Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 17)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 17)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
ہاں تو ہماری قید میں آ کر کیسا محسوس کر رہی ہو ۔۔
رعنا ایول کی شرٹ پہنے بیڈ سے اٹھی ہی تھی نکاح کرنے کے بعد جب وہ اندر آتا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا۔۔۔
رعنا نے روتے ہوۓ اپنے حقوق ایول کے نام کر دے تھے وہ نہیں جانتی تھی روم میں ایک ایسی شخصیت بھی موجود تھی جن کی رضامندی پر یہ نکاح ہوا تھا۔۔۔
ایول اپنے سامنے گرین شرٹ پہنے رعنا کی کمر دیکھ رہا تھا جس پر اس کے سنہری لمبے بال جو کمر پر کھلے جھول رہے تھے۔۔۔
ایول کی آواز سنتے وہ پوری جان سے کانپی تھی۔۔۔
اچھا تو بیوی بن گی ہو تو ہم آگے کا کام کرے۔۔۔
ایول اس کے قریب جاتا کمر سے پکڑے اپنی طرف رخ کیے بولا تھا۔۔۔
ت۔تم جو کہو گے میں و۔۔
اب صرف ہمارا بدلہ پورا ہو گا اور کچھ نہیں جنگلی بلی ۔۔
رعنا گھبراتی بول رہی تھی جب اسے بیڈ پر دھکا دیتے گراے اس پر جکھے وہ بولا تھا۔۔۔
پ۔پلیزززز برفانی ریچھ۔۔۔
بڑی بڑی نیلی سوجی آنکھیںں گلابی خشک
ہونٹ جیسے برسوں کے سوکھے ہوۓ ہو۔سنہری
بالوں کی کچھ آوارہ لیٹیں اس کے خوبصورت چہرے کا طواف کر رہی تھی ۔۔۔
ناک میں پہنی نوز پن اور لبوں کے قریب بنا تل ایول کو بار بار الجھا رہا تھا ۔۔۔
وہ اس کے حیسن چہرے کو دیکھنے میں مشغول تھا جب اس کی آواز سنتے وہ ہوش میں آیا تھا۔۔۔
رعنا کی سرسراہتی سرگوشی پر ایول کا پورا فوکس اس کے کانپتے ہوٹنوں پر تھی اب۔۔۔
سزا کے لیے تیار رہو ۔۔۔
اس کے لبوں پر جھکتے وہ بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
ڈر کے مارے رعنا نے زور سے آنکھیں بند کی تھی ۔۔
رعنا کا دل زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔
اسے ایول کی گرم سانسیں اپنی گردن اور تھوڑی پر محسوس ہو رہی تھی ۔
پ۔ل۔ی۔ز۔برفانی ریچھ۔۔۔
اس کی سانسوں کے ساتھ ہی اب اس کے سرد لب اپنی تھوڑی پر محسوس ہوے تھے تبھی وہ روتی بولی تھی۔۔۔
افففف یہ ڈر کتنا ڈر رہی ہو ہماری قربت سے حالانکہ ہم نے ابھی کچھ نہیں کیا ۔۔۔
ویسے دشمنی نبھانے میں تب ہی مزہ آتا جب دشمن اپنی آخری سانسوں تک کی بھیگ مانگے ۔۔
ہم بھی چاہتے ہے تم بھی اپنی ان سانسوں کے لیے بھیگ مانگو بھول جاؤ کہ کبھی ہماری قید سے نکلو گی ۔
کتنے سالوں سے ہم تڑپے ہے اب تمہاری باری ہے مس جنگلی بلی ۔۔
سنہرے بکھرے بالوں کے ساتھ کانپتے ہونٹ دیکھ وہ اس کے لب سہلاتا بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
رعنا نے جلدی سے آنکھیں کھولیں تھی جہاں وہ بنا شرٹ کے کھڑا ہو چکا تھا۔۔۔
جلدی سے اپنی حالت ٹھیک کر کے او باہر۔۔
ایول خود پر قابو پاتے جلدی سے بولتا باہر نکل گیا تھا۔۔۔
بابا آپ غلط سوچ رہےہے۔۔۔
روشانے جلدی سے ان کے پیچھے آتی بولی تھی ۔
جبکہ مستقیم چپ ہوے آگے جا رہے تھے ۔۔۔
مما سے بات کرو مشعوق میں اپنی بیٹی کو اپنے گھر دیکھنا چاہتا ہو ۔
صام پیچھے آتے روشانے کو چادر دیتے بولے تھے جو صرف حدید کی شرٹ میں ملبوس تھی۔۔
روشانے نے شرم کے مارے گردن جھکا لی تھی۔۔۔
اسے اب ہوش آیا تھا اپنی حالت کا ۔۔
ص۔صامے وہ روشنی م۔می۔۔۔
کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے تم بس مرحا بھابھی سے پوچھو تاکہ ان کا نکاح کروا دے زیادہ شور کی ضرورت نہیں گھر کی بچی ہے ۔۔
مستقیم آبدیدہ ہوتے بول رہے تھے جب صام ان کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے بولے تھے۔۔
دونوں ہی چپ ہو گے تھے ۔۔
میں سوچ رہا اپو سے مل لو ۔۔۔
وقار ہال میں کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔
زینب کو روم میں چھوڑ دیا تھا ۔
نہیں وہ سو گی شاہد ویسے بھی تم جانتے ہو ایک دفعہ روم میں چلی جاتی تو ڈور اوپن نہیں کرتی وہ ۔۔
رانیہ وقار کا گال چومتے بولی تھی تبھی وقار بھی مسکراتا اپنے روم میں چلا گیا تھا ۔۔۔
ہاے رخصتی ہو گی آگے کیا کرنا ہے افففف۔۔
زینب بیڈ پر بیٹھنے کی بجاے مسلسل چکر کاٹتی سوچ رہی تھی ۔۔
ہاں لالہ سے پوچھتی ہو ۔۔
زینب حدید کا سوچتی جلدی سے کال ملای تھی جب اس کا نمبر آف گیا تھا۔۔۔
ہاے لالہ نے فون بند کر دیا ۔۔۔
زینب جلدی سے فون بیڈ پر گراتی بولی تھی۔۔
کس نے فون بند کیا ہے ۔۔
وقار اندر آتا بولا تھا ۔۔
جب زینب دل و جان سے کانپی تھی اس کی آواز سنتے ۔۔
و۔وہ لالہ کو فون کر رہی تھی ۔۔
زینب کی گھبراہٹ پر وہ مسکرایا تھا ۔۔۔
چلو سو جاؤ سکون سے ۔۔
زینب کو کمر سے پکڑے وہ بولا تھا ۔
و واقعی سو جاؤ
زینب اپنی آنکھیں کرتی اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھ بولی تھی ۔۔
ہاں خودی کہا تھا کہ تمہاری اجازت کے بنا نہ چھوو گا ۔۔۔
وقار کی بات سنتے زینب خوشی سے پاگل ہوتی بیڈ پر جا کر لیتی تھی۔۔۔
میں بلاوجہ پریشان ہو رہی تھی انہوں نے کچھ نہیں۔ کرنا تھا ۔۔
زینب بچوں جیسی خوشی لیے لیٹتئی بولی تھی ۔۔۔
ویسے لٹل ڈول اپنے پاس تو لیٹنے دو گی ۔۔
وقار اس کے قریب لیٹتا مسکراتا بولا تھا۔۔
ج۔جی لیٹ جا۔۔۔
زینب اپنا رخ اس کی طرف کرتی بول رہی تھی جب وقار نے جھکتے ہوے اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لیا تھا ۔۔
زینب کے چودہ طبق روشن ہوے تھے ۔۔اسے امید نہیں تھی ۔۔
تبھی اسے شولڈر سے پکڑا تھا اس،نے ۔۔
چلو ڈریس چینج کر لو لٹل ڈول ۔۔
وقار اس کی بکھری سانسوں کو دیکھ اسے چھوڑتا مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔
زینب نے شکوہ نگاہ سے اسے دیکھا تھا ۔۔
جبکہ وہ اسے اگنور کیے واش روم چلا گیا تھا ۔۔
لیکن صام ایسے نکاح کیوں مطلب ہم اپنے بیٹے کی شادی ا۔۔۔
روحا روم میں آتی پریشان ہوتی بول رہی تھی جب ان کی ریڈ گرین آنکھیں دیکھ چپ ہو گی تھی۔۔۔
ص۔صام کچھ ہوا کی۔۔
ان کے قریب جاتی وہ بولتی پھر چپ ہو گی تھی ۔۔
مستقیم نے وردہ بیگم سے اجازت لے لی تھی روشانے اور حدید کے نکاح کی وہ تو خوش ہوتی اجازت دے چکی تھی ۔۔
سب ہی بہت خوش تھے سواۓ روشانے کے ۔۔
روحا خوش تو بہت تھی لیکن پریشان تھی ایسا کیوں ہوا تھا۔۔
انیجل تم نے ہمارے بیٹے کی تربیت بہت اچھی کی ہے بلکل تمہارے جیسا دل ہے ۔۔
مجھے فخر ہے اپنے بچوں پر سب سے زیادہ تو تم پر ہے انیجل ۔۔
صام انہیں کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگاۓ مسکراتے بولے تھے ۔۔۔
ہم نے کچھ نہیں کیا تینوں ڈیول کے بچے ہے تو ڈیول جیسے ہی ہونے تھے اور ہمیں بھی فخر ہے اپنے ٹھرکی ڈیول پر ۔۔
صام کی گردن میں اپنی باہیں ڈالے وہ اپنے لب ان کے ڈمپل پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔
میں واقعی اچھا ہو کیا انیجل جو کچھ ایول کے ساتھ کر چکا مجھے ن۔۔۔
آپ بہت اچھے ہے ڈیول سب سے بیسٹ ایول کے ساتھ جو کیا تھا وہ انصاف تھا ہمیں امید ہے ایک دن آے گا جب ایول اور ڈیول ساتھ ہو گے ۔۔
اچانک وہ اداس ہوتے بول رہے تھے جب وہ بات بدلتی مسکراتی بولی تھی۔۔۔
سمندر سے بھی زیادہ گہرا دل ہے تمہارا مجھے آج تک سمجھ نہیں آی تمہارے دل میں کیا چلتا ہے ۔۔
صام ان کا ماتھا عقیدت سے چومتے بولے تھے ۔۔
آپ ہمارا عشق ہے صام آفندی
ہے ۔
۔
انہہہ ٹھرکی ۔۔
روحا جانتی تھی وہ اکثر ایسا کیوں بےہیو کرتے تھے تبھی موڈ چینج کرتی بولی تھی ۔۔
ہااہاہااہاہاہہاہاہا۔۔۔
میرے پوتے نواسے بھی آ گے تمہیں میں تب بھی ٹھرکی لگو گا انیجل ۔۔
روحا کو خود کے اور قریب کرتے وہ قہقہ لگاتے بولے تھے ۔۔
ڈیول ڈیڈ نکاح میرا ہے ۔۔۔
حدید روم کے باہر ہی ہانک لگاے بولا تھا۔۔۔
صام کبھی کبھی ہمیں لگتا یہ جاسوس ہے ہر کسی کی بات آرام سے سن لیتا ہے ۔۔
اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا ۔۔۔
روحا حدید کی آواز سنتی ان سے دور ہوتی شوک ہو کر بولی تھی۔۔۔
جاسوس بن ہی نہ جاۓ چار سال سے ایک کلاس تو پاس نہ کر سکا ہڈحرام ۔۔
صام برا سا منہ بناۓ بولے تھے ۔۔
روحا کا ان سے دور ہونا شروع سے برا لگتا تھا تبھی وہ برا مان گے تھے۔۔
یہ رہا روم جاٶ سو جاٶ وہاں پر ۔۔
امن اپنی جیولری اتار رہی تھی جب واش روم سے باہر آتے احمد نے سرد لہجے سے کہا تھا ۔۔۔
امن بھی جانتی تھی احمد خوش نہیں تھا تبھی وہ چپ ہوتی اپنی جیولری اتار رہی تھی۔۔
کیوں ۔۔
اس کی بات سنتے وہ گردن اس کی طرف کرتی بولی تھی ۔
جہاں روم کے اندر بنے روم کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔۔۔
میری خوشی سے یہ شادی نہیں ہوئ تمہیں بیوی بنا تھا بن گی اب رات کو تم وہی سوٶ گی سمجھی۔۔
امن کے حسن سے نظریں چڑہاے وہ بولا تھا۔۔۔
کیا میں پیاری نہیں لگتا آپ کو آغا۔۔۔
امن اچانک شدید غصے میں اس کے قریب جاتی بولی تھی ۔۔۔
لگتا نہیں لگتی ہوتا ہے پاگل ۔۔۔
اپنے اتنے قریب اسے دیکھ وہ آس پاس دیکھتا بولا تھا ۔۔
میری لگتا ہے مرضی میری انہہہ۔۔۔
امن اس کی طرف دیکھتی بول کر دور ہوی تھی۔۔۔
احمد کے لبوں پر مسکراہٹ آی تھی اس کا لوجک سن کر ۔۔
اچھا جاٶ کپڑے چینج کرو سکون سے سو جانا۔۔
آرام سے اس کے گال کو چھوتے وہ بولتا بیڈ پر جا کر لیٹے بولا تھا۔۔۔
یہ کیا ام۔۔۔۔
میری سکون آپ ہے آغا میں ایسے ہی سوٶ گی ۔۔
احمد ابھی لیٹا ہی تھا جب امن بھاگ کر اس کے ساتھ لیٹی تھی جب وہ بولنے والا تھا جب وہ ڈھیٹ ہوتی بولی تھی۔۔۔
جاٶ یہاں سے بچی ہو تم ا۔۔۔
کہاں سے بچی لگتا میں آپ کو اگر آپ بولے میں ماموں جان کو بلا لو گا ۔۔
احمد اپنا رخ اس کی طرف کرتا بول رہا تھا جب وہ اسی کے سینے پر سر رکھے بولی تھی۔۔
اچھا چینج تو کر ل۔۔۔
میں ٹھیک ہو ۔۔
احمد اس کا حیلہ دیکھ بول رہی تھی جب وہ جلدی سے بولی تھی۔۔۔
وہ بھی چپ ہوتا آنکھیں بند کر چکا تھا جانتا تھا وہ جلدی سے شکایت لگا دے گی اس کی ۔۔
مہر تمہاری کافی ۔۔
وانیہ روم میں کافی کا مگ لاتی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
ارے تم کیوں لای ملازمہ لے آت۔۔۔
رات کافی ہو گی ہے ملازمہ اپنے کورٹر چلی گی ہے اور تمہارا کام نہیں ختم ہوا۔۔۔
مہر جو بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ میں بزی تھا تبھی وہ اسے دیکھ بولی تھی ۔۔
جہاں وہ ٹراوزر کے ساتھ بلیک بینان پہن کر بیٹھا تھا۔۔
یہاں آو مجھے کافی نہیں چاہے ۔۔۔
وانیہ کا ہاتھ پکڑے وہ اپنے قریب بیٹھاے بولا تھا۔۔
مہر سب کتنے خوش تھے کاش دادا جان بھی ہوتے ۔۔۔
وانیہ اپنا سر اس کے سینے پر رکھتے آبدیدہ ہوتی بولی تھی۔۔۔
ہمممم میری بھی یہی خواہش تھی نانا جان ہوتے کاش وہ سب نہ ہوتا جو میں نے کیا۔۔۔
مہر اپنا ہاتھ اس کے بالوں میں پھیرتا ہوا بے
۔۔۔
تم نے کیا کیا سب تو میری وجہ سے ہوا تھا۔۔۔
وانیہ حیران ہوتی اس کی گرے آنکھوں میں دیکھ بولی تھی۔۔
و۔وہ کچھ نہیں تم یہ بتاٶ خوش ہو میرے ساتھ ۔۔
مہر جلدی سے بات کور کیے بولا تھا۔۔۔
بہت خوش ہو میں تم نے میری عزت بچای شادی ک۔۔۔
وانیہ اپنا چہرہ اوپر کیے بول رہی تھی جب اسے اپنے قریب کرتے مہر نے اس کے لبوں کو اپنی قید میں لیا تھا ۔۔۔
اپنے لبوں پر مہر کا لمس پاتے وہ جی جان سے کانپی تھی ۔۔
وانیہ نے شرم کے مارے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی ۔۔۔
تم سے شادی نہ کرتا مہررانی تو اپنی جان سے چلا جاتا ۔۔۔
کافی دیر بعد اسے نرمی سے چھوڑے اس کے بھیگے لبوں پر انگوٹھا سہلاتے وہ بہکے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔
جب وہ شرماتی اس کے سینے میں منہ چھپا گی تھی۔۔
یار سوہا یہ کیا کر رہی ہو ۔۔۔
فارس بیڈ پر بیٹھا تھا جب اپنے سامنے کھڑی سوہا کو دیکھ وہ بولا تھا جو اس کے کپڑے لیے کھڑی تھی خود وہ چینج کیے نائٹ ڈریس میں ملبوس تھی۔۔۔
فارس ویسے ہی شروانی پہنے بیٹھا تھا۔۔۔
دیکھو فادی ماما نے سمجھایا تھا شوہر کا ہر کام اس کی بیوی کرتی ہے اب میں بیوی ہو تمہاری تو ہر کام میں کرو گی تمہیں ان میل نرس کی ضرورت نہیں ہے ۔۔
سوہا جلدی سے بیڈ پر آتی لائٹ آف کرتی اس کے کپڑے چینج کرواتے بولی تھی ۔۔۔
لیکن وہ کر لیتا تھا یار تم ایسے اچھی نہیں لگتی جنرل صام کی بیٹی ایسا کام ک۔۔۔
جب عشق ہوتا ہے تب سب کر لیا جاتا ہے تم زیادہ بولا نہ کرو سمجھے مجھے اپنا کام کرنے دیا کرو ۔۔۔
لائٹ آن کیے وہ بولا تھا جہاں اب وہ نائٹ ڈریس میں ملبوس تھا ۔۔
تبھی وہ اس کی گود میں آتی اس کے ہاتھوں کو پکڑتی مسکراتی بولی تھی ۔۔
فارس مسکرایا تھا اس کی بات پر ۔۔
“Do you love me”
وہ اس کی طرف دیکھ شرارتی انداز سے بولی تھی ۔۔
“I don’t know”
وہ سنجیدہ لہجے میں اس پر نظریں جمائے بولا تھا ۔۔
نہ کرو محبت مجھے بھی نہیں چاہے انہہہ۔۔
سوہا مسکراتی اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھتی بولی تھی ۔۔
وہ سب جانتی تھی وہ ایسے کیوں کہتا ہے ۔۔
“یہ پاگل پن ہے سوہا “
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں بولا ۔۔
ابھی بھی ٹائم ہے واپس چلی جاٶ ۔۔
فارس کی آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا تھا۔۔۔
“پاگل پن ہے پاگل پن صحیح ضد ہے تو ضد صحیح لیکن تم صرف میرے ہو صرف میرے”
میں اپنے عشق کی ہر حد پار کرنا چاہتی ہو اب واپسی کا کوئ راستہ نہیں مسٹر میجر فارس ۔۔
وہ اسکے تھوڑا قریب ہوتی شدت سے بولی تھی ۔۔
جبکہ اس کے لب اس کے لبوں کےساتھ ٹچ ہو رہے تھے ۔۔
فارس بس اپنے سامنے اس شدت پسند لڑکی کو دیکھ رہا تھا ۔۔
جو اسے بے پناہ چاہتی تھی ۔۔
سوہا نے شرماتے ہوۓ فارس کے لبوں پر لب رکھے تھے ۔۔
اس کی حرکت پر وہ مسکرایا تھا۔۔۔
نہی۔نہیں کرنا تھا تم سے نکاح م
۔۔۔ تم سے نکاح میرا سب کچھ لے لیا اب کیا چاہتے
ہو وحشی ۔۔۔
روشانے اور حدید کا نکاح ہو چکا تھا جب وہ شدید غصے میں حدید کے روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔
جہاں وہ کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔۔
اب تو ہو گیا بیوی ہو میری زیادہ شور مت مچاو ۔۔
حدید شیشے کے سامنے کھڑا ہوتا اپنے بالوں میں ہاتھ چلاتا بولا تھا۔۔۔
تم ایسا نہیں کر سک۔۔۔
میں سب کر سکتا ہو ابھی باہر جاٶ تم صبح آنا رخصت ہو کر روم میں ۔۔
وہ بول رہی تھی جب وہ بولا تھا۔۔۔
رخصت تو دور کی بات ہے میں تمہارے منہ بھی نہیں لگنا چاہتی سمجھے ۔۔۔
روشانے اس کے قریب آتی پھکاری تھی ۔۔۔
جاٶ تمہیں بخار ہے صبح بات کرے گے ابھی میں نے کچھ کیا تو بزدلوں کی طرح بھاگ جاٶ گی۔۔۔
حدید اس کا سرخ چہرہ دیکھ بولا تھا۔۔۔
بزدل میں نہیں ت۔۔۔
روشانے بول رہی تھی جب اسے جھٹکے سے کمر سے پکڑے اپنے قریب کرتے وہ اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا۔۔۔
روشانے کو امید نہیں تھی اس کے عمل پر تبھی لبٶں پر اس کا لمس پاتے وہ اسی کی باہوں میں وہ بے ہوش ہوتی جھول گی تھی۔۔۔
اپنے باہوں میں جھولتی روشانے کو دیکھ وہ مسکرایا تھا۔۔
اہہہ بزدل روشن دان انہہہ۔۔
اپنی باہوں میں اٹھاۓ وہ نرمی سے بیڈ پر لیٹاتے بولا تھا۔۔۔
