Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 45) Last Episode (Part - 1)

581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 45) Last Episode (Part - 1)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

“””کچھ گھنٹے پہلے ۔۔۔۔

سوں سوں سوں۔۔۔۔

یار اب چپ ہو جاؤ لالہ ایسے ہی ہے میں بات کرو گا لالہ سے وہ دل کے برے نہیں ہے بس انہیں یہ سب نہیں پسند ورنہ وہ تو کم ہی غصہ کرتے ہ۔۔۔۔

کم غصہ ہادی یہ کم تھا جب وہ دھاڑے ایسا لگا جیسے سانس ہی نکل گیا میرا دیکھو چھو کر محسوس کرو میری ہارٹ بیٹ ابھی تک تیز ہوئ ہے ۔۔۔

اتنی چھوٹی بات پر ایسی غراہٹ افففففف۔۔۔۔

ایول کی ڈانٹ سینتے روشانے روم میں روتی آئ تھی جہاں حدید پری وش کو سلا رہا تھا تبھی اس کی سنتے وہ اس کے پاس آتا سمجھاتے بول رہا تھا جب وہ پھر سے روتے ہوے اپنے سینے پر اس کا ہاتھ رکھتے بولی تھی ۔۔۔۔

واقعی اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا ۔۔۔۔

لالہ کو بچپن میں وانی سے دوستی کرنی پسند تھی کیونکہ وہ سیریس اور معصوم تھی لیکن وانی کو لالہ پسند نہیں تھے اسے مہر پسند تھا ۔۔۔

وہی رعنا تو اسی عمر میں لالہ کے عشق میں پاگل تھی کسی میں اتنی ہمت نہیں ہوتی لالہ کو کوئ کچھ کہہ پاے مس فائر ہی تھی جو لالہ کو تنگ کرتی اس کی دشمن بنی ۔۔۔

لالہ کو کبھی دوستی نہیں پسند تھی ان کا کائ دوست نہیں تھا بلکہ ان کے دشمن لاتعداد تھے یہی وجہ تھی وہ مس فائر کو دشمن سمجھتے تھے ۔۔۔

تبھی وہ مس فائر کی دشمنی کو اتنا سیریس لے گے کہ اس پر حق جماتے تھے دونوں ہی پاگل والے دشمن تھے ایک دوسرے کے ۔۔۔۔

تم یہ سوچو وہ تب اسے دشمن مانتے تھے تو کتنے سیریس تھے اس کے معاملے میں وہ دونوں کی دشمنی میں کسی تیسرے کو پسند نہیں کرتے تھے ۔۔۔

اب تو وہ لالہ کا جنونی عشق بن چکی ہے تو لالہ کچھ زیادہ ہی پویسوز ہو گے اس کے لیے تبھی وہ ڈانٹے تھے ۔۔۔۔

حدید اسے چپ کرواے آرام سے بولا تھا ۔۔۔۔

اچھا لیکن لالہ کو سوچنا چاہیے رعنا ان کے علاؤہ ہماری بھی کچھ لگتی ہے ۔۔۔۔

وہ اپنی ناک صاف کیے اس کی طرف دیکھ بولی تھی چہرے پر ابھی بھی ناراضگی والے تاثرات تھے ۔۔۔۔

جنونی انسان کو پسند ہوتا یہ سب۔ وہ سمجھتے ہے مس فائر بس ان کے لیے بنی ہے ۔۔۔

مطلب تم جنونی نہیں اپنے لالہ جیسے ۔۔۔

روشانے اب اس سے دور ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہاےےے میں بڑا معصوم سا ہو ۔۔۔۔

وہ اس کا چہرے ہاتھوں میں لیے مسکراتے بولا تھا ۔۔۔

ہم سب کو کیوں نہیں بتایا تھا تم سی ڈی آفسرر ہو بلکہ ایول کے بین ہو ۔

وہ اس کی چمکتی براون آنکھوں میں دیکھ بولی تھی ۔۔۔۔

تمہیں بین یاد ہے ۔۔۔

وہ اپنے لبوں کو دانتوں میں دباے مسکراتا اس کے لال چہرے کو دیکھ بولا تھا۔۔۔۔

پتہ میں نے اس بین کو کتنی گندی گالیاں دی تھی جب وہ جنگل والی حرکت کی تھی میں بہت روی تھی ۔۔۔

اور تم نے مجھے ہی ڈرایا ۔۔۔۔

بین کا جنگل والا سین سوچ کر وہ لال چہرہ لیے اسے مکے مارتی طش سے بولی تھی ۔۔۔۔

ہاہہاہاہہاہاہ ہاہہاہاہہاہاہ یار ایک کس ہی تھا میں اب پھر کر دیتا ہ۔۔۔۔

وہ کس تھا تمہاری نظر میں ۔۔

میری سانسیں نکل گئ تھی یہ سوچ کر میرے جسم پر کسی غیر مرد کا لمس آیا ہے بہت برے ہو تم بہت برے ہو ۔۔۔

وہ قہقہ لگاتے اسے سینے سے لگاے بول رہا تھا جب وہ پھر غرای تھی ۔۔۔۔

چار سال پہلے میری لالہ سے ملاقات ہوئی تھی ۔۔۔

سی ای ڈی بھی لالہ کو ڈھونے کے لیے جوائن کی تھی میرا پہلا کیس تھا گروجی جیسے حیوان کو پکڑنا ۔۔۔

میری ہر کوشش کو ایول نام کا بندہ ناکام بنا دیتا تھا میرے ہر پلان کو وہ فلوپ کر دیتا تھا ۔۔۔۔

میری ہر چال کو وہ آسانی سے ناکام کر دیتا تھا ۔۔۔

میرے لیے گروجی سے پہلے اس ایول کو ختم کرنا ضروری ہو گیا تھا ۔۔۔

ایول کو اپنے جال میں کیسے پھسایا یہ میں جانتا ہو ۔۔۔

جس دن ہم دونوں آمنے سامنے ہوے تب وہ زنجیروں میں جکڑا کھڑا مجھے ہی گھور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

میں بہت خوش تھا اس رات کہ ایول کا خاتمہ میں کرو گا ۔۔۔۔

بلیک ہڈی پہنے بلیک ہی لونگ شوز گلوز پہنے چہرے پر بلیک ماسک لگاے وہ مسلسل مجھے باندھا دیکھ رہا تھا ۔۔۔

اس لمبے چوڑے وجود کو اتنا پر سکون دیکھ میں حیران تھا کہ جو شخص میرے ہر پلان کو ناکام بناتا رہا اب مجھ پر غصہ کرنے کی بجاے پر سکون کیوں ہے ۔۔۔

اسے ختم کرنے کے جوش میں اتنا پاگل ہوا کہ بنا سنے میں نے دو گولیاں اس پر شوٹ کی ۔۔۔

ایول پرسکون کھڑا تھا ۔۔۔

اس کے سینے سے نکلتے خون اور ہڈی کو خون سے بھرتے دیکھ مجھے شوک لگا تھا وہ زرا چلایا نہیں تھا اففف تک نہیں کی ۔۔۔۔

جیسے ہی میں نے ایول کی مسکراتی گرین آنکھوں میں دیکھا تب میں پریشان ہوتا اس کی طرف بھاگا تھا زنجیروں سے کھولتے اس کا جب ماسک اتارا تو حیران رہ گیا تھا وہ میرا لالہ تھا میری جان تھی جس کو سالوں سے ڈھونڈ رہا تھا وہی میری باہوں میں لیٹا مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

میری سانسیں تک روکی تھی جب وہ اپنے خون آلود ہاتھ سے میرا چہرہ چھوتے مسکراتے ہلکی آواز سے بولے تھے بین ۔۔۔۔

بچپن سے انہیں میں مسٹر بین لگاتا تھا جو سب کو ہنستا تھا تبھی وہ مجھے پیار سے بین کہتے تھے ۔۔۔

ان کی بند ہوتی آنکھوں کو دیکھ میں چیخا تھا چلایا تھا کہ میں اپنے لالہ کو کھو دو گا ۔۔۔۔

سب کچھ بھلاے میں انہیں ہاسپٹل لے کر گیا تھا ۔۔۔

بڑی دعاؤں کے بعد وہ ٹھیک ہوے تھے وہ دن اور اج کا دن ایول اور بین نے مل کر ہر برائ کو ختم کیا تھا ۔۔۔

میرے ہر میشن میں لالہ ساتھ ہوتے تھے سب کے سامنے رہنے والا حدید صام آفندی ایک بزدل انسان تھے لیکن ہر برے انسان کے لیے بین تھا میں ایول کا رائٹ ہائنڈ ۔۔۔

یہاں تک دادا جان کی تدفین میں بھی لالہ ہمارے ساتھ موجود تھے ۔۔۔

ان کے جنازے کو چوتھا کندھا لالہ نے دیا تھا نوفل بابا اور میرے علاؤہ کوئ نہیں جانتا تھا وہ بھی اس جنازے میں شامل تھے ۔۔۔

لالہ اس رات دادا کی قبر پر بیٹھ کر بہت روے تھے ۔۔

جس رات میری طیبعت خراب ہوئ جب آغا نے انجکشن لگایا تھا اس رات بھی لالہ میرے پاس روم میں اے تھے ساری رات وہ میرے لیے جاگتے رہے ۔۔۔

وہ ہم سب افراد کا سایہ بنے رہے ہمیشہ کبھی کسی کو محسوس نہیں ہونے دیا وہ ہمارے ساتھ ہے ۔۔۔

جبکہ ہم سب یہی سوچ کر اتنے سال گزار دے وہ مر چکے ہے ۔۔۔۔

لیکن وہ تو اپنے سایے میں ہم سب کو رکھ کر حفاظت کر رہے تھے ۔۔۔

وہ روشانے کو سب بتا چکا تھا جیسے وہ منہ کھولے سن رہی تھی ۔۔۔۔

پھر تم اپنی یہ دہشت لالہ پر کرو ا۔۔

۔

سوری ۔۔۔۔

روشانے ابھی بھی ناراضگی لیے بول رہی تھی جب اسے اپنے پیچھے کسی کی بھاری آواز سنای دی تھی ۔۔۔

حدید سے دور ہوتی وہ جلدی سے پیچھے دیکھ بیڈ پر شوک سے کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔

جہاں روم میں انٹر ہوے بیڈ کے پاس کھڑا ایول سکون سے بولا تھا ۔۔۔

ج۔جی۔۔۔

ایول رعنا کے کہنے پر سوری کرنے آیا تھا جب روشانے شوک ہوتی ابھی بھی بول رہی تھی ۔۔۔

ہاے لالہ آپ نے سوری کہا ہے۔۔۔

حدید دانت نکالے سکون سے بولا تھا ۔۔

جنگلی بلی کو تیار کر دینا روشنی ہم جا رہے ہے ہادی تم لے آنا اسے ۔۔۔

وہ ہادی کی بات اگنور کیے جیسے آیا تھا ویسے ہی جاتا بولا تھا ۔۔۔۔

ی۔یہ ب۔بہت خطرناک ہے ہادی ۔۔۔

سانس روکے وہ حدید کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔

ہاہہاہاہہاہاہ ہاہہاہاہاہا ۔۔۔

ہاں ۔۔۔

روشنی کی بات سنتے وہ قہقہ لگاتے بولا تھا ۔۔۔۔

روشنی یہ زیادہ میک اپ ہو گیا ہے برفانی ریچھ پکی جان لے گا میری ۔۔۔

روشنی ایول کو تنگ کرنے کے لیے رعنا کا جان بوجھ کر ڈراک میک اپ کیا تھا ۔۔۔۔۔

جب پہلی دفعہ اتنا تیار خود کو دیکھ رعنا گھبراتی بولی تھی ۔۔۔

اتنا تنگ کرنا بنتا ہے لالہ کو اچھے سے تڑپنا لالہ کو ۔۔

رعنا کے بالوں کو کرل کیے وہ مسکراتے ہوئے اسے چڑتی بولی تھی ۔۔۔

جبکہ رعنا کی تو سانسیں روک چکی تھی یہی سوچ کر جو بندہ اس کی سادگی دیکھ کر پاگل ہو جاتا تھا آج اس کا یہ والا روپ دیکھ کر کیا حشر کرے گا ۔۔۔

زوبی تمہاری مدد کر دے گی اگر کوی مسئلہ ہوا تو لالہ ہے ہی وہاں ۔۔۔

حدید اب اندر آتا اس کے کان میں بلو تھوتھ سیٹ کیے مسکراتا بولا تھا ۔۔۔۔

م۔مر جاو۔تم دونوں کیسے دانت نکال رہے ہو ۔۔۔

اپنے ڈریس کو پکڑتے وہ دانت پیستے ان دونوں کو کہتی وہاں سے جاتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہاہہاہہاہا ہہاہہاہہاہاہا رضیہ اوپسسسسس جنگلی بلی برفانی ریچھ کے حصار میں۔ پھس گی ۔۔۔۔

حدید پیچھے ہانک لگاے گانا الٹا گاتے قہقہ لگا چکا تھا ۔۔۔

جب اس کی بات سنتے رعنا کے گال لال ہوے تھے ۔۔۔۔

“”کچھ گھنٹے بعد۔۔۔۔۔

یہ ایک بار کلب تھا جہاں ہر عمر کے لڑکے لڑکیاں یہاں اپنی موج مستی میں مگن تھے ۔۔۔

ایول کو معلوم ہوا تھا بوبی نے آج کی رات صرف ایک کلب میں آنا ہے پھر وہ واپس چلے جاے گا اپنا پلان خراب ہوتے دیکھ وہ پہلے خودی اس کے پیچھے بار کلب آ گیا تھا جہاں چوبیس سالہ ایک خوش شکل لڑکا شراب پیتے وہاں آئ ہر لڑکی کے ساتھ انجواے کر رہا تھا ۔۔۔۔

ایول وہاں رعنا کا گارڈ بنے بوبی کو اپنے باتوں میں۔ الجھا چکا تھا اسے پھسانے کے لیے اس نے رعنا کے حسن کی تعریفیں کی تھی جیسے سن کر ہی بوبی پاگل ہو گیا تھا توں گھر تھی اسے یہاں حدید نے لانا تھا ۔۔۔۔

کہاں ہے تمہاری میم ابھی تک نہیں آی ۔۔۔۔

روم کے چرچے سنتے وہ پاگل ہو چکا تھا تبھی ایول کو دیکھ برا سا منہ بناے بے تابی سے رعنا کا ویٹ کر رہا تھا ۔۔۔

اسے لگتا زیادہ ہی جلدی ہے ہمارے ہاتھوں سے مرنے کی ۔۔۔۔

بوبی کی بے تابی دیکھ ایول کنٹرول کیے اسے دل میں کوستا ہوا گالیاں دے رہا تھا ۔۔۔۔

جو رعنا کے انتظار میں بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا ۔۔۔۔

وہ دیکھو آگی م۔م۔میم۔۔۔۔۔

بار کلب میں انٹر ہوتی رعنا کو دیکھ ایول بولتا ہوا اچانک گہرا سانس لیتے بولا تھا ۔۔۔۔

وہ ڈرتی کانپتی کلب میں انٹر ہوتی ایول کے سامنے آئ تھی جو آنکھوں میں شعلے لیے اور شوک سے منہ کھولے اسے ہی گھور رہا تھا ۔۔۔۔

رعنا کا ایسا روپ اس نے پہلی بار دیکھا تھا ۔۔۔۔

بوبی تو دیوانہ ہو گیا تھا رعنا کا حسن دیکھ کر ۔۔۔۔۔

جہاں گولڈن لونگ مکیسی پہنے جو پوری نیٹ کی تھی ساتھ اس کے اوپر جیکٹ پر ایج آر لکھا ہوا تھا جیسے پہنے گولڈن بالوں کے کرل کچھ شولڈر پر کچھ کمر پر جھول رہے تھے ساتھ ڈراک میک اپ کیے ریڈ لیپ اسٹک لگاے وہ انگلیاں موڑوتی اور لبوں کو چباے ایول کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔۔

م۔مجھے سے ملواو کون ہے یہ گارڈ۔۔۔۔

زوبی کی آواز سنتے وہ ہمت جمع کرتی ایول کو متوجہ کیے بولی تھی جب وہ ہوش میں آیا تھا ۔۔

رعنا کا روپ دیکھ وہ اپنا ہی پلان بھول گیا تھا ۔۔۔۔

ہاں یہ عروسہ میم ہے جس کا بتایا تمہیں ۔۔۔۔

دانت پیستے وہ بامشکل بوبی کو دیکھ تعارف کروایا تھا ۔۔۔

یو آر سو بیوٹی فل گولڈن بیوٹی اففففف ۔۔۔

بوبی پاگل ہوتا اپنا ہاتھ اس کے سامنے کیے مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

شکریہ ۔۔۔۔

زوبی کے کہنے پر وہ نخرہ کرتی بنا ہاتھ ملاے ایول کے ساتھ آگے بڑھی تھی ۔۔۔۔

جبکہ اس کی گھوریوں سے رعنا اندر سے کانپ رہی تھی وہ جانتی تھی کچھ دیر بعد ایول اس کی حالت کیا کرنے والا تھا ۔۔۔۔

ہمممم ایٹیٹوڈ ویسے بنتا ہے تمہارا گولڈن بیوٹی اتنی خوبصورت جو ہو ۔۔۔

بار کے پاس آتے رعنا نے جوس آڈر کیا تھا جب وہ چہکتا ہوا اس کے پیچھے اتا ایول کے ساتھ بیٹھا بولا تھا ۔۔۔۔

اپنے بارے میں بتاو کیا کرتے ہو تم ۔۔۔

ایول کو اگنور کیے وہ جلدی سے اپنا کام کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

جبکہ وہ بوبی کی سنتے کبھی کبھی ایول کا چہرہ دیکھ لیتی تھی جو بامشکل صبر کیے بیٹھا تھا ۔۔۔۔

ہاے یور آر سو ہاٹ بے بی ۔۔۔

رعنا مسلسل اپنے پلان کو چلاے بوبی کو اپنی باتوں میں بہلا رہی تھی جب وہاں ایک ماڈرن لڑکی ایول کے قریب آتی شراب کا گلاس لبوں سے لگاے اسے چھوتی بولی تھی ۔۔۔۔

جہاں پہلے ایول جیلس ہو رہا تھا وہی اب رعنا اپنے جنگلی بلی کے روپ میں آئ تھی ۔۔۔۔

جاو یہاں سے میرا باڈی گارڈ ہے یہ ۔۔۔۔

بوبی کو اگنور کیے وہ غرای تھی ۔۔۔۔

اس کی جیلس بھری غراہٹ دیکھ ایول کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔

جیسے وہ جلدی میں چھپا گیا تھا ۔۔۔۔

بڑی بات ہے تمہیں اپنے جیسا خوبصورت گارڈ ملا ہے مجھے بھی بتاو ایسے ہاٹ پیس کہاں سے ملتے ہے میں بھی رکھو اپنے پاس ۔۔۔۔

وہ شراب میں ٹن ہوتی بے باک ہوتی بولی تھی ۔۔۔

جس کے لیے وہ اتنا کچھ کہہ رہی تھی وہ تو سب بھلاے بس اپنی جنگلی بلی کو دیکھ رہا تھا جو لال چہرے سے اس لڑکی کو گھور رہی تھی ۔۔۔۔

تمہیں بتانا ضروری نہیں سمجھتی اور تم وہاں کیوں بیٹھے ہو یہاں او میرے پاس ۔۔۔

اسے کہتی اب وہ ایول پر غرای تھی جب وہ سکون سے اٹھتا ہوا تو کے بلکل قریب بیٹھا تھا ۔۔۔۔

اتنی سی بات پر جلیس ہو گی مولانی ابھی تو ہماری جلیسی نہیں دیکھی تم نے ۔۔۔۔

بوبی اپنے شراب کا گلاس لینے میں بزی تھا جب پاس بیٹھے وہ اس کی طرف جھکتا ہوا آہستہ سے اس کی شہ رگ کو سہلاتے سرگوشی کی تھی۔۔۔۔

جب وہ اندر تک کانپی تھی اس کی سن کر ۔۔۔

ک۔کب تک مارنا اس کو جانو۔جانور ک۔۔۔۔

ابھی ہمارا دل نہیں اسے مارنے کا جب تم سامنے ہو تو کسی چیز کا ہوش نہیں ہوتا گھر چلے ہم ۔۔۔۔

وہ جو اس کی گردن سہلا کر اب بیوٹی بون کو اپنے لبوں سے چھو رہا تھا جب وہ غیر محسوس ہوتے اس کے پیچھے ہونے کی کوشش کرتی بول رہی تھی جب وہ کمر پر ہاتھ ڈالتا اسے اپنے بے حد قریب کرتا کان کی لو کو کاٹتے بہکا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

ت۔تم پاگل ہو ا۔اسے مارنا ہے اور تمہیں گھ۔گھر جانے کی پ۔پڑی ہ۔۔۔۔

ہمارا کچھ بھی کرنے کو دل نہیں کر رہا تمہاری یہ سانسیں ہمیں بہکا رہی ہے مولانی ۔۔۔۔

وہ نیلی آنکھیں پھاڑتے بولنے کی کوشش کر رہی تھی جب وہ اسے سینے سے لگاے سرگوشیاں کرنے میں بزی ہو چکا تھا ۔۔۔

ش۔شرم کرو زوبی سب سن رہی ہے ا۔۔۔۔

بلو ٹوتھ تو کب کا نکال دیا ہم نے جنگلی بلی ۔۔۔۔

اسے دور کیے وہ اٹھ کر کھڑی ہوتی بول رہی تھی جب وہ بھی سکون سے کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔۔

آؤ گولڈن بیوٹی ڈانس کرے ۔۔۔۔

شراب سے فری ہوتے وہ اٹھتا ہوا بامشکل بولا تھا ۔۔۔۔

مجھے پسند نہیں ۔۔۔

وہ منہ بناے بولی تھی ۔۔۔

چلو آؤ تو سہی کرتے ہے تھوڑا سا ۔۔۔

وہ نشے میں۔ جھومتا ہوا ڈانس بار پر گیا تھا اسے کہتے ۔۔۔

عجیب میصبت ہے یہ ۔۔۔۔

کس کو ہنیڈل کرو اس انسان کو یا اس انسان کو جو میری آیک ایک سانس کو گن رہا ہے ۔۔۔۔

وہ دل میں سوچتی اپنے پیچھے کھڑے ایول کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔

جو بلکل ساتھ لگے کھڑا آس پاس دیکھنے میں بزی تھا اب ۔۔۔۔

اپنی سانسوں کی رفتا کم کرو کاؤنٹ کرنے میں مشکل ہو رہی ہمیں ۔۔

چالیس دفعہ سانس لیا ہے تم نے بسیں منٹ میں ۔۔۔۔

وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔

ت۔تم واقعی جن ہو مارو اس کو مجھے ڈر لگ رہا اب ۔۔۔۔

وہ تھر تھر کانپتی اپنا حلق تر کیے بولی تھی ۔۔۔۔

ہمیں بھی لگ رہا اسے مارنا ضروری ہے ۔۔۔

وہ سامنے لڑکیوں کے ہجوم میں اسے ناچتا دیکھ اب بولا تھا ۔۔۔۔

رعنا ایول کے ساتھ چلتی ہوئ اب ڈانس بار پر آئ تھی ۔۔۔

جہاں تیز میوزک کے شور میں لڑکی لڑکے ناچ رہے تھے ۔۔۔۔

ایکسوزمی میرا پرس اٹھا دے ۔۔۔۔

ڈانس بار پر کرتی کافی لڑکیاں ڈانس کرنے میں بزی تھے جب ویسے ہی سکون میں کھڑے ایول کو دیکھ اب دوسری لڑکی آتی بولی تھی ۔۔۔

بوبی کے ساتھ کھڑی رعنا نے نفرت سے اس لڑکی کو دیکھا تھا جو بے ہودہ لباس پہنے بنا کسی شرم کے ایول کے سامنے کھڑی اپنا سب دیکھانے میں بزی تھی ۔۔۔

ایول اسے اگنور کیے رعنا کو دیکھنے لگ گیا تھا ۔۔۔

گارڈ ہو کر اتنا ایٹیٹوڈ اوقات کیا ہے تم۔۔۔۔

دور رہو میرا گارڈ ہے یہ اوقات کی بات مت ہی کرو تو اچھا ہے ورنہ زبان کاٹ کر ہاتھ پر رکھ دو گی ۔۔۔

انہہہہ ٹھرکی ۔۔۔

کافی دیر بعد بھی جب اسے لگا ایول نہیں سن رہا تھا تبھی وہ طش سے آتی اس کے سینے پر انگلی رکھے بول رہی تھی جب رعنا بوبی کو چھوڑے ایول کے سامنے آتی اس لڑکی کی انگلی موڑورتی ہوئ طش سے غرای تھی ۔۔۔

اس کی غراہٹ پر سب ہی چپ ہو کر ڈانس کرنا بھول گے تھے ۔۔۔

تمہاری اوقات کیا ہے مس خود دوسروں کے ساتھ انجواے کر ر۔۔۔۔

میں تمہیں چھوڑو گی نہیں ۔۔۔

وہ اسے دیکھ زہر اگل رہی تھی جب رعنا طش میں آتی اسے بالوں سے پکڑتی بولی تھی ۔۔۔

دونوں کی لڑای دیکھ ایول سکون سے کھڑا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا سامنے والی لڑکی کی اس کی جنگلی بلی بییڈ بجا دے گی ۔۔۔

ایسا ہی ہوا دونوں کو لڑائ سے روکتے روکتے رعنا اس لڑکی کا برا حال کی چکی تھی ۔۔۔

میں تمہیں دیکھ لو گ۔۔۔

ہاں ہاں شوق سے دیکھو خبردار اگر کبھی ایول کے آس پاس بھی بھٹکی تم چڑیل رنگ برنگی میک اپ والی ۔۔۔

اس سے جان چھڑاوے وہ لڑکی اپنی بکھری زلفیوں کو ٹھیک کرتی بول رہی تھی جب وہ ایک بار پھر اس پر چھپٹکتی ہوئ غرای تھی ۔۔۔۔

ریلکس جنگلی بلی س۔۔۔۔

تم دور رہو سب تمہاری وجہ سے ہوا ۔۔۔

انہہہہہ ۔۔۔

ایول اسے کمر سے پکڑتے کم ڈاؤن کروا رہا تھا جب وہ اسے دھکا دیتی غصہ سے اس پر غراتی تن فن کیے بار کے باہر چلی گی تھی ۔۔۔۔

افففف اتنا غصہ ۔۔۔۔

ایول اس کے پیچھے جاتا ہانک لگاتے بولا تھا ۔۔۔۔

کیا ہوا جان ایک گارڈ کے لیے تم نے اتنی لڑای کی یہ تو غلط بات ہے ۔۔۔

میں ہو نہ تمہارے پاس ا۔۔۔۔

پلیز دور رہو تم ۔۔۔

وہ غصے سے باہر بار کی بیک گلی میں آ گی تھی کافی آگے جانے کے بعد اسے احساس ہوا تھا وہ ایول کو چھوڑ کر آگی ہے تبھی وہ واپس جانے والی تھی جب پیچھے کھڑے بوبی نے اسے کمر سے پکڑتے دیوار سے لگاے اس پر جھکتے بولا تھا ۔۔۔

رعنا اب ڈرتی ہوئ اسے دور کیا تھا اسے قے آرہی تھی بوبی سے اس کے منہ سے شراب کی بو آرہی تھی ۔۔۔

کیا ہوا بے بی اندر تو اتنی باتیں کر رہی اب اس تنہای میں کیا ہوا ۔۔۔

اچانک بوبی کو اپنے ہاتھوں پر کچھ جلتا ہوا محسوس ہوا تھا لیکن وہ اگنور کیے دوبارہ اسے قابو کیے بولا تھا۔

پ۔پلیز ۔

اچانک وہ خود کو اکیلا پاتی روتی ہوئی منت کرکے بولی تھی ۔۔۔

اہہہہہہ اہہہہہہ سہہہہہہہ۔۔۔۔

کافی دیر بعد آنکھیں کھولتے اس نے ڈرتے ہوے سامنے کا منظر دیکھا تھا جب وہ دل و جان سے چیختے ہوے دیوار سے لگی تھی ۔۔۔

بوبی جو اسے مسلسل تنگ کرنے میں بزی تھا جب پیچھے بھاری قدم لیے سامنے رعنا کو روتا دیکھ طش میں آتے ایول نے بنا وقت ضائع کیے خنجر سے بوبی کی گردن کاٹی تھی ۔۔۔۔

جہاں اب ایک طرف اس کا گل سڑا ہاتھ کے ساتھ اھورہ جسم پڑا تھا وہی ایول کے ہاتھوں میں اس کی بے جان کاٹی گردن تھی ۔۔۔۔

ایول کی ہڈی شوز فرش پر خون کے ساتھ اس کے ہاتھوں میں بوبی کی گردن دیکھ رعنا چیخی تھی ۔۔۔۔

اہہہہ یییییییی۔۔۔

ریلکس ریلکس ک۔۔۔۔

یییییی ۔۔۔

افففف جنگلی بلی اتنی بزدل ہو تم یار۔۔۔

وہ جلدی سے اس کے قریب جاتا بول رہا تھا جب وہ دھکا دیتی اسے وہشت سے دیکھتی ڈرتی دور ہوتی چیخ رہی تھی جب اسے دوبارہ اتنا قریب دیکھ وہ اسی کی باہوں میں بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔۔

ایول کے ہاتھوں پر لگا خون رعنا کی گال پر لگا تھا تبھی وہ اسے گود میں اٹھاے اب اندر مین چلتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

یہ بوبی فون کیوں نہیں اٹھا رہا ۔۔۔

گروجی اپنے پاسنل اڈے میں بیٹھے فون کان کو لگاے پریشانی سے بولے تھے ۔۔۔

ایول کی دھمکی پر وہ ڈر گے تھے تبھی وہ بوبی کو فون کرتے روک رہے تھے وہ پاکستان نہ اے لیکن یہ نہیں جانتے تھے وہ پاکستان کب کا آچکا تھا ۔۔۔۔

س۔سر یہ کوئ گفٹ آیا آپ کے لیے ۔۔۔

وہ اپنی پریشانی میں تھے جب ملازم اندر آتا بولا تھا اس کے ہاتھ میں بوکس تھا ۔۔۔

ہاں رکھو جاؤ ۔۔۔

وہ حکم دیتے بولے تھے ۔۔۔

اہہہ اہہہ میرا بیٹا میرا بیٹا ۔۔

باکس کو جیسے ہی کھولا تھا ویسے ہی اس کے اندر بوبی کا کٹا سر دیکھ وہ درد سے چیخے تھے ۔۔۔۔

ابھی ہم نے تجھے موت کی جھلک دیکھای ہے تیار ہو جا بہت جلد تجھے موت دو گا ۔۔۔۔

بہت شوق تھا تجھے ہمارے ڈیڈ کو موت دینے کا اب یہ دیکھ موت ایسے دی جاتی ہے جیسے تیرے بیٹے کو ملی ۔۔۔۔

ہم نے کہا تھا نہ کہ تیری نسل ختم کرے گے ۔۔۔

اب دیکھ کر دی نسل ختم تیری ۔اب بہت جلد تو بھی مرے گا گروجی ۔۔۔۔

باکس کے اندر ایک لفافہ اٹھاے وہ اس پر لکھی تحریر پڑھتے روے تھے ۔۔۔

سالوں انہوں نے اپنے بیٹے کو سب سے دور رکھا تھا بلکہ ایول کے علاؤہ کوئ نہیں جانتا تھا گروجی کا بیٹا بھی ہے ۔۔۔

ایوللللل ایوللللل تو نے میری کمزوری پر ہاتھ ڈالا ہے بہت جلد تیری کمزوری گولڈن بیوٹی میری باہوں میں ہو گی۔ ۔۔

ہہاہاہہاہاہاہہا۔۔

غم و غصے سے پاگل ہوتے وہ قہقہ لگاتے اگلا پلان بنا چکے تھے ۔۔۔۔۔

س۔سر پولیس آی ہے ۔۔۔

وہ اپنے غلیظ پلان بنانے میں بزی تھے جب ملازم اندر اتا بولا تھا ۔۔۔۔

پولیس کیو۔۔۔

ہم آپ کو اپنی حراست میں لیتے ہے ۔۔۔

وقار اندر انٹر ہوتا رعب سے بولا تھا ۔۔۔

ل۔لیج۔۔۔۔

عدالت اور پولیس کو اپ کے خلاف سارے ثبوت مل گے ہے پکڑو انہیں ۔۔۔

وہ ڈرتے بول رہے تھے جب وہ اپنی سناتا ہوا باقی آفسرر سے کہتا باہر گیا تھا ۔۔۔

پولیس گروجی کو پکڑ چکی تھی ۔۔۔۔

“””دو ہفتے بعد ۔۔۔

جنگلی بلی اب تو یار ناراض مت ہو ۔۔۔

رعنا جیسے ہی ہوش میں آئ تھی وہ ڈر چکی تھی ایول سے ۔۔۔

پہلے تو ایول نے کافی بار اسے منایا سمجھایا پھر اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا وہ سب سے بات کرتی لیکن ایول سے نہیں اسے ڈر لگتا تھا اس کی شکل دیکھ کر ۔۔۔

ایول کا ہر کام وہ کرتی تھی لیکن ناراض رہ کر ۔۔۔۔

آج وہ بالآخر تھک ہار کر دوبارہ اسے دیکھ بولا تھا۔۔۔

وہ جو یہ سمجھ کر روم میں آئ تھی ایول گھر نہیں اب اسے روم میں دیکھ ڈرتی ہوئ روم کے دروازے تک گی تھی ۔۔۔۔

اچھا سوری یار ہمین ہی اپنا وحشی پن نہیں دیکھانا چاہے تھا ۔۔۔

اس کے قریب جاتے وہ اسے نرمی سے پکڑتے بولا تھا ۔۔۔

یہ دو ہفتے اس کے کیسے گزارے تھے وہی جانتا تھا رعنا کی ناراضگی کو برداشت کیے ۔۔۔

پ پلیز۔۔ح۔حاز۔حازم۔۔

رعنا نے خوف سے کانپتی ہوئی بولی تھی ساتھ ہی انکھیں کھولنے کی کوشش ہر گز نہیں کی تھی۔۔

اسکے منہ سے دو ہفتوں بعد اپنا نام سنتا اسے اپنا نام اور بھی خوبصورت لگا تھا. ..

کیوں ڈر رہی ہو تم ۔

تم ایسا مت کرو ورنہ خود سے وحشت ہوتی ہمیں ۔۔

وہ اندر تک سرشار ہوتا اس کے گال سہلاتا انگوٹھا اب اسکے لبوں پر رینگتے وہ بہکا ہوا بولا تھا ۔۔۔

خاموش آنکھیں بند کیے اسکے نازک گلاب سے لب اسے کوئی بری جسارت پر اکسا رہے تھے۔۔

اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے وہ اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔

د۔دور رہو مج ۔مجھ سے ۔۔۔

۔۔۔دروازے کے ہینڈل سے اپنا ہاتھ ہٹاتی اسکے کندھے پر رکھے اسے خود سے دور کرتی بولی تھی ہونٹوں پر شدید جلن محسوس ہورہی تھی آنکھوں سے کئی انمول موتی بہہ کر بے مول ہوگئے تھے مگر وہ سنگدل بنا سب نظر انداز کرتا اس کے آنسوں کو اپنے لبوں سے صاف کرنے میں بزی تھا ۔۔۔۔

کتنے دنوں بعد اس کا لمس اسے اپنے لبوں پر محسوس ہوا تھا ۔۔۔

جو پوچھا اسکا جواب دو. ..

ہمیں اگنور ہونا پسند نہیں ۔۔۔.اب وہ اسے کے نرم بھیگے لب چھو رہا تھا .

لہجہ ہنوز سٹاپ تھا. ..

م۔میری وجہ سے سب ہوتا پہلے بچپن میں تم جیل چلے گے اب وہ بوبی کو مار دیا می۔میں ہی تم سے د۔دور ہو ج۔جا۔۔۔۔

وہ آنسو بہاے اپنے دل کا خدشہ سنا رہی تھی جب اس نے شدت ضبط سے اس کے لبوں پر اپنا بھاری ہاتھ رکھتے اس کی آواز دبای تھی ۔۔۔۔

تیار ہو جاؤ ہم ابھی ایول ہاؤس جاے گے یہاں آ کر تم بگڑ گی ہو ۔۔۔

ہم نہیں چاہتے کہ کسی کی بھی تم کوئ بات سنو یہ دماغ بھی تبھی خراب تمہارا ۔۔۔

تیاری کرو ۔۔۔

وہ طش میں آتا اس سے پیچھے ہوتا اپنی سنا کر وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔

رعنا اس کی بات سنتے اندر تک کانپی تھی مطلب وہ یہی سمجھ رہا تھا رعنا سب کی باتوں میں ا کر ایسا سوچتی ہے ۔۔۔

وہ اسکے معاملے میں جنونی ہوتا جارہا تھا وہ اسے صرف خود تک محدود رکھنا چاہتا تھا ۔۔۔

وہ دل میں سوچتی ہوئ اب نیچے گی تھی دوبارہ ۔۔۔۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے گروجی جیل سے بھاگ گیا لگتا اسے آسان موت نہیں چاہے ۔۔۔

ہال میں وہ آئ تھی جہاں حدید پریشان سا کھڑا ایول سے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔

جب وہ طش سے غرایا تھا ۔۔۔۔

ک۔کیا ہو۔۔۔۔

تم گاڑی میں بیٹھو ہم آتے ہے ۔۔۔

وہ ڈرتی بول رہی تھی جب وہ طش سے غرایا تھا ۔۔۔۔

کہاں جا رہے لالہ آپ گھر رہ جاتے میں ضروری کام سے کراچی جا رہا ہو روشنی نے ضد کی ہے ساتھ جانے کی پہلے وہ مسئلہ اب یہ آپ کا ۔۔۔۔

حدید اچانک جھنجھلاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

سیکورٹی ہے یہاں ہم بھی آتے جاتے رہے گے تم بس اپنے کام پر جاو ۔۔۔

وہ اسے پرسکون کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

لیکن لالہ پری وش کو ساتھ نہیں لے کر جا سکتے وہ بچی ہے ا۔۔۔۔

ت

ت۔تو مجھے دے دو میں ساتھ لے جاو گی ۔۔۔۔

رعنا جو ڈرتی یہی سوچ رہی تھی وہ کیسے ایول ہاؤس جا کر ایول سے بچے گی اس کی بات سنتے وہ اچانک خوش ہوتی ایول کی گھوریوں کو اگنور کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

واقعی تم ہنیڈل کر لو گی مطلب لالہ ک۔۔۔۔

یہ کچھ نہیں کہے گا میں ہنیڈل کر لو گی اسے بس میں لے کر آتی ہو ۔۔۔۔

اس کی نظروں سے بچتی وہ دوبارہ اوپر کی طرف بھاگتی بولی تھی ۔۔۔۔

لالہ میری بچی ہے زرا رحم کرنا اوکے یہ وہشت بھری گھوریوں سے میری بچی کو مت دیکھنا ۔۔۔۔

حدید ایول کا لال ہوتا چہرہ دیکھ اسے ہگ کیے دانت نکالے بولا تھا ۔۔۔۔

شیٹ اپ بین ۔۔۔۔

وہ غصہ کنٹرول کیے کہتا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔۔

“””کچھ گھنٹے بعد ۔۔۔۔۔

تم نے یہ اچھا نہیں کیا گروجی ۔۔۔۔

کیوں اپنی موت کو دعوت دی تو نے ۔۔۔۔

ایک سنسان بلڈنگ کے اندر ہزاروں آدمیوں کے درمیان وہ اکیلا کھڑا غرا رہا تھا جبکہ رعنا اور ننھی سی پری وش کو باقی کے آدمی لے کر کھڑے تھے ۔۔۔

جبکہ سامنے کرسی پر وہ خباثت لیے ایول کا لال چہرہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

کیا ہوا تم ڈر گے اہہہہہہ میرا بے بی تم تو کسی سے نہیں ڈرتے تو ا۔۔۔۔

اپنے رب کے علاؤہ ہم کسی سے نہیں ڈرتے تم جیسوں سے بلکل بھی نہیں ۔۔۔

تمہاری دشمنی ہمارے ساتھ ہے تو ہم سے لڑاؤ بچی اور رعنا کو چھوڑ دو ۔۔۔۔

وہ سکون سے کھڑا ویسے ہی غرایا تھا ۔۔۔

اتنے لوگوں سے کیسے لڑو گے ۔۔۔

ایول اس ٹائم بنا کسی ہتیھار کے اس کے سامنے کھڑا تھا جب وہ مذاق بناتے بولا تھا ۔۔۔۔

اللہ نے ہاتھ پاؤں دے ہے ہم ایسے ہی مقابلہ کرے گ۔۔۔

چلو ڈیل کرتے ہے یہ آدمی دیکھ رہے ہو ان سب کو موت کی نیند سلاو اگر ایسا کر سکے تو گولڈن بیوٹی تمہاری ورنہ وہ ہمیشہ کے لیے میری ہو جاے گی بولو منظور ہے ۔۔۔۔

وہ بول رہا تھا گروجی اٹھتے کہتے بولے تھے ۔۔۔

ایول نے ایک نظر رعنا کو دیکھا تھا جو مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔۔

ہمیں بات کرنی اس سے اور اپنے بندوں کو کہو دور رہے اس سے وہ یہی رہے گی ۔۔۔۔

ایول انہیں کہتا اب رعنا کے پاس گیا تھا ۔۔۔

ح۔حازم حازم ایسا مت کرنا م۔میں مر جاو گ۔۔۔۔

یہ کپیسول دیکھ رہی ہو جب لگے کہ ہم تمہاری عزت کی حفاظت کرتے تھک گے یا مر چکے ہے تم یہ کھا لینا ۔۔۔

دس منٹ میں یہ تمہارا دل بند کر کے موت کی نیند سلاے گا ۔۔۔۔

وہ اس کے سینے سے لگتی روتی بول رہی تھی جب وہ اپنی شرٹ کے کف سے ایک منی کیپسول اسے دیتا کہتا واپس اپنی جگہ چلا گیا تھا ۔۔۔۔

ا جاو ہم تیار ہے گروجی لیکن یاد رہے نقصان ہمیں ہو رعنا اور بچی کو ایک کھورچ بھی نہیں آنی چاہے ورنہ یہ سب مرے یا نہیں لیکن تم مر جاے گا ہمارے ہاتھوں ۔۔۔

وہ سب کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کرتا اپنی شرٹ اتارتا ہوا سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

وہاں کھڑا ہر آدمی ایول کا دشمن تھا جیسے ختم کرنے کے لیے گروجی نے ان سب کو ملا لیا تھا ۔۔۔۔

گروجی کا اشارہ پاتے ہی سب اس پر ٹوٹ پڑے تھے ۔۔۔۔

رعنا کی عزت اور پری وش کی جان بچانے کے لیے اسے ان سب کا مقابلہ بنا ہتیھار کے کرنا تھا ۔۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہہ۔۔۔

ہاہاہہاہاہہا ہاہہاہاہاہا ہاہہاہاہاہاہ۔۔۔۔۔

ایول اور باقی سب کی لڑای کا کھیل شروع ہو چکا تھا ۔۔۔

ایول اپنی ہمت سے ان سب کا مقابلہ کرتا باری باری سب کو موت کی نیند سلا چکا تھا وہ مسلسل اپنی کوشش میں تھا سب کو ختم کر سکے ۔۔۔۔

ایول کے پورے جسم لہولہان ہو چکا تھا جیسے دیکھ رعنا کی چیخیں تو گروجی کے قہقے گونج رہے تھے ۔۔۔۔

ن۔نہیں پ۔پلیز اسے چھوڑ دو تم جو کچھ کہو گے میں کرو گی پلیز اسے چھوڑ دو ۔۔۔۔

مسلسل ایول پر سب کا وار کھاتے دیکھ رعنا روتی ہوئی گروجی کے پاس گی منت کرتی بولی تھی ۔۔۔

کیسے اپنے عشق کو وہ اتنے درد میں دیکھ سکتی تھی جو بنا ہتیھار کے لڑنے میں بزی تھا۔۔۔۔

افففف افففف گولڈن بیوٹی تم میرے پاؤں پکڑ کر منت کرو یہ سب روک جاے گے ۔۔۔۔

گروجی اپنے ٹانگ اس کے سامنے کرتے بولے تھے ۔۔۔۔

ہاں میں پکڑنے کو تیار ہو بس حازم کو چ۔۔۔۔

کمینے انسان تیری اتنی اوقات نہیں ہے ہماری جنگلی بلی تمہارے قدموں میں گرے ۔۔۔۔

ایول لڑنے مین بزی تھا جب اس کی نظر رعنا پر پڑی تھی جو روتی ہوئی نیچے جھک رہی تھی تبھی وہ اس کی طرف آتا کرسی پر بیٹھے گروجی کو بازوں میں اٹھاے پوری ہمت سے دیوار پر مارتے وہ غرایا تھا ۔۔۔

ایک پل کے لیے باقی بچے آدمی اس کی غراہٹ سنتے روک چکے تھے ۔۔۔۔

مارو اس سانپ کی اولاد کو ہمت کیسے ہوئی مجھے مارنے کی ۔۔۔۔

زمین پر سے اٹھتے گروجی اپنے سر پر ہاتھ رکھتے خون کو روکتے غراے تھے جب دوبارہ سب سنتے ایول پر حاوی ہوے تھے ۔۔۔۔۔

ن۔نہیں نہی۔نہیںںںںں۔۔۔

ایوللللل ایوللللل ۔۔

سب سے لڑتے لڑتے ایول اب تھک گیا تھا رعنا کی فکر کرتے وہ مسلسل کمزور ہو رہا تھا اگر وہ اکیلا ہوتا تو سب کو منٹوں میں موت دیتا لیکن یہ خون کا کھیل اس کے سامنے کھیلتے وہ خود تھک چکا تھا کتنی مشکل سے اس نے رعنا کو سمجھایا تھا وہ اب اس کی وجہ سے کوئ خون خرابہ نہیں کرے گا لیکن اب وہ خود اس کے لیے ہی لڑ رہا تھا ۔۔۔۔

چار آدمیوں نے ایول کو اٹھایا تھا جب سامنے کھڑے دو آدمیوں نے شیشے کا ٹبیل اٹھاے ایول کے سر پر مارا تھا۔۔۔۔

اتنی بھاری ضرب پر ایک پل کو ایول اندھیرہ چھاتے محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔

دور کھڑی رعنا نے یہ منظر روتے چیختے دیکھا تھا ۔۔۔۔

جہاں ایول کے سر سے خون کا فورارہ پھوٹا تھا۔۔۔۔

م۔مت کرو ایول کے ساتھ ایسا تم جو کہو گے میں کرو گی بس اسے چھوڑ دو ۔۔۔۔

وہ دوبارہ روتی منت کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

آنکھوں پر جمے خون سے وہ بامشکل رعنا کو دیکھ پایا تھا اب تو اس میں بھی ہمت نہیں رہی تھی لڑنے کی ۔۔۔

میری رکھیل بن کر ر۔۔۔۔

م۔میں ت۔تیار ہو تم بس اسے چھوڑ دو ۔۔۔۔

گروجی اسے بالوں سے پکڑتے بول رہا تھا جب وہ بامشکل لفظ ادا کر پای تھی ۔۔۔۔

چلو میرے ساتھ ۔۔۔۔

رعنا کو ویسے ہی گھسٹتے وہ لے کر جاتا بولا تھا ۔۔۔

رعناااااااااااااا۔۔۔۔

اپنے اوپر حاوی ہوتے آدمیوں کے درمیان وہ فرش پر گرا دور جاتی رعنا کو دیکھ چیخا تھا ۔۔۔۔

م۔مجھے معاف ک۔کر دینا ایول میں تمہیں بچانے کے لیے خود اور ہمارے بچے کی جان لے رہی ہو ۔۔۔۔

رعنا اپنے ہاتھوں میں پکڑے وہ کیپسول کو منہ میں ڈالتی نگلتی ہوئ روتی ہوے سوچا تھا ۔۔۔

آج صبح ہی وہ روحا کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس گی تھی جب ڈاکٹر نے اسے گڈ نیوز سنای تھی وہ بہت خوش تھی کہ ایول خوش ہو گا بچے کا جان کر اس سے پہلے وہ یہ گڈ نیوز اسے دیتی جب یہ سب ہو گیا تھا ۔۔۔۔

دوسری طرف وہ ہمت جمع کرتا سب کو مارتا ہوا اس روم کی طرف بھاگا تھا جہاں گروجی رعنا کو روم میں لے کر گیا تھا ۔۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ ۔۔

اس سے پہلے وہ اندر جاتا جب اسے پری وش کے رونے کی آواز آئ تھی ۔۔۔۔

لالہ میری بیٹی کا خیال رکھنا آپ کے ہادی کی اولاد ہے یہ پری ۔۔۔۔

ایول نے جیسے ہی موڑ کر دیکھا تھا وہ پریشان ہو گیا تھا کیونکہ گروجی کے آدمی پری وش کو لیے بلڈنگ کی ونڈو سے نیچے گرا چکے تھے ۔۔۔۔

ایول نے منٹوں میں فضیلہ کیا تھا اسے اپنے ہادی کی اولاد کو بچانا ہے ۔۔۔۔

جلدی سے وہ بھاگتا ہوا بلڈنگ سے نیچے کودتا پری وش کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔