Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 43) 2nd Last Episode (Part - 1)

581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 43) 2nd Last Episode (Part - 1)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

کیا واقعی ہمیں جسم کی بھوک تھی ۔۔۔

رعنا گھر چھوڑ کر آفندی پلیس چلی گی تھی وہ تو سمجھا تھا مذاق کر رہی ہے لیکن اب وہ اکیلا ہال میں کافی دیر بیٹھا سوچ رہا تھا جب ہال میں زوبی کے ساتھ چار پانچ لڑکیاں ماڈرن سی ای تھی جو بے ہودہ ڈریسنگ کیے ایول کو دیکھ مسکرا رہی تھی ۔۔۔

یہ غلط ہے ایول تم اسے ہارنے کے لیے ایسا کام پہلی بار کرنے ل۔۔۔

شیٹ اپ زوبی دفع ہو یہاں سے اب اندر مت آنا ۔۔۔۔

زوبی اس کو سمجھاتی بول رہی تھی جب وہ شراب کے مسلسل گلاس پیتے غرایا تھا ۔۔۔

وہاں کھڑی لڑکیاں بھی کانپی تھی اس کی آواز پر ۔۔۔

ہمیں خوش کرنا ہے کچھ بھی کرو منہ مانگے پیسے دے جاے گے بس کرو شروع ۔۔۔

اپنی شرٹ اتارے وہ کھڑے ہوتا ان سب کو آڈر دیتا بولا تھا۔۔۔۔

ایول کو حاصل کرنا ہر لڑکی کی خواہش تھی اب اس کی بات سنتے وہ خوش سے پاگل ہوتی اس کے سینے سے لگی تھی ۔۔۔۔

اپنے جسم پر اسے چوٹیاں چلتی محسوس ہوئی تھی۔ ۔۔

اپنے آس پاس ان سب کو فیل کرنے کی وہ آنکھیں بند کرتا کوشش کر رہا تھا لیکن مسلسل آنکھوں کے سامنے اسے رعنا کا چہرہ اور حیسن روپ دیکھ رہا تھا ۔۔۔

نہ۔نہیں نہیں عشق نہیں ہے ہمیں بس زرا سی خوبصورت ہی ہے وہ ۔۔۔

اپنے ذہن سے یہ خیال نکالتے وہ بولا تھا ۔۔۔

وہ سب اسے اپنی ہر ادا دیکھاتی بہلا رہی تھی بجاے وہ خوش ہونے کے اسے اب ان سب سے وحشت محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔

اہہہہہہ اہہہہہہہ ۔۔

مولانی عرف جنگلی بلی ہمیں اتنا بے چین کر کے خود سکون میں نہیں رہ سکتی تم ۔۔۔

اپنے اوپر جھکی اب سب لڑکیوں کی دور کیے وہ اٹھاتا سامنے پڑے شیشے کے ٹبیل پر لات مارتے غراتا بولا تھا ۔۔۔

جب اس کی غراہٹ کی دھاڑ پر وہ سب ڈرتی پیچھے ہوئ تھی ۔۔۔

ہم بے سکون ہے تو تم بھی رہو مس جنگلی بلی ۔۔۔

شیطانی مسکراہٹ لاے وہ اب ویسے ہی شرٹ لیس ہال سے نکلتا باہر جاتا بولا تھا ۔۔۔

جیتنے پیسے مانگ رہی دینا ان سب کو ۔۔۔

اپنی بائیک پر بیھٹے وہ پیچھے آتی زوبی کو دیکھ بولتا وہاں سے آندھی طوفان بنا گیا تھا ۔۔۔۔

ہاےےےےے اب یا تو جنگلی بلی بچے گی یا برفانی ریچھ ۔۔۔

ہاہہاہاہہاہاہہاہاہا مزہ ا جاے گا ۔۔۔

زوبی ایول کا جنونی روپ دیکھ وہی رعنا کی حالت سوچ قہقہ لگاے بولی تھی ۔۔۔

کیا ہے ہادی تم کب تک ناراض رہو گے مجھ سے ۔۔۔

آخر روشانے اس کی ناراضگی دیکھ پھٹ پڑی تھی جو بیڈ کی اپنی سائیڈ پر پری وش کو اپنے سینے پر لیٹاے سونے کی تیاری کر رہا تھا ۔۔۔۔

تمہیں مسئلہ کس چیز کا ہے پہلے بےبی کا تھا اب میری موجودگی کا ہو ر۔۔۔۔

مجھے مسئلہ صرف اس بچی سے ہے جیسے تم ایک ہفتے سے سینے سے لگاے گھوم رہے ہو مجھے شیئرنگ نہیں پسند کتنے دنوں سے دیکھ رہی ہو تم اسے ہی توجہ دے رہے ہو ۔۔۔

حدید دانت پیستے ہلکی آواز سے غرا رہا تھا جب وہ اپنے دل کی بھڑاس نکالتی بولی تھی ۔۔۔۔

میں اسے نہیں چھوڑ سکتا روشنی دیکھو کتنی معصوم سی ہے۔۔۔۔

حدید اچانک نرم پڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

قصور بھی تمہارا ہے ہادی پہلے اتنی محبت دے کر عادی بنا لیا اب اس بچی سے لگ کر مجھے بھول گے ۔۔۔

میں اسے قبول نہیں کرتی لیکن تم ایسے کیا کرو دن کو اسے لیا کرو اور رات کو صرف میرے ہو تم اسے روحا ماما نے پاس چھوڑ دیا کرنا رات کو ۔۔۔

جب دیکھا حدید نہیں مان رہا تبھی رونی شکل بناے وہ اسی کے سینے پر اپنا سر رکھے اپنا پلان سنا رہی تھی ۔۔۔۔

اس کی بات پر حدید نے مسکراہٹ روکی تھی ۔۔۔

دن کو بھی تمہارا رات کو بھی تمہارا بلکہ پوری زندگی میں صرف تمہارا رہو گا بس اس ننھے سے وجود سے نفرت مت کرنا تم اسے نہیں پال سکتی میں سبنھال ہی رہا ہو تم مجھے اپنی محبت دیا کرنا اب ڈن۔۔۔

روشانے کے سر رکھنے پر ننھی پری وش نیند میں ہی آہستہ رونا سٹارٹ کر چکی تھی جب حدید اسے سائیڈ پر کرتا پری وش کو گود میں لیے سولاتے روم میں چکر لگاتے بولا تھا ۔۔۔۔

ڈن۔۔۔

منہ بناتے وہ دل پر پھتڑ رکھتی بولی تھی ۔۔۔

اہہہ گڈ گرل اب سو جاؤ ۔۔۔

اس کا ماتھا چومتے وہ مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

تم کب سو گے ہادی ۔۔۔۔

کافی دیر ویٹ کرنے بعد روشانے بالآخر بول ہی پڑی تھی حدید ویسے ہی چکر لگا رہا تھا ۔۔۔۔

نہیں اب سونا کہاں دو گھنٹے بعد اسے فیڈ کروانا پھر اسے وہ دودھ ہضم بھی کروانا مجھے نیند نہیں آئ تم سو جاؤ جان۔۔۔۔

پری وش کا سارا پلان بتاے وہ اسے دیکھتا ہوا سائیڈ پر بنے ریک کی طرف گیا تھا جہاں اس کی ہر ضرورت کا سامان موجود تھا ۔۔۔۔

اچھا ۔۔۔۔

پری وش سے جلیس ہوتی وہ رخ چینج کیے لیٹتی بولی تھی جبکہ حدید ایک ہاتھ سے اسے پکڑتے دوسرے سے دودھ کا ڈبا اٹھاے اب باہر جا رہا تھا ۔۔۔۔

اوےےے بندر یہ لڑکیوں والے کام کب سے کرنے لگ گے پیچھے ہو میں بنا دیتی ہو فیڈر ۔۔۔

روشنی کدھر ہے ۔۔۔

رعنا کچن میں پانی پینے آئ تھی جب سامنے حدید کو دودھ کا فیڈر تیار کرتے دیکھ مسکراتی بولی تھی ۔۔۔۔

ایول کو چھوڑ کر گھر تو ا گی تھی لیکن اس کا دل نہیں لگ رہا تھا اب بھی وہ بے چین۔ ہوتی نیچے آی تھی ۔۔۔۔

روشنی کو ڈاکٹر نے ریسٹ کا کہا ہے ویسے بھی وہ اکیلی ماں تو نہیں میں بھی باپ ہو میرا بھی فرض ہے اسے ریسٹ دینے کا ۔۔۔

پری وش کو پکڑتے ویسے ہی کھڑے وہ بہانہ بناے بولا تھا ۔۔۔

ویسے میرے خیال سے روشنی نے صرف تمہیں ہی دیکھا زیادہ غور کرو پری بلکل تمہاری جیسی ہے ۔۔۔۔

فیڈر بنا کر اسے دیتے وہ پری وش کا گال چومتی ہوی شرارتی انداز سے بولی تھی ۔۔

شکر ہے مجھ معصوم اور حسین لڑکے پر چلی گی کہیں لالہ پر نہیں گی ہاے لالہ پر جاتی تو بس میری بیٹی نے مسکرانا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔

وہ اب شرارتی موڈ سے باہر کچن کی طرف دیکھ بولا تھا جہاں شرٹ لیس ایول ہال سے انٹر ہوتا سیدھا سیڑھیاں چڑھتے اپنے روم میں گیا تھا ۔۔۔۔

بچوں اور ایول کا نام سن کر وہ شرمای تھی ۔۔۔۔

بکواس کم کیا کرو ہر وقت پٹر پٹر جو منہ میں آتا بولتے رہتے ہو ۔۔۔۔

وہ اپنے لال چہرے سے کہتی وہاں سے اب روم میں گی تھی یہ جانے بنا روم میں ایول اس کا ویٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔

ہاےے آج تو شاہد نیند نہیں آنییییی۔۔

اہہہہہ اہہہہہ چو۔چو۔۔۔۔

وہ اپنے دھیان سے اب روم میں آتی سیدھی بیڈ پر گرتی بولی تھی جب اپنے نیچے کچھ سخت محسوس کیے وہ اٹھنے کی کوشش کرتی چیخ رہی تھی تبھی کروٹ چینج کیے ایول اپنے ہاتھ اس کے لبوں پر رکھتے اس پر جھکا تھا ۔۔۔

یہاں کیا کر رہی ہو تم ۔۔۔۔

وہ اس کی پھٹی نیلی آنکھوں میں دیکھ غرایا تھا ۔۔۔۔

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کس بات پر اتنا بےچین ہو رہا تھا ۔۔۔

ظ۔ظاہر۔س۔سی بات ہے لڑکی اپنے سسرال ہی رہتی ہے ۔۔۔۔

وہ اٹکتی سانسوں کے درمیان بولی تھی جبکہ دل تو خوشی سے پاگل ہو رہا تھا اسے سامنے دیکھ پر وہ اسے ظاہر نہیں کروانا چاہتی تھی ۔۔۔

تمہارا گھر ہمارا ایول ہاؤس ہے یہ نہیں چلو اٹھو ۔۔۔۔

اچانک اٹھتے وہ اسے بھی اپنے ساتھ اٹھاتا ہوا بولا تھا جب وہ ڈھیٹ بنی ویسے ہی لیٹی رہی ۔۔۔۔

میں یہی رہو گی کہیں نہیں جانا ۔۔۔۔

وہ ضدی لہجے سے کروٹ چینج کرتی بولی تھی ۔۔۔۔

بلیک ٹراؤزر ساتھ بلیک ہی ٹی شرٹ پہنے سنہری بالوں کی ڈھیلی سی پونی کیے وہ مسلسل اسے اگنور کرتی لیٹ چکی تھی ۔۔۔۔

پکا یہی رہو گی اب کہیں نہیں جاؤ گی ۔۔۔

اپنے لبوں پر شیطانی مسکراہٹ لاے وہ اس کی نازک کمر کو دیکھ بولا تھا ۔۔۔

ہاں ۔۔۔

وہ جواب دیتی اب سونے کی تیاری کر چکی تھی ۔۔۔۔

تو ہمیں کیا مسئلہ ہونا ہم بھی یہی رہے گے ۔۔۔

وہ کہتا ہوا چمب کرتا بیڈ پر لیٹ کر اسے اپنی گرفت میں لے چکا تھا ۔۔۔۔

جبکہ اپنے پاؤں سے اس نے دونوں پر کمفڑٹر لیتے اپنی ٹانگیں اس کی نازک ٹانگوں پر رکھی تھی ۔۔۔۔

وہ یہ سب اتنی جلدی کر چکا تھا جب تک اسے سمجھ آتا وہ اسے مکمل اپنی گرفت میں قابو کر چکا تھا ۔۔۔۔

ہماری جنگلی بلی کو نیند آ گی کیا ۔۔۔۔

وہ سانس روکے اس کی پناہوں میں تھی تاکہ وہ سمجھ جاے وہ سو گی ہے ۔۔

تبھی مسکراہٹ روکے وہ اسے کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگاے کان کی لو کو کاٹتا بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

ی۔یہ

یہ تمہارے اندر چھچورے پن کا کیڑا کب سے کاٹ رہا

ہے ۔۔۔

وہ ہکلاتی اس کے پیٹ میں مکہ مارتی بولی تھی ۔۔۔

ہمارے اندر کا یہ کیڑا صرف تمہیں دیکھای دیتا ہے ۔۔

ایول اس کے سیب جیسے لال سرخ گالوں پر بوسا دیتا خمار بھرے لہجے میں بولا تھا ۔۔۔

ی۔یہ تم فلرٹ کر رہے ہو ۔۔۔

وہ لال چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔

بیوی سے فلرٹ کب کیا جاتا ہے عشق کیا جات۔۔۔۔

مطلب تمہیں مجھ سے عشق ہے ۔۔۔

وہ اس کی بات سنتی جلدی سے کروٹ اس کی طرف کیے چہکتی بولی تھی ۔۔۔

یہ کب کہا ہم نے ۔۔۔

وہ اسے تنگ کرتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

ج۔جاو یہاں سے نکلو باہر وہاں صوفے پر جاؤ ۔۔۔۔

وہ شدت ضبط سے اپنے آنسو کنٹرول کیے اسے دھکا دیتی بولی تھی وہ ایک انچ بھی نہیں ہل پایا تھا ۔۔۔

اترو برفانی ریچھ ھھھھھھ۔۔۔

ہمت جمع کرتی وہ اپنے ہاتھوں سے اسے بیڈ سے گراتے چخی تھی ۔۔۔

جو شرٹ لیس ویسے ہی قالین پر گرا اسے گھور رہا تھا ۔۔۔۔

ایول کو گراے اب وہ آنسو روکے کمفڑٹر لیتی لیٹ چکی تھی ۔۔۔

ایول کو اتنا پر سکون دیکھ وہ ابھی شوک ہی تھی اچانک اس کو بیڈ پوری طرح سے ہلتا ہوا محسوس ہوا تھا ۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ۔۔۔ ۔۔

زنزلہ ا گیا ز۔۔۔۔

کتنی ڈرپوک ہو تم ۔۔۔

نیچے گرے ایول نے ہاتھوں سے بیڈ شیٹ کینچھی تھی تبھی وہ بیڈ سے سیدھی نیچے گرے ایول کے سینے پر گرتی آنکھیں بند کیے چلا رہیں تھی جب وہ بولا تھا ۔۔۔

تم صوفے پر جاتے ا ۔۔۔

وہ اسے دیکھ اٹھنے کی کوشش کرتی بول رہی تھی جب وہ بولا

۔

“ہماری زہریلی ناگن تم ہمارا سائز دیکھوں اور صوفے کا سائز دیکھوں اب ہم اوپر بیڈ پر بھی نہیں آ سکتے تھے تو تمہیں ہی یہاں بلا لیا ۔۔۔

م۔میں نے سونا ہے ا۔۔۔۔

وہ بہانہ بناے بول رہی تھی جب وہ پھر بولا تھا۔۔

تو تمہیں کس نے روکا ہے سونے سے سوجائو۔

رعنا کانپتی جسم سے اس کے سینے پر لیٹی چکی تھی جب اسے اپنی کمر پر اس کے ہاتھ محسوس ہوے ۔۔۔

آہستہ آہستہ ایول کا بھاری ہاتھ اس کی کمر پر گردش کرتا اب اس کی گردن تک آیا تھا ۔۔۔

جب نرمی سے ایول نے سائیڈ کروٹ لیے اپنا منہ اس کی گردن میں چھپایا تھا ۔۔۔

م۔می۔و۔۔۔

پہلے وہ اگنور کرتی رہی لیکن جب ایول کی شدت اپنی گردن سے شولڈر سے نیچے محسوس کی تبھی وہ دور ہوتی بول رہی تھی ۔۔

” چپ چاپ سو جائو ورنہ ہم اور بھی بہت کچھ کر سکتے ہے ۔۔

رعنا کے بالوں میں اپنا ہاتھ پیھرتا گھمبیر لہجے میں وہ بولا تھا ۔۔، ۔۔

رعنا جلدی سے اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی کافی دیر بعد اسے اس کی سانسوں کی آواز سنای دی تھی جس کا مطلب تھا وہ گہری نیند سو گی ہے ۔۔۔

ہماری مولانی جنگلی بلی ۔۔۔

اس کا سر اپنے بازو پر رکھتے وہ اس پر جھکتا ہوا اس کے لبوں کو قید کیے بولا تھا ۔۔۔

نیند میں بھی اپنے لبوں پر اس کی گرفت محسوس کیے اس نے برا سا منہ بنایا تھا جبکہ ایول مسکرایا تھا ۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ کیسے کیسے اس حدید کے بچے نے میری سالوں کی محنت ضائع کر دی اسے تو پکا موت د۔۔۔۔

اپنی موت کا سامان تیار کرنے والا دوسروں کی موت کا پلان نہیں بناتا ۔۔۔۔

مسٹر ریحان ۔۔۔

گروجی فون پر کال سنتا طش سے غرا رہا تھا جب اس کے روم میں انٹر ہوتے ایول نے طنزیہ مسکراہٹ لاے گردن ٹیرھی کیے اپنی سرخ گرین آنکھیں لیے بولا تھا ۔۔۔

ت۔تم یہاں کیسے ۔۔۔

گروجی رات کے دوسرے پہر اسے اپنے سامنے پاسنل ہاؤس آتے گھبراتے بولا تھا ۔۔۔۔

ہاں ہم کیوں کیا ہوا تمہیں ا۔۔۔۔

تعیمز سے بات کرو کیا بھول گے میں تمہارا گرو جی ہو ۔۔۔

ایول کو پہلی دفعہ اپنے آپ کو ایسے مخاطب کرتے دیکھ وہ ہمت کرتے غراے تھے ۔۔۔۔

تعمیز تو بلکل ہمارے پاس نہیں ہے رہتی ہی نہیں اب کیا کرے اچھا تم کیا بات کر رہے تھے کسی کی موت کی۔۔۔

وہ اپنی شیو کجھاے ان کے قریب آتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

حدید صام آفندی کی اس کے میری سالوں کی فکیڑی بند کروا دی صام آفندی نے سالوں میرے ہر کام میں ٹانگ اڑا کر کام تمام کیا اب دونوں کو موت دینی ضروری ہے ۔۔۔

وہ اسے جان بوجھ کر طش دلاتے بولے تھے جبکہ وہ بھول چکے تھے ایول سب جان گیا ہے ۔۔۔

موت ان کو کیوں تجھے ہی دے گے ہم تم گروجی ہمارے تب تھے جب ہمیں زیادتی سے بچایا ۔۔۔

تب گروجی تب تھے جب ہمیں ایک جینے کو زندگی دی ہفتوں بھوکا رکھا بڑے سے بڑے خطرناک جانوروں سے ہمارا مقابلہ کروایا برف کی سیلوں تک ہمیں ننگا کر کے لیٹایا تاکہ ہم سب کا مقابلہ کر سکے ۔۔۔

ہمیں برائ کے راستے کا بادشاہ بنایا تم چاہتے تو ہمیں اچھا انسان بھی بنا سکتے تھے ل۔۔۔۔

گرو ہو تمہارا اور تم مجھے ہی موت دینے کی بات کر رہے ہو ۔۔۔

ایول کی باتیں سنتے وہ جلدی سے ہمت کرتے غراے تھے ۔۔۔۔

گرو جی تھے تب تک جب تک ہمارے ڈیڈ ٹھیک تھے لیکن ان کو مارنے کی شازش کرکے تم نے ہمارے اندر سے وہ ایول نکالا ہے جو سالوں سے تم دیکھنا چاہتے تھے ۔۔۔

ہماری بیٹی کی کار پر بمب بلاسٹ کروایا ہمارے بھای ہمارا دل اس کے جم پر بمب بلاسٹ کروایا ڈیڈ پر حملہ کروایا لیکن اب بہت ہوا ایول اتنا کمزور نہیں ہے جو اپنوں کی ہی حفاظت نہ کر سکے ۔۔۔

بہت شوق ہے تمہیں موت دینے گا ہم تمہیں وہاں موت دے گے جہاں پانی بھی نہ ملے تمہیں ۔۔۔

جیتنی تڑپ ہمارے ڈیڈ کو دی اتنی ہی تڑپ ہم دے گے ۔۔۔۔

یہ پوری دنیا میں جو تمہارے دشمن چھپے بیٹھے ہے تم پر وار نہیں کرتے صرف ہماری دہشت کی وجہ سے آج ہم اس بات پر علان کرتے ہے کہ گروجی اور ایول دو دشمن ہے آج سے ہم تمہارے آخری دشمن ہے کیونکہ چند دن صرف چند دن پھر تمہاری موت ہو گی ۔۔۔۔

انہیں گردن سے دبوچتے وہ شیر بنا ان پر بھڑک رہا تھا ۔۔۔

گروجی کی سانسیں روک گی تھی ۔۔۔

م۔میں تمہاری کمزوری کو لو گا ایول وہ گولڈن بیوٹی تم کیا چڑاو گے مجھ سے ہاہہاہاہاہا ہاہہاہاہہاہاہاہ۔۔

رعنا کے نام پر ایول کے چہرے پر پل میں سایہ لہراتے دیکھ وہ خباثت سے قہقہ لگاتے بولے تھے ۔۔۔۔

ہم تیری نسل کو ختم کرے گے بچا سکتا ہے تو بچا لے اپنی نسل ۔۔۔

تم نے بہت سے والدین کے گھروں کی نسل تباہ کی ہے اب تیری باری ہے تیری نسل تباہ کرے گے ہم ۔۔۔

اگر روک سکتا ہے تو روک لے ہمیں ۔۔۔۔

اچانک ایول سامنے دیوار پر لگی گروجی کے بیٹے کی پک فریم میں دیکھ شیطانی مسکراہٹ لاے گن سے چار گولیاں شوٹ کرتا بولا تھا ۔۔۔

جب چھن سے فریم ٹوٹ کر نیچے گرا تھا ۔۔۔۔

دیکھ ت۔تیری دشمنی مج۔مجھ سے ہ۔۔۔۔

بیٹے کا سن کر وہ دل وجان سے کانپتے گھبراتے بول رہے تھے جب وہ واپس باہر کی طرف جاتا بولا تھا ۔۔۔۔

تیری دشمنی بھی ہمارے ساتھ تھی ہماری فمیلی کے ساتھ نہیں ۔۔۔۔

ہمارے ڈیڈ کے ایک ایک خون کے قطرے کا حساب تیری نسل دے گی ۔۔۔

چوہے بلی کا کھیل ختم اب جو ہو گا سامنے ہو گا ۔۔۔

جلد ہی تمہیں تمہاری نسل کا خون مل جاے گا ۔۔۔

وہ اپنی گرین آنکھوں میں غصہ لاے کہتا منٹوں سے وہاں گیا تھا ۔۔۔

گروجی کی سانسیں روک چکی تھی ۔۔۔

ڈر سے اپنا پیسنہ صاف کیا تھا ۔۔۔