581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 5)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

ڈیول ڈیول ڈیول ۔۔۔

اہہہہ اہہہہ اہہہہ یہ انسان میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ رہا ۔۔۔

آج تک میں اس انسان کو مات نہ دے سکا ۔۔۔

ایول کہاں ہے بلاٶ اسے ۔۔۔

گرو اپنے روم میں بیٹھا شراب پیتا چلاتا بولا تھا۔۔۔

کیونکہ اس کے ڈرگز کے ٹرک روک دے گے تھے جبکہ وہ ایول کے کام سے خوش ہوا تھا لیکن اب غصے سے چلا رہا تھا۔۔۔۔

یہ کیا تھا ایول تم نے کہا تھا سب کر دیا پھر یہ کیسے ہوا ۔۔

گرو اپنے روم میں ایول کو آتا دیکھ بولا تھا جو خاموشی سے اسے ہی دیکھتا کھڑا ہو چکا تھا۔۔۔

آپ نے کہا تھا جنرل صام آفندی کو روکنا ہے ڈیول کو نہیں ۔

ہم نے بس صام آفندی کو روکا تھا۔۔۔

ایول سکون سے بولا تھا جیسے اسے کوئ فرق نہ پڑتا ہو وہ ایک روبوٹ جیسا تھا کام اور کام ۔۔

لیکن وہ دونوں ایک ہی ہے ا۔۔۔

اپنے ملک کے لیے وہ جنرل صام آفندی ہے لیکن انیجل کے لیے ڈیول ۔۔۔

گرو شراب پیتا بول رہا تھا جب وہ ویسے ہی کھڑا بولا تھا۔۔۔

اور کمزوری بھی تھی اس ۔۔۔

صام کی کمزوری اس کی فمیلی ہے جبکہ ڈیول کی طاقت انیجل ہے ۔

ہم نے کام کیا تھا آگے ہم دیکھ لے گے ڈیول کو ۔۔

ایول ویسے ہی دو ٹوک بولا تھا۔۔۔

ہممم میں س۔۔۔

باۓ۔۔

گرو جی بول رہے تھے جب وہ اپنی کہتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔

گرو کو اکثر غصہ آتا تھا ایول کے برتاٶ پر جو خود کی کہتا پھر خاموش ہوتا چلا جاتا تھا لیکن وہ خوش تھے اسے ایسا بنانے والا بھی وہ خود تھے ۔۔۔

برائ کے راستے کا کنگ ایول ۔۔

جس کی دہشت ہی اتنی تھی لوگ بس نام سنتے ہی کانپ جاتے تھے ۔۔۔

گرو کے آدمیوں کے علاوہ کسی نے اس کی شکل نہیں دیکھی تھی ۔۔

نہ ہی وہ کسی کی طرف دیکھتا تھا نظر اٹھا کر اگر کسی کو دیکھ لیتا تو سامنے والا بندہ اس کی برف جیسی سرخ گرین آنکھیں دیکھ وہی جم جاتا تھا۔۔۔۔

ڈیول کو اگر کوئ مات دے سکتا ہے وہ ہے ایول ۔۔۔

مجھے کیسے بھی کر کے اسے کہنا ہے وہ ڈیول کو مار دے ۔۔

گرو اپنی گہری سوچ میں ڈوبا سوچ رہا تھا۔۔۔

————————————————————

کہاں تھے صام حد ہے کسی بات کی یہ کیا آپ نے ہم تینوں کو قید میں رکھا ہے ۔۔

پہلے ہم تھے اب آپ ہمارے بچوں کو بھی ایسے رکھے گ۔۔۔۔

ڈیڈ کی جان میری بیٹی کیسی ہے ۔۔۔

روحا روم میں آتے صام آفندی کو بلیک ہڈی پہنے اندر آتے دیکھ غصے سے بول رہی تھی جب وہ مسکراتے بیڈ پر بیٹھے حدید کے گال چومتے بولے تھے ۔۔

مطلب ڈیول نے اپنی انیجل کو فل اگنور کیا تھا۔۔۔

کیا ڈیڈ اتنا پیارا بیٹا آپ کا اور آپ بیٹی کہہ دیتے ہے ہاےےے میں معصوم ۔۔۔

حدید بھی ان کے گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ارے تم میری کیوٹ اور سگھڑ بیٹی ہو سب کام آتے ہے تم کو یہ بتاٶ یہ زبان اتنے گھنٹے کیسے بند رہی ۔۔۔

صام حدید کے پاس بیٹھتے مسکراتے بولے تھے ۔۔۔

وہ ڈیڈ بس آپ نے کہا تھا چپ رہنا ماما اور مس مرچی کو شور پسند نہیں تبھی میں چپ تھا۔۔۔

حدید اچھا بچہ بنتا بولا تھا۔۔۔

چلو اب میری بیٹی آفندی پیلس چلی جاۓ گڈ باۓ بیٹا ۔۔۔

صام حدید کا ماتھا چومتے پیار سے بولے تھے ۔۔۔

مس مرچی کو ساتھ لے جاٶ ۔۔۔

حدید سوہا کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔

جو مسلسل لیپ ٹاپ میں بزی تھی۔۔۔

لٹل انیجل کیسی ہے ۔۔۔

صام اب سوہا کے پاس آتے فکر مند ہوتے اس کا ماتھا چومتے بولے تھے ۔۔

ڈیول ڈیڈ بلکل پیاری ماما جیسی ۔۔۔

سوہا ان کے سینے سے لگتی بولی تھی ۔۔۔

لیپ ٹاپ پر کیا رہی ہو ۔۔۔

صام اب سامنے لیپ ٹاپ کی سکرین دیکھتے بولے تھے ۔۔۔

ڈیڈ فادی سے بات کرنے والی تھی آپ جانتے ہے وہی میرا اچھا دوست ہے ۔۔۔

سوہا فارس کے نام پر شرماتی ہوئ بولی تھی ۔۔

اس کے چہرے پر فارس کے نام کے حیا کے رنگ دیکھ ایک پل کے لیے صام گھبراۓ تھے لیکن پھر ٹھیک ہو گے تھے ۔۔۔

اچھا گھر جا کر بات کرنا اب جاٶ بیٹا بھای کے ساتھ۔۔

صام سوہا کا ماتھا چومتے پیار سے بولے تھے ۔۔۔

چلو سب یہاں سے تم لوگوں کے ڈیڈ مینٹل ہو گے ہے ۔۔

روحا ابھی بھی برا سا منہ بناتی ان کو روم سے باہر لے کر جاتی بولی تھی ۔۔

مینٹل ہاسپٹل تم ہو میرا یہی رہو تم لوگ جاٶ۔۔۔

صام جلدی سے روحا کا ہاتھ پکڑتے مسکراتے بولے تھے ۔۔

انہہ اب یاد آی ہماری ۔۔

روحا روٹھا سا چہرہ بناۓ بولی تھی۔۔۔

جو انسان آپ کی سانسوں سے زیادہ قریب رہتا ہو اسے یاد نہیں کیا جاتا میری جان عشق کیا جاتا ہے وہ بھی پوری شدت سے ۔۔

صام روحا کے پاس بیٹھتے ان کے کان میں سرگوشی کرتے بولے تھے جب وہ شرمائ تھی۔۔۔

اچھا یہ بتاۓ یہ سب کیا تھا ۔۔

روحا ان کو خود سے دور کرتی آرام سے بولی تھی ۔۔

برائ کی دنیا کا ڈان گرو جی اس نے ڈرگز کے ٹرک فرانس پنہچانے تھے ۔۔۔

وہی ٹرکس میری آرمی نے روکنے تھے ۔۔

بس اسی وجہ سے تم سب کو نقصان کو دیتے بس اس لیے سب کو بچایا میری کمزوری تم سب کو ۔۔۔

ایک شوہر اپنی بیوی کی شکاتیں خاموشی سے سن کر اگنور کر دیتا ہے ماں کی باتیں سن کر اگنور کرتا ہے لیکن جب وہ ایک بیٹی کا باپ بنتا ہے تب وہ سب کو اگنور کرتا صرف اپنی بیٹی کی ایک ایک سانس کو سننے کو تیار رہتا ہے ۔۔

تم جانتی ہو تمہارے ساتھ مجھے اپنے یہ دشمن بھی بہت عزیز ہے ۔۔۔

تم سب کو کچھ ہوتا تو میں کیسے زندہ رہ پاتا ۔۔۔

سوہا کی وہ کار پر دھماکے سے اُڑا دی گی جو وہ یوز کرتی تھی ۔۔

حدید جس جم میں جاتا تھا اس پر حملہ کروایا گیا ۔۔۔

مجھے ڈرانے کے لیے لیکن وہ بھول گے تھے ڈیول کی ٹھکر کا آج تک کوئ نہیں آیا ۔۔۔

یہی وجہ تھی تم سب کو اس سیف روم میں رکھا میں نے ۔۔۔

اپنے بیٹے کو کھو چکا ہو اب اپنے دونوں بچوں کو کھونے نہیں دو گا ۔۔۔

صام روحا کو سکون سے بتاتے انہیں پریشان کر چکے تھے۔۔

ص۔صام آپ ٹھیک ہے ک۔کس نے کیا یہ سب ہم جان لے گے اس انسان کی ا۔۔۔

ایول نے کیا یہ سب اسے پتہ تھا میری کمزوری کیا ہے ۔۔

روحا پریشان ہوتی ان کا چہرہ ہاتھوں میں لیتی بول رہی تھی جب صام اپنی گرین آنکھوں میں چمک لاۓ سکون سے بولے تھے۔۔۔

ہ۔ہمارا ایول کی۔۔۔

ہاں وہ میرا ایول ہے وہی ہے جو ڈیول کا مقابلہ کر سکتا ہے مجھے پورا یقین ہے وہ ہمارا بیٹا حازم ہی ہے ۔۔۔

روحا منہ کھولے ہکلاتی بول رہی تھی جب صام بیڈ سے اٹھتے کھڑے ہوتے مسکراتے بولے تھے۔۔۔

ن۔نہیں یہ تو برا انسان ہے یہ ہمارا بیٹا حازم نہیں ہے وہ تو معصوم سا تھا ا۔۔۔

ڈیول کا بیٹا ایول ہے ۔۔

تم جانتی ہو اس نے کیا کیا تھا اور کتنا معصوم تھا ۔۔

بس مجھے اس دن کا انتظار ہے کب ایول اور ڈیول آمنے سامنے ہو گے تب میرا شک یقین میں بدلے گا ۔۔۔

روحا کھڑی ہوتی بول رہی تھی جب صام انہیں کمر سے پکڑتے روم سے باہر لے کر جاتے بولے تھے ۔۔۔۔

————————————————————

آٶ دھیان سے انیجل ۔۔۔

یہ ایک گندی اور بدبو دار جگہ تھی جہاں ایک سائیڈ پر کچی آبادی میں غریب لوگ رہتے تھے ۔۔۔

وہی ایک جگہ پر چھوٹا سا زمین پر سے دروازہ اٹھاتے اندر اسے نکلتے صام نے اخیتاط سے باہر آتی روحا کا ہاتھ پکڑتے کہا تھا۔۔۔

کوئ نہیں جانتا تھا دنیا کی نظر میں یہ گندی جگہ پر ڈیول نے وہاں سیف روم بنایا تھا جو وہ تبھی یوز کرتا تھا جب اپنی فمیلی کو بچانا ہو ۔۔۔

دونوں ہی باہر آتے اس بات سے بے خبر کوئ اپنی گرین آنکھوں سے یہ منظر دور کھڑا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ دیکھ رہا تھا۔۔۔

آج پھر ڈیول نے اپنی فمیلی کو بچا لیا ۔۔۔

افسوس ۔۔۔۔

دور کھڑا گرین ہڈی لیے ایول افسوس سے سر ہلاتا کہتا وہاں سے گم ہو گیا تھا۔۔۔۔

————————————————————

بابا آپ سے ایک بات کرنی ہے ۔۔

امن زرجان کے روم میں آتی پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

آٶ بابا کی جان ۔۔۔

زرجان مسکراتے ہوۓ صوفے پر سیدھے ہوتے بیٹھتے بولے تھے ۔۔۔

وہ بابا میں کہا رہا تھا کہ میں شادی کر لو ۔۔

امن پاس بیٹھتی جلدی سے مدعے پر آتی بولی تھی ۔۔۔

ارے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا میری بیٹی بڑی ہو گی اچھا کس سے شادی کرنی ۔۔

زرجان اس کے بچپنے پر مسکراتے بولے تھے ۔۔

وہ ایسی ہی تھی جلد باز جو بھی دل میں ہوتا بتا دیتی تھی ۔۔

آغا جان سے ۔۔۔

امن شرماتے ہوۓ بولی تھی لیکن زرجان کو شدید جھٹکا لگا تھا۔۔۔

واٹ۔۔

یش بابا مجھے وہ بہت اچھی لگتی ہے اففف خاص کر ان کی گرین آنکھیں اور ڈمپل ۔۔

ویسے ڈمپل میرے بھی ہے لیکن آغا کی بات او۔۔۔

دیکھو بیٹا احمد تم سے کافی بڑا ہے اسے چھوڑ کر تم کسی سے بھی کہو میں شادی کروا دو گا ۔۔۔

وہ تمہارے مزاج کا نہیں ہے تم جتنی شرارتی ہو وہ اتنا ہی خاموش بچہ ہ۔۔۔

بابا مجھے وہی چاہے بات ختم ورنہ میں کسی سے شادی نہیں کرے گا۔۔۔

زرجان پریشان ہوتے بول رہے تھے جب امن طش میں آتی کہتی وہاں سے واک آوٹ کر چکی تھی۔۔۔

اففف کیسے سمجھاٶ میں ۔۔۔

زرجان پریشان ہوتے بولے تھے ۔۔۔

———————————————————-

احمد بیٹا چینج کر کے زرا روم میں آ کر بات سنا میری ۔۔

احمد آفس سے سیدھا اپنے روم کی طرف جا رہا تھا جب آہان اس کی طرف دیکھتے مسکراتے بولے تھے۔۔

جی بابا ۔۔۔

آہان ابھی روم میں آے تھے جب ویسے ہی احمد اندر آتا بولا تھا۔۔۔

ارے بیٹا تم پہلے چینج کر لیتے آرام کرتے فری ہو کر پھر ہم بات ہ۔۔۔۔

آہان اس کی طرف دیکھتے بول رہے تھے جب وہ ان کے پاس آتا مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ارے بابا آپ کے لیے میں ہمیشہ فری رہتا ہو آپ بات کرے بس مجھ سے ۔۔

احمد ان کا ہاتھ پکڑتا مسکراتا بولا تھا۔۔۔

وہ میرے بزنس پارٹنر ہمدانی صاحب ہے تم انہیں جانتے ہو انہوں نے اپنے بیٹے کے لیے ہماری وانی کا ہاتھ مانگا ہے ۔۔۔

آہان تحمل سے پوری بات بتاتے مسکراۓ تھے۔۔۔

لیکن بابا وانی چھوٹی

ہے آپ جانتے ہے وہ میرے لیے بیٹی جیسی ہے اتنی جلدی کیا ہے رشتے کی ۔۔۔

اچانک احمد پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔

بیٹا رشتہ دیکھنا ہے کون سا شادی کرنے والے ہے جو اتنا پریشان ہو رہے ہو ویسے بھی ان کا بیٹا اہتشام دو دن بعد امریکہ سے پاکستان آ رہا ہے تب دیکھ لے گے میں تو مشورہ کر رہا ۔۔

آہان اس کا فکرمند چہرہ دیکھ پوری تفصیل سے بولے تھے۔۔۔

پریشان مت ہو بیٹا ہم وانی کی خوشی سے ہی یہ رشتہ کرے گے ۔۔

احمد کو چپ بیٹھا دیکھ آہان ایک بار پھر بولے تھے۔۔۔

ہممم۔۔

احمد اب اٹھتا روم سے باہر جاتا بولا تھا۔۔۔

ٹھاہہہ ٹھاہہ۔۔۔

و۔وہ بڑے بابا میں نے کچھ نہیں سنا میں تو کتنا معصوم ہو دیکھے زرا میری طرف ۔۔۔

روم سے باہر جاتے احمد کو دیکھنے بزی تھے جب اچانک ایک سائیڈ سے کھڑکی کا شیشہ زور سے ٹوٹا تھا جو کہ پلیس کی بیک سائیڈ سے اوپن ہوتی تھی ۔۔۔

کھڑکی کی طرف دیکھ انہوں نے مسکراہٹ روکی تھی جہاں حدید اپنی گردن اندر کو کیے رونی شکل بناے بولا تھا۔۔۔

اچھا تو سنو اب یہ بات کسی کو مت بتانا صیح۔۔۔

آہان اس کے پاس آتے انجان بنتے مسکراہٹ روکے بولے تھے۔۔۔

نہیں نہیں بڑے بابا آپ بھول جاۓ میں کسی کو کچھ بتاٶ گا کون سا کچھ سنا ہے اب میں چلتا ہو وہ تو بس یہاں تازی ہوا لینے آیا تھا۔۔۔

حدید اسی کھڑکی کے اندر آتا اب باہر کی طرف جاتا بولا تھا۔۔۔

ہاں ٹھیک ہے تم نے کون سا کچھ سنا ہے جو بتاٶ گے ۔۔۔

آہان اسے شولڈر سے پکڑتے بولے تھے۔۔۔

ہاں میں نے نہیں سنا میری سب سے اچھی دوست وانی کا رشتہ آیا ہے ۔۔

نہ ہی کسی کو بتاٶ گا چغلی نہیں ہوتی مج۔۔۔۔

حدید فر فر بول رہا تھا جب اچانک اپنے منہ پر ہاتھ رکھتا وہ شوک ہوتا آہان کی طرف دیکھتا باہر بھاگا تھا۔۔۔

ہاہاہہاہاہ ۔۔۔

آہان قہقہ لگاتے مسکراۓ تھے۔۔

————————————————————

امجد ۔۔

وقار اپنے آفس میں بیٹھا مسلسل آیل ای ڈی پر چلتی نیوز میں فر فر بولتی زنیب کو دیکھ رہا تھا ۔۔

جب اندر آتے اپنے سیکرٹری کو دیکھتے وہ دو ٹوک بولا تھا۔۔۔

ج۔جی سر ۔۔۔

امجد جلدی سے تابیداری سے سر جھکاۓ بولا تھا۔۔۔

یہ نیوز روپوٹنگ کون ہے پتہ کرواٶ ۔۔

وقار اپنے لبوں پر پن رکھے پر سوچ نظروں سے دیکھ بولا تھا۔۔

ارے سر یہ تو آئ جی مستقیم آفندی کی بیٹی ہے زنیب مستقیم آفندی بہت اچھی روپوٹر ہے ۔۔

ا۔۔۔

اہہہ لٹل ڈول ۔۔

وہ بول رہا تھا جب وقار مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

آخر تم مل ہی گی لٹل ڈول افففف ۔۔۔

وقار بے حد خوش تھا آخر اسے وہ مل ہی گی تھی جیسے پانے کے لیے وہ سالوں سے ویٹ کر رہا تھا۔۔۔

ہلیو ہلیو وکی میں کہہ رہی تھی شام کو آغا کی برتھ ڈے ہے تم بھی آن۔۔۔

میں آج جاٶ گا آفندی پیلس آپ تیار رہنا ۔۔

رعنا کا فون آیا تھا جیسے سنتے وہ اپنی کہہ کر فون بند کر چکا تھا۔۔۔

————————————————————

ہ۔ہلیو لالہ و۔۔

کیا ہوا بچہ طیبعت ٹھیک ہے ۔۔۔

وانیہ کانپتی ڈرتی احمد کو کال ملاتی بول رہی تھی جب اچانک احمد پریشان ہوتے بولا تھا۔۔۔

لالہ آپ کدھر ہ۔۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ۔۔۔

وانیہ بول رہی تھی جب پاس بیٹھی امن نے زور سے اسے لات ماری تھی تبھی وہ چلائ تھی۔۔۔

لگتا تمہاری طیعبت نہیں ٹھیک میں آتا ہو شام تک ا۔۔

لالہ پتہ نہیں بخار ہو گیا ٹانگوں میں درد ہے ا۔اور ہاں پیٹ میں درد کافی ہے آپ آ جاۓ ابھی گھر مجھے یاد آ رہی آپ کی ۔۔۔

روشانے زینب امن سوہا کو دیکھ وانیہ کے منہ میں جو بھی آیا بول چکی تھی ۔۔

جبکہ حدید اور مہر نے اپنی ہنسی کنٹرول کی تھی کیونکہ وانیہ نے واقعی رونے والی شکل بنا کر کہا تھا۔۔۔

ارے میری جان پریشان مت ہو تمہارے لالہ ابھی آتے ہ۔۔

لیکن لالہ آپ کی میٹنگ و۔۔

تمہارے سے زیادہ یہ ضروری نہیں ہے میں بس آ رہا ۔۔

لالہ آپ تو کار میں آۓ گے اتنا لیٹ ہو جاۓ گا لاہور اتنا دور ہے آسلام آباد س۔۔۔

میں باۓ ائیر آٶ گا بس تم خیال رکھنا اپنا ۔۔۔

وانیہ بول رہی تھی جب احمد کہتا فون بند کر چکا تھا۔۔۔

کیا ہوا ایسی شکل کیوں بنای ہے کیا آغا نہیں آۓ گی۔۔۔

امن پریشان ہوتی بولی تھی۔۔

لالہ آ رہے ہے باۓ ائیر اہہہہ اہہہہ اہہہہہ ہاے ان کی برتھ ڈے کی تیاری کرنی ہے ۔۔۔

وانیہ کہتی وہی بیڈ پر اچھلتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔

آج احمد کی برتھ ڈے تھی جب وہ اپنی ضروری مینٹگ کے لیے وہ لاہور چلا گیا تھا ۔۔۔

تبھی سب نے پلان بنایا تھا پارٹی کا وہ سب یہ بھی جانتے تھے احمد اپنی میٹنگ چھوڑ کر نہیں آے گا تبھی سب نے وانیہ کو کہا تھا یہ ڈرامہ کرنے کا جس میں کامیاب ہوۓ تھے ۔۔۔

اب سارے ہی تیاری کرنے میں بزی ہو چکے تھے۔۔۔۔

ہاے میرا فراک لینا ہے ابھی بابا کو کہتا ہو میں آ جاٶ مہر گھر چلی ہم ۔۔۔

امن بیڈ سے اٹھتی جلدی سے مہر کا ہاتھ پکڑتے بولتی روم سے باہر گی تھی۔۔۔

جبکہ وانیہ کو اس بات کا ڈر تھا کہی احمد غصہ نہ کر

جاۓ ۔۔۔

————————————————————

اففف تم کتنے خوبصورت ہو ایول ۔۔

لیکن کبھی تم نے مجھے اتنے غور سے نہیں دیکھا میں تمہاری ایک نظر کے لیے ترس گی ہو ۔۔۔

ایول اپنے روم میں اندھیرہ کیے سکون سے صوفے پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا جب اندر آتی روبی نے لائٹس آن کیے اس کے پاس آتی بیٹھتی بولی تھی ۔۔۔

دفع ہو جاٶ۔۔۔

ایول اسے بنا دیکھے سکون سے بولا تھا۔۔۔

افف تمہاری تو آواز بھی پ۔۔۔

دفع ہو جاٶ۔۔۔

روبی اس کے گال پر پڑتے ڈمپل پر ہاتھ رکھتی بول رہی تھی جب وہ گن نکالتا اس کے ماتھے پر رکھتا غرایا تھا۔۔۔

اچھا چلی جاتی ہو اچھا سنو بار کلب جاتے ہے وہاں مزہ کر۔۔۔

ٹھاہہہہ ٹھاہہہہہ۔۔۔

وہ ڈھیٹ ہوتی اس کی گردن کو چھوتی بول رہی تھی جب اس نے گن سے دو فائر سامنے شیشے پر کرتے سکون سے کھڑا ہوتا اپنے روم سے نکل گیا تھا۔۔۔۔

کوئ بات نہیں ایک دن آے گا ایول جب تم میرے پاس آو گے ہاےےےے۔۔۔

روبی پہلے ڈری تھی لیکن پھر خود پر قابو پاتی وہ مسکراتی ہوئ کہتی روم کی ونڈو کے پاس کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔۔

جہاں وہ ہڈی پہنے جنگل والے راستے پر اکیلا سگریٹ لبوں میں دباۓ وہ سکون سے بھاری قدم اٹھاۓ جا رہا تھا۔۔۔

———————————————————-

السلام و علیکم آنٹی ۔۔۔

شام کو تیار ہوتی رعنا اور وقار شعیب اور رانیہ کے ساتھ آفندی پلیس آے تھے جب رعنا مسکراتی ہوئ روحا کے پاس آتی بولی تھی ۔۔

وعلیکم السلام بیٹا شکر ہے کافی عرصے بعد ہماری بیٹی آی ۔۔۔

پرپل فل گاٶن میں حجاب لیے پیارا سا نقاب کیے رعنا کو گلے لگاۓ روحا مسکراتی بولی تھی ۔۔

نقاب میں صرف اس کی چمکتی نیلی آنکھیں دیکھائ دے رہی تھی ۔۔۔

آنا تو تھا آج آغا کی برتھ ڈے ہے ویسے آغا آ گے کیا ۔۔۔۔

رعنا نے روحا سے پوچھا تھا۔۔۔۔

نہیں ابھی بچے ویٹ کر رہے ڈمپل بواۓ کا تم جاٶ سب وہاں کھڑے ہے ۔۔

روحا دور کھڑے بچوں کو دیکھ بولی تھی۔۔۔۔

رعنا کے جاتے ہی وہ باقی سب کے ساتھ بزی ہو چکی تھی۔۔۔۔

————————————————————

مس فائر نقاب اتار لیتی یہ گھر کا فکشن ہے بس ۔۔۔

حدید اپنے سامنے اسے آتا دیکھ پیار سے بولا تھا۔۔۔

جبکہ پاس کھڑی روشانے جلیس ہوئ تھی ۔۔۔

اتار لو گی پہلے آغا آ جاۓ ۔۔۔

رعنا سب سے ملتی سکون سے بولی تھی۔۔۔

م۔۔۔۔

آغا آ گی آغا آگی ۔۔۔۔

روشانے بول رہی تھی جب امن چلاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

چلو سب لائٹس آف کرو اور ہاں مجھے کچھ ہوا تو بریانی بنا لینا اچھا اگر مر گی میں ہاے لالہ نہیں چھوڑے گے مجھے۔۔۔

وانیہ پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔

سب آرام سے کھڑے لائٹس آف کیے احمد کا ویٹ کر رہے تھے ۔۔۔

پارٹی کا ارینج لان میں ہی کیا گیا تھا۔۔۔

اندھیرے میں کھڑی زنیب اور رعنا کی سانسیں روکی تھی ۔۔۔

کیونکہ زنیب کو ایسا محسوس ہوا تھا جیسے کوئ اس کے بے حد قریب کھڑا اپنی نیلی آنکھوں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔۔

جبکہ حدید کے پاس کھڑی رعنا کو ایسا لگا تھا کوئ بے حد اس کے قریب سے گزار کر گیا تھا۔۔۔

اسے اپنے آس پاس صرف سگریٹ کی سمل آ رہی تھی ۔۔۔

ہادی تم نے سگریٹ پی ہے کیا ۔۔۔

یار مجھے اچھی نہیں لگتی یہ گندی چیز سانس بند ہونے لگ جاتا ہے ۔۔۔

کیا منہ میں ڈالا ہے جو تمہاری زبان نہیں چل رہی ابھی ۔۔۔

اپنی گردن حدید کی طرف کرتی وہ سرگوشی کرتے بول رہی تھی جبکہ نیلی آنکھیں سامنے تھوڑی سی روشنی میں انٹر ہوتے گرین آنکھیں لیے احمد پر تھی ۔۔۔

لیکن کوئ اور بھی تھا جو اس کی گول گھومتی نیلی آنکھوں کو اپنی گرین آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔