Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 13)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 13)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
گہری نیند میں کروٹ لیتی وہ روکی تھی اسے نیند میں بھی اپنی گردن پر کسی کی سانسوں کی گرمائش محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
بخار سے بھاری ہوتی آنکھوں سے اس نے آنکھیں کھولی تھی۔۔۔
جب اپنے اوپر جھکے نیلی آنکھیں لیے دیکھتے وقار کو زینب کا سانس اٹکا تھا۔۔۔۔
آ۔آپ اہہہ۔۔۔
زینب چیختی ہوئ بول رہی تھی جب اس کے بھاری ہاتھ اپنے لبوں پر محسوس کیے وہ یک ٹک اسے ہی دیکھ رہی تھی جو اب دھیمی مسکراہٹ سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
ک۔کیوں آ۔آے ہے آپ۔۔۔
زینب کی رکتی سانسوں کو دیکھ وقار نے نرمی سے ہاتھ ہٹا لیا تھا جب وہ گہرے سانس لیتی اسے گھورتی بولی تھی۔۔۔
تمہاری کچھ چیزیں رہ گی تھی سوچا واپس کر دو۔۔۔
وقار سکون سے سائیڈ پر لیٹتا ہوا بولا تھا۔۔۔
اچ۔اچھا مل گی آپ جاۓ اب ۔۔
زینب جلدی سے اٹھتی ہوئ بولی تھی ۔۔
جانا کیوں ہے بیوی ہو میری تم ۔۔۔
وقار اسے بازوں سے پکڑے اپنے اوپر گرے سکون سے بولا تھا۔۔۔
ب۔بیوی ۔۔
زینب حلق تر کرتی بولی تھی۔۔۔
ہاں بہت رہ لیا تم سے دور لٹل ڈول اب تمہارے پاس آنا چاہتا ہو ۔۔
وقار اس کے لبوں پر انگلی پھیرتا ہوا بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
م۔میری کچھ شرط ہے آپ مان جاۓ تب ہ۔۔۔
ہر شرط منظور ہے ۔۔
زینب کچھ سوچتی بول رہی تھی جب وہ کروٹ چینج کیے آرام سے بولا تھا ۔۔۔
زینب کی آنکھیں باہر آی تھی۔۔۔۔
آ۔آپ مجھے چالیس لاکھ دے گے گفٹ م۔میں ۔۔۔
اس کی نظروں سے گھبراتی وہ نظریں چڑاہاۓ عیجب سی شرط رکھ چکی تھی ۔۔
منظور ہے لٹل ڈول ۔۔
وقار مسکراتا اس کی گردن چھوتا بولا تھا۔۔۔
و۔وہ آپ میرے قریب میری اجازت کے بنا ن۔نہیں آے۔گے جیسے اب آے ہے ۔۔
زینب اسے دور کرتی جلدی سے قابو پاتی پھر شرط رکھ چکی تھی ۔۔۔
وقار اس کی باتیں سنتا مسکرایا تھا۔۔۔۔
منظور ہے ۔۔۔
وقار کچھ سوچتا ہوا بولا تھا ۔۔
پ۔پھر کروا لے آپ رخصتی ۔۔۔
زینب ایکدم خوش ہوتی چہکی تھی جیسے کوئ پہاڑ سر کر لیا ہو اس نے ۔۔۔
اس کے چہرے پر خوشی کے رنگ دیکھتا وہ بے قابو ہوۓ اس کا گال چوم چکا تھا۔۔۔
بہت جلد ملے گے لٹل ڈول مجھے شدت سے انتظار ہے تمہارا ۔۔۔
وقار سرگوشی کرتا وہاں سے گم ہوا تھا۔۔۔
اس کی بات پر وہ پہلی دفعہ شرمای تھی ۔۔
تم مجھ سے شادی نہیں کرو گے فادی ۔۔۔
صبح سوہا سیدھا اس کے بنگلے آتی بولی تھی جہاں وہ بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا ۔۔۔
کیا ہو گیا سوہا تم جا۔۔۔
نہیں رہ سکتی تمہارے بنا تم ہاں کرو شادی کے لیے ۔۔
فارس اسے پرسکون کرتا بول رہا تھا جب وہ جنونی ہوتی چیخی تھی۔۔۔
ریلکس سوہا یہ تمہارا بچپنا ہے میری حالت دیکھو کیا دے سکتا ہو سواۓ رسوائ کی فارغ گھر بیٹھا ہو ایک کام کرنے کے لیے محتاج ہوا ہو ۔۔۔
تم مجھ سے بہتر اچھے انسان کا حق رکھتی ہو ۔۔۔
سوہا کے ہاتھ پکڑے وہ اسے پرسکون کرتا بولا تھا جب وہ اس کے قدموں میں بیٹھی تھی۔۔۔
مجھے کچھ نہیں چاہے فادی سواۓ تمہارے پیار کے میں تمہارے علاوہ کسی کا سوچ بھی نہیں سکتی تم ہاں تو کرو میں سب کو منا لو گی ۔۔۔
سوہا اس کی طرف التجا نظروں سے دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
دونوں ہی اس وقت بے بس تھے ایک اپنی محبت کی وجہ سے دوسرا اپنی معذوری کی وجہ سے ۔۔۔
کیا بنے گا ان کا مانی مجھے بہت فکر ہوتی ہے ۔۔۔
ہانیہ منان کی طرف دیکھتی پریشان ہوتی بولی تھی وہ دونوں ہی فارس کے روم کے باہر کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
ہمممم مجھے کچھ کرنا پڑے گا ۔۔۔
منان گہری سوچ میں ڈوبا بولا تھا۔۔۔
بابا میں ابھی وانی کی رخصتی نہیں چاہتا وہ بچی ہے ۔۔۔
احمد آہان کے روم میں آیا طش سے غرایا تھا۔۔۔
دیکھو میری بات سنو وانی اب اس کی امانت ہے تمہاری امانت امن ہے دو ہفتوں سے اوپر ہو گیا مہر روزانہ یہ سوال مجھ سے کرتا ہے رخصتی کا شوہر ہے وہ اس کا ۔۔۔۔
آہان اسے سمجھاتے بولے تھے۔۔۔
لیکن بابا وہ نکاح مجبوری میں ہوا تھا میں اپنی بہن کی حفاظت کر سکتا ہو اسے مہر کی ضرورت نہ۔نہ۔۔
مجبوری میں نکاح ہوا تھا لیکن محبت وہ دونوں کرتے ہے کیوں تم ان دونوں کو دور کرتا چاہتے ہو مت بھولو مہر ہی تھا جس نے ہماری عزت بچانے کے لیے نکاح کیا تھا۔۔۔
احمد بول رہا تھا جب وہ طش سے غراے تھے۔۔۔
جب مجھے لگے گا مہر مجھ سے زیادہ وانی کی حفاظت کر سکتا ہے میں اسی دن اسے رخصت کر دو گا ۔۔۔
احمد اپنی کہتا وہاں سے واک آوٹ ہو چکا تھا ۔
اففف یہ لڑکا سمجھتا کیوں نہیں وانیہ اب بچی نہیں رہی بڑی ہو گی ہے کسی کی بیوی بن چکی ہے ۔۔۔
آہان اپنا سر پکڑے پریشان ہوتے بولے تھے کیونکہ اس دن کے بعد احمد نے مہر کو آفندی پیلس نہیں آنے دیا تھا نہ ہی وانیہ سے بات کرنے دی تھی۔۔۔۔
لالہ دیکھو میں کیا لائ آپ کے لیے ۔۔۔
زینب حدید کے روم میں آی خوش ہوتی
بولی تھی۔۔
کیا لائ ہو یار کھانے کے لیے کوئ چیز ہے کیا ۔۔۔
حدید جلدی سے لیپ ٹاپ بند کرتا چہکا تھا ۔۔
کیا لالہ ہر وقت کھانے کا رہتا ہے میں یہ پرفیوم لائ تھی آپ کے لیے ۔۔۔
زینب پہلے منہ بناۓ پھر چہکتی بولی تھی اپنے ہاتھ میں پکڑے بوکس کو وہ بیڈ پر رکھ چکی تھی۔۔۔۔
کام بولو اپنا ۔۔۔
حدید بوکس لیتا اس میں سے Dark Night کا پرفیوم نکالے بولا تھا۔۔۔۔
جانتا تھا اپنا کام کروانے کے لیے اکثر امن سوہا زینب وانیہ ایسی رشویتں دیتی تھی ۔۔۔۔
و۔وہ لالہ م۔مجھے ایک ڈریس لینا تھا روشانے کو کہا وہ کہتی اسے اپنی دوست کے گھر جانا آپ۔۔
ہاں چلو لے دیتا ہو وانی کو بھی بلا لو بلکہ امن اور مس مرچی کو بھی بلاٶ یار کافی دن ہو گے لڑکیوں نے حدید صام آفندی کا حسن نہیں دیکھا ۔
زینب بول رہی تھی جب حدید چہکتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ہاے لالہ تبھی آپ مجھے اتنے اچھے لگتے ہے سب کا دل رکھتے ہے پتہ نہیں روشنی آپی کو آپ برے کیوں لگتے ہے ۔۔۔۔
زینب خوشی سے چہکتی بولی تھی۔۔۔
جو پاگل ہوتے انہیں ہر کوئ برا لگتا ہے خیر تم سب کو بلاٶ ۔۔۔
حدید اسے ہگ کیے پیار سے بولا تھا۔۔۔
سب کزنز کا وہ فیورٹ اور لاڈلا بھای تھا امن سوہا زینب وانیہ سب کی بات وہ آرام سے سنا لیتا تھا بلکہ ان کا ہر وہ کام کرتا تھا جو اکثر لڑکیاں کرتی تھی ۔۔۔
کبھی کبھی تو سوہا کے بھی کپڑے وہ خود ہی پریس کردیتا تھا۔۔۔
رعنا کا بھی اکلوتا دوست تھا وہ جس سے وہ اپنی ہر بات شیئر کر لیتا تھا ۔۔۔
وہ منان انکل نے سب بڑوں کو بلایا ہے وانیہ امن ہی ہے یہاں وہ دونوں ہی نہیں جانا چاہتی یہاں سے ۔۔۔
زینب تفصیل سے سب کا بتا رہی تھی۔۔۔
اچھا چلو ہم ہی چلتے ہے ۔۔۔
حدید کار کی چابی لیتا ہوا بولا تھا۔۔۔
اتنا اریجٹ کیوں بلایا ہے مانی سب ٹھیک تو ہے ۔۔۔
مستقیم آہان صام زرجان نوفل شعیب سب ہی منان کے گھر آتے بولے تھے جبکہ ان سب کی بیویاں ہانیہ کے پاس چلی گی تھی۔۔۔
ریلکس میں نے ایک بات کرنی تھی سوچا یہاں بلا کر کر لو ۔۔۔
منان مسکراتے بولے تھے ۔۔۔
یہ بات کرنے کا مناسب وقت تو نہیں ہے لیکن میں نے کچھ سوچ کر ہی یہ فصیلہ کیا ہے امید ہے انیجل اور ڈیول میری بات کی عزت رکھ لے گے۔۔۔
منان صام کا ہاتھ پکڑے مسکراتے بولے تھے۔۔۔
ہاں بولو ہم سب سن رہے ۔۔
صام سنجیدہ ہوتے بولے تھے ۔۔۔
ہم سب جانتے ہے سوہا فارس سے محبت کرتی ہے جنونی ہے وہ اور میرا بیٹا کرتا ہے لیکن وہ ایک بات پر دکھی ہوتا ہے اپنی معذوری پر ۔۔۔
بیٹی تم لوگوں کی ہے میں فورس نہیں کرتا لیکن اپنے بیٹے کی چاہت اور سوہا کا جنونی پن دیکھ کر میں سوہا کا رشتہ فارس کے لیے مانگتا ہو مجھے میری بیٹی چاہے ۔۔
منان تحمل سے اپنی ساری بات ان سب کے سامنے رکھ چکے تھے۔۔۔۔
روحا اور صام ہکابکا تھے بات سنتے۔۔۔
لالہ وہ ۔
فارس جیسے ہونہار بیٹے کا رشتہ ہر بیٹی کا باپ قبول کرے گا مجھے فخر ہو گا جب میری بیٹی اس کی بیوی بنے گی ہمیں اعتراص نہیں ہے ۔۔
تم جب چاہو ہم شادی کر دیتے ہے دونوں کی ۔۔۔
روحا گھبراتی بولنے والی تھی جب صام ان کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے مسکراتے بولے تھے۔۔۔
روحا نے برا سا منہ بنایا تھا۔۔۔
جب صام نے اپنی مسکراہٹ روکی تھی۔۔۔
تم واقعی مان گے مجھے یقین نہیں آ رہا ۔۔
منان حیران ہوتے بولے تھے۔۔۔
مجھے اپنی بیٹی کی خوشی عزیز ہے ویسے بھی ہم سب جانتے ہے ان کی محبت کو ۔۔
صام تحمل سے بولے تھے۔۔۔۔
اگر شادی کی بات ہو رہی ہے تو میں بھی کچھ بولو ۔۔۔
شعیب بھی مسکراہٹ روکے بولے تھے۔۔۔
کیونکہ روحا مسلسل صام کو گھورنے میں بزی تھی جس کو صام فل اگنور کیے سب کی سن رہے تھے۔۔۔
بولو کرونا کی جعلی ویکسنننن۔۔۔
صام ان کی طرف دیکھتے اپنی گرین آنکھوں سے گھورتے دانت پیستے بولے تھے۔۔۔
وقار رخصتی چاہتا ہے میں چاہتا ہو اب ہماری بیٹی ہمارے گھر آ جاۓ ۔۔۔
شعیب مستقیم کی طرف دیکھتے بولے تھے ۔۔
تم جانتے ہو میری دو ہی بیٹایاں ہے دونوں ہی دل کا ٹکڑا ہے میں اپنی زینب کی رضامندی پر ہی یہ رخصتی کرو گا ۔۔۔
مستقیم مسکراتے سہولت سے بولے تھے۔۔۔
ہاں تم پوچھ لو مجھے بتا دینا تاکہ سوہا اور فارس کی شادی کے ساتھ ان کی بھی رخصتی رکھ دے ۔۔۔
شعیب نے مسکراتے جواب دیا تھا۔۔۔
سوہا وہی ان سب کی باتیں سنتی شرمائ تھی بالاخر وہ اپنے فادی کی دلہن بنے گی ۔۔۔
لالہ چلو اب چلتے ہے ۔۔۔
زینب اب تنگ آتی بولی تھی کیونکہ مال میں آتے ایک ڈریس کی دوکان پر حدید وہاں لڑائ ڈالے کھڑا تھا۔۔۔۔
ہمت بھی کیسے ہوئ اسے ہاتھ لگانے کی ۔۔۔
حدید وہی کھڑے شاپ کیپر لڑکے کو گربیان سے پکڑے غرایا تھا۔۔۔۔
آج تک کسی نے نہیں دیکھا تھا حدید کا ایسا روپ جو اس وقت زینب نے دیکھا تھا ۔۔۔
س۔سوری س۔۔۔
واٹ سوری پہلے پتہ نہیں تھا پہلے چھوتے ہو لڑکیوں کو تنگ کرنا پھر یہ فضول سا سوری مانگ لینا ابھی پولیس کو فون کرتا میں ۔۔
وہ لڑکا ڈرتا بول رہا تھا جب حدید اس کے چہرے پر مکہ مارتے غرایا تھا۔۔۔۔
لڑکے کے منہ اور ناک سے مسلسل خون بہہ رہا تھا جبکہ کپڑے سارے پھٹ چکے تھے۔۔۔
زینب کو اپنا ڈریس پسند آیا تھا جب اس نے شاپ کیپر لڑکے سے لینا چاہا تو اس لڑکے نے وہ ڈریس دیتے اسے چھوا تھا تبھی زینب نے اس کی شکایت حدید سے لگائ تھی وہ سمجھی تھی وہ اگنور کرے گا لیکن یہ تو لڑائ ڈالے کھڑا تھا۔۔۔۔
س۔سر معاف کر دے اسے غلطی ہو گی آپ ایسا کرے اس شاپ سے ایک اور ڈریس لے ہم پیسے نہیں لے گے بس پولیس کو مت بلاۓ ۔۔
شاپ کا مالک جلدی سے ڈرتا بولا تھا حدید صام آفندی کو ہر ایک بندہ جانتا تھا یہ بھی پتہ تھا وہ کتنے دولت مند اور امیر لوگ ہے ۔۔۔
چلو زینب یہاں سے ڈریس لو اور باہر آو۔۔۔
حدید اس لڑکے کو چھوڑے باہر جاتا بولا تھا۔۔۔
شاپ کے مالک نے سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔
جبکہ زینب دانت نکالے اور ڈریس لے رہی تھی۔۔۔
افففف لالہ آپ نے ڈرا دیا تھا اتنا غص۔۔۔
ارے چھوڑو یہ بتاٶ فری میں ڈریس ملا کہ نہیں ۔۔۔
زینب مال سے باہر آتی حدید کے قریب آے بول رہی تھی جب وہ دانت نکالے بولا تھا۔۔۔
مطلب وہ ڈریس لینے کے لیے یہ ڈرامہ تھا ۔۔
افففف لالہ میں سچی ڈر گی تھی ۔۔۔۔
زینب اب اس کی طرف دیکھتی شوک ہوتی چلائ تھی ۔۔۔
ظاہر سی بات ہے یار تم نے اتنی شاپنگ کر لی تھی اس ڈریس پر تمہاری نظر تھی بس میرا ڈرامہ شروع ہو گیا اور دیکھو چالیس ہزار کا ڈریس تمہیں فری میں ملا ۔۔۔۔
ہاےےے میں کتنا ذہین ہو ۔۔۔
حدید ابھی بھی دانت نکالے اپنے کالر کو کھڑا کیے بولا تھا۔۔۔
زینب کا منہ کھولا تھا ۔۔۔
مطلب وہ غصہ اور با۔۔۔
تم جانتی ہو مجھے غصہ نہیں آتا یہ تو پیسے بچاۓ میں نے ۔۔۔
وہ پھر بول رہی تھی جب وہ چہکا تھا۔۔۔
لالہ اتنی دولت ہے ایک ڈریس کے لیے اتنا تماشہ کیا ہاے میرا سر اتنی کنجوسی کیوں۔۔۔
بہت بول لیا چلو وہاں کار کھڑی میری رکشے پر جاتے ہے ۔۔۔
زینب بول رہی تھی جب وہ سامنے سے آتے رکشے کو دیکھ بولا تھا۔۔۔
لالہ دس منٹ کا سفر ہے چل لیت ۔۔۔
مجھے چلا نہیں جاۓ گا اتنی لڑای پر میں تھک گیا چلو بیٹھو۔۔۔
زینب بول رہی تھی جب حدید رکشہ رکے اسے بیٹھاۓ بولا تھا۔۔۔۔
وہ ایسا ہی تھا سب کی سمجھ سے باہر زینب ابھی تک حیران تھی اس کا غصہ کرنا پھر لڑائ پھر اس لڑکے کو مارنا اس کے بعد فری میں ڈریس لینا ۔۔
تم کب شادی کی بات کرو گے تمہیں پتہ زینی کی بھی شادی ہونے والی ۔۔۔
مال کے کیفے ایریا میں بیٹھی روشانے اپنے سامنے بیٹھے تقی کو دیکھ بولی تھی جو کافی پی رہا تھا۔۔۔
دیکھو بے بی بابا لندن سے آ جاۓ تب میں شادی کی بات کرو گا ۔۔۔
تقی اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے بولا تھا۔۔۔
ا۔۔
اہہہہ ۔اہہہہہ۔۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی جب سامنے ایک لڑکے کو اپنی کرسی پر بیٹھتے چیختے ہوۓ دیکھا تھا۔۔۔
اسے کیا ہوا آو دیکھتے ہے ۔۔۔
روشانے اپنی سیٹ سے اٹھتی ہوئ اس جگہ جاتی بولی تھی جہاں اب رش ہو گیا تھا۔۔۔۔
افففف یہ کیا ہوا اسے چچچچ۔۔۔۔
پاس جاتے رش کے درمیان سے جاتی روشانے جب لڑکے کے قریب گی تو اس لڑکے کا ایک ہاتھ کٹے جو ٹبیل پر پڑا تھا باقی کا بازو خون سے لت پت دیکھ وہ قے والی شکل بنا کر چیخی تھی۔۔۔
م۔مار دے۔گا ۔وہ مجھ۔مار د۔۔۔۔
وہ لڑکا مسلسل روتا ڈرتا ہوا کہتا وہی پر بے ہوش ہو چکا تھا۔۔۔۔
یہ کیا ہوا ہے کوئ جانتا ہے ۔۔۔
تقی آس پاس کھڑے لوگوں سے پوچھا تھا۔۔۔
پتہ نہیں کیا ہوا اسے پہلے دوکان پر کسی لڑکی کے ساتھ بدتمیعزی کی اس لڑکے سے لڑای ہوئ ابھی تھوڑی دیر کے لیے واش روم گیا تو جب واپس آیا تو یہ حالت تھی۔۔۔۔
شاپ کا اونر وہی کھڑا پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔
اففف کیا بہادر لڑکا ہو گا جس نے یہ حالت کی اس کی میں تو فین ہو گی اس کی ویسے آپ بتا سکتے ہے جس لڑکے کے ساتھ لڑای ہوئ وہ کون تھا مجھے لگتا یہ وہی ہو گا جس نے اس کا ہاتھ کاٹا ہے ۔۔۔
روشانے سب سنتی چہکتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
تقی کو پتہ تھا اسے بہادر لڑکے پسند تھے ۔۔۔
حدید صام آفندی نام تھا جس نے شاپ پر اسے مارا تھا۔۔۔۔
شاپ کا اونر بولتا وہاں سے گیا تھا۔۔۔
ز۔زرافہ بندر نہیں وہ ایسا کام نہیں کر سکتا وہ انسان تو ایک مھکی سے ڈر جاتا ہے فضول ۔۔۔
روشانے اس کا نام سنتی پہلے شوک پھر برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔۔
جبکہ اتنے رش میں وہ بلیو ہڈی پہنے ماسک لگاۓ سکون سے اپنی کرسی سے اٹھتا وہاں سے جا رہا تھا جبکہ اس نے گہری نظروں سے روشانے کو دیکھا تھا جو وہی رش میں کھڑی
اسے ہی گھور سے دیکھنے میں بزی تھی۔۔۔
تقی وہ دیکھو مجھے لگتا اسی انسان نے ایسا کیا چلو مل کے آے ۔۔۔
روشانے اس کا ہاتھ پکڑے اس کے پیچھے جاتی بولی تھی۔۔۔
و۔وہ میں کہہ رہا تھا پہلے اس لڑکے کا پوچھ لے۔۔۔
تقی گھبراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
تم تو بہادر ہو چلو کوئ بات ہم کسی اور دن مل لے گے۔۔۔
روشانے اس کی طرف دیکھے پیار سے بولی تھی اسے تقی پسند تھا جو اس کے ساتھ یونی پڑھتا تھا۔۔۔
روبی کے ساتھ تم نے کتنا برا سلوک کیا ۔۔
تم جانتے ہو مجھے کتنی عزیز ہے وہ ۔۔
گروجی اپنے روم میں ایول کو بلاۓ طش سے بولے تھے۔۔۔
جبکہ ہاتھوں میں سگریٹ لیے وہ کھڑا سکون سے پی رہا تھا۔۔۔۔
کام بتاۓ کیا کرنا اب ۔۔۔
ایول سب اگنور کیے بولا تھا۔۔۔
تم میری بات کا جواب ن۔۔۔
ہم کسی کے جواب دہ نہیں ہے سواۓ اپنے رب کے آپ کام بتاۓ تاکہ ہم کرے ورنہ آپ جانتے ہے ایک بار ہم اپنے روم میں گے تو نکلتے نہیں ہے ۔۔۔
یہ اپنی رکھیلں اور لڑکیاں یہاں تک محدود کرے ورنہ ان سب کے ٹکڑے کرنے میں دیر نہیں لگے گی ہمیں ۔۔۔
وہ بول رہے تھے جب بات ٹوکتا وہ تحمل سے بولا تھا۔۔۔
ہمممم۔۔۔
گروجی اب سوچ میں پڑ چکے تھے کیونکہ اسے ایسا بنانے والے وہ خود تھے ۔۔۔
کام ہونا چاہے ایول ۔۔۔
گروجی اسے ایک جگہ کا ایڈریس اور ساری بات بتاتے بولے تھے۔۔۔
جب وہ ہاتھ کا اشارہ کرتا وہاں سے نکلا تھا۔۔۔
ی۔یہ آپ نے کیا کیا گروجی جانتے ہے اس مال میں اس وقت کون جانے وال۔۔۔
جنرل صام آفندی اپنے بچوں کی شاپنگ کے لیے وہاں جانے والا ہے جہاں آدھے گھنٹے میں دھماکہ ہونے والا ہے ۔۔۔
ایول ہی ہے جو ڈیول کو ہمارے راستے سے ہٹا سکتا ہے ۔۔۔۔
مجھے پورا یقین ہے ۔۔۔
اس کا آدمی بول رہا تھا جب گروجی شیطانی مسکراہٹ لاۓ بولا تھا۔۔۔۔
ایول انجان تھا جس مال پر وہ دھماکہ کروانے والا تھا اسی میں اس کا جان سے عزیز باپ موجود ہو گا۔۔۔۔
وانی تمہیں کچھ چاہے میں سوچ رہا تھا زرا ماما کے پاس ہو کر آ جاٶ ۔۔۔
امن وانیہ کے روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔
یہاں آو ۔۔۔
وانیہ اسے اپنے پاس بلاۓ مسکراتی بولی تھی۔۔۔۔
مجھے بہت خوشی ہے تم لالہ کی بیوی بنی ہو مجھے امید ہے اپنی محبت سے انہیں بھی اپنے جیسا بنا لو گی۔۔۔
وانیہ اسے ہگ کیے پیار سے بولی تھی ۔۔
وہ دیکھ رہی خود کی طیبعت خراب ہونے کے بادجود وہ وانیہ کا خیال رکھ رہی تھی ۔۔۔
اہہہہ تمہاری لالہ ایسا بن نہ ہی جاۓ اچھا میں جا رہی ہو شام تک آو گی ڈرنا مت نوکر ہے گھر یا شاہد آغا بھی روم میں ہے ۔۔۔
امن برا سا منہ بناۓ کہتی اس کا گال چومتی ہوئ جاتی بولی تھی۔۔۔
امن کو نہیں پتہ تھا وانیہ کے سوا کوئ پلیس میں نہیں تھا ۔۔۔
احمد کے روم میں ملازمہ کام کر رہی تھی اسی بات کی غلط فہمی ہوئ تھی۔۔۔
اچھا جاو یار کچھ نہیں ہوتا ریلکس رہو ۔۔۔
وانیہ اسے پرسکون کرتی بولی تھی ۔۔۔
امن تم گھر آ گی ہو کہا بھی تھا وانی کے پاس رہتی ۔۔۔
امن ابھی گھر آی تھی جب پیچھے ہی مہر کی کال آی تھی جب وہ طش سے بولا تھا۔۔۔
لالہ میں بس کپڑے چینج کرنے آیا تھا باقی سب گھر ہے آپ فکر مت کرے۔۔۔
امن فون کو کان سے لاۓ مسکراتی اپنے روم میں انٹر ہوتی بولی تھی۔۔۔
اچھا اس کے روم میں کیمرہ لایا ہے تم میرے روم میں جا کر لیپ ٹاپ سے دیکھ لینا کہ وہ کیا کر رہی ہے ۔۔
مہر اپنی کہتا فون کال کٹ کر چکا تھا۔۔۔
امن مسکرای تھی اپنے لالہ کی محبت پر ۔۔۔
س۔سر ہم نے سب بمب فٹ کر دے ہے مال میں پندرہ منٹ بعد وہ بلاسٹ ہو جاۓ گے۔۔۔
ایول اپنے چہرے پر ماسک لگآۓ مال کے اندر کھڑا تھا جب اس کا آدمی پاس آتا بولا تھا۔۔۔
جاو سب۔۔۔
اپنے ہاتھ کے اشارے سے وہ انہیں باہر بھیج چکا تھا۔۔۔
اب وہ آس پاس دیکھنے میں بزی تھا ۔۔۔۔
افففف ہادی تم نے آنا تھا تو بتا دیتے میں کتنی دیر سے اکیلی شاپنگ کر رہی ہو ۔۔۔
اب میری شکل کیوں دیکھ رہے ہو پکڑو بیگز اب ۔۔۔
ایول جانے والا تھا جب پیچھے سے آتی لڑکی سے ٹکراے اس کا ماسک اتر گیا تھا تبھی رعنا اپنے ہاتھوں میں بیگز لیے اسے حدید سمجھتے بولی تھی۔۔۔
ایول بس شوک ہوتا اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھ رہا جو نقاب سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
یار پکڑ لو ایک تو صام آنکل نے سب کی شاپنگ کرنی ہوتی ہے سوہا کے لیے ڈریس لینے تھے شادی کے تبھی مجھے ساتھ لے آے ۔۔۔
ایول کے ہاتھوں میں زبردستی بیگز دیتی وہ اسے ساتھ لیے بولی تھی ۔۔۔۔
ایول چپ ہوا ویسے ہی بنا ماسک کے جا رہا تھا ۔۔۔
ذہین میں یہ لفظ گونج رہا تھا صام اس مال میں آیے ہے جس مال میں بلاسٹ ہونے والا ہے ۔۔۔
کتنے چپ ہو کیا ہوا روشانے سے لڑائ ہوگی کیا ۔۔۔۔
رعنا مال کے باہر آتی اس سے بیگز لے بولی تھی جو مسلسل سوچ میں گم تھا۔۔۔
اچھا ایسا کرو وہ تھوڑے سے بیگز رہ وہ اٹھا دو گھر جا کر کافی پلاٶ گی ۔
رعنا اس کے گال کو چھوتی بولی تھی ۔
ایول کے جسم کو جھٹکا لگا تھا اسے
چھونے پر ۔۔۔
ڈ۔ڈیول کدھر ہے ۔۔
ایول زندگی میں پہلی دفعہ ہکلاتا بولا تھا۔۔۔
تم جانتے ہو وہ ہر دفعہ برفانی ریچھ کے لیے شاپنگ کرتے ہے مال کی جو فورتھ فلور ہے وہاں ہے برفانی ریچھ کے لیے نیو پیٹ ش۔۔۔
ارے رکو تو سہی یار ۔۔۔
رعنا بولنے میں بزی تھی جب ایول وہاں سے پاگلوں کی طرح بھاگا تھا ۔۔۔
جبکہ سانسیں اس کی اٹکی ہوئ تھی ۔۔
بمب سارے ڈی ایکٹیو کرو فورا ۔۔۔
ایول اپنے آدمیوں کے قریب جاتا دھاڑا تھا ۔۔۔
سب نے سر جھکاۓ بمب ڈی ایکٹو کرنے شروع کیے تھے ۔۔۔
س۔سر سب ہو گیا لی۔۔۔
لیکن کیا۔۔۔
ایول جو سکون کا سانس لے رہا تھا یہ سن کر صام آفندی محفوظ ہے تبھی اس کا آدمی ڈرتا ہوا بولا تھا۔۔۔
جب وہ دھاڑا تھا۔۔۔
س۔سر وہ فورتھ فلور پر جو بمب لگایا ہے اسے ڈی ایکٹو کرنا مشکل ہے شاہد دس منٹ میں وہ ایریا بلاس۔۔۔
وہ بول رہا تھا جب ایول ویسے ہی الٹے پاٶں مال کی طرف بھاگا تھا ۔۔۔
اب اس کی کوشش یہ تھی وہ اپنے باپ کو بچا سکے ۔۔۔
امن تم اتنی جلدی آ گی اگر آ گی ہو ت۔۔
وانیہ جو واش روم سے باہر آتی روم میں کسی کے قدموں کی آواز سنے بول رہی تھی سامنے کھڑے اہتشام کو دیکھ وہ روکی تھی۔۔۔۔
کی۔کیوں آے ہو یہاں ۔۔۔
وانیہ ہمت جمع کرتی اسے اپنے روم میں دیکھ چیخی تھی۔۔۔
پلیس میں کوئ نہیں تھا ملازم سے بہانہ بنا کر اندر آ گیا ویسے تم خوبصورت ہو ہاےےے کاش میں یہ شادی سے انکار نہ کرتا ۔۔۔
اہتشام چہرے پر خباثت لیے اس کے قریب آتا بولا تھا۔۔۔
ک۔کیا بکواس ہے یہ نکلو باہر میں لالہ کو بل۔۔۔
ہاہہاہاہااہاہا کدھر ہے لالہ تمہارا ویسے اس بات کا بھی بدلہ لینا میں نے کیسے گولیوں سے شوٹ کیا تھا اس نے ۔۔
وانیہ بول رہی تھی جب وہ اسے ایک ہی جٹکھے میں بازوں سے پکڑے بولا تھا۔۔۔
ن۔نہیں پلیز۔۔
وانیہ احمد کی غیرموجودگی سنتی اب حلق تر کرتی بولی تھی۔۔۔
اس کے لیے یہی بات جان نکال رہی تھی اس وقت پورے پلیس میں وہ اکیلی تھی۔۔۔
میں تو فل تیار تھا تم سے شادی کرنے کو لیکن کچھ پیسوں کی لالچ م۔۔۔
چھوڑو چھوڑو بچاٶ بچاٶوووو۔۔۔
وہ اس کی گال چھوتا بول رہا تھا جب وانیہ اسے دھکا دیتی دروازے کے قریب جاتی چلای تھی۔۔۔
ل۔لالہ و۔وہ لالہ وہ ۔۔۔
مہر اپنی میٹنگ میں بزی تھا جب اسے امن کی کال آی تھی جو روتی بول رہی ۔۔
کیا ہوا سب ٹھیک ہے ۔۔
لا۔لالہ وہ نہیں ٹھیک لالہ اسے بچا لے وانیہ اکیلی ہے گھر میں نے دیکھی ابھی لیپ ٹاپ میں ۔۔
مہر پریشان ہوتا بول رہا تھا جب امن مسلسل روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
کیا ہوا مہررانی کو ۔۔
وہ پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔
ل۔لالہ وہ آی اہتشام وانی کے پاس آپ کچھ کرے۔۔۔
وہ کافی دیر بعد مہر کے روم میں آتی لیپ ٹاپ آن کیا تھا جب وانیہ کے روم کا سامنے کا منظر دیکھ وہ جلدی سے مہر کو کال ملاتی بولی تھی ۔۔۔
ریلکس کچھ نہیں ہو گا میں دیکھتا ہو تم آغا کو فون کرو ۔۔
مہر اس کی سنتا تن فن کرتا وہاں سے بھاگا تھا۔۔۔
جبکہ امن بھی مسلسل احمد کو کال کرنے میں بزی تھی جس کا نمبر بند جا رہا تھا۔۔۔۔
کدھر ہے آغا فون نہیں اٹھا رہی۔۔۔
امن پریشان ہوتی خود بھی گھر سے نکلی تھی ۔۔۔
