581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 31)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar


“”ماضی ۔۔۔

آپ نے اچھا نہیں کیا صام کیوں کیوں بیٹا تھا ہمارا ۔۔۔

ہاسپٹل میں کھڑی روحا روتی ہوئی صام کا کالر پکڑتے غرای تھی۔۔۔

وہ خود بھی ضبط کیے کھڑے تھے جن کا ایک بیٹا جیل میں تھا تو دوسرا زندگی اور موت کی لڑای لڑ رہا تھا ۔۔۔

ڈاکٹروں کا کہنا تھا اتنی کم عمری میں حدید کا کسی شدید صدمے کی وجہ سے نروس بریک ڈاؤن ہوا تھا ۔۔۔

وہ پوری کوشش کر رہے تھے اسے بچا سکے ۔۔۔

ریلکس انیجل م۔۔۔

آپ کچھ نہیں کر سکتے ہمارے بچے بکھر گے صام کبھی وہ ہمارے پاس نہیں آے گے ۔۔

صام انہیں سینے سے لگاے بول رہے تھے جب وہ غصہ میں انہیں ہی تھپڑ مارتی سینے میں منہ چھپاے پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔۔۔

وہ خاموشی سے کنٹرول کیے اس کی سسکیاں سن رہے تھے وہاں کھڑا ہر شخص رو رہا تھا اچانک آفندی پلیس پر قیامت ٹوٹی تھی ۔۔۔

حازم نے خاموشی اختیار کر لی تھی اس نے اپنا وہ گناہ مان لیا تھا جو کیا ہی نہیں تھا عدالت نے اسے جیل کی پندرہ سال سزا سنای تھی ۔۔۔

صام نے بہت کوشش کی تھی حازم کو بچانے کے لیے لیکن وہ کچھ بھی نہیں بول رہا تھا برف جیسی خاموشی اختیار کر لی تھی اس نے ۔۔

انیجل ایسا مت کرو میرا دل پھٹ ج۔۔۔

آپ سب کر سکتے تھے صام سب کچھ چاہتے تو اپنے بیٹے کو بچا لیتے ڈیول تھے آپ ۔۔۔

وہی ڈیول جس نے ہمشیہ سچ کا ساتھ د۔۔۔

وہی ڈیول اصول پرست بھی تھا انیجل سب کو انصاف دلانے والا کیا اپنے بیٹے کو بچا لیتا اس بنا پر کہ وہ چپ ہے بول نہیں رہا اور ناانصافی اس بچی کے ساتھ کرتا جو چیخ کر بول رہی تھی قتل حازم نے کیا۔۔۔۔

صام بھی آپے سے باہر ہوتا چیخا تھا اس کی آواز پورے ہسپتال کے کوریڈور میں گونجی تھی ۔۔۔

صام صام وہ رعنا بتا سکتی ہے کہ کیا ہوا تھا ہمارا بیٹا ا۔۔۔۔

مسز صام ۔۔۔

روحا جلدی سے نرم ہوتی بول رہی تھی جب باہر آتے ڈاکٹر نے پکارہ تھا ۔۔۔۔

حدید نے بہت گہرا صدمہ لیا ہے جس کی وجہ سے وہ نروس بریک ڈاؤن کہ وجہ سے کوما میں جا چکا ہے ۔۔۔

باقی آپ سب کی دعائیں اسے واپس لا سکتی ہے ورنہ ۔۔۔۔

ڈاکٹر افسوس بھرے لہجے سے بولتا اچانک چپ ہوتا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔

نہی۔نہیں نہیں صام بچاے ہمارے بچوں کو صام ک۔۔۔

انیجل انیجل ڈاکٹررررررر۔۔۔

روحا اچانک یہ خبر سنتی چیختی ہوئی صام کی باہوں میں جھولی تھی جب وہ چلایا تھا ۔۔۔

سائیڈ پر کھڑی سوہا گم صم سا کھڑی تھی ۔۔۔

حازم نے اپنی سزا قبول کی تھی جیل میں رہتے وہ چپ ہی رہتا تھا وہی حدید کوما میں گیا اپنی زندگی موت کی لڑای لڑ رہا تھا ۔۔۔

روحا جب بھی شدید غصے میں اپنے بچوں کی حالت دیکھتی وہ سارا قصوروار صام کو کہتی تھی ۔۔۔

وہی صام نے بہت کوشش کی تھی حازم سے ملنے کی لیکن اپنی ہر ملاقات پر حازم کے یہی لفظ ہوتے تھے اس کا کوئ نہیں ہے ۔۔۔

صام ناامید ہوتے واپس آجاتے تھے ۔۔۔

جیل میں اپنی سزا کاٹتے حازم نہیں جانتا تھا اس کے بہن اور بھای پر کیا گزار رہی تھی وہ یہی سمجھا تھا انہوں نے بھی اسے قاتل مان لیا تھا ۔۔۔

اتنی کم عمری میں اس کے دل میں رعنا کے لیے شدید نفرت پیدا ہو چکی تھی وہ اسی نفرت کو وہ سالوں سے پال رہا تھا ۔۔۔

وہی رعنا کے ڈاکٹروں نے کہا تھا گردن کو چھو کر گولی گزاری تھی ۔۔

لیکن اس کی آواز چلی گی تھی ۔۔۔

شکر ہے تمہیں ہوش آیا ۔۔۔

چار دن بعد رعنا کو ہوش میں آتے دیکھ شعیب خان خوش ہوتے بولے تھے جہاں وہ بس پٹھی آنکھوں سے سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔

وہاں صرف صام کھڑا تھا شعیب کے ساتھ روحا نے جب یہ خبر سنی تب اس نے ملنے سے انکار کر دیا تھا ۔۔۔

بیٹا تم آرام ک۔۔۔

رعنا کو آنسو بہاتے اور صام کی طرف اشارہ کرتے دیکھ شعیب بولا تھا جب وہ دوبارہ اشارہ کر رہی تھی ۔۔۔۔

کیا ہوا میرے بیٹے کو ۔۔۔

صام چلتا ہوا رعنا کے پاس آتا سکون سے بولا تھا جاننا تو وہ بھی چاہتا تھا اس رات کیا ہوا لیکن اس کی آواز جانے کی خبر سن کر وہ آفسردہ ہوے تھے۔۔۔

غ۔غو۔غوں۔۔۔

رعنا نے بولنے کی کوشش کی تھی جب وہ بولنے سے قاصر ہوئ تھی۔۔۔

تم بول نہیں سکتی ابھی ۔۔۔

رانیہ آنسو بہاے بولی تھی۔۔۔

تمہاری وجہ سے ہوا یہ سب میرے دونوں بھای مجھ سے دور ہے میں تمہاری جان لے لو گی ۔۔۔

سب ہی وہی تھے جب روم میں انٹر ہوتی لال گرین آنکھیں لیے سوہا آگ بگولہ ہوتی جلدی سے اس کے بیڈ پر آتی رعنا کو گردن سے دبوچتے بولی تھی ۔۔۔

سوہا بیٹا ی۔۔۔

چھوڑے ڈیڈ مجھے میں جان لے لو گی اس کی میرا حازم لالہ جیل چلا گیا ہادی کوما میں تو یہ کیوں زندہ ہے اسے مرنا چاہے ۔۔۔

چھوڑو میری بیٹی کو تمہارے بھای نے قتل کیا ت۔۔۔

نہیں کیا تھا قتل میرے لالہ نے سنا آپ سب نے اگر وہ جیل ہے مجھے بھی جانا اس کے پاس ڈیڈ میں اس کا قتل کر دو گی پھر میں بھی جیل جاو گی ۔۔۔

شعیب اسے رعنا سے دور کرتا بول رہا تھا جب سوہا چھوڑے بنا اپنی گرفت رعنا کی گردن پر مضبوط کرتی صام کو مسکراتی بولی تھی ۔۔۔

روم کو شدید جھٹکا لگا تھا حازم اور حدید کا سن کر ۔۔۔

بیٹا چھو۔۔۔۔

نہیں چھوڑنا میں نے یہ مجرم ہے میرا لالہ چلا گیا ہے ڈیڈ میں اسے مار دو گی آپ پولیس بلاے مجھے لیے جاے لالہ کے پاس ۔۔۔

صام مجبور ہوتے سوہا کی حالت دیکھ بول رہا تھا جب وہ طش سے چلای تھی۔۔۔۔

یہ سب سنتے روم خود پر قابو نہ پاتی منہ سے خون کی الٹی کرتی وہی بے ہوش ہوتی گری تھی ۔۔۔۔

ہاہہاہاہہاہاہ ہاہہاہاہہاہاہ مر گی یہ ڈیڈ مر گی یہ اب میرے لالہ آجاے گے چڑیل یہ ۔۔۔۔

ڈاکٹر جلدی سے رعنا کی طرف بھاگے تھے جب گردن اور منہ سے نکلتے خون میں لت پت وہ بے ہوش پڑی تھی جب سوہا قہقہ لگاتی ویسے ہی اپنے ہاتھ خون سے بھرے صام کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔۔

ڈیڈ میں اچھا ڈیڈ نہیں بن سکا انیجل ٹھیک کہتی ہے میں نے اپنے بچوں کو بکھرنے دیا میں چاہتا تو کچھ بھی کر سکتا تھا ۔۔۔

ڈاکٹروں نے یہ بتایا تھا رعنا شوک کی حالت میں کومہ میں چلی گی تھی ۔۔۔

سب کچھ بکھرتے دیکھ صام اندر آتے آفندی صاحب کے سینے پر سر رکھے کرب سے بولا تھا ۔۔۔

جہاں فارس کے ساتھ کھڑی اب سوہا زور زور سے قہقہ لگا رہی تھی ۔۔۔

بڑے بابا پھر کب لے کر جاے گے مجھے لالہ کے پاس ۔۔۔

مستقیم کی ٹانگوں سے لگتی سوہا لاڈ سے بولی تھی ۔۔۔

جو اچھی بچیاں ہوتی وہ جیل نہیں جاتی تم ہم سب کی پیاری بیٹی ہو ہم حازم کو ہی لے آئے گے گھر۔۔۔

مستقیم صام کی حالت دیکھ خودی سوہا کو گود میں اٹھاے بولا تھا ۔۔۔

جلدی لانا لالہ کو پھر آپ جانتے ہے مجھے نیند نہیں آتی ان کے بنا ۔۔۔

مستقیم کی گردن میں منہ چھپاے وہ روتی بولی تھی ۔۔۔

صام کے لیے یہ سب دیکھنا مشکل تھا وہ چلتا ہوا باہر چلا گیا تھا ۔۔۔

وقت کا کام تھا گزارنا وہ گزارتا ہی رہا ۔۔

حدید اور رعنا دونوں ہی کوما سے باہر نہیں آتا تھے سوہا روزانہ حازم کا پوچھ پوچھ کر تھک گی تھی اب وہ بلکل چپ ہو گی تھی حد سے زیادہ کھڑوس ۔۔۔

روحا بھی چپ ہو گی تھی جب کبھی وہ حدید کی حالت دیکھتی تب صام پر اپنا غصہ اتارتی تھی ۔۔۔۔

وہی صام ہر بار کوشش کرتا حازم سے ملنے کی جو اس کی ہر بار کی بات کو ٹال دیتا تھا حازم ۔۔۔

اب تو پانچ سالوں سے صام نے حازم کی شکل نہیں دیکھی تھی وہ کیسا دیکھتا تھا ۔۔۔

“””حال ۔۔۔

“””دس منٹ پہلے ۔۔۔

ہ۔ہاے اس کو سردی کیوں نہیں لگتی افففف میرا جسم۔۔۔

ایول کے پورے کپڑے پہنے وہ سردی سے کانپتی وہی بیڈ کے پاس کھڑی دل میں سوچا تھا ۔۔

ت۔تم کون ہو۔۔۔

ایول کا واش روم سے باہر آنے کا ویٹ کرتی رعنا نے اب روم میں آتی بے تکلفی سے زوبی کو دیکھ دل میں بولی تھی۔۔

جو بے ہودہ ڈریس پہنے ڈراک میک اپ کیے سکون سے آئ تھی ۔۔۔

رعنا نے نظریں چڑائ تھی زوبی کے حلیے سے جس کے ڈریس سے جسم کا ہر حصہ عیا ہو رہا تھا ۔۔۔

تم کون ہو نکلو باہر یہ ایول کا روم ہے ۔۔۔

ایول کے کپڑوں میں سنہری بالوں والی رعنا کا خوبصورت اور معصوم چہرہ دیکھ زوبی طش سے چلائ تھی ۔۔۔

جہاں رعنا آپنی آواز کی وجہ سے خاموش کھڑی اسے ہی گھور رہی تھی۔۔۔

بولتی کیوں نہیں ہو کون ہو تم ۔۔۔

اس کی خاموشی کو ایٹیٹوڈ سمجھ کر زوبی چیختی بولی تھی وہ نہیں جانتی تھی رعنا کی آواز ایول نے بند کروائ تھی ۔۔۔

دونوں ہی ایول کا واش روم سے باہر آنے کا ویٹ کر رہی تھی جبکہ وہ واش روم کے بیک ڈور سے باہر جا چکا تھا ۔۔۔۔

یہ تم ایول کے کپڑے کیا پہن لیے تبھی اتنا غرور کر رہی ہو لڑکی تمہارا غرور میں نکالتی ہو ۔۔۔

اسے مسلسل چپ دیکھ زوبی آگ بگولہ ہوتی رعنا کا چہرہ دبوچتے غرای تھی ۔۔۔

کیا عیجب لڑکی ہے چچچچ۔۔۔

دل میں سوچتی رعنا نے زوبی کو خود سے دور کرتے دھکا دیا تھا کیونکہ زوبی کے منہ سے شراب کی بو آرہی تھی۔۔۔

روکو میں تمہارا کیا حال کرتی ہو ۔۔۔

خود کو گرتا دیکھ زوبی جلدی سے فون کان کو لگاے سکون سے شیطانی مسکراہٹ لاے بولی تھی ۔۔

جبکہ رعنا کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا وہ لڑکی ہے کون تھی۔۔۔

لے جاو اس کو تم سب کا گفٹ ہے ۔۔۔

اپنے آدمیوں کو اندر آتا دیکھ وہ جلدی سے بولی تھی۔۔۔

لیکن یہ کون ہے میم۔۔۔

تم لوگوں کو گفٹ چاہے تھا وہ لو زیادہ مت بولو پکڑو اس کو۔۔۔

اپنے سامنے رعنا کی خوبصورتی دیکھ وہ سب شیطانی مسکراہٹ کا بولے تھے جب وہ سکون سے بولی تھی ۔۔۔

جاو انجواے کرو تم سب۔۔۔

زوبی یہ کہتی باہر نکلی تھی جب باہر ایول کو فون پر کال کرتا دیکھ وہ جلدی سے اندر واپس آی تھی ۔۔۔

ایول باہر ہے میں اسے اپنی باتوں کی لگاتی ہو تو لوگ لے کر جاو اس کو اس کی اکڑ ختم کرو ۔

رعنا کو وہ پکڑ چکے تھے جب وہ چیخنے کی کوشش کرتی ناکام ہو رہی تھی ۔۔۔

جبکہ وہ باہر اب ایول کو بزی کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔

“”دس منٹ بعد۔۔

ہاے ایول بےبی ۔۔۔

ایول جو ڈریس چینج کیے بلیک شرٹ پینٹ ہڈی میں ملبوس ہوتا روم کے باہر کھڑا کال میں بزی تھا جب زوبی اس کے قریب اتی بولی تھی ۔۔۔

اففف بے بی باتھ لینا تھا تو مجھے بھی بتا دیتے۔۔۔

ایول کے بھیگے براون بالوں کو دیکھتے وہ خودی بولی تھی جو چپ سا کھڑا آس پاس دیکھنے میں بزی تھی ۔۔۔

چلو کوئ بات نہیں باتھ نہ سہی ہم ڈانس تو کر سکتے ہے ایک ساتھ ۔۔۔

ایول کی گردن میں بائیں ڈالے اب وہ اس کے پیچھے دیکھتی بولی تھی جہاں زوبی کے بندے رعنا کو پکڑے گھیسٹتے لے کر جا رہے تھے ۔۔۔۔

ایول خاموش کھڑا زوبی کی حرکیتں دیکھ رہا تھا ۔۔۔

ہمارے خیال سے واپس ج۔۔۔۔

رعنا نے بڑی کوشش کی تھی وہ کچھ بول سکے پر اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی ۔۔۔

ایول غیر محسوس سا فیل کرتا اپنی گردن موڑتے بول رہا تھا جب زوبی نے اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا ۔۔۔

وہ دور جاتی رعنا کو نہیں دیکھ سکا تھا ۔۔۔

اتنی بھی کیا جلدی ہے بے بی ۔۔۔

زوبی یہ کہتے خوش ہوتی اس کے لبوں پر جھکتی بولی تھی ۔۔۔

اس کی خوشی کی انتہا تو تب ہوی جب اپنی کمر پر اسے ایول کی گرفت مضبوط ہوتی محسوس ہوی تھی ۔۔۔

سو بےبی چھوڑو اس کو ورنہ ہمارے سے برا کوئ نہیں ۔۔۔

زوبی جو خوش ہوتی آنکھیں بند کیے ایول کی سانسوں کو محسوس کر رہی تھی جب اپنے گال پر کچھ تیز چیز چبتی ہوی محسوس ہوی تھی ۔۔۔

جب وہ غرایا تھا ۔۔

ی۔ہہ کیا ت۔۔۔

ہم نے کہا چھوڑو اسے ابھی کہ ابھی۔۔۔

زوبی نے آنکھیں کھولی تھی جب ایول کے لبوں کے درمیان چکمتا ہوا بلیڈ دیکھ کر وہ ہکلاتی بولی تبھی وہ بلیڈ کا دباؤ اس کے گال پر بڑھتا بولا تھا ۔۔۔

ک۔کس کی بات کر رہے ہو ا۔۔۔۔

کیوں بھول جاتی ہو ہم نظر آس پاس ہر چیز پر ہوتی ہے ۔۔۔

ایول ویسے ہی سکون سے بولا تھا ۔۔۔

دور جاتی رعنا نے نفرت سے یہ سین دیکھا تھا اسے شدید غصہ تھا ایول پر جو اپنی بیوی کو بچانے کی بجاے زوبی کو باہوں میں بھرے اس پر جھکتا رومینس کر رہا تھا ۔۔۔

دیکھنے والے کو یہی لگ رہا تھا جبکہ وہ تو اسے درد دے رہا تھا ۔۔۔

ر۔رکو سب اسے چھوڑ د۔۔۔۔

اہہہہہہہ۔۔۔اہہہہہ۔۔۔۔

اپنے گال سے گردن تک بہتے خون کو دیکھ زوبی چیختی بولی تھی جب اس کے آدمیوں نے ڈرتے ہوے رعنا کو چھوڑا تھا ۔۔۔۔

وہی اس کی بات سنتے ایول نے اسے زمین پر گراتے رعنا کی طرف پلٹا تھا ۔۔۔

جو آنسو بہاتی اسی کی طرف بھاگ کر آرہی تھی ۔۔۔

وہائٹ شرٹ کا ایک شولڈر پھٹ چکا تھا۔ ۔۔۔

آج کے بعد ہم نے اگر دیکھا تم اپنی منحوس شکل مولانی کے پاس لائ ہو وہ تمہارا آخری دن ہو گا ۔۔

یہ صرف ہماری اکلوتی دشمن ہے اسے کیسے کب اور کہاں درد دینا ہم جانتے ہے۔۔۔۔

اپنے سینے سے لگی رعنا کو دیکھ ایول اسے کمر سے پکڑتے دور جاتا زوبی کو گھورتا غراتا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔

اہہہہہ جانور۔۔۔

درد سے تڑپتی وہ چیخی تھی۔۔۔

کون ہے یہ ۔۔۔

زوبی اب مسلسل رعنا کو جاتا دیکھ بول تھی جو ابھی بھی اس کے سینے سے لگے روم میں جا رہی تھی ۔۔۔

بس کرو ہمیں یہ رونا نہیں پسند ۔۔۔

روم میں لاتے اسے وہ خود سے دور کرتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

وہ سمجھنے سے قاصر تھا کیا چیز تھی اس میں جو اس کے قریب جاتے اس کا دل تیزی سے دھڑکتا تھا ۔۔۔

کیا ہے اب۔۔

ہمہیں کام ہے یہاں کوئ ہنی مون نہیں منانے آئے جو نخرے کرتی ہو ایسے حد ہے اففففف۔۔۔

سوں سوں کرتی رعنا دوبارہ اس کے سینے سے لگتے اپنا ناک اس کی شرٹ سے صاف کیا تھا جب وہ بیزار سی شکل بناے بولا تھا ۔۔۔

یہی رہنا اب ۔۔

خود سے دور کرتے وہ واپس روم سے باہر جاتا بولا تھا ۔۔۔

کیا مسئلہ ہے تمہارا غلطی ہو گی جو تمہاری آواز بند کی کم از کم اپنی زبان کو چلاتی تھی۔۔۔

اپنی پیشت اسے لگتے دیکھ اب وہ بھڑکتا ہوا بولا تھا جب رعنا نے معصوم سی شکل بنای تھی۔۔۔

اب اگر تم باہر آئ تو یہ زبان دیکھ رہی ہو کاٹ دو گا ۔۔۔

رعنا کی نیلی آنکھوں میں آنسو دیکھ وہ سردپن سے اس کی زبان باہر نکالے بولا تھا ۔۔۔

رعنا نے جلدی سے اپنے آنسو روکے تھے۔۔۔

کتنی بڑے ڈرامے باز ہو تو ل۔۔۔

ایول اس کی حرکت دیکھ جلدی سے بول رہا تھا جب رعنا نے اس کا گال چوما تھا ۔۔۔

ہم تمہیں بعد میں دیکھتے ہے زرا ۔۔۔

اپنی واچ پر لگے سائرن کو سن کر ایول جلدی سے کہتا باہر کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔

بیڈ پر گری رعنا اب سکون سے لیٹی مسکرا رہی تھی ۔۔۔

کام بولو ۔۔۔

ایول اب رحمان کے روم میں آتا صوفے پر بیٹھتا اپنی ٹانگیں ٹیبل پر رکھتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

رحمان نے طش سے اسے دیکھا تھا جو سکون سے بیٹھا اسے ہی اپنے پاؤں دیکھا رہا تھا ۔۔۔

تمہیں تمیعز نہ ۔۔

لحاظ تعمیز آرام سے بات کرنا بلا بلا یہ سب سسٹم ہمارے اندر نہیں اب بولو کیا کام ہے ۔۔۔۔

رحمان غصہ سے بول رہا تھا جب ایول سکون سے ٹوکتا بولا تھا ۔۔۔

رحمان کو پتہ ہی نہیں تھا وہ اپنی موت کو سامنے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

ان دونوں کا قتل کرنا ہے سوہا صام آفندی زینب مستقیم آفندی ۔۔۔

رحمان اس کے سامنے بیٹھتا دو پک دیتا بولا تھا اسے یہ کام جلدی کروانا تھا تبھی وہ ایول کے آیٹیٹوڈ کو اگنور کر گیا تھا ۔۔۔

پیسے رکھو یہاں پہلے ۔۔۔

ایول غصہ کنٹرول کیے آرام سے بولا تھا ۔۔۔۔

ہاں تم جیتنے پیسے مانگ۔ ۔

اب تک کی اپنی ساری دولت یہاں رکھو ہمارے سامنے پھر ہم یہ کام کرے گے ۔۔۔

رحمان بول رہا تھا جب ایول شراب کا گلاس لبوں سے لگاے بولا تھا ۔۔۔

جبکہ واچ کا۔ سائرن مسلسل رنگ کر رہا تھا ۔۔۔

یہ لو یہ میری ساری دولت ہے اب کام ہونا چ۔۔۔۔

ویسے پہلے دفعہ دیکھ تم اپنی موت کی دولت دے رہے ہو ۔۔۔۔

رحمان جلدی سے اپنی چیک بکس نکالتا اس پر سائن کرتا بول رہا تھا جب ایول اٹھ کر کھڑا ہوتا غرایا تھا ۔۔۔۔

اس کے پاس صرف دس منٹ تھے رحمان کا کام تمام کرنے میں ۔۔۔

کیا بکواس ہے ا۔۔۔۔

چچچچچ تم نے ان دونوں کی موت کا نہیں بلکہ اپنی موت کو خود دعوت دی ہے رحمان ملک۔۔۔

وہ بول رہا تھا جب اسے گردن سے دبوچتے ایول غرایا تھا ۔۔۔۔

م۔مطلب۔۔

ہم کیا پاگل ہے اپنی بہنوں کا قتل کرے تو بھول گیا ہم کون ہے لیکن ہمیں یاد ہے تیرا ۔۔۔۔

وہ ہکلاتا بول رہا تھا جب ایول اپنی واچ سے بلیڈ نکالتا اس کی شہ رگ پر رکھتے بولا تھا ۔۔۔۔

ن۔نہیں مار سکتا تو مجھے سمجھا ۔۔۔

رحمان ہمت جمع کرتا اسے خود سے دور کرتے روم سے بھاگتے بولا تھا۔۔۔

ہہاہاہہاہہاہا بھاگ جہاں تک بھاگ سکتے ہو موت تیرے پیچھے ہی آ رہی ہے ۔۔۔

رحمان سب کو اگنور کرتا پاگلوں کی طرح بھاگتا اب کلب کہ بیک سائیڈ پر بنے پول سائیڈ کی طرف بھاگا تھا جب ایول مسکراتا سکون سے جاتا بولا تھا ۔۔۔

اہہہ کیا ہوا ڈر گیا ت۔۔۔

تم پھر ادھر ہو کتنی دفعہ کہا ہے روم میں رہو ۔۔۔

پول سائیڈ پر آتے ایول نے رحمان کو دس بار آدمیوں کے قریب کھڑے دیکھ گن سے شوٹ کرتے بولا تھا ۔۔۔

جب سائیڈ پر اپنے دھیان میں کھڑی رعنا کو رحمان نے پکڑتے ایول کی طرف گرایا تھا ۔۔۔

تبھی ایول نے گن جلدی سے اوپر کرتے شوٹ کیا تھا ۔۔۔۔

رعنا اپنی نیلی آنکھوں میں ڈر و خوف دیکھ کر اسی کے سینے سے لگی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

ایول پورا بیزار ہوا تھا وہ جیتنی کوشش کرتا اسے اگنور کرنے کی آج کے دن وہی اس کے قریب آ رہی تھی زیادہ۔۔۔

فحال تمہارا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتے تم جاو روم میں۔ ۔

خود سے دور کرتے دوبارہ اپنی پوزیشن لیتے اس نے گن سے چار گولیاں شوٹ کیے چار آدمیوں کو گرایا تھا ۔۔۔

اہہ۔اہہہہ۔۔۔

رعنا کی ہلکی سی چیخ سنتے وہ واپس پلٹا تھا جہاں رحمان اسے کمر سے پکڑے گن اس کے ماتھے پر رکھے ایول کو دیکھ مسکرایا تھا ۔۔۔

یہ بچوں والے کام نہیں پسند ہمیں ۔۔۔

ایول اس کی باہوں میں ڈری سہمی رعنا کو دیکھ وہ سکون سے بولتا گن کو اس کی ٹانگ پر شوٹ کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

اہہہ اہہہ پکڑو اس ک۔۔۔

ہمارے خیال سے ماضی ایک دفعہ پھر دوہرایا جا رہا ہے فرق صرف اتنا ہے وہ ایک تھا یہ گیارہ۔۔۔

جلدی سے رحمان کے قریب جاتے اس کی ٹانگوں کے درمیان لات مارتے وہ رعنا کو پکڑ کر اپنی طرف کر چکا تھا تبھی اپنی پینٹ سے بلیٹ نکالے رعنا کو اپنی سینے سے لگاے واپس بلیٹ بند کرتا وہ بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

اس کے سینے سے اپنی پیشت لگتے اور بات سنتے رعنا ڈری تھی ۔۔۔۔

ن۔نہ پ۔۔

ایول کا بھاری ہاتھ پکڑتے اس نے روتے ہوے بولنے کی کوشش کی تھی۔۔۔

وہ ایول کا چہرہ نہیں دیکھ پا رہی تھی کیونکہ وہ سامنے کھڑے ان سںب کو دیکھ رہی جو اس اکیلے کے ساتھ لڑنے کو تیار تھے۔۔۔

اففف ابھی بھی سکون نہیں تمہیں دیکھو ان کی روح تڑپ رہی ہمیں سکون دینے دو ان کو ۔۔۔

رعنا کے نازک منہ اور لبوں پر اپنا ہاتھ رکھتے وہ گھومتا ہوا ان سب پر ایک ہی وار میں گولیاں شوٹ کر چکا تھا ۔۔۔۔۔

اہہ۔۔۔

سیکنڈوں میں رعنا نے وہاں زندہ کھڑے آدمیوں کو پول میں گرتے دیکھا تھا جہاں اس کا پانی نیلا کی جگہ سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔

اس کی چیخ نکلی تھی پر ایول کے ہاتھ کی وجہ سے وہ روک گی تھی ۔۔۔

ب۔چ۔۔۔

ایول سے وہشت محسوس کرتی وہ تڑپتی ہوی بولی تھی جو پوری اس کے قابو میں تھی ۔۔۔

اتنا زیادہ خون دیکھ اسے اپنا ماضی یاد آگیا تھا ۔۔۔۔

کیا ہوا مزہ نہیں آیا ۔۔۔

اس کو تڑپتے دیکھ ایول نے رعنا کے برہنہ شولڈر پر اپنے لب رکھتے سرگوشی کی تھی ۔۔۔

یہ مزے والا نہیں تھا یہ دیک۔۔۔۔

اس کی گردن اور گال پر پیسنے کے ننھے قطرے دیکھ وہ بولتا ہوا نیچے جھکتا شوز سے چاقو نکالے بول رہا تھا جب سامنے فارس کو رحمان کے آگے کھڑے دیکھ بھڑکا تھا ۔۔۔۔

کیوں آئے ہو یہاں ۔۔۔

وہ وہی کھڑا غرایا تھا جبکہ رحمان اپنی جان بچاتا بھاگ رہا تھا ۔۔۔۔

اسے ہنیڈل کرو میں دیکھ ل۔۔۔۔

ہم ابھی مارے گے اسے ۔۔۔۔

رعنا جو غنودگی میں جا رہی تھی تبھی فارس بولا تھا جب وہ گن سے دور جاتے رحمان پر شوٹ کرتا چلایا تھا ۔۔۔۔

حالت دیکھو اس کی پہلے اسے ہنیڈل کرو باقی میں دیکھ لو گا ۔۔۔

رعنا کی حالت سے نظریں چڑہاے وہ بولا تھا ۔۔۔

یہ اچھا نہیں کیا تم نے سوہا کو شوہر نہ ہوتے تو ابھی موت دیتے تمہیں ۔۔۔۔

اپنے ہاتھوں سے رحمان کو بچتا دیکھ ایول اب بلیٹ سے لگی رعنا کو جھولتی دیکھ ایول اسے گود میں اٹھاے بولا تھا ۔۔۔

جبکہ فارس مسکرایا تھا ۔۔۔۔

ویسے ایول یہ تو دشمن تمہاری پھر بھی ایسی حالت کرتے ہو اسے قریب لا کر اگر یہ عشق ہوتا تمہارا تو بس رعنا نے روزانہ مرنا تھا تمہارے ہاتھوں ۔۔۔۔

ایول کے ساتھ جاتے فارس نے رعنا کے بکھرے بال پٹھی شرٹ لال چہرہ دیکھ مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔

شیٹ اپ ہیری ۔۔۔۔

اس کی بات کا مطلب سمجھتے ایول دور جاتا لال چہرہ لیے غرایا تھا ۔۔۔۔

ہاہاہاہہاہاہا ویسے مجھے شدت سے ویٹ رہے گا اس دنیا میں چھوٹے سے ایول کے آنے گا ۔۔۔

فارس قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

کیوں ہماری بیٹی کو بیوہ کروانا چاہتے ہو ۔۔۔

ایول اب اپنی بائیک پر بیٹھتا بے ہوش رعنا کو گود میں سیٹ کیے بولا تھا ۔۔۔۔

اہہہہ میرا بے بی ۔۔۔۔

ایول کے گال کیچھتے ہوے فارس مسکراہٹ روکے بولا تھا ۔۔۔۔

بین کو ہم بتاتے ہے زرا ۔۔۔

آگ بگولہ ہوتے کہتے ایول نے اپنی بائیک ہوا میں آڑئ تھی ۔۔۔