Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 8)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 8)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
ٹھاہہہ ٹھاہہہہ ٹھاہہہہ۔۔۔
حدید اپنے بالوں کو جھٹکا دیتے بول رہا تھا جب ان سب کو دھماکے کہ آواز سنائ دی۔۔۔
س۔سوہا کدھر ہے آغا۔۔۔
حدید اچانک پریشان ہوتا آس پاس دیکھتا بولا تھا جہاں سوہا نہیں تھی۔۔۔
م۔۔
ٹھاہہہہ ٹھاہہہہ۔۔۔
لگتا ہے ایئرپورٹ پر حملہ ہو گیا سب یہی فرش پر بیٹھ جاٶ۔۔۔
اچانک وقار اپنی سکریٹ پاکٹ سے منی گن نکلاتا ہوا غرایا تھا۔۔۔
جبکہ سب شور مچاتے وہی بیٹھ چکے تھے کیونکہ دھماکے اور فائر کی آواز مسلسل آ رہی تھی ۔۔
وقار اور آغا اپنی گنز نکالے آس پاس دیکھنے میں بزی تھے ۔۔۔
جہاں وہ کھڑے تھے بس وہی ایسی آوازیں آ رہی تھی باقی سب فرش پر بیٹھ چکے تھے ۔۔۔
سب ہی سمجھنے سے قاصر تھے نہ ہی لوگوں کی ہلچل ہو رہی نہ شور پھر بھی فائر اور دھماکے کی آواز کہاں سے آ رہی ہے۔۔
یہ کیا سب فرش پر کیوں بیٹھے ہے اور ایسی آوازیں کہاں سے آ رہی ہے۔۔
سوہا سامنے سے آتی ان سب کی حالت دیکھ شوک ہوتی بولی تھی۔۔۔
تم ٹھیک ہو۔۔
آغا اسے صیح دیکھ کر فکرمند ہوتا بولا تھا۔۔۔
ہاں میں تو ٹھیک ہو فادی کو لینے گی تھی وہ آ گیا ہے ۔۔
سوہا سکون سے مسکراتی بولی تھی۔۔۔
تم نیچے بیٹھ جاٶ ایئرپورٹ پر حملہ ہو گی ہے۔۔
امن کانوں میں انگلیاں دے سوہا کی طرف دیکھتی بولی تھی۔۔۔
ارے کون سا حملہ یہ رنگ ٹون ہے اس چوزے کی جو خود بزدل بن کر سب کے ساتھ بیٹھا ہے ۔۔
حدیددددددد فون اٹھاٶ اپنا۔۔۔
سوہا حدید کے پاس جاتی طش سے غرای تھی ۔۔
جب وہ تیر کی طرح سیدھا کھڑا ہوۓ پاکٹ سے رنگ کرتا موبائل نکالے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اوو سوری ڈیڈ کی کال ہے یہ رنگ ٹون تھی میں ہی بھول گیا۔۔۔۔
حدید دانت نکالے اب فون کان سے لگا چکا تھا۔۔۔
نکمے ہڈ حرام کہاں رہ گے ہو منان آ گیا ہے پلیس لیکن فارس کو لے کر تم سب نہیں آے شرم کرو بچیوں کو گھر لے کر آٶ ۔۔۔
صام طش میں آتے اس پر غراے تھے۔۔۔
جی ڈیڈ۔۔۔
اتنی ڈانٹ سنتے وہ اداس چہرہ بناۓ بولا تھا۔۔۔
لالہ ایسا تو مت کیا کرے ابھی فورًا رنگ ٹون چینج کرے دل کی دھڑکن ابھی تک تیز ہے میری۔۔۔
زینب پھولے گال سے برا سا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔
اچھا کر لو گا پہلے فارس سے مل لے ہم سب ۔۔۔
حدید آس پاس دیکھتا ہوا بولا تھا۔۔۔
آ گی فارس لالہ آگی۔۔۔
سامنے سے آتے فارس کو دیکھ امن جوش سے چلاتی بولی تھی۔۔۔
ارے ڈھول والے بھای آپ سب کیا منہ دیکھ رہے بجاۓ ہماری کیوٹ سی شہزادی آی ہے۔۔۔
حدید بھی خوش ہوتا بولا تھا۔۔۔
السلام و علیکم ایوری ون ۔۔
فارس ان سب کے قریب آتا ہوا مسکراتا بولا تھا۔۔۔
سب ہی خوش تھے اسے سامنے دیکھ کر کافی سالوں بعد وہ اپنے وطن آیا تھا۔۔۔
سب سے زیادہ خوشی تو سوہا کو تھی جو آج کھل کر مسکرا رہی تھی۔۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔
سب نے شور و زور سے چلاتے کہا تھا۔۔۔۔
وہاں کھڑے شخص نے رشک سے یہ منظر دیکھا تھا کیسے محبت اور پیار سے اپنے کزن کو لینے آے تھے وہ سارے ۔۔۔
کیسے ہو سب ۔۔
فارس سب کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔
ان سب کو چھوڑو یہ بتاٶ میری چاکلیٹ لاے ہو ۔۔۔
حدید سب کو سائیڈ پر کرتا فارس کے قدموں میں بیٹھا بولا تھا۔۔۔
بھوکا ۔۔۔
روشانے اپنے بالوں کو جھٹکا دیتی بولی تھی۔۔۔
ارے چوزے فادی کی بھی ویڈیو بناٶ چلو آج میں بناتی ہو ۔۔۔
سوہا زینب سے کیمرہ لیتی ہوئ بولی تھی۔۔
جیسا کہ آپ سب دیکھ رہے یہ ہے سابق آی جی منان کھوکھر کا اکلوتا بیٹا میجر فارس منان کھوکھر جس نے اپنی بہادری کے کافی جوہر دیکھاۓ ہے فارس نے ثابت کیا ہے وہ اپنے وطن سے کتنی محبت کرتا تھا تبھی کافی لوگوں کی جان بچانے کی خاطر فارس نے اپنی جان بھی داٶ پر لگا دی تھی ۔۔۔
سوہا اس کی ویڈیو بناۓ مسکراتی بول رہی تھی ۔۔
جہاں وه اپنے پانچ گارڈز کے درمیان وہیل چیئر پر بیٹھا سب سے مل رہا تھا۔۔۔۔
ک۔۔
لیکن یہ تو معذور ہے سیڈ۔۔۔
سوہا ابھی بول رہی تھی جب وہاں کھڑی ایک لڑکی منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔
جو انسان اپنی وطن کی خاطر اپنی ٹانگوں سے بھی جاتا رہے وہ معذور نہیں ہوتا بلکہ بہادر ہوتا ہے میری نظر میں میجر فارس بہادر ہے ۔۔
تم اپنی شکل یہاں سے لے کر نکلو ورنہ تمہاری زبان کاٹ دو گی انہہہ جاہل عورت۔۔۔
سوہا شیرنی کی طرح اس لڑکی پر غراتی بولی تھی ۔۔۔
چھوڑو سب فادی آ گیا ہم خوش ہے اپنے آغا سے نہیں ملو گے۔۔۔
احمد مسکراتا ہوا فارس کے قدموں میں بیٹھتا بولا تھا۔۔۔
ارے آغا آپ بڑے ہے یہ کیا کر ر۔۔۔
مجھے ہمیشہ سے آرمی بہت پسند تھی تم سب جانتے ہو میں نے جوائن کی تھی لیکن اپنی پیاری بیٹی کی خاطر مجھے چھوڑنی پڑی وانی کو آرمی سے ڈر لگتا تھا تبھی لیکن تم نے بہت بہادری دیکھای ہے ویسے بھی فوجی ہو میں عزت کرتا ہو آرمی کی ۔۔۔
احمد فارس کے چہرے کو چومتے بولا
تھا۔۔۔
فارس کے گال پر کس کرتے دیکھ سوہا اور امن جلیس ہوئ تھی۔۔۔
کوئ جل رہا ہے آغا ہاے آگ لگی ہے کہی ۔۔۔
سوہا اور امن کے سرخ چہرے دیکھ حدید نے ہانک لگای تھی۔۔۔
چھ فٹ لمبا قد سفید سرخ رنگ بڑی بڑی سنہری آنکھیں بھورے بال بھوری ہلکی شیو گلابی لب نرم دل انسان اتنا نرم دل یہ تو چور کو چوری کرنے سے بھی نہیں روکتا ۔۔۔
ہہاہاہہاہاہاہاہااہا سب کا فادی میری یہ شہزادی ہے ۔۔۔۔
پیاری سی ہر بات مان جاتا ہے غصہ زرا نہیں آتا اس کو ہر وقت مسکرانا اس کا کام ہے ۔۔۔
حدید بھی اس کے قریب بیٹھتا دانت نکالے بولا تھا۔۔۔
تم نہیں بدلے۔۔۔
فارس مسکراتے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرتا بولا تھا۔۔۔
اسے پاکستان آنے سے ڈر لگا تھا کہ کہی اس کے کزنز اس کا مذاق نہ بناۓ لیکن یہاں تو سب اس سے ایسے باتیں کر رہے تھے جیسے انہیں فرق نہیں پڑا تھا اس کی معذوری پر بلکہ وہ سب کو دانت نکالے باتیں کر رہے تھے۔۔۔
تبھی اب وہ سکون میں آتا سب سے باتیں کر رہا تھا۔۔۔
سر چلے منان سر کی کافی کالز آ چکی ہے ۔۔۔
اس کا ایک گاڈر وہیل چیئر کو پکڑتے سر جھکاے بولا تھا۔۔۔
تم جاٶ فادی کو ضرورت نہیں تم سب کی میں ہو اس کے پاس۔۔۔
اچانک سوہا سیریس ہوتی اس کی وہیل چیئر پکڑے سب گارڈز کو سائیڈ پر کرتی دو ٹوک بولی تھی۔۔
اب وہ اسے لے دور جا رہی تھی سب کو پتہ تھا وہ کسی کے ساتھ فارس کو شیئر نہیں کرتی تھی بچپن سے اب تو وہ کچھ زیادہ ہی اس کے معملے میں پوزیسو بن چکی تھی ۔۔۔
یہ ہینڈل کر لے گی تم سب مجھے اٹھا لو ہاے میری کمر درد کر رہی ۔۔۔
ویسے بھی تم سب نے فری میں پیسے لینے ہے فارس سے میرے ہی کام کر دو ۔۔۔
حدید ان سب گاڈرز کے پاس جاتا بولا تھا جو کالے باڈی بلڈر تھے ان شوک ہوۓ اپنے سامنے اس نمونے کو دیکھ رہے تھے جو بچوں کی طرح باہیں کیے بول رہا تھا۔۔۔
ہاہہاہاہہاہاہ۔۔
سب کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
حدید کی حرکت پر کیونکہ اب وہ دو گاڈرز کے شولڈر پر بیٹھا دانت نکالے سب کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
سب ہی اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھتے جا چکے تھے بائیک وہ گھر بھیج چکے تھے۔۔۔
———————————————————–
یہ کیا طریقہ ہے بابا ابھی ہم نے وانی کی شادی نہیں کرنی یہ لوگ آ کر بیٹھ بھی گے ہے ۔۔
سب ابھی گھر آے تھے جب ان سب پر یہ بات دھماکے کی طرح گری تھی وانی کو دیکھنے ہمدانی صاحب کی فمیلی آی ہے ۔۔
تبھی آپے سے باہر ہوتا آغا آہان کے سامنے بولا تھا۔۔
ریلکس بیٹا انہوں نے بس دیکھنا کون سا شادی کرنے والے ویسے بھی گھر آے مہمان کو ہم نکال تو نہیں سکتے ۔۔
تم تو میرے پیارے بیٹے ہو چلو موڈ اچھا کر کے ان کے بیٹے سے مل لو ۔۔۔
ہیر روم میں آتی احمد کے بالوں کو سیدھا کرتی پیار سے بولی تھی۔۔
لیکن ماما یہ غلط ہے وانی ب۔۔۔
تم فکر مت کرو ہم سب وانی کی رضامندی پر ہی سب کچھ کرے گے اگر اسے لڑکا پسند نہ آیا تو انکار کر دے گے چلو جاٶ اب ۔۔
احمد بول رہا تھا جب ہیر دوبارہ اسے سمجھاتی بولی تھی۔۔۔
————————————————————
اب کیا کرے ہادی میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔
وانیہ سب کے ساتھ روم میں بیٹھی مسلسل روتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ریلکس کچھ نہیں ہو گا ہم سب مل کر کچھ کرتے ہے روشن دان کا میک اپ کی دوکان ہے ہم تمہارا میک اپ ہی برا کرے گے وہ انکار کر دے گے ۔۔
حدید ان سب کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔
مہر کے سوا سارے ہی اس کے روم میں بیٹھے ہوۓ تھے وہ اپنے آفس میں تھا بزی ۔۔۔
میں اپنی لالہ سے بات کرو انہیں بھی کوئ بتاۓ وانی کا رشتہ آیا ۔۔
امن پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں مہر سے بات کرو تم وانی اگر وہ تم سے محبت کرتا ہے تو منع کر دینا اس رشتے سے ورنہ جو اللہٌکو منظور ہو گا۔۔
روشانے اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھتی بولی تھی۔۔
مہر سے بات کر لے گی یہ پہلے اس انگریز کا کوئ حل نکالو میں دیکھ کر آیا ہو کافی پیارا اور خوش اخلاق لڑکا ہے ۔۔
حدید روم میں واپس آتا بولا تھا۔۔۔۔
ہممم چلو کچھ کرتے ہے ۔۔۔
زینب اور روشانے کچھ سوچتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
————————————————————
آپ سب کی بیٹیاں تو بہت پیاری ہے حد سے زیادہ خوبصورت۔۔۔
مسز ہمدانی اپنے سامنے آتی سوہا کو دیکھ سب سے بولی تھی۔۔۔
جبکہ سب ہی مسکرائ تھی ان کی بات پر ۔۔۔
فادی آو اندر چلتے ہے ۔۔۔
سوہا کسی کو بھی نہ بلاتی اہتشام کے پاس بیٹھے فارس کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔
لیکن اس سے بات تو ک۔۔۔
دفع کرو اس مرغے کو شکل دیکھو جیسے پولیو کا پیشنٹ ہو ۔۔۔
فارس اس سے منت کرتا بول رہا تھا جب سوہا بنا کسی کے لحاظ کیے دو ٹوک بولی تھی ۔۔۔
مسز ہمدانی نے اس کی بات پر برا سا منہ بنایا تھا۔۔۔
روحا نے اپنی بیٹی کو گھورا تھا جو انہیں اگنور کرتی اب فارس کو لے کر چلی گی تھی۔۔۔
یہ ہماری بیٹی ہے وانیہ آہان آفندی ۔۔
ہال میں انٹر ہوتی وانیہ کو سر پر اتنا لمبا ڈوپٹہ لیتے دیکھ ہیر زرا الجھتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
بیٹا اپنا چہرہ تو دیکھاٶ۔۔۔
مسز ہمدانی وانیہ کو سامنے بیٹھے دیکھ بولی تھی۔۔۔
جب اس نے نہ میں سر ہلایا تھا۔۔۔۔
آنٹی وانی بہت شرمالی ہے بس اس لیے۔۔۔
زینب اور روشانے ہال میں آتی زرا مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
اہتشام کی نظریں مسلسل سامنے بیٹھی وانیہ پر تھی۔۔۔۔
ہمیں رشتہ منظور ہے بس آپ لوگ ہاں کر دے۔۔۔
مسز ہمدانی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ہماری بیٹی کو منظور ہوا تو ہی ہاں کرے گے ہم ۔۔
ودرہ بیگم مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
آنٹی اہتشام کو وانیہ سے بات کرنے دے ۔۔
سوہا دوبارہ اندر آتی بولی تھی۔۔۔
ہاں مل لو بیٹا ۔۔۔
مسز ہمدانی اجازت دیتی بولی تھی۔۔۔۔
———————————————————–
یہ امن کدھر ہے روشنی۔۔۔
زینب امن کو ڈھونڈتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
شاہد گھر چلی گی وہ دیکھو جا رہی ۔۔۔
وانیہ کو اہتشام کے ساتھ ایک روم میں بیٹھاۓ زینب باہر آتی بولی تھی جب روشانے ونڈو سے دیکھتی بولی تھی جہاں وہ گاڑی میں بیٹھ رہی تھی۔۔۔
تم بہت پیاری ہو ۔۔۔
اہتشام کب سے چپ بیٹھی وانیہ کا ہاتھ پکڑے بولی تھی جب اس نے ڈوپٹہ ہٹایا تھا۔۔۔۔
اہہہہ اہہہہی کون ہو تم۔۔۔
کالے لمبے بال ڈراک کالی آنکھیں جن پر عیجب سا میک اپ کیا تھا لمبے دانت چڑیلوں والا میک اپ کیے حدید فل تیار ہوا اس کے سامنے بیٹھا تھا جب اہتشام کی چیخ نکل گی اس کا ایسا روپ دیکھ کر۔۔۔۔
ویسے تو وانی ایک کام سے باہر گی ہے تم مجھ سے مل لو میں تمہیں اس کا بتاتا ہو۔۔۔
حدید اپنے ہاتھوں پر لگے نقلی ناخنوں کو دیکھ بولا تھا۔۔۔
دیکھو وہ سگریٹ پیتی ہے ا۔۔۔
و۔وانی سگریٹ پیتی ہے کیااااا۔۔۔
حدید روشانے اور زینب کو دیکھ اپنی ٹرین جیسی زبان کے جوہر دیکھانے میں بزی ہو چکا تھا جب وہ شوک ہوتا چلایا تھا۔۔۔
ہاں جب اسے شراب نہ ملے تب پی لیتی سگریٹ ۔۔
اور سب سے بڑی بات یہ دیکھو کوئ اسے روکے تو گن سے شوٹ بھی کر دیتی ہے ۔۔۔
حدید اسے اور ڈراتا ہوا احمد کی گن اس کے سامنے رکھتے بولا تھا۔۔
و۔وانی گن بھی یوز کرتی ہ۔۔۔
اہتشام ڈرتا ہوا بول رہا تھا جب حدید بولا ۔۔
اس کے خلاف کوئ بات کی جاۓ وہ منٹوں میں شوٹ کرتی ہے ۔۔
حدید اپنی مسکراہٹ روکے اپنی نقلی زلفوں میں انگلیاں چلاۓ بولا تھا۔۔۔
انہوں نے وانیہ کو مہر سے ملنے بھیجا تھا تبھی اس کی جگہ حدید لڑکی بن کر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
روشانے زینب حدید سب نے اسے ڈرانے کی فل کوشش کی تھی اور وہ خوش بھی تھے وہ اس رشتے سے انکار کر دے گا ۔۔۔۔
لیکن باہر جا کر اس نے مسز ہمدانی سے ہاں میں جواب دیا تھا اسے لڑکی پسند آ گی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
یہ کیا طریقہ تھا اس نے ہاں کیسے کی میں نے فل کوشش کی تھی وہ انکار کر دے۔۔۔
رات کو حدید سب کے ساتھ بیٹھا اپنا سر پکڑے بولا تھا ۔۔۔
پریشان تو سب ہی تھے انہوں نے کیا کچھ نہیں کیا تھا وہ انکار کر دے لیکن وہ تو مان ہی گیا۔۔۔۔
وانی تم بھی کچھ بولو یار جب سے آی ہو چپ ہو۔۔۔
خاموش بیٹھی وانیہ کو دیکھ زینب بولی تھی۔۔۔۔
کیا بولنا ہے رشتہ آیا ہے تو شادی ہو گی آغا آپ ہاں کر دے لیکن ایک شرط ہے ۔۔۔۔
وانیہ سرد لہجے سے احمد کا ہاتھ پکڑے بولی تھی اسے ایک نظر اچھا نہیں لگا تھا اپنی وانی کے لیے اہتشام کا رشتہ ۔۔۔۔
بولو میری جان ۔۔۔
احمد اس کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
مہر اور امن کو چھوڑ وہاں سب ہی بیٹھے تھے ۔۔۔
لالہ میں شادی کرنے کو تیار ہو لیکن دو دن کے اندر شادی ہو کل مہندی پرسوں بارات ۔۔
وانیہ کسی کی طرف نہ دیکھتی صرف احمد کو اپنا فیصلہ سنا چکی تھی۔۔۔
دیکھو وانی لڑکی میں بنا تھا اسے میں پسند آیا ہو تم کیوں ہاں کر رہی ہو مہر سے بات ن۔۔۔
لالہ بولے آپ ایسا کر سکتے ہے میں بابا کی خوشی کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہو ۔۔
آپ بس کل مہندی کا فکشن رکھ لے ۔۔
اس کے علاوہ میں کوئ بات نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔
حدید بول رہا تھا جب وانیہ اسے اگنور کرتی ایک دفعہ پھر بولتی ہوئ وہاں سے اٹھ کر چلی گی تھی۔۔۔
جہاں پہلے خوش تھے وہی اب سب اداس ہو چکے تھے سب کے ذہین میں ایک ہی بات تھی کیا ایسی بات ہوئ جس کی وجہ سے وانیہ مہر کی محبت کو بھول کر اس لڑکے سے شادی کرنے کو تیار ہو گی جس کو وہ سب ناپسند کر چکے تھے ۔۔۔
حدید روشانے زینب سوہا کی نظر میں اہتشام ایک اچھا لڑکا نہیں تھا ۔۔۔
آغا آپ مجھے دو منٹ دے میں ابھی وانی س ۔۔۔
رک جاٶ حدید میں خود پریشان ہو ایسا کیا ہوا وانیہ کو جو شادی کرنے کو تیار ہو گی۔۔۔
مجھے بات کرنے دو اگر وہ پھر بھی راضی ہوئ تم سب صبح تیار رہنا اس کی مہندی کے لیے ۔۔
اب جاٶ سو جاٶ سارے ۔۔۔
حدید کھڑا ہوتا بول رہا تھا جب احمد سکون
سے کہتا وہاں سے واک آٶٹ کر چکا تھا۔۔۔
یہ غلط ہے لالہ میں ہرگز اس کی شادی میں نہیں آو گی ۔۔
اچانک زینب شدید غصہ کرتی آنسو بہاتی وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔
ریلکس حدید تمہارے لیے ٹیشن لینا ٹھیک نہیں ہے تم آو میرے ساتھ۔۔۔
سوہا سر پکڑے حدید کو اپنے ساتھ لے کر جاتی ہوئ تھی کیونکہ شدید غصے سے اس کی براٶن آنکھیں ریڈ ہو چکی تھی۔۔۔
سوہا کی بات پر اچانک روشانے کو بھی فکر ہوئ تھی حدید کی حالت دیکھ پہلی دفعہ اس نے اس کی ایسی حالت دیکھی تھی ۔۔
سب ہی پریشان ہو چکے تھے وانیہ امن مہر ان سب کو کیا ہوا تھا ۔۔۔
جو ایکدم سے تینوں بدل گے تھے۔۔۔
روشانے بھی پریشان ہوتی اپنے روم میں چلی گی تھی ۔۔۔
اس بات سے انجان صبح کیا ہونے والا تھا۔۔۔
