581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 12)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

““چند گھنٹے پہلے ۔۔۔

کیییییااااا لی۔لیکن میں نہیں جا رہی یاررر۔۔

زینب اپنے آفس بیٹھی اپنی سینئرر کی بات سنتی چلائ تھی ۔۔۔

یار چلی جاٶ تم اگر میں فری ہوتی تو ان سے مل لیتی میری بیٹی نہیں ٹھیک تم میری جگہ چلی جاٶ جیسٹ ایک انٹرویو ہی کرنا ہے مسٹر ایس پی وقار شعیب خان کا ۔۔۔

سینئر اس کے ہاتھ پکڑتی پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔

اس نے آج ایس پی وقار کا انٹرویو کرنا تھا لیکن اب اپنی بیٹی کی بیماری کی وجہ سے وہ زینب کو جانے کا کہہ رہی تھی تبھی وہ پریشان ہوئ تھی۔۔۔۔

ن۔نہیں تم ایسا کرو برہان کو ب۔۔۔

تم ہی جاٶ گی بات ختم تمہارا انٹرویو کرنے والا انداز اچھا ہے ۔۔۔

زینب بہانہ بناتی بول رہی تھی جب وہ ڈانٹتی بولی تھی۔۔۔

جی اچھا۔۔۔

زینب اب گھبراتی ہوئ حامی بھر چکی تھی۔۔۔

ہلیو رعنا مجھے ایک کام تھا۔۔۔

زینب کافی دیر سوچتی رہی کیا کرے تبھی ایک آئیڈیا آتے وہ جلدی سے اسے کال کرتی چہکی تھی۔۔۔

جی بولو لٹل ڈول ۔۔۔

رعنا اپنے پرندوں کے پنچرے کے قریب بیٹھتی فون پر بولی تھی۔۔۔

و۔وہ مجھے تمہارا گاٶن چاہے ۔۔

یوز کرنا ہے ۔۔

زینب جلدی سے اپنی بات پر بولی تھی۔۔

ہاں لے لو لیکن تمہیں آ جاۓ گا مطلب ق۔۔۔

میں ہینڈل کر لو گی تم مجھے دینا میں آتی ہو تمہارے گھر۔۔۔

زینب جلدی سے بولتی فون بند کر چکی تھی۔۔۔

س۔سر کوئ لڑکی آپ کا انٹرویو لینا چاہتی ہے ۔۔

وقار اپنے آفس میں بیٹھا فائلز دیکھ رہا تھا جب اس کا سیکرٹری اندر آتا بولا تھا۔۔۔

مجھے کسی کو انٹرویو نہیں دینا عیجب ڈرامہ ہے اسے رفع دفع کرو یہاں سے ۔۔

وقار اپنی رعب دار آواز سے بیزار سی شکل بناۓ بولا تھا۔۔۔

آجکل ویسے بھی اسے صرف اپنی لٹل ڈول کی پڑی تھی اسے وہی چاہے تھی اپنے پاس ۔۔

جی سر۔۔

وہ تابعداری سے بولا تھا۔۔

مستقیم آنکل سے بات خودی کرنی پڑے گی ۔۔۔

وقار اپنا فون اٹھاۓ کچھ سوچتا بولا تھا۔۔۔

م۔۔۔

سر وہ ضد کر رہی ہے اندر آنے کی ۔۔۔

اس سے پہلے وہ کال ملاتا جب دوبارہ وہ اندر آے بولا تھا۔۔۔

عیجب ڈرامہ ہے یہ مجھے کسی سے نہیں مل۔۔۔۔

وقار ابھی طش سے بول رہا تھا جب گاٶن پہنے فل نقاب کیے زینب ہمت جمع کیے اندر آی تھی ۔۔۔

اندر سے وہ کانپ رہی تھی وقار کو سامنے دیکھ کر ۔۔۔

بیٹھو ۔۔۔

وقار اسے سامنے دیکھ مسکراتا اشارہ کرتا بولا تھا سیکرٹری حیران تھا جو پہلے غصہ کر رہا تھا اب مسلسل مسکرا رہا تھا۔۔۔۔

ہاے اللہٌمیں بچ جاٶ اس کے ہاتھوں ان کو پتہ نہ چلے میں کون ہو ۔۔۔

زینب دل سے دعا مانگتی ہوئ کرسی پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔۔

وقار اپنے لبوں پر انگلی رکھے سکون سے بیٹھا نقاب میں ملبوس زینب کو اپنی نیلی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

م۔میں نے پوچھنا تھا آپ کی۔کیسے آے اس فلیڈ میں ۔۔۔

زینب اپنا کیمرہ آن کیے وہی ٹیبل پر سیٹ کیے ہکلاتی بولی تھی۔۔۔

وقار اس کی گھبراہٹ پر مسکراہٹ روکے جواب دے رہا تھا جبکہ دل سے وہ خوش تھا کافی سالوں بعد وہ اس کی پیاری سی آواز سن رہا تھا۔۔۔

جی تو تم نے یہ میری فلیڈ کے مطابق سوال کر لے کچھ پرسنل بھی پوچھو۔۔۔۔

زینب ڈرتی گھبراتی اس کا انٹرویو آدھے گھنٹے میں مکمل کر چکی تھی جب وہ اٹھ کر جانے والی تھی تبھی وقار اسی کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔۔

پ۔پرسنل کیا پوچھنا مجھے یہ آپ کی لائف ہے ۔۔۔

زینب ویسے ہی بیٹھتے ہکلاتے زرا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔

چلو میں بتاتا ہو مجھے اپنی لٹل ڈول بہت پسند ہے تم بتاٶ مجھے ملے گی وہ یا نہیں ۔۔۔

وقار کافی دیر سے خود پر قابو پا رہا تھا جب وہ اپنی جگہ سے اٹھتا اس کے قریب کرسی پر جھکتا سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

ی۔یہ کیسا سوال ہے بلکل بکواس آپ کی طرح انہہ عجوبہ ۔۔۔

زینب اس کی نیلی آنکھوں کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔۔

وہ ابھی بھی یہی سمجھ رہی تھی اسے پہچان نہیں پایا تھا وہ ۔۔۔

اپنی لٹل ڈول سے پوچھا ہے تو جواب دو ۔۔

وقار اب اس پر مکمل جھکتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

زینب اپنے قریب وقار کی سانسوں کو پاتے گھبرای تھی ۔۔۔

و۔وہ مجھے جانا ہے ۔۔۔

زینب اسے دھکا دیتی وہاں سے بھاگتی بولی تھی۔۔۔

اس کا موبائل کیمرہ پرس وہی رہ گیا تھا وہ پاگلوں کی طرح بھاگی تھی۔۔۔۔

ہاہہاہاہہاہاا ڈر گی۔۔۔

وقار قہقہ لگاۓ بولا تھا۔۔۔

افففف جان بچ گی لیکن انہیں کیسے پتہ چلا میرا ۔۔۔

زینب سانس لیتی وہاں روکتے سوچا تھا۔۔

زینب پولیس اسٹیشن سے بھاگتی بہت دور آ گی تھی جہاں ایک سنسنان جگہ تھی ۔۔۔

تبھی وہی بنے ایک ٹوٹے سے گھر سے چیخیں سنتی ونڈو تک گی تھی جب سامنے کا منظر دیکھ وہ چیخی تھی ۔۔۔

ایول کا خوفناک روپ دیکھ زینب چیختی وہاں سے بھاگی تھی ۔۔۔

ک۔کو۔کون ہو تم سب بچاٶ بچاٶ ۔۔۔

رعنا کو اٹھاۓ وہ سب ایول کے آڈے لاۓ تھے

جب وہ کرسی سے بندھی اپنی نیلی آنکھوں سے آس پاس دیکھتی چلای تھی ۔۔

رعنا اپنا گاٶن زینب کو دے چکی تھی لیکن اپنا دوسرا پہنے وہ شاپنگ کرنے چلی گی تھی ۔۔۔

ایول کے آدمی رعنا کو گاٶن میں زینب سمجھ کر اٹھا لاۓ تھے ۔۔۔

ہر طرف گہری خاموشی تھی جسم کو سنسناہٹ کر دینے والی ۔۔۔

ت۔تم لوگ جانتے نہیں ہو میں ک۔۔۔۔

رعنا آنسو بہاتی ہمت کرتی بول رہی تھی جب سامنے کرسی رکھے سکون سے بیٹھے ایول نے بات ٹوکی تھی۔۔۔۔

تم ہمیں نہیں جانتی ہم کون ہے ۔۔۔

ایول کی پرسرار سی آواز سنے رعنا کی سانسیں اٹکی تھی وہ یک ٹک سامنے ماسک لگاۓ بیٹھے ایول کی گرین آنکھوں میں اپنی نیلی آنکھیں گاڑے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

ایک کی نیلی آنکھوں میں ڈر جبکہ دوسری کی گرین آنکھوں میں برف جیسا سرد پن تھا۔۔۔۔

ارے مولانی ڈر کیوں رہی ہو بس یہ بتاٶ ہمیں وہ سب کرتے دیکھا تھا تم نے ۔۔۔

ایول رعنا کی نیلی آنکھوں میں دیکھتا سرد پن سے سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

ک۔کس کو دیکھا میں نے می۔میں نہیں جانتی تم کون ہو۔۔۔

آنسو بہاتی رعنا ہکلاتی بولی تھی ۔۔۔

اہہہ یہ تم سب نازک لڑکیاں رونے کا ڈرامہ ۔۔۔

امجد لاٶ ہمارا ہتیھار ۔۔۔

ایول اس کا مذاق بناتا طش سے غرایا تھا۔۔۔

رعنا کا پورا جسم کانپا تھا۔۔۔

چ۔چھون۔چھونا مت مجھے ورنہ جان لے لو گی تمہاری ۔۔۔

ایول ابھی اس کی بازو پکڑ رہا تھا جب وہ شیرنی کی طرح غرای تھی۔۔۔۔

ہممم ایٹیٹیوڈ تم جانتی نہیں ہو کس کی قید میں ہو اگر جان جاٶ تو تمہاری روح فنا ہو جاۓ ۔۔۔

ایول اس کی بازو مضبوطی سے پکڑے غرایا تھا۔۔۔

جبکہ اس کی کلائ پر بنے ہالف ایج اور آر دیکھ کر ٹھٹکا تھا۔۔۔

””تم مجھے سے دوستی کر لو برفانی ریچھ ۔۔۔

دس سالہ رعنا نو سالہ حازم کے پاس آتی مسکراتی بولی تھی جو سوہا کے پاس بیٹھا اپنا ہوم ورک کر رہا تھا۔۔۔۔

ہماری فطرت میں دوستی نہیں دشمنی ہے تم یہ کرنا چاہتی ہو تو ہمیں منظور ہے جنگلی بلی ۔۔۔

حازم اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھ دو ٹوک بولا تھا۔۔

مجھے تمہاری دشمنی بھی قبول ہ۔۔

ہاہہاہاہا سوچ لو اگر یہ نبھانی پڑ گی تم تڑپو گی ہماری دشمنی سے ۔۔۔

رعنا اپنے سنہری بالوں کو جٹھکا دے بول رہی تھی جب وہ طنزیہ قہقہ لگاۓ بولا تھا۔۔۔

تم کرو تو سہی دشمنی میں جانتی ہو میری محبت پا کر تم دوست بن جاٶ گے میرے۔۔

رعنا سب اگنور کیے سکون سے بولی تھی۔۔۔

حازم شیطانی مسکراہٹ لاۓ اس کی کلائ دیکھ رہا تھا ۔

چلو دشمنی کا پہلا رول ادا کرو اگر تمہیں درد ہوا تو بتانا ہمیں ۔۔

حازم اپنے بیگ سے شاپنر نکالے اسے توڑے اس کے اندر سے چمکتا بلڈ نکالے بولا تھا۔۔۔

رعنا مسلسل مسکرا رہی تھی ۔۔

س۔سی۔۔

اپنی چھوٹی سی کلائ پر بلڈ کی چھبن محسوس کیے تڑپی تھی۔۔۔

حازم اپنے لبوں پر مسلسل مسکراہٹ لاۓ بلڈ سے آر اور ایچ ملا کر ہالف لکھ رہا تھا اس کی ننھی سی کلائ سے مسلسل خون نکل رہا تھا۔۔۔

رعنا کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے ۔۔۔

یہ ہماری طرف سے دشمنی ہے جس دن تم میں حوصلہ پیدا ہو تب ہماری کلائ پر لکھ لینا ایس۔۔۔۔

حازم اس کی کلائ دباتا بول رہا تھا جب وہی بلڈ ہاتھ سے رعنا نے لیتے اسی کی بھی کلائ پر ایسا ہی لکھا تھا۔۔۔

جس دن ہم دوست بنے گے تب یہ نام ایک ہو جاۓ گا برفانی ریچھ۔۔۔

نیلی آنکھیں پانی سے بھرے وہ اپنی خون آلود کلائ لیے وہاں سے جاتی بولی تھی ۔۔““۔

س۔سر آپ کا ہتیھار۔۔۔

ایول گہری سوچ میں ڈوبا رعنا کی کلائ پر اسی نام کا زخم دیکھ رہا تھا جب اس کا آدمی بلڈ لیے قریب آتا مخاطب ہوا تھا۔۔۔

چ۔چھوڑ میرا ہاتھ ت۔تم حیوان جانور ۔۔

اپنی کلائ اس کے ہاتھ میں دیکھتے رعنا چیخی تھی اسے یہی سمجھ نہیں آ رہا تھا کیوں پکڑا گیا تھا اسے ۔۔

اہہہہ جانور تو تم نے ابھی دیکھا نہیں مولانی ۔۔۔

ایول گردن ایک سائیڈ پر کیے جھٹکے میں اسی زخم پر بلڈ چلاتا بولا تھا۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ۔۔۔

ب۔باباباببابباباا۔۔۔

اپنی کلائ سے مسلسل خون نکلتا اور درد محسوس کیے وہ درد سے چلائ تھی۔۔۔

اب بولو کس کی جاسوس ہو تم ۔۔

کیوں آی تھی یہاں تم جاسوس ہو ۔۔

اس کی چیخیں سن کر وہ خوش ہوتا اس کا منہ دبوچتا غرایا تھا۔۔۔

ک۔کو۔کون جاسوس ۔کیا بکواس ہے یہ ۔۔

رعنا بامشکل بول پای تھی ایول کے بھاری ہاتھ کی گرفت اس کے منہ پر بڑھ رہی تھی۔۔۔

تم ایسے نہیں مانو گی لاٶ پلاس ۔۔

ایول اپنی رعب دار آواز میں دھاڑا تھا۔۔۔۔

ن۔نہیں ای۔ایسا مت کرو میں بول تو رہی ہو جاسوس نہیں ہ۔۔۔

تمہاری سفید کلائ پر بہتا خون خوبصورت لگتا ہے ایسا خون مجھے پسند ہے۔۔۔

رعنا آنسو بہاۓ بول رہی تھی جب وہ اس کی کلائ سے بہتے خون پر اپنے لب رکھے بولا تھا۔۔۔

اپنے جسم پر پہلی دفعہ کسی غیر محرم کا لمس پاتے وہ کانپی تھی سردی کے موسم میں بھی اسے پیسنہ آ رہا تھا۔۔۔۔

س۔سر یہ لے۔۔۔

اس کا آدمی پاس آتا ڈرتا بولا تھا۔۔۔

جہاں وہ رعنا کی کلائ سے نکلے خون سے اپنا پورا ماسک خون سے

بھر چکا تھا۔۔۔

بلیک ہڈی بلیک گلوز پہنے بلیک ہی لونگ شوز پہنے وہ سر سے پاٶں تک بلیک کلر میں رنگا ہوا تھا اوپر سے سرخ وحشت ذدہ سرد گرین آنکھیں اور ماسک پر لگا خون ایک حیوان کا روپ وہ لگ رہا تھا سب کو ۔۔

اہہہہ تمہارے ہاتھ پیارے ہے ۔۔۔

اس کے ہاتھ کی انگلی پر پلاس رکھے وہ مسلسل اس کی آنکھوں میں دیکھ بولا تھا۔۔۔

م۔مجھے چ۔۔۔

س۔سر غلطی ہو گی یہ وہ لڑکی نہیں ہے جس نے آپ کو دیکھا تھا۔۔۔

رعنا ابھی منت کرتی بول رہی تھی جب ایک آدمی اندر آتا ڈرتا ہوا بولا تھا۔۔۔

کیا بکواس یہ۔۔

ایول اس کا ویسے ہی ہاتھ پکڑے آنکھ اٹھاۓ اسے گھورتا غرایا تھا۔۔۔

س۔سر وہ لڑکی قد سے چھوٹی تھی ج۔جبکہ یہ بڑی ہے قد سے ۔۔۔

وہ ہمت جمع کرتا بولا تھا۔۔۔

اہہہہ اہہہہ ۔۔۔

ایول اب شدید غصے سے غرایا تھا ۔۔

کیسے وہ اتنی بڑی غلطی کر سکتا تھا اتنی دیر سے وہ اس لڑکی کو ٹارچر کر رہا تھا جس کا قصور ہی نہیں تھا۔۔۔

س۔سر اب لڑکی کا کیا کرنا ہے ۔۔۔

زیادہ خون بہنے سے وہ غنودگی میں جا رہی تھی جب وہ آدمی بولا تھا۔۔۔

انکجشن لاٶ ۔۔۔

ایول اس کے قریب جاتا آڈر دیتا بولا تھا۔۔۔

سوری ہم نے کبھی نہیں کیا نہ ہی ہماری لائف میں ایسا ولڈ ہے لیکن تم سے ہم معافی مانگتے ہے ۔۔۔

رعنا کی مدھم چلتی سانسوں کو محسوس کیے وہ اس کے نقاب کے اندر ہاتھ ڈالے سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

م۔مت چھوٶ م۔مجھے ت۔تم میرے کچھ نہیں لگتے برا لگتا م۔مجھے یہ۔۔

اپنی گردن پر اس کا بھاری ہاتھ کی سرسراہٹ محسوس کیے وہ مسلسل روتی بولی تھی ۔۔۔

ایول کے دل کی دھڑکن تیز ہوئ تھی اس کی بات سنتے آج تک وہ جس بھی لڑکی کو مارنے کے لیے چھوا تھا کسی نے یہ بات نہیں کہی تھی ۔۔۔

بھول جاٶ سب ۔۔

اپنے ہاتھ سے انجکشن نکالتا وہ اس کے گردن پر لگاۓ بولا تھا۔۔۔

یہ بھول جاۓ گی سب جہاں سے لے کر آے ہو وہی چھوڑ دو اسے ۔۔۔

نیند میں جاتی رعنا کو دیکھ وہ اپنے آدمیوں کو آڈر دیتا وہاں سے گم ہوا تھا۔۔۔

اتنا تیز بخار ہوا ہے اسے جب سے آی ہے اپنے روم میں ہی ہے ۔۔۔

مرحا پریشان ہوتی روم میں آتی بولی تھی جہاں مستقیم ابھی گھر آتے روم میں آے تھے ۔۔۔

کس کو بخار ہو گیا روشنی کی بات کر رہی ہو ۔۔۔

مستقیم ان کے ہاتھ پکڑے فکرمند ہوتے بولے تھے ۔۔

زینب کو جب سے آی ہے ایسی ہی ہے بخار میں تپ رہی ہے کہا بھی ہے میڈیسن لے لو پر مانتی ہی نہیں ۔۔

مرحا ویسے ہی بولی تھی ۔۔۔

اچھا میں دیکھ لیتا ہو اپنی شہزدای کو تم پریشان مت ہو ٹڈی ۔۔

مستقیم انہیں پرسکون کیے ان کے ناک پر لب رکھے بولے تھے جب وہ شرمائ تھی۔۔۔

کیا ہوا ہے میری بہادر بیٹی کو ۔۔۔

مستقیم ویسے ہی روم میں آے بیڈ پر نڈھال سی لیٹی زینب کو دیکھ بولے تھے۔۔

و۔وہ بابا شاہد سردی کی وجہ سے ہوا ہے ۔۔

زینب بامشکل اٹھتی ہوئ ڈرتی بولی تھی۔۔۔

سردی کی وجہ سے یا ڈر کی وجہ سے ۔۔

مستقیم اس کے پاس بیٹھتے اس کا سر اپنے سینے پر رکھے بولے تھے۔۔۔

بابا کی۔کیا وہ لے جاۓ گے مجھے م۔میں ان سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔

زینب بات گول کرتی ڈرتی بولی تھی ۔۔۔

کس کی بات کر رہی ہو اچھا وقار کی دیکھو بیٹا تم اس کی امانت ہو آج نہیں تو کل تم نے اسی کے پاس جانا ہے ۔۔۔

مستقیم پہلے بولے پھر سوچتے مسکراتے بولے تھے۔۔۔

بابا میں نے نہیں ج۔۔۔

دیکھو بیٹا ۔ بیٹی اپنے گھر ہی اچھی لگتی ہے میری پیاری بیٹی تو اس کی بیوی ہے شوہر ہے تمہارا اتنے سالوں سے وہ تمہارا ویٹ کر رہا ہے ۔۔۔

مت ڈرو اس سے وہ اچھا انسان ہے محبت کرتا تم سے تبھی اب وہ اپنی خواہش ظاہر کر رہا ہے ۔۔۔

اس بات پر پریشان اور ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے اب میڈیسن لو ۔۔۔

مستقیم اسے پیار سے سمجھاتے اسے میڈیسن دیتے بولے تھے۔۔۔

جی بابا ۔۔۔

میڈیسن کھاتے زینب نے کمزور سی حامی بھری تھی۔۔۔

شکر ہے تمہیں ہوش آیا رعنا کدھر تھی اور یہ حالت کیسے بنی ۔۔۔

رانیہ پریشان ہوتی رعنا کو ہوش میں آتے دیکھ بولی تھی۔۔۔

کیا ہوا مجھے ۔۔۔

رعنا غائب دماغی سے اپنے آپ کو روم میں دیکھ بولی تھی ۔۔۔

وقار اور شعیب دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا۔۔۔

بیٹا تمہیں نہیں پتہ واقعی کہ کہاں تھی تم ۔۔۔

شعیب اس کے پاس آتے پیار سے بولے تھے۔۔۔

نہیں بابا مجھے بس اتنا یاد ہے شاپنگ پر گی تھی بس ا۔۔۔

اچھا چھوڑو یہ بات آو کھانا کھاتے ہے میں نے ڈنر نہیں کھایا ابھی ۔۔۔

وہ بول رہی تھی جب وقار بات بدلتا ہوا اس کا بازو پکڑے بولا تھا۔۔۔۔

س۔سی۔۔

چلو ۔۔

اپنی بازو پر درد محسوس کرتے وہ سسکتی ہوئ بولی تھی۔۔

ایول کے آدمی رعنا کو شعیب کے گھر کے باہر چھوڑ کر چلے گے تھے جہاں وہ لان میں بے ہوش پڑی تھی ۔۔۔

دونوں ہی اس کی حالت دیکھ گھبرا گے تھے تبھی انہوں نے وقار کو فون کرکے بلایا تھا ۔۔۔

کافی دیر ویٹ کرنے کے بعد اسے ہوش آیا تھا ۔۔۔۔

یہ خون کدھر سے آیا ہے تمہارے ہاتھ پر ۔۔۔

اس کی بازوں پر جما خون دیکھ

رانیہ پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔

خونن۔۔۔

رعنا گم انداز سے اپنی کلائ دیکھتی بولی تھی۔۔۔

اسے کچھ یاد نہیں آ رہا تھا۔۔۔

آہہہہ آہہہہ آہہہہہ ۔۔۔

ہاے ہاے یہ میں کیا دیکھ رہا ہو۔۔

حدید ہال میں بیٹھا چیختا ہوا بولا تھا سامنے اس کا رزلٹ کارڈ تھا ۔۔

جبکہ وہ مسلسل دانت نکال رہا تھا۔۔۔۔

نکمے ہڈ حرام اس دفعہ بھی فیل ہو گے کیسے دانت نکال رہے ہو کچھ شرم کرو سب ہی اپنی سٹڈی کمپلیٹ کر چکے ہے ۔۔۔

یا اللہٌکیسی اولاد دی ہے مجھے ۔۔۔

اس کی چیخیں سنتے سب ہی ہال میں آے تھے جب صام دانت پیستے جوتا پکڑے اس کی کمر پر مارتے غراے تھے ۔۔

کیا ہے بابا اب وہ یونی والے نہیں چھوڑتے اتنا ہونہار بندہ تو میں کیا کرو محنت کرتا تو ہو ۔۔

حدید دانت نکالے اپنی نالائقی پر خوش ہوتا بولا تھا۔۔۔

یہ دیکھو روشن دان یہ دیکھو میرا زرلٹ آیا ہ۔۔۔۔

چٹاخ۔۔

روشانے جو کچن سے باہر آتی اپنے موبائل میں کسی سے چیٹ کرتی ہال میں آ رہی تھی جب حدید اس کا ہاتھ پکڑے اسے گھوماتے بول رہا تھا جب اس نے شدید غصے سے اسے تپھڑ مارا تھا۔۔۔

بچے نہیں ہو تم پورے چوبیس سال کے ہو حرکتیں وہی بچوں جیسی ہے عیجب پاگل انسان ۔۔

اب دفع ہو یہاں سے جب دیکھو ہییی ہااہہاہا کرتے رہتے ہو چاچو بلکل ٹھیک کہتے ہے نکما ہڈ حرام ۔۔

روشانے کا موبائل دور جا کر گرا تھا جب وہ کسی کا لحاظ نہ کرتی اس پر چیخی تھی ۔۔۔

ہال میں کھڑا ہر فرد چپ ہو گیا تھا۔۔۔۔

جلتی ہو میری ہونہاری پر انہہہ۔۔۔

حدید بات کا برا نہ مناۓ دانت نکالے بولا تھا۔۔۔

کیسے انسان ہو تمہیں زرا دکھ نہیں ہو ا۔۔۔

بدلہ لو گا تم سے میں ۔۔۔

روشانے اس کی انسلٹ کر رہی تھی جب وہ پاس آتا سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

روشانے اسے اپنے قریب آتے دیکھ گھبرای تھی۔۔۔

روکو تم کدھر سے آ رہی ہو ۔۔۔

روحا غصے سے نیچے آتی ہال میں انٹر ہوتی سوہا کو دیکھ غرای تھی ۔۔

جو بلیک ہڈی پہنے چھپ کر اپنے روم میں جا رہی تھی ۔۔۔

پہلے سب حدید کے ڈرامے کو دیکھ رہے تھے اب سب سوہا کی طرف دیکھ رہے تھے۔۔

و۔وہ ماما فادی کے گھر گی تھی اس کی طیعبت ٹھیک نہیں ت۔۔۔

غیر محرم ہے وہ تمہارا جو حرکتیں تم کرتی ہو وہ ایک بیوی والے کام ہوتے ہے ہانیہ کا فون آیا تھا اس کا کہنا ہے تم نے فارس کا کام کرنے والے میل نرس کو ہٹا دیا ہے اس کے سارے کام تم کرتی ہو وجہ سوہا۔۔

روحا اس کی بات کاٹتی طش سے چلائ تھی۔۔۔

ارے ساسو ماں کا فون آیا تھا بڑی بات ہے ۔۔۔

سوہا ساری بات اگنور کیے اپنے مطلب کی بولی تھی۔۔۔

اففففف بیوی نہیں ہو اس کی بیٹا تم کزن ہ۔۔۔

تو شادی کروا دے اس کے ساتھ پھر بیوی بن جاٶ گ۔۔۔

میری بھی شادی کروائ جاۓ اب بڑا ہو گیا میں بھی ۔۔۔

سوہا ان کی بات کاٹتی بول رہی تھی جب حدید بھی پاس آے دانت نکالے بولا تھا۔۔۔

تجھے تپھڑ کس نے مارا ہے گال لال ہوا پڑا ہے ۔۔۔

سوہا اس کا گال سرخ دیکھتی غرای تھی۔۔۔

ارے کسی نے نہیں مارا یہ بس تم جانتی ہو شادی کے نام پر شرم آ جاتی ہے ۔۔۔

حدید بات گول کیے شرمانے کا ڈرامہ کرتا بولا تھا۔۔۔

ہاہااہاہاہاہاا ہاہہاہاہاہاااا۔۔۔

مستقیم زرجان آہان کا قہقہ گونجا تھا اس کی بات پر ۔۔

کیا ضرورت تھی ایسی اولاد پیدا کرنے کی ۔۔۔

صام آفندی غصے سے دھاڑے تھے ۔۔۔

کیونکہ ان کے دونوں بچے بھی دانت نکال رہے تھے جبکہ ان کی انیجل غصے سے سرخ ہو رہی تھی ۔۔۔

ہمیں جلدی نہیں تھی آپ کو ہی جلدی تھی اب خودی ہنیڈل کرے ۔۔۔

روحا ان کا غصہ دیکھتی خود بھی دانت پیستے بولی تھی ۔۔۔

تمہیں میں بعد میں دیکھو گ۔۔۔

ہمیں ہی دیکھتے رہے آپ ساری زندگی تبھی اولاد ایسی ہو گی بے شرم ۔۔۔

قصور ہی ہمارا ہے آپ سے عشق کرنا ہی نہیں چاہے تھا نہ عشق ہوتا نہ ہی ایسی اولاد پیدا ہوتی افففف۔۔۔

صام اپنا غصہ کنٹرول کرتے بول رہے تھے جب روحا بھی سب کو اگنور کرتی بولی تھی۔۔۔

ماما میری بات تو سن لے ۔۔۔

سوہا اپنی ہنسی کنڑول کیے بولی تھی کیونکہ صام اور روحا دونوں لڑنے کے لیے تیار ہو چکے تھے ۔۔۔

۔آرے میری سویٹ سی انیجل ۔۔

آپ پریشان مت ہو سوہا کو ہم سمجھا لے گے ا۔۔۔

اہہہہ شکل دیکھی ہے تم نے چونے ڈیڈ بلکل ٹھیک کرتے ہے تمہیں ماما سے دور کر کے ۔۔۔

میری ماما ہے یہ دور رہو ۔۔۔

احمد پاس آتا سکون سے بول رہا تھا جب سوہا بھاگ کر اسے دور کرتی روحا کو گلے لگاۓ بولی تھی۔۔۔

ماما میں شادی اسی سے کرو گی اب بات ختم۔ا۔۔۔

دیکھا جیسا باپ ویسی اولاد توبہ توبہ یہ کیا ہو گیا دیکھو اس لڑکی کو زرا شرم نہیں اپنی ماں کے سامنے کیسے بول رہی ہے کچھ شرم ہوتی لیکن تم نے اپنے باپ کی طرح شرم بیج دی ہے ۔۔۔

سوہا بول رہی تھی جب روحا اپنا روزانہ کا رونا سٹارٹ کرتی بولی تھی ۔۔۔

ہال میں سارے کھڑے اپنی ہنسی کنٹرول کر رہے تھے۔۔۔

اچھا اس کی شادی نہ کرواے میری ہی کروا دے۔۔۔

حدید پاس کھڑی روشانے کے بال کیچھتا ہوا بولا تھا۔۔

تم جس سے شادی کرنا چاہتی ہو کرو بلکہ سارے کرو مجھے اپنی انیجل کے پاس رہنا ہے ۔۔۔

صام اس کی بات سنتے اپنے دانت نکالے سکون سے کھڑے بولے تھے۔۔۔

دیکھیں آہان لالہ یہ کیسے دانت نکال رہے م۔۔۔

چلو تماشہ ختم ہوا پھر ملے گے چلو چونے تم بھی جاٶ یہاں سے اب ہمیں چھوڑ دو۔۔۔

روحا آہان کی طرف دیکھتی بول رہی تھی جب صام انہیں کمر سے پکڑتے زبردستی اپنے ساتھ لے کر جاتے ہوۓ بولے تھے۔۔۔

اب ڈیڈ ایسے ہے تو ان کی بیٹی بھی ایسی ہی ہو گی ۔۔۔

سوہا خود کو گھورتے احمد کو دیکھ دانت نکالے بولی تھی۔۔۔

اہاہاہااہاہااااہا ۔۔۔

روشانے مہر حدید احمد اور امن وانیہ کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔

بابا بتاۓ تو سہی کب شادی کروانی میری ۔۔۔

سوہا پیچھے سے ہانک لگاۓ کہتی وہاں سے بھاگتی بولی تھی۔۔۔۔

کیونکہ روحا کا سیڑھیوں سے اُڑتا ہوا جوتا نیچے آیا تھا۔۔۔

ہاہااہاہااہااہ۔۔۔

سب کا قہقہ گونجا تھا ایک بار پھر سے ۔۔

گہری نیند میں کروٹ لیتی وہ روکی تھی اسے نیند میں بھی اپنی گردن پر کسی کی سانسوں کی گرمائش محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

بخار سے بھاری ہوتی آنکھوں سے اس نے آنکھیں کھولی تھی۔۔۔

جب اپنے اوپر جھکے نیلی آنکھیں لیے دیکھتے وقار کو زینب کا سانس اٹکا تھا۔۔۔۔

آ۔آپ اہہہ۔۔۔

زینب چیختی ہوئ بول رہی تھی جب اس کے بھاری ہاتھ اپنے لبوں پر محسوس کیے وہ یک ٹک اسے ہی دیکھ رہی تھی جو اب دھیمی مسکراہٹ سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔