581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 19)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

““احمد💞امن

“مہر💞وانیہ

“وقار💞زینب اسپیشل اپپی 🎉🎉

““پندرہ منٹ پہلے ۔۔۔

خان رعنا کدھر ہے ۔۔

رانیہ شعیب خان کے پاس آتی فکر مند ہوتی بولی تھی جو صام لوگوں کے ساتھ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔

وہ یہی ہو گی رکو میں دیکھتا ہو ۔۔

وہ مسکراتے اٹھ کر کھڑے ہوتے بولے تھے ۔۔۔

بابا وہ سوہا لے گی اسے روم میں ۔۔

اس سے پہلے وہ اسیٹچ تک جاتے جب وقار ان کے پاس آتا بولا تھا۔۔۔

م۔۔۔

ابھی وہ بولنے والے تھے جب ان کا فون رنگ ہوا تھا۔۔۔

کبھی محسوس کیا ہے اپنی اولاد کو دور ہوتا دیکھ ۔۔۔

چلو ہم تمہیں آج بتاے گے جب جان سے عزیز اولاد دور ہو تو کیسی حالت ہوتی ہے مسٹر شعیب خان ۔۔۔

فون کان سے لگاے دوسری طرف وہ ایول کی سرد آواز سنتے ڈرے تھے۔۔۔

ک۔کو ۔کون ہو ت۔۔۔

وہی جو تمہاری بیٹی کا محافظ بنا تھا لیکن اب ہم دشمن ہے ویسے بھی دشمن کو قریب رکھنا چاہے تمہاری بیٹی ایک قاتل کے پاس رہے گی ہمیشہ اتنی دور جہاں تم لوگ نہ پہنچ سکو گے ۔۔

وہ گھبراتے بول رہے تھے جب وہ پھر بولا تھا۔۔۔

ن۔نہیں ایسا کچھ بھی نہ کرنا رعنا کا قصور نہیں تھا وہ سچ ہی بولی تھی تم ایسا مت کرو میرے مکافات کی سزا میری بیٹی کو مت د۔۔۔۔

وہ روتے بول رہے تھے جب ایول اپنی کہتا فون بند کر چکا تھا۔۔

کیا ہوا شعیب ۔۔۔

صام اپنی جگہ سے اٹھتے ان کے پاس آتے بولے تھے ۔۔

ص۔صامے ہ۔وہ لے جاۓ گا میری بیٹی کو صامے بچاٶ ۔ت۔تم روک سکتے ہو اسے وہ صرف تمہاری سنتا ہے ۔۔۔

وہ ان کی طرف دیکھتے گھبراتے بولے تھے ۔۔۔

کس کی بات کر رہے ہو ۔۔

صام پریشان ہوتے بولے تھے انہیں زرا سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کہہ رہے ۔۔

ح۔حاز۔حازم کی بات کر رہا اس کا فون آیا تھا ۔۔۔

وہ انہیں فون دیتے بولے تھے ۔۔۔

اہہہ مسٹر ڈیول کیا ہوا ۔۔

ان سے فون پکڑتے صام نے کال ملائ تھی وہی وہ سکیوڑٹی کو الرٹ کر چکے تھے ہال میں سے کوی باہر نہ جاے ۔۔۔

مت کرو ایسا ایک باپ سے اس کی اولاد چھین کر کیا ملے گ۔۔۔

ہم بھی اولاد تھے شاہد کسی کی اب وقت نہیں ہے ہمارے پاس سب کے سامنے لے کر جاٶ گا کوئ روکنے والا نہیں ہے ۔۔۔

صام تحمل سے بول رہے تھے جب وہ سکون سے بولا تھا ان کی بات کاٹتے ۔۔۔

روک سکتا ہو تمہیں میں حازم صام آفندییییییییی۔۔۔

اس کی آواز سنتے صام طش سے غراے تھے غصے سے چہرہ سرخ ہو چکا تھا ان کا ۔۔۔

چلے پندرہ منٹ ہے روک سکتے ہے تو روک لے ڈیول ۔۔۔

ایول طنزیہ مسکراہٹ لاۓ کہتا فون کٹ کر چکا تھا۔۔۔

”””پندرہ منٹ بعد۔۔۔

ڈھونڈو سب رومز دیکھو کہی تو ہو گا وہ جلدی کرو ۔۔۔

صام گارڈز کے ساتھ ہال میں بنے سب رومز چیک کر رہے تھے وہ جس بھی روم میں دیکھتے سارے رومز خالی تھی ۔۔۔

سوہا بھی گھر چلی گی فارس کو لے کر ورنہ وہ اس سے پوچھ لیتے روم کا ۔۔۔

ص۔صامے میری بیٹی کو کچھ نہیں ہونا چاہے ۔۔

صام کے ساتھ کوریڈور میں کھڑے شعیب فکر مند ہوتے بولے تھے ۔۔۔

میں جانتا ہو ایول ایسا پتھر دل بن چکا ہے لیکن یقین کرو میرا خون ہے وہ کبھی بھی کسی کے ساتھ اتنا برا نہیں کرتا ۔۔۔

ویسے بھی پہلے تمہاری بھی وش تھی رعنا اس کی دلہن بنے اب تو بیوی ہے اس کی ۔۔

صام سکون سے کھڑے بولے تھے ۔۔

ب۔بیوی کب بنی۔۔

وہ شوک ہوتے بولے تھے ۔۔۔

یہ پکس سینڈ کی اس نے تمہارے فون پر نکاح نامہ ہے اور یہ والی پک۔۔۔

صام ان کے فون پر ان دونوں کی پک دیکھاتے بولے تھے جہاں ایول رعنا پر جھکا ہوا تھا۔۔۔۔

س۔سر سب رومز خالی ہے ۔۔

گارڈز پاس آتے بولے تھے ۔۔۔

کیسے ہو سکتا ہے کوئ تو روم ہو ایسے کیسے وہ یہاں سے بھاگ گیا ۔۔۔

صام شدید غصے سے دھاڑے تھے۔۔

وہ چار رومز دیکھو پندرہ منٹ سے اوپر ہو گیا ۔۔۔

صام فون نکالے بولے تھے ۔۔

ہاں نوفل ہال کی انٹرس پر سکیوڑٹی کو کہو اگر کوئ ویٹر بھی باہر جاۓ تب بھی اسے روکا ج۔۔۔

دیکھ نہیں سکتے کیا اندھے ہو پاگل انسان ۔۔

شعیب گارڈز کے ساتھ باقی کے رومز دیکھ رہے تھے جب صام فون کان سے لگاے بات کر رہے تھے جب ہال کے ایک ورکر ان سے ٹکڑایا تھا جس نے اپنے شولڈر پر قالین اٹھایا تھا۔۔۔

تبھی وہ اس پر گرجے تھے۔۔۔

سوری ۔۔

قالین کو شولڈر پر سیٹ کیے وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔

ص۔صامے دیکھو و۔وہ می۔میری بیٹی یہی تھی۔۔۔

شعیب ایک روم کے اندر جاتے چیختے بولے تھے ۔۔

جب وہ بھی اندر آتے وہاں کا منظر دیکھ رہے تھے ۔۔۔

جہاں رعنا کی شرٹ کی جیکٹ اور ڈوپٹہ خون سے بھرا ہوا تھا جبکہ سائیڈ پر شیشہ ٹوٹا پڑا تھا ۔۔۔

صام چلتے ہوۓ دیوار کے قریب آے تھے جہاں خون سے کچھ لفظ لکھے گے تھے۔۔۔۔

چچچ چچچچ افسوس ڈیول نے ہی سکھایا تھا سب کی نظروں کے سامنے کیسے جایا تھا کہ کسی کو پتہ بھی نہ چلے آج خود ہی فیل ہو گے آپ چچچچ۔۔۔

دیوار پر لکھے الفاظ دیکھ صام

جلدی سے گن نکالے باہر کو بھاگے تھے ۔۔۔

وہ یہی ہے جلدی چلو ۔۔

کویڈور میں بھاگتے وہ چلاے تھے جب گاڈرز بھی ساتھ بھاگے تھے۔۔۔

ٹھاہہہہ ٹھاہہہہہ۔۔

سیڑھیوں سے نیچے اترتے صام نے گن سے شوٹ کیے تھے جہاں اتنے مہمانوں کو چھڑتا ہوا سکون سے شولڈر پر قالین لے جا رہا تھا۔۔۔

روکو ایول میں کہہ رہا رکو ورنہ شوٹ کر دو گا ۔۔۔

پورے ہال میں گولیوں کی آواز پر ہلچل مچ گی تھی اسیٹچ پر بیٹھے احمد مہر وقار بھی پریشان ہوتے کھڑے ہو چکے تھے ۔۔

کیا ہوا ڈیڈ ۔۔۔

حدید جو اسیٹچ سے اترتا فون سنے گیا تھا ان کے پاس آتا بولا تھا۔۔۔

پکڑو اسے وہ ایول ہے آواز دو اسے ۔۔

وہ سکون سے چلتا ہال کی انٹرس کو کراس کر چکا تھا جب صام غصے سے غراے تھے ۔۔۔

حدید بھی گن لیے اس کے پیچھے بھاگا تھا۔۔۔

ایول رکو رکو ورنہ شوٹ کر دو گا ۔۔۔

گارڈز کے ساتھ باہر اتے وہ دور جاتے ایول کو دیکھ غراے تھے جو بنا پیچھے دیکھ سیدھا سڑک پر اکیلا جا رہا تھا۔۔۔

ح۔حازم رک جاٶ اپنے ڈیڈ کی بات سنو گے تم ۔۔۔

آخر صام کچھ یاد کرتے بولے تھے ان کی آواز سنتے ایول روک چکا تھا۔۔۔

صام مسکراے تھے ۔۔۔

کہ ایول ان کی چال میں پھس چکا ہے ۔۔۔

اہہہہ ڈیول ۔۔

ایول ان کی طرف گردن کا رخ کرتا فیئلگ کس کرتا طنزیہ بولا تھا۔۔

شوٹ کر دو گا میں تمہیں سن۔۔۔

ایول کو اپنی ہیوی بائیک پر بیٹھتے دیکھ وہ پھر طش سے چلاۓ تھے ۔۔۔

باۓ باۓ۔۔۔

ایول ہاتھ کا اشارہ کرتا زن سے اپنی بائیک لے گیا تھا ۔۔۔

وہاں اب سڑک پر دھواں ہی دھواں ہو رہا تھا ۔۔۔

یہ کیا کیا انکل اسے شوٹ کرتے آپ میری اپو اس کے پاس ہے جان سے مار دو گ۔۔۔

وقار بھی باہر آتا دور جاتے ایول کو دیکھ بول رہا تھا جب صام کی سرخ گرین آنکھیں دیکھ اچانک چپ ہوا تھا۔۔۔

اپنی اولاد کو اپنے ہاتھوں سے نہیں مارا جاتا جس دن تم باپ بنو گے تب بتانا ۔۔۔

اتنا آسان نہیں ہوتا اپنے خون کو ختم کرنا ہاتھ کانپ جاتے ہے ۔۔۔

دیکھو میرے ہاتھ کانپ رہے ہے اپنے ہی بیٹے کو شوٹ کرنے کی ہمت نہ ہوئ۔۔۔

تم پریشان نہ ہو ایک دن آے گا جب ایول خود ہم سب کے پاس آے گا ۔۔

صام سرد پن سے کہتے وہاں سے چلے گے تھے ۔۔۔

ریلکس رہے کچھ نہیں ہوا بہت جلد ہمارا بیٹا پاس ہو گا پریشان مت ہو ڈیول ایسا تو نہیں تھا ۔۔۔

انٹرس پر کھڑی روحا ان کے پاس آتی ان کے ہاتھ چومتی مسکراتی بولی تھی ۔۔

تم ٹھیک کہتی تھی انیجل میں نے حازم کو ایول بنایا مجھے ایسا نہیں کرنا چاہے تھے ۔۔۔

اتنی کم عمری میں مجھے اسے ایول نہیں بنانا چاہے تھا یہ تو میرا حازم ہی نہیں تھا جو اپنے بابا کی آواز پر رک جاتا تھا۔۔۔

صام پریشان ہوتے بولے تھے ۔۔۔

آپ بھی تو ایسے ہی تھے ڈیول انیجل کے ٹھیک ہو ہی گے ہمیں یقین ہے ایول بھی رعنا کی صحبت میں اچھا انسان بن جاے گا ۔۔۔

روحا ان کا ہاتھ پکڑتے ہال میں آتی بولی تھی ۔۔۔

اچھا ایسے اچھے نہیں لگتے ڈیڈ لالہ کو دیکھ لے گے پہلے میری شادی انجواے کرے ۔۔

حدید ان کے پاس آتا ان کا گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔

جب وہ ہلکا سا مسکراے تھے ۔۔

چلو آو میری بیٹی ۔۔

صام حدید کو شولڈر سے پکڑتے مسکراتے بولے تھے ۔۔

کیا ڈیڈ اتنا خوبصورت ہو میں ۔۔

ہر بار کی طرح آج بھی وہ روٹھا سا منہ بناے بولا تھا۔۔۔

ریلکس بابا ایول کچھ نہیں کرتا اتنا تو یقین کرے کہ وہ صام انکل کا خون ہے انہوں نے کبھی غلط نہیں کیا تو ایول بھی نہیں کرے گا ۔۔۔

گھر آتے شعیب خان کو پرسکون کرتے وقار بولا تھا۔۔

م۔میرے مکافات کی سزا ہے یہ میں نے ہر لڑکی کے ساتھ برا کیا تھا کسی کی عزت نہیں کی تھی بھول گیا تھا کہ میرا کیا میری بیٹی کو اچکانا پڑے گا ۔۔۔

کتنی دعائیں کی کہ مجھے میرے گناہ کی معافی مل جاۓ میں نے کبھی کسی پرترس نہیں کھایا تھا تو وہ کیوں کھاۓ گا میری بیٹی پر ترس ۔۔

میری بچی تو معصوم سی ہے کتنے سالوں بعد وہ اپنی زندگی میں واپس آی تھی ۔۔

وہ مسلسل روتے ہوے بولے تھے ۔۔

وقار بے بس ہوا تھا ان کے آگے ۔۔

تم جاٶ لٹل ڈول کے پاس میں دیکھ لیتی ہو ۔۔

رانیہ وقار کو دیکھ بولی تھی ۔۔

جب وہ اٹھ کر اپنے روم میں گیا تھا۔۔

آ۔آپ چھوڑ دے گے مجھے پھر۔۔۔

وقار روم میں آیا تھا جب زینب نائٹ ڈریس پہنے وہی کھڑی ڈرتی ہوی بولی تھی۔۔۔

مطلب۔۔۔

وقار اس کے قریب آتا بولا تھا اسے سمجھ نہیں آی تھی اس کی بات ۔۔۔

و۔ہ۔جن بھوت لالہ اپو کو لے گے تو آپ غصے سے مجھے چھوڑ دے گے ۔۔۔

ا۔اور یہ شادی بھی بدلے میں کی آپ نے ۔۔

بیڈ کی طرف ہوتی زینب اس کا سرخ چہرہ دیکھ ہکلاتی بولی تھی۔۔۔

یہ ساری بکواس کس نے کی ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔

اسے بیڈ پر دھکا دیتے وہ اس پر جھکتے بولا تھا۔۔۔

اپنے چہرے پر پڑتی اس کی گرم سانسوں کی تپش پر وہ سرخ ہوئ تھی ۔۔۔

و۔۔وہ۔وہ ا۔ایک بار ہا۔ہادی لالہ سے آپ نے ایسا کہہ۔تھا۔م۔میں ۔نے سن۔سنا تھا۔۔۔

زینب زور سے آنکھیں بند کیے ہکلاتی ہوی

بولی تھی ۔۔

مطلب میرے دور جانے سے تمہیں تکلیف ہو گی ۔۔

وقار سمجھ گیا تھا اسے کوئ غلط فہمی ہوی تھی تبھی ساری بات اگنور کیے اسے اس بات کا یقین دلانا تھا اسے بے پناہ عشق ہے زینب سے ۔۔۔

تبھی اس کے ہونٹوں پر انگلی پھیرتے وہ بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

ہاں ۔نہیں ۔میرا مطلب تھا کہ۔و۔۔۔

زینب پہلے ہاں میں جواب دیتی جلدی سے نا میں بول رہی تھی جب وقار نے اس کی لبوں کو اپنی قید میں لیا تھا۔۔۔

م۔میری بات تو سنیں م۔۔۔

وقار نے اسے نرمی سے چھوڑا تھا جب وہ اس سے دور ہونے کی کوشش کرتی گہرے سانس لیتی بول رہی تھی جب وقار نے دوبارہ اس کی سانسوں کو قید کیا تھا۔۔۔

بے پناہ عشق ہو میرا تم ابھی سے نہیں بچپن سے ہو میں نہیں جانتا کون سی غلط فہمی ہوی ہے تمہیں لٹل ڈول لیکن آج کی رات میں تمہاری ہر غلط فہمی دور کرو گا۔۔۔

وقار اس کی شرٹ کے بٹن کھولتا ہوا بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

ل۔لیکن ۔می۔۔

زینب کی سانسیں اٹکی تھی اس کی بات پر تبھی وہ بول رہی تھی جب وقار لائٹ بند کرتا اس پر حاوی ہوا تھا۔۔۔

زینب اس کی شدتوں پر گھبراتی اور شرما رہی تھی ۔۔۔

لیکن اسے اس بات پر یقین ہو چکا تھا واقعی وقار اس سے بے پناہ عشق کرتا تھا۔۔۔

ک۔کیا کر رہی ہو امن ۔۔۔

احمد روم میں آیا تھا جب امن کو پانی سے بھیگا دیکھ وہ بولا تھا جو اپنے گیلے کپڑے ٹاول سے صاف کر رہی تھی ۔۔

لہنگا اس نے ویسے ہی پہنا ہوا تھا۔۔۔

روم کے قالین کو گیلا دیکھ وہ الجھتا ہوا بولا تھا۔۔۔

میں نے کچھ نہیں کی آغا یہ تو شاور کو کچھ ہو گی پانی ہی بند نہیں ہو رہی تھی ۔۔

امن رونی شکل بناے بولی تھی وہ اپنا منہ واش کرنے گی تھی جب شاور کے نیچے سے گیلی ہو چکی تھی اب شاور بھی بند نہیں ہو رہا تھا۔۔

اچھا اب جاٶ کپڑے چینج کرو ۔۔

احمد اس سے نظریں چڑہاے بولا تھا کیونکہ امن بنا ڈوپٹے کے بھیگی ہوی کھڑی تھی ۔۔۔

پہلے یہ ٹھیک کر دے ورنہ صبح شاور لیتے وقت آپ شور مچاے گی ۔۔۔

امن اس کا ہاتھ پکڑے واش روم میں لے کر جاتی بولی تھی ۔۔۔

اچھا تم یہی رکو ۔۔

احمد شاور سے نکلتا پانی دیکھ اپنی شرٹ اتارے اسے دیتا ہوا جاتا بولا تھا۔۔۔

گرین آنکھیں کالے بال جو پانی سے بھیگتے ماتھے سے چپک رہے تھے کھڑی مغرور ناک گلابی ہونٹ گال پر پڑتے ڈمپل کسرتی جسم جس پر بہتا صاف پانی ۔۔

احمد جو شاور کے نیچے بھیگتا ہوا اسے ٹھیک کر رہا تھا جب امن وہی گم کھڑی اسے ہی دیکھنے میں مگن تھی ۔۔۔

احمد کی ہیوی باڈی اور اس پر بہتا پانی دیکھ وہ شرمای تھی پہلی دفعہ وہ اسے اس روپ میں دیکھ رہی تھی۔۔۔

آپ بہت خوبصورت ہے آغا میں بہت خوش قیسمت ہو مجھے آپ ملی ۔۔۔

امن تھوڑا اس کے قریب جاتی شرماتی ہوی بولی تھی ۔۔۔

احمد اس کی دیوانی بھری بات سن کر مسکرایا تھا ۔۔۔

کم بولا کرو تم بچی ہو میری نظر میں ت۔۔۔

احمد جو پیچھے دیکھتے بول رہا تھا جب پیچھے کھڑی امن سے ٹکڑاتا ہوا باتھ ٹب میں دونوں گرے تھے ۔۔۔

یہ کیا ہو گی آغا ۔۔۔

ٹب میں گری امن اپنے اوپر گرے احمد کو دیکھ پریشان ہوتی بولی تھی۔۔

ڈانس ہو رہا دیکھای نہیں دیتا ۔۔

کہا بھی تھا دور رہو لیکن تم مانتی ہو ۔۔۔

احمد طش سے چلایا تھا ۔۔۔

اس کی گرم سانسوں کی تیپش امن کو چہرے پر محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

م۔میرا کیا قصور تھا آپ دیکھ لیتی ۔۔

اہہہہ اہہہہہ۔۔

امن اچانک رونی شکل بناے بچوں کی طرح رونا سٹارٹ کر چکی تھی۔۔۔

گیلے بکھرے بال جو چہرے اور گردن کے ساتھ چیکپے ہوے تھے گلابی ہونٹ جس کو وہ بچوں کی طرح باہر نکالے رونے میں بزی تھی۔۔۔

امن کو اپنی بیوی کی روپ میں ایسے دیکھ احمد پہلی دفعہ بہکا تھا۔۔۔

روتی امن کو کمر سے پکڑے احمد جٹھکے سے ٹب سے باہر نکلا تھا۔۔۔

ہ۔ہ۔ہم باہر آ۔گی اب ۔چ۔چلی۔۔

امن خود کو احمد کے اتنے قریب پاتی جلدی سے آنکھیں کھولتی کھڑا دیکھ دور جاتی بول رہی تھی جب احمد نے کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگایا تھا۔۔۔

میں تو بلاوجہ کہتا رہا تم بچی ہو ۔۔۔

امن کی گردن سے بال پیچھے کرتا وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

ن۔نہیں م۔میں واقعی بچی ہو آ غ۔آغا۔۔۔

احمد جو اس کا رخ اپنی طرف کرتا گال سہلا رہا تھا جب امن گھبراتی ہوی بول رہی تھی۔۔۔

جب احمد نے اس کا چہرہ اپنے قریب کرتے اس کے لبٶں پر لب رکھے تھے ۔۔۔

امن کے جسم کو جٹھکا لگا تھا گھبراہٹ کے مارے اس نے اس کے شولڈر پکڑے تھے ۔۔۔

آج کے لیے کافی ہے یہ اب جاٶ۔۔۔

امن کو نرمی سے چھوڑے اس کا سرخ چہرہ اور گہرے سانس لیتے دیکھ وہ مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ج۔جی۔۔

امن سر جھکاے جلدی سے وہاں سے بھاگتی بولی تھی ۔۔۔

اہہہہ بچی ہے ۔۔

احمد اپنی حرکت پر مسکراتا سر کھجاۓ بولا تھا۔۔۔

مہر تم تھک گے ہو چلو ریسٹ کرو ۔۔

وانیہ واش روم سے باہر آتی بولی تھی جہاں مہر لیپ ٹاپ لے کر بیٹھا تھا ۔۔۔

کیا ہے اس میں جو سارا دن اسی میں بزی رہتے ہو ریسٹ کر

لیا کرو ۔۔

وانیہ مہر سے لیپ ٹاپ لیتی اس کے پیچھے بیٹھی اس کے بالوں میں تیل لگاتی بولی تھی۔۔۔

ضروری کام تھا یار اب کام بھی ضروری ہے بابا اب یہ سب کام کرتے اچھے لگتے کیا ۔۔۔

مہر اپنے بالوں میں وانیہ کی ننھی انگلیاں محسوس کیے مسکراتا بولا تھا۔۔۔

اتنا بڑا بزنس ہے مہر تم بہت سارے آدمی رکھو انہیں کہا کرو کام کا سارا دن وہی بزی رہتے ہو تھک جاتے ہو ۔۔۔

پتہ یافی ماما بھی یہی کہہ رہی تھی مجھے۔۔۔

تم خیال نہیں رکھتے ۔۔۔

اس کے بالوں میں تیل لگاتے وانیہ اٹھ کر ہاتھ دھو کر واپس آتی بولی تھی ۔۔۔

میرا خیال رکھنے کو تم ہو مہررانی میری ساری تھکن اتار دیتی ہو جیسے اب اتارو گی ۔۔۔

مہر وانیہ کو بازوں سے پکڑے اپنے اوپر گراتے بولا تھا۔۔۔

ا۔اچھا بہت بولت۔بولتے ہو تم چلو س۔۔۔

بڑی محبت ہے مجھے تم سے بچپن سے مہررانی ۔۔۔

وانیہ شرماتی بول رہی تھی جب مہر کروٹ چینج کیے اس کے اوپر آتا بولا تھا۔۔۔

ہمممم۔۔

وانیہ بس چپ ہوتی اپنی حالت پر قابو پاتے بولی تھی۔۔۔

میرا خیال رکھنے اور تھکن اتارنے کا کام تمہارا ہے ۔۔

مہر اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے مسکراتا ہوا بولا تھا اس کی گرے آنکھیں چمک رہی تھی۔۔۔

ن۔نہیں وہ م۔مہر میں سوچ رہی تھی کہ کچن د۔۔۔

وانیہ اس کی بات کا مطلب سمجھتی ہوئ اپنے خشک لبوں پر زبان پھیرتی ہوئ بول رہی تھی جب مہر اس کے ہاتھوں کو قابو کیے اس پر جھکا تھا۔۔۔۔

تمہاری سانسوں پر راج کرنا چاہتا ہو مہررانی تم اجازت دو ۔۔۔

اس کے کانپتے ہونٹوں کے قریب اپنے لب رکھتے بولا بہکا ہوا بولا تھا۔۔۔

م۔مہر م۔میری با۔و۔وہ۔۔

مہر کی سانسوں کو اپنے قریب سنتے اسے سمجھ نہیں آیا تھا کیا بولے تبھی اس کی گرے آنکھوں میں دیکھ وہ وہی چپ ہو گی تھی۔۔۔

شکریہ مہررانی میری زندگی میں آنے کے لیے میں بہت خوش نصیب ہو مہررانی ۔۔

مہر اس کے لبوں پر لب رکھتا بولا تھا۔۔۔

اپنے ہونٹوں پر اس کا لمس پاتے وانیہ نے مہر کو گردن سے پکڑتے اس پر ناخن گاڑھے تھے ۔۔۔

ب۔بہت برے ہو ۔۔۔

وانیہ کو جب تھوڑا سا سانس ملا تو جلدی سے وہ شکوہ کرتی بولی تھی ۔۔۔

ابھی تو اور برا بنا میں نے مہررانی ۔۔۔

مہر اپنی آنکھ ونک کرتا شوخ ہوتا بولتا اس کی گردن پر جھکا تھا۔۔۔

وانیہ کو اپنے جسم پر اس کا لمس محسوس ہو رہا تھا ۔۔

اس کی قربت پاتے وانیہ شرمای تھی ۔۔۔

دونوں ہی اپنی زندگی میں خوش تھے وانیہ اس کا ساتھ پاتی خوش تھی بے حد۔۔