Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 44) 2nd Last Episode (Part - 2)

581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 44) 2nd Last Episode (Part - 2)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

ٹھاہہہہہ ٹھاہہہہ۔۔

یہ کیا بدتمیزی ہے مسٹر ۔۔۔

گروجی کو دھمکی دے وہ اب پولیس اسٹیشن آیا تھا ۔۔۔

جہاں ضروری میٹنگ کے لیے وقار وہاں مستقیم کے ساتھ بیٹھا تھا ۔۔۔

جب اسے طلاع ملی تھی اس کے آفس میں کوئ بیٹھا ہوا ہے تبھی وہ اپنے آفس آیا تھا جہاں کرسی پر بے نیاز وہ بیٹھا اپنی ٹانگیں اس کے ٹیبل پر رکھے لبوں میں سگریٹ دباے وقار کا ویٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔

وقار اپنے سامنے ایول کو دیکھ پہلے حیران ہوا تھا لیکن خود کو نارمل کیے وہ اس کے سامنے کرسی پر بیٹھا تھا وقار جانتا تھا وہ حازم لیکن ایول کو نہیں پتہ تھا وہ رعنا کا بھای وکی ہے ۔۔۔

ایول کو ایسے ہی ریلکس سگریٹ پیتے دیکھ وقار غصہ کنٹرول کیے اپنی فائلز۔ پر ڈیلیٹ چیک کر رہا تھا وہ چاہتا تھا ایول خود بات کرے لیکن وہ تو مسلسل اسے ہی گھور رہا تھا ۔۔۔

ایول نے دیکھا وقار بھی اسے اگنور کیے کام کر رہا تبھی گن سے اس کے پیچھے لگی ونڈو پر شوٹ کیا تھا جب سارا شیشہ ٹوٹ کر نیچے گرا تھا تبھی وقار طش سے کھڑا ہوتا غرایا تھا ۔۔۔

ہم یہاں اے تمہارے پاس پوچھنے کی بجاے ہمیں ہی اگنور کر رہے ہو تم ۔۔۔

ہمیں اگنورنس نہیں پسند ۔۔۔

آرام سے اپنے کندھے اچکاے وہ بولا تھا ۔۔۔

بولو کیا کام تمہارا ۔۔

غصہ کنٹرول کیے وہ دوبارہ بیٹھتا بولا تھا ۔۔۔

ہم چاہتے ہے سالوں سے جس گروجی کو پکڑنے کے لیے پولیس اتنی محنت کر رہی ہے وہ ہم کام پورا کرے ۔۔۔۔

اس انسان کا ہر گناہ ہم بتاے گے ثبوت کے ساتھ شرط یہ ہے صبح تک ہمیں وہ جیل کے اندر ملے ۔۔۔۔

اپنی ہڈی سے ہر فائلز ہر یو ایس پی نکالے وہ گروجی کا ہر گناہ کا ثبوت وقار کے آگے رکھ رہا تھا ۔۔۔

حیرت سے وقار کا منہ کھولا تھا وہ شوک تھا گروجی کو ہر چیز سے بچانے والا خود دشمن کیسے بن گیا ۔۔۔

تم بھی اس کے بندے ہو اگر میں چاہو تمہیں بھی اریسٹ ک۔۔۔۔

تم ہمیں اریسٹ نہیں کر سکتے کیونکہ جو ثبوت ہم نے تمہیں دے وہ ہم کسی اور بھی دے سکتے ہے نقصان ہمارا نہیں تمہارا ہی ہو گا کیونکہ پرموشن تمہاری رک جاے گی۔۔۔

وقار اسے ڈرانے کی کوشش کرتا بول رہا تھا جب وہ سکون سے کھڑا ہوتا بولا تھا ۔۔۔

ت۔تم کیسے پتہ میری پرموشن ہونی اگر اس ان۔۔۔

ہمیں سب پتہ ہے مسٹر تم بس کام کرو زیادہ بولنے والے ہمیں زہر لگتے ہے ۔۔۔

وقار اپنی نیلی آنکھوں میں حیرت لاے بول رہا تھا جب وہ اپنی گرین آنکھوں سے دیکھتا بولا تھا ۔۔۔

اور ہاں یہاں پر بلیک شیشے لگوانا اب ۔۔

باہر جاتے ایول کو وہ دیکھ رہا تھا جب وہ اپنی گردن اندر کیے دوبارہ بولا تھا ۔۔۔

انہہہہ رعنا کے شوہر نہ ہوتے سب سے پہلے تجھے جیل میں ڈالتا ۔۔۔

غصے سے پاگل ہوتے وقار بڑبڑایا تھا ۔۔۔

امید ہے تمہاری یہ منحوس شکل نہ دیکھنے کو ملے زرا اچھے نہیں لگے ۔۔۔۔

اسے آگ لگاتے وہ اب سکون سے چلا گیا تھا ۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ آپو کو شکایت لگاتا میں اتنی پیاری شکل کو منحوس کہہ دیا اس ریچھ نے ۔۔۔

پتہ نہیں آپو کیسے برداشت کرتی ہے اس جن کو ۔۔۔

وہ آپے سے باہر ہوتا چیخا تھا ۔۔۔

بڑے بابا چلے ۔۔۔

وقار سے ملتا اب وہ مستقیم کے آفس آیا تھا جہاں وہ ضروری کال کرنے میں بزی تھے ۔۔۔۔

ارے حازم بیٹا تم یہاں کب اے وہ بھی اس وقت ۔۔

وہ اسے سامنے دیکھ مسکراتے بولے تھے بلکہ وہ خود اب گھر ہی جا رہے تھے ۔۔۔

کام تھا ہمیں چلے اب چلتے ہے ۔۔۔

وہ ویسے ہی ان کا ہاتھ پکڑتے بولا تھا ۔۔۔

بلکل میرے صامے جیسے ہو لیکن کچھ زیادہ ہی کھڑوس ہو صامے تو پھر بول لیتا ہے ۔۔۔۔

وہ اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے پیار سے بولے تھے ۔۔۔۔

بولتے تو ہے ہم بڑے بابا ۔۔۔

وہ انہیں لیے اب باہر آتا بائیک پر بیٹھا رہا تھا ۔۔۔

دیکھو یار پہلے صامے کو شوق ہوتا تھا فاسٹ بائیک کا اب تمہیں میں تو بوڑھا ہو گیا کہیں ہڈیاں ہی نہ ٹوٹ جاے یہاں سے گر کر ہاہاہہاہاہہاہاہا ہاہہاہاہاہہا۔۔۔

وہ قہقہ لگاتے اس کے ساتھ بیٹھتے بولے تھے ۔۔۔

بیٹا کبھی اپنے باپ کو گرنے دیتا ہے ہم ایسا کچھ نہیں کرے گے ریلکس رہے ۔۔۔

وہ ان کے ہاتھ اپنے شولڈر پر رکھتے پہلی دفعہ مدھم سا مسکراتے کہتا بائیک سٹارٹ کر چکا تھا ۔۔۔

اس کی بات پر وہ بھی مسکراے تھے ۔۔۔

مورننگ ۔۔۔

ناشتے کی ٹیبل پر آتے رعنا سب کو دیکھ مسکراتی بولی تھی ۔۔۔

سب ہی ناشتہ کرنے میں بزی تھے ۔۔۔

آؤ بیٹا ناشتہ کرو ۔۔۔

صام بھی مسکراتے بولے تھے ۔۔۔

بچی کا چہرہ مرجھا گیا ہے صام حازم کو نہ پا کر ۔۔۔

روحا ان کے پاس بیٹھی سرگوشی کرتی بولی تھی حدید مستقیم رعنا کے علاؤہ کسی کو نہیں پتہ تھا ایول رات سے آفندی پلیس اچکا ہے ۔۔۔

جانتی تو ہو ضدی کتنا ہے وہ میرے لیے بھی نہیں آیا تو اس کے لیے کیسے آتا تم فکر نہ ک۔۔۔

کیوں فکر نہ کرو صام حازم تو واقعی کچھ فیل نہیں کرتا ہمارے خیال سے وہ رومانٹک بھی نہیں ہو گا ۔۔۔

وہ جوس پیتے بول رہے تھے جب وہ طش سے کچھ زیادہ ہی منہ سے بول چکی تھی ۔۔۔

غوں غو۔۔۔

پانی پیے آرام سے پی لے ۔۔۔

روحا کی رومانٹک والی بات سنتے صام کو اچھو لگا تھا تبھی وہ ان پر غصہ کرتی بولی تھی ۔۔۔

اب یہاں رومانٹک والی بات کہاں سے آگی انیجل ۔۔۔۔

وہ انہیں گھورتے سرگوشی کرتے بولے تھے ۔۔۔

ہم نے ٹھیک کہا وہ کچھ فیل نہیں کرتا تو یہ رومانس بھی فیل نہیں کرتا ہو نہ ہی اس نے رعنا کو منایا ہو گا اگر وہ رومانٹک ہوتا یا ایسی فیلگنز رکھتا تو آچکا ہوتا یہاں دیکھیں نہیں آیا وہ ۔۔۔

آپ کا نام ہی ڈوب دیا اس نے باپ اتنا رومانٹک ہے وہ بیٹا نکما حد ہوتی ہے ہمیں تو بچی کا چہرہ دیکھ ترس آتا ہے

کیسے رہتی ہو گی اس کے ۔۔۔

روحا کے اندر ماں والی روح آچکی تھی اب وہ مسلسل صام کے کان کھا رہی تھی ۔۔۔۔

جبکہ صام سوچ رہے تھے کیا واقعی ان کا بیٹا کچھ فیل نہیں کرتا کیا وہ واقعی ان رومانٹک تھا ۔۔۔

ایسے تو ناک نہیں کٹوا سکتا میرا بیٹا باپ رومانٹک کنگ ہے اور بیٹا کچھ نہیں ۔۔۔

کچھ کرنا پڑے گا ۔۔۔

وہ اپنی شیو کھجاتے گہری سوچ میں ڈوبے سوچ رہے تھے ۔۔۔

کیوں آئ ہو یہاں ہمارے بنا ہی ۔۔۔۔

صام اور روحا دونوں ناشتے کرتے حازم نامے پر ہی سرگوشیاں کر رہے تھے جب انہیں آگ بگولہ ہوتے ایول کی غراہٹ سنائی دی تھی ۔۔

جو شرٹ لیس ویسے ہی رعنا کے سر پر کھڑا غرایا تھا ۔۔۔

وہ سب کو اگنور کر چکا تھا ۔۔۔

مستقیم کو گھر لانے کے بعد وہ جلدی سے روم میں آیا تھا جہاں بیڈ میں کمفڑٹر لیے رعنا گہری نیند سو رہی تھی ۔۔۔

اپنی ہڈی اتارے وہ بھی سکون سے اس کے ساتھ لیٹ چکا تھا ۔۔۔

اذانوں کی آواز سنتے رعنا جاگی تھی جب اپنے سینے پر سر رکھے بچہ بنے سوتے ایول کو دیکھ مسکرای تھی ۔۔۔

جس کی گرفت نیند میں بھی اس پر بے حد سخت تھی ۔۔

ہمت جمع کیے وہ آرام سے اس کی گرفت سے نکلی تھی ۔۔۔

نماز سے فارغ ہوتی وہ اب مسکراتی روم سے باہر گی تھی ایول ویسے ہی سو رہا تھا ۔۔۔

کیونکہ اپنی جگہ وہ تکیہ اس کی گرفت میں رکھ چکی تھی جیسے وہ نیند میں رعنا کو محسوس کیے سو رہا تھا ۔

کروٹ چینج کیے وہ سو رہا تھا جب اسے محسوس ہوا رعنا اس کے پاس نہیں تھی ۔۔۔

جھٹ سے آنکھیں کھولے جب دیکھا تو طش و غصہ سے وہ اٹھتا نیچے ویسے ہی چلا گیا تھا ۔۔۔

اسے شدید غصہ تھا رعنا پر جو اسے چھوڑے چلی گی تھی ۔۔

و۔وہ م۔۔

کیا وہ میں جب جانتی ہو ہمیں نہیں پسند تمہارا دور جانا تو کیوں آئ یہاں ۔۔۔۔

جوس پیتی رعنا جلدی سے لال چہرہ لیے کھڑی ہوتی بول رہی تھی جب وہ نیند سے بھری لال گرین آنکھیں بکھرے بروان بال ماتھے پر لیے وہ اسے کمر سے پکڑتا اپنے سینے سے لگاے غرایا تھا ۔۔۔

اب خوش ہو صام آفندی کا بیٹا اب اتنا بھی نکما نہیں انیجل بلاوجہ میری توہین کر رہی تھی دیکھو کتنا رومانٹک ہے ۔۔۔

رعنا اور ایول کو دیکھ صام مسکراہٹ روکے روحا کے کان میں سرگوشی کرتے مسکراے تھے ۔۔۔

شرم کرو چھوٹے یہاں بچیاں بیٹھی ہے ۔۔۔

احمد نے ہی مسکراہٹ روکے مداخلت کی تھی ۔۔۔

اچھا ہم پھر روم میں چلتے ہے ۔۔۔

وہ ڈھیٹ بنتا رعنا کو لے کر جاتا بولا تھا ۔۔۔

امن روشانے حدید مسکراہٹ روکے یہ سب دیکھ رہے تھے اس کی بات پر احمد کا چہرہ لال ہوا تھا مطلب وہ سوری کرنے کی بجاے اپنی کہہ رہا تھا ۔۔۔

یہی روکو قد سے بڑے ہوے ہو مجھ سے عمر سے نہیں سکون سے بیٹھے رہو اور رعنا کو ناشتہ کرنے دو حازم۔۔۔

رعنا کو زبردستی لے کر جاتے دیکھ صام زرا سختی سے بولے تھے ۔۔۔

یس ڈیول ڈیڈ ۔۔۔

ایول ان کی بات سنتا جلدی سے ویسے ہی کرسی پر بیٹھتے بولا تھا جب رعنا بھی سکون کا سانس لیتی بیٹھ چکی تھی ۔۔۔

ارے میری بیٹی جاگ گی۔۔۔

دوبارہ سب خاموشی سے ناشتہ کرنے لگ گے تھے جب جب حدید گود میں لیٹی پری وش کے گال چومتا بولا تھا جب اپنی انکھیں کھولے سب کو دیکھنے میں بزی تھی ۔۔۔

تم کدھر جا رہی ہو ۔۔۔

رعنا کو اٹھتے دیکھ وہ اس کی بازو پکڑتے غرایا تھا ۔۔۔

پری وش کو پکڑ لو تاکہ ہادی ناشتہ کر لے ا۔۔۔

اس کی بیوی ہے تم بیٹھی رہو ۔۔۔

رعنا سرگوشی کرتی بول رہی تھی جب وہ پھر غرایا تھا ۔۔۔

رہنے دو مس فائر پری وش میرے پاس ہی رہتی ہے تم ناشتہ کرو دیکھو لالہ تو تمہارے نوالے بھی گن رہا ہے کتنے کھا رہی ہو تم ۔۔

رعنا کا لال ہوتا چہرہ دیکھ حدید مسکراہٹ روکے ایول کو دیکھ بولا تھا جو سب کو اگنور کیے بس رعنا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

تو تم بھی کر لو ناشتہ اس بچی پر کیوں نظر رکھی ہے ۔۔۔

صام زرا غصہ سے ایول کو دیکھ بولے تھے جو بلکل خاموش بیٹھا تھا ۔۔۔

خودی کہہ سکون سے بیٹھ جاؤ اب بیٹھ تو گے ناشتہ کا نہیں کہا تھا آپ نے ڈیول ڈیڈ۔۔۔

وہ اپنی گرین آنکھوں میں غصہ لاے بولا تھا ۔۔۔

چلو اب ناشتہ کر لو اب خو۔۔۔

ہم اپنی مرضی کا ناشتہ کرے گے ڈیول ڈیڈ ۔۔۔

صام اس کی اتنی تابعداری دیکھ بول رہے تھے جب وہ آہستہ اسے اپنا ہاتھ رعنا کی کمر پر رکھتے سکون سے اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھ بولا تھا ۔۔۔

ہاں کرو اپنی مرضی سے توبہ ہے آج تک میں نے ایسے نخرے نہیں کیے کیوں انیجل میں ٹھیک کہہ رہا ہو ۔۔۔

ایول کی بات سنتے وہ روحا کی طرف چہرہ کیے معصومیت سے بولے تھے ۔۔۔

جی جی آپ تو بہتتتتت شریففففف ہے ۔۔۔

روحا دانت پیستے بولی تھی ۔۔۔

ہمارا ناشتہ جنگلی بلی ۔۔۔

اس کی کمر پر اپنے ہاتھ کی گرفت مضبوط کیے بھاری سرگوشی کرتا اس کے لبوں کو دیکھ بولا تھا ۔۔۔

و۔وہ امن تم جوس پیؤ ۔۔۔

اسے اگنور کیے وہ جلدی سے وہاں سے اٹھتی ہوی امن کے پاس آی تھی جو احمد کے ساتھ بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی ۔۔۔

ہاں پی رہا ہو تم بھی پیو ۔۔۔

جوس کو لبوں سے لگاے وہ بولی تھی ۔۔۔

یہ مجھے دو ماما میرا ناشتہ ہو گیا ۔۔۔

اپنی جان بچاتے وہ جلدی سے پری وش کو لے اپنے روم میں جاتی بولی تھی ۔۔۔

ایول نے صام کا لحاظ کیے خاموش بیٹھا رہا تھا ورنہ اس کا دل کر رہا تھا رعنا کا اگنور کرنے پر اسے شوٹ کر دے ۔۔۔

جبکہ وہ جان بچاے ان اوپر جا رہی تھی ۔۔۔

لالہ بہت رسک ہے میں ہلیپ ک۔۔۔

نہیں ہادی یہ ہماری جنگ ہے ہمیں ہی لڑنے دو ہم اس گناہ کی جڑ کو خود ختم کرے گے بس تم کچھ دن کے لیے باہر مت جانا ۔۔۔

وہ دونوں ہال میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب ایول کا پلان سنتے وہ ڈرتے بول رہا تھا تبھی وہ تحمل سے بولا تھا ۔۔۔

ایک دفعہ ڈیڈ کو بتا د۔۔۔

یار ڈیڈ نے خود کی حالت ایسی کر لی ہے اب ہم یہ سب خود کرے گے ڈیڈ کو مت بتانا بس جنگلی بلی مان جاے ۔۔۔

وہ ایک بار پھر بول رہا تھا جبھی وہ بولا تھا ۔۔۔

زوبی کو شامل کر لیتے ہ۔۔۔

زوبی کا اسے پتہ ہے اس لیے خیر تم کہیں جا رہے ہو وہ کام کر لو پھر رات کو بات ہوتی ۔۔۔

اسے تیار دیکھ ایول بات بدلتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جانا کس نے لالہ میں تو ایسے ہی تیار رہتا ۔۔۔

وہ دانت نکالے سکون سے بولا تھا ۔۔۔

پہلی دفعہ اتنا تیار دیکھا تمہیں ۔۔۔

ایول مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

و۔وہ۔۔۔

یہ غلط ہے لالہ آپ آگے مجھے بتایا ہی نہیں ۔۔۔

وہ دونوں باتوں میں بزی تھے جب سوہا فارس کے ساتھ آتی روٹھی ہوی بولی تھی ۔۔۔

ارے ہمارا بے بی ناراض مت ہو لالہ کو معاف کر دو بس بزی تھے ۔۔۔

اسے سینے سے لگاے اس کا ماتھا چومتے وہ لاڈ سے بولا تھا ۔۔۔

یہ چوزہ تو ساتھ ہی رہتا آپ کے آپ کو فکر ہی نہیں اپنی بہن کی ۔۔۔

وہ ہادی کو مکہ مارتی اور نخرہ کیے بولی تھی ۔۔۔

چلو آج ہم صرف اپنی بیٹی کو ٹائم دے گے اس چوزے کو نہیں اب ناراض مت ہونا ۔۔۔

ایول اسے مناتے ہوے ساتھ صوفے پر ان دونوں کو لے بیٹھ چکا تھا ۔۔۔

اب وہ تینوں اپنی نہ ختم ہونے والی باتیں سٹارٹ کر چکے تھے ۔۔۔

جبکہ پاس کھڑے فارس کو اگنور کر چکے تھے ۔۔۔

کافی دیر بعد وہاں رعنا روشانے بھی ا گی تھی لیکن تب بھی ان تینوں نے ان کو اگنور کیا تھا ۔۔۔

اچھا لالہ وہ یاد ہے جو ڈیڈ ہمیں جھولے دیتے تھے بلیٹ پر بیٹھا کر ۔۔۔

سوہا ایول اور حدید کے درمیان میں بیٹھی تھی جب دونوں کے سنیوں پر سر رکھتے وہ چہکتی بولی تھی۔ ۔۔۔

تمہیں چاہے وہ جھولے ۔۔۔

ایول اس کے ماتھے سے بال سنوارتے آرام سے بولا تھا ۔۔۔

بچپن میں صام جب بھی فری ہوتے تھے جب اپنے تینوں دشمنوں کو اپنی بلیٹ پر بیٹھا کر جھولے دیتے تھے ۔۔۔۔

ان تینوں کو بھی بس وہی جھولے پسند تھے ۔۔

تبھی وہ شوق سے لیتے تھے آج بھی سوہا اپنا بچپن یاد کیے بولی تھی ۔۔۔

ہاں پر کون دے گا ۔۔۔

سوہا سوچتی بولی تھی ۔۔۔

ہم دے گے بلکہ تم دونوں کو دے گے ۔۔۔

واقعی ۔۔۔

اسے اٹھتا دیکھ وہ شوک سے بولی تھی جو اپنی پینٹ سے بلیٹ نکال رہا تھا ۔۔۔

چلو آؤ ک۔۔۔

گر نہ جانا سوہا تم ۔۔۔

وہ اپنی بلیٹ کو پکڑتے سوہا کی طرف بول رہا تھا جب فارس فکر مندی سے بولا تھا ۔۔۔۔

ہمارے ہاتھوں سے وہ نہیں گرے گی تم ٹیشن نہ لو ۔۔۔

ایول اسے گھورتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جب فارس نے منہ بنایا تھا ۔۔۔

یییییی ایوہہہہہہ یاہوووو یاہہہہووووو ہاے لالہ مزہ ا گیا ۔۔۔۔

وہ خوشی سے چہکتی ہوئی اس کے پاس جاتی بلیٹ پر ایسے بیٹھی تھی جیسے جھولے پر بیٹھا جاتا ہے ۔۔۔

تبھی وہ ایول کو ویسے ہی جھولے دیتے دیکھ وہ چیخ رہی تھی ۔۔۔۔

جو پورے جوش سے اسے اوپر نیچے کر کرتا خود بھی مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔

دور کھڑی رعنا نے مسکراتے اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھا تھا وہ کتنا سب کا خیال رکھتا تھا ۔۔۔

لالہ اب میری باری ۔۔۔

حدید سوہا کو پکڑتے اٹھاتے بولا تھا جب ایول دوبارہ ویسے ہی پوزیشن میں آیا تھا جب حدید بیٹھا تھا ۔۔۔۔

ہاےےے لالہ شرم ا گی ۔۔۔

ایول اسے جھولا دیتا گھوما کر اپنے شولڈر پر بیٹھایا تھا جب اس کے شولڈر پر بیٹھتے وہ شرمانے کا ڈرامہ کر رہا تھا ۔۔۔

ہہاہاہہاہاہاہہا ہہاہاہاہہاہاہہا۔۔۔۔

ایول کا قہقہ دل کھول تھا جو کھڑا اسے لیے ویسے ہی قہقہے لگا رہا تھا ۔۔۔

شکر لالہ آپ ہنسے تو سہی ۔۔۔

حدید اس کے براون بالوں میں انگلیاں چلاے مسکراتا بولا تھا ۔۔۔

کیوں اب ہم اتنے بھی جن نہیں جو مسکرا نہ سکے ۔۔۔

سوہا اور حدید کو صوفے پر بیٹھاے وہ خود ان کے پاس بیٹھتا منہ بناے بولا تھا ۔۔۔

وہ تینوں پھر باتوں میں بزی ہو گے تھے جبکہ روشانے رعنا وقار پھر سے جلیس ہو رہے تھے ان تینوں سے جو ان سے بات کر ہی نہیں رہے تھے ۔۔۔۔

یہ کون ہے جس سے جنگلی بلی کر رہی ہے ۔۔۔

ارے یہ تو پولیس والا ہے ۔۔۔

جب رعنا لوگوں کو لگا وہ تینوں ان کو نہیں بلاے گے تب وہاں وقار اور زینب اے تھے ۔۔۔

باتیں کرتے ایول نے جیسے ہی گردن گھومای تھی جب وہ دیکھ دل میں سوچا تھا جہاں وقار کے سینے سے لگی رعنا مسکراتی کچھ کہہ رہی تھی ۔۔۔

یار ہادی قتل کرنا کسی کا ۔۔۔۔

جی لالہ بولے ۔۔۔

وقار پر نظریں جمائے ایول شدت جلیس ہوتا ہادی سے بولا تھا جب وہ فوراً بولا ۔۔۔

قتل ایسا کرنا کہ اس کا سینہ کٹ ہو ج۔۔۔

لالہ نام تو بتاے پھر ہی کرو گا ۔۔۔

وہ بول رہا تھا جب حدید کنفیوژ ہوتا بولا تھا ۔۔۔

ہاں قتل اس انسان کو کرنا ہ۔۔۔۔

برفانی ریچھ ملو اس سے میرا بھائی ہے ۔۔۔

ایول فل جلیس ہوتا بول رہا تھا جب رعنا وقار کو لے اس کے پاس آتی چہکتی بولی تھی ۔۔۔

اووو اچھا بھای ہے تمہارا ۔۔۔

اس کی بات سنتے وہ اچانک پرسکون ہوا تھا جبکہ رعنا نے اسے گھورا تھا کہ وہ کیوں ایسا ری ایکشن دے رہا ہے ۔۔۔

ہاےےے سالےےے۔۔۔نہیں مطلب صاحب کیسے ہو تم ۔۔۔۔

وہ جوش سے کھڑا ہوتا بولتا ہوا اسے سینے سے لگاے زور سے دبوچ رہا تھا جب رعنا کی گھوری پر پورے لفظ کہے تھے ۔۔۔

یہ شاہد مینٹل ہے ا۔۔۔۔

ہم مینٹل نہیں جنونی و ضدی ہے اگر شارٹ ولڈ میں کہا جاے تو کنگ آف اٹیٹیوڈ ۔۔۔

وقار بامشکل اس سے دور ہوتا رعنا کے کان میں سرگوشی کر رہا تھا جب وہ سکون سے کھڑا بولا تھا ۔۔۔

اگر سالےےے مطلب صاحب سے مل لیا ہو زرا روم میں آو ۔۔۔۔

وہ اب اپنے روم میں جاتا ہوا بول رہا تھا جب پھر رعنا کی گھوری دیکھ دانت پیستے کہتا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔

جاو کام ہو گ۔۔۔

نہیں جانا میں نے کتنی دیر سے مجھے اگنور کیا ہے اب میں کرو گی تم آؤ میرے ساتھ بھای ہو میرے ۔۔۔۔

وقار بول رہا تھا جب وہ ناک منہ چڑہاے کہتی صوفے پر بیٹھتی باتیں کرنے لگ گی تھی جبکہ روم میں مسلسل چکر کاٹتے وہ اس کا ویٹ کر رہی تھی ۔۔۔۔

بات سنو گروجی کا ایک ہی بیٹا ہے وہ ہمیشہ ہے باہر رہا ہے لیکن اسے پینٹگز کا شوق بہت ہے جیسے وہ ہر سال پورا کرنے دو دن کے لیے پاکستان آتا ہے ۔۔۔

بوبی نام اس کا لڑکیوں کا دیوانہ ہے اسے پکڑنے کے لیے تمہاری مدد چاہے ۔۔۔

کافی دیر بعد رعنا روم میں آئ تھی جب وہ سکون سے سگریٹ پیتا ہوا جلدی سے بولا تھا ۔۔۔

وہ جو ڈر کے اندر آی تھی کہیں وہ غصہ نہ کر جاے اب اسے پرسکون دیکھ وہ ڈری بھی تھی لیکن بات توجہ سے سن رہی تھی ۔۔۔

میں کیا ہیلپ کر سکتی ہو تمہاری ۔۔۔

وہ شیشے سے لوشن اٹھاے ہاتھوں پر لگاتی لاپرواہی سے بولی تھی ۔۔۔

تم خوبصورت ہو تم ہی اسے اپنے جال میں پھسا سکتی ہو جیسے ہی وہ تمہارے قابو میں آیا ہم اس کا قتل کر دے گے ۔۔۔

وہ کام کوئ اور بھی کر سکتا ہے اور کیا گارنٹی ہے وہ مجھے چھوے گا نہیں میں کچھ بھی نہیں ج۔۔۔۔

وہ چاہے جیسے مرضی چھو لے تمہیں پر وہ اپنے ہاتھوں کو گنوا لیے گا ۔۔۔۔

وہ سب سنتی ابھی بھی لاپرواہی سے بول رہی تھی جب وہ بھاری قدم اٹھاے ایک ہی جست میں اس کے قریب آتا اس کے چہرے پر جھکتا بولا تھا۔۔۔

ک۔کسی۔کیسے ۔۔۔

اپنی سانسوں کے قریب اسے دیکھ وہ اٹکتی بولی تھی ۔۔۔۔

اس چیپ کے ذریعے اگر وہ تمہیں چھوے گا بھی تب اس کا ہاتھ گل سڑ کر خراب ہو جاے گا ۔۔۔۔

بلکہ اس چیپ سے لگے زہر کا اثر اس پر ہو گا ۔۔۔

چھوٹی سی چیپ اس کی شہ رگ پر فٹ کیے وہ بھاری سرگوشی سے بولا تھا ۔۔۔۔

یہ ضروری ہے ک۔۔۔

بہت ضروری ہے ہمارے لیے ۔۔۔

کسی لڑکی کو یہ کام کہا تو وہ اس کا بیٹا ان سب لڑکیوں کو جانتا ہے جو ہمارے ساتھ کام کرتی ہے تمہیں وہ نہیں جانتا ا۔۔۔۔

وہ سانس روکے بول رہی تھی جب وہ اس کی شہ رگ کو سہلاتے بولا تھا ۔۔۔

ت۔تم ہو گ۔۔۔۔

ہم تمہاری سانسوں میں ہے ہمیشہ تم اس پر یہ شو کرواؤ گی تم ایک ماڈرن لاپرواہ سی لڑکی ہو اور ہم تمہارے پرسنل گارڈ ہے تمہارے ساتھ رہے گے باقی کام ہمارا ۔۔۔۔

وہ اس کی گردن پر اپنے لب رکھتا ہوا سارا پلان سمجھا چکا تھا ۔۔۔۔

ت۔تم جیسا گارڈ میرا یہ تو مذاق ہو گ۔۔۔۔

گارڈ بنو گا تو ہماری سیلری بھی بنتی ہے پہلے وہ دو ۔۔۔

رعنا ساری بات سنتی دور جاتی بول رہی تھی جب ایول اسے دوبارہ اپنی گرفت میں لیتا اس کی گردن میں منہ چھپاے بولا تھا ۔۔۔۔

ک۔کون س۔سی سیلری ن۔نہیں ملے گی۔۔۔۔

وہ اس کے تیور دیکھ ڈرتی ہوئ ہمت کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

تم دو یا نہیں ہم لے گے ۔۔۔۔

وہ اس کا منہ دوبوچتے ہوے اپنے چہرے کے قریب اس کے لب لایا تھا ۔۔۔۔

ی۔یہ مشکل ہے ایول کیونکہ وہ اتنی جلدی میرے قابو میں نہیں اے گا ہم امن زینب روشانے سے کروا لیتے کام ویسے بھی وہ میک اپ بھی کرتی ہے تم نے مجھے تو کرنے نہیں دینا میک اپ ۔۔۔۔

اس کا دھیان بٹھکانے کے لیے وہ دور جاتی بول رہی تھی ۔۔۔۔

تم میک اپ کے بنا بھی اچھی لگتی ہو اگر وہ نہ بھی قابو میں آیا تو ہم خود یہ قصہ ختم کرے گے تم یہ بہانے نہ بناؤ ۔۔۔۔

وہ اسے دوبارہ قابو کیے اس کی بیوٹی بون کو چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

و۔وہ می۔۔۔۔

کیوں چاہتی ہو ہم برے بنے تمہارے لیے ۔۔۔۔

وہ اس کی سانسوں کو قید کیے سردپن سے بولا تھا ۔۔۔۔

لاکھ کوشش کے بعد بھی جب رعنا کو لگا اس سے بچ پانا مشکل ہے تبھی وہ بھی اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔۔

جاو جو بھی ہو اسے کہو اندر مت اے ۔۔۔

اس سے پہلے ایول اپنی ہر حد پار کرتا جب روم کے ڈور پر دستک سن کر وہ رعنا کو چھوڑے اپنی لال ہوتی گرین آنکھیں لیے اس کے حیا بھرے چہرے کو دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔

اپنی سانسوں کو ٹھیک کیے رعنا نے آرام سے دروازہ کھولا تھا ۔۔۔۔

جہاں سامنے روشانے کھڑی تھی مسکراتی ہوئی ۔۔۔

امید ہے ڈسٹرب نہیں کیا ۔۔۔۔

وہ اپنی مسکراہٹ روکے اندر آتی رعنا کا لال چہرہ دیکھ بولی تھی ۔۔۔

ن

نہیں تم بتاو کچھ کام تھا ۔۔۔۔

وہ زبردستی مسکراہٹ لاے بولی تھی ۔۔۔

ہاں ہادی نے کہا تم لوگ شاہد شام کو کہیں جا رہے ہو تو میں تمہیں تیار کر دو ۔۔۔۔

بیڈ پر بیٹھتی وہ اپنے ساتھ لاے سامان کو رکھتی بولی تھی ۔۔۔

ہ۔ہاں جانا ہے تم ہی تیار کر دینا ۔۔۔۔

ایول کی گھوریوں کو اگنور کیے وہ بھی پاس بیٹھتی ہوی بولی تھی ۔۔۔۔

چلو پھر تمہیں تیار کر دو ا۔۔۔۔

یہ کیا بلا چیزیں اٹھا لائ ہو جنگلی بلی کو نہیں پسند میک اپ یہ نقلی چیزوں کا وہ ویسے ہی پیاری ہے ۔۔۔

ایول نے جب دیکھا کہ رعنا میک اپ کی طرف دیکھ انکھیں چمکی ہے تبھی وہ ان کے پاس آتا روشانے پر غرایا تھا ۔۔۔۔

جو ڈر کر کانپ گئ تھی ۔۔۔۔

ج۔ج۔۔۔

اٹھاؤ اور جاؤ یہاں سے نہیں کرنا اس نے میک اپ خبردار جنگلی بلی اگر یہ سب کیا تو تم ایسے ہی جاؤ گی ہمارے ساتھ ۔۔۔۔۔

روشانے آنسو کنٹرول کیے بول رہی تھی جب وہ پھر طش سے غراتا ہوا وہاں سے واک آؤٹ کر چکا تھا ۔۔۔۔

سوری یار وہ ایسا ہی ہے ا۔۔۔۔

روشنی روشنی یار۔۔۔۔

اسے دیکھ وہ شرمندہ ہوتی بول رہی تھی جب وہ میک اپ اٹھاے وہاں سے بھاگی تھی وہی وہ بے بس ہوتی چیخی تھی ۔۔۔۔

“”کچھ گھنٹے بعد۔۔۔۔۔

یہ ایک بار کلب تھا جہاں ہر عمر کے لڑکے لڑکیاں یہاں اپنی موج مستی میں مگن تھے ۔۔۔

ایول کو معلوم ہوا تھا بوبی نے آج کی رات صرف ایک کلب میں آنا ہے پھر وہ واپس چلے جاے گا اپنا پلان خراب ہوتے دیکھ وہ پہلے خودی اس کے پیچھے بار کلب آ گیا تھا جہاں چوبیس سالہ ایک خوش شکل لڑکا شراب پیتے وہاں آئ ہر لڑکی کے ساتھ انجواے کر رہا تھا ۔۔۔۔

ایول وہاں رعنا کا گارڈ بنے بوبی کو اپنے باتوں میں۔ الجھا چکا تھا اسے پھسانے کے لیے اس نے رعنا کے حسن کی تعریفیں کی تھی جیسے سن کر ہی بوبی پاگل ہو گیا تھا توں گھر تھی اسے یہاں حدید نے لانا تھا ۔۔۔۔

کہاں ہے تمہاری میم ابھی تک نہیں آی ۔۔۔۔

روم کے چرچے سنتے وہ پاگل ہو چکا تھا تبھی ایول کو دیکھ برا سا منہ بناے بے تابی سے رعنا کا ویٹ کر رہا تھا ۔۔۔

اسے لگتا زیادہ ہی جلدی ہے ہمارے ہاتھوں سے مرنے کی ۔۔۔۔

بوبی کی بے تابی دیکھ ایول کنٹرول کیے اسے دل میں کوستا ہوا گالیاں دے رہا تھا ۔۔۔۔

جو رعنا کے انتظار میں بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا ۔۔۔۔

وہ دیکھو آگی م۔م۔میم۔۔۔۔۔

بار کلب میں انٹر ہوتی رعنا کو دیکھ ایول بولتا ہوا اچانک گہرا سانس لیتے بولا تھا ۔۔۔۔

وہ ڈرتی کانپتی کلب میں انٹر ہوتی ایول کے سامنے آئ تھی جو آنکھوں میں شعلے لیے اور شوک سے منہ کھولے اسے ہی گھور رہا تھا ۔۔۔۔

رعنا کا ایسا روپ اس نے پہلی بار دیکھا تھا ۔۔۔۔

بوبی تو دیوانہ ہو گیا تھا رعنا کا حسن دیکھ کر ۔۔۔۔۔