب روحا پاس آتی پیار سے بولی تھی ۔

روشنی کو کم تنگ کیا کرو بیٹا وہ بچی ہے ا۔۔۔

اور جو مجھے تنگ کرتی ماما وہ نہیں دیکھتا آپ کو دیکھے میری نازک سی کمر اتنا مارتی ہے روشن دان نے ۔۔

حدید روٹھے پن سے بولا تھا۔۔

ہمارا بیٹا بہت اچھا ہے ہم جانتے ہے روشنی کی اجکل طبیعت نہیں ٹھیک لگ رہی مطلب کھانا پینا کم کیا ہے ایک ماہ میں وہ کتنی ویک ہو گی ہے چرچڑی رہتی ہے اب تو تیار ہی نہیں ہوتی ایسے رہتی ہے جیسے کون کا نقصان ہو گیا اس کا بیٹا سب ٹھیک ہے ۔۔

روحا پریشان ہوتی بولی تھی پریشان تو حدید بھی ہوا تھا یہ سب سن کر وہ بھی دیکھ رہا تھا روشانے ویک ہو رہی تھی اجکل ۔۔

ارے ماما لڑکیاں سمارٹ ہونے کی کوشش کرتی ہے ویسے بھی اچھی بات آپ کے خوبصورت بیٹے کے برابر اے گی ہاے میں کتنا خوبصورت ہو نظر نہ لگے۔۔۔

سرھیوں کی گرل سے نیچے لٹکتے وہ زور سے بولا تھا ۔۔

اس کی آواز کچن تک گی تھی۔۔

تم خوبصورت ہو شکل دیکھو اپنی جیسے جھاڑو ہو انہہہ ۔۔۔

بکھری حالت لیے روشانے کچن سے باہر آتی منہ اوپر کیے چلای تھی۔۔۔

روحا دونوں کی لڑای دیکھ مسکراتی اب روم میں چلی گی تھی۔۔

تم روشن دان ہو ا۔۔

شیٹ آپ بکواس بند کرو دونوں دفع ہو جاؤ یہاں سے میرا بی پی ہای کر دیا اففففف میرا سر ۔۔۔

دونوں زور و شور سے لڑانے میں بزی تھے حدید ویسے ہی سکون سے لٹکتا ہوا بول رہا تھا جب احمد سر پکڑے غرایا تھا کیونکہ کچن سے مسلسل امن کے چلانے اور چیزیں ٹوٹنے کی آوازیں آ رہی تھی۔۔

آغا اس منحوس کی غلطی ہے اسے شوٹ کر دے ۔۔۔

روشانے جلتی ہوی حدید کو دانت نکالے دیکھ بولی تھی ۔۔

ایک منٹ کے اندر تم دونوں گم نہ ہوے میں خود شوٹ کرو گا دونوں کو اور مجھے تم دونوں کا قتل معاف ہو گا ہر وقت جنگلی جانوروں کی طرح لڑتے ہو کبھی آرام سے بات کر لیا کرو ۔۔۔

احمد اب کھڑا ہوتا سرخ گرین آنکھیں لیے غرایا تھا۔۔۔

ایک منٹ سے پہلے دونوں ہی ایسے گم ہوے تھے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔۔۔

افففف میرا سر امن پانی لاو زرا ۔۔

احمد وہی کھڑا بولا تھا ۔۔

اندر ا کر لے دیکھ نہیں رہا کام کر رہی میں ویلے انہہہ۔۔۔

امن جلتی بھنتی برا سا منہ بناے کچن سے باہر گردن نکالے بولی تھی ۔۔۔

جاؤ کام کرو۔۔۔

احمد اپنی ہنسی کنٹرول کیے بولا تھا ۔۔

کیونکہ امن پر ہر وہ مصالحہ لگا ہوا تھا جو چیزوں میں یوز ہوتا ہے ۔۔

انہی ویلے۔۔

امن برا سا منہ بناے کہتی اندر چلی گی تھی۔۔

کیا ہوا لالہ ۔۔

وانیہ اور مہر ہال میں انٹر ہوتے بولے تھے احمد نے دونوں کو یہاں بلا لیا تھا۔۔۔

کیا ہونا جہاں امن جیسی لڑکی ہو۔۔

احمد دونوں سے ملتا بولا تھا۔۔

کیا کر دیا امن نے ۔۔

اچانک مہر نے زرا غصہ سے پوچھا تھا۔۔

خودی کر دیکھ لو تم یہاں او بچہ۔۔۔

احمد اسے کہتا وانیہ کا ہاتھ پکڑے پاس بیھٹاے بولا تھا۔۔۔

لالہ ایسا مت کیا کرے جیسے میں بہن آپ کی ویسے امن بھی مہر کی بہن ہے میں چاہتی ہو مہر میرا جیسے خیال رکھتا ہے آپ بھی رکھے امن کا ۔۔۔

وانیہ اسے سمجھاتی ہوی بولی تھی۔۔۔

اچھا میرا بچہ کیا چاہتا ہے اب ۔۔۔

احمد مسکراتا اس کا ماتھا چومے بولا تھا۔۔۔

آپ جاے اس کی مدد کرے میرا لالہ بہت اچھا ہے نادان ہے پر آپ کی محبت میں یہ سب کرتی ہے وہ ۔۔

وانیہ مسکراتی بولی تھی۔۔۔

میں نے کھانا آڈر کیا ہے شام کو ا جاے گا تم وہی سیٹ کرنا مجھے نہیں لگتا امن نے کچھ بنایا ہو گا۔۔۔

احمد اس کی بات سنتا اب کچن کی طرف جاتا بولا تھا۔۔۔

وانیہ مسکرای تھی وہ جانتی تھی احمد غصہ کا جیتنا تیز ہے اتنا ہی دل کا اچھا تھا ۔۔۔

حدید مت کرو تنگ یہ ب۔۔۔

روشنی روشنی کیا ہوا سب ٹھیک ہے ۔۔

روشانے اس کے ساتھ ملتی فروٹ چاٹ بنا رہی تھی جب پیچھے کھڑے حدید کی انگلیاں اپنی کمر پر محسوس کرتی وہ بولتی اچانک چکراتی گرنے والی تھی جب وہ اسے پکڑے بولا تھا ۔۔۔

ہاں ٹھیک شاہد کچھ کھایا نہیں ت۔۔۔

ہزار دفعہ کہا ہے کھایا پیا کرو ماما بھی آج بول رہی تھی مجھے تم خیال نہیں رکھتی اپنا حد ہے پاگل لڑکی۔۔

روشانے بول رہی تھی جب اسے پکڑے شلیف پر بیٹھاے وہ زرا غصہ سے بولا تھا ۔۔

کیا یہ غلط ہو سکتا ہے لیکن میرے ساتھ ہادی ہی تھا مجھے بس اتنا یاد ہے اففففف ۔۔۔

میرا دل کیوں نہیں مانتا اسے برا کیوں کیوں ۔۔۔

حدید اب اسے وہی فروٹ چاٹ کھلانے میں بزی تھا جب اس کا خوبصورت چہرہ دیکھ وہ دل میں سوچتی بولی تھی۔۔۔

اس نے دیکھا اس ایک ماہ میں حدید نے اس سے کافی مار کھائی تھی وہ اتنا لڑتی تھی بولتی تھی پر وہ ہر بار اس کا خیال رکھتا تھا۔۔۔

چلو تیار ہو جاؤ رات کے لیے آغا کا دوست آنے والا ۔۔۔

اسے گود میں اٹھاے حدید باہر جاتا بولا تھا ۔۔

لیکن یہ کھانا نہیں ک۔۔۔

کھاؤ آرام سے ورنہ اپنے طریقے سے کھلاؤ گا ۔۔۔

ہاتھوں میں ویسے ہی باؤل پکڑتے وہ بول رہی تھی جب وہ اسے گھورتا ہوا کہتا وہاں سے گیا تھا۔۔۔

روشانے منہ بناے چپ ہو گی تھی۔۔۔

حدید اسے چپ دیکھ مسکراتا ہوا زور سے کمر سے پکڑا تھا جب روشانے نے کمر پر لات ماری اسے۔۔۔

کیا کر رہی میری بہن۔۔۔

مہر حدید کو باہر جاتا دیکھ مسکراتا اندر آتا بولا تھا جو کھڑی اب سلاد بنا رہی تھی ۔۔

ارے لالہ آپ آی ہے کب آی آپ باہر چلے میں آتا ہو ۔۔۔

اپنا ماتھا صاف کرتے امن مہر کے سینے سے لگی مسکراتی بولی تھی۔۔۔

مجھے آج پتہ چلا میری بہن تو بڑی ہو گی اتنی ۔۔۔

اس کے ماتھے پر لگے چاولوں کو اپنے ہاتھ سے صاف کیے وہ پیار سے بولا تھا۔۔

اسے بہت پیار آیا تھا اپنی بہن پر جو اپنے گھر کا کام نہیں کرتی تھی یہاں اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لیے بے حال ہو رہی تھی ۔۔

بس آغا جو یقین نہیں میں بڑی ہو گی ۔۔۔

امن اس کے کان میں سرگوشی کرتی بولی تھی۔۔۔

اسے یقین ہو جاے گا اچھا چیک کرواؤ کچھ ۔۔

مہر اس کی بات سنتا اس کے سر پر ہاتھ رکھتے بولا تھا ۔۔

ابھی نہیں بعد میں ۔۔

ہاےےےے لالہ آپ کی شرٹ خراب ہو گیا ہاےےے۔۔۔

امن بولتی ہوی اچانک مہر کی شرٹ کو گندہ دیکھ چلای تھی۔۔۔

ارے کچھ نہیں ہ۔۔۔

نہیں آپ وانیہ کو کہے وہ آغا کی شرٹ دے آپ کو نہیں یہ ڈوپٹہ لے آپ ہاےےےے۔۔۔

امن فکر مند ہوتی اپنا دوپٹہ اتارے اس کی شرٹ صاف کرتی بولی تھی۔۔۔

میری بہن خوش ہے ۔۔

امن کو ویسے ہی سینے سے لگائے مہر اس کا ماتھا چومتے بولا تھا۔۔۔

بہت زیادہ خوش ہو۔۔۔۔

مہر وانی بچہ کے پاس جاو ۔۔

امن بول رہی تھی جب احمد اندر آتا بولا تھا ۔۔

جی اچھا۔۔۔

مہر جلدی سے باہر گیا تھا ۔۔

ارے آپ کیوں اے گی سر درد کر رہی تھی آپ ک۔۔۔

امن اسے سامنے دیکھ جلدی سے پاس جاتی بول رہی تھی جب فرش پر گرے چھلکوں پر پھسلتی ہوی اس کے سینے سے لگی تھی۔۔۔

و۔وہ سوری م۔میں۔۔۔

بنا ڈوپٹے کے اس کے سینے سے لگی وہ شرمندہ ہوتی بولی تھی۔۔

کیا کام کرنے والا رہ گیا ہے بتاؤ ۔۔

امن کو کمر سے پکڑے احمد شلیف پر اسے بیھٹاے بولا تھا۔۔۔

نہیں آغا و ۔۔

بس یہ فرش صاف کرنا ہے ۔۔۔

امن بول رہی تھی جب احمد کی گھوری دیکھ وہ جلدی سے بولی تھی ۔۔

تمہارا لالہ ا گیا ہے تو ابھی تک کیوں نہیں ایا۔۔۔۔

رعنا کچن میں کھڑی حور کے پاس ا کر بولی تھی۔۔۔

پورا ایک ماہ ہو گیا تھا اس نے نہ تو ایول سے بات کی تھی نہ ہی دیکھا تھا نہ ہی اسے پتہ تھا وہ گیا کہاں تھا ۔۔

لالہ ا گے ہے بس رات کو اے گے یہی کہا تھا مجھے سے زیادہ آپ جانتی ہے ان کو ۔۔۔

حور سلاد بناے مسکراتی بولی تھی ۔۔

ہاں جانتی ہو اگلے بندے کو جب تک ترسا نہ دے یہ برفانی ریچھ کا دل نہیں بھرتا ۔۔۔

سالوں انتظار کیا اب بھی انتظار کروا رہا مجھے ۔

اچانک رعنا اداس ہوتی بولی تھی۔۔۔

جہاں اتنا انتظار کیا یہ تھوڑا سا اور سہی ۔۔۔

حور اسے کندھوں سے پکڑتی مسکراتی بولی تھی۔۔۔

اب نہیں ہوتا انتظار میں سنا چاہتی ہو اس کی باتیں اس نے شکوے میں منانا چاہتی ہو اسے لیکن وہ سنتا ہی نہیں ۔۔۔

رعنا پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی۔۔

ایسا مت کرے لالہ بہت اچھے ہے بس راستے سے بھٹک گے ہے جیسے آپ انہیں لاے گی راستے پر تھوڑا سا صبر کرے ۔۔

سالوں کی نفرت ہے اب اتنی جلدی تو ختم نہیں ہو سکتی آپ کی غلطی نہیں تھی ۔۔

حور کو وہ سب بتا چکی تھی کیا ہوا تھا ماضی میں تبھی اب بھی وہ اسے سمجھاتی چپ کرواتی بول رہی تھی۔۔۔

م۔میں روم میں جا رہی ۔۔

وہ سنجیدہ شکل بناے کہتی وہاں سے گی تھی۔۔۔

لالہ یہ غلط ہے سامنے کیوں نہیں آتے ان کے شرم کرے کتنا روتی ہے وہ۔۔۔

حور کچن کے۔ اندر بنے سکیرٹ ڈور کو اوپن کیے اندر گردن کیے بولی تھی۔۔۔

جو مسلسل سگریٹ پیتا ہوا لیپ ٹاپ پر اپنی بھاری انگلیاں چلانے میں بزی تھا۔۔۔

ہم رات کو اے گے ابھی جانا ضروری ہے ۔۔۔

ہیری کو کہو رات کو ملے مجھے۔۔۔

سکون سے بیٹھے ایول نے اچانک سرخ چہرہ لیے لیپ ٹاپ بند کیے ہاتھ میں خنجر کو گھوماتے ہوے اٹھتے بولا تھا ۔۔۔

حور سمجھ گی تھی کسی نے اپنی موت کو دعوت دی ہے ۔۔۔

ایول اب ہڈی پہنے ڈور کے اندر سے بنے ڈور سے باہر نکل رہا تھا ۔۔

اندھیروں کا بادشاہ آج پھر کسی کو موت دے گا ۔۔۔

چلو کام ہو گیا اب ۔۔

احمد سارا کچن خودی صاف کرتا اب امن کے قریب آتا بولا تھا۔۔۔

جو اسے ہی مسکراتی دیکھ رہی تھی ۔۔۔

دیکھنا کھانا کتنا مزے کی ہو گی۔۔۔

امن پاس کھڑے احمد کی گردن میں بائیں۔ ڈالے پیار سے بولی تھی۔۔

نہیں یہ کھانا مت رکھنا میں نے آڈر کیا ہے اب اترو ن۔۔۔

احمد اسے دیکھتا بول رہا تھا جب وہ بولی۔۔

میں نیچے آی تو فرش گندہ ہو جاے گا آپ مجھے روم میں ایسے ہی لے جاے۔۔۔

امن اگنور کرتی مسکراتی ہوی اسے گردن سے پکڑے بولی تھی۔۔۔

باتھ لینا گرم پانی سے اور گلاب کا عرق یوز کرنا یہ آخری بار ہے جو کچن آی تم بچوں سے زیادہ بری حالت کی ہے تم نے ۔۔

امن کو گود میں اٹھاے وہ چلتا وہ اسے ہدایت کر رہا تھا جیسے وہ سکون سے سنتی اپنے لب اس کے گال پر بار بار رکھ رہی تھی ۔

سن رہی ہو بات میری۔۔۔

احمد اس کا لمس بار بار اپنے گال پر محسوس کیے وہ بولا تھا۔۔۔

ج۔جی جی ۔۔۔

امن ٹالتے ہوئے پھر بولی تھی۔۔

افففف میرا سر۔۔۔

امن کو اپنے کام میں بزی دیکھ وہ کہتا اب روم میں انٹر ہوا تھا۔۔۔

سوہا اس وقت پارک میں آنا ضروری تھا۔۔۔

شام کے وقت پارک میں اے فارس نے اسے دیکھ بولا تھا ۔۔

ہاں اس وقت رش کم ہوتا ہے اور پھر تو اچھا فیل کرو گے۔۔

سوہا اس کا ہاتھ چومتی مسکراتی بولی تھی۔۔۔

وہ دیکھو سوہا کتنی پیاری لڑکی ہے مجھے ایسی بیٹی چاہے۔۔

فارس دور جھولے پر بیٹھی چھوٹی سی بچی کو دیکھ بولا تھا۔۔۔

انہہہ مجھے بچے نہیں پسند۔۔۔

فارس کے ساتھ کرسی پر بیٹھے وہ برا سا منہ بناے بولی تھی ۔۔۔

کیوں ۔۔

فارس اس کی گرین آنکھوں میں دیکھ حیرت سے بولا تھا۔۔۔

وہ اگر بچے ہو گے تو تم شئیر ہو جاؤ گے مجھے نہیں پسند کہ میرے علاؤہ تم کسی سے پیار کرو ۔۔۔

میں اور تم کافی ہے بس ۔۔۔

فارس کا گال چومتے ہوے وہ مسکراتی بولی تھی۔۔۔

س۔سوہا پپلک پیلس ہے یار کچھ خیال کرو ۔

اچانک فارس گھبراتے سوہا کو خود سے دور کرتا بولا تھا ۔

۔۔

اہاہہاہاہہاہہاہ کون ہے یہاں دیکھو اندھیرہ ہو رہا۔۔

سوہا قہقہ لگاتی دوبارہ اس کا گال چومتی بولی تھی۔۔۔

ارے دیکھو ایسی قسیمت ہونی چاہے ایک معذور کو اتنی حسین لڑکی ملی ہے ایک ہم کہ افففف۔۔۔

سوہا اور فارس کافی دیر وہی تھے پارک میں اب ان دونوں کے سوا کوی نہیں تھا رات کے ساے بھی ہو گے تھے ۔۔۔

سوہا تو بس وہی بیٹھی فارس کو تنگ کرتی اس کی قربت انجواے کر رہی تھی جب چار پانچ آورہ لڑکے پارک میں انٹر ہوتے سامنے ہی فارس اور سوہا کو دیکھ ہانک لگای تھی۔۔۔

س۔سوہا چلو گھر چلتے ہے ۔۔

فارس کو کچھ غلط محسوس کیے سوہا کی طرف دیکھ بولا تھا جو اس کی گردن اور شیو کو سہلا رہی تھی۔۔۔

ابھی موڈ نہیں ہے فادی لیکن چلتے ہے رات بھی ہو گی۔۔۔

سوہا جلدی سے کھڑی ہوتی بولی تھی جانتی تھی کافی لیٹ ہو گیا تھا۔۔۔

ارے جانمن رکو تو سہی کچھ ہمیں بھی ٹائم دو ۔۔

فارس کو کمر سے پکڑے سوہا اسے وہیل چیئر پر بیٹھا رہی تھی جب وہی لڑکے پاس آتے ہانک لگاے بولے تھے۔۔۔

فادی تم نے میڈیسن بھی کھانی سوری مجھے یاد نہیں رہا ۔۔

سوہا ان کو اگنور کیے آگے جاتی بولی تھی ۔۔۔

وہ نہیں چاہتی تھی فارس کے سامنے کسی سے لڑے۔۔

ہاےےےے حسنیہ کیا حسن ہے تمہارا ویسے اس معذور کی قیمست ہے جو تم ملی مجھے ملی ہوتی ت۔۔۔

بکواس بند کرو اپنی ورنہ زبان کاٹ دو گا ۔۔۔

فارس ان سب کی باتیں سنتے غرایا تھا۔۔۔

سوہا نے برداشت کیے آگے بڑھی تھی۔۔۔

دفع کرو فادی ہم گھر چلتے ہے ۔۔۔

سوہا بڑی مشکل سے اگنور کیے آگے جا رہی تھی مسلسل ان سب کی بے باک باتیں سنتے فارس کا خون کھول رہا تھا ۔۔۔

پر وہ مجبور بھی کافی ہوا تھا اس وقت واقعی ایک مکمل انسان ہی عورت کی حفاظت کر سکتا ہے یہ بات فارس کے دماغ میں گردشت کر رہی تھی۔۔۔

چھوڑو بیغرت انسان ورنہ جان سے مار دو گی ۔۔۔

اس سے پہلے سوہا پارک سے باہر نکلتی جب وہ سارے ان دونوں کو قابو کر چکے تھے۔۔

دو لڑکے فارس کو تنگ کرتے وہیل چیئر کو گھوما رہے تھے جبکہ دو نے سوہا کو بازوں سے پکڑے ہوے تھا ۔۔۔

جبکہ ان کا لیڈر سامنے ہی کھڑا قہقہ لگا رہا تھا۔۔۔

تبھی سوہا طش سے چلای تھی۔۔

افففف کیا غصہ ہے بے ںییییہ۔۔۔

وہ پاس آتا سوہا کا گال چھوتا ہوا بول رہا تھا جب اس نے زور سے اس کی ٹانگوں کے درمیان لات ماری تھی ۔۔۔

تبھی وہ اتنا درد سہتے زمین پر گرا تھا۔۔۔۔

لڑکیاں کمزور نہیں ہوتی حاض کر تم جیسوں کے لیے۔۔۔

جنرل صام آفندی کی بیٹی ہو میں کتنا اگنور کیا میں نے ۔۔۔

غصہ سے باہر ہوتی سوہا اپنی ٹانگ سے چاقو نکالے سب پر وار کرتی غرای تھی۔۔۔

جنرل صام آفندی کا نام سن کر سب ہی ڈرتے کانپے تھے۔۔

تمہاری اتنی ہمت تم مجھے مارو روکو ابھی بتاتا ہو میں کون ہو ۔۔۔

وہ زمین سے اٹھاتا ہوا سوہا کو بالوں سے پکڑتے غرایا تھا۔۔۔

جان لے لو گ۔۔۔

سوہا کی بات منہ میں تھی جب اسے تپھڑ مارتے وہ اسے گرا چکا تھا۔۔۔۔

خبردار اگر فادی کو کچھ کیا ۔۔۔

زمین پر گری وہ چلاتی اٹھنے والی تھی جب وہ اس پر جھکا تھا۔۔۔

ویسے اگر تمہاری عزت کی چلی جاے وہ بھی تمہارے شوہر کے سامنے۔۔۔

وہ سوہا کی شرٹ کے بٹن توڑتے ہوے بولا تھا۔۔۔

دور رہو تم ورنہ تم اپنی موت کو خود آواز دے رہے ہو ۔۔

فارس وہی بے بس ہوتا چلایا تھا۔۔۔

جو سوہا پر مکمل حاوی ہو چکا تھا۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہ اہہہہہ ۔۔۔

سوہا آنکھیں بند کیے سانس روکے لیٹئ تھی جب اسے کسی کے چیخنے کی آوازیں سنای دی تھی۔۔۔۔

سامنے کا منظر دیکھ کر سوہا کی آنکھیں پھٹی تھی۔۔۔۔

جہاں اس لڑکے کو زمین پر گرے ایول ہڈی پہنے اپنا بھاری پاؤں اس کے سینے پر رکھے کھڑا اپنی سرخ گرین برف جیسی آنکھوں سے گھور رہا تھا ۔۔۔

جبکہ وہ گرا لڑکا درد سے چلا رہا تھا۔۔۔