581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 11)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

ب۔بابا چلے گے جان ۔۔

م۔میں کیسے رہو گی ان کے بنا وہ ہم سب کو چھوڑے جا چکے ہے ۔۔

باباباببابا۔۔۔

یافی زرجان کے سینے سے لگی پھٶٹ پھوٹ کر روتی چلائ تھی۔۔۔

سب ہی اپنے غم میں مشغول تھے۔۔

بڑے چھوٹے ہر ایک کی آنکھ اشک بار تھی۔۔۔

ب۔بابا حدید کی حالت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔

صام مستقیم زرجان آہان منان شعیب نوفل سب ہی آفندی صاحب کی تدفین کرتے ہار تھک کر ابھی گھر آے تھے۔۔

جب ہال میں آتی بکھری حالت لیے سوہا روتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

ک۔کیا ہوا اسے ڈاکٹر کو بلاٶ جلدی ۔۔

صام اپنا غم بھلاۓ جلدی سے اٹھتے نوفل کو آڈر دیتے وہاں سے بھاگتے بولے تھے۔۔۔

سب ہی اس کے روم کی طرف بھاگے تھے۔۔۔

جہاں اب وہ شدید غم و غصے سے ہر چیز کی توڑ پھوڑ کر رہا تھا۔۔۔۔

م۔مجھے لالہ چاہے ابھی کہ ابھی ڈیڈڈڈڈ۔۔۔

صام اندر آے تھے جب سرخ چہرہ لیے وہ شدید غصے سے چیختا ہوا شیشے کی ٹیبل توڑتا ہوا غرایا تھا۔۔۔

ریلکس بیٹا وہ آ جاۓ گا تم آغا سے م۔۔

نہیں چاہے مجھے کوئ بھی ابھی چاہے وہ مجھے ابھی لالہ نے کہا تھا وہ جلدی واپس آے گے ۔۔

صام ان کے قریب جاتے گھبراتے بول رہے تھے جب وہ پھر طش سے بولا تھا۔۔۔

احمد بھی پریشان ہوۓ وہی کھڑا تھا۔۔۔

ادھر آو میں بھی لالہ ہو تمہارا بیٹے جیسے ہو کیا بات ہے کیوں سب کو پریشان کر رہے ہو ۔۔۔

احمد ہمت جمع کرتا اس کے قریب جاتا بولا تھا جبکہ وہ زینب کو آنکھ سے اشارہ کر چکا تھا۔۔۔

ح۔حازم لالہ چاہے انہوں نے کہا تھا وہ جلدی آ جاۓ گے میں ویٹ کر رہا ہو ان کا ۔۔

حدید تھوڑا پر سکون ہوتا وہی قالین پر بیٹھتے بولا تھا۔۔۔

سب نے ہی سکون کا سانس لیا تھا کیونکہ حدید احمد کے کنٹرول میں آ رہا تھا۔۔۔

اچھا بتاٶ کیا بولو گے حازم کو ۔۔۔

احمد اس کے بال سنوارتے اسے بہلاتا بولا تھا۔۔۔

م۔میں کہو گا مجھے یاد آتی ان کی آپ جانتے ہے اب سکول جانے کو دل نہیں کرتا اکیلا ہوتا ہو سب مذاق بناتے میرا کہ میرا لالہ قاتل ہے ۔۔۔

م۔میں نے مس فائر سے پوچھا تھا وہ کہتی ہے سب جھوٹ بولتے ہے لالہ ایسا نہیں تھا ۔۔

حدید وہی اسی کی گود میں سر رکھے روتا بولا تھا وہ بلکل نو سالہ بچے کی طرح ریکٹ کر رہا تھا۔۔۔۔

ہم سب جانتے ہے حازم ایسا نہیں تھا تم ہنسو مسکراٶ گے تبھی وہ جلدی واپس آے گا ۔۔

زینب کے ہاتھ سے انجکشن لیتے احمد اس کے بازو پر لگاۓ آرام سے بولا تھا۔۔۔

میں ہنستا ہو مسکراتا ہو لالہ نہیں آتے لگتا ناراض ہو گے انہیں رعنا سے میری دوستی اچھی نہیں لگتی تھی ۔۔۔

مجھے ن۔نیند آ رہی ہے سو جاٶ میں تھوڑا سا سر بھی بھاری ہو رہا پ۔۔۔

نیند میں جاتے حدید نے اپنا سر پکڑے کہا تھا۔۔۔

سو جاٶ میری جان حدید بہت بہادر ہے ۔۔

احمد اس کا ماتھا چومتا ہوا پیار سے بولا تھا۔۔

روم میں پریشان کھڑے ہر فرد نے احمد کو مسکراتے دیکھا تھا جو ہر کسی کو بڑا بن کر ہنیڈل کر رہا تھا۔۔۔۔

روشانے کے سوا ہر کوئ جانتا تھا حدید زیادہ پریشانی سے اس کی حالت بگڑ جاتی تھی بچوں جیسا ریکٹ وہ کرنے لگ جاتا تھا ۔۔۔

انجکشن لگنے کے بعد وہ سب بھول جاتا تھا ڈاکٹروں کا کہنا تھا اسے حازم کے جانے کا زیادہ ہی صدمہ لے لیا تھا تبھی پریشانی یا غصے سے وہ نو سالہ بچے کی طرح ریکٹ کرتا تھا۔۔۔

آ۔آغا وہ وانیہ کچھ کھا پی نہیں رہی وہ کہتی اسی کی وجہ سے یہ سب ہوا ہے ۔۔۔

سب ہی انہیں روم میں چھوڑے جا چکے تھے جب کافی دیر وہی بیٹھے احمد کی گود میں سر رکھے حدید سو رہا تھا جب اندر آتی سوجی آنکھیں لیے امن نظریں چڑاتی بولی تھی۔۔

ہممم مہر کو کہو اس کے پاس جاۓ میں حدید کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔

احمد کچھ سوچتا ہوا بولا تھا۔۔۔

جی۔۔

امن سر ہلاتے روم سے باہر چلی گی تھی۔۔۔

سب ہی اپنے غم میں اداس تھے وانیہ اور مہر دونوں یہی سمجھ رہے تھے جو کچھ بھی ہوا سب ان کی وجہ سے ہوا۔۔۔

و۔وانی۔۔

وانی۔۔

احمد کے کہنے پر مہر ہمت جمع کرتا اندر آتا وانیہ کو دیکھتے بولا تھا جو ہر چیز سے بیگانہ بیڈ پر ٹانگوں پر سر رکھے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے میں بزی تھی۔۔۔

اسے فرق نہیں پڑا تھا مہر کے روم میں آنے کا ۔۔۔

وانیہ دیکھو جو کچھ بھی ہوا وہ سب اللہٌکو منظور ت۔۔۔

تمہاری وجہ سے ہوا سب تمہاری وجہ سے ایسے ہی نکاح کرنا تھا تو پہلے اتنا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔۔

تم مان جاتے تو آج دادا جان ز۔زندہ ہوتے ۔۔

انہیں اتنی ٹیشن نہ ملتی ۔۔۔

مہر اس کے قریب آے شولڈر پر ہاتھ رکھتے بول رہا تھا جب وہ اسی کے سینے پر مکہ مارتی غرای تھی۔۔۔۔

دیکھو میری طرف یہ سب ایسے ہی لکھا تھا اللہٌکے کاموں میں ہمارا زور نہیں چلتا اگر ہمارا نکاح ہو بھی جاتا تب بھی نانا جان کو ہمہیں چھوڑ کر جانا پڑتا تم خود کو قصوروار نہ سمجھو۔۔۔

مہر اسے کے قریب بیٹھتا اس کا سر

سینے پر رکھتے آرام سے بول رہا تھا۔۔۔

اچھا تم چاہتی ہو وہ سکون میں رہے ۔۔۔

وانیہ اس کا لمس پاتی اسی کے سینے پر سر رکھے رونے میں بزی تھی جب کافی دیر خاموشی کے بعد وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتا اس کی بروان سرخ آنکھوں میں دیکھ بولا تھا۔۔۔

جب وانیہ نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔

نانا جان کے لیے دعا کرو ایسے رو مت انہیں تکلیف ہوتی ہے ہم سب کے رونے سے تم دعا کرو اللہٌان کو اعٰلی مقام دے جنت میں ۔۔

ہم سب خوش رہے تبھی وہ بھی خوش و سکون میں رہ سکے گے تم دعا کیا کرو ان کے لیے ۔۔۔

مہر اس کا ماتھا چومتا ہوا پیار سے بولا تھا ۔۔۔

دونوں کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا تھا ۔۔۔

آج وہ دونوں اپنی بچپن کی محبت پا چکے تھے انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا اس بات پر خوش ہو یا آفندی صاحب کی موت کا غم مناۓ ۔۔۔

مہر آج اپنی محبت کو بے حد قریب دیکھ رہا تھا جس کی گرم سانسیں اس کی گردن پر پڑ رہی تھی وہ پرسکون تھا لیکن اس کا ضیمر اندر سے رو رہا تھا ۔۔۔

اب وہ کیسے سب کو بتاۓ وہ کیا کر چکا تھا اس کی وجہ سے کیا ہو گیا۔۔۔

وا۔وانیہ ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا ۔۔

مہر روتا ہوا بول رہا تھا جب گہری نیند سوتی وانیہ کو دیکھ چپ ہو گیا تھا۔۔۔

وہی اپنے سینے سے لگاے مہر بھی آنکھیں بند کیے بیڈ سے کمر لگاۓ لیٹ چکا تھا۔۔۔۔

اس وقت وانیہ کو مہر کی ضرورت تھی ویسے بھی سب جانتے تھے اب وہ دونوں میاں بیوی تھے۔۔۔

آ۔آغا کافی۔۔

احمد حدید کو گود میں اٹھاۓ اس کے بیڈ پر لیٹا رہا تھا جب امن اندر آتی اسے کافی کا بولی تھی۔۔۔

ہمممم۔۔۔

حدید کو وہاں سکون سے چھوڑتا اب دونوں روم سے باہر آے تھے جب وہ بولا تھا۔۔۔

ک۔کیسا ہے اب ہادی۔۔

امن احمد کے پیچھے گھبراتی ہوئ آتی ہاتھ میں کافی لیے بولی تھی ۔۔

اسے ڈر تھا احمد کے غصے کا۔۔۔

بہتر ہے وہ اب ۔۔۔

احمد اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیے بولا تھا۔۔۔

وانی کیسی ہے ۔۔

امن کو کافی پیتے دیکھ وہ پاس بیٹھتا بولا تھا۔۔۔

ٹ۔ٹھیک ہے وہ اب م۔مہر لالہ وہی ۔تھے وانی س۔سو گا تو لالہ۔۔ر ر۔رک گی ۔۔۔

امن اپنے اتنے قریب احمد کو بیٹھتے دیکھ گھبراتے بولی تھی۔۔

اچھا۔۔

کافی پیتے احمد نے اس کی طرف دیکھا تھا جو پاس بیٹھی بھی کانپ رہی تھی۔۔۔

پرپل کلر کے شلوار کرتے میں بکھرے بال سوجی گرے آنکھیں زردی مائل چہرہ لیے وہ کمزوری سی کانپتی اپنی کافی پینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔

امن کا دل اندر سے کانپ رہا تھا کہ کہی وہ اس کی انسلٹ کیے باہر نہ نکال دے۔۔۔

م۔م۔میں جا۔جاتی ہ۔ہو کافی۔رات ہو گی۔۔۔

اپنی طرف دیکھتے احمد کو دیکھ وہ ہکلاتی ہوئ بولی تھی۔۔

براون کرتے شلوار بکھرے بال جو ماتھے پر ٹھہرے تھے سرخ گرین آنکھیں سرخ ہوتا ناک چہرے پر کرب لیے امن کو احمد اس روپ میں بھی اچھا لگا تھا جو سب کو ہینڈل کیے بڑے ہونے کا فرض نبھا رہا تھا۔۔۔

رو لو تھوڑا سا ۔۔

اچانک احمد اسے کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگاۓ وہ سکون سے بولا تھا ۔۔

جانتا تھا امن کی حالت دیکھ اسے ترس آیا تھا اسے پتہ تھا باقیوں کی طرح امن کو کافی دکھ تھا اس بات کا ۔۔۔

م۔میری وجہ سے ہوا آغا مجھے یہ نہیں کرنی چاہے تھی ا۔۔۔

ششششش۔۔ آواز نہ آے تمہاری چپ ہو کر رونا ہے تو رو لو آواز نہ آۓ۔۔

احمد اس کے سر پر ہاتھ رکھتا ڈانٹتا بولا تھا۔۔۔

آواز کے بنا کون روتی ہے ۔۔

امن ناک منہ پھلاے اس کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔

تم روتی ہو چپ ہو کر۔۔

اس کا سر دوبارہ اپنے سینے سے لگاۓ احمد بولا تھا۔۔۔

جب منہ بناۓ واقعی امن چپ ہو کر آنسو بہانے میں بزی تھی۔۔۔

پہلی دفعہ اس کی حرکت پر احمد مسکرایا تھا۔۔۔

“““ایک ہفتے بعد۔۔۔

کیوں اتنے چپ رہتے ہو تمہاری خاموشی برف جیسی سرد ہے جس سے ہر بندہ کانپ جاتا ہے ۔۔

دیکھو میری طرف کیا کمی ہے مجھے پانے کے لیے ہزاروں مرتے ہے لیکن یہ روبی صرف پر تم مرتی ہے ایول ۔۔۔

ایول ایک ضروری کام سے جانے کو اپنے روم سے باہر نکل رہا تھا اندر آتی روبی شراب کا گلاس لیے اس کے قریب آتی چہرے سے ماسک اتارے بولی تھی۔۔۔

ایول اسے اگنور کیے دوبارہ شیشے کے سامنے آے ماسک لگا رہا تھا۔۔۔

تم بہت خوبصورت ہو ایول میں نے واقعی ایسا شاندار بندہ نہیں دیکھا تم جیتنا مجھے اگنور کرتے ہو میں پھر تمہاری طرف مائل ہوتی ہو۔۔

روبی مسکراتی اس کے سامنے آتی ماسک لیتی بولی تھی۔۔۔

یہ براٶن بال یہ پیاری سی براٶن ہلکی شیو برف جیسی سرد گرین آنکھیں گال پر پڑے ڈمپل یہ گلابی ہونٹ جیسے گلاب کی پ۔۔۔

روبی اپنے ہاتھ سے اس کے چہرے کو چھوتی بول رہی تھی جب ایول نے اس کا ہاتھ پکڑے گھورا تھا۔۔۔

وہاں رہتی ہر لڑکی ایول کی شاندار پرسلینٹی پر مرتی تھی جو سب کو اگنور کیے ایک ربوٹ کی طرح کام کرتا تھا۔۔۔

اففف تمہارا یہ گھورنا بھی جان نکال دیتا ہے ۔۔

روبی اپنی انگلی اس کے لبوں پر چلاتی شیطانی نظروں سے دیکھتی بولی تھی۔۔۔

جب ایول

کی آنکھیں بھی مسکرای تھی کچھ سوچ کر ۔۔

روبی تو حیران تھی اپنا ہاتھ ایول کے ہاتھوں میں دیکھ کر ۔۔

تمہارا چھونا ہی مجھے کرنٹ دیتا ہے میں تو اس دن کے لیے بے تاب ہو جب میری سانسوں تک تم آو گے ۔۔۔

روبی خوشی سے پاگل ہوتی بے باک ہوتی بولی تھی۔۔۔

ایول نے اپنا بھاری ہاتھ اس کی آنکھوں پر رکھا تھا۔۔۔

اپنے اتنے قریب ایول کے سانسوں کی مہک پر روبی کا جسم کانپا تھا۔۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہ اہہہہہ۔۔۔

ای۔ایول ی۔یہ کیا۔۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ۔۔

روبی کی آنکھوں پر اس کا ہاتھ تھا جب ایول اس کو دیوار سے لگاۓ مسکرایا تھا ۔۔۔

کیونکہ وہی جانتا تھا کیا کرنے والا تھا۔۔۔

روبی جو اپنے قریب آے ایول کی خوشبو پر خوش تھی جب اچانک پورے جسم کو کرنٹ کا جھٹکا کھاتے وہ چلائ تھی۔۔۔

جہاں اس کا ایک ہاتھ دیوار سے لگے سوئچ بورڈ پر لگاتے اس پر اچھے سے ٹیپ لگاۓ سوئچ بورڈ کو آن کرتا ایول اب کھڑا مسکرایا تھا۔۔۔

ن۔نہیں اچھا نہیں تھا ایول ت۔۔۔

کرنٹ چاہے تھا تمہیں وہ مل گیا۔۔۔

روبی مسلسل کرنٹ کھاتی بول رہی تھی جب ایول اپنی آنکھ ونک کرتا کہتا وہاں سے گم ہوا تھا۔۔۔

ایول ا۔یول اہہہ اہہہہ۔۔

روبی شور و زور سے چلاتی درد سے تڑپی تھی۔۔۔

گرو جی کے آدمی اس کے چلانے پر اندر آتے سوئچ بند کر چکے تھے ۔۔

روبی کا پورا ہاتھ جل چکا تھا۔۔۔

ایک دن آے گا ای۔ایول تم میرے پاس خود آٶ گ۔۔۔۔

روبی ان آدمیوں کی باہوں میں آتی بے ہوش ہوتی بولی تھی۔۔۔۔کون۔ہو تم ۔۔۔

رسیوں سے بندھا آدمی اپنے سامنے سرد انداز لیے کھڑے ایول کو دیکھ ہکلاتا بولا تھا ۔۔

ا۔ایول کچھ زیادہ ہی حیوان بن گیا ہے پتہ نہیں اس انسان کا کیا قصور ہو گا۔۔۔

ایول کے ساتھ کھڑے آدمی دوسرے کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

انہیں پتہ تھا جب وہ زیادہ غصے و غم ہوتا تھا تو کیا کرتا تھا۔۔۔

گرو کے کہنے پر بس یہ اس آدمی کا قاتل ک۔۔۔

یہ دیکھ رہے ہو اسی سے یہ جان نکالے گا اس کا ۔۔۔

وہ آدمی بول رہا تھا جب دوسرا ایول کا بلڈ دیکھاتا بولا تھا۔۔

ہمممم ۔۔

اس سے پہلے وہ کچھ کہتا جب ایول اپنے ہاتھ پیچھے لے کر جاتا ان کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا تھا۔۔۔

م۔میرا قصور ک۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہ۔۔۔

وہ آدمی کب سے پوچھ رہا تھا اسے کیوں لایا گیا تھا وہ تو ایک گارچ کا ملازم تھا جو گاڑیاں ٹھیک کرتا تھا۔۔۔

جب ایول اس کے ناک کو اپنے بلڈ سے کاٹا تھا تبھی وہ چیخا تھا۔۔۔۔

کس کے کہنے پر سوہا صام آفندی کی کار میں بمب فٹ کیا تھا۔۔۔

ایول اس پر جھکا غرایا تھا۔۔۔

م۔میں ن۔۔۔

ہمیں ٹائم ویسٹ نہیں پسند ۔۔

گڈ باۓ۔۔۔۔

وہ آدمی درد سے ترپتا بول رہا تھا جب ایول کو سمجھ آیا تھا کس کا کام ہے تبھی اب اس کی بات کاٹے بولا تھا۔۔۔

اہہہہہ درد ہوا کیا۔۔۔

ایول اس کا خون آلود چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتا مسکراتے بولا تھا۔۔۔

وہ شخص حیران تھا سب کا قاتل کرنے والے انسان کی اتنی خوبصورت مسکراہٹ ہو سکتی تھی جیسے اس کی تھی۔۔۔۔

باۓۓ۔۔

ایول پرسرار لہجے سے کہتا بلڈ سے اس کے سر کو دو حصوں میں چھیڑتا بولا تھا۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہ اہہہہہہہ۔۔۔۔

ایول اپنے کام میں بزی تھا جب اسے روم کی ونڈو سے کسی نسوانی چیخ سنائ دی تھی۔۔۔۔

ایول نے ونڈو کی طرف جب دیکھا وہاں کوئ لڑکی چیختی ہوئ بھاگ رہی تھی ۔۔۔

کون تھی وہ پکڑو اسے یہاں سے جانی نہیں چاہے ۔۔

روم سے باہر آے وہ طش سے غرایا تھا۔۔۔۔

یہ ایک سنسنان سا راستہ تھا جدھر وہ اس آدمی کو موت کے گھاٹ اتارنے آیا تھا۔۔۔

س۔سر ۔۔

بولو ۔۔

ایول اپنا کام تمام کیے بار کلب میں آے شراب پینے میں بزی تھا جب پندرہ منٹ بعد اس کے آدمی آتے بولے تھے۔۔۔

اس لڑکی نے گاٶن پہنا تھا لیکن ہم شکل نہ دیکھ سکے ۔۔

ا۔۔

گاٶن کا کلر یاد ہے تو اسی گاٶن والیوں کو اٹھا لاٶ ہمارے آڈے۔۔۔

وہ ابھی بول رہے تھے جب ایک ہی گھونٹ میں شراب پیتے وہ بولا تھا۔۔۔

جی سر۔۔

وہ سب تابعداری سے سر ہلاتے گے تھے۔۔۔

وکی کہاں ہو یار میں شاپنگ پر آی تھی لیکن اب کوئ کیپ نہیں مل رہی ۔۔۔

رعنا شاپنگ مال سے نکلتی ہوئ وقار کو فون کیے بولی تھی۔۔۔

آپو دس منٹ دے میں آتا ہو ابھی ۔۔۔

وقار پولیس اسٹیشن کے آفس میں بیٹھا کار کی چابیاں لیے مسکراتا بولا تھا۔۔۔

جلدی کرو ہادی سے بھی ملنا ہے مجھے۔۔

رعنا برا سا منہ بناے بولی تھی۔۔۔

وہ دیکھو یہی کلر تھا گاٶن کا یہی لڑکی ہو گی۔۔۔

ایول کے بندے مال کے سامنے کھڑی گاٶن میں ملبوس رعنا کو دیکھ بولے تھے ۔۔

جو صرف نیلی آنکھوں سے آس پاس دیکھنے میں بزی تھی۔۔۔

ر۔رکو کون ہو تم سب چھوڑو مجھے ہلی۔۔۔۔

وہ سب رعنا کے پاس آتے زبردستی پکڑے لے کر جا رہے تھے اپنے اوپر پڑی اس آفت پر رعنا کو کچھ سمجھ نہیں آیا کیا کرے تبھی وہ چلانے لگی تھی جب کسی نے منہ پر رومال رکھتے اسے بے ہوش کیا تھا۔۔۔۔

ہر چیز سے بیگانہ وہ بے ہوش پڑی کار میں ایول کے پاس جا رہی تھی۔۔۔

ک۔کو۔کون ہو تم سب بچاٶ بچاٶ ۔۔۔

رعنا کو اٹھاۓ وہ سب ایول کے آڈے لاۓ تھے جب وہ کرسی سے بندھی اپنی نیلی آنکھوں سے آس پاس دیکھتی چلای تھی ۔۔

ہر طرف گہری خاموشی تھی جسم کو سنسناہٹ کر دینے والی ۔۔۔

ت۔تم لوگ جانتے نہیں ہو میں ک۔۔۔۔

رعنا آنسو بہاتی ہمت کرتی بول رہی تھی جب سامنے کرسی رکھے سکون سے بیٹھے ایول نے بات ٹوکی تھی۔۔۔۔

تم ہمیں نہیں جانتی ہم کون ہے ۔۔۔

ایول کی پرسرار سی آواز سنے رعنا کی سانسیں اٹکی تھی وہ یک ٹک سامنے ماسک لگاۓ بیٹھے ایول کی گرین آنکھوں میں اپنی نیلی آنکھیں گاڑے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

ایک کی نیلی آنکھوں میں ڈر جبکہ دوسری کی گرین آنکھوں میں برف جیسا سرد پن تھا۔۔۔۔