Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 30)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 30)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
“”ماضی ۔۔۔
“کچھ سال بعد ۔۔۔
سر یہ شعیب خان کی بیٹی ہے ۔۔۔
دانش کا آدمی اس کے سامنے بچوں کی پک رکھتا ہوا بولا تھا جہاں کافی بچوں کے درمیان رعنا کی یونفارم پہنے پک بھی تھی ۔۔۔
بہت خوبصورت پھول ہے جیسے نازک سا گلاب ہو ۔۔۔
شراب کا گلاس لبوں سے لگاے وہ خباثت سے پک پر انگلیاں چلاتا بولا تھا ۔۔۔
کیا کرنا اس کا ۔۔۔
اس کا آدمی سر جھکاے بولا تھا ۔۔۔
مجھے یہ بچی چاہے یہ میری رکھیل ہو گی آخر شعیب خان سے بدلا بھی لینا ہے ۔۔۔
وہ اپنی گندی سوچ لاتا ہوا مسلسل پک کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
جی سر ۔۔۔
وہ حکم مانتا ہوا بولا تھا ۔۔
ہاہہاہہاہاہاہہاہا ہاہہاہاہہاہاہاہ ہاہہذہاہہاہاہاہاہ۔۔۔
شیعب خان اب تیار رہنا اپنے مکافات کی سزا پانے کے لیے جو کچھ تم نے میری بہن کے ساتھ کیا تھا اس سے بتر تمہاری بیٹی کو دو گا بہت جلد ملے گے ۔۔۔
ہاہاہہاہاہہاہاہاہ ہاہہاہہاہاہاہہاہ۔۔۔
افسوس تمہاری بیٹی کی عزت بچانے کے لیے کوئ نہیں ہو گا ۔۔۔
شراب پیتے اب وہ اپنا پلان بنتا خود تیار ہو رہا ۔۔
جبکہ وہاں دوسری طرف سب ہی اپنی لائف میں بے حد خوش تھے ۔۔۔
وہ سارے سمجھے تھے کہ غموں کا بادل چھٹ چکا ہے لیکن وہ بھول چکے تھے جب میصبت اتی ہے وہ ہر حال میں آکر رہتی ہے ۔۔۔
تمہیں میری بات سمجھ نہیں آتی کیا ۔۔
شعیب خان غصے سے فون کان کو لگاتے غراے تھے ۔۔
دیکھو خان تمہارے سامنے دو آپشن ہے یا تو میرے ڈرگز کے ٹرک کرنل صام عرف ڈیول کی نظروں سے بچا کر باہر جرمنی بھیجنے پر راضی ہو جاؤ یا تو اپنی گلاب جیسی نازک سی بیٹی میرے حوالے ک۔۔۔
میں تیری زبان کاٹ دو گا دانششششش۔۔۔
افففف اتنا غصہ بھی ٹھیک نہیں ہے خان بھول گے برائ کے راستے کا ڈان ہو تم جانتے نہیں ہو میں کیا کر سکتا ہو ۔۔۔
دیکھنا تمہارے سامنے سے اٹھا کر تیری بیٹی کے کر جاؤ گا ۔۔۔
دانش طش سے کہتا فون بند کر چکا تھا ۔۔
ک۔کیا ہوا خان ۔۔
پاس تیار سی آتی رانیہ نے فکر مندی سے پوچھا تھا ۔۔۔
کتنا کہا تھا ہم وہی رہے لیکن وقار کی پیدائش تم نے یہی پاکستان کرنی تھی اچھے بھلے میں اپنی بیٹی کو وہاں چھپا کر بیٹھا تھا ۔۔۔
شعیب آبدیدہ ہوتے بیڈ پر جا کر بیٹھتے رانیہ کی طرف دیکھ بولے تھے۔۔۔
رعنا کو کچھ نہیں ہو گا آج تک آپ نے اسے باہر نہیں جانے دیا جس کسی نے ملنا ہوتا یہی بنگلے آتا تھا آپ نے اسے ایک ہیر کی طرح چھپا کر رکھا ہے اتنی سکیورٹی ہوتی ہے اس کے آس پاس۔۔۔
وہ سکون سے بیٹھتی ہوی بولی تھی ۔۔۔
تم نہیں جانتی میں نے جوانی میں کتنے گناہ کیے ہے ڈر لگتا ہے اپنے مکافات کی سزا سوچ کر وہ دانش چاہے مجھے مار دے لیکن میری بیٹی کو کچھ نہ کرے ۔۔۔
شعیب پھوٹ پھوٹ کر روتے بولے تھے ۔۔۔
اپنے بنگلے میں بھی انھوں نے گالز سکیورٹی رکھی تھی بنگلے کے اندر بھی ملازم خواتین ہی تھی ۔۔۔
بچوں میں سے کسی کو ملنا ہوتا وہ یہی آکر مل لیتے تھے ۔۔۔۔
آللہ پر یقین رکھے کچھ نہیں ہو گا ا۔۔۔
دانش کومل کا سوتیلا بھای ہے ویسے دیکھا جاے کومل ہی پہلی لڑکی تھی جس کے ساتھ میں نے برا کیا تھا میں نے بہت غلط کیا تھا مجھے ڈر ہے کہی وہ رعنا کو کچھ م۔۔۔
ریلکس آپ ایسا کرے ہم رعنا کو کہی دور لے جاتے ہے مطلب وقار کا نکاح ہو جاے اسی دن ہم چلے جاے گے۔۔۔
وقار نے شور ڈالا تھا وہ ترکی جانے سے پہلے زینب کو اپنی بیوی بنانا چاہتا تھا ۔۔۔
زینب اور وقار کی خوشی دیکھ آفندی صاحب نے فصیلہ کیا تھا دونوں کا نکاح کر دیا جاے ۔۔
بس سب اسی کی تیاری کرنے میں بزی تھے ۔۔۔
ہاں ایسا ہی کرے گے لیکن میں جانتا ہو میری بیٹی کی حفاظت کون کر سکتا ہے ۔۔۔
خان خان بات تو سنے ۔۔
شعیب جلدی سے کچھ سوچتا ہوا اٹھ کر باہر جاتا بولا تھا جب رانیہ بلاتی رہ گی تھی ۔۔۔
یار ہادی جلدی کرو شام نکاح ہے ابھی سوہا کو تیار کرنا ہم نے ۔۔۔
سکول میں بیٹھے حدید کو دیکھ حازم بیزار سی شکل بناے بولا تھا جہاں ہادی ایک کرسی پر بیٹھا آئسکریم کھا رہا تھا ۔۔۔
ارے لالہ یہ والی لاسٹ ہے پکا پھر چلے گے۔۔۔
سکول کے گیٹ سے گردن باہر نکالے باہر کار کے پاس گارڈ کھڑے دیکھ وہ مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
ہم جانتے ہے تم کیا چاہتے ہو ماما کو پتہ چلا تو جوتے پکے ہے ۔۔۔
حازم اس کی مسکراہٹ دیکھ گیٹ سے باہر جا کر کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔۔
کار میں سے اپنی ننھی سی سائیکل نکالے اب حازم اس پر سوار تھا ۔۔۔
حازم بابا ایسا مت کرے دیکھے کتنی ٹریفک ہے کوئ حاد۔۔۔
ہم جا رہے ہے آپ لوگ ہمارے پیچھے آ جاے ۔۔۔
گارڈ سر جھکاے بول رہا تھا جب حازم کے ساتھ حدید جلدی سے بیٹھا تھا جب حازم اپنی کہتا آگے بڑھ گیا تھا ۔۔۔
ی۔یہ حازم اور حدید ہے نہ۔۔۔
مال سے شاپنگ کرتے باہر آتی روحا نے پاس کھڑے صام کو دیکھ گھبراتے پوچھا تھا ۔۔۔
جہاں سڑک پر چھوٹی سی سائیکل پر حازم فل سپیڈ سے چلاتا ہوا بھری رش والی ٹریفک سے گزار رہا تھا جبکہ پیچھے چار گاڑیاں آہستہ آہستہ جا رہی تھی ۔۔۔
جبکہ حدید کی شرراتیں عروج پر تھی حازم کے ساتھ ۔۔
ہاں میرے ہی دشمن پلس ایلفیاں ہے ۔۔۔
صام اپنی گلاسز سیٹ کرتا مسکراہٹ روکے بولا تھا۔ ۔۔
یہ کوئ طریقہ ہے صام یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا ہے پہلے حازم جو گن چلانے سکھانا پھر یہ سب اتنی سی عمر میں وہ بڑے والے کام کرتا ہے ابھی تو پڑھنے لکھنے کے دن ہے اور یہ سب خود تو ایسا بن رہا ساتھ ہادی کو بھی سکھا رہا ہے حد ۔۔۔
روزانہ کی طرح روحا وہی غصے سے آگ بگولہ ہوتی صام کا کان پکڑتے وہی دانت پیستے بولی تھی ۔۔۔
جبکہ صام اس کے کان کی طرف جھکا مسکراہٹ روکے سکون سے یہ لیکچر سن رہا تھا ۔۔۔
مال سے آتے جاتے لوگ رشک بھری نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے جہاں صام دنیا جہاں کو بھلاے بس روحا کا خوبصورت چہرہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔
میرے بچے ہے تو ذہین ہوگے بہادر ہو گے کمزور تو نہیں ۔۔
اور یار کبھی اپنے ہینڈسم ہسبیڈ پر بھی توجہ دیا کرو ۔۔
ہر وقت بچے بچے کرتی ہو میں تو ابھی چاہتا ہی نہیں تھا ابھی یہ س۔۔۔۔
اففففف صام آپ آس پاس کا بھی خیال رکھ لیا کرے ہر وقت ایسا روپ ہماری سانسیں روک دیتا ہے ۔۔
روحا اس کی سرگوشی سنتے وہ جلدی سے دور ہوتی بولی تھی ۔۔۔
لو مجھ معصوم نے کہاں تمہاری سانسیں روکی ہ۔۔۔
ہماری سانس بچوں نے روکی ہے پہلے وہ دیکھ لے ۔۔۔
روحا اپنا سرخ چہرہ لیے جلدی سے آگے جاتی کار کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔
ہاےےےے میری معصوم سی انیجل یار ابھی بھی ڈرتی ہو مج۔۔
ہم کسی سے نہیں ڈرتے آپ سے تو بلکل نہیں انہہہ ڈیول ۔۔۔
دور جاتی روحا کا ڈوپٹہ پکڑتے اپنے لبوں سے لگاے وہ ایسے ہی جاتا بول رہا تھا جب وہ واپس پلٹتی ہوی کہتی صام کی لال گرین آنکھوں میں اپنی طلب دیکھ جلدی سے کار کا دور اوپن کیے بیٹھتی بولی تھی ۔۔۔
ہاہہاہاہاہہاہاہہاہاہاہا۔۔
روحا کے لال چہرے پر پیسنے کے قطرے دیکھ صام کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
جبکہ روحا نے بھی شرماتے ہوے اپنا چہرہ صاف کیا تھا ۔۔۔۔
انکل مجھے وہ پاپڑ چاہے ۔۔۔
سکول سے واپس آتی رعنا کار کے باہر کھڑے پاپڑ والے کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔
جہاں ایک ریڑھی پر آدمی پاپڑ لیے کھڑا تھا ۔۔۔
سر نے کہا تھا سیدھا گھر آنا ہے آپ گھر جاے م۔۔۔
میں نے کہا ہے نہ لینی ہے تو لینی ہے ۔۔۔
گارڈ سنسنان راستے کو دیکھ بول رہا تھا جب وہ ضدی انداز سے بولی تھی۔۔۔
بیٹا یہ جگہ خطرے والی ہے ا۔۔۔
روکو بیٹا روکو بیٹا ۔۔۔
وہ بول رہا تھا جب وہ کار کا ڈور اوپن کیے جلدی سے باہر نکلتی بھاگی تھی ۔۔۔۔
دانش کا آدمی اپنے قریب آتی رعنا کو دیکھ خوش ہوا تھا وہ سمجھا تھا چھوٹی بچی ہے پکڑ لے گا اب اسے پاس آتا دیکھ وہ خوش ہوا تھا ۔۔۔۔
انکل یہ چاہے ۔۔۔
وہ سنہری بالوں کی پونی بناے اپنی نیلی آنکھوں میں معصومیت لاے بولی تھی۔۔
ہاں بیٹا لو تم۔۔
رعنا کے ننھے سے ہاتھ کو چھوتے وہ خباثت سے بولا تھا ۔۔۔
ان کے پاس سے حازم کی سائیکل گزاری تھی ۔۔۔
لالہ وہ دیکھے مس فائر چلے اسے ساتھ لے کر جاے ۔۔۔
حدید حازم کے کان میں بولا تھا ۔۔۔
یار چھوٹے ہمیں وہ زہر لگتی ہے تم ہر وقت اس کے ساتھ رہتے ہو ویسے بھی وہ پاپڑ لے کر گھر چلی جاے گی ۔۔
حازم اپنی سائیکل روکتا دور دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
جہاں اب وہ رعنا کا ہاتھ پکڑے زبردستی ساتھ لے کر جا رہا تھا جبکہ اس کے گارڈ کو شوٹ کیے وہ گرا چکا تھا ۔۔۔
لالہ میری دوست ہے و۔۔۔
ویسے کافی دن ہو گا ہم نے اپنے ہاتھوں کی طاقت نہیں دیکھی ۔۔۔
اپنی سرخ گرین آنکھوں سے سامنے دیکھتا وہ گربڑ ہوتی دیکھ جلدی سے سائیکل کا رخ اس کی طرف کرتا چمکتی آنکھوں سے بولا تھا ۔۔۔
مطلب آپ فائیٹ کرے گے لالہ ۔۔۔
حدید اپنی ننھی سی گردن اس کے شولڈر پر رکھے خوشی سے بولا تھا ۔۔۔
نو سال کے ہو کر بھی وہ دونوں اپنی عمر سے زیادہ بڑے لگتے تھے اتنی عمر میں ہی دونوں کا مضبوط جسم اور قد تھا ۔۔۔
کوئ انہیں پہلی نظر میں یہی سمجھتا تھا وہ پندرہ سولہ سال کے بچے تھے ۔۔۔
چ۔چھوڑو مجھے بابا ۔۔۔
اپنی یونفارم کی بازو پھٹتے دیکھ تو روتی ہوی دور بھاگتی بولی تھی ۔۔۔
جبکہ قریب ہی گارڈ کو خون میں لت پت دیکھ وہ ڈرتی روی تھی ۔۔۔
چھوڑو اس کا ہاتھ ۔۔۔
حازم اپنی سائیکل اس کے قریب لاتا ویسے ہی بیٹھے سکون سے بولا تھا ۔۔۔
آگے لڑکے جاؤ یہاں سے ۔۔۔
وہ آدمی اپنے سامنے ان دونوں کو دیکھ غرایا تھا ۔۔۔
تجھے ایک بار سمجھ نہیں آتی چھوڑ اس کو ۔۔۔
حازم اپنی سائیکل کو گھومتا ہوا طش سے بولا تھا ۔۔
جب گھومتی ہوی سائیکل اس کی ڑیڑی پر آی تھی ۔۔۔
تھپڑ مارو اس کے ۔۔۔
حازم ویسے ہی سائیکل پر بیٹھا سکون سے بولا تھا۔ ۔
رعنا نے روتے ہوے اوپر دیکھا تھا اسے جو ویسے ہی گرین آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
تم لوگ کیا کرو گے چھوٹے سے بچے ہ۔۔۔۔
آدمی اب ان تینوں کو دیکھ بول رہا تھا جب رعنا نے ہمت جمع کیے اس کے تھپڑ مارتی جلدی سے حدید کا ہاتھ پکڑے اوپر آی تھی ۔۔۔۔
عمر سے چھوٹے ہے لیکن ذہین سے نہیں مسٹر بلا بلا بلا۔ ۔۔
حازم حدید کو اشارہ کرتا اب اپنے لونگ شوز سے چاقو نکالے بولا تھا ۔۔۔
جب حدید نے جلدی سے سائیکل سے اترتے پاپڑ کی مرچی اس آدمی کے شولڈر پر بیٹھتے اس کی آنکھوں میں ڈالی تھی ۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہہ اتم دو دن کے بچے ا۔۔۔
وہ آدمی مرچی آنکھوں میں پڑتی دیکھ چیختا ہوا حدید کو دھکا دیے رعنا کو ٹانگ سے پکڑے شولڈر پر ڈالے بھاگتا بولا تھا ۔۔۔۔
حدید نیچے زمین پر گرا دو رہا تھا جبکہ حازم کو پکڑے کھڑی رعنا نے دور جاتے اس کی شرٹ کو کھینچا تھا جب اس کی شرٹ پھٹتے ہوے ہاتھ میں آی تھی ۔۔۔
حازم سوچ میں پڑا تھا کس کو بچاے پہلے زمین پر گرے حدید کو یا دور جاتی روتی رعنا کو ۔۔
جس کی نیلی آنکھیں آنسو بہا رہی تھی ۔۔۔
اپنی گن کو نکالے اس نے آدمی کی ٹانگ پر شوٹ کیا تھا ۔۔
جب وہ لڑکھڑا تھا تبھی رعنا دور جا کر گری تھی ۔۔۔
دور سے آتی حازم کے گارڈز کی گاڑیاں روکی تھی ۔۔۔
آپ ٹھیک ہے حازم بابا ب۔۔۔
جلدی سے اس آدمی کو پکڑو اسے ڈیول ہاوس پہنچا دے ۔۔۔۔
حازم جلدی سے اترتا ہوا حدید کے پاس جاتا بھاگ کر اسے اٹھایا تھا جو مسلسل رو رہا تھا ۔۔۔
جبکہ اب وہ رعنا کے پاس جا رہا تھا ۔۔۔
ب۔برفانی ریچھ ۔۔۔
حازم کے شولڈر سے خون نکل رہا تھا کیونکہ رعنا کو اٹھانے کے لیے وہ جھکا تھا جب اس آدمی نے اسے شوٹ کرنے کی کوشش کی تھی جب بولی اسے چھوتی گزار گی تھی ۔۔۔
تبھی وہ چلای تھی ۔۔۔
لڑکے روتے نہیں ہے تم بہادر بنو یار تاکہ ہمیں فخر ہو تم ہمارے بھای ہو ۔۔۔
یہ آنسو زہر لگتے ہمیں اگر کبھی ہمیں کچھ ہو گیا تب کیا کر ۔۔
لالہ ایسا تو مت کہے اپ ۔۔۔
حازم ایک ہاتھ سے حدید دوسرے سے رعنا کو پکڑے اب کار میں بیٹھ رہا تھا جب دونوں نے رونے کی سپیڈ پکڑی ہوئ تھی تبھی وہ بیزار سی شکل بناے بول رہا تھا جب حدید اسی کے سینے سے لگاتے روتا بولا تھا ۔۔۔۔
اففففف یہ ڈرامہ ۔۔
کار کے باہر اس آدمی کے گارڈ کے ساتھ جاتے اب وہ دونوں کا سریلی آواز میں رونے کا شور سن کر بولا تھا ۔۔۔۔
صامے میں تجھ سے کچھ مانگنے ایا ہو ۔۔
صام اور روحا ابھی گھر آئے تھے جب ہال میں انٹر ہوتے شعیب نے کہا تھا ۔۔۔
ریلکس کرونا کی جعلی ویکسین آرام سے بات کر لو ا۔۔۔۔
مجھے اپنی بیٹی کے لیے کوئ ایسا چاہے جو حفاظت کر سکے اور میں جانتا ہو حازم ہی ہے جو میری بیٹی کو بچا سکتا ہے ۔۔۔
صام بول رہا تھا جب وہ بنا روکے بولے تھے ۔۔
مطلب کیا ہے ا۔۔۔
میں چاہتا ہو رعنا اور حازم کا نکاح ہو جاے اور وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہے ۔۔۔۔
دانش کی ساری بات بتاتے اب وہ اپنی راے سنا رہا تھا ۔۔۔
واٹٹتت کیا ہوش میں نہیں ہو اتنے چھوٹے بچے ہمارے ا۔۔۔۔
حازمنمم حدیددددد رعننننااااا ۔۔۔
صام چیختا ہوا بولا تھا جب روحا ہال میں انٹر ہوتے ان تینوں کو دیکھ چیختی پاس گی تھی ۔۔۔۔
کیا ہے انیجل موم پہلے ہی ان دونوں کا سریلی آواز میں رونا سنا ہے اب آپ بھی ایسا کر رہی ہے ۔۔۔۔
حازم بہتے خون کے ساتھ روحا کی طرف دیکھ سکون سے بولا تھا ۔۔۔
کیا ہوا تھا ۔۔۔۔
صام اور شعیب بھی پاس آتے بولے تھے ۔۔
ڈیول ڈیڈ کچھ نہیں ہوا ۔۔۔
حازم ویسے ہی چلتا ہوا صام کی گود میں آتا ساری بات سنا چکا تھا ۔۔۔۔
میرا ببر شیر ہو میرا ایول ۔۔۔
صام بات سنتا فخر سے بولا تھا ۔۔۔
کیا ببر شیر اور ایول شیول حالت دیکھے ان سب کی ۔۔۔۔
روحا طش میں آتی حازم کو پکڑتی ان سب کو اپنے ساتھ لے کر جاتی بولی تھی ۔۔۔
حازم بھی سکون سے اپنا کان روحا کے ہاتھ میں دیکھ ساتھ ان کی باتیں سنتا نقل اتارے ساتھ جا رہا تھا ۔۔۔۔
اسے فرق ہی نہیں پڑا تھا اس کے شولڈر پر گولی لگی تھی ۔۔۔۔
بلا بلا بلا ۔۔۔
اپنی گردن کو ہلاتے وہ مسلسل نقل اتارے اب جا رہا تھا ۔۔۔
شعیب نے صام کی طرف اس نظر سے دیکھا تھا جیسے کہا ہو دیکھا کہہ تھا نہ تیرا بیٹا میری بیٹی کی حفاظت کرے گا ۔۔۔
اہہہہہ کیسے بچ گی وہ ۔۔۔
دانش اپنی ہار سنتا ہوا دھاڑا تھا ۔۔۔۔
س۔سر اس بچے نے بچا لیا۔۔۔
اس کا دوسرا آدمی سر جھکاے بولا تھا ۔۔۔
وہ صرف میری صرف میری میں خود لاو گا اسے وہ ایک چھوٹا سا بچہ کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔
شراب پیتے وہ غراتا اب اپنی گن نکالے آفندی پیلس جانے کی تیار کرتا بولا تھا ۔۔۔
سر وہ بچہ نہیں ہ۔۔۔
بچہ ہی ہے چھوٹا سا اب دیکھنا میں لے کر آؤ گا اس لڑکی کو۔۔۔
اس کا آدمی بول رہا تھا جب وہ اپنی کہتا باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
لالہ ایسے بند نہیں کرتے ۔۔۔۔
حازم سوہا کو نکاح کے لیے تیار کر رہا تھا جب ننھی سی سوہا لہنگے کی زپ بند کرواتی بولی تھی ۔۔۔۔
تو موٹی ہو گی ہے تبھی لالہ سے بند نہیں ہو رہا۔ ۔۔
بیڈ پر بیھٹے حدید نے سیب کھاتے سکون سے بولا تھا۔ ۔
بکواس بند کر تو ۔۔۔
سوہا نے برا سا منہ بناے پرفیوم کی بوتل اٹھا کر اسے مارتے بولی تھی ۔۔۔
جو کہ اندر آتی روشانے کے سر پر لگی تھی ۔۔۔
تمہارا منہ میں ابھی توڑتی ہو ۔۔۔۔
روشانے امن زینب وانیہ رعنا سب نے ایک جیسا لہنگا پہنا تھا وہ تیار ہوئ سوہا کو لینے آی تھی جب اپنے سر پر پرفیوم کی بوتل لگتے دیکھ وہ حدید کے پاس آتی بولی تھی ۔۔۔
تم ۔۔۔۔
ہم تم سے چھوٹے ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا تمہارا جب دل کرے ہمارے چھوٹے کو مارو ۔۔۔
لڑکی ہو ورنہ ایسا تھپڑ مارتے دو دن ہوش نہ آتا تمہیں ۔۔۔۔
اس سے پہلے روشانے حدید کو تھپڑ مارتی جب حازم اس کا ہاتھ پکڑتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
روشانے کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے ۔۔۔۔
مجھے ہی بولتے ہو بلڈوزر کبھی اپنے اس موٹے بھای سے پوچھا ہے کیوں مارا مجھے ۔۔۔
روشانے اپنا ہاتھ اس کے بھاری ہاتھوں میں دیکھی بھری آواز سے بولی تھی ۔۔۔۔
اچھا اس کا قصور نہیں تھا نہ ہی ہمارا بھای کھلونا ہے جو ایسا کرتی ہو اب چپ کرو ۔۔۔
اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ وہ جلدی سے دور ہوتا بولا تھا ۔۔۔
فادی کے پاس رہنا اوکے ۔۔۔
اب وہ سوہا کے بالوں کی گنگھی کیے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
چلو جاو اب ۔۔۔
حدید اور سوہا کو تیار کرتے ان کا ماتھا چومتا ہوا وہ بولا تھا ۔۔۔
آپ بھی آجاے ۔۔۔
روشانے حازم سے نظریں چڑہاے بولی تھی اسے وہ پسند تھا ایٹیٹوڈ اور کھڑوس سا لڑکا جو کم ہی بولتا تھا ۔۔۔۔
آتے ہے ہم ۔۔۔
اپنی شرٹ کو دیکھ کر وہ بولا تھا ۔۔۔۔
میرے لیپ اسٹک لگا دو ۔۔
اس سے پہلے وہ باہر جاتا جب اسی کے روم میں آتی وہ مسکراتی بولی تھی ۔۔
کیوں یہ پارلر ہے کیا ۔۔۔
اپنے سامنے ریڈ لہنگے میں تیار سی سنہری بالوں کو کھلا چھوڑے نیلی آنکھوں میں شرارت لاے وہ کھڑی تھی ۔۔۔
جیسے دیکھ وہ دو ٹوک بولا تھا ۔۔۔۔
ہادی اور سوہا کو تیار کیا مجھے بھی کر دو ۔۔۔
وہ ڈھیٹ ہوتی اس کے قریب آتی بولی تھی ۔۔۔
حازم کو وہ ننھی سی اپنی اکلوتی دشمن پسند تھی کافی جو سب کو چھوڑ اسے ہی بلاتی تھی ۔۔۔
ہمیں یہ پسند نہیں ۔۔۔
حازم سکون سے پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے بولا تھا ۔۔۔
تمہیں میرا میک اپ نہیں پسند ۔۔۔
رعنا اپنی نیلی آنکھوں میں حیرت لاے بولی تھی ۔۔۔
نہیں ۔۔۔
وہ سکون سے بولتا اسے بے سکون کر گیا تھا ۔۔۔
تمہیں مسلئہ کیا ہے ہر وقت سڑے بیگن بنے رہتے ہو حازم اب کیا تمہارے کہنے پر ہم سب وہی کرے گے ۔۔۔
ہمارا نام دوبارہ لو۔۔۔
لال چہرہ لیے وہ جنگلی بلی بنی اس کے قریب آتی بولی تھی جب حازم اس کا چہرہ دبوچتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔
دفع ہو میں نہیں لیتی تمہارا نام حازم شام ڈام حاجمولا برفانی ریچ۔۔۔
ہمارا نام لو ۔۔۔
وہ آنسو سے بھری آنکھیں لیے اسے چڑہاتے بول رہی تھی جب وہ پھر بولا تھا ۔۔۔
اسے پسند آیا تھا اس کے لبوں سے حازم نام سن کر ۔۔۔
ح۔از۔حاز برفانی ریچھ ۔۔۔
حازم مسکراتا سن رہا تھا جب وہ لبوں کو دانتوں میں دباے شرارتی انداز سے بولی تھی ۔۔۔
حازم کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ آتی ہی غائب ہوئ تھی ۔۔
دشمن کی بات مانی جاتی ہے ۔۔۔
حازم اسے چھوڑتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
دشمن تنگ بھی کر سکتے ہے برفانی ریچھ۔۔۔
رعنا اچانک حازم کے پیٹ میں لات مارتی اسے جھکتا دیکھ جلدی سے اس کی ناک پر دانت گاڑھے سکون سے بولی تھی ۔۔۔۔
پوری جنگلی بلی ہو اگر ہم نے کاٹا تم فون سٹارٹ کر ج۔۔۔۔
آزما کر دیکھ لو برفانی ریچھ ۔۔۔
دور جاتی اب رعنا کو بالوں سے پکڑتے واپس اپنے قریب لاتے وہ بول رہا تھا جب وہ مسکراتی بولی تھی ۔۔۔۔
آنسو نہیں آنا چاہے ۔۔۔۔
حازم اس کے پھولے گال دیکھ جھکتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
اپنے گال پر اس کے دانتوں کی گرفت تیز سے تیز تر ہوتے دیکھ رعنا کو درد کے ساتھ آنسو بھی آگ تھے ۔۔۔۔
حازم مسلسل اپنی گرین آنکھوں سے اس کی آنسووں سے بھری نیلی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
برفانی ریچھ۔۔۔
درد کو برادشت کرتے آنسو روکے رعنا نے اس کے براون بالوں کو پکڑتے غرایا تھا ۔۔۔۔
پہلے تنگ کس نے کیا تھا ۔۔۔
رعنا کو دوبارہ بالوں سے پکڑتے وہ بھی سکون سے بولا تھا حازم کا ناک جبکہ رعنا کا گال سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔
ابھی تم کہتے ہو ان دونوں کی شادی کروانی ہے پہلے ہی جانی دشمن بنے ہے یہ بڑے ہو کر تو شوٹ ہی کر دے یہ۔۔۔۔
شعیب اور صام روم میں آتے ان دونوں کی ایسی حالت دیکھ صام دونوں کو الگ کرتا شعیب کی طرف دیکھ بولا تھا ۔۔۔
لے جاے انکل اسے پاگل خانے ۔۔۔۔
اپنے ناک کو سہلاتے وہ سردپن سے بولا تھا ۔۔۔
انہہہہ تم مینٹل ہاسپٹل ہو جانور۔۔۔
شعیب کے ساتھ جاتی رعنا بیڈ سے اس کی وہائٹ شرٹ کے کر بھاگتی بولی تھی ۔۔۔
ڈیول ڈیڈ ہم اس کا قتل کر دے گے ۔۔۔
حازم طش میں آتا بنا سوچتے بولا تھا ۔۔۔
جب باہر جاتے شعیب نے دھڑکتے دل سے یہ سن تھا ۔۔۔
تو تم کون سا بچ جاؤ گے دیکھنا جیل جانا وہی مر جانا تم ۔۔۔
رعنا باہر سے دوبارہ اندر گردن کرتی نیچے گرے پرفیوم کو اس کے سر پر مارتی بھاگتی بولی تھی ۔۔۔
اہہہہہ جنگلی بلی اب تمہارا قتل پکا ۔۔۔۔
شدید غصے میں بیڈ پر پڑی بلیک شرٹ پہنے اب وہ پرفیوم کی بوتل اٹھاے باہر جاتا غرایا تھا ۔۔۔
اففففف۔۔۔
جنگلی جانور دونوں ہی ۔۔
صام اپنا سر پکڑتے بولے تھے ۔۔۔
یہ کیا طریقہ تھا اگر ہم سکون سے بیٹھے ہے تمہیں چین نہیں ۔۔۔
سب کی ہال میں بیٹھے تھے جہاں وقار اور زینب کا نکاح ہو چکا تھا ۔۔۔
جب اپنی کرسی کے نیچے سے رعنا کی گردن باہر نکلے دیکھ وہ مدھم سا غرایا تھا ۔۔۔
سب ہی باتوں میں بزی تھے ۔۔۔
تم نے کہا تھا میرا قتل کرو گے اب کرو ۔۔۔
رعنا اپنی زبان باہر نکالے بولی تھی۔۔۔
بولتی رہو ہماری بلا سے ۔۔۔
وہ یہاں تماشہ نہیں چاہتا تھا تبھی اسے اگنور کیے بولتا باقی بچوں کے ساتھ متوجہ ہوا تھا ۔۔۔
رعنا نے برا سا منہ بنایا تھا ۔۔۔
رات روک جاتے تم ۔۔۔
صام شعیب کو دیکھ بولا تھا ۔۔۔
نہیں یار گھر چلتے ہے ۔۔
وہ پریشان ہوتا بولا تھا اسے رعنا کہی بھی نہیں دیکھ رہی تھی ۔۔
کیا ہوا۔۔۔
رعنا کدھر ہے ۔۔۔
وہ صام کے پوچھنے پر جلدی سے بولے تھے ۔۔۔
وہ حازم کے ساتھ ہے ۔۔۔
پاس سے گزارتے فارس نے مسکراتے جواب دیا تھا ۔۔
دیکھو میں نے کافی سوچا لیکن حازم اور رعنا کی نہیں بنتی اس کی زیادہ ہادی سے بنتی ہے بچے بڑے ہو جاے میں خود اس کی شادی ہادی سے کرواؤ گا حازم کو چڑ ہے اس سے ۔۔۔
ویسے تم کہو تو میں سکیورٹی زیادہ کر دی ۔۔۔
ارے نہیں بعد میں دیکھا جاے گا کیا ہوتا ہے ۔۔۔
ابھی اپنے بچوں کو دیکھ لے ۔۔۔
شعیب دور جاتے حازم کو دیکھ بولا تھا جو پول سائیڈ کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔
یہ تم اچھا نہیں کرتی جنگلی بلی۔۔۔
حازم وہاں بور ہوتا پول سائیڈ پر آتا وہاں اکیلے کھڑا تھا ۔۔۔
جب پیچھے سے آتی رعنا نے اسے دھکا دے پول میں گرایا تھا جب وہ بھیگتا ہوا غرایا تھا ۔۔۔۔
مجھے بڑا مزہ آتا تمہیں تنگ کر کے ۔۔۔
حازم کی وہائٹ شرٹ پہنے وہ مسکراتی سادہ سے حلیے میں کھڑی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
وہ اپنا میک اپ بھی ختم کر چکی تھی ۔۔۔
یہ تم نے کپڑے کیوں چینج کیے۔۔
پانی سے باہر آتے حازم نے اس کی طرف دیکھ پوچھا تھا اسے وہ پیاری لگی تھی سادہ سی۔۔
تمہیں نہیں پسند تھا تبھی ۔۔۔
وہ مسکراتی ابھی بھی بول رہی تھی ۔۔
لیکن ہم دوشمن ہ۔۔۔
میں دوشمن تمہاری لیکن تم دوست ہو میرے حازم۔۔۔
حازم حیران ہوتا بول رہا تھا جب وہ اس کا ہاتھ پکڑے بولی تھی ۔۔
سلی گرل ۔۔۔
اندر آجانا ۔۔۔
حازم اپنا ہاتھ چھڑواتے کہتا ہوا اندر جاتا بولا تھا ۔۔۔۔
جبکہ وہ وہی کھڑی مسکرا رہی تھی ۔۔۔
ک۔کون ہو تم۔۔
اس سے پہلے وہ اندر جاتی جب پلیس کی دیوار پھلانگ کر اندر آتے دانش نے اسے دبوچا تھا تبھی وہ ڈرتی ہوی بولی تھی۔ ۔۔
آواز نہ آئے چلو ساتھ میرے ۔۔
اس ننھی سی بچی کو دیکھ وہ بہکتا بولا تھا ۔۔۔
ایک شراب دوسرا وہ ننھا سا وجود اسے بہکا رہا تھا اسے وہ خوبصورت لگی تھی ۔۔۔
باب۔۔۔
اس سے پہلے وہ چلاتی کسی کو بلاتی جب وہ بہکتا ہوا اسے وہی دبوچتے نیچے گراے خود اس پر حاوی ہوتا اس کی آواز اپنے ہاتھوں سے دبای تھی ۔۔۔
میں نہیں جانتا تھا شعیب کی اتنی خوبصورت بیٹی ہے ۔۔۔
اس کے گال کو چھوتے وہ ہوس بھری نظروں سے بولا تھا ۔۔۔۔
بچاوووو۔۔۔
رعنا ہمت جمع کرتی چلای تھی ۔۔۔
چھوڑ اس کو ورنہہہہہہ ۔۔۔
حازم اندر جاتا واپس رعنا کا سوچ کر پول سائیڈ آیا تھا تاکہ وہ اندر لے جاے لیکن وہاں آتے رعنا پر ایک آدمی کو جھکتے دیکھ وہ غرایا تھا ۔۔۔۔
تو کون ہے دفع ہ۔۔۔۔
اہہہہہہ اہہہہہہہ ۔۔۔
جب کہا جاتا ہے چھوڑ تو چھوڑ دیتا ایویں اپنا نقصان ہی کروایا ۔۔۔۔
وہ آدمی اپنے کام میں مداخلت محسوس کرتا بول رہا تھا جب پاس پڑی کرسی کو اٹھا کر اس کے سر پر مارتے وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
اپنی پھٹی شرٹ کو پکڑتی بکھرے بال لیے رعنا اٹھ کر حازم کے سینے سے لگی رو رہی تھی ۔۔۔۔
افففف یہ تم لڑکیوں کی رونا ۔۔۔
اس کے آنسو دیکھ وہ سردپن سے بولا تھا ۔۔۔۔
اس کے سینے سے لگی وہ تھر تھر کانپ رہی تھی ۔۔۔۔
اب دفع ہو جانا تو بزدل ان۔۔۔
حازنننممممممم۔۔۔۔
حازم اسے پکڑے ساتھ لے کر جاتا بول رہا تھا جب سر سے خون بہتے کے ساتھ دانش نے گولی سے اسے شوٹ کیا تھا ۔۔۔
گولی حازم کے شولڈر سے آر پار ہوئ تھی تبھی وہ دہشت سے چلای تھی ۔۔۔۔
اہہہہہ ہمیں بہت خوش تھا کم عمری میں قتل کرنے کا۔ ۔۔
اپنے جلتے شولڈر کو محسوس کیے اب وہ گھومتا ہوا گن اپنی پاکٹ سے نکالے دانش پر وار کرتا غرایا تھا ۔۔۔۔
حازم کی گن سے چار گولیاں نکلتی دانش کے سینے میں پیوست ہوی تھی ۔۔۔
پول سائیڈ پر اتنا خون اور حازم کا جاہلی روپ رعنا کی پہلی دفع روح فنا ہوی تھی وہ مسلسل چیخ رہی تھی ۔۔۔۔
و۔وہ مر ۔مر گیا حا۔حازم۔۔۔
حازم سے دور ہوتی وہ دور گرے دانش کو تڑپتے آخری سانس لیتے دیکھ وہ پھٹی آنکھوں سے بولی تھی ۔۔۔
ہاں تو مرنا تھا اسے ایک چھوٹی بچی کا ریپ کرنے کی کوشش کی اس نے ۔۔۔
وہ رعنا کی پھٹی شرٹ کو دیکھ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
یہ تم نے کیا کر دیا حازم قتل کر دیا تم نے وہ ب۔۔۔
ٹھاہہہہہ ٹھاہہہہہہ۔۔۔
سب ہی اس کی آواز اور گولیوں کی آواز سنتے پول سائیڈ آے تھے جب رعنا کو حازم کا کالر دبوچتے چیختے دیکھ ساتھ ہی حازم کی گن سے گولی رعنا کی شہ رگ پر لگتے دیکھ سب چیخے تھے ۔۔۔
حازم کا اچانک گن پر ہاتھ کا دباؤ پڑا تھا جب گولی سیدھی رعنا کی گردن کی شہ رگ کو چھوتی گزاری تھی ۔۔
جنگلی بلی ہوش کرو یہ کیا ہو گ۔۔۔
چٹاخخخخخچ ۔۔۔
دور رہو میری بیٹی سے حیوان ہو تم ۔۔۔
پہلی دفعہ اپنی غلطی پر حازم آگے بڑھتا رعنا کو پکڑے بول رہا تھا جب شعیب خان آگے آتے اس کے تپھڑ مارتے غراے تھے ۔۔۔
ب۔بابا ح۔حازم ۔نے اسے۔قت۔قتل ۔کی۔کیا کی۔۔۔۔
رعنا رعنا رعننننننننانااااا ۔۔۔
شعیب کی گود میں گری رعنا نے اٹکتی سانسوں سے حازم کی طرف اشارہ کرتے بولتے ہوے بے ہوش ہوی تھی ۔۔۔
سب نے ہی رعنا کی طرف متوجہ ہوتے بھاگے تھے جبکہ کسی نے حازم پر غور نہیں کیا تھا جو شولڈر سے نکلتے خون کی پرواہ کیے بے ہوش رعنا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
بکواس کرتی ہے یہ بتاؤ ہم نے ایسا کیوں کیا بولو کیا مر گی ہو ۔۔۔
شدید طش میں آتے حازم سب کے سامنے بے ہوش پڑی رعنا کو گردن سے دبوچتے ہوے غرایا تھا ۔۔۔۔
پکڑو اسے پولیس کے کر جاؤ جیل اس کو ۔۔۔
سب کی پرواہ کیے بنا شعیب رعنا کو اٹھاے بھاگ کر کہتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
صام صام کچھ کرے ہمارا بیٹا ۔۔۔
روحا صام کے سینے سے لگتی بول رہی تھی جب وہ بھی ان سنی کرتے چپ حازم کے پاس آتے بولے تھے۔۔
یہ سب تم نے کیا ایول ۔۔۔
صام اپنی جلادئ ڈیول روپ میں آۓ غراے تھے ۔۔۔
جبکہ وہ گن پکڑے ویسے ہی چپ کھڑا تھا وہ مسلسل سب کو گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ل۔لالہ۔۔
حدید اور سوہا آنسو بہاے چیخے تھے حازم کو خون میں لت پت ۔۔۔
بہادر بنا ہر وقت مسکرانا کبھی رونا مت لڑکے ہو ہماری بیٹی کا خیال رکھنا اور خود کا بھی ۔۔۔
حازم آرام سے چلتا صام کے چیخنے چلانے کو اگنور کیے حدید اور سوہا دونوں کو گلے لگاے مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
ل۔لالہ یہ جھوٹ ہے رعنا کو ہوش آنے د۔۔۔۔
کبھی رونا مت مسکرانا شرارتیں کرنا ہمیں پسند ہے ۔۔۔
دونوں اس کے سینے سے لگے روتے بول رہے تھے جب وہ دونوں کا ماتھا چومتا ہوا کہتا اپنے آس پاس کھڑی پولیس کو اپنی حراست دیتا دور ہوا تھا ۔۔۔۔
ایول بولو کچھ کیا ہوا تھا ۔۔۔
صام جلدی سے اس کے پاس آتے بولے تھے ۔۔۔۔
چلے ہم ۔۔۔
سب کو اگنور کیے اب وہ پولیس کے ساتھ جا رہا تھا حازم نے اپنی صفائی میں ایک لفظ تک نہیں کہا تھا۔۔۔
میرے لالہ لالہ۔۔۔۔
حدید بچوں کی طرح روتا ہوا بھاگا بولا تھا جب اچانک وہ بے ہوش ہوتا زمین بوس ہوا تھا ۔۔۔۔
ہادیییییی ۔۔
سب ہی اب بے ہوش ہادی کو دیکھ اس کی طرف بھاگے تھے ۔۔۔
جبکہ حازم سب سے دور چلا گیا تھا ۔۔۔
