581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 1)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

ہاے شکر ہے تم سب بچ گے اپنے ڈیڈ سے ورنہ وہ تو ہمارے معصوم بچوں کو لندن بھیج دیتے ۔۔۔

روحا ان تینوں کو نہا لا کر لاتی بیڈ پر بیٹھاتی ان کو تیار کرتی بولی تھی ۔۔۔

سوہا اور حازم نے اپنا منہ بنایا ہوا تھا کیونکہ سوہا کو فارس کے پاس جانا تھا جبکہ حازم کو وانیہ چاہے تھی ۔۔

جبکہ حدید بے صبری سے اپنے ڈیڈ کا ویٹ کر رہا تھا ۔۔

تم لوگوں نے اب سکون سے سونا ہے اوکے ۔۔

روحا اب تینوں کو بیڈ پر لیٹاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

ماما ڈیڈ کب آے گے ۔۔۔

حدید نے بے صبری سے پوچھا تھا۔۔۔

ہم فون کرتے ہے آ جاۓ گے تم سب یہاں لیٹ جاٶ ۔۔

روحا اس کے گال چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

وہ ایسا ہی تھا نرم دل کا مالک ہر وقت مسکراتا رہتا تھا ۔۔۔

————————————————————-

ارے حازم آو یہاں بچہ کیسے ہو ۔۔

احمد اپنے روم میں حازم کو آتا دیکھ مسکراتا بولا تھا ۔۔

ایک حازم ہی تھا جس کی وجہ سے احمد مسکراتا تھا بات کرتا تھا کیونکہ اسے وہ اپنے جیسا لگتا تھا۔۔۔

وانیہ کدھر ہے ۔۔۔

حازم نے سپاٹ چہرہ لیے پوچھا تھا ۔۔

وہ تو بڑے پاپا کے پاس سونے گی ہے تم بھی جاٶ وہاں ۔۔۔

احمد اس کی گرین آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا جو رات کے وقت بھی ایک الگ چمک لیے چمکتی تھی ۔۔۔

آپ نے نہیں سونا کیا۔۔

حازم احمد کا ننھا سا ہاتھ پکڑے بولا تھا۔۔۔

میں نے انیجل موم کے پاس جانا سونے ۔۔۔

احمد نے دانت نکالتے ہوۓ بتایا تھا۔۔۔

ہممم۔۔

حازم اب چپ ہوتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔

وہ ایسا ہی تھا بس اپنی مطلب کی بات کرتا فضول بولنے کا ٹکٹ اس نے حدید کو دیا تھا جو اس کے حصے کا بھی بول لیتا تھا۔۔۔

————————————————————

کدھر تھے آپ جانتے ہے بچے ابھی تک نہیں سوۓ ہمارا جینا حرام کیا ہے تینوں نے حد ہے صام اتنی لاپرواہی کی ۔۔۔

آدھی رات کو صام جب چھپ کر روم میں آیا تھا جب روحا بنا روکے بولنا شروع ہو چکی تھی ۔۔۔

جہاں صام بلیک ہڈی پہنے سکون سے اسے دیکھتا مسکرا رہا تھا۔۔۔

کیسے دانت نکال رہے ہے توبہ ہے صام ۔۔۔

بچے جاگ رہے ہے ابھی تک جاۓ ان کے پاس اب اور یہ ہڈی میں کیوں آے یونفارم کدھر ہے آپ کا۔۔۔

روحا صام کی گلاسز اتارے آرام سے بیڈ کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔۔

جہاں صرف حدید اور سوہا ان دونوں کو گھور رہے تھے ۔۔۔

ڈیڈ ڈیڈ ڈیڈ ۔۔۔۔

ارے ارے ایلفیوں سکون میں رہو میرے دشمن ہو جانتے ہو تم لوگوں کی وجہ سے میری انیجل مجھے بولی ہے چلو اب سو جاٶ ۔۔۔

سوہا حدید دونوں بیڈ سے اترتے صام کی ٹانگوں سے لگتے چلاے تھے جب ان دونوں کو اپنی گود میں اٹھاۓ صام دونوں کے گال چومتا روحا کی طرف دیکھتا بولا تھا جو شاہد نیند میں جا رہی تھی اب بیٹھی ہوئ ۔۔۔

ڈیڈ ایک کس دے میں سو جاٶ گا ۔۔۔

حدید اس کے ڈمپل پر لب رکھتا مسکراتا بولا تھا۔۔۔

موڈ تو نہیں اپنے دشمن کو کس دو لیکن یہ لو ۔۔۔

صام دونوں کے گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔

یار سوری میں جانتا ہو بچوں کے ساتھ تمہیں بھی نیند نہیں آتی پر کیا کرو کام تھا بہت ضروری وہی کر رہا تھا ۔۔۔

معاف کر دو اپنے معصوم ڈیول کو ۔۔۔۔

کافی دیر جب صام ان دونوں کو اپنے سینے سے لگاۓ کھڑا رہا تبھی وہ دونوں وہی نیند میں چلے گے تھے جب ان دونوں کو بے بی کوڈ میں ڈالتے صام اب روحا کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔

جو نیند سے بھری آنکھوں سے اسے ہی گھور رہی تھی ۔۔۔

ڈیول ڈیڈ ہمیں سونا ہے ۔۔۔

اس سے پہلے صام روحا کے قریب جاتا جب روم میں سپاٹ چہرہ لیے حازم آتا بولا تھا۔۔۔۔

آو میرے ببر شیر ۔۔۔

صام حازم کو اپنی گود میں اٹھاۓ خوش ہوتا بولا تھا۔۔۔

ہمیں سونا ہے ۔۔۔

حازم بس اپنی کہہ رہا تھا۔۔۔

سارے بچے سو گے اب کس نے سونا ہے سواۓ تمہارے ۔۔۔

صام حیران ہوتا بولا تھا کیونکہ سب ہی سو گے تھے سواۓ حازم کے ۔۔۔ پھر بھی وہ ہمیں کہہ رہا تھا۔۔۔

ڈیڈ ہمیں سونا ہے مطلب حازم صام آفندی کو سونا ہے ۔۔۔

ہہاہاہااہاہااہاہااہاہاااایاہایایہاا۔۔۔

ہاے ہمارا پیٹ درد کر رہا ہنستے ہوۓ ۔۔۔

اففف افففف اففففف کوئ تو آیا ایسا جو ڈیول کی ٹھکر کا ہو مزہ آ گیا ۔۔۔

اب بولے مسٹر ڈیول کیا کہے گے اپنے بیٹے کو ۔۔۔

صام تو صدمے میں چلا گیا تھا کیونکہ حازم بھی روحا کی طرح ہم کہا رہا تھا ۔۔۔

”ہم“لفظ سے صام کو چڑ ہو گی تھی ابھی بھی منہ کھولے وہ یہ سن رہا تھا ۔۔۔

جب روحا قہقہ لگاتی اس کے قریب آتی بولی تھی ۔۔۔

بڑے دانت نکل رہے ہے انیجل بھول گی ہو میں کون ہو ۔۔۔

روحا کو کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگاے صام شوخ ہوتا بولا تھا۔۔۔

ک۔کیا ک۔۔۔

ڈیڈ یہ خون کہاں سے آیا ۔۔۔

روحا حازم کی طرف دیکھتی بول رہی تھی جب حازم اس کی ہڈی شولڈر سے نیچے

نیچے کرتا وہاں جما ہوا خون دیکھتے بولا تھا۔۔۔۔

خ۔خون کدھر ہے صام کیا ہوا آپ کو یہ سب کیسے ہوا ا۔۔۔۔

ششششش انیجل ریلکس ۔۔

تم بڑے پاپا کے پاس جاٶ شاباش ۔۔

روحا پریشان ہوتی بول رہی تھی جب صام اسے کہتا اب حازم کا گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔

اوکے۔۔۔

حازم اب کس لیتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔

ک۔کیوں کرتےہے آپ ایسا جانتے ہے ہم آپ کے بنا نہیں رہ سکتے پھر بھی صام جاۓ ہم بات نہیں کرتے ۔۔۔

روحا اب آنسو بہاتی صام کی ہڈی اتارے بولی تھی ۔۔۔

جہاں اس کے شولڈر کے ساتھ پورا سینہ بھی خون سے بھرا ہوا تھا۔۔

یار میرا کام ایسا ہے اب کیا آرمی چھوڑ دو ۔۔۔

جب بھی میرے وطن کو میری ضرورت ہو گی میں حاظر رہو گا تم مجھے نہیں روک سکتی ۔۔۔

یہ بس وہ بمب بلاسٹ میں ا۔۔۔

کیااااااا بمب بلاسٹ صام ۔۔۔

روحا جو اب میڈیسن باکس میں سے کاٹن نکالے آرام سے اس کا سنیہ صاف کر رہی تھی جب صام اسے کمر سے پکڑے بول رہا تھا تبھی چلای تھی ۔۔۔

جان بچ گی ہے تم اسی پر خوش رہو اب یہ آنسو مت بہاٶ ۔۔۔

ایک کپل تھا جو دہشتگرد تھا ابھی کچھ عرصہ پہلے وہ یہاں اسلام آباد آے تھے اپنے مقصد کی وجہ سے ۔۔۔

کافی مہنیوں سے ہم سب ان کی تلاش میں تھے کل رات ہمارے قابو میں آے جہاں وہ رہتے تھے وہاں انھوں نے بمب بلاسٹ کرنا تھا ۔۔

لیکن ہماری آرمی نے یہ کام ان کا ناممکن بنا دیا ۔۔۔

اب بات ختم اور تمہارا رونا بھی ۔۔۔

روحا منہ کھولے اس کی بات سن رہی تھی جیسے وہ کوئ اسے ناول کی سٹوری سنا رہا ہو اتنے سکون سے ۔۔۔

اگر کچھ ہو جاتا صام ہمارا کیا ہوتا ہمارے بچوں کا کیا ہوتا صام آپ نے ہمارا نہیں سوچا کی۔۔۔۔

پتہ ہے ایک فوجی کے لیے اس کے وطن کی مٹی زیادہ عزیز ہوتی ہے کیونکہ جب وہ فورس جوائن کرتا ہے تب وہ عہد کرتا ہے چاہے جان چلی جاۓ اس کی لیکن اپنے وطن پر ایک آنچ بھی نہیں آنے دے گا ۔۔۔

جب بمب بلاسٹ ہوا تب سوچا تھا تم سب کا جانتی ہو کیا سوچا تھا ۔۔۔

صام آرام سے روحا کو گود میں آٹھاۓ بیڈ پر بیھٹاتے بولا تھا۔۔۔

ہمممم۔۔۔

روحا اپنا سر اسی کے سینے پر رکھتی بولی تھی ۔۔۔

اگر میں شہید ہو گیا تم کتنے فخر سے کہتی میرے شوہر نے وطن کی حفاظت کی خاطر اپنی جان کی پرواہ نہیں کی ۔۔۔

میرے بچے فخر سے کہتے ہمارے ڈیڈ کو اپنا وطن کتنا عزیز تھا ۔۔۔

یہ سب سوچا میں نے لیکن دیکھو میں آج پھر زندہ تمہاری سانسوں کے قریب ہو ۔۔۔

ہم آرمی والوں نے فورس جوائن کرتے وقت ایسی بہت سے صورتحال کے لیے خود کو ہینڈل کر لیا ہوتا ہے کیونکہ ہمارا کام ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔

اب اس ننھے سے دماغ پر زور مت دو سکون سے سو جاٶ۔۔۔

آپ آرام سے س۔

یہی رہو تم میرا آرام و سکون ہو ۔۔۔

روحا سب سنتی جلدی سے بیڈ پر لیٹتی ہوئ بول رہی تھی جب صام اسے دوبارہ بازوں سے پکڑے اپنے سینے پر لیٹاے بولا تھا۔۔۔

م۔می۔۔۔

سو جاٶ انیجل ورنہ ڈیول جاگ جاۓ گا پھر بھول جانا تم سو پاٶ گی ۔۔۔۔

صام اسے اپنے سینے سے لگاۓ آرام سے آہستہ سے بیڈ پر لیٹتا ہوا بولا تھا۔۔۔

انہہ ڈیول شکل دیکھی ہے اپنی ا۔۔۔

آو تمہیں اپنی شکل دیکھاٶ اچھے سے ۔۔۔

روحا اسی کے سینے میں منہ چھپاۓ بول رہی تھی جب اسے اپنے چہرے کے قریب کرتا وہ دمھکی دیتا بولا تھا۔۔۔

ن۔نہیں ہم سو رہے دیکھے ہماری طرف ۔۔۔

روحا جلدی سے آنکھیں زور سے بند کرتی بولی تھی۔۔۔

زہ تاسرہ مینہ کوم ۔۔۔

(آئ لو یو )..

صام اس کا گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔

تہ زماہ بدی شی۔۔

(آئ ہیٹ یو)..

جب روحا بھی آنکھیں بند کیے بولی تھی ۔۔۔

ہاہہاہاہااہاہاہ۔۔

صام کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔

————————————————————

بابا آ گی بابا آگی ۔۔۔

بیٹا بابا آ گے ہوتا ہے ۔۔۔

زرجان واک سے واپس آیا تھا جب ہال میں بیٹھی یافی کی گود میں خوشی سے جھومتی امن چلائ تھی ۔۔۔

تبھی یافی دانت پیستے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔

جب امن نے برا سا منہ بنایا تھا۔۔۔

دیکھں بابا ماما بولتا ہے مجھے کو ۔۔۔

منہ پھولاے امن اب زرجان کی گود میں آتی بولی تھی۔۔۔

جان مت بولا کرو میری شہزادی ہے یہ ۔۔۔

زرجان یافی کے قریب بیٹھتا مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

دیکھو اس کو اس کا مذکر مونث ہی نہیں ٹھیک بڑی ہو گی ت۔۔۔

بابا ہم ٹاپ ٹاپ چلاۓ گی آپ تیار ہو کر جاۓ ماما آپ ناشتہ بناو بابا آتی ہے ۔۔۔

یافی بول رہی تھی جب امن زرجان کے گال چومتی پیار سے بولی تھی۔۔۔

کوئ بات نہیں جان ابھی بچی ہے تبھی ایسا کرتی ہے تم جاٶ ناشتہ بناٶ ہم پھر ٹاپ ٹاپ چلاۓ گے ۔۔۔

ہاہااہاہاہہاہاہااہاہاہ۔۔۔۔

زرجان اب یافی کا گال چومتا قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔

تم چاۓ پیو گی زرجان ۔۔۔

یافی اب امن کی نقل اتارے دور جاتی بولی تھی ۔۔۔

ہاہااہاہاہا نہیں ہم ناشتہ کرے گی ۔۔۔

زرجان بھی قہقہ لگاے بولا تھا جبکہ امن بھی دانت نکال رہی تھی

————————————————————

” کچھ سال بعد۔۔۔

یہ والا کھاٶ ۔۔

نہیں زینی تم یہ کھاٶ یار۔۔۔

بلکل نہیں زینی تم یہ والی کھاٶ ۔۔

گارڈن میں بے بی کوڈ میں بیٹھی دو سالہ زنیب مستقیم آفندی اپنی بڑی بڑی بلیک آنکھوں سے اب سب کو دیکھ رہی تھی جہاں امن روشانے حدید ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے ۔۔۔

چھوڑ پیچھے ہو ٹھرکی یہ میری بہن ہے زنیی میری جان یہ کھاٶ۔۔۔

روشانے حدید کو دھکا دیتی زینب کے منہ میں نوڈلز ڈالتی بولی تھی ۔۔۔

تم پچھے ہو روشن دان میری بھی بہن ہے یہ تم یہ کھاٶ۔۔۔

حدید بھی غصہ ہوتا اسے لات مارتا زنیب کے منہ میں بریانی ڈالتا بولا تھا۔۔۔۔

زینب کا ننھا سا منہ فل بھرا ہوا تھا۔۔۔

تم لوگ پاگل ہو کیا جاہل ۔۔۔

وقار وہاں گارڈن میں آتا برا سا منہ بناۓ بولا تھا۔۔۔

جو مشکل سے پانچ سال کا تھا۔۔۔

تبھی زینب کو اپنی گود میں اٹھاۓ بولا تھا۔۔۔

نیلے بلے مجھے یہ دے۔۔۔

حدید اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا۔۔۔

بلکل نہیں دیکھو ابھی بچی ہے یہ ۔۔

وقار زینب کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تھا جو رونے والی شکل بناۓ اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔

بچاٶ بچاٶ آغا جان آ گے ہاے ۔۔۔

گارڈن میں بھاگ کر آتا مہر اب رونی شکل بناۓ بولا تھا۔۔۔

آغا جان کا نام سنتے روشانے اور حدید گدھے کے سر پر سنیگ کی طرح گم ہوۓ تھے ۔۔۔

جبکہ امن وہی مسکراتی کھڑی تھی ۔۔۔

کیا ہوا ہے آغا جان ۔۔۔

وقار اپنے سامنے شدید غصے میں کھڑے احمد کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

جو پورے گارڈن کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

سوہا کدھر ہے ۔۔

احمد دانت پیستا ہوا بولا تھا۔۔۔

و۔وہ آغا جان فارس کے پاس ہے ۔۔۔

مہر ڈرتا ہوا بولا تھا اسے اکثر احمد اور حازم سے ڈر لگتا تھا۔۔۔

سب بچوں میں احمد بڑا تھا تبھی روحا نے کہا تھا سارے بچے اسے عزت سے آغا جان کہا کرے ۔۔۔

بارہ سال کی عمر میں بھی احمد ایک سنجیدہ انسان لگتا تھا اپنی عمر سے بڑا لگتا تھا۔۔۔

لیکن سات سالہ حازم احمد سے بھی زیادہ اپنی عمر میں بڑا لگتا تھا۔۔۔

وہ چلتا پھیرتا صام آفندی کی کاپی تھا ۔۔۔

کیا ہوا آغاجان ۔۔۔

وقار ابھی بھی اسے دیکھتا بولا تھا۔۔۔

میرا سارا ہوم ورک خراب کر دیا ایک بار مل جاۓ مجھے وہ۔۔۔

احمد تن فن کرتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔

————————————————————

یہ والی پک دیکھو اففف انیجل مجھے تو ایسا لگ رہا میرا دیور تمہیں کھانے والا تھا۔۔۔

ہاہہاہہاہاہہاہاہاہاا۔۔

ہیر مرحا فیا روحا ہانیہ رانیہ سب ہی آج اپنی شادیوں کے البم دیکھ رہی تھی ۔۔

جب روحا کی شادی کی ایک پک ہیر دیکھتی قہقہ لگاتی بولی تھی جہاں صام سختی سے روحا کو کمر سے پکڑے اپنے قریب کیے پکس بنا رہا تھا جبکہ روحا نے برا سا منہ بنایا ہوا تھا۔۔۔

ہمممم۔۔۔

سامنے سوہا اور احمد کی لڑای دیکھتی روحا گہری سوچ میں ڈوبی بولی تھی ۔۔۔

یار کتنا اچھا تھا تم سب کی رخصتی ہوئ میری تو رخصتی بھی نہیں ہوئ ایسے ہی آ گی میں ۔۔

ہیر سب کی پکس دیکھتی شرارتی انداز سے بولی تھی یہ بھول گی تھی اپنی ہی شرارت میں پھس جاۓ گی وہ۔۔

کوئ بات نہیں ہم ابھی رخصتی کروا لیتے ہے کیوں یافی صیح کہا میں نے ۔۔

آہان منان زرجان صام نوفل مستقیم شعیب سب ہال میں انٹر ہوۓ تھے جب آہان مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

م۔میں و۔۔۔

یاہووووو ہمیں مزہ آے گا لالہ پھر کب رخصتی کروا رہے آپ آپی کی ۔۔۔

ہیر گھبراتی بول رہی تھی جب روحا چہکتی ہوئ بولی تھی۔۔

اس کے چہرے پر خوشی کا رنگ دیکھتے صام بہت خوش تھا اپنی انیجل کے لیے ۔۔۔

نہیں آہان میں مذاق کر رہی تھی اب فائدہ بچے بڑے ہو گ۔۔۔

بچے بڑے ہو گے تو کیا ہوا ہم کل ہی اپنی جان کی رخصتی کرواے گے میں چاہتا ہو تمہاری ہر خواہش پوری کرو ۔۔

تمہارے دل کی وش بھی پوری ہو جاۓ گی اور مجھے میری دلہن مل جاۓ گی۔۔۔

ہیر آہان کے پاس جاتی گھبراتی بول رہی تھی جب آہان اسے گود میں اٹھاۓ روم کی طرف جاتا بولا تھا۔۔۔۔

ہووووووو۔۔۔

وہی سب نے شرارتی انداز سے ہوئٹنگ کی تھی ۔۔۔

ہیر شرمای تھی ۔۔

————————————————————

یہ اچھا نہیں آہان اب تو بچے بڑے ہو گے اچھا نہیں لگتا میں صرف مذاق کر رہی تھی ۔۔۔

ہیر روم میں آتی رونی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔

م۔۔۔

آنی یہ دیکھے ہم آپ کی رخصتی پر یہ پہنے گے۔۔۔۔

اس سے پہلے آہان کچھ کہتا جب حازم بلیک کلر کا شلوار کرتا لاتا اندر آتا بولا تھا۔۔۔

ہیر تو اپنے بھانجے کی بات سنتی منہ کھولا چھوڑ چکی تھی۔۔۔۔

اچھا وانی کدھر ہے ۔۔۔

حازم اپنے مطلب کی بات پر آتا بولا تھا ۔۔۔

وہ بہانے سے روم میں آیا تھا۔۔۔

مہر کے پاس ہو گی ۔۔

آہان حازم کو گود میں آٹھاتا اس کے گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔

وہ جانتا تھا حازم وانیہ سے ملنے ہی آیا تھا۔۔۔

ہم آتے ہے ۔۔

برا سا منہ بناۓ حازم اس کی

گود سے نکلتا ہوا بولا تھا۔۔۔

منہ بند کرو مکھی چلی جاۓ گی ۔۔۔

ہیر کے لبوں کو نرمی سے چومتے آہان اسے آنکھ ونک کرتا واش روم کی طرف جاتا بولا تھا۔۔۔۔

اہہہہ اہہہہ ہیر کی بچی اب اپنی ہی شرارت میں پھس گی افففف کیا کرو میں ۔۔۔

آہان کی حرکت سے گھبراتی ہیر اب بیڈ پر بیٹھتی فکر مند ہوتی چلائ تھی ۔۔۔

————————————————————

یار امن جاٶ یہاں سے ۔۔

احمد اپنی کمر سے چپکی امن کو پیچھے کرتا سرد پن سے بولا تھا۔۔۔

اسے شدید چڑ تھی امن سے جو سب کو چھوڑ کر صرف احمد کے پاس آتی تھی اور اپنی شرراتوں سے اسے تنگ کرتی تھی ۔۔۔

تبھی ابھی بھی وہ چڑتا ہوا بولا تھا۔۔

کیا ہے آپ کو آغا جانننننن۔۔۔

امن دوبارہ اس کی کمر سے لگتی مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

یہ تم آرام سے بھی میرا نام لے سکتی ہو اتنا لمبا جان کرنے کی ضرورت ہوتی ہے توبہ ہے امن میں پھوپھو سے شکایت لگاتا ہو ۔۔۔

احمد امن کو بازوں سے پکڑتا اپنے سامنے لاتا اس کی گرے آنکھوں میں اپنی گرین آنکھیں گاڑے دانت پیستا ہوا بولا تھا۔۔۔

لگاٶ شکایت میں بھی بتاٶ گا بڑے ماموں کو کہ وانی ہر وقت میری بھای مہر کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔

امن سامنے کا منظر دیکھتے اب برا سامنہ بناے بولی تھی ۔۔

جہاں مہر وانیہ کو اپنی گود میں بیٹھاۓ آئسکریم کھلا رہا تھا جبکہ وانیہ مسکراتی ہوئ کھا رہی تھی۔۔

وانی بچی ہ۔۔۔

وانیہ میری ہی ایج کا ہے اگر وہ بچی ہے تو بچی میں بھی ہو ۔۔۔

احمد کو پتہ تھا وانیہ مہر کے ساتھ کتنے خوش ہو کر رہتی تھی تبھی وہ اسے اس کے پاس جانے دیتا تھا ۔۔۔

تبھی اپنی بہن کی طرف دیکھتا مسکراتا بول رہا تھا جب امن ضدی پن سے بولی تھی۔۔۔

کیا چاہتی ہو ۔۔۔

احمد دو ٹوک بولا تھا ۔۔۔

مہر سے وانیہ کو دور کر کے وہ دکھ نہیں دے سکتا تھا تبھی بولا تھا۔۔۔

مجھے بھی آئسکریم کھلاٶ ۔۔۔

امن چہکتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

آٶ مرو تمہیں کھلاٶ میں ۔۔

احمد برا سا منہ بناۓ راضی ہوا تھا۔۔۔

یاہوووووو ۔۔۔

امن خوشی سے چہکی تھی۔۔۔

————————————————————

تم بہت پیارے ہو مہر۔۔

وانیہ اب اس کے پاس بیٹھی مسکراتی بولی تھی سب بچوں میں اسے صرف مہر ہی پسند تھا جو اس کی ہر بات کو سمجھتا تھا۔۔۔

تم دور رہا کرو وانی سے سمجھے۔۔۔

شدید غصے میں لان میں آتا حازم مہر کے چہرے پر مکہ مارتے بولا تھا۔۔۔

جب نو سالہ مہر دور جا کر گرا تھا۔۔۔۔

ک۔کیا مسئلہ ہے تمہیں ۔۔

منہ سے نکلتے خون کو اپنے ننھے ہاتھوں سے صاف کرتا مہر ہکلاتا بولا تھا۔۔۔

جہاں سات سالہ سرخ گرین آنکھیں لیے سرخ چہرہ لیے حازم اسے ہی کھڑا گھور رہا تھا۔۔۔

اس گھر میں مہر احمد اور حازم سے ہی ڈرتا تھا جن کا غصہ کم عمری میں بھی شدید تھا ۔۔۔

دور رہو اس سے ورنہ جان سے مار د۔۔۔۔

حازم بچے یہ کیا طریقہ تھا بھای ہے ۔۔۔

اس سے پہلے حازم ایک دفعہ پھر مارتا اسے جب وہاں احمد آتا سنجیدہ ہوتے بولا تھا۔۔۔

دیکھے آغا جان حازم نے مارا مجھے۔۔۔

مہر بھاگ کر احمد کے پاس جاتا بولا تھا۔۔۔

آغا جان اسے کہے وانیہ سے دور رہے ہمیں یہ اچھا نہیں لگتا ۔۔۔

حازم ابھی بھی مہر کو گھورتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ادھر آٶ بیٹا آپ بتاٶ آپ کو مہر کی دوستی پسند ہے ۔۔۔

احمد دور کھڑی ڈر سے کانپتی وانیہ کو اپنے پاس بلاۓ بولا تھا۔۔۔

م۔مجھے یہ حازم سے دوستی نہیں کرنی لالہ عیجب پاگل انسان ہے یہ مہر اچھا ہے ۔۔۔

وانیہ احمد کے سینے سے لگی نڈر ہوتی بولی تھی ۔۔۔

یہی پر بات ختم ہوئ حازم آپ وانیہ کے پاس نہیں آو گے باقی کسی سے بھی کھیلے ہمیں پرواہ نہیں ۔۔۔۔

احمد حازم کی طرف دیکھتا دو ٹوک بولا تھا ۔۔

لیکن آغا ج۔۔۔

میری بات ختم ہوئ تم سب سے بڑا ہو اگر میری بات کی اہمیت نہیں ہے تو چاچو کی بات سن لو گے تم ۔۔۔

حازم دانت پیستا ہوا بول رہا تھا جب احمد اپنی بات کہتا وہاں سے گیا تھا۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہہہ۔۔۔

اندھی ہو کیا جاہل لڑکی ۔۔۔

حازم احمد کے پیچھے بھاگتا جا رہا تھا جب لان میں آتی رعنا سے ٹکرایا تھا۔۔۔

جب زمین پر گری وہ چلائ تھی ۔۔۔

تبھی وہ اسے گھورتا اندر چلا گیا تھا۔۔۔۔

انہہ برفانی ریچھ۔۔۔

رعنا برا سا منہ بناۓ وہاں سے اٹھتی ہوئ بولی تھی۔۔۔