Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 42)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 42)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
لالہ لالہہہہہ ڈیڈڈڈ ۔۔۔
یہ ۔یہ سب کیسے ہو گیا ۔۔۔۔
کافی دیر وہ چکر کاٹتا ویٹ کر رہا تھا جب ڈاکٹر بتاے گے وہ خطرے سے باہر ہے ۔۔۔
جب اچانک کوریڈور میں حدید اور سوہا کی چیخ گونج تھی ۔۔۔۔
ایول نے پلٹتے ان دونوں کو دیکھا تھا جو بچوں کی طرح روتے اس کی طرف بھاگ کر ا رہے تھے ۔۔۔۔
می۔میں نے کہا تھا ڈیڈ کو ایسا مت کرے لیکن ڈیڈڈڈڈڈ ۔۔۔
ایول کے زخمی سینے سے لگتے وہ دونوں اب پھوٹ پھوٹ کر روتے بولے تھے ۔۔۔
پیچھے آتی آنسو بہاے ویٹ گاؤن پہنے رعنا نے روحا کو ہگ کیا تھا جبکہ وہ تینوں بھای بہن آپس میں گلے لگے رو رہے تھے ۔۔۔۔
ایول خاموش آنسو بہاتا ان دونوں کا رونا سن رہا تھا جو اس کے سینے سے لگے بچے لگ رہے تھے ۔۔۔۔
اپنا غم بھلاے وہ انہیں بڑے بھای اور باپ کی طرح چپ کروا رہا تھا ۔۔۔
بس بس بہت رو لیا سوہا مت رو اور ۔۔۔
حدید اور سوہا کو سینے سے لگاے وہ دونوں کو چپ کرواتے بولا تھا ۔۔۔
خود کی آواز بھی بھاری ہو رہی تھی ۔۔۔
دیکھو ڈیڈ کو کچھ نہیں ہو گا ہم تینوں تو ان کے دشمن اور ایلفیاں ہے دیکھنا وہ واپس آے گے ہمارے لیے جانتے ہو تم دونوں وہ کتنے جلیس ہوتے تھے انیجل موم کے ساتھ ہمیں دیکھ کر اب بھی وہ جلیس ہو گے ہم تینوں کو موم کے ساتھ دیکھ ایسے رونے لگ گے تو وہ خوش ہو گے اپنے دشمنوں کو روتا دیکھ ۔۔۔
ہمیں انہیں خوش نہیں جلیس کروانا ہے چلو موم کے پاس چلتے ہے ۔۔۔
وہ ان دونوں کو ایسے ہی پکڑتے اپنے ساتھ روحا کے پاس لے کر جاتے بول رہا تھا مقصد صرف اتنا تھا کہ وہ ان دونوں کو بہلا سکے ۔۔۔
ہ۔ہم سب ماما کے پاس رہے گے لالہ پھر ڈیڈ ٹھیک ہو جاے گے کیونکہ اب ان کی انیجل کو اپنے پاس رکھے گے دیکھنا اب ۔۔۔
سوں سوں کرتی سوہا روحا کے سینے پر سر رکھے بول رہی تھی ۔۔۔
ہاں ہمارا بچہ ایسا ہی کرو موم کے پاس رہو اور ہادی بتاو موم کو تمہارے بیٹی ہوئ ہے ۔۔۔
ایول اب دونوں کا دھیان بھٹکاتے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں ب۔بیٹی ہوئ می۔میری ماما ۔۔۔۔
حدید پھوٹ پھوٹ کر روتا ہوا بولا تھا ۔۔
ماشاللہ بہت مبارک ہو ہماری پوتی ہوئ ہے ۔۔۔
روحا اس کا ماتھا چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
ماما ڈیڈ ٹھیک ہو جاے گے نہ میں ان کے بنا نہیں رہ سکتا ۔۔۔
ایول ان دونوں کے دھیان کو بٹھکانے میں ناکام ہوا تھا ۔۔
کیونکہ دونوں نے دوبارہ رونا سٹارٹ کر دیا تھا ۔۔۔۔
موم نے کہا تھا ڈاکٹر علاج کرتا ہے لیکن شفا ہمارا رب دیتا ہے تم لوگ دعا کرو ڈیڈ ٹھیک ہو جاے گے چلو اٹھو نماز پڑھو ۔۔۔۔
دور سے عشا کی آذان سنتے وہ ان دونوں کو چپ کرواتے بولا تھا ۔۔
ہاں نماز پڑھتے ہے آؤ ہادی ۔۔۔
سوہا جلدی سے خوش ہوتی ہادی کا ہاتھ پکڑتے اٹھتی بولی تھی ۔۔۔
ان دونوں کو نماز پڑھنے جاتے دیکھ ایول دوبارہ آپریشن تھیٹر کے سامنے جا کر چکر لگانے لگ گیا تھا ۔۔۔
سب کو دعا کا کہہ کر خود یہاں اندھیرے میں کھڑے ہو حازم ۔۔۔
کافی دیر بعد رعنا ہمت جمع کرتی اس کے پاس جاتی شولڈر پر ہاتھ رکھے بولی تھی جو اندھیرے میں کھڑا روتا ہوا اپنے آنسو کو چھپا رہا تھا ۔۔۔۔
وہ اچھے ہے ہم نہیں ہم گناہگار ہے ۔۔۔
وہ افسودگی سے بولا تھا ۔۔۔۔
یہ تو ہمارا رب جانتا ہے کون نیک کون گناہگار ہے ۔۔۔
حازم تم اس گناہ کے دلدل سے نکل جاؤ ا۔۔۔
ہمارے لیے اس دلدل سے نکلنا بہت مشکل ہے کیونکہ اگر ہم نے یہ سب چھوڑ بھی دیا تب بھی ہم پر کافی دشمنوں کی نظر ہے تم نیک ہو اتنی عبادت کرتی ہو دعا کرو اللہ ضرور سنے گا تمہاری۔۔۔
وہ اپنی ضبط ہوتی گرین آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا بولا تھا ۔۔۔۔
کوشش کر سکتے ہو تمہاری ایک توبہ سے سارے گناہ معاف ہو جاے گے تم دل سے معافی مانگ کر دعا تو کرو دیکھنا سب ٹھیک ہو جاے گ۔۔۔۔
کیا واقعی اگر ہم اپنے گناہ سے توبہ کر کے دعا مانگے تو ڈیڈ ٹھیک ہو جاے گے ۔۔۔۔
وہ اسے سمجھا رہی تھی جب بچوں جیسی چمک آنکھوں میں لاے اس کے ہاتھوں کو پکڑتے بولا تھا ۔۔۔
ہاں تم دل سے دعا کرو دعا قبول ہو جاے گی ۔۔
کس منہ سے دعا مانگے ہم دیکھو ہمارے ہاتھ خالی ہے کوئ اچھا کام آج تک نہیں کیا کوئ نیکی بھی شاہد کی ہو ۔۔۔
وہ اپنے بھاری سفید کانپتے ہاتھوں کو اس کے سامنے کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
تم کوشش کرو میرا رب بہت غفور و رحیم ہے وہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے
تم تو پھر اس کے نادان سے بندے ہو تو کوشش تو کرو ۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑے وہاں لای تھی جہاں روحا کے ساتھ حدید اور سوہا نماز پڑھنے میں بزی تھے ۔۔۔۔
پہلے اپنے زخموں پر بینڈیج کرواؤ پھر نماز ادا کرنا ۔۔۔
رعنا اسے لیے اب ایک روم میں گی تھی جہاں وہاں کی نرس نے پاس آتے اس کے زخموں کو صاف کرنا شروع کیا تھا۔۔۔
نرس سے مرہم کرواتے اب وہ رعنا سے کپڑے لیے واش روم گیا تھا ۔۔۔
رعنا نے وقار سے پکڑے منگواے تھے اس کے ۔۔۔
جاو اب نماز ادا کرو ۔۔۔
ہہہمممم۔۔۔
وہ چلتا ہوا وضو کرنے واش روم گیا تھا ۔۔۔
واپس آکر وہ ان تینوں کے ساتھ جاے نماز پر کھڑا نماز کی نیت باندھ چکا تھا جبکہ دل اس کا اندر سے کانپ رہا تھا وہ جانتا تھا کتنا بڑا وہ گناہگار تھا۔۔۔
باقی سب کی طرح وہ بھی نماز پڑھ رہا تھا ۔۔
اے ہمارے رب ہم تیرے گناہگار سے بندے ہے ہم اپنے ہر گناہ کی معافی مانگتے ہے ۔۔
ہم اپنے ڈیڈ کو ٹھیک اور سلامت چاہتے ہے ہماری دعا قبول فرما ۔۔
ہمیں سمجھ نہیں آرہا کیسے اپنے دل کی بات کہو الفاظ ہی نہیں تم سب جانتا ہے دلوں کے حال سے واقف ہے ہمارے بن کہے ہی ہر بات کو سن لے ۔۔۔
دعا مانگتے وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتا وہی سجدے میں سر گراے رویا تھا ۔۔۔
مسز صام ۔۔۔۔
وہ چاروں نماز پڑھ کے دعا میں مصروف تھے جب ایک ڈاکٹر روم میں انٹر ہوتا بولا تھا ۔۔۔
ج۔جی ۔۔۔
روحا آنسو صاف کیے کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔۔
مسٹر صام آفندی اب خطرے سے باہر ہے اب بہت جلد وہ ہوش میں آ جاے گے اللہ نے آپ سب کی دعا سن لی مبارک ہو ۔۔۔
ڈاکٹر نے مسکراتے ہوے پہلی گڈ نیوز سنای تھی ان کو ۔۔۔
اللہ تیرا شکر ہے ۔۔۔۔
روحا نے ہاتھ اٹھاے شکر ادا کیا تھا ۔۔۔۔
حازم ڈیڈ اب ٹھیک ہے ۔۔۔
سجدے میں گرے حازم کو پکڑتے روحا پاس آتی بولی تھی حدید سوہا کی حالت بھی بری تھی لیکن حازم کی حالت دونوں سے زیادہ بری تھی وہ مسلسل بچوں کی طرح رونے میں بزی تھا ۔۔۔
و۔واقعی ماما۔م۔مطلب ہم اتنے برے نہیں ہے ہمارے رب نے سن لی مامامامااااا۔۔۔
خوش سے چیختے وہ بولا تھا ۔۔۔
آپ بہت اچھے ہے لالہ بیسٹ ہے دیکھا ڈیڈ ٹھیک ہو گے کہاں برداشت کر سکتے تھے ہمیں اپنی انیجل کے ساتھ کب سے ان کے ساتھ ہے ہم ۔۔۔
سوہا اور حدید حازم کے سینے سے لگے ہلکے موڈ سے بولے تھے ان سب کے دلوں میں سکون اترا تھا ۔۔۔
ہاں دشمن پلس ایلفیاں ہے ان کی ۔۔۔
حازم بھی ہلکا سا مسکراتے بولا تھا دل سے بوجھ کچھ کم ہوا تھا ۔۔۔
لالہ اپ یہی رہے میں آتا ہو روشنی کو دیکھنا ۔۔
ہیر کی کال دیکھتے حدید جلدی سے بولتا ہوا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔
سب کے چہروں پر اب پرسکون خوشی تھی اب وہ ویٹ کر رہے تھے صام کے ہوش میں آنے کی ۔۔۔
کیا طریقہ ہے روشنی کچھ شرم کرو ہاسپٹل ہے تم گھر جا کر لڑنا مجھ سے یہاں نہیں کچھ لحاظ کرو ۔۔۔
ہاسپٹل آتے ہیر نے اسے بتایا تھا روشنی نے ہوش میں آنے کے بعد بھی بچی کو گود میں نہیں لیا تھا نہ اسے فیڈ کروایا تھا بچی تب سے بھوکی تھی ۔۔۔
تبھی وہ پہلی دفعہ آگ بگولہ ہوتا روم میں انٹر ہوتا اس پر برسا تھا جو زرد چہرہ کمزور سی روشانے بیڈ پر لیٹی اسے ہی ان رہی تھی ۔۔۔۔
نہیں کرواؤ گی تم چاہے جیسے مزصی چیخو یہ میری بیٹی نہیں ہے ۔۔۔
وہ منہ موڑے تلخ لہجے سے بولی تھی ۔۔۔
افسوس ہے تم پر کسی ماں ہو اپنی ہی ب۔۔۔
نہیں ہو اس کی ماں سنا تم نے بلکہ میں تو تم سے بھی بات نہیں کرنا چاہتی دھوکا دیا تم نے مجھے ۔۔۔۔
حدید بے بس ہوتا بول رہا تھا کیونکہ اسے صام کی بھی ٹیشن تھی اوپر سے روشانے کی ضد ۔۔۔
تبھی وہ بنا لحاظ کیے بولی تھی ۔۔۔
بھاں بھاں ۔۔۔۔
روشنی گھر جا کر بات کرے گے کس کی بیٹی ہے یا نہیں لیکن یہ ننھی سی جان بھوکی ہے اسے فیڈ کرواؤ ۔۔۔۔
حدید اپنے ہاتھوں میں نرس سے لیتے اس ننھی پری کو لے بولا تھا جو آنکھیں بند کیے مسلسل رونے میں بزی تھی ۔۔۔۔
بے حد کمزور سی بروان بالوں والی سفید سرخ رنگ والی وہ حدید کی کاربن کاپی تھی ۔۔۔
میری بلا سے مر ج۔۔۔
بکواس بند کرو نہیں پالنا مت پالو اس کی باپ زندہ ہے میں پال کو گا اپنی پری وش کو اور تم اپنی خیر مناؤ بہت جلد تمہیں چھوڑ دو گا نہیں چاہے مجھے تمہاری جیسی لڑکی جس کے دل میں ماں جیسی ممتا نہ ہو ۔۔۔۔
وہ بول رہی تھی جب وہ طش سے غراتا بچی کو باہر لے گیا تھا ۔۔۔
بڑی ماما اپ لے جاے روشنی کو ا۔۔۔
بیٹا اس بچی کو کہاں لے کر جا رہے ہو ۔۔۔
وہ باہر آیا پری وش کو گود میں لیتا جاتا بول رہا تھا جب ہیر بولی تھی ۔۔۔
میرے ساتھ رہے گی یہ اب ۔۔۔۔
وہ سرد لہجے سے کہتا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔
ڈ۔ڈیڈ ٹھیک ہو جاے ہمیں آپ کی ضرورت ہے ۔۔۔
کیوں کیوں ڈیڈ ہمیں واپس لانے کے لیے آپ نے اپنا بھی نہ سوچا ایک بار کہتے تو سہی کہ گھر واپس آ جاو ہم آ جاتے ۔۔۔
کاش کاش اس دن مان لی ہوتی آپ کی یہ حالت تو نہ ہوتی معاف کر دے ڈیڈ۔ ۔۔۔
صام کو روم میں شفٹ کر دیا تھا جب وہ روم میں اکیلا آتا بیڈ پر آتے میشنوں کی درمیان بے ہوش صام کا ہاتھ پکڑتے اسے چومتے وہ مسلسل روتا ہوا بول رہا تھا ۔۔۔۔
ہمیں معاف کر دے ڈیڈ ہر دفعہ ہماری وجہ سے ہی فمیلی مصبیت میں آئ ہے ۔۔۔
یہی وجہ تھی ہم گھر نہیں آنا چاہتے تھے ۔۔۔
ڈیڈ جلدی ٹھیک ہو جاے آپ کا حازم کمزور ہو رہا ہے ڈیڈ ۔۔۔۔
ان کے سینے پر سر رکھے وہ سالوں کا غبار روتا ہوا نکال رہا تھا ۔۔۔۔
ڈیڈ آنکھیں کھولے دیکھیں اب ہمیں ہم آپ کے قریب ہے ۔۔۔
ہمیں پتہ ہوتا گروجی کی اصلیت دیکھانے کے لیے یہ سب کر رہے ہے ہم کبھی یہ سب نہ کرنے دیتے ۔۔۔۔
ہم وعدہ کرتے ہے آپ کے نکلے ہر خون کے قطرے کا بدلہ لے گے اسے ایسی موت دے گے وہ پچھتاے گا کس سے پنگا لیا ہے ۔۔۔
حازم اب ایول کے روپ میں اتا طش سے غرا رہا تھا ۔۔۔
یہ کیا لالہ میرے بھی ڈیڈ ہے سائیڈ پر ہو ۔۔۔
ایول ویسے ہی سرگوشیاں کرتا اپنے دل کی بات کر رہا تھا جب اندر آتی سوہا بولی تھی ۔۔۔
ڈاکٹر نے بہت منع کیا تھا کسی کو اندر جانے سے لیکن یہ تو ڈیول کے ضدی بچے تھے دشمن پلس ایلفیاں تو کس کے مانتے ایول کی طرح سوہا بھی اندر ا چکی تھی ۔۔۔
دیکھیں آپ کے شور سے وہ ڈسٹرب ہ۔۔۔۔
تم ڈاکٹر کس چیز کے ہو یہی بیٹھے رہو ڈیڈ کو ہوش اے تو سب سے پہلے تم نے دیکھنا ہے ۔۔۔
پاس پڑے صوفے پر بیٹھے ڈاکٹر ان دونوں کو سمجھاتے بول رہا تھا جو دونوں ہی اس بیڈ پر ایڈجسٹ ہو رہے جب ایول صام کی آیک طرف دوسری طرف سوہا لیٹے تھے تبھی وہ اپنی گرین آنکھوں سے اسے گھورتا بولا تھا ۔۔۔
کون سا ٹائم تھا جو اس آپریشن پر ہاتھ ڈالا سب ہی پاگل ہے یہ دو کم تھے جو تیسرا بھی ا گیا ۔۔۔۔
کافی دیر بعد حدید بھی ایک پنک کلر کا جھولا لیے اندر انٹر ہوتا جلدی سے جھولا صام کے بیڈ کے ساتھ لگاے خود ایول اور صام کی ٹانگوں پر سر رکھے لیٹ چکا تھا ۔۔۔۔
تبھی ان تینوں نمونے دیکھ ڈاکٹر بیزار ہوتا بولا تھا ۔۔۔
کیونکہ وہ تینوں خاموشی سے اتنے بڑے ہو کر بھی بچوں جیسے صام کے ساتھ لگے لیٹے تھے جبکہ وہ ڈاکٹر کو روک چکے تھے کہ وہ کہی باہر نہ جاے مسلسل بارہ گھنٹوں سے وہ صوفے پر اکڑتے بیٹھا تھا ۔۔۔۔
حدید ہاسپٹل اے بچوں کی ڈاکٹر سے پوچھ چکا تھا پری وش کو فیڈ کیسے کروانا جب ڈاکٹر نے اسے بازاری دودھ کا بتایا تھا جلدی سے خودی فیڈر تیار کیے اس نے پری وش کو فیڈ کرواے اپنے ساتھ لے آیا تھا جو گہری نیند جھولے میں سو رہی تھی ۔۔۔
س۔سر میں نے واش روم جانا ہے ۔۔۔
ڈاکٹر نے بہت کوشش کی تھی یہاں سے جانے کی لیکن حدید اور ایول اسے ایک پل کے لیے باہر جانے نہیں دے رہے تھے تبھی وہ تھک ہار کر بہانہ بناے بولا تھا ۔۔۔
ہاں ہاں جاو اب ہم روک تو نہیں سکتے جاو ۔۔
صام کے ساتھ لیٹے ایول نے آنکھیں بند کیے سردپن سے بولا تھا ۔۔۔
وہ واپس اپنے جنونی ایول روپ میں آ چکا تھا دل اس کا پرسکون تھا ۔۔۔
ج۔جی اچھا ۔۔۔
ایول کا سردپن لہجے کو سنتے وہ ڈرتا ہوا اندھا دھت باہر کو بھاگتے بولا تھا ۔۔۔
سو گے تم دونوں ۔۔۔
صام کے شولڈر سے لگی سوہا گہری نیند سو رہی تھی جبکہ ٹانگوں کے درمیان لیتا حدید بھی ایول کی ٹانگ کو پکڑے سو رہا تھا جب ایول اپنی گردن اٹھاے دونوں کو دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔
جو گہری نیند سوتے دیکھ ایول بھی اپنے آنکھیں بند کر چکا تھا ۔۔۔
ا۔ان۔انیجلللل۔۔۔
صاممممم آپ ٹھیک ہے ہم ڈاکٹر کو ب۔۔۔۔
ن۔نہیں تم یہی رہو بس ۔۔۔۔
روحا تینوں کو اندر جاتے دیکھ چکی تھی جب کافی دیر بعد بھی وہ باہر نہیں اے تب وہ اٹھتی اندر گی تھی ۔۔۔
اندر کا ماحول دیکھ انہیں اپنے بچوں پر پیار آیا تھا۔ ۔
جو روم کی لائٹ ہلکی کیے صام کو زخمی حالت میں ہی ہگ کیے گہری نیند سو رہے تھے جیسے وہ بچپن میں ان کے ساتھ سوتے تھے ۔۔۔
وہ آہستہ چلتی ہوئ پہلے پری وش کو دیکھا تھا جو آپ اپنے باپ کی طرح سو رہی تھی پھر وہ چلتی ہوئ ان چاروں کے پاس آئ تھی جب ہوش میں آتے صام نے آہستہ سے آنکھیں کھولے انیجل کو بلایا تھا جب وہ ان کے چہرے پر جھکتی بول رہی تھی ۔۔۔
جب وہ کمزور سی آواز میں بولے تھے ۔۔۔
ی۔یہ سب یہاں کیسے ۔۔۔
اپنے گرد ان تینوں کو دیکھ وہ بامشکل بولے تھے ۔۔۔
جب روحا مسکرای تھی کیونکہ سوہا اور ایول نے اپنے چہرے صام کی گردن میں چھپاے ہوے تھے جبکہ ایول کی بھاری ٹانگ حدید کے سینے پر پڑی تھی جیسے وہ اسے ہگ کیے سو رہا تھا ۔۔۔۔
ا۔اس وجہ۔س۔سے می۔میں ان تینوں کو دشمن اور ایلفیاں کہتا ہو۔اج۔ب۔بھئ میری انیجل کو دور کیے خود چپک گے ہے ۔۔۔
صام کو تینوں پر پیار آیا تھا جب وہ مسکراتے بامشکل بولے تھے ۔۔۔
آپ کو پتہ پورے ہاسپٹل کو وقت ڈالا تھا تینوں نے ابھی کچھ پرسکون ہوے سارے ڈاکٹرز ان کو سوتا دیکھ وہ تو یہاں بھی ڈاکٹر کو بیٹھاے بیھٹے تھے کہ ڈیڈ کو جیسے ہی ہوش اے وہ چیک کر سکے اب خود ان کی حالت دیکھ لے ۔۔۔
روحا مسکراتی ہوئی سب بتا رہی تھی جیسے سن وہ مسکرا رہے تھے ۔۔۔
اچھا یہاں آو میری فمیلی کمپلیٹ ہو گئ آج میں بہت خوش ہو ۔۔۔
اپنے بازؤں سے لگے ایول اور سوہا کو دیکھ وہ بامشکل آپنی گردن اٹھاے بولے تھے جب روحا انہیں گھورتی ہوئی بامشکل وہاں جگہ بناے بیٹھی تھی جب صام کے ساتھ ایول کا سر ان کی گود میں آیا تھا ۔۔۔
ہاں ہماری فمیلی کمپلیٹ ہو گی ۔۔۔
وہ ایول کا ماتھا چومتی بولی تھیں ۔۔۔۔
میرا ڈرامہ کام کر گ۔۔۔
اہہہہ انیجل درد ہوتا ہے یار ۔۔۔۔
اپنی گردن کو اونچا کرتے وہ ان کی ناک کو چومتے بول رہے تھے جب روحا نے ان کے کندھے پر مکہ مارا تھا تبھی وہ مصوعنی درد سے چیخے تھے ۔۔۔
س۔سوری سوری صام زیادہ لگ گی ۔۔۔
وہ جلدی سے پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
میں بہت خوش ہو سب کو دیکھ کر ۔۔۔
صام مسکراتے ہوے بولے تھے ۔۔۔
روحا بھی خوش تھی صام کے بچ جانے پر ۔۔۔
“””ایک ہفتے بعد ۔۔۔۔
اگر اتنی محبت ہے گھر والوں کے ساتھ تو رہتے کیوں نہیں ان کے ساتھ ایول ۔۔۔۔
صام جلدی سے ریکور ہوے گھر ا گے تھے انہیں صحت یاب ہوتے دیکھ ایول اپنے پرانے روپ میں واپس آ گیا تھا ۔۔۔۔
وہ واپس اپنے روزانہ کے کام میں بزی ہو چکا تھا صام پہلے تو خوش تھے ایول گھر آ جاے گا لیکن دوبارہ اسے ویسے دیکھ وہ اب بلکل چپ ہو گے تھے ۔۔۔۔
روشانے کی بیٹی دیکھ سب ہی خوش ہوے تھے آفندی پلیس میں سالوں بعد بچے کی آواز گونج رہی تھی حدید پری وش کو خود ہی سبھنال رہا تھا روشانے کو بلانے اس نے اگنوراہ بھی نہیں کیا تھا وہ ناراض تھا اس سے ۔۔۔
وہی ایول رعنا کو واپس ایول ہاؤس لا چکا تھا ابھی بھی وہ زوبی کو قران مجید کی تلاوت کرواتے باہر آی تھی جب اسے ایک روم کے اندر سے آفندی پلیس کے سب لوگوں کی آواز سنای دی ۔۔۔
تبھی وہ تجسس سے مجبور ہوتی اندر انٹر ہوئ تھی وہاں کا منظر دیکھ وہ منہ بناے بولی تھی ۔۔۔
چاروں طرف بڑی بڑی ایل سی ڈی لگی ہوئ تھی جس پر حدید کی بنائ کافی ساری ویڈیوز چل رہی تھی جبکہ درمیان میں کرسی پر بیٹھا ایول شوق سے وہ ویڈیوز دیکھ رہا تھا جب رعنا کی آواز سنتا کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
ہر ایل سی ڈی میں مختلف منظر گھوم رہے تھے سب کے وہ مذاق والی ویڈیوز صرف ایول کے لیے بناتا تھا تاکہ ایول سب کو دیکھ سکے ۔۔۔
کاموں سے فارغ ہوتے وہ روزانہ ان ویڈیوز کو دیکھ خوش ہوتا تھا کہ اس کی فمیلی ساری اس کے بنا خوش ہے آج بھی وہ وہی کام کر رہا تھا جب وہ آئ ۔۔۔
محبت ہے تبھی دور رہے اتنے سال اگر ساتھ رہتے تو کبھی یہ سب زندہ نہ ہوتے ۔۔۔
ایول سکون سے کھڑا ویسے ہی بولا تھا ۔۔۔
تمہارے دماغ کا فضول خناس ہے ورنہ ا۔۔۔
ڈیول ڈیڈ کے بہت دشمن تھے انہوں نے سب کو اپنی حفاظت میں لیے اپنا کام آج تک پورا کیا ۔۔۔
آج تک ان کی دہشت ہے سب کے اوپر ۔۔۔
ڈیول ڈیڈ نے ہمیشہ اچھا کام کیا انہیں ڈر نہیں کسی کا وہ جانتے تھے حفاظت کر سکتے ہے ۔۔۔
لیکن ہم برے انسان تھے ہر وہ برا کام کیا جو نہیں کرنا چاہتے تھے ہمارے دشمن بڑے اور کافی زیادہ ہے ہمیں یقین ہے آج بھی اگر ہم یہ علان کرے کون مقابلے میں آکر ہم سے لڑے تو پاکستان کیا پوری دنیا کے ممالک سے لوگ ہم سے لڑنے آ جاے گے ۔۔۔
پوری زندگی ہر قدم کو سوچ کر اٹھایا جانتے تھے کسی کو نہیں پتہ چلے گا ایول کی فمیلی ہے لیکن کبھی نسل ختم ہوتی ہے کبھی نہ کبھی کسی کو پتہ چل ہی جانا تھا ڈیول کا بیٹا ایول ہے ۔۔۔
بہت بار ہماری فمیلی پر وار ہوے جس کو ہم نے ہمشیہ ان وار پر منہ توڑ جواب دیا ان کا سایہ بن کر حفاظت کی دور رہا پوری زندگی کہ کبھی کچھ نہ ہو ان کو ۔۔۔
لیکن ڈیڈ کی اب حالت دیکھ دل ڈر گیا ہمارا پہلے جانے کا سوچا تھا لیکن اب نہیں ا ۔۔۔
تو مجھے کیوں رکھا ہے اپنے پاس تم نے چھوڑ کیوں نہیں دیتے ہو آخر دشمن ہی ہو ۔۔۔۔
رعنا سمجھ گی تھی اس کی بات اس کے دل سے یہ خیال نکالنے کے لیے وہ کچھ سوچتی چیخی تھی ۔۔۔۔
اسے بتانا ضروری تھا اس کے ساتھ سے اس فمیلی خطرے میں نہیں بلکہ سڑونگ ہوتی تھی ۔۔۔
تم جانا چاہو تو جا سکتی ہو ۔۔۔
وہ روم سے باہر آتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
ہاں ایسے ہی کہو گے کون سا عشق ہو تمہارا تمہیں صرف میرے جسم کی بھوک تھی وہ ختم ہ۔۔۔۔
کیا بکواس کر رہی ہو ۔۔۔
اس کے پیچھے آتی وہ پھر چخی تھی ۔۔۔
کیا یہ سچ نہیں بولو تم یا کہو تمہیں مجھ سے عشق ہے میں مان جاؤ گی تم سچ کہہ رہے ہو ۔۔۔۔
اس کے سامنے آتی وہ پھر غرای تھی وہ چاہتی تھی ایول کو آفندی پلیس واپس آنا چاہے تھا اسے لانے کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتی تھی ۔۔۔۔
ہاں تمہارے جسم کی بھوک تھی ہمیں اب خوش ایول کبھی بھی کسی سے عشق کرنے کے لیے نہیں بنا ۔۔۔
تم جانا چاہتی ہو خوش سے جاؤ ہم بھی نہیں اے گے ہزار لڑکیاں ہمارے ایک اشارے پر ا سکتی ہے یہاں تم جاو ۔۔۔
تم زرا سی خوبصورت کیا ہو نخرہ ہی کرنے لگ گی کیا سمجھتی ہو ایول تمہارے عشق میں پاگل ہے ۔۔۔
بلکل نہیں۔ ۔۔۔
وہ جلتا بھنتا ہوا صوفے پر بیٹھے بولا تھا ۔۔۔
شدت ضبط سے اس کا چہرہ لال ہو چکا تھا ۔۔۔
ہاں چلی جاتی ہو میرا بھی چلینج ہے تمہیں عشق ہے وہ بھی مجھ سے دیکھنا تم آؤ گے میرے پاس۔ ۔۔
اور یہ ہزار کیا لاکھ لڑکیاں بھی تمہارے قریب اے تب بھی تمہیں میری یاد اے گی میرے وجود کو یاد کرو گے ۔۔۔
بہت جلد تم مانو گے یہ زہریلی ناگن تمہاری رگ رگ میں بس چکی ہے ۔۔۔
انہہہہ۔۔۔
ناک چڑہاے وہ کہتی وہاں سے واک آؤٹ کر چکی تھی ۔۔۔۔
مینٹل ۔۔۔۔
سگریٹ جلاے اب وہ لبوں پر رکھتا بولا تھا ۔۔۔
دل تو دھڑکا تھا اس کے جانے کا سن کر لیکن وہ خود کو کمزور نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔
کیا واقعی ہمیں جسم کی بھوک تھی ۔۔۔
رعنا گھر چھوڑ کر آفندی پلیس چلی گی تھی وہ تو سمجھا تھا مذاق کر رہی ہے لیکن اب وہ اکیلا ہال میں کافی دیر بیٹھا سوچ رہا تھا جب ہال میں زوبی کے ساتھ چار پانچ لڑکیاں ماڈرن سی ای تھی جو بے ہودہ ڈریسنگ کیے ایول کو دیکھ مسکرا رہی تھی ۔۔۔
یہ غلط ہے ایول تم اسے ہارنے کے لیے ایسا کام پہلی بار کرنے ل۔۔۔
شیٹ اپ زوبی دفع ہو یہاں سے اب اندر مت آنا ۔۔۔۔
زوبی اس کو سمجھاتی بول رہی تھی جب وہ شراب کے مسلسل گلاس پیتے غرایا تھا ۔۔۔
وہاں کھڑی لڑکیاں بھی کانپی تھی اس کی آواز پر ۔۔۔
ہمیں خوش کرنا ہے کچھ بھی کرو منہ مانگے پیسے دے جاے گے بس کرو شروع ۔۔۔
اپنی شرٹ اتارے وہ کھڑے ہوتا ان سب کو آڈر دیتا بولا تھا۔۔۔۔
ایول کو حاصل کرنا ہر لڑکی کی خواہش تھی اب اس کی بات سنتے وہ خوش سے پاگل ہوتی اس کے سینے سے لگی تھی ۔۔۔۔
اپنے جسم پر اسے چوٹیاں چلتی محسوس ہوئی تھی۔ ۔۔
اپنے آس پاس ان سب کو فیل کرنے کی وہ آنکھیں بند کرتا کوشش کر رہا تھا لیکن مسلسل آنکھوں کے سامنے اسے رعنا کا چہرہ اور حیسن روپ دیکھ رہا تھا ۔۔۔
نہ۔نہیں نہیں عشق نہیں ہے ہمیں بس زرا سی خوبصورت ہی ہے وہ ۔۔۔
اپنے ذہن سے یہ خیال نکالتے وہ بولا تھا ۔۔۔
وہ سب اسے اپنی ہر ادا دیکھاتی بہلا رہی تھی بجاے وہ خوش ہونے کے اسے اب ان سب سے وحشت محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
اہہہہہہ اہہہہہہہ ۔۔
مولانی عرف جنگلی بلی ہمیں اتنا بے چین کر کے خود سکون میں نہیں رہ سکتی تم ۔۔۔
اپنے اوپر جھکی اب سب لڑکیوں کی دور کیے وہ اٹھاتا سامنے پڑے شیشے کے ٹبیل پر لات مارتے غراتا بولا تھا ۔۔۔
جب اس کی غراہٹ کی دھاڑ پر وہ سب ڈرتی پیچھے ہوئ تھی ۔۔۔
ہم بے سکون ہے تو تم بھی رہو مس جنگلی بلی ۔۔۔
شیطانی مسکراہٹ لاے وہ اب ویسے ہی شرٹ لیس ہال سے نکلتا باہر جاتا بولا تھا ۔۔۔
جیتنے پیسے مانگ رہی دینا ان سب کو ۔۔۔
اپنی بائیک پر بیھٹے وہ پیچھے آتی زوبی کو دیکھ بولتا وہاں سے آندھی طوفان بنا گیا تھا ۔۔۔۔
ہاےےےےے اب یا تو جنگلی بلی بچے گی یا برفانی ریچھ ۔۔۔
ہاہہاہاہہاہاہہاہاہا مزہ ا جاے گا ۔۔۔
زوبی ایول کا جنونی روپ دیکھ وہی رعنا کی حالت سوچ قہقہ لگاے بولی تھی ۔۔۔
