581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 33)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar


“””وقار 🖤زینب

“”فارس 🖤سوہا اسپیشل اپپی 🥳🥳

حوصلہ کرو احمد امن آ جاے گی واپس ۔۔۔

ہیر دکھی ہوتی احمد کو فرش سے اٹھاتے بولی تھی ۔۔۔۔

پہلی دفعہ انھوں نے اسے روتا ہوا دیکھا تھا ۔۔۔

کیسے ماما میں کتنا برا انسان ہو اپنی ہی بیوی کی عزت نہ کر سکا وہ سہی کہتی ہے میں ہی اپنے خول میں اتنا مگن ہوا کہ کسی کو احساس تک نہیں رہا مجھے ۔۔۔

اچھا کیا وہ چھوڑ گی مج۔۔۔۔

نہیں بیٹا وہ غصہ کر کے گی تم منا لینا وہ مان جاے گی ۔۔۔

نہیں مانے گی وہ ماما نہیں مانے گی ۔۔۔۔

روٹھ گی ہے وہ مجھ سے ۔۔۔

ہیر اس کے بال سنوارتی بول رہی تھی جب وہ آنسو بہاتا کہتا اوپر گیا تھا ۔۔۔

آپ نے بھی غلط کیا صام بچے کا دل دکھا دیا مانتی ہو مہر کا طریقہ غلط تھا پر اس نے وانیہ کو اپنایا بھی تو تھا ۔۔۔۔

آپ نے کتنی جلدی اسے طعنہ دیا وہ زرجان لالہ کا بیٹا نہیں ہے ۔۔۔۔

روحا اب غصہ صام پر نکالتی بولی تھی شرمندہ تو وہ خود بھی اپنی جگہ پر تھے مہر کو ایسا نہیں بولنا چاہے تھا ان کو ۔۔

اچھا مائ انیجل ڈیول سوری کر لے گا اس سے اب خوش ۔۔۔۔

صام ان کا موڈ ٹھیک کرتے بولے تھے ۔۔

انہہ۔۔۔

وہ برا سا منہ بناے اندر روم میں جاتی بولی تھی ۔۔۔

انیجل یارررر۔۔۔

صام بچوں جیسی شکل بناے ان کے پیچھے جاتے بولے تھے ۔۔۔۔

ماما میں لٹل ڈول کے بنا نہیں رہ سکتا کتنے دن ہو گے میں نے اس کی نہ شکل دیکھی نہ ہی آواز سنی ہے ۔۔۔

رات کو رانیہ اس کے روم میں کھانا لائ تھی جب وقار اداس ہوتا بولا تھا وہ کچھ نہیں کر رہا تھا زینب کے جانے کے بعد اپنے روم تک وہ محدود ہو چکا تھا ۔۔۔

نہ ہی وہ کچھ کھا پی رہا تھا ۔۔۔

تو بیٹا اسے لے آؤ۔ ۔۔

رانیہ اس کے بالوں کو سنوارتے بولی تھی ۔۔۔

ماما وہ فون نہیں اٹھا رہی نہ ہی مجھ سے مل رہی ۔۔۔

ایک طرف بابا ہے تو دوسری طرف لٹل ڈول ۔۔۔

بابا کی مانو تو لٹل ڈول دکھی ہوتی اگر لٹل ڈول کی مانو تو بابا دکھی ۔۔۔۔

آپ جانتی ہے بچپن کا عشق ہے میرا وہ کتنا چاہا میں نے اسے کتنی مشکل سے ملی ہے وہ مجھے اور اب۔۔۔

وقار ضبط کرتا بولا تھا جب آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا اس کے ۔۔۔۔

تمہارے بابا کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو جاتے ہے تم فکر مت کرو ایسا کرو زینب کو لے آؤ بچی بھی اداس ہو گی تمہارے لیے ۔۔۔

لیکن بابا ۔۔۔۔

میں ہنیڈل کرلو گی تم بس لٹل ڈول کو لاو۔۔۔

وقار ان کی بات سنتا پریشان ہوتا بول رہا تھا جب وہ مسکراتی بولی تھی ۔۔۔

ہمممم ۔۔

وقار اب سوچ میں پڑ چکا تھا کیا کرے۔۔۔۔

یہ غلط ہے ایول میں ایسا کچھ نہیں کر رہ۔۔۔۔

اگر تم نے یہ کام نہیں کیا تو ہم کسی اور سے کروا لے گے ۔۔۔

فارس کال سنتا چیختا بول رہا تھا جب وہ سکون سے بولا تھا۔۔۔

کافی رسک ہے اس میں کہی ک۔۔۔۔

ہمیں رسک لینے میں مزہ آتا ہے تب ہی دشمن کو مارنے میں زیادہ مزہ آتا ہے تم بس تیاری کرو ۔۔۔

فارس ایک بار پھر بول رہا تھا جب وہ سکون سے کہا تھا ۔۔۔

کیا الٹی کوپڑھی کے مالک ہے تینوں بہن بھای وہ کام کرتے جو سوچا نہ ہو۔

حد ہے ۔۔۔

یہ دونوں بھای چاہے ہے ماموں نہ بنے خود کی بیویاں منہ نہیں لگاتی اور میری والی کو دور کر رہے مجھ سے ۔۔۔

فون کان پر لگاتے وہ مسلسل بڑبراہٹ کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

تو زندہ ہو گا تبھی بچے ہو گے سوچ اگر تم مر جاے پھ۔۔۔

منحوس انسان جب بھی بولنا بکواس بولنا ۔۔۔

ایول اس کی ساری بات سنتا مسکراہٹ روکے بول رہا تھا جب فارس جلدی سے کال کٹ کرتا جلتا بھنتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

زنیی کوئ بات ہوئ ہے کیا ۔۔۔

زینب اپنے روم بیڈ پر اداس سی لیٹی تھی جب روشانے روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔

نہیں آپو ۔۔

اپنی بھیگی آنکھوں کو صاف کرتے وہ اٹھتی بولی تھی ۔۔۔۔

اگر کچھ نہیں ہوا تو یہ آنسو کیوں ہے وقار لالہ نے کچھ کہا کیا ۔۔۔

زینب کا چہرہ اپنے ہاتھ سے صاف کرتی وہ نرمی سے بولی تھی ۔۔۔

ارے کچھ نہیں ہوا بس ویسے ہی آنکھوں میں درد ہو رہا ہے مجھے چھوڑے اپنا بتاے ہادی لالہ کے ساتھ خوش ہے آپ ۔۔۔

زینب بات ٹالتی ہوئ روشانے کو دیکھ کر بولی تھی ۔۔۔

بات مت بدلو زنینی جانتی ہو مجھے اچھا نہیں لگتا تمہارا یوں رونا ۔۔۔۔

اب بتاو کیا مئسلہ ہوا ہے ۔۔۔

روشانے زینب کو اپنے سینے سے لگاے زرا سختی سے بولی تھی ۔۔۔

جب وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی سب اسے بتا چکی تھی ۔۔۔

میں مانتی ہو انکل نے غلط کیا لیکن تمہیں لالہ کو اکیلا نہیں چھوڑ کر آنا چاہے تھا ہم سب جانتے ہے وہ کتنی محبت کرتے ہے تم سے ۔۔۔

روشانے اس کے بالوں کو سہلاتے ہوے بولی تھی ۔۔۔

لیکن آپو وقار نے بدلے کے لی۔۔۔۔

یار روشنی کہاں چلی گی ہو ۔۔۔۔

اس سے پہلے زینب کچھ کہتی جب دوسرے روم سے حدید کے چیخنے کی آواز سنای دی تھی ۔۔۔۔

ایک تو اس زرافے کو پتہ نہیں کیا ہو جاتا فری رہ کر بھی چیختا رہتا ہے ۔۔۔

روشانے اس کی آواز سنتی زینب کی مسکراہٹ پر لال ہوتی اٹھتی ہوی باہر چلی گئ تھی ۔۔۔

آ آپ آپ یہاں ۔۔۔

کافی دیر ایسے ہی لیٹتے وہ وقار کو سوچ رہی تھی جب خود پر کسی کا بوجھ محسوس کیے اس نے جیسے ہی گردن موڑ کر دیکھا تو وقار اسی جکھا مسکرا رہا تھا ۔۔۔

تبھی وہ ہکلاتی بولی تھی۔۔۔

بھوت تو نہیں میں جو ڈر گی۔ ۔

وقار اسے کمر سے پکڑتا کروٹ چینج کیے مسکراتا بولا تھا جب زینب اس کے سینے پر آئ تھی ۔۔۔۔

ن۔نہیں وہ میں سمجھی آپ کا بدلہ پورا ہو گیا تو اب میری ضرورت۔۔۔۔

زینب ٹپ ٹپ آنسوؤں کو بہاے بولی تھی ۔۔۔

واٹ کون سا بدلہ لٹل ڈول۔۔۔۔

اچانک وہ پریشان ہوتا زینب کے آنسووں کو دیکھ بولا تھا ۔۔۔

و۔وہی بدلہ جو ہادی لالہ کو بتایا تھا ۔۔۔

م۔میں آپ کے بنا نہیں رہ سکتی ا۔۔۔۔

کیا بولے جا رہی ہو ۔۔۔۔

زینب مسلسل پھوٹ پھوٹ کر روتی بول رہی تھی جب وہ سیدھا ہوتا اٹھ کر بیٹھتا بولا تھا ۔۔۔

وہ۔۔۔

“””تین سال پہلے ۔۔۔

ارے وقار لالہ آپ کب آئے ترکی سے۔۔۔

ہال میں انٹر ہوتے وقار کو دیکھ حدید مسکراتا ملتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ہاں بس وہ پرسوں ہی تم بتاؤ مستقیم انکل گھر ہے۔۔۔

وقار اپنی نیلی آنکھوں سے آس پاس دیکھتا جلدی سے بولا تھا ۔۔۔

لالہ ضبر کرے آتے ہی شروع ہو گے ا۔۔۔

یار تم نہیں جانتے اتنے سال میں نے لٹل ڈول کے بنا کیسے گزارے ہے اب تو بڑی ہو گی وہ اب ہماری رخصتی بنتی ہے ۔۔۔

وقار حدید کی بات کاٹتا ہوا اپنی بولا تھا ۔۔۔

کیوں آپ واقعی چاہتے ہے زینب کی رخصتی مطلب کہ حازم لالہ اور رعنا کے ساتھ ج۔۔۔

ہاں لٹل ڈول سے شادی کر کے میں اسے وہی درد دو گا۔۔۔ جو حازم نے رعنا کو دیا پھر میرا بدلہ پورا ہو گا۔۔۔۔

ہال سے گزارتی زینب نے یہ الفاظ سنتے روتی ہوئی روم میں بھاگی تھی اس نے وقار کی مکمل بات سنی ہی نہیں تھی ۔۔۔

وقار کی طرح زینب بھی اس سے بے پناہ محبت کرتی تھی وہ خوش تھی وقار جیسے ہمسفر کو پا کر لیکن اب اس کی بات سنتے وہ ڈرتی ہوی بھاگی تھی۔۔۔

واٹ لالہ۔۔۔

ایک منٹ کے لیے حدید بھی پریشان ہوتا چیخا تھا ۔۔۔

ہاہہاہاہاہہاہا یار میں ایسا کیوں کرو گا تم یہی الفاظ سننا چاہتے تھے پر افسوس میں ایسا کچھ نہیں کرو گا وہ میری لٹل ڈول ہے سمجھے ۔۔۔

وقار اس کی شکل دیکھ کر قہقہ لگاتا بولا تھا وہ جسیٹ مذاق کر رہا تھا ۔۔۔

اففف لالہ جان نکال دی تھی میری ۔۔

حدید پرسکون ہوتا گہرا سانس لیتا بولا تھا ۔۔۔

لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے زینب یہ بات سن چکی تھی جس کا اثر یہ ہوا تھا اس نے رخصتی سے منع کر کے مستقیم سے ضد کی تھی وہ اسے باہر لندن بھیج دے تاکہ وہ پڑھ سکے ۔۔۔

وقار نے بہت کوشش کی تھی اس سے بات کرنے کی لیکن وہ سب کو۔ چھوڑ کر لندن چلی گی تھی ۔۔۔

مستقیم کے سوا کوئ نہیں جانتا تھا زینب لندن کدھر رہ رہی تھی ۔۔۔

اتنے سال وقار نے بے چینی سے زینب کو ڈھونڈ نے میں لگاے تھے ۔۔۔

“”حال ۔۔۔

افففف یہ بات تھی تم کہتی تو سہی مجھے ۔۔

زینب کی بات سنتے وہ چیختا بولا تھا ۔۔۔

آپ نے ایسے ہی کرنا تھا میں ج۔۔۔۔

شششش کیا فضول سوچا تم نے ان تین سالوں میں وقت ضائع کیا اگر تب مان جاتی تو آج میرے ہاتھوں میں ننھی سی زینب ہوتی ۔۔۔

یارررر۔۔۔

زینب اس کے سینے پر مکے مارتی بول رہی تھی جب وقار اس کی سانسوں کو قید کرتا بہکا ہوا بولا تھا ۔۔۔

د۔دور رہ۔۔۔

زینب لال چہرہ لیے بول رہی تھی جب اس کا مائنڈ چینج کرنے کے لیے وقار لائٹ آف کرتا اس پر حاوی ہوا تھا ۔۔۔

جن سے عشق کیا جاتا ہے ان سے بدلا نہیں لیا جاتا لٹل ڈول ۔۔۔

اندھیرے میں ہی اسے اپنے کانوں میں وقار کی بہکی بھاری سرگوشی سنتے زینب شرمای تھی ۔۔۔۔

وہ مان چکی تھی اتنے سال وہ غلط فہمی میں رہی ورنہ وقار تو آج بھی اسے سے اتنا ہی پیار کرتا ہے جیسے پہلے کرتا تھا ۔۔۔۔

دیکھو تم دو باڈی بلڈر بھاہیو ں کی اکلوتی بہن ہو اب ایسے رو تو مت ۔۔۔۔

اگلے دن سوہا نے حدید کو فون کیا تھا جب اس کی بات سنتے وہ فکر مند ہوتا بولا تھا ۔۔۔

سوہا فارس کے لیے پریشان تھی ۔۔۔۔

تو میں کیا کرو فادی پر کوئ میڈیسن اثر نہیں ہو رہی وہ ٹھیک نہیں ہو رہا ۔۔۔

سوں سوں کرتی سوہا نے بتایا تھا ۔۔۔۔

میڈیسن کا کہاں اثر ہونا جب کھاے گا تب ہی ہونا میری بہن بلاوجہ رو رہی ہے ۔۔۔

حدید فون کان کی دوسری سائیڈ پر لگاتے بڑبڑایا تھا ۔۔۔

کیا بولے ہو ۔۔۔

سوہا کو سنای نہیں دیا تبھی بولی تھی ۔۔

دیکھ تیرا کام ہو سکتا ہے پہلے پیسے دے مجھے۔

حدید شیطانی مسکراہٹ لاے بولا تھا ۔۔۔۔

کتنے چ۔۔۔

پانچ ہزار ۔۔۔

سوہا بول رہی تھی جب وہ چہکتا بولا تھا ۔۔۔

اتنی پیسے ہے تمہارے پاس کہ تمہاری سات نسلیں کھا سکتی ہے لیکن تمہارے اندر کا فقیر جاگ جا۔۔۔

کام کروانا یا نہیں ۔۔۔۔

سوہا طش میں آتی بول رہی تھی جب وہ دمکھی دیتا بولا تھا ۔۔۔

ہاں بول کیا کرنا ۔۔

سوہا منہ بناے اب حدید کا پلان سنتی بولی تھی ۔۔۔

جیسے وہ پلان سن رہی تھی ویسے ہی منہ بنا رہی تھی ۔۔۔

فادی تمہارا ملتان جانا ضروری ہے کہ میں بھی چلو تمہارے ساتھ ۔۔۔

سوہا اب فارس کو تیار کرتی رونی شکل بناے بولی تھی ۔۔۔۔

کس میصبت میں پھس گیا جلاد بھای اس کے مجھے اس سے دور کر رہے وہی ان کی یہ پاگل بہن مجھے جانے سے روک رہی ہے ۔۔۔

افففف ایوپللللللللل تیری جان لے لو گا میں ۔۔۔

فارس سوہا کو چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا لیکن ایول کی بات سنتا وہ مشکل سے جا رہا تھا اب سوہا کو روتا دیکھ وہ مسلسل حدید اور ایول کو گالیاں نکال رہا تھا ۔۔۔

نہیں یار میرا چیک اپ ہونا تم وہاں کیا کرو گی یہی رہنا صرف دو دن کی بات ہے ۔۔۔

سوہا کو ایسے اپنے سینے سے لگاے وہ نرمی سے بولا تھا ۔۔۔۔

جل۔جلدی ا جانا مجھے نیند نہیں آت۔۔۔

اہہہہہ اہہہہ۔۔۔

اس سے پہلے سوہا فارس کے گال کو چومتی جب دھڑم کرتا حدید روم کے اندر گرتا چلایا تھا ۔۔۔

یہ طلاق کروانے والی ماسی کب آئ یہاں ۔۔۔

فارس بدمزہ ہوتا سامنے حدید کو دانت نکالے دیکھ طش سے چیخا تھا ۔۔۔

بدلہ لینے جانی ۔۔۔

حدید آنکھ ونک کرتا وہی کھڑا مسکراتا بولا تھا ۔۔۔

مط۔مطلب۔۔۔

فارس کو کچھ گڑبڑ محسوس ہوئی تھی تبھی وہ ہکلاتا بولا تھا ۔۔

جبکہ سوہا کے ہاتھ میں ایک موٹا ڈنڈا تھا جو لے کر آندر آئ تھی ۔۔۔

دیکھو فادی میں یہ مارو گی تمہیں درد محسوس ہو تب بتانا ۔۔۔

سوہا رونی شکل بناے ابھی بھی ڈنڈا لیے بولی تھی ۔۔۔

کس نے یہ مشورہ د۔۔۔

ظاہر سی بات ہے میں نے دیا اب دیکھو تمہیں درد ہو گا تبھی ہم دیکھے گے تم کتنا ٹھیک ہو رہے ہو ۔۔۔

فارس حدید کا سارا پلان جانتے بول رہا تھا جب حدید سوہا کو اشارہ کرتا بولا تھا ۔۔۔

فارس نے آج انجکیشن نہیں لگایا تھا یہاں سے نکل کر وہ خود اپنے قدموں سے جانا چاہتا تھا لیکن اب سوہا کو دیکھ وہ ڈرا تھا کیونکہ ڈنڈے کی بو کھاتے اسے درد ہونا تھا ۔۔۔

ل۔۔۔

اہہہہ۔۔۔

اس سے پہلے فارس کچھ کہتا جب سوہا نے ڈنڈے کو زور سے مارا تھا تبھی وہ چیختا روکا تھا ۔۔۔

اسے اپنی ٹانگوں پر درد محسوس ہوا تھا ۔۔

دیکھا اور زور سے مارو اسے فیل ہو رہا ہے ۔۔۔

حدید مسکراہٹ روکے سوہا کو دیکھ بولا تھا جو خودی روتی اسے مار رہی تھی جبکہ فارس اپنی چیخیوں کا گلا گھونٹے سب سہہ رہا تھا ۔۔۔۔

منحوس انسان لگتا میری ٹانگیں توڑ کر ہی رہے گا افففف کہاں پھس گیا میں ۔۔۔۔

سوہا مسلسل اس پر وار کر رہی تھی جبکہ لال ہوتے چہرے سے فارس کنٹرول کیے یہی شو کروا رہا تھا اسے درد نہیں ہو رہا ۔۔۔

جبکہ سائیڈ پر کھڑے حدید کا ہر دو منٹ بعد قہقہ گونجتا تھا ۔۔۔

بس ہادی میں نہیں کر رہی یار فارس کو درد ہی نہیں ہو رہا ۔۔۔

کافی دیر تک فارس کی ٹانگوں پر ڈنڈے برساتے آخر سوہا تھک کر بولی تھی ۔۔۔

وہ مار اسے رہی تھی پر رو خود ہی رہی تھی ۔۔۔۔

ہو جاے گا ٹھیک بس ہم جانے والے تم خیال رکھنا اب ۔۔۔

اچانک واچ پر سائرن سنتے وہ سنیجدہ ہوتا اب روم سے باہر جاتا بولا تھا ۔۔۔۔

پ۔پانی ۔۔۔

گہرے سانس لیتے فارس نے پانی مانگا تھا اب وہی جانتا تھا کتنی مشکل سے اس نے یہ سب برداشت کیا تھا ۔۔۔۔

سوہا نے جلدی سے اسے پانی کی گلاس دیا تھا ۔۔۔۔

س۔سوری فادی اس کا بھی تمہیں فرق نہیں پڑا میں ہی پاگل ہو جو ہادی کی بات سن کر یہ کام کیا ۔۔۔

فارس کو پانی پلانے کے بعد اس کا لال چہرے کو چھوتے وہ بولی تھی ۔۔۔

یہاں آو کچھ نہیں ہوا میں ٹھیک ۔۔۔اااہہہہ۔۔۔

اپنی درد سے تڑپتی ٹانگوں پر اسے بیٹھاے اچانک وہ چیخا تھا کیونکہ واقعی اس کو پین ہو رہا تھا ۔۔۔

اچھا خیال رکھنا اپنا اور ہاں ہادی کے بے بی کی شاپنگ کر لینا ۔۔

فارس سوہا کا گال چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

ہمممم۔۔۔

سوں سوں کرتی وہ اپنا چہرہ اس کی گردن میں چھپا چکی تھی ۔۔۔

اچھا یہ کس چیز کی آواز آرہی ہے ۔۔۔

فارس ٹوں ٹوں کی آواز سنتا بولا تھا ۔۔۔

اس واچ کی ہے ڈیول ڈیڈ نے دی تھی ہم تینوں بہن بھای کو جب بھی ہم میں سے کسی کی ہارٹ بیٹ تیز ہوتی ہے تب یہ الارم کرتی ہے ۔۔

سوہا اپنی خوبصورتی کلائی سامنے کرتی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔

تو کس کی ہارٹ بیٹ زیادہ ہے ۔۔

فارس اس کا لال چہرہ دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔

فحال میری ہے ۔۔۔

سوہا سر جھکاے بولی تھی ۔۔۔

یہ تم تینوں کی واچ الارم کرتی ہے کیا ۔۔۔

سوہا کی گردن کو سہلاے وہ بولا تھا ۔۔۔

ہاں یہ تینوں پر الارم کرتی ہے جب ایک کسی کے ہو۔ ۔۔

وہ مسکراتی بولی تھی ۔۔۔۔

ابھی تو میری یہ حالت ہے پھر بھی تمہاری ہارٹ بیٹ تیز ہے جس دن ٹھیک ہو گیا تب کیا کرو گی ۔۔۔

سوہا کی شرٹ کے بٹن اوپن کیے وہ تھوڑی سی شرٹ کو سرکاے اس کے دل کے مقام پر اپنے دہکنے لب رکھتا سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

پ۔پلیز فاد۔۔۔۔

اپنے دل پر فارس کے لبوں کو محسوس کیے وہ تڑپتی اٹھنے کی کوشش کرتی بول رہی تھی جب فارس نے ویسے ہی اس کی سانسیں روکی تھی ۔۔۔۔

آنکھیں بند کیے سوہا نے اسے شولڈر سے پکڑا تھا ۔۔۔۔

آب آجاو یار باہر ۔۔۔

حدید کی آواز نے دونوں کی خاموشی کو توڑا تھا ۔۔۔

خیال رکھنا بار بار کہہ رہا ہو دل کرے تو صام انکل کے پاس چلی جانا ۔۔۔

اسے نرمی سے چھوڑے وہ اس کے بھیگے لب سہلاتا بولا تھا ۔۔۔۔

ہمممم ۔۔

آنسو کو روکے وہ خاموش کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔

حدید فارس کو لے کر چلا گیا تھا ۔۔۔۔

جبکہ سوہا اداس ہو گی تھی ۔۔۔

کچھ گھنٹے بعد ۔۔۔

سر ہمیں اطلاع ملی ہے میجر فارس دو دن کے لیے ملتان گیا ہے مطلب سوہا اکیلی ہ۔۔۔

کہاں اکیلی ہوتی ہے وہ ایول کا سایہ رہتا ساتھ ہی جنرل صام کا ۔۔۔

رحمان کا آدمی اس کے روم میں آتا خوشی سے بول رہا تھا جب وہ شراب پیتے بولا تھا ۔۔۔

نہیں سر میجر فارس کے ساتھ حدید گیا ہے اور جنرل صام بھی کچھ دن کے لیے لندن گے ہے اور ایول بھی اس وقت امریکہ کے ایک مشہور کلب بیٹھا شراب پی رہا ہے ۔۔۔۔

مطلب اس وقت سوہا اکیلی ہے ۔۔۔

رحمان کا آدمی ساری معلومات دیتا خوش ہو رہا تھا ۔۔

ساتھ ہی وہ ایک پک دیکھا رہا تھا جہاں پر ایول ایک امریکہ کے بار کلب میں بیٹھا شراب پی رہا تھا ۔۔۔

یہ تو زبردست ہو گیا اب کون بچاے گا سوہا کو ۔۔۔

ہاہہاہاہہاہاہ ہاہہاہاہہاہاہاظا۔۔۔۔

رحمان اب خوش ہوتا قہقہ لگاے بولا تھا ۔۔۔۔

ایک دن بعد ۔۔۔۔

چ۔چھوڑو م۔مجھے تم۔۔۔۔

سنسنان راستے کے درمیان سوہا گرتی سامنے کھڑے حیوان پرست رحمان کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔۔

کہاں چھوڑنا تمہیں ویسے ان سب کے حصار میں رہتی تھی تم افففف کتنی خوبصورت ہو تم۔۔۔۔

اس پر جھکتے وہ خباثت سے بولا تھا ۔۔۔۔

م۔میرے لالہ اے گ۔۔۔۔

کدھر آنا اس نے وہ تو امریکہ بیٹھا ہے تمہارا باپ لندن تمہارا شوہر اور بھای ملتان ہے اب تم اکیلی ہو ۔۔۔

سوہا ویسے ہی نیچے سے پیچھے ہوتی بول رہی تھی جب اس کا پاؤں پکڑتے مسکراتا بولا تھا ۔۔۔

ن۔۔نہیںںں۔۔۔

سوہا یہ سب سنتی اب واقعی چیختی بولی تھی ۔۔۔

اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے ۔۔۔۔

رحمان کو ہاتھ سوہا کی ٹانگ سے ہوتا تھای پر آیا تھا جب وہ چیختا ہوا پیچھے ہوا تھا ۔۔۔۔

سوہا نے ڈرتے ہوے آنکھیں کھولیں تھی جب سامنے کا منظر دیکھ اس کی گرین آنکھیں باہر کو آئ تھی ۔۔۔۔

جہاں رحمان کا ہاتھ کاٹا ہوا سائیڈ پر پڑا تھا جبکہ رحمان کے شولڈر پر وہ شخص اپنے لونگ شوز میں قید بھاری پاؤں رکھے سکون سے کھڑا تھا جبکہ اس کے سفید ہاتھوں میں چاقو تھا ۔۔۔۔

رحمان کا منہ زمین کے اندر دبا ہوا تھا وہ ویسے ہی تڑپ رہا تھا ۔۔۔۔