Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 40)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 40)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
“””کچھ چھ ماہ بعد۔۔۔۔
دھیان سے یار کیا کر رہی ہو ابھی گر جاتی تم ۔۔۔
حدید جلدی سے روشانے پکڑے بولا تھا جو مشکل سے کھڑی سڑھیاں چڑ رہی تھی ۔۔۔
تبھی وہ ہال میں انٹر ہوتا اسے دیکھ بولا تھا ۔۔۔
و وہ اب دل کر رہا ریسٹ کر لو زنیی بھی چلی گی گھر اور امن کی بھی طعیبت ٹھیک نہیں ہے تو سوچا خودی چلی جاؤ ۔۔۔
اپنے بھاری وجود کو سبنھلتی وہ اس کے ساتھ آہستہ آہستہ قدم اٹھاے جاتی بول رہی تھی ۔۔۔
جبکہ حدید کا فل فوکس سڑھیوں کے ہر زینے پر پڑتے اس کے قدموں پر تھے ۔۔۔
ویٹ کر لیتی یا نیچے کسی بھی روم میں ریسٹ کرتی خودی منہ اٹھا کر چل پڑتی ہو حد ہے یار اگر کچھ ہو جاتا پھر ۔۔۔۔
اب روم کی طرف جاتے حدید اپنا روزانہ کا لیکچر سٹارٹ کر چکا تھا ۔۔۔
ان چھ مہینوں میں روشانے کو حدید کے عشق میں اپنے لیے اضافہ ہوتے ہی دیکھا تھا وہ ہر طرح سے اس کا خیال رکھ رہا تھا اس کا رونا چلانا لڑنا ہر چیز وہ اچھے سے برداشت کر جاتا تھا ۔۔۔
وہ کبھی کبھی سوچتی تھی کہ کیا حدید کو اس کے وجود سے گھن نہیں آتی تھیں جو اتنی محبت اور کیئر کرتا تھا اس کی ۔۔۔۔
وہ خوش تھی اس کا ساتھ پا کر ۔۔۔
چلو اب ریسٹ ک۔۔۔۔
کیا کر رہے ہو ہادی میں ایسے ہی لیٹ جاؤ گی ۔۔۔
روم میں آتے اسے بیڈ پر آرام سے بیھٹاے وہ اس کے کندھوں سے شال اتار رہا تھا جب وہ گھبراتی بولی تھی ۔۔۔
تمہارا مسئلہ نہیں کہ کیا کر رہا ہو میں نے اپنی بیٹی سے بات کرنی ہے تم ریسٹ کرو بس ۔۔۔
بیڈ پر بیٹھتے خود بیڈ سے ٹیک لگاے وہ روشانے کو سینے سے لگا کر اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
میرا بے بی کیسا ہے کب آؤ گی یار تمہارے بابا اکیلے ہے ۔۔۔۔
جلدی سے آؤ میں نے اپنی پری بیٹی کے لیے بہت ساری شاپنگ کی ہے ۔۔۔
روشانے کو سینے سے لگاے وہ آرام آرام سے باتیں کرتا مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔
روشانے مسلسل اپنے آنسو کا گلا گھونٹ رہی تھی ۔۔۔۔
ہ۔ہادی ایسے م۔مت کرو م۔میں اپنی ہی نظروں سے شرمندہ ہو جاتی ہو تمہارا پیار اس منحوس وجود کے لیے دیکھ کر یہ تمہاری ذمہ داری نہیں ہے ہم اپنا ب۔۔۔۔
حدید جو روزانہ کی طرح باتیں کر رہا تھا روشانے کے پیٹ پر رکھ کر جب وہ کافی دیر بعد کنٹرول کھوتی روتی ہوئی بول رہی تھی جب وہ بولا ۔۔۔۔
اگر چاہتی ہو سکون کی نیند اے تو خاموشی سے سو جاو۔۔۔
اس کی دمھکی پر وہ بلکل بچوں جیسی شکل بناے اس کے سینے میں منہ چھپا گی تھی۔ ۔۔۔
حدید مسکرایا تھا اس کی حرکت پر ۔۔۔۔
یہ پورا فینش کرنا ہے سوہا بے بی ۔۔۔۔
فارس سوہا کو فروٹ کی پلیٹ دیتا سکون سے بولا تھا جو پھولا منہ لیے بیٹھی تھی ۔۔۔
میں نہیں کھا رہی ابھی تم نے دودھ فینش کروایا مجھ سے اب یہ نہیں کھایا جاتا دل خراب ہو رہا کافی ۔۔۔۔
وہ برا سا منہ بناے بولی تھی ۔۔۔
تین ماہ پہلے اسے گڈ نیوز ملی تھی وہ خوش ہونے کی بجاے جلیس ہو گئ تھی کہ فارس بچوں کو پیار زیادہ کرے گا ۔۔۔۔
جبکہ فارس تو اب اس کی زیادہ کئیر کرتا تھا ۔۔۔
ڈاکٹرز نے کہا ہے تم اور بےبیز ویک ہے کافی ا۔۔۔۔
مجھ سے ایک نہیں ہنیڈل ہونا اور یہاں دو دو ہو رہے ہے ہاےےے میں کیسے کرو گی سب ۔۔۔۔
فارس اسے بہلاتے بول رہا تھا جب وہ اسی کے سینے سے لگی روتی بولی تھی ۔۔۔۔
دیکھنا تم اچھی ماما بنو گ۔۔۔۔
بیوی تو اچھی بن نہ سکی مجال ہے مجھے کوگنگ کرنی آتی ہو سب کام ہانیہ ماما کرتی ہے ۔۔۔۔
فارس اس کے آنسو صاف کرتا بول رہا تھا جب وہ سوں سوں کرتی روتی بولی تھی ۔۔۔
ہم دونوں مل کر سبھنال لے گے اب خوش ۔۔۔
اس کا گال چومتے وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔
ہاں تم ان کے کپڑے بھی خود چینج کرنا ا۔۔۔۔
سوہا اب خوش ہوتی اسے سارے کام بتا رہی تھی جیسے وہ خوش ہوتا سن رہا تھا ۔۔۔
یہ سارے کام میں کرو گا تو تم کیا کرو گی جانی ۔۔۔
فارس اس کے پھولے گال کو چھوتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
میں اپنے فادی سے بے پناہ عشق کرو گی اور ہاں یہ دونوں بےبیز الگ روم میں سویا کرے گے ۔۔۔۔
اس کی گردن میں بائیں حائل کیے وہ مسکراتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔
ہاہہاہاہہاہاہ ہاہہاہاہہاہاہا۔۔۔
اس کی بات پر فارس کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
مطلب ہمارا بیٹا ٹھیک ہو گیا ۔۔۔
روحا رعنا کی بات سنتی خوش ہوتی بولی تھیں ۔۔۔
ٹھیک کہاں ہونا جنونی پاگل ہو گیا ہے ۔۔۔
کیا بول رہی بیٹا تم ۔۔۔
فون کان کو لگاے وہ بڑبڑای تھی جب روحا نے دوبارہ پوچھا تھا ۔۔۔
ان چھ ماہ میں رعنا کو احساس ہوا تھا ایول اس کا دشمن ٹھیک تھا یہ شوہر کے روپ میں تو اسے وہ جنونی اور جلالی ہی لگا تھا ۔۔۔۔
اپنے علاؤہ وہ اب کسی سے بھی رعنا کی بات نہیں ہونے دیتا تھا ہر وقت اس کے ساتھ ساتھ رہتا تھا ۔۔۔
یہاں تک وہ اسے حور سے بھی بات نہیں کرنے دیتا تھا۔۔۔
جی وہ ٹھیک ہو گیا ۔۔۔
وہ زبردستی مسکراہٹ لاے بولی تھی ۔۔۔
ہمارا بیٹا معصوم ہے اسے اتنا سب نہیں پتہ بس سنجیدہ رہتا ہے ہر وقت بہت کم ہے جو اپنی فیلگنز وہ ہمیں بتا دے ۔۔۔
کم گو بھی زیادہ ہے ا ۔۔۔۔
روحا تو حازم کی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھی جیسے روزانہ کی طرح رعنا سکون سے سن رہی تھی ۔۔۔
سچ ہی کہتیں تھیں اپنا جنونی پن غصہ مسکرانا تنگ کرنا ہر وہ چیز صرف رعنا کے سامنے کرتا تھا ویسے وہ سب کے سامنے بولنا بھی اگنورا نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔
ہاں معصوم اور شریففف۔۔
یییییییی اہہہہ۔۔
کیا ہوا بیٹا ۔۔۔۔
رعنا جو ایول سے چھپ کر روحا سے بات کر رہی تھی جب اچانک اپنی کمر پر کچھ ٹھنڈا فیل کرتی روکی تھی جب گردن پیچھے کیے دیکھا تو باتھ لے کر آتا ایول شرٹ لیس ٹاول لگاے اسے کمر سے پکڑتے اپنے سینے سے لگاتے سکون سے اس کی کان کی لو کو کاٹا تھا ۔۔۔
تبھی وہ چیخی تھی جب روحا بولی ۔۔۔
بتاو مولانی اب کیا ہوا جب منع کیا کسی سے بات نہیں کرنی تو نہیں کرنیییییییی۔۔۔۔
رعنا کا زرد چہرہ دیکھ وہ اپنا منہ اس کے بالوں اور گردن میں ڈالے بھاری آواز سے بولا تھا جبکہ ہاتھ کمر سے پیٹ تک آے تھے اس کے ۔۔۔
و۔وہ ماما بلا تھا میں ڈر گی آپ بتاے مجھے اب کیا کرو ۔۔۔
وہ بامشکل اپنے حلق کو تر کیے بولی تھی جب ایول نے مسکراتے ہوے اس کی شرٹ کی بیک زپ کھولے وہاں اپنے سرد ہونٹ رکھے تھے ۔۔۔
حازم کو اپنی عادت تم نے ڈال دی ہے اب اسے اگنور کرو حد سے زیادہ کہ وہ تمہارے بنا نہ رہ سکے ۔۔
سن رہی ہو ہماری بات ۔۔۔۔
ایول نے فون پکڑ کر سپیکر پر رکھا تھا اور خود وہ زرد چہرہ لیے رعنا کو اپنی باہوں میں قید کرتا اپنی بے باک شرارتیں کر رہا تھا ۔۔۔۔
رعنا اب مشکل میں پڑ چکی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ ماں کی سنے یا شوہر کی سنے ۔۔۔۔
ج۔جی ماما سن رہی ۔۔۔
لال ہوتے چہرے کے ساتھ رعنا نے ایول کو دور کیے شرٹ شولڈر سے پکڑتے بولی تھی ۔۔۔
ہمارا بیٹا بہت کم اپنی فیلگنز شئیر کرتا ہے معصوم سا ہے وہ ۔۔۔
روحا خوش ہوتیں پھر بولنا سٹارٹ کر چکی تھی ۔۔۔
اننہہ معصوم توبہ کتنی بڑی غلط فہمی ہے ماما کی ۔۔
اپنی شہ رگ پر اس کے سرد لب محسوس کیے وہ دل میں بولی تھی ۔۔۔
غلط فہمی ماما کو ہے ہمیں تو نہیں تم جانتی ہو ہم معصوم کے م بھی نہیں ہے ہم تو بہت برے اور بے شرم ہے ۔۔۔۔
رعنا کو گود میں اٹھاے بیڈ کر گراتے وہ مسکراتا اس پر حاوی ہوتے آنکھ ونک کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
م۔ماوں کو لگتا ہوتا کہ ان کے بیٹے ننھے بچے معصوم سے ورنہ بیٹے تو ان کے توبہ ہےہمےےےےے۔۔۔
اس کی خوبصورتی سے نظریں چڑہاے وہ شرم سے لال ہوتے چہرے سے بول رہی تھی جب ایول نے اسے ٹانگ سے پکڑتے اپنے قریب لایا تھا۔۔۔
دونوں کی خاموشی میں صرف فون سے روحا کی آواز گونج رہی تھی ۔۔۔
بیٹا سن رہی ہو ہم کہہ رہے تھے اگر بے بی ہو جاتا تو حازم کچھ نارم۔۔۔۔
ج۔جی جی ماما سن لیا اب میں بعد میں بات کرتی ہو ۔۔۔۔
روحا کی بات پوری ہونے سے پہلے وہ ایول کی ٹانگوں سے نکلتی بھاگ کر فون اٹھاے بولتی فون کٹ کر چکی تھی ۔۔۔
کون سا بے بی کدھر سے آیا بےبی ۔۔۔
ایول اس کے قریب آتا فون لیتا دیوار پر مارتا غرایا تھا۔ ۔۔
یییییی کیا ہے تمہیں ہر وقت گوند کی طرح چیپک جاتے ہو میں تمہارے کسی بھی سوال کی ج۔۔۔
اہہہہ اٹیٹیوڈ بےبی بڑی جلدی اچھی بہو ہونے کا ثبوت دے رہی ہو ایم امیریس ۔۔۔
وہ جلدی سے دروازے کے قریب جاتی ہمت جمع کیے بول رہی تھی جب وہ اپنی ایک ٹانگ سے اس کی دونوں ٹانگوں کو لاک کیے ڈور سے پین کیے وہ اس پر جھکتا طنزیہ بولا تھا ۔۔۔۔
ہ۔ہاں دیکھا سکتی ہو اٹیٹیوڈ کی۔۔۔
تم دیکھاو اپنا یہ اٹیٹیوڈ اور اگنور کرو ہمیں پھر ہم بھی اپنا شدت بھرا لمس تمہارے وجود پر چھوڑا کرے گے اب سوچ لو اگنور کرتی ہو یا پاس آتی ہو ۔۔۔۔۔
اس کی شرٹ کی نیک پر اپنی انگلی رکھے وہ اس پر مکمل جھکتا کان میں سرگوشی کیے بولا تھا ۔۔۔
اہہہ ڈرتی نہیں ہو میں سمجھے برفانی ریچھ۔۔۔۔
ہمت جمع کرتی وہ جھکتی ہوئ اس کے باہوں سے نکلتی جلدی سے باہر جاتی ناک پھیلاے بولتی وہاں سے بھاگی تھی ۔۔۔۔
اہہہہہہ اہہہہہہ میری ناک ۔۔۔
اپنی دھن میں بھاگتے وہ ہال کے پلر سے ٹکراتی قالین پر گری اپنی ناک پکڑے چلا رہی تھی ۔۔۔
پاگل ہو کیا لگوا لی نہ چوٹ عقل پتہ نہیں کہاں رہتی ہے یہ آنکھیں بھی ہے انسان کے پاس ہم اتنے بھی برے انسان نہیں۔ ہے جو ایسے ڈرتی بھاگ جاتی ہو دیکھو اب اپنا یہ ناک د۔۔۔۔
وہ جلدی پریشان ہوتا اس نے قریب آیا نیچے بیٹھتا اس کی ناک کو دیکھ طش سے بول رہا تھا جب رعنا اپنے لیے فکر دیکھ شرماتی ہوئی اس کا گال چوم گی تھی ۔۔۔۔
شاہد ابھی کوئ اگنور کر رہا تھا ہمیں ۔۔۔
مدھم مسکراہٹ اپنے لبوں پر لاے وہ اسے کمر سے پکڑتا اپنی گود میں اٹھاے بولا تھا ۔۔۔۔
جب اس کا چہرہ اس کے قریب آیا تھا ۔۔۔
دونوں کی نظروں میں عشق کا سمندر ٹھٹھاے مار رہا تھا ۔۔۔
اس کی نظروں کی تاب نہ لاتے وہ جلدی سے شرما گی تھی ۔۔۔
زوبی کو کال کرو وہ چیک کرے تمہیں کہیں ہڈی تو نہیں ٹوٹ گی ۔۔۔
اس کا حیا بھرا چہرہ دیکھ دوبارہ وہ اس کی سرخ ناک کو سہلاے فکرمندی سے بولا تھا ۔۔۔۔
ہمممم۔۔۔
رعنا اپنا منہ اس کی گردن میں چھپاے بولی تھی ۔۔۔
مولانی خود دعوت دیتی ہو ہمیں بہکانے کی یہ غلط ہے ۔۔۔۔
اسے روم میں واپس لے کر جاتے ایک پاؤں سے دروازہ بند کیے وہ مدہوش ہوا اس کے کان میں سرگوشی کرتا بول تھا ۔۔۔
آپ کہیں جا رہے ہے صام ۔۔۔
صام کو اپنی کلائی پر اپنی بلیک شرٹ باندھے دیکھ وہ پاس آتی فکرمندی سے بولی تھی ۔۔۔
ہاں کہیں جانا بہت ضروری ہے انیجل تم خیال رکھنا ۔۔۔
وہ انہیں کمر سے پکڑتے مسکراتے بولے تھے ۔۔۔
کیوں اپنی بوڑھی ہڈیوں کو توڑنا چاہتے ہے آپ ڈیول ۔۔۔
وہ سب سمجھتی زرا غصے بھرے لہجے سے بولی تھی۔۔۔
ابھی اتنا بھی بوڑھا نہیں ہوا میں آزما کر د۔۔۔۔
سچی بتاے کہاں جا رہے ہے کہیں خطرناک کام کے لیے تبھی ہماری یہ پرانی شرٹ ساتھ لے کر جاتے ہے اب تو جان چھوڑ دے اس شرٹ کی حد ہے صام ۔۔۔۔
روحا ان کی کلائی سے شرٹ نکالنے کی کوشش کرتی بول رہی تھیں ۔۔۔۔
تمہاری اس شرٹ سے آج بھی تمہاری خوشبو آتی ہے افففف بہکا دینے والی ۔۔۔
میں نہیں اتار رہا بات ختم انیجل ۔۔۔
صام ان کا ماتھا چومتے عقیدت سے بولے تھے ۔۔۔
روحا نے خاموشی سے آنکھیں بند کی تھی ۔۔۔
جلدی انے کی کوشش کرو گا اگر نہ آ سک۔۔۔۔
تو انیجل ابھی آپ کی جان لے گی وہ ان کی گردن پر ہاتھ رکھے بات کاٹتی بولی تھی ۔۔۔
جلدی آنا ڈیول ہمیں انتظار مت کروانا ہم نہیں رہ سکتے آپ کے بن۔۔۔
تین گھنٹے بعد یہ موبائل ہے یہاں پر یہ سائرن ان کرنا ہے انیجل زندہ رہا تو ملے گے ۔۔۔۔
روحا ان کے ساتھ پیچھے جاتی بول رہی تھی جب وہ انہیں اندر کرتے ہاتھ میں موبائل دے باہر سے دروازہ بند کر چکے تھے ۔۔۔۔
دھوکا دیتے ہے ہر بار ہمیں اس عمر میں بھی دھوکا دے جاتے ہے حد۔ ۔۔۔
روحا سب جان گی تھی وہ کیا کرنے والے ہے تبھی اب بے بس ہوتی چیختی بیڈ پر بیٹھی تھی ۔۔
کیااااااااا ڈیول ہی ایول کا باپ ہے ایسے کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔
اتنے سال میں ایک سانپ ہی پلاتا رہا کہ کل کو وہ مجھے ہی مار دے ۔۔۔
نہیں بلکل نہیں ایول ڈیول کو مارے یا نہ مارے میں خود اب تجھے مارو گا ڈیول ۔۔۔۔
پلان چینج کرو اب ہم جلد ہی ڈیول کا قتل کرے گے کوشش کرنا ایول کو معلوم نہ ہو سکے کچھ۔۔۔
ایول کے بدلتے رویے کو دیکھ گروجی نے اس کے پیچھے اپنا خاص آدمی لگایا تھا وہ کافی مہینوں سے ایول کا پیچھا کر رہا تھا جب اس کے آدمی کو پتہ چلا تھا ایول ہی ڈیول کا بیٹا ہے اب وہ گروجی کو بتانے آیا تھا جب وہ طش سے شراب کا گلاس پیتے غرایے تھے ۔۔۔
اب وہ اپنے گندے دماغ سے پلاننگ کر رہا تھا ڈیول کو کیسے اور کب مارنا ہے ۔۔۔
اہہہہ اہہہہہ۔۔۔
کیا ہوا تمہیں ا۔۔۔۔
و۔وہ مر گیا ایول وہ مر گیا ۔۔۔۔
ایول اپنی بسیمنٹ سے باہر ا رہا تھا جب صوفے پر بیٹھی رعنا کو دیکھ بول رہا تھا جو چیختی ہوئی اس کے سینے سے لگتے تو رہی تھی ۔۔۔
کون مر گیا جس کی وجہ سے آنسوں نکل ر ۔۔۔
وہ فوجی تھا مر گیا ایول افففف مجھے رونا آ رہا ہے ۔۔۔
وہ اس کے بھیگے چہرے کو دیکھ بول رہا تھا جب وہ سینے میں منہ چھپائے پھر روتی بولی تھی ۔۔۔۔
کون ایسا مر گیا جس کی وجہ سے مولانی رو رہی ہے ۔۔۔
ایول اسے روتا دیکھ دل میں دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔
