Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 7)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 7)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
ک۔کون ہے ۔۔
رعنا بیڈ پر لیٹتی سوچ رہی تھی جب اسے اپنے روم کی لائٹ بند ہوتی کوئ اندر آتا دیکھ وہ گھبراتی بولی تھی۔۔۔
چلو ساتھ۔۔۔
رعنا کو بازو سے پکڑے وہ سرد انداز سے بولتا اسے کھڑا کر چکا تھا۔۔۔
ک۔کون ہے ب۔باب۔۔۔۔
رعنا اندھیرے میں ہی کھڑی گھبراتی چلا رہی تھی جب اس نے اس کے لبوں پر اپنا بھاری ہاتھ رکھتے اس کی آواز کو روکا تھا۔۔۔
رعنا کی حیرت سے آنکھیں پھٹی تھی ۔۔۔
اس کی جرات پر ۔۔۔
ہمت بھی کیسے ہوئ مجھے چھونے کی ایس پی وقار شعیب خان کی بہن ہو رکو ابھی تم میں تمہیں بتاتی ہو ۔۔۔
شدید غصے میں آتی رعنا اپنی نیلی آنکھوں سے گھورتی اسے گردن سے پکڑے غرای تھی ۔۔
ہاہاہہا ہاہااہاہا کیا ہو گیا آپو میں وکی ہو یار ۔۔۔
وقار روم کی لائٹ آن کرتا اپنی نیلی آنکھوں سے مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
جب رعنا سکون میں آی تھی اففف وکی ڈرا دیا تھا مجھے ویسے کیوں آۓ ہو ۔۔
بیڈ پر پڑے ڈوپٹے کا حجاب کرتی وہ بولی تھی ۔۔
بابا سے بات کرنی ہے تم آٶ شاہد تمہاری سن لے ۔۔
وقار اس کا ہاتھ پکڑے شعیب کے روم کی طرف لے کر جاتا جلدی سے بولا تھا۔۔۔
روکو تو سہی میں گر جاٶ آرام سے۔۔۔
وقار تو اس کا ہاتھ پکڑے سیڑھوں سے بھاگتا جا رہا تھا جب وہ ہاپتی بولی تھی۔۔۔
بابا بابا بابا رعنا آپو نے آپ سے بات کرنی ہے بہت ضروری ۔۔۔
شعیب کے روم میں آتے وقار جلدی سے بولا تھا۔۔۔
جہاں شعیب اور رانیہ بیڈ پر بیٹھے تھے ۔۔۔
بولو بابا کی جان کیا کہنا ہے میری بیٹی نے ۔۔۔
شعیب اپنے پاس رعنا کو بیٹھاۓ مسکراتے بولے تھے جبکہ وقار رانیہ کے پاس بیٹھ چکا تھا۔۔۔
کیا کہنا ہے وک۔۔
رخصتی کی بات کرنی رخصتی کی ۔۔۔
وقار اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھتا دانت پیستے اس کی بات کاٹتا بولا تھا۔۔۔
ہاں بابا یاد آیا رخصتی کروانی ہے ۔۔
اپنے خالی دماغ سے وہ بول چکی تھی جبکہ جانتی کچھ بھی نہیں تھی وہ ۔۔
بیٹا کس کی رخصتی ۔۔
رانیہ پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
کس کی رخصتی یہ تو میں نہیں جانتی ماما ۔۔
رعنا اپنی آنکھوں میں معصومیت لاتے بولی تھی ۔۔۔
افففف آپو میری رخصتی کی بات کرنی تھی ۔۔
بابا مجھے اپنی لٹل ڈول چاہے بہت جلد آپ مستقیم آنکل سے بات کرے میں نے بہت ویٹ کر لیا ہے اب اور نہیں ۔۔
پہلے جہاں وہ مسکرا رہا تھا وہی اب سنجیدہ ہوتا بولا تھا۔۔
ل۔لیکن مستقیم نہیں مانے گا میں جانتا ہو پہلے کی بات اور تھی بیٹا لیکن اب ن۔۔۔
اب کیوں نہیں بابا میں بتا رہا ہو مجھے وہ نہ ملی تو اغوا کروا کر بہت دور لے جاٶ گا ۔۔
لیکن وہ صرف میری صرف وقار شعیب خان کی ۔۔۔
شعیب خان گھبراتے بول رہے تھے جب وہ طش میں آتا بولا تھا۔۔۔
رعنا اچانک اداس ہوئ تھی کسی کا چہرہ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر ۔۔۔
کیوں میری بیٹی کی وجہ سے ان کے گھر کا بیٹا ان سے دور چلا گیا ہے ۔۔۔
تم کیا سب بھول گے ہو جو کچھ ہو چکا ہے مجھے نہیں لگتا مستقیم اپنی زینب اس گھر میں دے گا ۔۔۔۔
میں پہلے ہی بہت شرمندہ ہو ان سب سے خاص کر صام آفندی سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہا ۔۔۔
ہم سب جانتے ہے رعنا نے بس سچ بولا تھا ل۔۔۔
بابا آپ فکر مت کرے میں بڑے پاپا سے بات کرو گی ۔۔
تمہاری رخصتی ہو جاۓ گی ۔۔
اچانک رعنا شعیب کے ہاتھ چومتی سنجیدہ چہرہ بناۓ روم سے جاتی بولی تھی ۔۔۔
شعیب خان نے غصے سے وقار کو گھورا تھا جب وہ جلدی سے بولا تھا۔۔۔
آپو میں بس کہ۔۔۔
کوئ بات نہیں وکی میں جانتی ہو زینب تمہارے لیے کیا ہے تمہیں مل جاۓ گی ۔۔۔
ماما میں جا رہی ہو روم میں کوئ تنگ مت کرے ۔۔۔
رعنا بنا دیکھے کہتی وہاں سے واک آوٹ کر چکی تھی ۔۔۔
اب وہ سب جانتے تھے صبح سے پہلے وہ اپنے روم سے باہر نہیں نکلے گی ۔۔۔
———————————————————–
بندہ آرام سے بھی آ سکتا ہے یہ جانوروں کی طرح آنے سے کیا ہوتا ہے یار ۔۔۔
افففف حدید صام آفندی تم سب کو اب کیا کیا سکھاۓ ۔۔۔
ہاے میری ننھی سی جان ۔۔۔
حدید دانت نکالے اپنی سربراہی کرسی سے اٹھتا سب کو اپنے ہاتھوں سے اٹھاۓ بولا تھا ۔۔۔
سب سے بری حالت روشانے اور وانیہ سوہا کی تھی ۔۔۔۔
آ جاٶ یار سارے ٹائم کافی ہو گیا تم سب جانتے ہو جب تک میں بات نہ بتا دو مجھے کھانا ہضم نہیں ہوتا ۔۔۔
حدید سب کو چیئر پر بیٹھاتے بولا تھا۔۔۔
روشن دان اپنا گھونسلا تو بند کرو۔۔۔
حدید روشانے کے بالوں کو پکڑتا پونی میں بند کرتا بولا تھا۔۔۔
شیٹ اپ ۔۔
روشانے اسے مکہ مارتی بولی تھی ۔۔
فحال میں بڑے سیریس ٹاپک پر بات کرنے والا ہو تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتا میں تو یہ لڑائ ہم کسی اور دن کرے گے ۔۔۔۔
روشانے کی پونی دوبارہ وہ کھولتا دانت پیستے بولا تھا۔۔۔
انہہ۔۔۔
جلدی بتاٶ حدید لالہ مجھے نیند آ رہی ہے ۔۔۔۔
نیند میں جاتی زینب بیزار سی شکل بناۓ بولا تھا۔۔۔
بات یہ ہے بڑے بابا کے دوست کے بیٹے کا رشتہ میری پیاری سی دوست وانی کے لیے آیا ہے ۔۔
مجھے پتہ ہے آغا پوچھ لے گے اس سے لیکن میں چاہتا تھا وانی ہم سب کو بھی بتا دے وہ یہ رشتہ کرنا چاہتی ہے ۔۔۔۔
سب کافی پی رہے تھے جب حدید کی بات سنتے سب کی کافی چھوٹی تھی۔۔۔
ر۔رش۔رشتہ کیوں آیا ہے میرے لیے تم سب بھی تو ہو۔۔۔
ریلکس وانی ابھی ان سب نے دیکھنا ہے تم کو تم نہیں چاہتی ہم کچھ ڈرامہ کر کے منع کر دے گے ۔۔
وانی رونی شکل بناۓ بول رہی تھی جب سوہا اسے ہگ کیے بولی تھی۔۔۔
مہر تو بت بنتا چپ ہو گیا تھا۔۔۔
ہاں تم بتا دو شادی کرنا چاہتی ہو نہیں کرنی تب ہم سب دیکھ لے گے اس انگریز کو ۔۔۔
حدید اور امن دونوں بولے تھے۔۔۔۔
وانیہ نے اپنی براٶن آنکھیں سامنے بیٹھے مہر کی گرے آنکھوں میں گاڑھی تھی ۔۔
جب شدید طش میں آتا مہر وہاں سے اٹھ کر جا چکا تھا۔۔۔۔
و۔ہ۔م۔میں م۔مجھے۔ن۔۔۔
میں جانتا ہو مہر تم سے محبت کرتا ہے بس ہمارے سامنے بتانے سے شرما گیا ۔۔۔
تم فکر مت کرو صبح ہم اس لڑکے کو بھاگا دے گے تمہاری شادی مہر سے ہی ہو گی یہ میرا وعدہ ہے ۔۔۔
وانیہ آنسو بہاتی بول رہی تھی جب حدید سکون سے بولا تھا۔۔
سوہا امن زینب روشانے کا منہ کھولا تھا اس کی بات سن کر ۔۔۔
تم کو کیسے پتہ ہماری لالہ وانی سے محبت کرتی ہے ۔۔۔
امن شوک ہوتی بولی تھی۔۔۔۔
کچھ لوگوں نے ایویں مجھے نکمہ ہڈ حرام سمجھا ہے میں سب کے بارے میں جانتا ہو ا۔۔۔
بات تو ایسے کر رہے ہو جیسے ملک کے جاسوس ہو انہہہ ایک کام تم سے ہوتا ہے نہیں باتیں کروا لو ۔۔۔
ٹائم ویسٹ کر دیا میرا ۔۔۔۔
حدید بول رہا تھا جب روشانے بھی کھڑی ہوتی کہتی وہاں سے واک آوٹ کر چکی تھی۔۔۔
تم وانی کی شادی کرواٶ گے تو میری بھی کروا دو آغا سے میں شادی کرنا ان سے ۔۔۔
امن دانت نکالے بولی تھی۔۔۔
ہاہااہاہہاہاہا اچھا۔۔۔
حدید قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔
ایک اور بات کل فارس بھی آ رہا پاکستان ا۔۔۔۔
ہاہااااہااہاہاہاااا وہ گی فارس کی دیوانی ۔۔۔۔
حدید سوہا کی طرف دیکھ بول رہا تھا جو سڑی سی شکل بناۓ بیٹھی تھی اس کی آدھی بات سنتی وہ پاگلوں کی طرح بھاگی تھی وہاں سے ۔۔۔
فکر مت کرو سب ٹھیک ہو جاۓ گا مہر تم سے ہی شادی کرے گا تم بات کرو اس سے ۔۔۔
آٶ تمہیں روم تک چھوڑ کر آٶ ورنہ آغا آ جاۓ گے یہاں میری بیڈ بجانے ۔۔۔
وانی کو اپنے سینے سے لگاے حدید پیار سے بولا تھا۔۔۔
امن تم یہاں روک جاٶ رات کافی ہو گی اس سڑے انسان نے تمہیں ساتھ لے کر جانا گنوارا نہیں کیا۔۔۔
آٶ ساری میرے ساتھ ۔۔۔
حدید امن زینب وانیہ تینوں کو اپنے ساتھ لیے اس بیسمنٹ سے باہر جاتا مسکراتا بول رہا تھا۔۔۔۔
وہ ایسا ہی تھا سب کے لیے فکر مند ہونے والا نرم مزاج دل کا مالک ۔۔۔۔
حدید لالہ میں سب سے چھوٹی ہو اور پیاری بھی تو تم مجھے اپنے شولڈر پر اٹھا سکتے ہو سچی نیند کی وجہ سے چلنے کو دل نہیں کر رہا۔۔۔۔
زینب پیلس سے باہر ہی لان کی گھاس پر بیٹھتی بولی تھی۔۔۔۔
آ جاٶ تم اب سو جاٶ آرام سے ۔۔۔۔
زینب کا قد مرحا پر گیا تھا وہ بلکل اس جیسی بونی تھی تبھی اکثر وہ حدید کے شولڈر پر چڑھتی سو جاتی تھی ۔۔۔
حدید ایک جٹھکے میں زینب کو اپنے شولڈر سے لگاے بولا تھا جہاں وہ اپنی باہیں اس کی گردن میں حائل کرتی کمر پر سر رکھے سو چکی تھی ۔۔۔۔
انہہہ ٹھرکی انسان ۔۔۔
روم میں کھڑی روشانے نے یہ منظر دیکھتے برا سا منہ بناتے کہا تھا ۔۔۔۔
شکر ہے بڑے بابا آپ آ گے یہ پکڑے اپنی بیٹی میری نازک کمر ٹوٹ گی ۔۔۔۔
وانیہ اور امن کو اس کے روم تک چھوڑے حدید اب زینب کے روم کی طرف جا رہا تھا جب سامنے کھڑے مستقیم کو دیکھ وہ دانت نکالے بولا تھا۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتا تمہارا شکریہ کیسے ادا کرو تم نے گھر کی ساری بچیوں کو کیسے ہنیڈل کیا ہے خاص کر زینب اور سوہا کو ۔۔۔
ہم سب جانتے ہے سوہا اور زینب حازم کے کتنے قریب تھی اس کے جانے کے بعد تم نے ہی ان سب کو ہنیڈل کیا ہے ۔۔۔
اپنی گود میں لیتے گہری نیند سوتی زنیب کو دیکھ مستقیم بولے تھے۔۔۔
بڑے بابا میں اور حازم لالہ ایک ہی ہے ہمارا دل بھی ہے ایک ہی جان ہے ۔۔۔
وہ کبھی نہیں مرا زندہ ہے میں جانتا ہو ۔۔۔
یہ بھی جانتا ہو زینب کو میری شکل میں حازم لالہ دیکھتے ہے تبھی وہ میرے ساتھ ایسے لاڈ کرتی ہے سوہا بھی مجھے اپنا وہ کھڑوس لالہ سمجھتی ہے تبھی میرے ساتھ مس مرچی بن کر رہتی ہے ۔۔۔
لالہ میرے دل میں ہے ہمیشہ رہے گے ۔۔۔
اففف میں کیا باتوں میں لگ گیا اب چلتا ہو صبح فارس آ رہا ہے ۔۔۔۔
حدید بولتا ہوا اچانک اپنی ٹون میں آتا بولتا جاتا بولا تھا۔۔۔۔
مستقیم مسکراے تھے اس کی بات پر ۔۔۔۔
————————————————————
بڑے پاپا میں آ سکتی ہو ۔۔۔
بلیک گاٶن پہنے نقاب کیے رعنا صبح ہی نوفل کے بنگلے آتی بولی تھی جہاں وہ اکیلا بٹیھا خبار پڑھ رہا تھا۔۔۔
ارے میری بیٹی آی ہے آو ۔۔۔
نوفل مسکراتے اسے اپنے پاس بیٹھاتے بولے تھے ۔۔۔
بڑے پاپا ایک بات کے لیے آی ہو امید ہے آپ مان جاۓ گے بات میری۔۔۔
رعنا ان کے ہاتھ پکڑتی زرا جلدی سے بولی تھی۔۔۔
بیٹا سانس تو لے لو پھ۔۔۔
نہیں بڑے پاپا آج فارس آ رہا تو ہم سب اس لینے ائیر رپوٹ جاۓ گے بس ٹائم نہیں ہے ۔۔۔
نوفل مسکراتے بول رہے تھے جب وہ بولی تھی۔۔۔
اچھا بولو پھر۔۔۔
وہ رضامند ہوتے بولے تھے۔۔۔
وقار رخصتی چاہتا ہے لیکن بابا کا کہنا ہے مستقیم انکل نہیں مانے گے تو آپ پلیز ان سے بات کرے وہ مان جاۓ آپ جانتے ہے وکی کے لیے لٹل ڈول کتنی اہمیت رکھتی ہے ۔۔۔
رعنا جلدی سے بات بتاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
لیکن بیٹا جو پہلے ہو چکا اسے بھول جاۓ شعیب ۔۔۔
اگر ڈیول کے دل میں ایسی بات ہوتی تو تم سب کو اپنے پیلس نہیں آنے دیتا ۔۔۔
وہ جانتا ہے اس رات کیا ہوا تھا ۔۔
باقی میں مستقیم سے بات کرو گا ۔۔۔۔
تم ناشتہ کرو میرے ساتھ ۔۔۔
نوفل مسکراتے ہوۓ بولے تھے ۔۔۔
نہیں بڑے پاپا آپ کرے اور ہاں آے ہمارے ساتھ فارس خوش ہو گا آپ کو دیکھ کر ۔۔
رعنا اب اٹھتی ہوئ بولی تھی۔۔۔۔
چلو میری بیٹی نے کہا ہے تو آنا پڑے گا ۔۔۔
نوفل اس کے سر پر ہاتھ رکھتے مسکراتے بولے تھے۔۔۔۔۔
————————————————————
ہم سب نے فارس کو لینے جانا ہے روشنی یہ کیا کر رہی ہو سب ۔۔۔۔
احمد تیار ہوتا باہر لان میں آتا بولا تھا۔۔۔۔
جو سب ہی اپنی اپنی بائیک نکالے کھڑی تھی ۔۔۔
آغا ایک ریس ہو جاۓ پلیز میرا بہت دل کر رہا ہے ۔۔
زینب خوشی سے پاگل ہوتی بولی تھی۔۔۔۔
چلو ریس لگاتے ہے ویسے ہمارا آج مسٹر بین کدھر ہے اتنی خاموشی ہضم نہیں ہو رہی ۔۔۔۔
احمد بھی اپنی ہیوی بائیک منگواتے مسکراتے ہوۓ بولا تھا جہاں سب ہی کھڑے تھے سواۓ حدید کے ۔۔۔
اس کے پیٹ میں درد ہے شاہد وہ نہیں آ رہا۔۔۔۔
سوہا ہلمیٹ پہنتی دو ٹوک بولی تھی۔۔۔
ہممم۔۔۔
احمد بھی چپ ہوتا اپنی بائیک پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔
لالہ مجھے بیٹھاۓ اپنے ساتھ ۔۔
وانیہ اس کے شولڈر سے لگتی لاڈ سے بولی تھی ۔۔۔
آٶ میری جان ۔۔
احمد اسے اپنے ساتھ بیٹھاتا سکون سے بولا تھا۔۔۔
زینب کو چھوڑ کر سب ہی اپنی اپنی بائیک پر بیٹھتے پلیس کی بیک سائیڈ کی سڑک پر کھڑے ریس کے لیے تیار تھے۔۔۔۔
————————————————————
مہر ۔احمد۔سوہا ۔روشانے ۔امن سب ہی اپنی بائیک لیے ریس کے لیے کھڑے تھے وہ ویٹ کر رہے تھے زینب کب سٹارٹ کہتی ہے ۔۔۔
زینب انیکر بنی ویڈیو بناتی مسلسل بول رہی تھی۔۔۔
جی تو سب دیکھ رہے ہم سب آج اپنے پیارے کزن فارس کو لینے ایئر روپوٹ جا رہے لیکن اس سے پہلے ہم ریس لگاۓ گے جو اس سامنے والے درخت کے گرد چار چکر لگاتا واپس آے گا وہی ونر ہو گا ۔۔۔
یہاں سے درخت تک کا سفر تقربیاً چالیس منٹ کا ہے لیکن جو بیسں منٹ میں یہ ریس مکمل کرتا واپس آے گا وہ ونر ہو گا۔۔۔۔
لیکن سب سے اختیاط کی ضرورت ہے اس درخت کے نزدیک ایک بڑا والا پتھڑ ہے اس پر گزر کر جانا پڑے گا ۔۔۔۔
جو ہارا وہ وہی سے واپس آ جاۓ ۔۔
ونر کو ہم ایک عدد پیزا کھلاۓ گے جو کہ آغا کے پیسوں سے آۓ گا۔۔۔۔
اس بات پر تالیاں ۔۔۔
اچھا میں اداس ہو آج ریس میں میرا لالہ نہیں آ سکا وہ بیمار ہے ۔۔۔
اور بزدل بھی۔۔۔
زینب سب کی ویڈیو بناتی بول رہی تھی جب روشانے ہانک لگاے بولی تھی۔۔۔
میرے لالہ بزدل نہیں سنا تم نے انہہ وہ یہاں ہوتا تم سب کو ہارا دیتا ۔۔۔
زینب برا سا منہ بناۓ روشانے سے لڑ رہی تھی۔۔۔۔
ایک چوہے سے ڈر جاتا تمہارا بزدل لالہ ہاہہ۔۔۔
اچھا بس ریس سٹارٹ کرو فارس بھی آنے والا ہو گا۔۔۔
دونوں اب لڑنے میں بزی ہو چکی تھی جب احمد سرد پن سے بولا تھا۔۔۔۔
تو ہم ریس سٹارٹ کرتے ہے ۔۔۔
ون ۔ٹو۔تھری۔سٹارٹ۔۔۔۔۔
زینب جلدی سے ریس سٹارٹ کرتی چیخی تھی۔۔۔
————————————————————-
جی تو سب دیکھ رہے یہ ریس تو بڑی زبردست ہو چکی ہے ۔۔
کچھ سمجھ نہیں آ رہا کون ون کرے گا سب ہی آگے ہے ۔۔۔
سب سے آگے بائیک احمد کی تھی پھر سوہا پھر مہر پھر روشانے اور امن کی تھی۔۔۔۔
جبکہ دور کھڑی زینب اچھلتی ہوئ سب کو بتا رہی تھی اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا کون جیتے گا ۔۔۔
ارے یہ کس کی بائیک ہے م۔۔ڈبیلو زی۔۔۔۔
زینب خوش ہوتی سب کی ویڈیو بنا رہی تھی جب پاس سے تیز رفتار سے گزراتی بائیک کو دیکھ وہ ہکلاتی بولی تھی۔۔۔
جس پر ہلیمنٹ لیے وقار مسکراتا اسے اپنی نیلی آنکھ سے ونک کرتا گزارا تھا۔۔
زینب کا چہرہ سرخ ہوا تھا۔۔۔
ت۔تو سب دیکھ رہے اس پتھڑ تک روشانے اور امن پہنچ گی ہے ۔۔۔
لیکن وہ اسے کراس نہیں کر سکی ۔۔۔۔
زینب خود کی
کی حالت پر قابو پاتی اب واپس آتی روشانے اور امن کی بائیک کو آتا دیکھ بولی تھی۔۔۔
افففف یہ ریس تو بہت ہی دلچیسپ ہو چکی ہے ۔۔۔
سوہا ۔وقار ۔مہر ۔آغا کی بائیک اس پتھڑ کو کراس کرنے کی کوشش میں ہے ۔۔۔
لالہ ڈر لگ رہا ہاے ہم مر جاۓ گے۔۔۔
احمد جو بائیک کی سیپڈ فل کرتا ابھی اس پتھڑ پر بائیک کو لے کر گیا تھا ۔۔
جب وانیہ اس کی کمر سے لگتی رونی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔
دور سے وہ دیکھتا پتھڑ ایک چھوٹا لگتا تھا جبکہ پاس جاتے وہ ایک چھوٹے پہاڑ جیسا تھا۔۔۔
تبھی اس کی اٶنچی پر آتے ہی وہ ڈرتی بولی تھی۔۔۔۔
زینب میں پیزہ کھلانے کو تیار ہو ۔۔۔
میں اور وانی ایئر روپوٹ جا رہے تم سب آ جانا۔۔۔
وانیہ کی خاطر احمد وہی سے بائیک کو موڑتا کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔
اپنی بہن کی خاطر آغا نے یہ ریس یہی پر چھوڑ دی۔۔۔
اففف یہ ہوتی ہے محبت۔۔۔
زینب مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
اچھا تو جیسے آپ سب دیکھ رہے سوہا۔مہر۔وقار وہ پتھڑ کراس کر چکے ہے ۔۔۔
بس تھوڑی دیر جب وہ درخت کے پاس پہنچ جاۓ گ۔۔۔۔
یہ کون ہے اب ۔۔۔
واہ ہ ہ بیلو بائیک افففف اس کی تو شکل ہمیں دیکھائ نہیں دے رہی ۔۔۔
زینب بول رہی تھی جب پاس سے گزراتی بیلو بائیک کو دیکھ وہ بولی تھی جس پر وہ بیٹھا ہلمنٹ پہنے فل سیپڈ سے جا رہا تھا۔۔۔۔
روشانے اور امن زینب کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ منٹوں میں پتھڑ کو کراس کرتا ان سب کے نزدیک پہنچ گیا تھا۔۔۔۔
ہاے مجھے لگتا یہ کوئ ولڈ ریس ہے اب یہ کون ہے ۔۔۔
پکا یہ حدید لالہ ہو گی۔۔۔
زینب ابھی بھی منہ کھولے بولی تھی ان سب کو کراس کرتی وہ بائیک اپنی فل سیپڈ سے چار چکر مکمل کر رہی تھی جب امن خوش ہوتی بولی تھی۔۔۔
ارے وہ بزدل انسان ہے کہاں ایسی ریس ون۔۔۔۔
روشانے برا سا منہ بناۓ بول رہی تھی جب وہ بائیک چار چکر مکمل کرتی سب کو کراس کرتی چالیس منٹ کی ریس کو دس منٹ میں ختم کر چکا تھا۔۔۔۔
جب اسی بائیک کو فل سپیڈ پر چھوڑتے وہ ہاتھ اوپر کیے سکون سے کھڑا اپنے سر سے ہلمنٹ اتارتا مسکراتا آ رہا تھا۔۔۔
روشانے چلتی بائیک پر کھڑے حدید کو دیکھ ہکا بکا ہوئ تھی۔۔۔
مہر۔سوہا۔وقار بھی منہ کھولے اس نمونے کو دیکھ رہے تھے جو دانت نکالے ویسے ہی کھڑا تھا۔۔۔۔
ہاے گائز ویسے میرا دھماکہ کیسا لگا مجھے تو ایسا لگ رہا کچھ لوگ تو کھڑے ہی کوما میں چلے گے ہے ۔۔۔
ان سب کے پاس آتے حدید اپنی بائیک سے اتارتا روشانے کے کھولے منہ کو ہاتھوں سے بند کرتا بولا تھا۔۔۔۔
مر جاو تم بزدل انسان انہہ۔۔۔
روشانے برا سا منہ بناۓ وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔
ہکا بکا تو مہر اور وقار بھی تھے حدید کی حرکت پر ۔۔
یاہوووو یاہووووو ہماری لالہ جیت گی ۔۔۔
امن خوشی سے ناچتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
چلو چوزے اب لیٹ ہونا کیا فارس آ گیا ہو گا ۔۔۔۔
سوہا بائیک پر آتی حدید کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں چلو تم لوگ میرے ساتھ آ جاٶ۔۔۔
حدید اپنی بائیک پر بیٹھتا ہوا بولا تھا۔۔۔
م۔میں لالہ کے ساتھ جاٶ گی۔۔۔
زینب وقار سے نظریں چراتی جلدی سے حدید کے ساتھ بیٹھتی بولی تھی۔۔۔
مہر کے ساتھ امن اور سوہا کے ساتھ روشانے بیٹھ چکی تھی۔۔۔۔
جبکہ وقار کے ساتھ رعنا مسکراتی ہوئ بیٹھ چکی تھی۔۔۔
وکی فکر مت کرو ایک دن آے گا لٹل ڈول تمہارے ساتھ ہو گی۔۔۔۔
وقار دور جاتی حدید کی بائیک پر بیٹھتی زینب کو دیکھ رہا تھا جب رعنا پاس آتی مسکراتی بولی تھی۔۔۔
وقار مسکرایا تھا۔۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہ اہہہہہ لالہ یہ غلط تھا آرام سے چلا لے ۔۔۔
امن اور زینب چیختی بولی تھی کیونکہ مہر اور حدید نے دوبارہ ریس لگا لی تھی ایئرپورٹ تک جانے کی۔۔۔
مہر اور حدید کی بائیک کی فل سپیڈ تھی تبھی وہ چیختی بولی تھی ۔۔۔
بے شرموں شرم کرو پیچھے ہمارے ایس پی آ رہا ہے تم سب قانون کو ہاتھ میں کیوں لے رہے ۔۔۔
سوہا اپنی بائیک ان کے قریب لاتی زرا سیریس ہوتی بولی تھی۔۔۔۔
ویسے سوہا ٹھیک کہہ رہی ہے ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہے ۔۔۔
ہ۔۔
مہر اچانک سیریس ہوتا اپنی بائیک کی سپیڈ کم کرتا بول رہا تھا۔۔۔
جب دونوں کو درمیان سے کراس کرتی وہ فل سپیڈ سے آگے نکل گی تھی۔۔۔۔
ابے اس نے پاگل بنایا ہمیں ۔۔۔
مٹی کا دھواں اپنے چہرے پر پڑتے دیکھ حدید شوک ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
ان سب کی حالت دیکھ وقار اور رعنا کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔۔
ہاہہاہاہاہ ہاہہاہاہاہاہ۔۔۔
————————————————————-
ہاۓ شکر ہے ٹائم سے آ گے ہم لوگ ۔۔۔
حدید اپنی بائیک سے اتارتا ہوا بولا تھا۔۔۔
اب وہ سب ہی احمد کے ساتھ اس ایریا میں کھڑے تھے جہاں وہ فارس کا باہر آنے کا ویٹ کر رہا تھا۔۔۔
یہ ڈھول والوں کو کیوں بلایا ہے جاہل آدمی ایئرپورٹ ہے یہ۔۔۔
روشانے حدید کے ساتھ کھڑے بیڈ بجانے والوں کو دیکھ وہ برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
عقل سے پیدل عورت فارس کی خوشی میں لایا ہو ۔۔
حدید مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
ا۔۔
او ایم جی حدید صام آفندی آپپپپ۔۔۔
اس سے پہلے روشانے بولتی جب چار پانچ لڑکیاں حدید کو دیکھتی چیختی ہوئ پاس آتی بولی تھی۔۔۔
احمد مسکرایا تھا ان سب کے ریکشین پر۔۔
یہ اتنی خوش کیوں ہوئ ہے جیسے کوئ شہزادہ دیکھ لیا ہو۔۔۔
روشانے جلتی ہوئ زینب کے کان میں سرگوشی کرتی بولی تھی۔۔۔
حدید لالہ کی جو بھی ویڈیو ہوتی میں یو ٹیوب پر لگاتی ہو شاہد ان کی فین ہو کافی فیمس ہے لالہ اس پر ۔۔
زینب مسکراتی ہوئ اپنا کارنامہ سنا رہی تھی۔۔۔
میں آپ کی بہت بڑی فین ہو سر افففف کیا ویڈیوز ہوتی ہے اتنی فنی کہ بندہ ہنس ہنس کر پاگل ہو جاۓ۔۔۔
وہ لڑکیاں اب خوشی سے پاگل ہوتی بول رہی تھی۔۔۔
وہ تو میں بس مذاق کے لیے بناتا ہو ایسی کوئ بات نہیں ہے زنیب نے لگائ ہو گی وہ ویڈیوز شاہد۔۔۔
حدید نارمل انداز سے بولا تھا۔۔۔
سر آپ آج ویڈیو نہیں بناۓ گے مطلب یہاں آے ہے اپنے کزن کو لینے پلیز ہمارے سامنے بناۓ ۔۔
ان میں سے ایک لڑکی موبائل سے کچھ دیکھتی جلدی سے بولا تھا۔۔۔
ویسے یہاں آغا کھڑے ہے لیکن چلو میں بنا لیتا ہو تم لوگ بھی کیا یاد کرو گی کس سخی سے پالا پڑا ہے ۔۔۔
حدید خوش ہوتا اب زینب سے کمیرہ لیتا ہوا بولا تھا۔۔۔
————————————————————
جیسا کہ آپ سب دیکھ رہے ہے ہم یہاں اپنے کزن کو لینے آے ہے ۔۔۔
باتیں تو بہت کرتا میں لیکن آج میں آپ سب کو بتاٶ گا اپنے کزنز کے بارے میں وہ کتنے حیسن ہے ۔۔۔
لیکن مجھ سے کم ۔۔
ہاہااہاہاہاا۔۔
حدید ویڈیو بناتا اپنی آنکھ ونک کرتا بولا تھا جب سب کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔۔
تو یہ رہے ہمارے گھر کے بڑے بیٹے آغا ۔۔۔
ویسے نام تو ان کا احمد آہان آفندی ہے لیکن میری ماما کے ڈمپل بواۓ ڈیڈ کے چونے اور ہمارے فیورٹ آغا ہے ۔۔۔
دیکھیں ان کی لک وا ہ ہ ہ کیا زبردست لک ہے چھ فٹ سے نکلتا قد سفید گورا رنگ کالے بال کالی ہلکی شیو ڈراک گرین آنکھیں گالوں پر پڑتے ڈمپل ۔۔۔
رعب دار پرسلنیٹی پر پہنا ہے آج انہوں نے بلیک شلوار کرتا ساتھ کریم کلر کی شال جو اپنے ہیوی شولڈر پر ڈالے یہ کھڑے ہے ۔۔۔
پلیز آغا ایک سمائل کر دے۔۔۔
حدید کی زبان اب فرفر چلتی سب سے پہلے احمد کی طرف کمیرہ کرتا بولا تھا۔۔۔
جب ایک ہی گھوری سے آغا نے اسے دیکھا تھا۔۔۔
انہیں چھوڑے یہ کھڑوس ہے اب آتے ہے ان کی بہن کی طرف کتنی معصوم ہے یہ میری سب سے اچھی دوست بھی ہے ۔۔۔
نام وانیہ آہان آفندی ۔۔ پڑھی لکھی اچھی لڑکی گھر کا سارا کام آتا میری بچی ہو ۔۔۔
حدید وانیہ کے سر پر ہاتھ رکھتا ڈرامہ کرتا بولا تھا۔۔۔
حدیددددد۔۔
اچھا اچھا آگے سنے رنگ گورا لال گال جن پر ڈمپل پڑتے ہے ڈراک براٶن بڑی آنکھیں کالے لمبے بال جو اس وقت پنک فراک پہنے ساتھ جیکٹ لیے ہمارے ساتھ کھڑی ہے ۔۔
وانی چیخی تھی تبھی وہ جلدی سے بولتا اس سے دور ہوا تھا۔۔
یہ رہی ہماری پٹھانی بہن امن زرجان خان ۔۔۔
اُردو کو کیسے خراب کرنا یہ صرف یہی جانتی ہے ۔۔
پٹھانوں جیسا لال گورا رنگ پھولے گال پر پڑتے ڈمپل بڑی گرے آنکھیں شرراتی سی کالے لمبے بال اپنے بابا کی جان یہ آفت اور اس وقت آغا کی طرح ڈریسنگ کیے کھڑی ہے ۔۔
کیونکہ یہ آغا کی دیوانیییییییی۔۔۔
حدید اب امن کے پاس آتا اپنی زبان کے جوہر دیکھا رہا تھا جب کمر پر پڑتے آغا کے مکے پر چیختے وہ مہر کے پاس گیا تھا۔۔۔۔
یہ ہے میری پھپھو کا بیٹا پھپھاکٹنا اوپسسسس سوری کزن ہے مہر زرجان خان ۔۔
شکل سے یہ معصوم لگتا ہے لیکن یہ اتنہای کوئ سڑو انسان ہے موڈی بندہ ۔۔
قد چھ فٹ کسرتی جسم کالے بال کالی ہلکی شیو گرے آنکھیں تھوڑی پر پڑتا ڈمپل اس وقت بلیک پینٹ کے ساتھ گرے ہڈی پہنے کھڑا ہے ۔۔۔
اچھا تو یہ ہے ہمارے گھر کی چھوٹی لاڈلی بیٹی اور میری بہن ۔۔۔
زنیب مستقیم آفندی ۔۔۔
اس کو سب جانتے ہے کیوٹ پیاری سی شرارتی ہے لیکن کم ۔۔
ایک نیوز انیکر ہے جو ہر خطرے سے گزار کر سب کو انضاف دلاتی ہے سواۓ چپکلی سے ۔۔
یہ بندی اس سے ڈرتی ہے ۔۔۔
سفید لال رنگ کالے لمبے بال بڑی بڑی کالی آنکھیں کیوٹ سی پھولے گالوں والی سب سے آرام سے بات کرنے والی زینب۔۔
حدید زینب کی طرف دیکھتا بول رہا تھا جس کی نظریں اب ان کے پاس آتے وقار پر ٹھہر پر سانسیں روک چکی تھی اس کی ۔۔۔
————————————————————
یہ ہے میری آپو مس مرچ اسے سواۓ ایک کام کے کچھ نہیں آتا وہ ہے کھڑوس زہریلی باتیں کرنے ک۔۔۔۔۔
اہہہہ اہہہہہہ مس مرچی کیا ہے تعریف کرنے والا تھا۔۔
حدید سوہا کے پاس آتا بول رہا تھا جب پیٹ ہر پڑتے اس کے مکہ پر چیختا بولا تھا۔۔۔
باز آٶ حدید ۔۔۔
تو ناظرین دیکھا مس مرچی نے تین لفظ بولے ۔۔
وا ہ ہ ہ کتنا احسان کیا آپ نے ہم پر ۔۔
حدید سوہا کی بات سنتا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا۔۔
نام سوہا صام آفندی جنرل صام آفندی کی
کاربن کاپی سیم ویسی ہی لک ۔۔سفید رنگ پھولے گالوں پر پڑتے ڈمپل ڈراک گرین آنکھیں سنہری لمبے بال سیریس سی شکل بناۓ اپنے کزن کا ویٹ کر رہی ہے ۔۔۔
اب یہ آی ہے مس میک اپ کی دوکان مس روشن دان ۔۔۔
اس کا قد دیکھے میرے برابر آتی ہے پوری چھ فٹ کی توبہ اسے چھت کے جالے اتارنے کے لیے سیڑھی کی ضرورت نہیں پڑتی ۔۔
سب سے زیادہ فیشن روشانے نے کرنا ہے ویسے تو آج دو کلو میک اپ کر کے آی ہے لیکن پھر بھی آپ کو اس کی لک بتا دو۔۔۔۔
شکل سے یہ ڈائن لگ۔۔۔اوپس پیاری لگتی ہے گورا رنگ شربتی آنکھیں قد لمبا لیکن عقل سے پیدل لڑکی ہے یہ ۔۔
بس میں تمہاری اتنی تعریف نہیں کر سکتا ۔۔
ہاں یاد آیا اس کے نوڈلز جیسے بال بڑے پیارے ہے ۔۔
زرافے گنڈےےےےے۔۔۔
حدید روشانے کو بالوں سے پکڑتے بول رہا تھا جب وہ چیختی اسے پکڑتے بولی تھی۔۔۔
بس کرو حدید دیکھو سب دیکھ رہے ۔۔
آغا نے دونوں کو ڈاٹنتے بولے تھے۔۔
دفعہ ہو جاٶ تم عزت ہی نہیں کرتی میری انہہ جل ککڑی ۔۔
حدید اپنے بالوں کو سیٹ کیے اب وقار کے پاس جاتا بولا تھا۔۔
یہ دیکھے ہمارے ملک کا ہونہار شخص ہر خطرے سے لڑ کر اپنے وطن کی حفاظت کرتا ہے ایس پی وقار شعیب خان ۔۔
ان کو سب جانتے ہو گے۔۔
نیلی آنکھیں سفید گورا رنگ جیسا پٹھانوں کا ہوتا ہے چھ فٹ سے نکلتا لمبا قد کسرتی جسم کالے بال کالی ہلکی شیو ناک پر سجا غصہ ۔۔
کیونکہ یہ اکثر غصے میں پاے جاتے ہے جنونی ٹائپ کے ۔۔
آگے نہیں بولنا میری ننھی سی جان چلی جاۓ گی ورنہ ۔۔
حدید وقار سے ہوتا اب رعنا کے پاس جاتا بولا تھا۔۔۔
یہ ہے میری سب سے اچھی دوست مس فائر رعنا شعیب خان نہایت ہی سلجھی ہوئ بچی ۔۔
ویسے تو یہ حسن کی دیوی ہے تبھی خود کو چھپا کر رکھتی ہے بس یہ نیلی خوبصورت آنکھیں اور گورے ہاتھ ہی دیکھ سکتے سب ۔۔
حدید رعنا کو گاٶن میں دیکھتا مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
باز آٶ تم۔۔
رعنا اس کے شولڈر پر مکہ مارتی بولی تھی۔۔۔
————————————————————
سر آپ اپنا تعارف بھی کرواۓ۔۔
آدھے سے زیادہ سب لوگ اب حدید کے پاس اکھٹے ہوتے بولے تھے وہاں آیا ہر شخص بھول چکا تھا وہ یہاں کیا کرنے آۓ ہے بس وہ حدید کی حرکتیں دیکھنے میں بزی تھے۔۔۔
جب وہ لڑکیاں خوش ہوتی بولی تھی۔۔
ارے معصومیت اور حسن کا دیوتا ہو میں اب آگے کیا بولو شرم آتی ہے مجھے۔۔
حدید اب شرمانے کا ڈرامہ کرتا بولا تھا۔۔۔
میں بتاتی ہو اس انسان کے بارے میں ۔۔
روشانے کو تو حدید کی انسلٹ کرنے کا موقع مل گیا تھا تبھی کمیرہ پکڑے وہ بولی تھی۔۔۔
ناظرین یہ لڑکی پاگل خانے سے دوڑی ہوئ ہے یہ کچھ بھی بولے یقین مت کرنا۔۔۔
حدید دانت نکالے سکون سے بولتا روشانے کو آگ لگا چکا تھا۔۔۔
دیکھے اس کی شکل معصوم لگ رہا جبکہ ایسا کوئ نہیں چار سال سے اس سے ایم بی اے کی کلاس پوری نہیں ہوئ مسلسل ایک ہی یونی سے یہ چار بار فیل ہو چکا ہے ۔۔۔
حرکیتں اس کی ایسی ہے کوئ بھی اسے پاگل کہنے کو تیار رہتا ہے ۔۔۔
لڑکیوں سے دوستی کرنا اس کا فیورٹ کام ہے ہر چیز سے ڈرتا ہے یہ بزدل انسان چاہے وہ مکھی مچھر ہی کیوں نہ ہو ۔۔
بہت شکریہ اس تعریف کا اب حسن بتاٶ میرا ہاے شرم آ گی۔۔۔
روشانے اسے غصے دلانے کے لیے بول رہی تھی جب وہ شرمانے کا ڈرامہ کرتا اسی کا ڈوپٹہ منہ میں لیے بولا تھا۔۔۔
قد اس کا چھ فٹ ہے گورا رنگ ڈراک براٶن آنکھیں گال پر پڑتے ڈمپل براٶن بال جو کندھوں تک آتے ہے براٶن ہلکی شیو۔۔۔
ایک لمبے سے کھلے کرتے ساتھ جینز پہنے یہ مکمل فقیر لگتا ہے نہ کوئ لک نہ ہی کوئ باڈی ۔۔
یہ ہے جنرل صام آفندی کا بزدل بیٹا حدید صام آفندی سواۓ سب کے دماغ کھانے اور سونے کے کچھ نہیں آتا اس انسان ک۔۔۔
ہاہاہہاہاہ ہاہہاہاہاہاہ ہاہہاہاہااہاا
روشانے کے سب بتانے پر وہاں کھڑے سب لوگ قہقہ لگا رہے تھے سواۓ احمد ۔مہر۔وقار کے کیونکہ انہیں غصہ آ رہا تھا جس انسان کو غصہ آنا چاہے تھا وہ خود سب کے ساتھ ملتا قہقہ لگا رہا تھا۔۔۔
بس ہو گی ویڈیو پوری اب باۓ جاٶ س۔۔
ٹھاہہہ ٹھاہہہہ ٹھاہہہہ۔۔۔
حدید اپنے بالوں کو جھٹکا دیتے بول رہا تھا جب ان سب کو دھماکے کہ آواز سنائ دی۔۔۔
س۔سوہا کدھر ہے آغا۔۔۔
حدید اچانک پریشان ہوتا آس پاس دیکھتا بولا تھا جہاں سوہا نہیں تھی۔۔۔
م۔۔
ٹھاہہہہ ٹھاہہہہ۔۔۔
لگتا ہے ایئرپورٹ پر حملہ ہو گیا سب یہی فرش پر بیٹھ جاٶ۔۔۔
اچانک وقار اپنی سکریٹ پاکٹ سے منی گن نکلاتا ہوا غرایا تھا۔۔۔
جبکہ سب شور مچاتے وہی بیٹھ چکے تھے کیونکہ دھماکے اور فائر کی آواز مسلسل آ رہی تھی ۔۔
