581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 38)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

برفانی ریچھ میں سوچ رہی تمہارے لیے بریانی بناو تمہیں پسن۔۔۔۔۔۔

کافی دیر بعد جب رعنا ایول کے روم میں آتی بنا دیکھتے بول رہی تھی جب سامنے کا منظر دیکھ اس نے شوک کی حالت میں دیوار کو پکڑا تھا ۔۔۔۔

اس کی نیلی آنکھیں وہ منظر دیکھ رہی تھی جہاں پورے کمرے میں ایول اور زوبی کے کپڑے بکھرے پڑے تھے جبکہ کمبل کے اندر ایول کے برہنہ سینے پر زوبی سکون سے سر رکھے لیٹی سو رہی تھی ۔۔۔۔

ایول ویسے ہی گہری نیند سو رہا تھا شراب کے گلاس میں زوبی نے نیند کی گولیاں ڈالی تھی ۔۔۔۔

وہ بے خبر تھا اس کے ساتھ کیا ہو چکا ہے ۔۔۔۔

ز۔زوبی ا۔۔۔۔

ہاے بے بی کیسی ہو ۔۔۔۔

رعنا اپنی چیخیوں کا گلا گھونٹ کر بول رہی تھی جب وہ مسکراتی ہوئی ایک ادا سے اٹھتی چادر لیتی اس کے سامنے آتی بولی تھی ۔۔۔

رعنا کو اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرہ ہوتے محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔

جبکہ زوبی مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔

ن۔نہیں ایسے کیسے ہو سکتا ہے یہ سب ایو۔ایول میرا ہے صرف میرا ۔۔۔۔

اچانک وہ طش میں آتی زوبی کو گردن سے پکڑتی غرای تھی ۔۔۔

جبکہ وہ کھڑی ویسے ہی مسکرا رہی تھی ۔۔۔

تمہیں یقین ہے اس پر ۔۔۔

زوبی ایول کی طرف گردن موڑتے مسکراتی بولی تھی ۔۔۔

حازم پر پورا یقین ہے لیکن تم پر نہیں میں جانتی ہو تم نے بےہوشی کا فائدہ اٹھایا ہے ورنہ حازم تو کسی کے قریب گیا ہ ۔۔۔

اب یہ حازم کون ہے میں تو ایول کی بات کر رہی ۔۔۔۔

روتی رعنا کی بات کاٹتے زوبی شوک سے بولی تھی ۔۔۔۔

ایول ہی حازم ہے جنرل صام آفندی کا بڑا بیٹا حازم آفندی۔۔۔۔

رعنا کا عشق بے پناہ عشق تم جیتنی مرضی ڈرامہ کرو لیکن۔ وہ میرا ہے صرف میرا ۔۔۔۔

چٹاخخخخ۔۔۔

اسے روم سے باہر گھسٹتی تپھڑ مارتی وہ ہال میں لاتی غرای تھی ۔۔۔۔

زوبی کو وہ شیرنی لگی تھی ایک دم سے جو سرخ نیلی آنکھوں سے بھیگے چہرے کو لے کھڑی اسے ہی گھور رہی تھی ۔۔۔۔

یار ریلکس ایسا کچھ نہیں ہوا وہ سب ڈرامہ تھا حازم تمہارا ہی ہے تمہارا ہی رہے گا ۔۔۔۔

روتی رعنا کو دیکھ وہ اپنی لال گال کو سہلاتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔۔۔

ک۔کیا مط۔مطلںب۔۔۔۔

رعنا اٹکتی بولی تھی ۔۔۔۔

پہلے مجھے بتاو یہ اتنے خوبصورت نام کا حازم ایول کیوں بنا ۔۔۔۔

زوبی صوفے پر ریلکس ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

شرم کرو حور یہی ہے ۔۔۔

زوبی کی برہنہ ٹانگ کو دیکھ رعنا صوفے کا کشن اس کو مارتی بولی تھی ۔۔۔۔

اچھا بتاؤ پھر ۔۔۔

اپنی ٹانگوں کو فولڈ کیے وہ سکون سے بولی تھی ۔۔۔

جب رعنا سب اسے بتا چکی تھی ۔۔۔۔

ویسے یار مانا پڑے گا بندہ ہے کمال ہ۔۔۔۔

بکواس بند کرو تم زبان کاٹ دو گی ۔۔۔

زوبی شرراتی انداز میں اسے تنگ کرتی بول رہی تھی جب وہ اس کا منہ دوبوچتے بولی تھی ۔۔۔۔۔

میری ایک خوبصورت سی فمیلی تھی دو ماہ کا بیٹا تھا بیس سال کی تھی جب ایک ہاسپٹل میں ایک نرس تھی کم عمری میں شادی ہو گی تھی غریب لوگ تھے ۔۔۔

زندگی اچھی گزار رہی تھی لیکن ایک دن اسی ہاسپٹل میں گروجی کے آدمی زخمی اے تھے انہی کا علاج کیا تو ان کی نظر میری خوبصورتی پر پڑ گی ۔۔۔۔

ہاہہاہاہاہہاہاہاہ خوبصورت تھی تو ہوس کا نشانہ بنا ہی تھا ۔۔۔۔

زوبی تحمل سے اسے بات بتاتی اچانک قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔۔

پ۔پھر کیا ہوا تھا ۔۔۔

رعنا سب بھولتی نرم دل سے اس کا ہاتھ پکڑتے بولی تھی ۔۔۔۔

ہوس کا نشانہ بنی تو اپنا وجود گھر لے کر گی لیکن شوہر نے بھی یقین نہیں کیا اس میں میری غلطی کوئ نہیں تھی ۔۔۔۔

گروجی کے آدمیوں نے جب میرا انہیں بتایا وہ میرے گھر آئے اور سب کے سامنے اٹھا کر لے گے میرا شوہر وہی کھڑا رہا وہ کچھ نہ کر سکا ۔۔۔۔

مجھے اٹھا کر گرو کے اڈے لاے اور اپنی ہوس مٹانی چاہی جب مزاحمت کی تو مجھے دھمکی دی گئ کہ چپ چاپ میں ان کی خواہش پوری کرو ورنہ وہ میرے بیٹے کو گولی مار دے گے۔۔۔۔

میرے وجود کو نوچا گیا پتہ نہیں کتنی بار یہاں تک کہ جب پھر مزاحمت کرنے کی کوشش کی تب میرے ہی بیٹے کو سامنے لا کر گولی سے مار دیا ۔۔۔۔

کیسی ماں تھی جو اپنے ہی بیٹے کو بچا نہ سکی ۔۔۔

زوبی ابھی بولتی پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔۔۔

ی۔یہ پانی پی لو ت۔۔۔۔

کافی دن بعد مجھے میرے گھر چھوڑا گیا گرو کے ہی آدمی تھے میں کون سا ان کے کام کی تھی ۔۔۔

رعنا بھی آنسو بہاے اسے پانی کا گلاس دیتی بول رہی تھی جب وہ دوبارہ بولی تھی ۔۔۔۔

میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی وہی دروازے کے باہر اس نے اندر نہیں آنے دیا اس کے باقول میں ایک فحاشہ بدکردار عورت تھی ۔۔۔

طلاق دے کر بھی اسے سکون نہ آیا تو سب محلے والوں کے سامنے مجھے مارنا شروع کر دیا ۔۔۔۔

گرو کے آدمی واپس چھوڑے کار میں بیٹھ چکے تھے ۔۔۔

اتنی ذلیت پا کر میں دعا مانگ رہی تھی مجھے موت آ جاے ۔۔۔

لیکن اسی وقت ایک گولی چلنے کی آواز آئ اور تبھی میرا شوہر گر کر مر گیا ۔۔۔۔

جیسے ہی آنکھیں کھول کر دیکھی تو کار سے باہر نکلتے پندرہ سالہ لڑکے نے بنا کسی سے ڈرے اتنے لوگوں کے سامنے گولی ماری تھی ۔۔۔۔

وہ لڑکا بے حد خوبصورت تھا اس کی سردبرف جیسی گرین آنکھیں جیسے سب کو وہی جما چکی تھی ۔۔۔۔

وہ چلتا ہوا میرے پاس آیا تھا اور اپنی شرٹ اتار کر مجھے دی اور ہمیشہ اپنے ساتھ لے گیا ۔۔۔۔

وہ گرو کا رائیٹ ہائنڈ ایول تھا رعنا ۔۔۔۔

تم سوچو جو لڑکا اتنی کم عمری میں میرے لیے وہ سب کیا تو میں کیسے نہ اس کی دیوانی ہوتی ۔۔۔۔

ایول کے کہنے پر مجھے گرو کے ساتھ رکھا گیا ۔۔۔۔

اپنا تو کوئ تھا نہیں پھر پیسوں کی لالچ اور پیٹ بھرنے کے لیے گرو نے جیسے جیسے لوگوں کے ساتھ مجھے کام کے لیے یوز کیا میں ہوتی رہی یہی سوچ لیا تھا یہی شاہد زندگی ہے ۔۔۔۔

آج تک جس بھی مرد کے قریب گی میں سب نے میری مجبوری کا فائدہ اٹھایا میں بھی بے حس ہو گی سب کو اٹھانے دیا فائدہ ۔۔

باقی سب مردوں کی طرح میرے دل میں خواہش جاگی کہ ایول کے قریب جاو ۔۔۔۔

اسے اپنی طرف مائل کرنے کے لیے سب کچھ کیا ۔۔۔

میں جانتی تھی وہ چھوٹا مجھ سے لیکن مجھ پر ہوس سوار تھی اس کی ہر مار ڈانٹ کو اگنور کیا ۔۔۔۔

تم جانتی ہو میرا اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی وہ مجھے گولی سے شوٹ کیوں نہیں کرتا ۔۔۔۔

زوبی اپنی ساری کہانی بتاے اس کی طرف دیکھ بولی تھی ۔۔۔۔

کیوں۔۔۔

رعنا اپنی ہلکی آواز سے بولی تھی ۔۔۔۔

کیونکہ جس نے خود درد برداشت کیا ہو وہ کبھی دوسرے کو درد نہیں دیتا ۔۔۔

ایول میری بے باکیوں میری ہر چالاکی کو جان کر بھی چپ تھا اگنور کرتا تھا اور یہی اگنورنس ہی مجھے پاگل کرتی تھی ۔۔۔

اگر میں کہو کہ آج ایول کی ہی وجہ سے زندہ ہو تو بری بات نہیں ہے گرو کے کام سے زیادہ مجھے ایول کے کام کی ہر خبر ہوتی تھی ۔۔۔۔

مطلب تم بڑی ہو اس سے ۔۔۔

رعنا ساری بات سنتی شوک ہوتی بولی تھی ۔۔۔

ہاں بڑی ہونے کا فائدہ یار اس کے قریب ہی نہیں گی۔۔۔

زوبی دانت نکالے بے شرمی سے بولی تھی ۔۔۔۔

شکل سے لڑکی لگتی ہ۔۔۔

باڈی کی سرجری کروائی ہے یار ۔

اچھا سنو تمہارا حازم آج بھی ویسا ہے جیسے پہلے تھا میں نے اسے چھوا بھی نہیں ہے وہ بس تمہیں ڈرانے کے لیے یہ سب کیا تھا ۔۔۔۔

میں اپنی ہوس میں پاگل ہو چکی تھی اس سے پہلے میں ہر حد پار کرتی جب دل میں خیال آیا جس انسان نے مجھے بچایا ابھی تک زندہ رکھا اس انسان کی عزت پر ہاتھ کیسے ڈال سکتی ہو۔ ۔۔۔

بس وہی روک گی میں ۔۔۔

زوبی پانی پیتی اپنا کارنامہ سنا رہی تھی ۔۔۔

رعنا کا منہ حیرت سے کھولا تھا ۔۔۔

تم توبہ کر لو اللہ معاف ک۔۔۔۔

مجھ جیسی گناہگار بندی کو معافی کیسے مل سکتی ہے میرے تو گناہ بھی پہاڑ سے زیادہ ہے ا۔۔۔۔

ہمارا رب بہت غفور ورحیم ہے وہ معاف کر دیتا ہے ہمارے ہر گناہ اور غلطی کو تم بس توبہ کرنے والی بنو۔ ۔۔۔

رعنا زوبی کا چہرہ دیکھ آرام سے بولی تھی ۔۔۔۔

کیا واقعی ایسا ہو سکتا ہے لیکن مجھ جیسی لڑکی کو کون یہ سب سکھاے گا میں تو اچھی لڑکی ب۔۔۔

میں سکھاؤ گی تمہیں سب تم دل میں عہد کرو کہ اپنا توبہ جاری رکھو گی تاکہ معافی مل سکے ۔۔۔۔

پتہ نہیں لوگ کیوں نہیں سمجھتے ہر برے انسان کے پیچھے اس کے حالات اسے ایسا بناتے ہے ہم لوگ بس اس انسان سے نفرت کرتے ہے جو برا ہو بجاے یہ جانے کے اس کے پیچھے کیا وجہ ہو سکتی ہے ۔۔۔

تم اپنی مجبوری اور بے بسی کی وجہ سے اس گناہ کی دلدل میں پھس گی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہو گا میں تمہیں اس سے باہر نکالو گئ زوبی ۔۔

زوبی چہرے پر بچوں جیسی خوشی لاتے بول رہی تھی جب رعنا اسے ہگ کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

چلو ٹھیک ہے میں بھی اپنے ہر گناہ کی معافی مانگنے کو تیار ہو ۔۔۔۔

زوبی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔

اور ہاں کل سے تم یہی ہمارے ساتھ رہو گی نکل جاؤ اس دلدل سے میں تمہارا روم سیٹ کرواتی ہو ۔۔۔

رعنا اس کا گال چومتی بولی تھی ۔۔۔

اسے ترس آیا تھا اس کے بات سنتے وہ جان گی تھی زوبی اپنے حالات کو دیکھ کر بھٹک گئی تھی جیسے وہ اب اسے سیدھے راستے لاے گی ۔۔۔

حازم سے اجازت لے لو کہی وہ کچھ کہے نہ ویسے تمہارا شوہر ہے ہاٹ بند۔۔۔۔

اہہہہہہ اہہہہہہہ۔۔۔۔

زوبی اب فریش ہوتی اسے تنگ کرتی بول رہی تھی جب رعنا کا مکہ کمر پر کھاتی وہ چلائ تھی ۔۔۔

اچھا سنو اسے لیموں کا جوس دو پھر وہ ہوش میں اے گا ویسے نہیں ۔۔۔

مسکراتی رعنا کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔

ہاےےے میرا برفانی ریچھ میں آ رہی ہو ۔۔۔

خوشی سے پاگل ہوتی وہ وہاں سے بھاگتی چیختی ہوی بولی تھی ۔۔۔

زوبی مسکراتی ہوئی اب دوسرے روم کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔۔

تمہیں کیا ہوا سب ٹھیک ہے ۔۔۔

ایول کے ہاؤس سے نکلتے حدید گھر آیا تھا جب روم میں انٹر ہوتے روشانے کو بیڈ پر لیٹے دیکھ فکر مند ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

پین ہو رہا پیٹ می۔۔۔

کچھ ایسا ویسا تو نہیں کیا تم نے ۔۔

وہ اسے سرد نظروں سے دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔

کیا تھا میں یہ نہیں چاہتی منحوس تمہیں بےبی چاہے ہم اپنا لاے گے یہ تمہارا نہیں ح ۔۔۔۔

کدھر پین ہو رہا زیادہ ڈاکٹر کے پاس چلے ۔۔۔۔

اس کی بات اگنور کیے وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔

ہادی م۔۔۔۔

روشنی مجھے اس پر بات نہیں کرنی سو پلیز یہ بتاؤ پین کدھر زیادہ ہو رہا ہے ۔۔۔۔

اس پر جھکتے وہ اس کے پیٹ کو چھوتے تحمل سے بولا تھا ۔۔۔۔۔

ی۔یہاں ہو ۔رہی ڈا ڈاکٹر نے کہا تھا جب پین ہو یہ ٹیوب لگانا ۔۔۔۔

اس کی انگلیوں کا لمس اپنے پیٹ پر پاتے وہ ہکلاتی سائیڈ پر پڑی ٹیوب کی طرف اشارہ کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

وزن اٹھایا ہو گا تم نے جانتی بھی ہو کہ اب ایسی حالت نہیں تمہاری لیکن ۔۔۔۔۔

ٹیوب پکڑتے وہ اس کی رونی شکل دیکھ سخت الفاظ کہتے روکا تھا ۔۔۔۔

خیال رکھا کرو یار ماما کو کہا دیا کرو یا بڑی ماما کو جانتی ہو کتنا بزی بندہ ہو ۔۔۔

ٹیوب لیتے اب وہ اس کا گال سہلاتے بولا تھا ۔۔۔

تم نہ تو جاب کرتے نہ ہی چاچو کے آفس جاتے سارا دن گھر ہی پڑے رہتے ہو یونی تم نہیں جانتے بزی ک۔۔ن

ویلا بندہ رہنا بھی کام ہے سمجھی خیال رکھا کرو اپنا اب تم اکیلی نہیں ہو ۔۔۔

اس کی شرٹ کے بٹن کھولتا وہ بات کاٹتے بولا تھا ۔۔۔۔

ی۔یہ کیا کر ر۔۔۔۔

ٹیوب لگانی ظاہر سی بات ہے شرٹ ریمو کرو اب ویسے تو نہیں لگا سکتا ۔۔۔۔

روشانے گھبراتی اس کی کاروائی دیکھتی بول رہی تھی جب وہ گھورتا بولا تھا ۔۔۔۔

ہ۔ہادی ۔۔۔۔

کیا ہے اب ۔۔۔۔

ایک بار پھر وہ بولی تھی جب وہ پھر سے بیزار ہوتا بولا تھا۔۔۔۔

و۔وہ لائٹ اف۔۔۔۔

یار میں اب یہ بجلی تاروں کو ہاتھ نہیں لگا رہا تم کسی ملازم کو کہنا لائٹ ٹھیک کر د۔۔۔۔

میں کہہ رہی ہو لائٹ آف کرو پاگل پھر ٹیوب لگانا ۔۔۔۔

ہادی اس کی بات کاٹتا اب واقعی بیزار ہوتا بول رہا تھا جب وہ گھورتی بولی تھی ۔۔۔۔

وہ چاہتی تھی حدید لائٹ آف کرے تو وہ واش روم بھاگ جاے لیکن اپنی کوشش ناکام ہوتے دیکھ وہ ڈری تھی ۔۔۔۔

کیونکہ حدید نے قالین سے اپنا جوتا اٹھاے دیوار پر لگے سوئچ بورڈ پر مارا تھا جب ٹھاہہ کی آواز کے ساتھ روم کی لائٹ آف ہوئ تھی ۔۔۔۔

اپنی یہ بدمعاشیاں میرے سامنے نہ کیا کرو روشن دان ۔۔۔۔

اب اندھیرے میں اس کی شرٹ اتارے اب پیٹ پر ٹیوب کی مساچ کرتا وہ سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

لویو زرافے بندر ۔۔۔۔

روشانے کا اس کا اپنا ایسے خیال رکھتا دیکھ پیار آیا تھا تبھی اس کی گردن میں بائیں حائل کیے وہ سرگوشی کرتی خودی مسکرای تھی ۔۔۔۔

لو یو ٹو میری روشن دان ۔۔۔۔

ہاہہاہاہاہہاہاہاہا ہاہہاہاہاہہاہاہاہ ہادی نہ کرو ۔۔۔۔۔

حدید اپنے کام سے فارغ ہوتا اپنی ناک اس کی شہ رگ پر سہلاتے بولا تھا جب وہ قہقہ لگاتی اسے ہگ کر چکی تھی ۔۔۔۔۔

اس کے کھکھلانے۔ کی آواز روم سے باہر جا رہی تھی جب روم سے گزارتے مستقیم نے یہ سنی تھی ۔۔۔

وہ مسکراے تھے ان کی بیٹی حدید کے ساتھ خوش تھی ۔۔۔

ہاے کتنا معصوم لگ رہا ہے میرا پیارا سا حازم ۔۔۔

افففف کتنا کیوٹ ہے ۔۔۔۔

رعنا بھاگتی روم میں آتی دھڑام کرتی ایول کے سینے پر بیھٹتی اس کے گال کو کیچھتئ بولی تھی ۔۔۔۔

ایول جو گہری نیند سویا ہوا تھا ۔۔۔۔

ہاےےے بھول گئ اسے یہ پلاؤ پھر ہی اسے ہوش اے گا ۔۔۔

رعنا نے جب دل کھول کر ایول سے پیار کیا تب یاد آیا اسے لیموں کا پانی پلانا تھا ۔۔۔۔

تبھی اس پر جھکتی وہ اس کے لبوں سے گلاس لگا چکی تھی۔ ۔

کتنے سکون سے سو رہا ہے کچھ کرنا چاہے ہاں ۔۔۔۔

رعنا اسے پرسکون دیکھ کچھ سوچتی ڈریسنگ ٹیبل سے ریڈ لیپ اسٹک اٹھاے واپس اس کے سینے پر بیٹھتی اب اپنی مرضی سے اس کے سینے پر لیپ شیپ بنا رہی تھی ۔۔۔۔

ہماری نیند کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ہماری مولانی جنگلی بلی بنے ہماری عزت پر ہاتھ ڈال رہی ہے ہاےےےےے۔۔۔۔

نیند سے کھولتی آنکھوں سے وہ اپنے سامنے جھکی رعنا کو بالوں سے پکڑتے اپنے چہرے کے قریب لاے سرگوشی کی تھی ۔۔۔۔

وہ جو اپنے کام میں مگن تھی اب ایول کی آواز سنتی ڈری تھی ۔۔۔۔

و۔و۔ہ کس نے عزت پر ہاتھ ڈالا جھوٹ کم ب۔۔۔۔۔

رعنا جلدی سے اٹھنے کی کوشش کرتی بول رہی تھی جب کروٹ چینج کیے وہ اس کے اوپر آیا تھا ۔۔۔۔۔

اگر ہماری عزت پر ہاتھ نہیں ڈالا تو کپڑے کدھر ہمارے پھر اور یہ کام بھی تمہارے ہے جانت۔۔۔۔۔

نہیں نہیں یہ میں نہیں کیا یہ مذاق تھا سوری اب جانے دو ۔۔۔۔

اپنی جان اس کے قبضے میں دوبارہ آتے دیکھ وہ بول رہی تھی جب وہ اپنے سینے پر لیپ اسٹک کے نشان اور شرٹ لیس ہوتے دیکھ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔۔

ہمممم۔۔۔

مذاق ایسا مذاق ہم بھی کرے گے ۔۔۔۔۔

ن۔نہیں ت۔تم سو ر۔رہے تھ۔۔۔۔۔

ایول اس کی شرٹ کے بٹن کھولے بول رہا تھا جب وہ گھبراتی بول رہی تھی جبھئ ایک ہاتھ سے اس کی کلاہیاں پکڑتے وہ لیپ اسٹک لبوں میں دباے اس پر جھکا تھا ۔۔۔۔۔

ح۔حازم لائٹ آن ک۔۔۔۔۔

رعنا بہانہ بناے بول رہی تھی جب سائیڈ پر پرے شیشے کے گلاس کو اوپر لگی لائٹ پر مارا تھا ۔۔۔۔

تبھی اچانک سارے روم کی لائٹ بند ہو چکی تھی ۔۔۔۔

جاہل عورت پاگل مجھے پھسا گی ایول کے جال میں ۔۔۔۔

اندھیرے میں پہلے اپنے سینے پر لیپ اسٹک چلتے اس کے بعد ایول کے لب محسوس کیے وہ جلتی ہوئی دل میں سوچا تھا ۔۔۔۔۔

ہم چاہتے ہے آج سے تم کسی سے بات نہیں کرو گی ڈیڈ ماما حور حدید کوئ بھی ہو کسی سے بات نہیں کرو گی بس میری سنو گی اور خود کی سناو گی بات ختم ۔۔۔۔

روم کی باقی لائٹ آن کرتا اب وہ بیڈ سے اٹھتا ہوا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

جہاں منہ پھلائے وہ سنہری بالوں کے ساتھ ویسے ہی لیٹی اسے ہی گھور رہی تھی ۔۔۔۔

چلو اٹھو اب ہمیں کچھ کھانے کو دو ۔۔۔

اسے آنکھ ونک کرتے وہ اب واش روم جاتا بولا تھا۔ ۔۔۔

خبردار اگر شرٹ اوپن کر کے دیکھا ہم نے کیا لکھا ہے رات کو دیکھنا ۔۔۔۔

رعنا جلدی سے لال چہرہ لیے اٹھتی شرٹ کھول رہی تھی جب وہ واش روم کے اندر ہی غرایا تھا ۔۔۔۔

یییییییی بھوت جن ہاےےےےے ۔۔۔

ڈر کے مارے وہ اب جلدی سے باہر کو بھاگی تھی ۔۔۔۔

ہاں ایسا ہی کرنا ا۔۔۔۔

ح۔حازم حا۔حازم۔حازم و وہ بابا

۔۔۔۔

ایول باہر ہال میں آتا فون میں بزی تھا جب کچن سے باہر آتی وہ روتی ہوئی اس کے سینے سے لگی بولی تھی۔ ۔۔۔

کیا ہوا ہے سب ٹھیک ہے اور یہ تو کیوں ر۔۔۔۔

بابا مجھے بابا کے پاس جانا انہیں ہارٹ اٹیک آیا ہے مجھے جانا ہے پ۔۔۔۔۔

بس نہیں جا رہی تم کہیں بھی فون پر بات کر لو بس باہر اپنے قدم بھی نہ نکالنا ۔۔۔۔

رعنا پھوٹ پھوٹ کر روتی بتا رہی تھی جب اپنے ہاتھوں سے اس کے آنسو صاف کرتے وہ سرد لہجے سے بولا تھا ۔۔۔۔

پ۔پلیز حازم تم کہو گے میں جلدی آ جاو گی ا۔۔۔۔۔

جاو یہاں سے ورنہ ہم تمہیں ابھی ہارٹ اٹیک دے گے پھر سکون سے مر جانا ۔۔۔۔

وہ سوں سوں کرتی بول رہی تھی جب وہ غرایا تھا ۔۔۔۔

ن۔۔۔۔

جب کہا ہے دفع ہو جاؤ تو جاو ہمیں برادشت نہیں کہ ہمارے علاؤہ تم کسی کے لیے رو ۔۔۔۔

وہ بولنے کی کوشش کر رہی تھی جب وہ اسے دیکھے بولتا باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔

وہ روتی آنسو بہاتی وہاں سے بھاگ گی تھی ۔۔۔۔

“””بیس منٹ بعد ۔۔۔۔

ک۔کدھر لے کر جا رہے ہو میں ناراض ہ۔۔۔۔

وہ روٹھی وہی بیڈ پر بیٹھی رونے میں بزی تھی جب وہ بلیک ہڈی بلیک لونگ شوز چہرے پر ماسک لگاے وہ بھاری قدم اٹھاتا اسے جھٹکے سے گود میں اٹھتا باہر جا رہا تھا جب وہ بکھری حالت میں اسے مکے مارتی غرای تھی ۔۔۔۔

م۔می۔۔۔۔

وہ بولنے والی تھی جب ایک ہاتھ سے وہ اس کے لبوں پر ٹپ لگاتا باہر کھڑی ہیوی بائیک پر اپنے سامنے گود میں بٹھایا تھا ۔۔۔۔

جبکہ خود پر پہنی ہڈی وہ اس پر بھی آڑھ چکا تھا اس کے مضبوط چوڑے وجود کے اندر وہ ایک بچی بن کر سما چکی تھی جبکہ وہ منہ پر لگی ٹپ کی وجہ سے بس سوں سوں کر رہی تھی ۔۔۔۔

جیسے جیسے وہ اپنی بائیک کی سپیڈ تیز کر رہا تھا ویسے ہی وہ ڈرتی اس کے سینے میں چھپ رہی تھی ۔۔۔۔

یییییی ت۔تم مجھے مارنے والے ہو تبھی لے کر جا رہے ہو میں تو اپنے بابا سے بھی نہیں ملی تمہاری وجہ س۔۔۔۔

یییییییی ماماممممممممااااا بباببابابابابباباباباا۔۔۔۔

ہاہاہہاہاہاہابہاہاہاہہاہاہاہاہ۔۔۔۔

وہ ٹپ اپنے لبوں سے ہٹاے روتی ہوئی شکوہ کر رہی تھی جب ایول نے بائیک کی سپیڈ فل تیز کی تھی تبھی وہ چیختی چلاتی اس کے سینے سے لگی تھی ۔۔۔۔

تبھی اپنے چہرے پر اس کے سنہری بالوں کی لیٹیں ہوا سے پڑتے وہ دل کھول کر قہقہ لگا چکا تھا۔ ۔۔۔

اب دور جاتی اندھیرے میں بائیک پر رعنا کی خوفناک چیخیں تھی وہی ایول کے دل کھول قہقہے تھے ۔۔۔۔