Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 27)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 27)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
کیا تکلیف ہو گی تمہیں جو شور مچا رہے ہو ۔۔
شام کو پیلس پر ڈھول کی اتنی آواز سنتے روشانے نیچے آتی چیخی تھی جہاں حدید زینب اور امن کا ہاتھ پکڑے ڈانس کرنے میں بزی تھا ۔۔
وہی تکلیف جو ہر شوہر کو ہوتی ہے اپنی بیوی کو دیکھ کر جب وہ بے بی لاتی ہے ۔۔۔
وہ اپنی بیوی کو اتنے درد میں نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔
حدید مسکراتا ہوا اس کا ہاتھ پکڑے جھولتا بولا تھا ۔۔۔
کیاااااا سچی ہاےےےے میری جان زینی مجھے بہت خوشی ہے خالہ بنے کی میں پہلے ہی بتا دو نام میں رکھو گی ۔۔
اس کی بات سنتے وہ خوشی سے زینب کا گال چومتے بولی تھی ۔۔
وہاں کھڑئیں یافی ہیر روحا مرحا وردہ بیگم مسکرای تھی روشنی کی بات پر جو خود پر توجہ دے بنا زینب کو وش کر رہی تھی ۔۔۔
ارے بیٹا بے بی تمہارا ہونا ہے زینی کا نہیں ۔۔
ہم بھی پہلے بتا رہے ہے اپنی پوتی کے لیے شوپنگ ہم کرے گے ۔۔۔
روحا پیسے لاتی اس کے ہکا بکا چہرے کی طرف دیکھ اس پر وارتی مسکراتی ہوی بولی تھی ۔۔۔
ک۔ک۔کس کا بے بی ہادی ۔۔
روشانے غصے اور دھڑکن پر قابو پاتی حدید کی طرف دیکھ ہکلاتی بولی تھی ۔۔
ہمارا بے بی جانی بلکل تمہارے جیسی ہو گی ہماری بیٹی ۔۔۔
حدید جلدی سے اسے کمر سے پکڑتا مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
ل۔لیکن ماما و ۔۔
ارے روشن دان آو روم میں چلے ماما نے بتایا تھا خیال رکھنا ہے تمہیں ۔۔۔
اس سے پہلے وہ آپے سے باہر ہوتی کچھ کہتی جب وہ جلدی سے اسے اٹھاے جاتا بولا تھا ۔۔۔
میں آپی کے لیے جوس لے کر جاتی ہو ۔۔
زینب خوشی سے پاگل ہوتی جلدی سے کچن کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔
سب ہی بہت خوش تھے کیونکہ سالوں بعد آفندی پلیس میں پھر سے بچے کی آواز گونجے گی ۔۔۔
بڑے بابا آپ کی سمجھاے اب بابا کو ۔۔۔
وقار نوفل کی طرف دیکھ پریشان ہوتا بولا تھا جہاں شیعب غنودگی میں بھی صرف رعنا کو پکار رہے تھے ۔۔۔
و۔وہ مار دے گا میرے بچوں کو پہلے رعنا اب وقار میں نہیں کھونا چ۔۔۔
شششش ریلکس کچھ نہیں ہو گا سب ٹھیک ہے تم ٹیشن مت لو ۔۔۔
رعنا ہماری بچی ایول کے پاس محفوظ ہے وہ اسے کچھ نہیں ک۔۔۔
تم کچھ نہیں جانتے میں جانتا ہو وہ کیسا انسان ہے جو انسان اتنے رش میں میری بیٹی کا خون خرابہ کر لے کر جا سکتا ہے وہ اکیلے میں کیا کرتا ہو گا ۔۔
نوفل انہیں سمجھا رہے تھے جب وہ طش سے بولے ۔۔۔
مجھے یقین ہے وہ درد نہیں دے گا ا۔۔۔
ملے بھی ہو اس سے بلاوجہ خودی بول رہے ہو تم کچھ نہیں جانتے ا۔۔۔
ملا ہو اس سے بلکہ ان دونوں کا نکاح میں نے ہی کروایا ہے میں گواہ ہو ان کے نکاح کا ۔۔۔
وہ بول رہے تھے جب شیعب خان بولے تو وہ پھر طش سے چلاے تھے۔۔۔
بڑے بابا لیکنننننن کیوںںںںںں۔۔۔
وقار غصے سے چلایا تھا جبکہ شیعب کی بولتی بند ہو چکی تھی ۔۔۔
اگر میں ان دونوں کا نکاح نہ کرواتا تو ایول اپنے غصے میں وہ گناہ کر جاتا جو اسے نہیں کرنا چاہے تھا ۔۔۔
اس برای کے راستے کے بادشاہ کو گناہ سے بچانے کے لیے تو نے میری معصوم سی بچی اس کے حوالے کر دی ۔۔۔
شیعب خان ان کا گربیان پکڑتے درد سے بولے تھے۔۔۔
ابھی تم دونوں غصے میں ہو میری بات نہیں سمجھو گے ۔۔۔
اگر رعنا اس کی بیوی نہ ہوتی تب ایول اس پر زرا رحم نہیں کھاتا لیکن وہ بیوی ہے اس کی وہ زیادہ نہ سہی لیکن کم تو سوچے گا ہی اسے درد دیتے وقت کہ وہ اس کی عزت ہے ۔۔۔
وہ حفاظت کرے گ۔۔۔
دشمن کبھی اپنے دشمن کی حفاظت نہیں کرتا بڑے بابا اور یہ بات شروع سے جانتے ہے ان دونوں کی آپس میں کبھی نہیں بنی ۔۔۔
نوفل بول رہے تھے جب وقار لال چہرہ لیے بولا تھا ۔۔۔
دوست سے زیادہ دشمن اپنے رقیب کی پرواہ کرتا ہے تاکہ وہ طاقت سے لڑ سکے ۔۔۔
ایول نے کبھی دوستی میں ملاوٹ برداشت نہیں کی یہ تو پھر اس کی اکلوتی دشمن تھی ۔۔۔
تمہیں اگر میری باتوں پر یقین نہیں ہوتا تو یہ سوچ لیا کرو وہ ڈیول کا بیٹا ہے ۔۔۔
ڈیول کا بیٹا ہے تبھی ڈر لگتا ہے مجھے ڈیول کے دل میں زرا رحم تو تھا سب کے لیے لیکن ایول کے پاس رحم تو دور دل تک نہیں ہے وہ پھتڑ دل انسان ہے ۔۔۔
نوفل اٹھ کر بولے تھے جب وہ بھی کرب سے ٹرپتے ہوے بولے تھے ۔۔۔
ان کا رونا بے بسی دیکھ وقار کو زیادہ غصہ آ رہا تھا ایول پر ۔۔۔
خیال رکھنا اپنے بابا کا ابھی یہ کچھ نہیں سمجھے گا ۔۔
نوفل اٹھتے ہوے وقار کی طرف دیکھ بولتے باہر تھے ۔۔۔
دیکھو سکون سے بیٹھ جاؤ میں جانتا ہو ابھی اسٹارٹ ہے لیکن اختیاط کرنا ضروری ہے ۔۔
جدید اسے روم میں لاۓ بیڈ پر بیٹھاے بولا تھا۔۔۔
جبکہ وہ گم سی وہی بیٹھتی اسے دیکھ رہی تھی جو مسکراتا ہوا اسے ہی دیکھ مسلسل بول رہا تھا۔۔
مجھے یہ بچہ نہیں چاہے یہ گناہ ہے ہادییییی۔۔۔
اچانک وہ اپنے بالوں کو ہاتھوں سے نوچتی چیخی تھی ۔۔۔
لیکن مجھے چاہے یہ بے بی میرا ہے ۔۔
وہ مسکراتا اس کے قریب اتا نرمی سے بولا تھا۔۔۔
ی۔یہ تمہارا گناہ میں نہیں سہہ سکتی نہیں چایے تو نہیں چاہے سنا تم نے مجھے اس حال تک لانے میں تمہارا قصور ہے ۔۔۔
اس کی شرٹ کا کالر پکڑے وہ روتی ہوی بولی تھی ۔۔۔
اپنا گناہ مانا بھی ہے کون سا مکر گیا ہو یہ بچہ میرا ہے حدید صام آفندی کا سمجھی تم ۔۔۔
اسے دنیا میں لاو میں خود پال لو گا اسے۔۔
اس کے گال کو چھوتا وہ نرمی سے بولا تھا ۔۔۔
تم سمجھتے کیوں نہیں کیا جواب دو گی سب کو یہ بےبی کیسے ہو۔۔۔۔
اج سے تم وہی بولو گی جو میں کہو گا تم اس بچے کو لے کر شرمندہ مت ہو میں اگر شرمندہ نہیں تم بھی نہ ہو ۔۔۔
بلاوجہ بولتی ہو سکون سے رہو۔۔۔
روشانے اسے گھورتی ہوی بول رہی تھی جب وہ اس کے لبوں پر انگلی رکھتا بولا تھا ۔۔۔
جان سے مار دو گی تمہ۔۔۔
شوق سے مارو ۔۔۔
وہ بے بس ہوتی بول رہی تھی جب وہ اس کی تھوڑی کو چومتا بولا تھا۔
بکواس انسان ہو۔۔۔
اپنے بکھرے بال سمٹتی وہ ہلکا سا مسکراتے بولی تھی۔۔
تم سب سے اچھی لڑکی ہو روشنی ۔۔۔
اس پر جھکتے وہ بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
ب۔بھوک لگ۔لگی م۔۔۔
پہلے میں اپنی بھوک پوری کر لو ۔۔۔
وہ گبھراتی ہوی بول رہی تھی جب وہ کہتا اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔
اب فضول مت سوچنا ۔۔
اسے نرمی سے چھوڑے وہ کہتا ہوا باہر چلا گیا تھا کیونکہ ڈور پر زینب جوس کا گلاس لاتی کھڑی تھی ۔۔۔
ا۔اگر جوس نہیں پینا تو میں چلی جاو آپو ۔۔
زینب اندر آتی روشانے کا حیا سے لال چہرہ دیکھ گھبراتی بولی تھی ۔۔۔
و۔وہ یہ نہیں پینا تم رہنے دو ۔۔۔
روشانے جلدی سے بیڈ سے اٹھتی ہوی بولی تھی اپنی حالت اس کے سامنے بکھری دیکھ وہ شرمندہ ہوی تھی ۔۔۔
تم نے جو کھانا کھا لینا پھر ۔۔
اس کا گال چھوتی ہوی وہ مسکراتی بولی تھی ۔۔
ویسے تم بھی مجھے خالہ بنا سکتی ہو ۔۔۔
روشانے مذاق کرتی اسے تنگ کرتی بولی تھی ۔۔۔
و۔وہ بابا آنے والے ہے آ جاو ۔۔۔
زینب جلدی سے گھبراتی ہوی باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔
ہاہہاہہاہاہاہہا۔۔
روشانے کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
یہ ایک بار کلب تھا جس میں بڑے سے بڑا امیر کیبر سیاست دان بزنس مین ہر بڑی شخصیات یہاں آئ تھی ۔۔۔
انہی میں سے ایک شخصیات ملک رحمان تھا جس کے آنے کی خبر فارس کے آدمیوں نے دی تھی اسی کا کام تمام کرنے ایول یہاں آیا تھا ۔۔۔
وہ اکیلا بھی آ سکتا تھا لیکن مسلسل دو ماہ کے ڈھونڈنے کے بادجو وہ پاکستان میں نہیں ملا تھا انہیں ۔۔۔
کلب آنے کی شرط تھی وہاں صرف کپل آ سکتے تھے تبھی اس نے رعنا کو ساتھ لانا ضروری سمجھا تھا لیکن اس کا پردہ دیکھ وہ پلان چینج کیے زوبی کو لے آیا تھا ۔۔
اب سامنے ان مردوں کے درمیان پریشان سی رعنا کو دیکھ ایول نے شدید غصے سے دانت پیسے تھے اسے امید نہیں تھی وہ یہاں آے گی ۔۔۔
باظاہر تو وہ سکون سے بیٹھا شراب پینے میں بزی تھا لیکن اندر سے وہی جانتا تھا وہ سامنے والے کو کیسی موت دینی ہے ۔۔۔
جب عقل بانٹی جا رہی تھی تھوڑی سی اپنی اس دوست کو بھی دینی تھی ۔۔۔
تاکہ وہ عقل مند ہو جاتی ۔۔۔
کان میں لگے بیلو توتھ میں بولتے اس نے حدید کو سنایا تھا ۔۔۔
جو ایول کے سکرٹ روم میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر ٹائپنگ کر رہا تھا ۔۔۔
کس کی بات کر رہے ہو لالہ ۔۔۔
فارس کی طرف دیکھ وہ بزی سا بولا تھا جو خود بھی لیپ ٹاپ لیے سنیجدہ سی شکل بناے کام کر رہا تھا ۔۔۔
اسی کی جو ہماری اکلوتی دشمن ہے ۔۔۔
ایول سامنے دیکھ مسلسل طش سے غرایا تھا ۔۔۔
جہاں رعنا ابھی بھی آنکھیں بند کیے رونے میں بزی تھی ۔۔۔
دیکھو ایول غصہ کنٹرول کرنا ہماری محنت ضائع ہو جاے گی رحمان کو زندہ پکڑنا ہے باقی رعنا وہاں کیوں آی ہم نہیں جانتے بس کنٹرول کرنا اپنے آپ پر ۔۔۔
فارس جلدی سے ایول کو سمجھاے بولا تھا وہ جانتا تھا وہ کتنا غصے کا تیز بندہ تھا ۔۔۔
رحمان کو اس کی سزا دینی ہے جس کا کام تم نے ہمیں دی اب وہ زندہ رہے یا نہیں تمہارا مسئلہ نہیں ہے ۔۔۔
شیر کو اپنا شکار جب دیکھتا ہے وہ اس کی چھڑ پھاڑ ہی کرتا ہے ۔۔
ایول اب کنٹرول سے باہر ہوتا اپنے بھاری قدم اٹھاے رعنا کی طرف جاتا غرایا تھا ۔۔۔
ایول ایول سنو وہ بار کلب آ گیا ہے بس تھوڑا سا ویٹ ایول سن رہے ہو ایولللللللللل۔۔۔
اس کی بات کا مطلب سمجھتے فارس بول رہا تھا جب برا سا منہ بناے ایول نے بیلو توتھ کان سے نکال کر باہر گرایا تھا ۔۔۔
فارس مسلسل چیخ رہا تھا ۔۔۔۔
کان کے پردے نہ پھاڑوں وہ نہیں سنے گا پہلے ہی کہا تھا اسے یہ کام مت کہنا اب دیکھو ۔۔۔
بین مسکراتا اپنے کان میں انگلی ڈالا بولا تھا ۔۔۔
تم نے ہی ناچ ناچ کر کہا تھا ایول کو کہو یہ کام اب دیکھو مجھے وہ زندہ چاہے تھا ۔۔۔
فارس اسے مکہ مارتا بے بسی سے غرایا تھا ۔۔۔
یہ دیکھو انجکشن ایول نے کہا تھا تمہیں لگاو۔۔۔
لیکن میں سوچ رہا لالہ کو دوکنے تم جاو تمہارے پاس صرف تیس منٹ ہے جانا چاہو تو جا۔۔۔۔۔
مر جاو تم منحوس انسان ۔۔۔
تینوں بہن بھای پاگل ہے میں کیسے بھول جاتا ہو تم تینوں صام انکل کے نمونے ہو ۔۔۔
حدید اس کا مذاق بناتا ہوا بول رہا تھا جب فارس جلتا بھونتا ہوا باہر جاتا بولا تھا ۔۔۔
اگر تم مر گے لالہ کے ہاتھوں تو بریانی منوانا ہماری فیورٹ ہے ۔۔۔
حدید ہانک لگاے سکون سے بولا تھا ۔۔۔
جبکہ فارس اپنی براون ہڈی پہنے پیلسں سے باہر جا رہا تھا ۔۔۔
کب یہ لڑکی اکیلی ملے گی ۔۔۔
سوہا کی پک دیکھتا رحمان اپنے کلب کے روم میں بیٹھا شراب پیتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
اپنی پہلی فکیٹری کو سیل کرواتے میجر فارس کا دشمن بن گیا تھا جب اسے یہ پتہ چلا تھا فارس کی بیوی سوہا جنرل صام آفندی کی بیٹی ہے تب سے وہ بدلہ لینے کے لیے پاگل ہو چکا تھا ۔۔۔
س۔سر وہ اکیلی نہیں رہتی یا تو ہر وقت اس کا اپائچ شوہر ساتھ رہتا یا بھی جنرل صام خود اپنی بیٹی کے ساتھ رہتے ہے ہر وقت ۔۔۔
وہ کبھی اکیلی نہیں نکلی ۔۔۔۔
اس کا آدمی سر جھکاے بولا تھا ۔۔۔
اس آفندی فمیلی کو زیادہ ہی شوق ہے مجھ سے پنگا لینے کی ۔۔۔
اب وہ زینب کی پک نکالے طش سے بولا تھا ۔۔۔۔
س۔سر ایک آدمی ہے جو ہمارا کام کر سکتا ہے ۔۔۔
کون ہے وہ ۔۔۔
اس کا آدمی بولا تھا جب وہ جلدی سے بولا تھا ۔۔۔
ا۔ایول گروجی کا رائٹ ہائنڈ ۔۔۔
وہ سر جھکاے ڈرتا بولا تھا ۔۔۔۔
کدھر ملے گا اس سے بات کرو مجھ سے ملنے آے ۔۔۔
وہ جلدی سے بولا تھا ۔۔۔
آپ کو خود بات کرنی ہو گی اس سے کیونکہ وہ کسی سے نہیں ملتا ۔۔۔
وہ بھی جلدی سے بولا تھا ۔۔۔
ہاں مل لو گا ان دونوں کی موت کے لیے مل لو گا تم رابطہ کرو ۔۔۔
سر اس کو موت کیوں دینی اس نے ویڈیو نہی۔۔۔
اس لڑکی نے وہ ویڈیو جنرل صام کو دے دی ہے جنرل صام نے میری ساری فیکڑیوں کو سیل کروا دیا ہے اور اس کا وہ شوہر ایس پی اس نے میرے آڈے کے پانچ ہزار آدمی اپنی گرفت میں لیے ہے ۔۔۔
سب نے جینا حرام کیا ہے میرا ۔۔۔
وہ مسلسل طش سے بولا تھا ۔۔۔۔
کب آی آپ آغا ۔۔۔
روم میں مسکراتی امن اندر ای سامنے کھڑے احمد کو دیکھ بولی تھی ۔۔
جو آفس سے آے اب کندھوں سے شال اتار رہا تھا ایول بین سے ملتے وہ آفس چلا گیا تھا تبھی وہ اب ایا تھا گھر ۔۔۔۔
ابھی آیا ہو ۔۔۔
امن کو اپنے قریب آتے دیکھ وہ نروس ہوتا بولا تھا ۔۔۔
اپ کو پتہ ہے ہادی لالہ کی بے بی آنے والا ہے ۔۔۔
امن اس کی شال اتارے اب اس کے کرتے کے بٹن کھولتے مسکراتی بول رہی تھی ۔۔۔
احمد کا ہر چھوٹا کام وہ خود اپنے ہاتھوں سے کرتی تھی اسے سکون آتا تھا اس کا کام کر کے جیسے احمد بھی کروا لیتا تھا اسے اچھا لگتا تھا امن کے چہرے پر خوشی کے رنگ دیکھ کر ۔۔۔
میں شرمندہ ہو اپنے کیے پر ۔۔۔
اس کی بات پر توجہ دیے بنا احمد اسے کمر سے پکرتا اس کے سر پر تھوڑی رکھتا شرمندہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
کس بات پر ۔۔۔
وہ اپنی گرے آنکھوں میں حیرانگی لاے اس کی گرین آنکھوں میں دیکھ بولی تھی ۔۔۔
و۔وہ جو رات ہوا میں واقعی تمہاری اجازت سے کرنا چاہتا تھا ل۔۔۔۔
ہاہہاہہاہاہہاہاہاہاہاہاہ۔۔ کیا آغا آپ بھی نہ میں سمجھی کون سی گناہ کر لی آپ نے ۔۔۔
احمد اس کا خوبصورت حیا سے لال ہوتا چہرہ دیکھ بول رہا تھا جب وہ قہقہ لگاتی اس کا گال چومتی بولی تھی ۔۔۔
تم ناراض نہیں ہو کیا ۔۔۔
احمد شوک ہوتا بولا تھا ۔۔۔
نہیں کیوں ہونا تھا ۔۔۔
امن اس کی گردن میں بائیں حائل کرتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔
عیجب پاگل لڑکی ہو ۔۔۔
احمد اسے کمر سے پکڑتے بولا تھا ۔۔۔
ہاں جس پاگل لڑکی کا عشق مکمل ہو جاے جاے وہ عیجب ہی ہوتی ہے میں ایسا ہی ہو ۔۔۔
آپ کی قربت پا کر میں بہت خوش ہو ۔۔۔
ایسا لگ رہا جیسے پوری دنیا پا لی ہو میں نے ۔۔۔
امن شرماتی اور مسکراتی بول رہی تھی ۔۔۔
میرا سر پھٹ جاے گا جب لگتا تم بڑی ہو گی تبھی بچوں والی بات کہہ دیتی ہو اففففف ۔۔۔
امن کے ماتھے پر ہاتھ مارتے وہ مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
اپ کو عشق نہیں ہوی تبھی بول لیتے ہ۔۔۔
میں بھی سوچ رہا تھوڑی سی عشق کر ہی لو ۔۔۔
وہ سارا دن الجھا تھا امن کو لے کر کہ وہ کیا جواب دے گا اسے لیکن اب وہ اسے ہنستا مسکراتا دیکھ اچانک دل کا بوجھ کم ہوتے وہ بھی مسکراتا امن کو اپنے بے حد قریب کرتا سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔
ک۔کس سے ۔۔۔
گرے آنکھیں شرم سے جھکاے وہ گھبراتی بولی تھی ۔۔۔
جب کرو گا ت۔۔۔۔
یہ کیا کر دیا مہررانی ۔۔۔۔
احمد شرراتی انداز میں بول رہا تھا جب اسے ہال میں مہر کے چلانے کی آواز گونجی تھی ۔۔۔
وانیہہہہہ۔۔۔
احمد سب بھلاے اب طش سے چلاتا نیچے کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔۔
آغا آغا ۔۔۔
احمد کا غصہ دیکھ امن پیچھے گی تھی وہ جانتی تھی مہر کو کوی نہیں بچاے گا اس کے ہاتھوں ۔۔۔
ہو گیا تم لوگوں کا ۔۔۔
وہ دونوں رعنا کو تنگ کر رہے تھے جب وہ سکون سے پیچھے کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔۔
آنسوں سے بھری نیلی آنکھوں سے اسے گھورا تھا اس نے ۔۔۔
تو کون ہے جا یہاں سے ۔۔۔
شراب میں دھت وہ اسے دیکھ بولے تھے ۔۔۔۔
پتہ نہیں کہاں سے لوگ اٹھ کر آ جاتے ہے جاو یہاں سے اور بھی لڑکیاں ہے ان ٹرای ک۔۔۔۔
وہ اسے اگنور کیے بولتے رعنا کے شولڈر پر ہاتھ رکھنے والے تھے جب وہ چلتا ہوا ان کے درمیان آتا رعنا کے سامنے کھڑے ہوتا اس پر اندھیرہ کر چکا تھا ۔۔۔۔
یہ کام تم لوگ بھی کر سکتے ہو ۔۔۔
لبوں کو شراب کا گلاس لگاتے وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔
اس سائیڈ پر کم روشنی تھی جس کی وجہ سے انہیں بس اس کی لال گرین آنکھیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔
ہمیں یہی چاہے ا۔۔۔
اہہہہہہ چچچچ ٹوٹ گیا ۔۔۔
روتی رعنا نے اپنے ننھے سے ہاتھ ایول کے سینے پر رکھتے اس کی پیشت سے لگتی کانپ رہی تھی ۔۔۔
اپنے دل کے مقام پر اس کا ہاتھ محسوس کیے ایک پل کو ہارٹ بیٹ مس ہوی تھی ۔۔۔
لیکن وہ دوبارہ سردپن میں آتا ان کی بات اگنور کرتا وہ شراب کا گلاس دونوں کے پاؤں پر گراتا بولا تھا ۔۔۔۔
تم جانتے نہیں ہو ہمیں ہم کس کے آدمی ہے ا۔۔۔۔
ایول مسلسل ان دونوں کے چلتے ہاتھوں کو گھورتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ان ہاتھوں کو یوز کیا تھا تم لوگوں نے ۔۔۔
وہ کھڑے بول رہے تھے جب ایول دونوں کے پیٹ میں لات مارتا اپنے قدموں میں گراتا بولا تھا ۔۔۔۔
ٹوٹے شیشے پر ان دونوں کے ہاتھ تھے جب اپنے بھاری پاؤں بلیک لونگ شوز میں قید ان پر رکھتا ان کے ہاتھ کچلتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
م معاف ک کر۔۔۔۔
ا۔ایول س۔سرررررر
۔۔۔
وہ اتنے شور میں ترپتے بول رہے تھے جب انہیں پاؤں سے سیدھا کرتے وہ روشنی میں آتا دونوں کے سینوں پر پاؤں رکھے کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔۔
جب وہ ڈرتے ہوے بولے تھے ایول کو سب ہی جانتے تھے ۔۔۔
تبھی اسے دیکھ کر کوئ ڈر جاتا تھا ۔۔۔۔
تم لوگوں کو ریسٹ کی ضرورت تھی ۔۔۔
اپنے پاؤں دونوں کی شہ رگ پر رکھتے دباو بڑھاے وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔
اپنے اتنے قریب موت کو دیکھ وہ اپنی آخری سانس بھی ختم کر چکے تھے ۔۔۔۔
لیکن وہ یہ منظر دیکھنا نہیں بھولے تھے جہاں وہ حیوان دیو کی لال گرین آنکھوں کے سینے پر سفید ننھے ہاتھ اور اس کے پیچھے کھڑی اس کی روتی نیلی آنکھیں جو ان کو مرتا دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
نیلی اور گرین آنکھیں انہوں نے ایک ساتھ دیکھی تھی جس کی ایک کی آنکھ میں خوف جبکہ دوسری میں سردپن تھا ۔۔۔۔
کیوں آی ہو یہاں مولانی ۔۔۔
انہیں وہی چھوڑ وہی جلدی رعنا کی طرف گھومتا ہوا بولا تھا جو روتی اسی کے سینے سے لگی تھی ۔۔۔
چلو یہاں سے بس رونا آتا تم لڑکیوں کو ۔۔۔
کمر سے پکڑتے وہ سڑھیاں چڑتا ہوا اسے ایک روم میں لے کر گیا تھا ۔۔۔۔
یار مہررانی طیبعت نہیں ٹھیک تو کام مت کرو جانتی ہو مجھے غصہ آ جاتا ہے ایسے پھر ۔۔۔
مہر جلدی سے وانیہ کو کمر سے پکڑتے بولا تھا ۔۔۔
وہ روشانے کی نیوز سنتی ابھی آی تھی جب زینب کے ساتھ کچن گی تھی مہر ابھی دورہ بیگم سے ملتا ہوا ہال میں آ رہا تھا جب سامنے سے آتی وانیہ کو دیکھ چیخا تھا ۔۔
جو ہاتھ میں پانی کا گلاس لیے کچن سے باہر اتی قالین سے پاؤں اٹکتے وہ ٹیبل لیب سے ٹکڑاتی گرتے ہوے بچی تھی جب مہر نے بھاگ کر اسے کمر سے پکڑتے چیخا تھا ۔۔۔
جبکہ نیچے گرا لیب کرنٹ چھوڑ رہا تھا ۔۔۔
اففف مہر تمہارے کام کرتے مجھے کچھ نہ۔۔۔۔
ہمت بھی کیسے ہوئ میری بہن پر چلانے کی ۔۔۔۔
وانیہ جلدی سے اس سے دور جاتی مسکراتی بول رہی تھی جب سڑھیوں سے غصے میں نیچے آتا بنا کسی کی سنے مہر کو گردن سے دبوچتے احمد غرایا تھا ۔۔۔
لال۔لالہ کیا ہو گیا اتنا غصہ کیوں چھوڑے مہر کو ۔۔۔
وانیہ جلدی سے احمد کو دیکھ گھبراتی بولی تھی ۔۔۔
یہ تم سے آونچی آواز سے کیوں بولا مجھے پسند نہیں میری بہن کے ساتھ کوئ ایسے بات کرے ۔۔۔
احمد ویسے ہی کھڑا مہر کو لیے بولا تھا ۔۔۔
کچھ نہیں ہوا تھا لالہ مہر نے بچایا تھا مجھے گرنے والی تھی ۔۔۔
احمد کو مہر سے دور کرتی وانیہ چیختی بولی تھی ۔۔۔
ت۔تم ٹھیک ہو بچہ زیادہ چوٹ تو نہیں آی ۔۔۔
احمد اسے چھوڑے اب وانیہ کی طرف دیکھ فکرمندی سے بولا تھا ۔۔۔۔
آپ زرا غصہ کنٹرول کرنا سکھے آغا ۔۔۔
امن مہر کا لال ہوتا چہرہ دیکھ اس کے قریب اتی اب احمد پر دھاڑی تھی ۔۔۔
اسے بہت غصہ تھا احمد پر جو بنا سنے مہر کی گردن کو دبوچے کھڑا تھا ۔۔۔
تمہارے بھای کی ہمت کیسے ہوی میری معصوم سی بچی پر چیخنے کی ۔۔۔
وہ ارام سے بات بھی کر سکتا تھا ۔۔۔
احمد امن پر اب غرایا تھا پورے پلیس میں اس کی گونج سن رہی تھی ۔۔۔۔
آرام سے بات کرے بہن ہے میری ا۔۔۔۔
نہیں کرتا میں آرام سے بات تم اپنی حد میں رہو بیوی ہے وہ میری ۔۔۔۔
مہر بھی طش میں آتا بول رہا تھا جب وہ اس پر دھاڑتا بولا تھا ۔۔۔۔
پھر وانی بھی بیوی ہے میری لالہ کی ۔۔۔
جیسے وہ آپ کی بہن ہے ویسے میں بھی بہن ہو اپنی لالہ کی ہر وقت غصہ رعب اچھا نہیں لگتا ۔۔۔
جیسے اپ کو اپنی بہن عزیز ہے ویسے میری لالہ کو میں عزیز ہو سب کی بہینں ہوتی ہے ۔۔۔۔
امن دوبارہ احمد کے سامنے اتی کرب سے چیخی تھی ۔۔۔۔
احمد کا منہ بند ہو گیا تھا وہ صیح ہی کہہ رہی تھی اپنی بہن کے لیے وہ چیخا تھا جبکہ اس کی بیوی کا بھای بھی تو چیخ سکتا تھا لیکن وہ سکون سے کھڑا تھا ۔۔۔
بھاہیوں کو فکر ہونی چاہے آغا یہ اچھی بات ہے لیکن اس کا مطلب نہیں ہے آپ ہر وقت مہررانی کی فکر کرتے رہے وہ میری ذمہ داری ہے آپ کی ذمہ داری میری بہن ہے ۔۔۔
اس کی حفاظت کرے وانیہ کی فکر مت کرے۔۔۔
مہر آگے بڑھاتے احمد کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔
ہمممم تم بھی اپنا خیال رکھا کرو ۔۔
احمد بنا شرمندہ ہوتا وانیہ کے سر پر ہاتھ رکھتا بولا تھا ۔۔۔
دنیا میں تین ہی لوگ ہے جو اپنے کیے پر شرمندہ نہیں ہوتی ۔۔۔ صام آفندی ۔۔احمد آہان آفندی ۔حازم صام افندی انہہہہہ۔۔۔
امن مہر کے کان میں سرگوشی کرتی بولی تھی جبکہ اس کے لفظ احمد کو سن گے تھے ۔۔۔
تم زرا روم میں آو بتاو شرمندہ کون ہے ۔۔۔
احمد اسے گھورتا ہوا کہتا واپس روم میں جاتا بولا تھا ۔۔۔
لالہ میں گھر ا جا۔۔۔۔
بلکل نہیں بھابھی جان اب جاے میرے لالہ بلا رہے ہے ۔۔۔۔
امن اس کی بات کا مطلب سمجھتے مہر کا ہاتھ پکڑے بول رہی تھی جب وانیہ شرراتی انداز میں بولی تھی ۔۔۔
میں اگر بچ گی تو کل پوچھو گی تم سے جاہل عورت ۔۔۔
ہاہہاہاہہاہاہاہہاہاہاہ۔۔۔
امن وانیہ کو دھمکی دیتی برا سا منہ بناے جاتی بولی تھی جب مہر اور وانیہ کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔۔
سوری مہر وہ لالہ ا ۔۔
کوئ بات نہیں مہررانی سمجھ سکتا ہو بہنوں کے لیے بھای ایسے ہی ہوتے ہے غلطی میری ہی ہے مجھے ایسا چیخنا نہیں چاہے تھا ۔۔۔
وانیہ مہر کے سینے سے لگی بول رہی تھی جب وہ اسے گود میں اٹھاے باہر جاتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
وانیہ مسکراتی اسی کے سینے میں منہ چھپا گی تھی ۔۔
کیا کر رہے ہو کپڑے نہیں ہے میرے پاس یہ پاگل ہو گیا ہے ۔۔۔
سنہری بالوں کا بن بناے وہی ریڈ ڈریس پہنے جو ایول نے دیا تھا اس کے ساتھ ریڈ حجاب کیپری پہنے ہلکے سے میک کیے وہ یہاں آی تھی لیکن اب ایک روم میں ایول کے ساتھ آتے اب واش روم جاتے دیکھ وہ مسلسل دل میں بولی تھی ۔۔۔
جو اسے واش روم لاتا اب شاور کے نیچے کھڑا کر چکا تھا ۔۔۔۔
پاگل ہم نہیں تم ہو جو یہاں منہ اٹھا کر آ گی ہو ہمارے لیے میصبت بن کر ۔۔۔
کپڑوں کی ٹیشن مت لو آ جاے گے ۔۔۔
ایول اپنی ہڈی اور شرٹ اتارے سکون سے بولا تھا ۔۔۔
رعنا کا منہ کھولا تھا اس کی بات سن کر وہ کیسے سمجھ گیا اس کے دل کی بات ۔۔۔
کیا کر رہے ہو۔۔۔
ایول کا برہنہ سینے پر نیلی سرخ رگیں دیکھ اور خود کے قریب آتے اسے اس کا حخاب کھولتے وہ دل میں ڈرتی بولی تھی ۔۔۔
باتھ لینا ہے ہم نہیں چاہتے ان کا لمس تمہارے وجود پر رہے ۔۔۔
حجاب کھولے اب وہ اس کے ڈریس پر لگی پٹی کو کھولتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
اپنی ڈریس کو شولڈر سے سرکتا دیکھ اب وہ اسے پکڑتی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
ایول کو اس کی نیلی آنکھوں میں بے شمار سوال دیکھے تھے جو ڈری سہمی اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
باتھ لے کر چینج کروانا ہے بس اتنا مت گھبراؤ۔۔۔
وہی پٹی اس کی آنکھوں پر باندھتے اب وہ واش روم کی لائٹ آف کرتا شاور آن کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
اپنے اوپر گرم پانی کی بارش محسوس کرتے رعنا نے گھبراتے پاس کھڑے اندھیرے میں ایول کے سینے سے لگی تھی ۔۔۔۔
گرم پانی کی ٹپ ٹپ کی آواز کے ساتھ ایول کو رعنا کی تیز چلتی سانسوں کی آواز سنای دے رہی تھی جو چپک کر ساتھ لگی تھی اس کے سینے سے ۔۔۔
تمہاری خاموشی بھی شور مچاتی ہے افففف۔۔۔
شاور بند کرتے اب وہ پاس پڑے ٹاول سے اس کے بالوں کو کور کیے اب اپنی وہائٹ شرٹ اسے پہناتے بولا تھا ۔۔۔
جو ویسے ہی اندھیرے میں اس کے سینے سے لگی کھڑی تھی ۔۔۔
ابھی ہم چاہے تمہیں سزا دے سکتے ہے لیکن ہمارا وقت ضائع ہو جاے گا پلیس جا کر پوچھے گے تمہیں ۔۔۔
اب یہی سکون سے رہنا سوپ آڈر کیا ہے وہ آجاے گا تمہیں سکون آے گا ۔۔۔
لائٹ ان کیے اب وہ رعنا کا بھیگا چہرہ اور حیسن روپ دیکھ کر سکون سے بولا تھا ۔۔۔
جو لال ہوتے چہرے کو جھکاے کھڑی تھی ۔۔۔
وہ ایول کے پورے کپڑے پہنے کھڑی چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی ۔۔۔
اففففف میں سہی کہتی ہو اسے برفانی ریچھ اس وقت باتھ لے کر بھی اسے سردی نہیں لگ ۔۔۔
رعنا نے نظریں آٹھای تھی جب سامنے ہی صرف باتھ روب پہنے ایول کو دیکھ جلدی سے نظریں چرہاے دل میں سوچا تھا ۔۔۔
برفانی ریچھ کو سردی نہیں لگتی مولانی عرف جنگلی بلی ۔۔۔۔
ایول اب اس کے قریب آتا اس کے قدموں میں جھکتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
رعنا کو شرم آی تھی وہ دیو جیسا ملک شخص قدموں میں بیٹھا اب اس کی پنٹ ٹھیک کر رہا تھا جو اس کی ٹانگوں پر کافی بڑی تھی ۔۔۔۔
اتنی سردی میں بھی تمہارے پیسنے چھوٹے ہے ۔۔۔
واپس کھڑے ہوتا اب وہ اس کی شرٹ کے اندر ہاتھ ڈالے سکون سے بولتا اس کا سکون برباد کر چکا تھا ۔۔۔
رعنا کی نظریں اس کے بھاری سفید ہاتھوں پر تھی جو اس کی شرٹ فٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔
چلو جاو ہمیں کام ہے اب ۔۔۔
ٹاول اسں کے بالوں سے نکالے اب وہ اسے باہر نکلاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
“””دس منٹ بعد۔۔
ہاے ایول بےبی ۔۔۔
ایول جو ڈریس چینج کیے بلیک شرٹ پینٹ ہڈی میں ملبوس ہوتا روم کے باہر کھڑا کال میں بزی تھا جب زوبی اس کے قریب اتی بولی تھی ۔۔۔
اففف بے بی باتھ لینا تھا تو مجھے بھی بتا دیتے۔۔۔
ایول کے بھیگے براون بالوں کو دیکھتے وہ خودی بولی تھی جو چپ سا کھڑا آس پاس دیکھنے میں بزی تھی ۔۔۔
چلو کوئ بات نہیں باتھ نہ سہی ہم ڈانس تو کر سکتے ہے ایک ساتھ ۔۔۔
ایول کی گردن میں بائیں ڈالے اب وہ اس کے پیچھے دیکھتی بولی تھی جہاں زوبی کے بندے رعنا کو پکڑے گھیسٹتے لے کر جا رہے تھے ۔۔۔۔
ایول خاموش کھڑا زوبی کی حرکیتں دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ہمارے خیال سے واپس ج۔۔۔۔
رعنا نے بڑی کوشش کی تھی وہ کچھ بول سکے پر اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی ۔۔۔
ایول غیر محسوس سا فیل کرتا اپنی گردن موڑتے بول رہا تھا جب زوبی نے اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا ۔۔۔
وہ دور جاتی رعنا کو نہیں دیکھ سکا تھا ۔۔۔
اتنی بھی کیا جلدی ہے بے بی ۔۔۔
زوبی یہ کہتے خوش ہوتی اس کے لبوں پر جھکتی بولی تھی ۔۔۔
اس کی خوشی کی انتہا تو تب ہوی جب اپنی کمر پر اسے ایول کی گرفت مضبوط ہوتی محسوس ہوی تھی ۔۔۔
