Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 23)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 23)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
مجھے پتہ ہے کتنا بچایا ہے اس نے تمہیں اٹھاٶ اب اسے اور لے کر جاٶ روم میں ۔۔
مستقیم روشانے کو گھورتے ہوے بولے تھے۔۔۔
ج۔جی ب۔۔۔
روشانے جلدی سے مانتی حدید کا ہاتھ پکڑے بول رہی تھی جب اسے ہی گود میں حدید نے لیتے واپس سیڑھیاں چڑی تھی۔۔۔
ت۔تمہیں چوٹ آی ہے ہادی مت چلو ایسا۔۔۔
روشانے اپنا رونا سٹارٹ کرتی بولی تھی۔۔۔
مستقیم نے غصے سے اپنا ماتھا پیٹا تھا وہ کہہ روشانے کو رہے تھے جبکہ عمل
حدید نے کیا تھا۔۔۔
ہاں چوٹ آی ہے مجھے۔۔۔
حدید ضبط کرتا اسے لے کر جاتا بولا تھا۔۔۔
ہ۔ہادی تمہیں چوٹ آی ہے بابا ٹھیک کہتے ہے مجھے ایسا نہیں کرنا چاہے تھا۔۔
حدید اسے روم میں لایا تھا جب روشانے آنسو بہاتے بولی تھی۔۔
دیکھو کچھ نہیں ہوا مجھے میں نے ویسے ہی شور کیا تھا اب مت رو تمہارے آنسو مجھے تکلیف دیتے ہے روشنی۔۔
حدید ضبط کرتا دو ٹوک بولا تھا اسے۔ نے آرام سے آنسو صاف کیے تھے اس کے ۔۔
ی۔یہ ساری تکلیفیں تمہاری ہی دی ہے کیوں ہادی ایسا کیا کیوں تمہیں تم میں بری لگتی تھی۔۔
روشانے نے اس کی طرف دھیان نہیں دیا تھا تبھی پھوٹ پھوٹ کر روتی اسی کے سینے پر مکے مارتی غرای تھی۔۔
چلو اٹھو اچھا سا میک اپ کرو پوری چڑیل لگ رہی ہو مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔
اس کا دھیان چینج کیے وہ آرام سے اسے کھڑا کیے بولا تھا۔
واقعی بری لگ رہی۔۔
حدید جانتا تھا اپنی خوبصورتی کے معاملے میں وہ کتنی سیریس تھی تبھی وہ اب اپنے چہرے کو ہاتھ لگاے بولی تھی۔۔
ہاں دیکھو آنکھیں اپنی کتنی ڈارک ہوی ہے نیچے سے یہ دیکھو اپنے گال جو سرخ رہتے ہے وہ بھی زرد ہوے ہے اور یہ گلابی ہونٹ یہ ت۔۔۔
بس بس ٹھرکی انسان ایک ہی دفعہ شروع ہو جاتے ہو ۔
حدید اسے کمر سے پکڑے نرمی سے اس کی آنکھیں گال چومتا ہوا اب ہونٹوں پر جھکتے بول رہا تھا جب آنکھیں بند کیے اس کا لمس محسوس کرتی روشانے جلدی سے ہوش میں آتی اسے دور کرتی برا سا منہ بناے بولی تھی۔۔
جبکہ دل کی دھڑکن اس کی کافی تیز تھی۔۔
یارررر اتنا معصوم ہو دیکھو میری طرف۔۔
حدید اپنے بالوں کو سائیڈ پر کرتا مسکراتا بولا تھا۔۔
نہیں ہو تم معصوم ٹھرکی انسان ۔
روشانے جلدی سے واش روم کی طرف جاتی بولی تھی ۔
جبکہ حدید وہی کھڑا مسکرایا تھا۔
تم کیا مانگتی ہو دعا میں۔۔
ایول وہاں سے آتا سیدھا اپنے بنگلے آیا تھا جب روم میں آتے ہی سامنے کا منظر دیکھ وہ وہی جم سا گیا تھا جہاں وہی گاؤن پہنے رعنا ظہر کی نماز ادا کر رہی تھی۔۔
تبھی جب وہ دعا مانگتے فارغ ہوتی جاے نماز اٹھا رہی تھی اس کی آواز سنتی وہی کانپتی کھڑی ہو چکی تھی۔۔
ت۔ت۔تم۔۔
وہ ہکلاتی ہوی بولی تھی۔۔
ایول کے لبوں پر مسکراہٹ آی تھی۔۔
تم نہیں آپ کہو ہمیں سمجھی۔۔
اس کے قریب آتے کان کی طرف جھکتے وہ بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔
ج۔جی اچھا۔۔۔
اچھے بچوں کی طرح ہاں میں سر ہلاتے وہ بولی تھی ۔
چلو بولو اب ۔۔
اسے کمر سے پکڑتے وہ سردپن سے بولا تھا ۔
ت۔تم ۔۔
اپنی گردن پر اس کی سانسوں کی گرمائیش پاتے وہ ہکلاتی بولی تھی۔۔
آپ کہو ہمیں ۔۔
اسے حجاب کے ساتھ بالوں سے پکڑتے گردن اپنی طرف موڑتے وہ غرایا تھا۔۔۔
ن۔نںہیں کہنا میں نے ۔ب۔برفانی ریچھ۔۔
اپنی پانی سے بھری آنکھوں سے اس کی گرین سرد آنکھوں میں دیکھ وہ بولی تھی۔۔
بلیک حجاب میں قید اس کا خوبصورت بنا میک اپ کے چہرہ ایول کے بے حد قریب تھا دونوں کے درمیان صرف ایک انچ کا فاصلہ تھا۔۔
سورج اور چاند کی کبھی دوستی نہیں ہوتی ۔۔
مولانی۔۔
اس کے چہرے سے نظریں چڑہاے وہ بولا تھا۔۔
وہ اس کی طرف دیکھ کر نہیں بہکنا چاہتا تھا۔۔
ل۔لیکن۔ سورج چاند سے دوستی ہو سکتی ہ۔۔
وہ ہمت جمع کرتی اسی کی طرف رخ کرتی بول رہی تھی جب ایول نے اسے کمر سے پکڑے اپنے سینے سے زور سے لگایا تھا۔۔۔
دور رہو ہم سے سمجھی یہ ڈرامے ہمارے ساتھ مت کرنا تم اگر آگ ہو تو ہم برف ہے تم جانتی ہو برف کتنی سرد ہوتی ہے کہی یہی برف تمہاری ان چلتی سانسوں میں نہ ا جاے پھر موت ہو گی تمہاری ۔۔۔
نہ تو تم ہمارا عشق ہو جس کی وجہ سے تمہارے ساتھ شادی کی نفرت ہے بے گناہ نفرت ۔۔۔
ایول کی بھاری سرگوشی کے ساتھ اسے اپنے لبوں پر ایول کی ٹھنڈی سانسیں پڑ رہی تھی۔۔۔
تمہارے ہاتھوں مجھے موت بھی قبول ہے م۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہ ۔۔
وہ دوبارہ ہمت جمع کرتی بول رہی تھی جب ایول نے اسے چھوڑتے قالین پر گرایا تھا جب وہ نیچے گری چلای تھی ۔۔
اتنا سا درد برداشت نہیں ہو پا رہا اور باتیں موت کی کرتی ہو تمہیں تو ہم خود م۔۔
ایول کے قدموں پر وہ گری ہوی تھی جب وہ بولتا موبائل کی رنگ سنتا چپ ہوا تھا۔۔
ہمممم ۔۔
ہم آتے ہے ۔۔۔
موبائل پر بات سنتا وہ جلدی سے وڈراب کی طرف جاتا ہڈی پہنے بولتا واپس آیا تھا جب وہی گری رعنا کو گھورا تھا جو ویسے ہی مسکرا رہی تھی۔۔۔
مینٹل ۔۔۔
اس کی طرف دیکھ ایول کال سنتا اب اپنی گنز ہڈی میں رکھتا بولا تھا۔۔
نہیں تمہیں کیوں کہنا ۔
کسی کی بات سنتا وہ جلدی سے بولتا باہر نکلتے بولا تھا۔۔
ابھی ا د۔۔۔
اس سے پہلے وہ باہر جاتا جب رعنا نے اس کا پاؤں اپنے پاؤں سے اٹھکاے نیچے گرایا تھا۔۔۔
وہ دھڑام کرتا نیچے گرا تھا۔۔۔
یہ جو اتنے خطرناک ہتھیار لے کر جا رہے ہو اس کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔۔۔
گرے ایول پر جلدی سے رعنا اپنی جگہ سے اٹھتی اس کے سینے پر بیٹھی تھی جب اس کی گرین آنکھوں میں غصہ دیکھ دانت نکالے بولی تھی۔۔۔
تمہاری یہ آنکھیں ہی جان نکال دیتی ہے اگلے بندے کی تو یہ گنز چاقو بمب بلڈ کسی کام کے نہیں ہے ۔۔۔
ایول کی گھوریوں کو اگنور کیے وہ نرمی سے جھکتی اس کی آنکھوں کو چومتی بولی تھی۔۔۔
تمہاری کمر پر نہیں دماغ پر چوٹ آی ہے مولانی۔۔۔
اسے دھکا دیے وہ ایک ہی جٹکھے میں کھڑا ہوتا سردپن سے بولا تھا ۔۔
ہاے میرا دل پر چوٹ آی ہے برفانی ریچھ بچپن سے جب سے تمہیں دیکھا تھا یاد ہے ہماری فرسٹ کس ۔۔
قالین پر گری وہ پھر اسے تنگ کرتی قدموں پر بیٹھتی بولی تھی۔۔
اس کی فصول باتیں سنتے ایول نے نفی میں سر ہلاتے باہر کی طرف قدم بڑھائے تھے۔۔۔
ہماری غیر موجودگی میں ہیری اے گا جب بھی کوی کام ہو اسے بلا لینا ۔۔۔
ہال میں آتے ایول نے مصروف سے انداز میں کھڑے حور کو بتایا تھا جب کھڑی آنسو بہا رہی تھی۔۔۔
لال۔لالہ جلدی آنا میں مس کرو گی۔۔
حور روتی ہوی بولی تھی۔۔
ا جاے گے ہر دفعہ رونے لگ جاتی ہو بہادر بنو ایسے اچھی نہیں لگتی۔۔
ایول اس کے سر پر ہاتھ رکھتا بولا تھا۔۔۔
ب۔بھابھی کو بتا دیتے ت۔۔۔
بین یہی ہو گا بس اسے تنگ مت کرنا ۔۔
تم اسے بہت تنگ کرتی ہو پھر وہ شکایت لگاتا ہم سے ۔
وہ بول رہی تھی جب ایول اگنور کرتا ہال میں انٹر ہوتے بین کو دیکھ بولا تھا جب اپنا لیپ ٹاپ اٹھاے سیڑھیاں چڑھتے جا رہا تھا۔۔۔
جلدی آنا برفانی ریچھ۔۔
رعنا ہال میں آتی اس کے سامنے کھڑئ مسکراتی بولی تھی۔۔
ہ۔۔
چپ اب مت بولنا مجھے پڑھنے دو تاکہ تمہیں کچھ نہ ہو ۔۔
ایول ناگواری سے بولنے والا تھا جب اس کے لبوں پر ہاتھ رکھتی وہ آنکھیں بند کیے کچھ پڑھتی اس پر پھونک ماری تھی۔۔۔
اب کیا جاؤ یہاں سے ۔۔
رعنا اس پر پھونک مارتے وہی کھڑی تھی جب وہ پھر سے بولا تھا۔۔۔
گود میں اٹھاؤ اتنے لمبے ہو میں کتنی چھوٹی ہو ۔۔
رعنا اپنی باہیں پھیلاتے اس کا چھ فٹ چار انچ قد دیکھتے بولی تھی ۔۔۔
جو ہیوی باڈی کی وجہ سے اس کے سامنے ایک پہاڑ بنے کھڑا لگ رہا تھا ۔۔۔
نہ۔۔
اس سے پہلے ایول بولتا جب رعنا اسے کمر سے بامشکل پکڑے کھڑی ہوی تھی جب مجبوراً اسے کمر سے پکڑے ایول اپنے چہرے کے قریب اسے کرتا لایا تھا۔۔۔
اپنے ماتھے پر اس کے لب محسوس کیے ایول مسکرایا تھا جب بچوں کی طرح بار بار اس کے ماتھے چوم رہی تھی۔۔۔
چلو مجھے بھی کرو کس ۔۔
اس کی گردن میں بائیں حائل کیے وہ سکون سے بولی تھی۔۔
ہمارے آنے سے پہلے مر مت جانا ۔۔
اسے گود سے اتارے وہ سردپن سے کہتا جلدی سے بار گیا تھا۔۔۔
اس کی بات سنتے وہ مسکرای تھی۔۔
“””ایک ماہ بعد۔۔۔
و وہ آپ ۔سے با۔بات کرتی تھی۔۔۔
زینب اپنی انگلیاں موڑوتی ہوی وقار کے پاس آتی۔ بولی تھی ۔۔
جو لیپ ٹاپ میں بزی تھا ۔۔
ج۔جی بولو۔۔۔
وقار لیپ ٹاپ۔ چھوڑے اس کی نقل اتارے اسے بازوں سے پکڑتے بولا تھا۔۔
ملک رحمان اس کی فیکٹری کی ویڈیو ملی ہمیں وہ نقلی میڈیسن اور ڈرگز کی ڈیلینگ کرتا ہے ۔۔
اس پر ایف آئی آر کاٹنی ہے آپ کیس کرے اس پر۔۔
زینب جلدی سے اپنا مدعا بتاے بولی تھی۔۔
اس ایک ماہ میں اسے بھی وقار سے بے پناہ محبت ہو چکی تھی وقار نے اسے اپنے عشق اور قربت سے یقین دلایا تھا اسے اپنی لٹل ڈول سے کتنا عشق ہے۔۔
تبھی زینب بھی اپنے دل کی ہر بات اسے بتا دیتی تھی شادی کے بعد بھی زینب اپنی خوشی سے رپوٹر کی جاب کر رہی تھی اب بھی وہ ایک کرپٹ انسان کا کیس اسے دے رہی تھی وہ چاہتی تھی ایسے حیوان پرست انسان کو جیل ہونی چاہے جو انسان کی زندگیوں سے کھیلتا ہو۔۔
وہ بہت برا انسان ہے دور رہو اور طاقت ور بھی ہ۔۔۔
کیا آپ طاقت ور نہیں ہے ایس پی ہے آپ پولیس کچھ بھی کر سکتی ہے میرے پاس اس کی ویڈیو ہے اور ہم چاچو کی ہلیپ لیتے ہے ۔۔
وقار اچانک اس انسان کا نام سنتا سنجیدہ ہوتا بول رہا تھا جب پھولے گال لیے زینب برا سا منہ بناے بولی تھی۔۔
وقار جانتا تھا ملک رحمان اتنا برا انسان تھا وہ لڑکیوں تک کی عزت نہیں کرتا تھا مسلسل تین سالوں سے اس کی پولیس بھی اس کے خلاف ثبوت ڈھونڈ رہی تھی جب اسے شکست ملتی رہی اب زینب کی بات سنتے وہ ڈرا تھا کہی وہ اسے نقصان نہ پہنچا دے۔۔
مستقیم انکل اور صام انکل بھی ہلیپ کر سکتے ہے لیکن تم دور رہو ان سب سے میں ہینڈل کر ک۔۔۔
نہیں کرنا آپ نے بھی ہینڈل جانتی ہو بزدل ہے ارے آپ سے اچھا تو ہمارا جن لالہ ٹھیک تھے جنہوں نے ایک لڑکی کی عزت بچانے کے لیے نو سال کی عمر میں ساٹھ سالہ دہشتگرد کا قتل کر دیا تھا سب کے سامنے ۔۔۔
مت کرے ہلیپ میں بابا چاچو ہادی لالہ سے کہتی ہو ۔۔۔
انہہہ نام کے ایس پی ہے ۔۔
وقار نرمی سے بول رہا تھا جب زینب شدید غصے میں آتی کہتی وہاں سے گی تھی۔۔۔
افففف کیا کرو میں میں جانتا ہو اس انسان کو اچھے سے ۔۔
زینب کو اتنے غصے اور ناراض دیکھ وہ اب شدید غصے سے اپنے سر کو پکڑے بولا تھا۔۔۔
“””ماضی ۔۔۔
یہ کس کی بیٹی ہے شرم کرو ہم تمہیں پتہ نہیں کیسے پال رہے ہے یہ عذاب بھی لے اے ہو ۔۔۔
وہ عورت آٹھ سالہ مہر کے روم میں آتی طش سے بولی تھی جو تین سالہ ننھی سی امن کو گود میں لیے بیٹھا تھا۔۔۔
و۔وہ امی م۔۔
امی نہیں ہو میں سمجھے پتہ نہیں کون سا وقت تھا جب یہ منحوس پیدا ہوا ۔۔
مہر ڈرتا بول رہا تھا جب وہ عورت غرای تھی۔۔۔
م۔میلی ل۔لالہ یہ۔۔
تین سالہ امن اپنی گرے آنکھوں میں غصہ لاے اس عورت کی طرف دیکھ بولی تھی۔۔
ہاہہاہہہاہہاہاہاہاہ۔۔
ایک دہشتگرد کا بیٹا کسی کا دوست بھای باپ بیٹا نہیں بنتا پاگل لڑکی جلدی سے اسے وہی چھوڑ کر آؤ جہاں سے لاے ہو۔۔
وہ عورت قہقہ لگاتی ہوی بولی تھی مہر کو بات سمجھ آی تھی جبکہ امن کے سمجھ سے باہر تھی بات ۔۔۔
صام کو اطلاع ملی تھی ایک دہشتگرد گروہ تھا جو غریب بنتے باقی لوگوں کے ساتھ رہتے تھے پھر وہاں بمب بلاسٹ کرتے بھاگ جاتے تھے مسلسل آٹھ سال سے وہ اس گروہ کو ڈھونڈ رہا تھا۔۔
اب اسے خبر ملی تھی ایک غریب سی بستی میں وہ گروہ رہائش پذیر تھے جن میں ایک کپل تھا ان کا آٹھ سالہ بیٹا بھی تھا۔۔
صام نے اس جگہ آنا تھا جب چار سالہ حازم کو اتنا تیز بخار میں دیکھ اس نے زرجان کو کہا تھا وہ اس جگہ کو دیکھ لے ۔۔
ضد کرتی تین سالہ امن بھی زرجان کے ساتھ گارڈز کے ساتھ اس جگہ ا گی تھی۔۔۔
ایک ٹوٹے گھر کے باہر آٹھ سالہ اداس بیٹھے خوبصورت سے بچے کو دیکھ امن کار میں ہی بیٹھی چیخی تھی ۔۔۔
اپنے گارڈز کو لے زرجان بستی کے اندر گیا تھا باقی گارڈز کے ساتھ امن کار میں کوڈ میں بیٹھی تھی۔۔۔
آٹھ سالہ مہر ابھی سے یہ سوچنے پر مصروف تھا اس کے ماں باپ کیا کام کرتے تھے جو ہر ایک ماہ بعد اپنا شہر بدل لیتے تھے اس نے کبھی باہر کی دنیا نہیں دیکھی نہ ہی دوست بنا تھا اس کا کوی اس کے ماں باپ ہی اس سے محبت نہیں کرتے تھے وہ ایک چپ اور غصہ کرنے والا بچہ بن گیا تھا۔۔
اپنی گرے آنکھیں بڑی بڑی کیے امن کار کے باہر کھڑے گارڈز کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
د۔۔دودھو۔۔۔
امن اپنے زبان نکالے پاس بیٹھے گارڈ کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔
اچھا میں لاتا ہو ۔۔
گارڈ جلدی سے سنتا کار سے باہر نکلتا دوسری کار سے فیڈر لینے گیا تھا۔۔۔
جب جلدی سے کوڈ سے باہر نکلتی امن کار کے ڈور سے باہر آی تھی۔۔
سڑک کی دوسری طرف مکان کے باہر بیٹھا مہر نے گرے آنکھوں سے تین سالہ امن کی کاروای دیکھی تھی جو باڈی بلڈر گارڈز کے پاؤں سے نکلتی ہوی وہ ریگنتی ہوی سڑک پار کر رہی تھی جبکہ مسلسل وہ مہر کی طرف دیکھ مسکرا رہی تھی۔۔۔
سڑک پار کرتے امن اپنے دھیان سے رینگ رہی تھی جب دوسری طرف سے ٹرک کو آتے دیکھ مہر مکان سے باہر نکلتا اس کی طرف بھاگا تھا۔۔۔
اہہہہہ میلی لالہ میلی لالہ۔۔
مہر نے جلدی سے بھاگ کر امن کو گود میں اٹھایا تھا جب پاس سے کراس کرتا ٹرک گزار گیا تھا تبھی امن ننھے ہاتھوں سے تالیاں بجاتے چہکتی بولی تھی ۔۔
کون ہے لالہ تمہارا میں چھوڑ دو ۔۔۔
مہر اپنے ہاتھوں میں خوبصورت ننھی سی امن کو دیکھ بولتا اپنے مکان میں لاتا زرا غصہ سے بولا تھا۔۔۔
ٹم میلی لالہ ہو جشے شوہا تا لالہ ہے حاجام لالہ ٹم میلی لالہ ہو ۔۔۔
(تم میری لالہ ہو جیسے سوہا کا لالہ ہے حازم تم میری لالہ ہو )..
امن اس کا گال چومتی ہوی پیار سے بولی تھی ۔۔
مہر نے پہلی دفعہ لالہ جیسا لفظ سنا تھا۔۔
تبھی وہ اسے لیے اندر چلا گیا تھا۔۔۔
مسلسل تین گھنٹے سے وہ اس کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔۔
ہر بات سے بے فکر کہ اس کا باپ اسے ڈھونڈ رہا تھا ۔۔
تمہارا نام امن ہے لیکن تم پر سکون نہیں ہو اتنی شرراتی ہو۔۔
مہر اس کے گال کو چھوتا بولا تھا مہر کے پاس کون سا کوی کھلونا تھا امن کو بس اسی کے ساتھ کھیل رہی تھی کبھی وہ اسے مار لیتی تو کبھی روم میں بھاگنے لگ جاتی ۔۔
مہر کو وہ بے حد پسند آی تھی ۔۔۔
ب۔بھوت لگ گی ۔۔
اچانک امن ںھاں بھان کرتی روتی بولی تھی۔۔۔
کیا دو تمہیں کھانے کو مجھے خود رات کو ملتا ہے کیا دو تمہیں اتنی چھوٹی ہو ۔۔
اچانک مہر فکرمند ہوتا بولا تھا۔۔۔
جبکہ امن مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔
کہا تھا آپ کو کہ میری بچی کو مت کے کر جاؤ اب کہاں ڈھونڈو میں اسے ہاے میری ننھی بچی۔۔
زرجان کو جب پتہ چلا امن گم ہو گی ہے اس نے صام کو بتایا تھا جب مستقیم اور صام کے ساتھ کافی بھی آی تھی مسلسل تین گھنٹے ڈھونڈ نے کے بعد بھی آخر ہادی اب زرجان کے سینے سے لگتی روتی بولی تھی پریشان تو وہ خود بھی تھے۔۔
مل جاے گی ریلکس اپو میں دیکھ لیتا ہو ۔۔۔
مجھے لگتا صام تمہیں آرمی کی ریٹ کر دینی چاہے کیونکہ اب حالات کافی خراب ہو گے۔۔
مستقیم آس پاس لوگوں کو دیکھ صام سے بولا تھا جو کافی کو تسلی دے رہا تھا۔۔
ایول کی طبیعت بہت خراب ہے میرے بنا رہتا ہی نہیں بڑی مشکل سے انجیل کے پاس گیا ہے وہ ٹھیک ہو جاے تو میں جلد ہی یہاں ریٹ کرو گا۔۔
صام بھی پریشان ہوتا بولا تھا۔۔
امی و وہ مجھے دودھ مل سکتا ہے۔۔
کافی دیر سوچنے کے بعد مہر روم سے باہر آتا ہمت جمع کرتا بولا تھا ۔۔
جہاں اس کے ماں باپ شراب پینے مدہوش ہوے تھے۔۔
ابھی دودھ لیا تو رات کو کھانا نہیں ملے گ۔۔
آپ دے مجھے اس لڑکی نے مجھے لالہ کہا ہے اور بھای اپنی بہن کی حفاظت کرتا ہے میں چاہے سگا نہ سہی لیکن بھای ہو اب اس کا ۔۔
وہ بول رہی تھی جب مہر سردپن سے بولتا فریج سے دودھ لیتا ہوا اندر چلا گیا تھا۔۔
چلو اب اپنے بابا کے پاس جاؤ دیکھو وہ کتنے پریشان ہے ۔۔۔
دودھ پیتے ہی امن گہری نیند جا رہی تھی جب شام ہوتے دیکھ مہر اسے گود میں اٹھاے مکان سے باہر آیا تھا۔۔
جہاں سڑک کی دوسری طرف اتنے گارڈز اور رش دیکھ مہر نے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔۔
ن۔نہیں لالہ آپ بھی اے۔۔
نیند میں بڑبڑاتی وہ بولی تھی۔۔
تم بہت خوش نصیب ہو امن تمہارے ماں باپ کو محبت ہے تم سے جاؤ اب ان کے ساتھ ۔۔
مہر جلدی سے سڑک کراس کرتا ان کے قریب جاتا امن سے بولا تھا جو اسے زور سے ہگ کیے نیند میں تھی۔۔۔
ارے میری بچی جان دیکھو میری بچی ۔۔
کافی مہر کے ہاتھوں میں نیند میں جاتی امن کو دیکھ چلای تھی سب ہی امن کی طرف متوجہ ہو گے تھے کسی کا دھیان ہی مہر کی طرف نہیں گیا تھا جو اب خاموشی سے سڑک کراس کیے واپس مکان کی طرف جا رہا تھا۔۔۔
یافی زرجان دونوں ہی خوش تھے امن کے ملنے پر لیکن اس رات مہر نے بھوکے رہ کر ساری رات گزاری تھی۔۔
اپنے بالوں پر امن کی لگی ننھی سی پنیز کو اتارے ہاتھ میں وہ ساری رات مسکراتا ہوا جاگا تھا۔۔۔
وہی دوسری طرف نیند سے جاگی امن نے رو رو کر پورا گھر سر پر اٹھایا تھا اسے مہر لالہ چاہے ۔۔
رونے کی وجہ سے امن کو شدید بخار۔ ہو گیا تھا۔۔
“”حال۔۔
چلو فادی او واک کرے۔۔
سوہا روم میں آتی ہوی فارس کو دیکھ بولی تھی ۔۔
جو اپنی وہیل چئیر پر بیٹھا کال سن رہا تھا۔۔۔
ہاں جاتا ہو پہلے مجھے ایک کام ہے تم چلو میں آتا ہو ۔۔
فارس الجھتا ہوا بولا تھا ۔۔
کیا کام ہے بتاؤ مجھے میں کر دیتی ہو ۔۔
سوہا جلدی سے اس کے پاس آتی بولی تھی۔۔
یار تم نے بلاوجہ میرا میک نرس نکال دیا وہ میرے پرسنل کام کر دیتا تھا ۔۔۔
فارس شرمندہ ہوتا ہوا بولا تھا ۔۔
تو میں بیوی ہو تمہاری تم شوہر تو کون سا پردہ ہے میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہے ۔۔
میرا فرض بنتا ہے تمہارا ہر کام کرنا ایسے شرمندہ مت ہوا کرو تم مجھے ہر حال میں پسند ہو میجر فارس۔۔۔
اس کی بات کا مطلب سمجھتی ہوی سوہا مسکراتی اس کے پاؤں میں جوتی پہناتی اسے ہاتھوں سے پکڑتی واش روم کی طرف لے کر جاتی بولی تھی۔۔۔
فارس حیران تھا سوہا کیسے بن کہے اس کی ہر بات سمجھ لیتی ہے ۔۔۔
فارس کو واقعی واش روم جانا تھا جیسے اب سوہا اسے لے کر جا رہی تھی۔۔
بس اتنی سی بات تھی تم ایسے سوچ میں پڑ جاتے ہو جیسے پتہ نہیں کون سا کام ہو۔۔۔
کافی دیر بعد فارس کو واش روم سے باہر لاے سوہا اسے پکڑتی ہوی بیڈ پر بیٹھاے مسکراتی بولی تھی۔۔۔
تمہیں مجھ سے گھن نہیں آتی کیا سوہا۔۔۔
سوہا اس کی شرٹ ریمو کر رہی تھی جب اس کے ہاتھ پکڑتے وہ ان کو چومتے بولا تھا۔۔۔
کیوں اتنے خوبصورت اور کیوٹ انسان سے گھن کیوں انی مجھے بلکہ تم تو مجھے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہو ۔۔
سوہا اس کے دل کے مقام پر لب رکھتی مسکراتی ہوی بولی تھی ۔۔
میں شوک ہو جس لڑکی نے ہمیشہ اچھی اور خوبصورت چیز یوز کی کبھی کسی سے شیئر نہیں کی وہ مس کھڑوس مجھ جیسے انسان سے عشق کرتی ہے واہ ہ ۔۔
سوہا اس کی گود میں بیٹھی اس کے لبوں پر اپنی لمبی باریک خوبصورت انگلیاں چلانے میں بزی تھی جب فارس شوک ہوتا بولا تھا۔۔۔
تم چیز نہیں ہو انسان ہو ایسے انسان جو میرا عشق ہے خبردار اگر کبھی میرے عشق کو کچھ کہا تھا جان نکال دو گی جانتے نہیں ہو جنرل صام آفندی کی بیٹی ہو میں۔۔۔
سوہا اس کی بات کا مطلب سمجھتی اسے گردن سے پکڑے اپنے قریب لاتی غرای تھی۔۔
اگر تمہیں کبھی زندگی کے موڑ پر اس بات کا گلٹ ہو جاے کیوں مجھ جیسے انسان معذور انسان سے شادی کی ج۔۔۔
تم چپ ہی رہا کرو ہمیشہ فضول بولتے ہو میں ناراض ہو ۔۔
فارس اسے کمر سے پکڑے بول رہا تھا جب سوہا اسے ویسے ہی بیڈ پر لیٹاے اس کی گردن میں منہ چھاپے بولی تھی۔۔۔
سوہا خاموشی سے فارس کی چلتی دھڑکنوں کو سن رہی تھی جب فارس اس کے بہتے آنسووں کو محسوس کر رہا تھا سوہا کے آنسو اسے اپنی گردن پر فیل ہوے تھے۔۔
ابھی بھی وقت ہے چلی جاؤ میں تمہیں کچھ نہیں دے سکتا۔۔۔
اس کے بالوں پر ہاتھ چلاتے وہ کرب سے بولا تھا ۔۔۔
وہ دیکھ رہا تھا ایک ماہ سے سوہا نے اس کا ایسے خیال رکھا تھا جیسے وہ چھوٹا بچہ ہو ۔۔
سوہا نے دن رات اپنا بھلا کر اس کا خیال رکھنے میں خود کو بزی کیا تھا۔۔۔
میں ناراض ہو بندہ منا ہی لیتا یے۔۔۔
اس کی بات کو اگنور کیے سوہا کافی دیر بعد اپنا چہرہ گردن سے باہر نکالے سرخ آنسو سے بھری گرین آنکھوں سے دیکھ روٹھے پن سے بولی تھی۔۔
مناؤ گا تم مان جاؤ گی کیا۔۔۔
اپنے ہاتھ سے اس کے لبوں کو سہلاتے فارس بولا تھا ۔۔
ہاں تم کوشش کرو شاہد مان جاو میں ۔۔۔
سوہا مسکراتی ہوی بولی تھی۔۔
چلو اب واک کرتے ہے ۔۔
سوہا کے لبوں کو چومتے وہ مسکراتا بولا تھا ۔۔
میرا دل نہیں کر رہا اب واک پر جانے کو ۔۔
سوہا اس کے سینے پر سر رکھتے مسکراتی بولی تھی ۔۔
چلو پھر سو جاؤ ۔۔
اس کے بالوں پر ہاتھ چلاتے وہ مسکراتا بولا تھا۔۔۔
ہاں تاکہ تم فون میں بزی ہو جاؤ کوی نہیں سونا میں۔۔
اچانک سوہا برا سا منہ بناے بولی تھی۔۔
پھر کیا ک۔۔
کس کرنی مجھے۔۔۔
فارس مسکراتا بول رہا تھا جب سوہا جلدی سے کہتی اس کے لبوں کو قید کر چکی تھی۔۔
فارس مسکرایا تھا اس کی حرکت پر جو ہمیشہ ایسا ہی کرتی اسے کا مائنڈ چینج کیے بہکا دیتی تھی۔۔
ہاے کتنا خوبصورت لڑکا ہے ۔۔
ہاں میں جانتی ہو اس کو ۔۔
وانیہ اور مہر اسکریم پارلر اے تھے ۔۔
جب چیئر پر اسے بیٹھاے مہر آڈر دینے گیا تھا ۔۔
وانیہ جو اپنی جگہ بیٹھی مسکراتی دور کھڑے مہر کو دیکھ رہی تھی جب دوسری چیئرز پر کچھ لڑکیاں بیٹھی بولی تھی۔۔
وانیہ کے کان کھڑے ہوے تھے ان کی باتیں سنتے ۔۔
جب دوسری لڑکی بولی تھی ۔۔
ہاں یہ بزنس ٹائیکون کا زرجان ظفر خان کا بیٹا مہر زرجان خان ہے بلکل اپنے باپ جیسا ہے بزنس ٹائیکون ۔۔
بس زرجان سر تو اتنے سویٹ ہے یہ نہیں سنا ہے کافی غصے والا ہے ۔۔
لڑکیاں اب دور کھڑے مہر پر تبصرے کر رہی تھی ۔
جیسے وانیہ جلتی ہوی سن رہی تھی ۔
اس کی شادی نہیں ہوی میرے خیال سے ۔۔
اب وہ ساری وانیہ کے قریب سے گزارتی ہوی مہر کی طرف جاتی بول رہی تھی۔۔
م۔مہرررررر۔۔
وانیہ جلدی سے ان سب سے پہلے مہر کی طرف بھاگتی چلای تھی۔۔
جو آڈر دیے ٹیبل کی طرف ہی ا رہا تھا جب وانیہ کو سینے پر لگتے دیکھ اسے پکڑا تھا۔۔۔
کیا ہوا مہررانی طبیعت ٹھیک ہے ۔۔۔
مہر اپنے سینے سے لگی اسے فکر مند دیکھ بولا تھا ۔۔
ہ۔ہا۔۔نہیں ٹھیک پتہ نہیں کیا ہو رہا۔۔۔
وانیہ جلدی سے اس کی گردن میں بائیں ڈالے سب کو اگنور کیے بولی تھی ۔۔۔
کیا ہوا ڈاکٹر کے پاس چلتے ہے ا۔۔
افففف جان کتنے پریشان ہوتے ہو بس ویسے ہی تھوڑا سا عیجب لگ رہا ہے باقی میں ٹھیک ہو ۔۔
مہر اس کا گال چھوتا بول رہا تھا جب وانیہ اس کا رخ چینج کیے مہر کے پیچھے کھڑی لڑکیوں کا حیرت سے منہ کھولا دیکھ خوش ہوتی مہر کے ساتھ اور چیپکتے بولی تھی۔۔۔
اچھا چلو پھر گھر چلے۔۔
مہر تو آج حیران تھا وانیہ جیسی شاے گرل آج اتنی رومانٹک کیسے بن رہی تھی جس نے کسی کا لحاظ نہیں کرتے اس نے سینے سے لگی کھڑی تھی۔۔۔
ہاں چلو ہم گھر جا کر کچھ کھانے گے اچھے والا ۔۔
وانیہ مہر کا گال سہلاتے پیار سے بولی تھی۔۔
تمہاری طبیعت واقعی خراب ہے اب چلتے ہے ۔۔۔
مہر اب اسے پکڑے لے کر جاتا فکر مند ہوتا بولا تھا۔۔
مہر مجھے گود میں اٹھا لو تمہاری بیوییییییییی ہوو۔۔۔
ان لڑکیوں کے پاس سے گزارتی وہ بائیں پھلاے لاڈ سے بولی تھی۔۔۔
جبکہ سب لڑکیوں نے اب رونی شکل بنا لی تھی اس کی بیوی والا لفظ سن کر ۔۔
مہر بھی تابعداری سے وانیہ کو گود میں اٹھاے پارلر سے باہر چلا گیا تھا جبکہ مسلسل اس کا دماغ میں وانیہ کی حرکت گھوم رہی تھی آج اس نے ایسا کیوں کیا۔۔۔
ہاہاہاہاہاہاہاہاہا بیوی کا غلام ہر شخص ہو جاتا ہے ۔۔
دور بیٹھا ایول چہرے پر ماسک لگاے مہر اور وانیہ کو دیکھ قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔
لیکن ہم تو اپنی مولانی کے غلام نہیں ہے ۔۔
اچانک آنکھوں کے سامنے رعنا کا چہرہ گھومتا دیکھ وہ سوچتا بولا تھا۔۔۔
افففف یہ لڑکیاں بہت چالاک ہوتی ہے ایول تم بھی کیا سوچ رہے ہو افففف۔۔
اچانک خود کو کوستے وہ سامنے سے آتے بین کو دیکھ جلدی سے دل میں بولا تھا۔۔۔
ویسے کیا کر رہی ہو گی مولانی عرف جنگلی بلی۔۔۔
بین نے سامنے آتے خاموشی سے لیپ ٹاپ ان کیا تھا جب اس پر بھی توجہ نہ دیتے ایول نے اپنے ہونٹ سہلاتے سوچا تھا۔۔۔
ہاےےےے اووےےےے خیریت۔۔
بین اس کی حرکت کو گہری نظروں سے دیکھتا شوخ ہوتا بولا تھا۔۔
شیٹ اپ۔۔
ایول اسے ہی ڈاٹتا ہوا اپنے کام کی طرف متوجہ ہوا تھا۔۔
