Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 41)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 41)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
اہہہہ اہہہہہ۔۔۔
کیا ہوا تمہیں ا۔۔۔۔
و۔وہ مر گیا ایول وہ مر گیا ۔۔۔۔
ایول اپنی بسیمنٹ سے باہر ا رہا تھا جب صوفے پر بیٹھی رعنا کو دیکھ بول رہا تھا جو چیختی ہوئی اس کے سینے سے لگتے تو رہی تھی ۔۔۔
کون مر گیا جس کی وجہ سے آنسوں نکل ر ۔۔۔
وہ فوجی تھا مر گیا ایول افففف مجھے رونا آ رہا ہے ۔۔۔
وہ اس کے بھیگے چہرے کو دیکھ بول رہا تھا جب وہ سینے میں منہ چھپائے پھر روتی بولی تھی ۔۔۔۔
کون ایسا مر گیا جس کی وجہ سے مولانی رو رہی ہے ۔۔۔
ایول اسے روتا دیکھ دل میں دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔
آرام سے بتاؤ کون مر گ۔۔۔
جہان مر گیا ایول اہہہہ اہہہہہ ۔۔
وہ اسے خود سے دور کرتا بول رہا تھا جب وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔۔م
یہ کون سی بلا ہے تمہارا کزن ہے یا دوست کون ہے یہ لڑکا جلدی بتاؤ ۔۔۔
کسی انجان شخص کا نام سنے وہ اسے بازوں سے پکڑتے اس کی سوجی نیلی آنکھوں کو دیکھ غرایا تھا ۔۔۔
جم۔جہان سکندر ہے وہ میجر آرمی ک۔۔۔۔
یہ بتاؤ ہے یہ انسان ہے کون۔۔۔
وہ روتی اسے بتا رہی تھی جب وہ پھر بولا تھا ۔۔۔۔
جنت کے پیتے والا ہیرو ہے وہ شاہد ناول میں مر گ۔۔۔۔
واٹٹٹٹٹٹ پاگل ہو کیا ایک ناول کے ہیرو کے لیے اتنا رو رہی ہو اور ناول بھی پورا نہیں پڑھا ۔۔۔
اففففف کیا پاگل کر دیا ہے ہمیں ۔
کبھی اتنا ہمارا غصہ آخری الیول پر گیا ہو گا جیتنا آج اور ابھی تمہارے لبوں سے اس دنیا جہان کا نام سن کر ہوا ہے ۔۔۔
وہ اس سے دور ہوتا دانت پیستے ہوے بولا تھا جبکہ وہ سوں سوں کرتی اپنی سرخ ناک سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جہان سکندر نام ا۔۔۔۔
جو بھی نام ہے پہلے ناول پڑھ لو پھر بات کر لینا حد ہے پاگل پن کا کیا ملتا ہے ناولز پڑھ کر فضول دماغ ا۔۔۔
سسسسیی۔۔۔
یہ کیا حرکت تھی مولانی ۔۔۔
وہ اب طش سے مسلسل بڑبڑا رہا تھا جب رعنا نے غصے سے پاس پڑے گلدان کو اٹھا کر اس کی ٹانگ پر مارا تھا جب وہ چیختا بولا تھا ۔۔۔
ناولز کے خلاف کچھ مت کہنا ورنہ میں تم سے دور چلی جاؤ گی سمجھے برفانی ریچھ ۔۔۔
وہ اسے دھمکی دیتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں ہاں چلی جانا دور اگر اس پیلس کے گیٹ کو کراس کر سکو تو ۔۔۔
وہ طنزیہ مسکراہٹ لاے بولا تھا کیونکہ وہ گیٹ پر اپنے گارڈز کی تعداد کافی کر چکا تھا ۔۔۔
صام ڈیڈ کو کہو گی تمہیں مارے انہہہ جنگلی ۔۔۔۔
بے بس ہوتی وہ کہتی ہاتھ میں پکڑے ناول کو لے کر جاتی روم میں گئ تھی ۔۔۔۔
ڈیڈ سے بات کرتے ہے پتہ نہیں دل کیوں گھبرا رہا آج ۔۔۔۔
اپنے بے چین دل پر ہاتھ رکھتے وہ دوبارہ بسیمنٹ کے نیچے جاتا بولا تھا ۔۔۔
کہیں جا رہے ہو تم ۔۔۔
بروان بالوں کو کٹ کرواے اس کا پیارا سا ہیئر اسٹائل بناے ہلکی براؤن شیو ڈمپل پڑتے گال گلابی ہونٹ پر مسلسل رہتی مسکراہٹ اپنے کسرتی جسم پر گرے پینٹ ساتھ بلیک ہائ نیک پہنے وہ اپنے لونگ بروان شوز کے لیس باندھ رہا تھا جب وہ حیران ہوتی منہ کھولے روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔۔
حدید کا پہلی دفعہ اتنا تیار اور خوبصورتی دیکھ وہ شوک تھی ۔۔۔
کب دیکھا تھا اس نے اسے ایسی ڈریسنگ میں پہلے وہ کھولے عیجب سے کپڑے پہن کر گھومتا تھا ۔۔۔
ہاں ضروری کام ہے تمہیں کچھ چاہے ۔۔۔
وہ اپنے شوز ویسے ہی چھوڑے روشانے کا ہاتھ پکڑتے اپنی تھای پر اسے بیٹھاے مسکراتا بولا تھا ۔۔۔۔
بہت خوبصورت لگ رہے ہو ہادی پہلی دفعہ لنگور سے ہیرو تم کب بنے ہو ہاےےےے میری دھڑکن تیز کر دی تم نے پہلے کیوں نہیں دھیان دیا تم پر ۔۔۔
وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاے اسے بکھراتی ہوئ مسکرا کر بولی تھی ۔۔۔
تمہارا یہ رومانٹک موڈ رات کو ان ہونا چاہے ابھی میں کافی بزی ہو ورنہ اچھے سے جواب دیتا ۔۔۔
اپنی ٹانگ ٹبیل پر رکھتے وہ جھکتا ہوا ایک دونوں ہاتھوں سے لیس بند کر رہا تھا ۔۔۔
کیا ہوا آج اتنے سیریس کیوں ہو ہادی ۔۔۔۔
وہ اس کی سیریس بروان آنکھیں دیکھ فکر مندی سے بولی تھی ۔۔۔۔
کہاں سیریس ہو یار بس ویسے ہی دل گھبرا رہا ہے ا۔۔۔۔
کھانا کھایا تم نے خیال تو رکھتے نہیں اپنا ہر وقت موج مستی کرتے ہو حد ہے ہادی ۔۔۔۔
وہ بول رہا تھا جب وہ پریشان ہوتی اٹھنے کی کوشش کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوا ابھی میں لیٹ ہو رہا چلتا ہو شام کو ملے گے خیال رکھنا اوکے ۔۔۔۔
وہ اس کا ماتھا چومتا ہوا اسے آرام سے پکڑتے بیڈ پر بیٹھاے اب باہر گیا تھا ۔۔۔۔
اففف میں بھول گئ باہر جانا تھا میں نے ہادی کو بتا دیتی ۔۔۔
روشانے کچھ یاد کرتی اپنے سر پر ہاتھ مارتی بولی تھی ۔۔۔
ایول اتنی سکیورٹی کیوں ہم سب ٹھیک ہ۔۔۔۔
ضروری تھا تم بس کیسے بھی کرکے سوہا کو باہر جانے مت دینا ۔۔۔
فارس پریشان ہوتا اپنے بنگلے کے باہر اتنے گارڈز دیکھ ایول کو کال ملاے بول رہا تھا جب وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔
سب ٹھیک ہ۔۔۔
پتہ نہیں دل پریشان ہے تبھی سوہا کے سیکورٹی الرٹ کی ہے باقی تم ہنیڈل کر لینا اسے ۔۔۔
وہ بول رہا تھا جب وہ اپنی کہتا فون کٹ کر چکا تھا ۔۔۔
ایول کے آدمیوں کے ساتھ حدید کی بھی ٹیم کے آدمی تھے ۔۔۔
سب ٹھیک ہو اب کچھ برا نہ ہو ۔۔۔
فارس دل میں دعا کرتا بولتا اب روم میں گیا تھا ۔۔۔
ایول سب ٹھیک ہے کب سے دیکھ رہی ہو بے چین ہو ۔۔۔
رعنا کافی دیر سے دیکھ رہی تھی وہ بے چین ہوتا پورے پیلس کے پتہ نہیں کتنے چکر لگا چکا تھا جب رہ نہیں گیا تو پاس آتی پوچھ لیا تھا ۔۔۔۔
پتہ نہیں ہمارا دل کبھی اتنی زورو سے نہیں دھڑکا لیکن صبح سے ایسے دھڑک رہا ہے جیسے نکل جاے گا سب ٹھیک ہو بس ۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ اپنے دل پر رکھتا پہلی دفعہ پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
ریلکس سب ٹھیک ہو گ۔۔۔۔
تم جاو یہاں سے ہم کال کر لے ۔۔۔
وہ اس کی تیز چلتی دھڑکن کو محسوس کیے بول رہی تھی جب وہ اسے دور کرتا دوبارہ باہر گیا تھا ۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ سب ٹھیک ہو سب کی حافظ فرما۔
وہ دل میں دعا کرتی خود روم میں چلی گی تھی ۔۔۔
تمہیں پتہ چل گیا میں ہی ایول کا باپ ہو ۔۔
چلو آج تمہیں موقع دیتا ہو سالوں کی دل کی بھڑاس نکال لو آج ڈیول کچھ نہیں کہے گا ۔۔۔
گروجی اپنے آڈے بیٹھا سوچ رہا تھا ڈیول کا کام کیسے تمام کیا جاے جب بلیک ہڈی بلیک لونگ شوز گلوز لگے ہاتھوں چہرے پر سینجدگئ لاے وہ گلاسز لگی گرین آنکھوں میں چمک لاے اپنے بھاری قدم اٹھاے اس کے سامنے آتے کرسی پر بیٹھتے سکون سے بولے تھے ۔۔۔
تم یہاں اے ہو بھول گے زندہ نہیں جا پ۔۔۔
تمہارا اصلی چہرہ اپنے بیٹے کے سامنے لانے کے لیے مجھے مرنا بھی پڑا مر جاؤ گا لیکن ایول کو تمہارے اس گناہ کی دلدل سے نکالنا ضروری ہے ۔۔
تمہارا جو دل کرے کرو میں اففف نہیں کرو گا آج ڈیول اپنا قہر نہیں برساے گا ۔۔۔
اپنی کلائی سے باندھی روحا کی شرٹ کو ناک کے قریب لاتے وہ سکون سے بولے تھے ۔۔۔
مرو گے تم جان سے اور وہ بھی ابھی تم اب بوڑھے ہو چکے ہو۔۔۔
گروجی اپنی شیطانی مسکراہٹ لاے بولا تھا ۔۔
اسے کیا چاہے تھا صام خود قدموں سے چلتا اس کے پاس آیا تھا اپنی موت کے لیے وہ بے حد خوش تھا ۔۔۔
شیر چاہے بوڑھا ہو جاے لیکن اس کی دھاڑ کبھی کمزور نہیں ہوتی اس کی ایک غراہٹ سے پورے جنگل کے جانور ڈر جاتے ہے چاہے وہ بوڑھا ہی ہو جاے ۔۔
میں اگر تمہیں نہ مار سکا تو میرا ایول تمہیں کتوں جیسی موت دے گا ۔۔۔
وہ اپنے چہرے پر مسکراہٹ لاے سردپن سے کہتے اپنی ہڈی سے ہر لات کو نکالے ٹبیل پر نکال کر رکھتے خود کی ہڈی اتار چکے تھے ۔۔۔
تمہاری بہادری دیکھ مجھے یقین ہو گیا ہے واقعی ایول تمہارا ہی بیٹا ہ۔۔۔
ببر شیر کا بیٹا ہی اس جیسا ہوتا ہے اب ایک بھیڑیا تو نہیں میرے بیٹے کو اپنے جیسے بنا سکتا ۔۔۔
صام کی اس عمر میں بھی اس قدر فٹ باڈی دیکھ گروجی بول رہے تھے جب وہ مسکراتے بولے تھے ۔۔۔
امید ہے تمہیں موت جلدی اے گی ۔۔۔۔
گروجی اپنے آدمیوں کو اشارہ کرتا انہیں زنجیروں سے باندھنے کا کہتا مسکراتا بولا تھا ۔۔۔۔
اب یہ وقت بتاے گا کس کو موت جلدی آتی کس کو نہیں ۔۔۔
میری آخری سانس ختم ہونے سے پہلے میرا بیٹا ایول یہاں ہو گ ۔۔۔۔
صام زنجیروں سے باندھ ارام سے بول رہے تھے جب گروجی کے آدمیوں نے ان پر کوڑے برسانے شروع کر دے تھے ۔۔۔
ان کی سفید کمر پر اب لال نشان بن رہے تھے جیسے وہ سکون سے برداشت کر رہے تھے ۔۔۔۔
ایول کو کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ تم یہاں ہو ۔۔۔
صام کو مسلسل زخمی کرتے وہ مسکراتے بولے تھے ۔۔۔
لالہ اتنی سکیورٹی ضروری تھی کیا میں نے جلدی گھر آجانا تھا ۔۔۔
حدید ایک فکیڑی کے باہر کھڑے اب ایول کو فون ملاے بولا تھا ۔۔۔
یہ ایک گروجی کی پرانی بیس سالہ فیکڑی تھی جس میں ڈرگز جسم کے اعضاوں کی سمگلگز ہر برا کام ادھر ہوتا تھا دنیا کی نظر میں وہ ایک کھلونے والی فیکڑی تھی ۔۔۔
چار سالوں سے حدید اس تک پہچنے میں لگا تھا آج وہ اپنی ٹیم کے ساتھ یہاں ریٹ کر چکا تھا تبھی پریس کانفرنس کے درمیان وہ کھڑا سب کو اگنور کیے ایول سے بات کر رہا تھا ایول کے چالیس پچاس آدمی اسے اپنے گھیرے میں لیے کھڑے تھے ۔۔۔
ہاں ضروری تھی جیسے ہی فری ہو ہمارے پاس آنا اوکے اور ہاں ان سب کے گھیرے سے مت نکلنا ۔۔۔
وہ چکر لگاتا مسلسل ماتھا مسلے بولا تھا ۔۔۔
لیکن لالہ ایسے سب کو پتہ چل جاے گا میں ک۔۔۔
ٹی وی پر ا رہے ہو اب تک سب کو پتہ چل گیا ہے تم بس وہی کرو جو ہم کہہ رہے ۔۔۔
حدید بول رہا تھا جب وہ بولتا فون کٹ کر چکا تھا ۔۔۔
روشنی روشنی دیکھو یہ ہادی لالہ ہی ہے ۔۔۔
روشنی نے اپنی دوست سے ملنے جانا تھا اس کی اجازت وہ روحا سے لے چکی تھی ۔۔۔
حدید کی ہدایت پر روشانے کو گارڈز کے ساتھ باہر جانے دیا تھا جبھی وہ اپنی دوست سے ملنے ایک کیفے آئ تھی ۔۔۔
وہ فری ہوتی کار میں جا رہی تھی جب فکیڑی سے گزارتی کار کو روک کر اس کی دوست بولی تھی ۔۔۔
جہاں پولیس اور پریس کے گھیرے میں کھڑا وہ فل اعتماد سے سوالوں کے جواب دے رہا تھا ۔۔۔
نہ۔نہین یہ ہادی نہیں ہو سکتا وہ تو نکما ہے یہ کتنا ہونہار ب۔۔۔۔
یہ بین ہے میں نے کافی نام سنا تھا لیکن آج ہادی لالہ کو یقین ہو گیا یہی بین ہے جنھوں نے بڑے سے بڑے مجرم کو پکڑا ہے ۔۔۔
روشنی اب اسے دیکھ منٹوں میں۔ انکار کر رہی تھی جب اگلی بات سنتے اس نے شوک سے منہ کھولا تھا ۔۔۔
نہی۔نہیں وہ بندے کو آرام سے بات ہی نہیں کرنی آتی کہاں میرا ہادی اتنے سافٹ سا بولتا ہے ۔۔۔
روشانے ابھی بھی مسلسل انکار کرتی بولی تھی ۔۔۔
یار ہادی لالہ ہی ہے دیکھو گھور سے ۔۔۔
اب وہ سب سے فری ہوتا ایول کے آدمیوں کے گھیرے میں ان کی کار سے گزارتا جا رہا تھا ۔۔۔
اتنے آدمیوں کے درمیان وہ بے نیاز سا چلتا فون کان کو لگاے اب کار میں بیٹھ رہا تھا ۔۔۔
ہادییییییی ہادییییییی۔۔۔
حدید کا ایسا روپ دیکھ وہ غصے سے کار سے نکلتی اسے پیچھے سے آواز دیتی چیخی تھی ۔۔۔۔
ر۔روشنی ۔۔۔
واپس پلٹتے اسے دیکھ وہ شوک ہوتا چیخا تھا جو لال چہرہ لیے اسے ہی گھورتی ا رہی تھی ۔۔۔
وہی روکو پاگل لڑکی میں ا رہا ہ۔۔۔
اہہہہ اہہہہہ۔۔
روشنی روشنیییییییی۔۔
اسے دیکھ وہ دانت پیستے اس کی طرف بھاگ رہا تھا جب روشانے نے بنا دیکھے نیچے پڑے پتھڑ پر پاؤں رکھا تھا جب وہ لڑکھڑاتی ہوی زمین پر منہ کے بل گری تھی وہی اس کی چیخوں کے ساتھ حدید کی چیخ تھی ۔۔۔
روشنی روشنی آنکھیں کھولو روشنی ۔۔۔
درد سے تڑپتی روشنی کے پاس جاتے وہ گود میں لیے اس کے چہرے کو دیکھ بولا تھا جو اب آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔۔
لالہ اسے ہاسپٹل لے کر جا۔۔۔۔
ہاں کار سٹارٹ کرو فاسٹ ۔۔۔
اس کی دوست باہر آتی پریشان ہوتی بول رہی تھی جب وہ اندھا دھت اسے گود میں اٹھاے بھاگتا کار میں بیٹھتا آڈر دے چکا تھا ۔۔۔۔
حدید سب بھلاے اب بس روشنی کے لیے فکرمند تھا ۔۔۔
برفانی ریچھ کچھ کھا لو تین گھنٹے ہو گے تم نے ناشتہ بھی نہیں کی۔۔۔
ہادی اور سوہا بلکل ٹھیک ہے پلیس پر بھی سںب ٹھیک ہے فارس نے بتایا ابھی لیکن پھر بھی دل پر بوجھ پڑ رہا ہے ۔۔۔
رعنا اسے مسلسل ویسے ہی چکر لگاتے دیکھ پاس آتی بول رہی تھی جب وہ اس کا ہاتھ پکڑے گم انداز سے بولا تھا ۔۔۔
سب ٹھیک ہے اگر تم خود ایسے رہے تو خودی بیمار ہو جاؤ گے کب سے بھوکے ہو کچھ کھا پی ل۔۔۔
تم دعا کرو کہ سب ٹھیک ہو اب ہم نہیں چاہتے کسی سے دور ہو ۔۔۔
دعا کرو پلیز ۔۔۔
اس کا سرد چہرے پر ہلکی سی فکر مندی دیکھ وہ بول رہی تھی جب وہ بولا تھا ۔۔۔۔
حازم تم دعا کرو اللہ ضرور سنے گا تمہاری ۔۔۔
وہ اسے سمجھاتی بولی تھی ۔۔
ہم کیسے دعا کرے ہم بہت گناہگار بندے ہے ہم گندے اور برے انسان ہے ہم کیس۔۔۔۔
تم۔ دعا کرو اپنے اس دل سے دیکھنا قبول ہوتی چلو آنکھیں بند کرو ۔۔۔
وہ پریشان ہوتا بول رہا تھا اس کے دل کی دھڑکنوں نے شور مچانا شروع کر دیا تھا۔۔
جب وہ اپنی اور اس کی آنکھیں بند کیے بولی تھی ۔۔۔۔
اے ہمارے رب ہم بہت گناہگار بندے ہے تیرے ہم نہیں جانتے کہ ہمارا دل کیوں اتنا ڈر رہا ہے بس ہماری فیملی کو اپنے حفظ وامان میں رکھنا ۔۔۔
ہمارے ڈیڈ کی حفاظت فرما ۔۔۔
ایول نے آنکھیں بند کیے دعا کی تھی ۔۔۔۔
رونا ہے تو رو لو حازم ۔۔۔
اپنے ماتھے کو اس کے ماتھے سے ٹکاے وہ اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گرتے دیکھ سکون سے بولی تھی ۔۔۔۔
مرد روتے نہیں ہے ڈیڈ ن۔۔۔۔
ایول اپنی آنکھیں کھولے سرخ گرین آنکھوں سے دیکھ بول رہا تھا جب اس کا موبائل رنگ کیا تھا ۔۔۔
وہ جلدی سے اٹھتا الرٹ ہوا تھا ۔۔۔
ہم نے کہا تھا نا کہ کچھ ہونے والا ہے ۔۔۔
زوبی تم رعنا کو سکرٹ روم میں لے کر جاو ۔۔۔
وہ اچانک الرٹ ہوتا اب اپنی ہڈی پہنے باہر جاتا آڈر دے چکا تھا اس کے سارے آدمی اس کے ساتھ تھے ۔۔۔۔
روکو رکو حازم کیا ہوا یہ تو بتاؤ ۔۔۔
اس کے مسلسل رنگ کرتے فون کو وہی پڑا دیکھ وہ اس کے پیچھے بھاگتی بول رہی تھی جب زوبی نے اسے پکڑا تھا ۔۔۔
اس الرٹ کا مطلب ہے ایول کے ڈیڈ خطرے میں ہے جو یہ مسلسل رنگ کر رہا ہے ۔۔۔
زوبی اسے سائرن کا سمجھاتی بولی تھی ۔۔۔
ن۔جہھ۔نہیں ایسا نہ ہو سب ٹھیک ہو ۔۔۔
رعنا یہ سنتے ہی پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی۔۔۔
زوبی اسے پکڑے سکرٹ روم لے کر گی تھی ۔۔۔۔
کدھر ہے صام اب تو چار گھنٹے ہو گے ہم نے فون پر رنگ بھی دی آپ اے ہی نہیں ۔۔۔
روحا تب سے روم میں بے چین دعا مانگنے میں بزی تھی جب دیکھا تین گھنٹے بعد بھی صام واپس نہیں اے تو ان کے کہنے کے مطابق وہ فون پر رنگ کر چکی تھی ۔۔۔
اب وہ مسلسل پریشان ہوتی ہال میں آتی سوچ رہی تھی ۔۔۔
ی۔یہ کون ہ۔۔۔
حازممممممم۔۔۔۔
بلیک ہڈی بلیک ہی لونگ شوز گلوز پہنے چہرے پر سردپن لاے وہ اپنے دو سو کے برابر آدمیوں کو لیے آفندی پیلس میں انٹر ہوا تھا ۔۔۔
اس کے آدمی پورے پیلس میں گھوم رہے تھے جبکہ وہ فکرمندی سے وہی سب کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔
روحا سامنے اسے دیکھ چیخی تھی جب ہال میں وردہ بیگم ہیر مرحا امن احمد سب ہی وہی کھڑے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔۔
سب ٹھیک ہے چھوٹے یہ س۔۔۔
ڈیڈ کدھر ہے جلدی بتاے آغا ۔۔۔۔
اپنے پیلس میں چونٹیوں کی طرح چاروں طرف گھومتے دیکھ احمد بول رہا تھا جب وہ جلدی سے بولا تھا ۔۔۔۔۔
سر ڈیول یہاں کہیں نہیں ہمیں یہ ان کا موبائل ملا ہ ۔۔۔
سب کو سیف ہاؤس لے جاو ۔۔۔۔
اس کے آدمی اب اس کے پاس آتے سر جھکاے موبائل دیتے بول رہے تھے جب موبائل پر چکمتے ایڈریس کو دیکھ وہ غراتا ہوا وہاں سے تیز رفتاری سے بھاگا تھا ۔۔۔۔
ہوا ہے کیا ہے ہمیں بھی بتایا جاے ۔۔۔
ایول کا آنا اور جانا دیکھ وہ فکر مندی سے احمد کو دیکھ بولی تھی جو اب فون کان کو لگاے مستقیم اور آہان کو کال کر رہا تھا ۔۔۔
کچھ نہیں انیجل وہ چاچو نے کہا تھا آپ سب کو سیف ہاؤس بلایا جاے تبھی حازم آیا تھا ۔۔۔
احمد انہیں سینے سے لگاے بہانہ بناے بولا تھا ۔۔۔
ایول کے ادمی آب انہیں اپنے ساتھ لے کر جا رہے تھے ۔۔۔
کدھر ہو ۔۔۔
ایول کار میں بیٹھا حدید کو کال ملاے بولا تھا ۔۔۔
و۔وہ لالہ روشنی گر میں اسے ہاسپٹل لایا ہو ڈاکٹرز کہہ رہی آپریشن ہو گا وہی ہو آپ کو کوئ کام ت۔۔۔
نہیں بس ویسے ہی پوچھا روشنی اور اپنا خیال رکھنا ۔۔۔
حدید کو پہلے ہی پریشان دیکھ وہ جلدی سے بہانہ بناے کہتا فون بند کر چکا تھا ۔۔۔
اب وہ فل سپیڈ سے گروجی کے اڈے کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔
ہاہہاہاہہاہاہ ہاہہاہاہہاہاہ کہاں ایا تیرا بیٹا ۔۔۔
پورے چار گھنٹے صام پر تشدد کرتے اب گروجی شیطانی قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔
اتنا سب سہنے کے بعد بھی صام بنا کسی درد کے سکون سے کھڑے تھے جبکہ جسم کے ہر حصے سے خون نکل رہا تھا ۔۔۔
وہ اے گا دیکھنا وہ اے گا ابھی میری سانسیں چل رہی ہے کیا ہوا تھک گے ہو ۔۔۔۔
وہ مسکراتے ویسے ہی بولے تھے واقعی اتنا مارنے سے گروجی کے آدمی تھک چکے تھے جبکہ مار کھاتے وہ سکون سے کھڑے تھے ۔۔۔۔
تمہاری آخری سانس میں نکلتا ہو ۔۔۔
اب شدید طش میں آتے گروجی نے اپنے آدمیوں کو فرش پر شیشے گرانے کا کہا تھا ۔۔۔
نیچے گرے شییوں کے ٹکڑوں پر زنجیروں سے صام کو آزاد کیے اسے نیچے گیھسٹتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ان کی زخمی کمر اور سینے میں شیشے اندر کو چھب گے تھے ۔۔۔۔
آگ لگاؤ ساری جگہ کو اس کی راکھ ملنی چ۔۔۔۔
ڈیڈ ڈیڈڈڈڈڈ ڈیڈڈڈڈڈڈڈ ۔۔۔۔
اپنے آدمیوں کو حکم دیتے وہ صام کی کمر پر پاؤں رکھے کھڑا بول رہا تھا جب باہر انہیں ایول کی غراہٹ سنائی دی تھی ۔۔۔۔
ک۔کہا ت۔تھا نہ میرا ببر شیر اے گا دی۔دیکھ وہ ا گیا ۔۔۔۔
اہاہہاہاہا ہاہہاہاہہاہاہا۔۔۔
اٹکتی سانسوں سے صام بامشکل بولتے قہقہ لگا چکے تھے کیونکہ ایول کی غراہٹ سن گروجی اب ڈر چکا تھا ۔۔۔۔
سر دونوں کی حالت کافی خراب ہے دونوں میں سے ایک کو بچانا ہو گ۔۔۔
مجھے دونوں چاہے سمجھی ورنہ ہاسپٹل کو آگ لگا دو گا ڈاکٹر کس چیز کی ہو ۔۔۔
ڈاکٹر اس کے پاس ایک پیپر لاتی بول رہی تھی جب حدید غراہٹ لیے بولا تھا ۔۔۔
لیکن سر یہ مشکل ہے وقت سے پہلے بےبی کا آنا ا۔۔۔۔
یہاں تک میرا رب لایا ہے اس بچے کو تو وہ بچاے گا بھی ضرور دونوں کو تم اپنا کام کرو مجھے وہ دونوں چاہے ۔۔۔۔
وہ اسے سمجھاتے بول رہی تھی جب وہ پھر طش سے بولا تھا ۔۔۔
ڈاکٹر ڈرتی ہوئ واپس اندر چلی گی تھی ۔۔۔
حدید اور سوہا کو کچھ نہیں بتایا تھا فارس اور ایول نے یہاں کھڑا حدید روشنی کی فکر میں پریشان تھا اسے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا اس کا باپ آخری سانس لے رہا ہے ۔۔۔
س۔سر حوصلہ کرے اندر خطرہ ہ۔۔۔
کون سا خطرہ اندر ہمارے ڈیڈ ہے ہمیں جانے دو ۔۔۔
احمد کے بتانے پر آہان منان نوفل مستقیم اپنے آدمیوں کو لے وہاں پہلے ا چکے تھے جہاں اب گروجی پورے اڈے کو آگ لگاے بھاگ چکا تھا وہ سب اندر سے دروازہ کھولنے اور صام کو باہر لانے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔
آگ تھی کہ روکنے کی بھڑکتی جا رہی تھی ۔۔۔
دور کھڑے مستقیم منان آہان نے ایول کو دیکھا تھا جو جنونی ہوتا آگ لگے دروازے کے پاس جا رہا تھا جب صام کی آرمی کے آفسرز نے اسے قابو کیے کہا تھا ۔۔۔
جب وہ پلٹتا ہوا غرایا تھا ۔۔۔
اس کی ہڈی ان کے ہاتھوں میں آ چکی تھی ۔۔۔
منان مستقیم اہان کو جنونی سا ایول دور سے صام ہی لگا تھا جو لوہے کے بنے مضبوط دروازے کو توڑنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔
ہ۔ہم جانتے ہے اندر جنرل صام ہے لیکن سر ایسے تو آپ ہی خود کو تکلیف دے رہے ہے آگ کم ہو گی تبھی یہ درواز۔۔۔
ڈیڈ ہے ہمارے سنا تم نے ہمیں درد ہو رہا یہ دروازہ کیا چیز ہے ہمارے سامنے دیوار بھی ہوتی تو توڑ کر جاتا اندر چھوڑو اب ہمیںنننننننن۔۔۔
چھ سات آفسرز نے اسے شولڈر سے پکڑتے روکا تھا کیونکہ دروازہ ٹوٹنے کی بجاے ایول کو ہی زخمی کر رہا تھا جہاں اس کے شولڈر سے خون نکل رہا تھا ۔۔۔
تبھی وہ اپنے آپ پر کنٹرول کھوتا ہوا شدت جذبات سے غرایا تھا اس کی گردن کی نسیں پھول چکی تھی جبکہ گرین لال آنکھیں اس کی اب اشک بہا رہی تھی ۔۔۔
حوصلہ بیٹا صامے ٹھیک ہو گا ل۔۔۔۔
ہمیں ڈیڈ کو بچانا ہے بڑے پاپا انہیں کہے پیچھے ہو جاے ۔۔۔۔
ورنہ ہم بھول جاے گے یہ کون لوگ ہے ۔۔۔۔
وہ زمین پر بیٹھا بے بس سے بچوں جیسے پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا کیونکہ کوئ بھی اسے نہیں جانے دے رہا تھا تبھی آہان اس کے پاس آتے بول رہے تھے تبھی وہ اب اٹھ کر کھڑا ہوتا کسی کا لحاظ نہ کرتا اپنے لونگ شوز اتار کر شیشے کی بنی ونڈو پر مارا تھا ۔۔۔
و وہ دیکھے ڈیڈ ڈیڈڈڈڈڈ ہم بچاے گے آپ کو ڈیڈڈڈڈڈ۔۔۔
چاروں طرف آگ لگی ہوئ تھی جب ٹوٹی ونڈو سے اندر دیکھ وہ چیختا بولا تھا ۔۔۔
جہاں شیشے کے ٹکروں پر گرے صام آفندی خون سے لہو لہان ہوتے اپنی آنکھیں بند کیے سکون سے آؤندے منہ لیٹے تھے ۔۔۔
جب وہ غراتا ہوا سب کو اگنور کیے پاس پڑی زنجیروں کو دروازے پر اٹکے اسے اپنی طرف کیچھا تھا ۔۔۔۔
اتنے بھاری لوہے کے گیٹ کو اپنی زور لگاتے کیچھتے وقت اس کے ہاتھوں سے خون نکلنا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔
لیکن وہ پوری طاقت لگاے گیٹ کو اکھاڑنے میں بزی تھا ۔۔۔
سب آفسرز اس جنونی انسان کی اپنے باپ کے لیے جنونی محبت دیکھ خود بھی اس کے ساتھ گیٹ کیچھنے میں مدد کرنے لگ گے تھے ۔۔۔
سر آپ اندر نہیں جا س۔۔۔۔
گیٹ کو اکھاڑنے کے بعد وہ سامنے آگ اور شیشیوں کے درمیان صام کو دیکھ سب کو چھوڑے اندر کی طرف بھاگا تھا جب وہ روکتے بولتے چپ ہوے تھے کیونکہ وہ سب کو اگنور کیے پاگلوں کی طرح ننگے پاؤں شیشیوں سے گزارتا ہوا صام تک گیا تھا ۔۔۔۔
ڈیڈ ڈیڈ دیکھے ہم اے ہے ڈیڈ ہم آپ کو کچھ نہیں ہونے دے گے ۔۔۔۔
صام کے خون آلود ہاتھوں کو چومتے وہ انہیں گود میں اٹھاے ویسے ہی باہر کی طرف بھاگتا بولا تھا ۔۔۔
صام کی ایسی حالت دیکھ ایول کا دل بند ہوا تھا وہ دھڑکتے دل سے باہر نکلتے اپنی کار میں بیٹھا تھا ۔۔۔
بیٹا میں چلاؤ گا کار تم سے نہیں چلائ جاے گی ۔۔۔
مستقیم آگے بڑھتے کار سنبھالتے بولے تھے ۔۔۔
وہ اب آنسوں بہاے بس صام کا خون آلود چہرے کو دیوانہ وار چوم رہا تھا ۔۔۔۔
ریلکس بیٹا صامے کو کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔
اسے بچوں جیسے روتے دیکھ آہان اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے بولے تھے ۔۔۔
ج۔جی۔۔۔
وہ روتا بولا تھا ۔۔۔
روحا حوصلہ کرو دیکھو بچے کو کیسے پریشان ہو رہا ہے تم اسے کہو ریلکس کرے دیکھنا صام ٹھیک ہو جاے گے ۔۔۔
مرحا روحا کو گلے لگاے روتی ہوئی بولی تھی ۔۔
صام کو ہاسپٹل لایا گیا تھا جب ڈاکٹرز ان کو لے آپریشن تھیٹر کے گے تھے تب سے ایول ویسے ہی زخمی سینے اور زخمی خون آلود ننگے پاؤں لیے مسلسل کافی دیر سے چکر کاٹ رہا تھا سب ہی ہاسپٹل ا چکے تھے روحا تو رو رو کر پاگل ہو گی تھیں ۔۔۔
تبھی مرحا نے ان کا دھیان حازم پر کروایا تھا ۔۔۔
جو ایک منٹ کے لیے نہیں بیٹھا تھا ۔۔۔۔
سوہا کو کہے ڈیڈ ملک سے باہر گے ہے ماما اسے ٹیشن نہیں دینی جھوٹ بول لے ۔۔۔
اس سے پہلے روحا اس کے پاس جاتی جب فون رنگ ہوا تبھی وہ بجلی کی تیزی سے ان کے پاس آتا بولا تھا ۔۔۔
روحا اپنے بیٹے پر حیران تھی کیا تھا وہ ہر کسی کی فکر میں ہلکان ہو رہا جبکہ خود کی فکر اسے زار نہیں تھی ۔۔۔
ہلیو ماما ڈیڈ کدھر ہے کب سے فون ملا رہی ہو اٹھا ہی نہیں رہے ایک تو فادی نے بھی باہر جانے س ۔۔
و وہ بیٹا تمہارے ڈیڈ لندن گے کام کے سلسلے سے بس اس لیے فون نہیں اٹھا رہے ۔۔۔
روحا آنسوؤں کو برداشت کیے بامشکل بولی تھی جب ایول نے انہیں سینے سے لگاے حوصلہ دیا تھا ۔۔۔
تو ڈیڈ مل کر چلے جاتے میں اداس ہو رہی ہو اچھا ایسا کرے ہادی کو ب۔۔۔
وہ ہم زرا ہیر آپی کی بات سن لیں بات میں بات کرتے ۔۔۔
سوہا منہ بناے بول رہی تھی جب کنٹرول کرنے کے بادجوو وہ روتی ہوئی فون کٹ کر چکی تھی ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہو گا ڈیڈ کو ماما ۔۔۔
انہیں حوصلہ دیتے وہ بولا تھا ۔۔۔
ہلیو لالہ میں کتنا خوش ہو جانتے ہے اللہ نے مجھے رحمت سے نوازا ہے بیٹی ہوئ ہے اور روشنی بھی ٹھیک ہے ۔۔۔
دوسری طرف حدید کا فون اسے آیا تھا جیسے وہ خاموشی سے سنتا اس کی چہکتی آواز سن رہا تھا ۔۔۔
اچھا مبارک ہو باپ بن گ۔۔۔۔
ہاں باپ بن گیا اب تو ڈیڈ کو منا ہی پڑے گا میں ان کا کھوتا بیٹا باپ جیسے عہدے پر فائز ہو گیا ۔۔۔
ہاہہاہاہہاہاہ ویسے کدھر ہے ڈیڈ کافی دیر ہو گی ان کا فون نہیں آیا ورنہ وہ تو ایک گھنٹہ بعد کی کلاس لیتے ہے میری جب میں لیٹ گھر آؤ ۔۔۔۔
ایول اپنی آواز نارمل کرتا بول رہا تھا جب وہ قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔۔
ہمارے ساتھ ہے ایک کام تھا بزی ہے ہم بتا دے گ ۔۔
لالہ سب ٹھیک ہے آواز کیوں بھاری ہوئ ہے آپ کی ۔۔۔۔
ایول ک بہانہ سنتے وہ جلدی سے فکر مند ہوتے بولا تھا ۔۔۔
بڑے کام ہمیں تمہاری طرح فری نہیں ۔۔۔۔
سامنے ڈاکٹرز کو باہر آتے دیکھ وہ جلدی سے بولتا فون کٹ کر چکا تھا ۔۔۔۔
کافی بری کنڈیشن ہے صام آفندی کی جسم کے ہر حصے پر زخم ہے ان کی باڈی سے چار گولیاں نکال لی گی ہے لیکن ابھی بھی وہ خطرے میں ہے ہم سب پوری کوشش کر رہے ہے آپ سب دعا کرے اگر چوبیس گھنٹے میں انہیں ہوش نہ آیا تو معذر۔۔۔۔
کیا سوری ہاںںںںںںںں ۔۔۔
دیکھو پوری ڈاکٹروں کی فوج کھڑی کی ہم نے تمہارا کام ہے ڈیڈ کو ٹھیک کرنا لیکن تم معذرت کہہ رہے ہو ہمیں ۔۔۔
کس چیز کے ڈاکٹر ہو بتاؤ ۔۔۔۔
ڈاکٹر سر جھکاے افسوس سے بول رہا تھا جب ایول طش میں آتا انہیں گردن سے پکڑتے غرایا تھا ۔۔۔
جہاں آپریشن تھیٹر کے باہر اس کے بیس پچیس ڈاکٹرز لائن میں کھڑے تھے ۔۔۔۔
دیکھو میں سمجھ سکتا ہو باپ ہے وہ تمہارا لیکن ہمارا کام صرف ان کا آپریشن کرنا تھا باقی زندگی اور موت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔۔۔۔
اتنے ڈاکٹرز کی ضرورت نہیں ہمیں آپ بس د۔۔۔
یہ بڑے سے بڑے ڈاکٹر کھڑے ہے کسی کو بھی اپنے ساتھ لاؤ اور ہمارے ڈیڈ کو ٹھیک کرو فوراً۔۔۔۔
ڈاکٹر اس کی حد سے زیادہ لال گرین آنکھیں دیکھ بول رہا تھا جب وہ کچھ سمجھتے بنا ہی پھر غرایا تھا ۔۔۔۔
وہاں آیا ہر مریض بس اس کی غراہٹ سن رہا تھا جو بھوکے شیر کی طرح اسے ہی گھورتا غرا رہا تھا ۔۔۔
آپ بس دعا کرے اللہ بہتر کرے گا ۔۔۔
اس کی حالت سمجھتے وہ کہتا دوبارہ اندر چلا گیا تھا ۔۔۔
جبکہ ایول اب مسلسل چکر پر چکر کاٹ رہا تھا ۔۔۔
لالہ لالہہہہہ ڈیڈڈڈ ۔۔۔
یہ ۔یہ سب کیسے ہو گیا ۔۔۔۔
کافی دیر وہ چکر کاٹتا ویٹ کر رہا تھا جب ڈاکٹر بتاے گے وہ خطرے سے باہر ہے ۔۔۔
جب اچانک کوریڈور میں حدید اور سوہا کی چیخ گونج تھی ۔۔۔۔
ایول نے پلٹتے ان دونوں کو دیکھا تھا جو بچوں کی طرح روتے اس کی طرف بھاگ کر ا رہے تھے ۔۔۔۔
می۔میں نے کہا تھا ڈیڈ کو ایسا مت کرے لیکن ڈیڈڈڈڈڈ ۔۔۔
ایول کے زخمی سینے سے لگتے وہ دونوں اب پھوٹ پھوٹ کر روتے بولے تھے ۔۔۔
پیچھے آتی آنسو بہاے ویٹ گاؤن پہنے رعنا نے روحا کو ہگ کیا تھا جبکہ وہ تینوں بھای بہن آپس میں گلے لگے رو رہے تھے ۔۔۔۔
ایول خاموش آنسو بہاتا ان دونوں کا رونا سن رہا تھا جو اس کے سینے سے لگے بچے لگ رہے تھے ۔۔۔۔
اپنا غم بھلاے وہ انہیں بڑے بھای اور باپ کی طرح چپ کروا رہا تھا ۔۔۔
