Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 26)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 26)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
ف۔فادی تم نے دیکھا تھا وہ میرے لالہ تھے ہاے کتنے خوبصورت ہو گے وہ آج بھی انہیں میں یاد ہو فادی تم سن رہے ہو ۔۔
آدھی رات گہری نیند سے جاگتی سوہا اچانک پاس بیھٹے خاموش فارس کے سینے سے لگتی آبدیدہ ہوتی بولی تھی ۔۔
ہاں دیکھا میں نے اسے وہ مکمل انسان تھا ایک عورت کی حفاظت کر سکتا ت۔۔
فادی ایسی بات نہیں ہے تم بھی میری حفاظت کر سکتے ہ۔۔
مجھے ڈسٹرب مت کرنا سو ج۔۔۔
میں مدد ک۔۔۔
نہیں میں جا سکتا ہو تم ریلکس رہو ۔۔۔
سوہا اچانک اس کی کالی گہری آنکھوں میں نمی دیکھ بول رہی تھی جب وہ بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کرتا بول رہا تھا جب وہ ایک بار پھر بولی تھی ۔۔
تبھی وہ ٹھنڈے لہجے سے بولتا بامشکل اپنے پاس وہیل چئیر کو گھسٹتے ہوے بیٹھا تھا ۔۔
فادی ایسا تو مت کرو میں عشق کرتی ہو تم سے میں نے کبھی ایسا نہیں سوچا تم میرے لیے مکمل انسان ہو میں تمہارے بنا ایک پل نہیں رہ سکتی میں جانتی ہو تمہیں دکھ ہے لیکن ایسا بھی کیا دکھ کہ تمہیں میرے آنسو نظر نہیں آرہے ۔۔
فارس وہیل چئیر پر چلتا ہوا روم کے باہر نکلتا ہوا ساتھ والے روم میں چلا گیا تھا جب سوہا ویسے ہی روتی ہوی اس روم کے باہر دروازے کے قریب کھڑی بول رہی تھی جبکہ وہ آفسردہ ہوتا زیرو بلب آن کیے روم کی ونڈو کے ساتھ بیٹھ چکا تھا ۔۔۔
اب وہ رات کی تنہای میں بیھٹا پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا ۔۔۔
فادی مت رو تم مجھے تکلیف ہو رہی ہے مجھ پر ترس کھاو پلیزززز میں مر جاو گی فادی ۔۔۔
باہر کھڑی وہ اندر اس کی سسکیاں سنتی تڑپتی ہوی بول رہی تھی جبکہ وہ اندر بیٹھا اپنا غم ہلکا کر رہا تھا ۔۔۔
مہررانی کدھر گی تھی بتا کر تو جاتی یار دل اداس ہو جاتا ہے ۔۔
مہر روم میں آتی وانیہ کو دیکھ مسکراتا ہوا بولا تھا جو آئسکریم کھاتی اندر آ رہی تھی ۔۔
ت۔تم جاگ گے سوری وہ میرا دل کر رہا تھا میٹھا کھانے کو وہی لینے گی تھی ۔۔۔
وانیہ جلدی سے اس کے قریب آتی فکر مند ہوتی بولی تھی وہ جانتی تھی ایک دفعہ مہر کی نیند ٹوٹ جاتی تو وہ دوبارہ نہیں سوتا تھا ۔۔
ہاں تم میرے پاس نہیں تھی تبھی جاگ گیا ویسے میٹھا کھانے کا دل تو میرا بھی ہے ۔۔۔
اس کا ہاتھ پکڑے اپنے سینے پر گراے وہ اس کے لبوں پر لگی آئسکریم پر انگلی پھیرتے وہ گہری نظروں سے دیکھتا بولا تھا۔۔۔
تمہارے لیے لاتی ہو تم ب۔۔۔
اس سے دور ہوتی خود پر قابو پاتی وہ بیڈ سے اٹھتی بول رہی تھی جب مہر منٹوں میں اسے بیڈ پر گراے اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔
وانیہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوی تھی اس کے عمل پر ۔۔۔
م۔مہ۔مہر وہاں کوی ہے ۔۔
وانیہ جو مہر کو مدہوش ہوتا دیکھ اپنی گردن پر جھکتے دیکھ رہی تھی جب ونڈو سے کوئ سایہ گزارتا دیکھ وہ جلدی سے ڈرتی ہوی بولی تھی ۔۔۔
کون ہے ہم دونوں کے سوا تم بہانہ بنا رہی ہو جانتا ہو ۔۔
وانیہ کا چہرہ اپنی طرف کرتے مہر نے بہکے ہوے دوبارہ اس کی سانسوں کو قید کیا تھا ۔۔۔
وانیہ بھی اس کہ قربت پاتی سب بھولتی ہوی آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔
جو بکھرے بال لیے نائٹ ڈریس میں کھڑی اب ڈرتی ہوی بھاگتی ہوی دروازے کے اندر واپس گی تھی ۔۔۔
خبردار اگر ایک لفظ بھی اندر جا کر کسی کو کہا جان نکال دو گا تمہاری ۔۔۔
اس سے پہلے وہ اندر جاتی جب بھاری قدم اٹھاے وہ اس کے قریب جاتا دروازے کے ساتھ پین کرتا غرایا تھا ۔۔۔
اتنے اندھیرے میں روشانے کو کم سی روشنی میں بین کا کالا چہرہ دیکھ رہا تھا جس کا ماسک اتر چکا تھا۔۔
م۔مجھ۔مجھے جان۔جانے د۔۔۔
کانپتے ہونٹ سے وہ بامشکل بول رہی تھی جب بنا سوچے سمجھے بین نے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھے تھے ۔۔۔
روشانے کسی غیر محرم کا لمس اپنے ہونٹوں پر پاتی کانپی تھی ۔۔۔
چ۔چھوڑو م۔مجھ۔۔۔
ہمت جمع کرتی وہ لال چہرہ لیے بول رہی تھی جب کچھ سیکنڈ کا ٹائم دیے وہ دوبارہ اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔
روشانے کے مسلسل آنسو بہا رہے تھے وہ خود کوس رہی تھی اکیلی باہر کیوں آی تھی ۔۔۔
چٹاخخخ۔۔۔
اپنی سانسوں کو بحال کیے وہ آنسوں سے بھری آنکھیں لیے اسے تپھڑ مارتی بنا کچھ کہے اندر کی طرف بھاگتی دروازے کو بند کر چکی تھی ۔۔۔
دوشانے کا پورا جسم کانپ رہا تھا جبکہ اس کے ہونٹ آگ جیسے دہک رہے تھے جیسے وہ مسلسل مسلتی ہوی بین کا لمس مٹا رہی تھی ۔۔
گ۔گناہ ہو گیا م۔مجھے اسے روکنا چاہے تھا آج تک میں نے ہادی کو اپنے قریب نہیں آنے دیا یہ کیسے ہو گیا ۔۔۔
اففففف کیسے منہ دیکھاو گی میں سب کو ۔۔۔
اپنے لال ہوتے چہرہ پر ہاتھ چلاتی وہ مسلسل روتی ہوی روم میں جاتی سوچ رہی تھی ۔۔۔
کدھر تھی تم یار بھوک لگی تھی تو بتا دیتی خود جانے کی کیا ضرورت تھی۔۔
آنسو بہاے دوشانے روم میں آی تھی جب نیند سے جاگتے حدید نے فکر مند ہوتے اس کے پاس آتے پوچھا تھا ۔۔۔
بولو کچھ کیا ہوا ہے اور یہ آنسو کیوں ۔۔۔
اپنے آپ میں مگن روشانے کو کھڑے دیکھ وہ اسے کندھوں سے پکڑتے بولا تھا جو مسلسل اس کے لبوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اگر میں ہادی کے قریب رہو گی تب مجھے کوی کچھ نہیں کہہ سکتا ویسے بھی روحا ماما نے سمجھایا تھا شوہر اپنی بیوی کی عزت کی حفاظت کرتا ہے اگر ہادی اپنا گناہ کر کے مجھے اپنا سکتا ہے تو میں کیوں نہیں ۔۔۔
ایسے وہ نیلی ہڈی والا بھی میرے پاس نہیں آے گا ۔۔۔
ویسے ہادی کو بتاو وہ قتل کر دے گا اس کا ۔۔۔
حدید کے لبوں کو اپنے ہاتھ سے وہ چھوتی سوچ رہی تھی ۔۔۔
وہ مسلسل اس کے حیسن سراپے کو دیکھنے میں بزی تھا جو سب بھلاے بس اسے چھو رہی تھی ۔۔۔
خیریت ہے روشن دان مجھ مصعوم پر اتنا پیار ۔۔۔
روشانے کو کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگاے وہ مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔
اگر کوی مجھے چھوے تم کیا کرو گے میں جانتی ہو تمہیں خون خرابے سے ڈر لگتا ہے لیکن پھر ب۔۔۔
اس کے ہاتھ کاٹ دو گا ۔۔۔
روشانے اس کے قریب اپنا چہرہ کرتی بھاری سرگوشی کرتی بول رہی تھی جب وہ اچانک سرد پن سے بولا تھا ۔۔۔
واقعی ک۔کیا تم ایسا کرو گے اگر کسی نے مجھے یہاں چھوا ہو۔۔۔
روشانے ہکا بکا ہوتی اس سے دور ہوتی اپنے لبوں کی طرف اشارہ کرتی بولی تھی ۔۔
اسے دوبارہ بین کی حرکت یاد آ چکی تھی ۔۔۔
میرے علاوہ جو شخص یہاں آے گا میں اس کے ہونٹ کاٹ دو گا ویسے اس انسان کو کاٹو گا جو تمہارے قریب آنے کی کوشش کرے گا ۔۔۔
حدید اس کے لبوں کو نرمی سے چھوتے ٹھنڈے لہجے میں بولا تھا ۔۔۔
لیکن میں جانتا ہو میرے علاوہ کوئ تمہاری یہ جھاڑو جیسی شکل کو پسند نہیں کرتا ۔۔۔
روشانے پہلی دفعہ اس کا یہ انداز دیکھ دل میں ڈری تھی لیکن اس کی اگلی بات سنتی زور سے لات اس کے پیٹ میں ماری تھی ۔۔۔
بکواس بند کیا کرو زرافے ۔۔۔
روشانے برا سا منہ بناے بولتی اب بیڈ کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔۔
ویسے اگر تم اس انسان کو کاٹو گے تو موت ہی ہونی ا۔۔۔
نہیں میں کاٹو گا ضرور اسے لیکن اس کی سانسیں چلی گی تب تک جب تک وہ اپنے گناہ کی سزا دنیا میں ہی نہ پا لے ۔۔۔
روشانے بیڈ پر لیٹتی ہوی بول رہی تھی جب وہ بھی پاس آتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
پھر پکا اب وہ انسان ملا میں تمہں بتاو گی تم کاٹنا اسے ۔۔۔
روشانے بچوں جیسی خوشی اپنے چہرے پر لاتی اس کے سینے پر سر رکھے بولی تھی ۔۔۔
کس کا قتل کروانا تم نے مجھ معصوم کے ہاتھوں ۔۔
حدید اس کے بالوں میں ہاتھ چلاتا طنزیہ مسکراہٹ لاے بولا تھا ۔۔
و۔وہ۔وہ کالے کو ۔۔۔
بین کا خیال آتے ہی وہ حدید سے چپکتی ہوی ڈرتے ہوے بولی تھی ۔۔۔
بتاو گی کیا کر دیا اس نے تبھی قتل ک۔۔۔
تمہیں گن چلانے آتی ہے ۔۔
وہ بول رہا تھا جب روشانے اس کی چمکتی براون آنکھوں میں دیکھ جلدی سے بولی تھی ۔۔۔
نہیں لیکن ڈیڈ اسے مار د۔۔۔
دفع ہو بزدل انسان جب ایک گن ہی نہیں چلانی آتی انہہہہ۔۔۔
وہ بول رہا تھا جب اسے کے سینے میں منہ چھپاے وہ برا سا منہ بناے لیٹتی بولی تھی ۔۔
تمہیں کیا ہوا ۔۔۔
رعنا اپنی تہجد کی نماز پڑھتی فارغ ہوی تھی جب اسے روم میں انٹر ہوتے ایول کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔
جو مسلسل اپنے چہرے کو چھو رہا تھا ۔۔۔
تم سے مطلب اپنا کام کرو ۔۔
اسے سنتا وہ صوفے پر جا کر بیٹھا تھا ۔۔۔
جبکہ مسلسل آنکھیں بند کرتے اسے وہ سین یاد آرہے تھے جو وہ دیکھ چکا تھا ۔۔
رات سونے کے لیے ہوتی ہے لیکن تم رات ہی بھوت بن کر گھومتے ہو کبھی سوے نہیں کیا ۔۔۔
رعنا اپنے حجاب کو صیح کرتی اس کی گود میں آ کر بیٹھتی مسکراتی ہوی بولی تھی ۔۔۔
ایول کی گھوریوں کو اگنور کیے وہ آرام سے اس کی شیو کو چھونے میں بزی تھی جبکہ اندر سے اس کا دل کانپ رہا تھا ایول کی سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کیے ۔۔۔
موڈ نہ خراب کرو جاو فحال ا۔۔۔
تم بیٹھو ایسے ہی اپنی سوچ میں گم میں کون سا تنگ کر رہی ہو ۔۔۔
ایول اسے دور کرتا بول رہا تھا جب اس کی گردن میں بائیں حائل کرتے وہ اس کی براؤن مویچھ کو نرمی سے چھوتی بولی تھی ۔۔۔
ا۔اگر کبھی کچھ دیکھ لیا جاے تب کیا کرنا چاہے ۔۔۔
رعنا کی شفاف سفید انگلیاں اپنے گال پر محسوس کیے وہ گہرا سانس لیتا بولا تھا ۔۔۔
تم مجھے بتاو کیا دیکھا ہے تبھی میں کچھ بتاو گی ۔۔۔
اس کے بھاری ہاتھوں میں اپنی انگلیاں دیکھ وہ اس کا ہاتھ چومتی ہوی سکون سے بولی تھی ۔۔۔
ہم نے کیا دیکھا۔۔۔
ایول گہری سوچ میں ڈوبا بولا تھا ۔۔
سوہا کے پیچھے جو لوگ تھے انہیں تم نے جان بوجھ کر بھیجا تھا کیوں بین ۔۔
ایول آفندی ہاوس آیا شدید غصے میں سڑھیوں کے پاس کھڑے ہڈی پہنے وہ بولا تھا جب سرھیوں سے بھاگتا بین آ رہا تھا جس کے لبوں پر مسلسل مسکراہٹ تھی ۔۔
اففف لالہ بعد میں بات کرے ابھی روشن دان آتی ہو گی ۔۔۔
حدید کچن کی طرف دیکھ جلدی سے چہرے سے بلیک ماسک اتارے بولا تھا ۔۔۔
یہی رکو ہم خود روشنی کو بتاے گے تم کون ہو ۔۔۔
ایول اسے بازوں سے پکڑتے ہوے سردپن سے بولا تھا ۔۔۔
ہاے لالہ اتنا معصوم بھای آپ کا شرم کرے جو میرا راز اسے بتایا ۔۔۔
حدید اس کا گال چومتا ہوا جلدی سے اپنے ساتھ لے کر جاتا بولا تھا ۔۔۔
بین ہمارا یہاں روکنا خطرہ ہے تم ہر وقت ہنسی م۔۔۔
سوری لالہ ابھی میں نے آپ کی نہیں سنی وہ روشن دان آتی ہو گئ آپ یہاں سے چلے جانا یہ آغا کا روم ہے یہاں کی ونڈو سے جنگل کا راستہ آتا ہے ۔۔۔
سڑھیوں سے روشانے کے چلنے کی آواز سنتے بین حدید اس کا گال چومتا جلدی سے اسے احمد کے روم کے اندر دھکا دیتا خود ڈور بند کیے بھاگ گیا تھا اپنے روم ۔۔
یہ پکا ہمارے ہاتھوں قتل ہو گا جاہل انسان آغا کے روم میں بند کر دیا ۔۔۔
ایول خود کو احمد کے روم میں بند ہوتا دیکھ بولا تھا جہاں مکمل خاموشی تھی ۔۔۔
جلدی یہاں سے جانا۔ چاہے ۔۔
تھوڑا سا روم کے اندر جاتے سامنے احمد اور امن کو گہری نیند سوتا دیکھ شرمندہ ہوتا نظریں جھکاے ونڈو کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہہ۔۔۔
روم کی خاموشی میں امن کے چلانے کی آواز گونجی تھی ۔۔۔
ایول آواز سنتا جلدی سے پردے کے پیچھے ہوا تھا ۔۔۔
کیا ہوا اب ۔۔۔
احمد جلدی سے جاگتا ہوا اٹھ کر بولا تھا جہاں امن اٹھ کر بیٹھی چلا رہی تھی ۔۔۔
اس کی گرے آنکھوں سے مسلسل آنسو گر رہے تھے ۔۔۔
روم میں آتے ہی امن احمد کے پاس آگی تھی جب خودی اس کا سر دبانے لگ گی تھی ۔۔۔
احمد جس کا سر درد رہا تھا امن کے ننھے ہاتھوں کا لمس پاتے وہ جلدی نیند میں چلا گیا تھا تبھی سارے دن کی تھکی امن بھی وہی سر دباے سو گی تھی ۔۔۔
میری بال پھس گی ساڑھی میں آغا پین ہو رہا ۔۔۔
امن بنا ڈریس چینج کیے سو گی تھی اب اپنے بال زپ میں پھستا دیکھ وہ چلای تھی ۔۔
پاگل لڑکی کس نے کہا تھا اسے ہی سو جاو چینج نہیں کر سکتی تھی جاو چینج کرو ۔۔۔
امن کی بکھرے حسن کو دیکھ احمد نے نظریں چڑہاے کہا تھا وہ نہیں چاہتا تھا امن کو ایسا دیکھ وہ بہک جاے ۔۔۔
چلی جاتا ہو پہلے یہ بال نکال دے میری گردن اکڑ گی ہے ہاے درد ہو رہا ۔۔۔
امن ویسے ہی اپنی گردن ٹیڑھی کرتی بامشکل ہاتھ پیچھے کی طرف لے کر جاتی بولی تھی ۔۔۔
پوری پاگل ہو پہلے چینج کرنا چاہے تھا تمہں پتہ نہیں کب بڑی ہو گی تم ۔۔۔
احمد اسے روتا دیکھ اب اس کا رخ دوسری طرف کرتا خود اس کی بیک زپ کھولنے کی کوشش کرتا بولا تھا ۔۔
رات کے اس وقت وہ سخت چڑچڑا ہوا تھا ایک تو نیند خراب ہو گی دوسرا امن کو اپنی بیوی کے روپ میں اتنا قریب دیکھ کر وہ الجھ رہا تھا ۔۔۔
ب۔بڑی ہو گی میں اب ب۔بچی نہیں رہی میں ۔۔۔
امن ہکلاتی بولی تھی کیونکہ احمد نے سر جھکاے اس کی زپ کھولنے کے لیے دانت رکھے تھے جب وہ گھبرای تھی ۔۔
استغفارررررر۔۔۔
سانسیں روکے ایول کب سے یہ سب پردے کے پیچھے کھڑا دیکھ رہا تھا جب احمد کو امن کی کمر پر جھکتے دیکھ وہ یہ کہتا جلدی سے ونڈو کے باہر گیا تھا ۔۔۔
آغ۔غا رہنے دے میں خودی ک۔۔۔
امن جلدی سے اپنی ساڑھی کا پلو پکڑتے ہکلاتی بول رہی تھی جب احمد مدہوش ہوتا اس کی زپ توڑتا ہوا اس کی بیک نیک پر لب رکھے تھے ۔۔۔
بڑی تو تم ہو چکی ہو ویسے امن ۔۔۔
رات کی تنہای فسوں خیز خاموشی ولید کی باتیں اور اس وقت امن کو ایسی حالت میں بیوی کے روپ میں دیکھ احمد جیسا مضبوط مرد بہکا تھا ۔۔۔
ن۔نہیں میں چھوٹی ہ۔۔۔
امن جلدی سے اٹھتی ہوی بیڈ سے بھاگتی بول رہی تھی جب احمد اسے کمر سے پکڑے بیڈ پر گراے خود اس کے اوپر حاوی ہوا تھا ۔۔۔
گھبرا کیوں رہی ہو ویسے بھی میں تمہارا عشق ہو تمہارے باقول ۔۔
احمد مسکراتا ہوا اس کا پلو شولڈر سے ہٹاے سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔
ا۔ابھی بھی ہے میری عشق ہے ۔۔۔
امن برا سا منہ بناے اسے گردن سے پکڑتے خود پر قابو پاے بولا تھا۔۔۔
پھر گھںبرا کیوں رہی ہو ۔۔۔
اس کی گردن پر اپنے لب رکھتے وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔
و۔وہ آپ کا ایسا روپ کبھی ن۔نہیں دیکھا ت۔۔۔
اپنی گردن اور شولڈر پر اس کا لمس پاتے وہ اپنی سرخ گرے آنکھوں سے اس کی نیند میں ڈوبی لال گرین آنکھیں دیکھ بولتی چپ ہوتی شرمای تھی ۔۔۔
کیا ہوا ویسے تو پٹر پٹر زبان چلتی آج کیا ہوا ۔۔
امن کے گال پر اپنی ناک سہلاتے وہ اس کا لال حیا سے بھرا چہرہ دیکھ مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔
آغا م۔مت کرے ڈر لگتا ہ۔۔۔
امن اسے شولڈر سے پکڑتی رونی شکل بناے بول رہی تھی جب احمد نے بنا سنے لائٹ آف کیے اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کیا تھا ۔۔۔
اپنے جسم سے سرکتی ساڑھی کو محسوس کیے امن احمد کے سینے میں شرماتی گھبراتی منہ چھپا رہی تھی ۔۔
احمد مدہوش ہوا اپنی شدت اس پر لٹا رہا تھا جبکہ وہ خوش تھی اس کا ساتھ پا کر اس کا عشق مکمل ہو گیا تھا ۔۔
جبکہ ایول کو جیتنی بھی گالیاں آتی تھی وہ مسلسل آفندی ہاوس سے باہر جاتا بھاری قدم آٹھاے حدید کو دل میں گالیوں سے نواز رہا تھا ۔۔۔
‘””کیا سوچ رہے ہو کیا دیکھا تم نے ۔۔
ایول کو گم مگن دیکھ رعنا اسے شولڈر سے پکڑتے ہوش میں لاتی بولی تھی ۔۔
کچھ نہیں ہم جم روم جا رہے ہے ۔۔۔
ایول سب سوچتا جلدی سے اٹھتا ہوا اپنی شرٹ اتارے روم سے باہر جاتا بولا تھا ۔۔۔
اففف تم ریسٹ کب کرتے ہو ابھی تو آے تھے روم میں ۔۔
رعنا جلدی سے اس کے قریب جاتی بولی تھی ۔۔
اپنے کام سے کام رکھا کرو سمجھی ۔۔۔
ایول اسے گھورتا ہوا باہر چلا گیا تھا ۔۔۔
اپنے کام سے کام رکھا کرو سمجھی ۔۔۔
ہاےےےے کیا بولتا ہے اففف میرا دل کرتا ہے تمہارے ان الفاظوں کو چوم لللل۔۔۔
و۔وہ میں کہہ رہی تھی چاے بناو یا کافی کیا پیو گے ۔۔۔
باہر جاتے ایول کو دیکھ رعنا اس کی شرٹ اٹھاے اس کی نقل اتارے روم میں گھومتی بول رہی تھی جب پیچھے ویسے ہی دروازے سے ٹک لگاے ایول کو شرٹ لیس دیکھ وہ جلدی سے ہکلاتی بولی تھی ۔۔۔
اپنی زبان کو ریسٹ دو ورنہ ہمیں اچھے سے دینا آتا ریسٹٹٹٹٹٹٹ ۔۔۔
ایول سکون سے اس کے گلابی ہونٹوں کو گہری نظروں سے دیکھ بولا تھا ۔۔۔
ب۔بلیک کافی بناتی ہو تمہارے لیے ۔۔۔
اس کی بات کا مطلب سمجھتے رعنا اپنے لبوں پر ہاتھ رکھتے اس کے پاس سے گزارتی بولی تھی ۔۔۔
ہمیں پسند نہیں کافی چاے ۔۔۔
پاس سے گزارتی رعنا کو ویسے ہی دروازے سے پین کرتے وہ اس پر جھکتا سرد پن سے بولا تھا ۔۔۔
دونوں کے درمیان ایک انچ کا بھی فاصلہ نہیں تھا دونوں کو اپنی سانسوں کا شور اچھے سے سن رہا تھا ۔۔۔
پ۔پھر کیا پسند ہے تمہیں میں وہ لا دیتی ہ۔۔۔
سگریٹ چاہے ہمیں ۔۔۔
وہ تھر تھر کانپتی ہوی نظریں جھکاے بول رہی تھی جب وہ اس پر مکمل جھکتا کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔
و۔وہ گندی ہوتی ہے بری بھی ا۔۔۔
ہم بھی بہت برے اور گندے ہے ۔۔۔
وہ اپنے کان میں سرگوشی سنتی سمٹتی ہوی بول رہی تھی جب ایول اپنی سفید انگلی اس کی شہ رگ پر سہلاتے بولا تھا۔۔
ت۔تم برے اور گندے نہیں ہو ۔۔۔
رعنا جلدی سے اس کا گال چھوتی ہوی بولی تھی ۔۔۔
نیلی اور سرخ گرین آنکھیں ٹکڑای تھی ایک دوسرے کے ساتھ ۔۔
ایک ہی آنکھوں میں ڈر اور عشق تھا جبکہ دوسرے کی آنکھوں میں نفرت اور موت جیسا سردپن تھا ۔۔۔
آج ہم جس مقام پر ہے صرف تمہاری وجہ ہے لیکن ایک بات سوچی ضرور کہ شکریہ تمہاری وجہ ہے ہم نے دنیا کا ایسا روپ دیکھا ۔۔۔
کانپتی رعنا کے گال کو سہلاے وہ سردپن سے بولا تھا ۔۔۔
اس کے لہجے میں شامل کرب کو وہ سمجھ گی تھی ۔۔۔
نہ بچاتے مجھے تم مرنے دیتے اس درندے کے ہاتھوں کیوں بچایا تھا مر جاتی تو کم از کم آج اس اذایت میں نہ ہوتی میں جیسے اب ہو مجھے جب بھی لگتا ہم دوست بن سکتے ہے تم مجھے میرا وہ گناہ یاد کروا دیتے ہو جو کبھی کیا ہی نہیں ۔۔۔
اچانک رعنا اسے گردن سے پکڑتے سخت اور کرب بھرے لہجے سے بولی تھی جبکہ اس کی نیلی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے ۔۔۔
ڈیول ڈیڈ نے ہمیشہ سکھایا تھا عورت کی کیسے عزت کی جاتی ہے چاہے وہ بچی ہو یا عورت ہمیں عزت کرنی آتی ہے عورت کی کیونکہ ہماری بھی بہن ہے ۔۔۔
ویسے بھی تم ہماری اکلوتی دشمن ہو اتنا تو بنتا تھا ۔۔
رعنا کو چھوڑے وہ آنکھ ونک کرتا طنز کرتا بولا تھا ۔۔
کہاں جا رہے ہو مجھے تمہارے شکوے سننے ہے ایول پلیز مجھے اس درد سے آزاد کرو ایک ماہ ہو گیا تمہارے علاوہ میں نے کسی کا چہرہ نہیں دیکھا اپنے ماما بابا بھای کو نہیں دیکھا ۔۔۔
تم یہی چاہتے تھے مجھے اکیلا رکھنا تو اب موت کیوں نہیں دیتے ۔۔۔
دور جاتے ایول کو دیکھ وہ فرش پر بیٹھتی ہوی پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔۔۔
اکیلے بندے کو موت نہیں آتی ہم بھی تو زندہ ہے تم بھی نہیں مرنے والی تب تک جب تک ہمارا شوق نہ پورا ہو جاے ۔۔۔
جم روم تک جاتے وہ سردپن سے کہتا اندر چلا گیا تھا ۔۔۔
جبکہ وہی گرے وہ رونے میں بزی ہو چکی تھی ۔۔۔
ارے میرا دلبر جانی ناراض ہو گیا ۔۔۔
شیٹ اپ ۔۔
جم روم میں انٹر ہوتے بین نے دانت نکالے ایول کے سینے سے لگے بولا تھا جب وہ سگریٹ ہاتھوں میں دباے بولا تھا ۔۔
چل معاف کر دے مجھے دیکھ میں کتنا مع۔۔۔
اہہہہ جاہل انسان اللہ نے زبان بھی دی ہے ہاتھ چلانا ضروری ہے کیا ہاے میرا خوبصورت چہرہ خراب کر دیتے ہو ۔۔
بین چیختا ہوا بولا تھا جو وہ سکون سے کھڑا سن رہا تھا ۔۔۔
آغا کے روم میں تھے ہم جبکہ تم جانتے تھے وہ دونوں کپل تھے وہی ہی بند کرنا تھا ہمیں ۔۔۔
سگریٹ سے فارغ ہوے اب وہ بین کے پیٹ میں مکہ مارتے غرایا تھا ۔۔
یاررر لالہ آغا کون سا رومانٹک انسان ہے جو رومینس کر رہے تھے وہ جو آپ مجھے مار رہے ہے ۔۔
ایک نمبر کے کھڑوس انسان ہے ۔۔
بین اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتے مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
بکواس کم کیا کر تو ورنہ تمہاری زبان کو ریسٹ دے گے ہم ۔۔
اپنے لونگ شوز سے منی چاقو نکالے ایول بین کو گردن سے دبوچتے بولا تھا اب وہ اسے کیا بتاے احمد کے روم میں کیسا سین دیکھا تھا ۔۔۔
ہیری کے ساتھ ایسا کیوں کیا ۔۔۔
ایول بات اگنور کرتا بولا تھا ۔۔
ہیری ٹھیک ہو جاے گا لیکن وہ جانتا نہیں ہے میں نے تبھی وہ آدمی بھیجے تھے تاکہ ہیری سوہا کے لیے قدم اٹھاے ۔۔
بین اب چاکلیٹ کھاتا ہوا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
تیری وجہ سے ہمارا بچہ روتا رہا اس بزدل انسان کے لیے نہ وہ ہماری سن رہا نہ ہی سوہا بچے کی ۔۔
بین کے منہ میں چاکلیٹ تھی جب ایول شدید طش میں اس کے منہ پر مکہ مارتے غرایا تھا ۔۔۔
اووو پاگل جنگلی انسان میری چاکلیٹ اندر چلی گی ساری پانی دے ۔۔۔
حدید ساری چاکلیٹ اندر جاتی دیکھ چلایا تھا ۔۔
ڈرامے بند کر جو کہا رہا ہو وہ سن ۔۔
ایول اسے پانی کا گلاس دیتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
سوہا تیری بہن کے ساتھ میری بھی ہے ایول جیسے تجھے عزیز مجھے بھی ہے نہیں دیکھ سکتا میں وہ فارس کا ہر کام کرتی ہے جو کبھی ہمارے گھر بھی نہیں کیا تبھی میں نے یہ ڈرامہ کیا تاکہ فارس کم از کم قدم اٹھاے لیکن وہ اپنی اس احساس کمتری سے باہر نہیں آتا ا۔۔۔
اگر وہ لوگ ہمارے بچے کو کچھ کر دیتے تب کیا کرتے جان سے مار دیتے تمہیں اور ہیری عرف میجر فارس کو ۔۔۔
حدید دانت نکالے اپنا کارنامہ سنا رہا تھا جب اس کی گردن پر مکہ مارتے وہ طش سے چلایا تھا ۔۔۔
جہاں تو ہو وہاں ایسے لوگ صرف موت میں جا سکتے ہے ویسے بھی میں وہی تھا پورا مرڈر سین تھا تمہارا فففففف لالہ میں تو فین ہو گا ہاےےےےےے کیا دہشت تھی ۔۔
حدید اپنی گردن سہلاے مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔
شرم تو نہیں آی ویسے یہ سب کرتے اگر ہم نہ آتے ا۔۔۔
جس انسان نے چار سالوں سے پورے آفندی ہاوس پر نظر رکھی ہوی ہے کیا وہ تب بھی نہ آتا جب اس کی جان سے عزیز بیٹی مصیبت میں ہو ۔۔
میں نے ہر موڑ پر سوہا کی حفاظت کی ہے لالہ اب تمہاری باری اپنی بیٹی ہنیڈل کرو ۔۔۔
بڑا مارتی ہے مجھے وہ سچی ۔۔۔
ایول بول رہا تھا جب حدید اس کے سینے سے لگے ابدیدہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
وہ ہماری بیٹی ہے تو تم ہمارے پیارے سے بیٹے ہو ۔۔۔
ایول نرمی سے اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
گھر واپس آ جاو ہم سب مس کرتے ہے لالہ ۔۔
حدید اس کی طرف دیکھ بولا تھا ۔۔۔
ہماری بیٹی بڑی ہو گی ہے ہادی ہمیں آج بھی یقین نہیں آ رہا بلکل ماما جیسی ہے وہ ۔۔۔
اس کی بات اگنور کیے وہ سکون سے بولتا ہوا کرسی پر جا کر بیٹھا تھا ۔۔۔
لالہ نیند نہیں آتی کیا آپ کو ۔۔۔
حدید سنیجدہ سی شکل بناے اس کے قریب بیٹھتا ہوا بولا تھا جہاں اس کی آنکھیں نیند میں ڈوبی ہوی تھی لیکن سوتا نہیں تھا ۔۔۔
نیند روٹھ گی ہم سے شاہد تب سے جب جیل گے تھے ہم ۔۔۔
ایول دوسری سگریٹ جلاے سکون سے بولا تھا ۔۔۔
اب وہ دونوں ہی باتیں کرنے میں بزی ہو چکے تھے جہاں ان کا خوبصورت ماضی تھا ۔۔۔
ہہاہاہہاہہاہا ہہاہاہاہاہاہ۔۔
حدید اور سب کی شرراتوں کا سنتے ایول کا دل کھولے قہقہ لگا رہا تھا ۔۔
مجھے ایسا نہیں کرنا چاہے تھا رات اففففف اتنا بہکا کیوں تھا کیا سوچے گی امن ۔۔
صبح احمد جب نیند سے جاگا تھا تب خود کو شرٹ لیس دیکھ وہ رات کا سین سوچتے شرمندہ ہوتا خود کو کوس رہا تھا امن کو پورے روم میں دیکھا تھا جو روم میں نہیں تھی ۔۔۔
کتنا منع کیا اس نے لیکن میں اففففف میرا سرررر۔۔۔
احمد مسلسل سب سوچتا ہوا مسلسل خود کو کوس رہا تھا ۔۔۔
ناراض ہونا بنتا تھا اس کا کون سا اس کی اجازت سے قریب گیا تھا ۔۔۔
کافی دیر امن کا ویٹ کرتے وہ تھک کر واش روم جاتا سوچا تھا وہ یہی سمجھ رہا تھا امن اس سے رات والی حرکت پر ناراض ہو چکی تھی ۔۔۔
یہ رپوٹ ۔۔
ایول اٹھتا ہوا ٹیبل سے لفافہ اٹھاے اسے دیتا بولا تھا ۔۔۔
کبھی سوچا ہے اگر یہ رپوٹ سچی ہوی تو کیا کرو گ۔۔۔
کیا کرنا میں وہ میرا عشق ہے اگر میں اسے اپنا سکتا ہو لالہ تو اس کے ہر عیب کو چھپا بھی سکتا ہو وہ میری ہے صرف میری ۔۔۔
اس کی ہر چیز میری ہو گی میں نے سب سوچ کر ہی اسے اپنایا ہے ۔۔
حدید لفافے کو کھولے بنا سردپن سے بولا تھا ۔۔
تم جانتے ہو اس کا انجام کیا ہو گا اگر اسے سب پتہ چلا اور تمہاری دوسری غلطی ہے اس بیغرت انسان تقی کو زندہ چھوڑ کر ا۔۔۔
لالہ آپ ہی کہتے ہے دشمن کو تڑپا تڑپا کر مارنا چاہے تاکہ وہ اپنی سانسیں بھی لے تو تڑپ کر ۔۔
بس وہی کیا ۔۔۔
ایول شدید غصے میں بول رہا تھا جب حدید اٹھ کر کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔۔
پاگل ہو پورے ت۔
ہاں روشن دان کے عشق میں بے پناہ پاگل ہو ۔۔۔
ایول ایک بار بولنے والا تھا جب حدید دانت نکالے بولا تھا ۔۔۔
و۔وہ لالہ آپ سے کوئ ملنے آیا ہے ۔۔۔
حور اندر آتی ڈرتی ہوی بولی تھی ۔۔
وہ حدید کو دیکھ ڈر جاتی تھی یا شرمندہ ہو جاتی تھی اسے دیکھ کر ۔۔۔
ادھر آو اپنے اس بیغرت بھای کی وجہ سے میرے سامنے شرمندہ مت ہوا کرو تم بہت پیاری ہو میرے لالہ بھی بہت اچھے ہے جو تمہیں اپنے پاس رکھا ہے ۔۔
حدید حور کو اپنے پاس بلاے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے بولا تھا ۔۔۔
کا۔کاش آپ میرے لالہ ہوتے تقی لالہ کی بجاے ۔۔۔
حور آنسو بہاتے بولی تھی ۔۔
افففف تم دونوں کا ڈرامہ سٹارٹ ہو گیا ۔۔۔
بورنن۔۔۔۔
ایول دونوں کی طرف دیکھ بولتا ہوا چپ ہوا تھا ۔۔۔
کیونکہ ایول سے ملنے والی شخصیت جم روم کے اندر اندر ہوی تھی ۔۔۔
آ۔آپ آپ یہاں۔۔۔
ایول جلدی سے انہیں سامنے دیکھ اپنی کرسی سے اٹھاتا بولا تھا جبکہ حدید شوک سے کھڑے ہی نیچے فرش پر گر چکا تھا ۔۔۔
جبکہ سامنے والے کی ڈراک گرین آنکھیں مسکرای تھی حدید اور ایول کی حالت دیکھ کر ۔۔
جبکہ حور کا منہ کھولا تھا حدید ایول کی طرح سامنے کھڑے خوبصورت مرد کو دیکھ کر جو شان بے نیازی سے چلتا ہوا ان دونوں کے قریب آرہا تھا ۔۔۔
