Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 4)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 4)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
تو ناظرین یہ دیکھے میرا ہنگامہ پلیس ۔۔۔
جی آپ سب سہی سمجھے ہے کچھ سال پہلے آفندی پلیس تھا بڑا ہی خوشحال پھر اچانک تین چار چڑیلیں پیدا ہو گی بس یہ پرسکون پیلس ہنگامہ پلیس بن گیا ۔۔۔
لیکن گھبرانے والی بات نہیں پھر ایک بہت ہی خوبصورت شہزادہ پیدا ہوا ۔۔۔
جی ٹھیک سمجھے اس گھر کا معصوم شریف بیٹا مسٹر حدید صام آفندی ۔۔
تالیاں تالیاں ۔۔۔
یہ منظر تھا آفندی پلیس کا جہاں صبح کے وقت ہر کوئ اپنے کام میں بزی تھا وہی ایک فری بندہ اپنی سلیفی اسٹک میں موبائل فٹ کیے وہ پورے پیلس میں گھومتا ہوا شور مچا رہا تھا ۔۔۔۔
وہ تھا حدید صام آفندی بلکل اپنے ماں باپ کے الٹ وہ جیتنا سیریس رہتے یہ اتنا ہی فنی رہتا ۔۔۔
ابھی بھی وہ ہاتھ میں کھیرا لیے سلیفی اسٹک سے اپنی عجیب سی ویڈیو بناتا انیکر بنا ہوا تھا۔۔۔۔
ہال میں بیٹھے وردہ بیگم اور آفندی صاحب مسکرا رہے تھے حدید کی حرکتیوں پر ۔۔۔
جی تو ناظرین آپ سب دیکھ رہے یہ ہے میرے بڑے پاپا ۔۔۔
کتنے حسین ہے یہ پر فکر مت کرے حسن تو بس حدید آفندی پر ختم ہوا ہے ۔۔۔
آے ہم ان سے کچھ سوال کرتے ہے ۔۔۔
ہال میں انٹر ہوتے آہان کو دیکھ حدید جلدی بھاگتا ان کے پاس آتا بولا تھا۔۔۔
واک کیا کرو بیٹا ۔۔۔
آہان مسکراتے ہوۓ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے بولے تھے ۔۔۔
افففف بڑے بابا کتنے بورنگ بندے ہے جیسا کہ آپ سب دیکھ رہے یہ بور ہے ہم اب ایک فنی انسان کے پاس جاتے ہے ۔۔۔
حدید جلدی سے اب سڑھیاں چراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ہاہہاہاہاہا ۔۔۔
آہان کا قہقہ گونجا تھا یہ روز کا معمول تھا وہ ایسا ہی کرتا تھا۔۔۔۔
———————————————————–
ہاے یہ میں کیا دیکھ رہا ہو ۔۔
یہ س۔۔۔
اچھا میری اُردو اتنی اچھی اور بھاری نہیں تو میں کہو گا یہ خوفناک خبر میں آپ کو بتا رہا ہو یہ دیکھے پاکستان کا ہونہار آی جی صاحب گہری نیند میں سو رہے ۔۔۔
یہ کیسا انصاف ہوا ہم سب جاگ رہے تو یہ کیوں سو رہے آے ہمارے ساتھ ملتے ہے ان کی مظلوم بیوی سے ۔۔
حدید نے مستقیم کے روم کے ڈور کے قریب آتا روک چکا تھا جب مرحا نے مسکراتے ہوۓ ڈور اوپن کیا تھا ۔۔۔
تبھی بیڈ پر الٹا سیدھے لیٹے مستقیم کو گہری نیند میں سوتا دیکھ وہ چلایا تھا۔۔۔۔
افففف یہ اپنا سپکر آف کرو یار کل رات ہی آیا ہو گھر ۔۔۔
نیند میں بڑبڑاتے ہوۓ مستقیم بولتے کروٹ چینج کر چکے تھے ۔۔۔
یہ دیکھے ان کی بیوی بھی نہیں بول رہی مطلب ظلم ہ۔۔۔
اہہہہ اہہہہہہ بڑی مما یہ کیا تھا آپ کا معصوم سا بیٹا ہو میں ۔۔۔۔
حدید مرحا کی طرف موبائل کرتا بول رہا تھا جب مرحا اپنی ہنسی کنٹرول کیے اسے مکہ مارا تھا تبھی وہ چلایا تھا۔۔۔۔
اففف کتنا بولتے ہو تم بیٹا پورے شیطان ج۔۔۔
ارے شیطان سے یاد آیا اب میں آپ سب کو ملاٶ گا ڈیول سے ۔۔۔
مرحا بول رہی تھی جب حدید موبائل کی طرف دیکھتا کہتا وہاں سے بھاگا تھا۔۔۔۔
————————————————————
ہاے دیکھیں سب میری بیوٹی فل ماما کی طرف کتنی حیسن ہے ویسے کبھی آپ نے سوچا تھا میرا جیسا بیٹا ملے گا۔۔۔۔
حدید بنا نوک کیے سیدھا روحا کے روم میں آتا بولا تھا جہاں وہ بیڈ پر بیٹھی قرآن پاک پڑھ رہی تھی ۔۔۔
بیٹا کتنی دفعہ کہا ہے ایسے شور مت مچایا کرو سب سو رہے ہوتے تم ویسے ہی آ جایا کرو ۔۔۔
روحا اپنے جان سے پیارے بیٹے کا ماتھا چومتی پیار سے بولی تھی۔۔۔
ارے ماما آپ کو پتہ جب تک بول نہ لو ایسے لگتا میں زندہ نہیں ۔۔
اچھا یہ چھوڑے یہ بتاۓ ڈیول ڈیڈ کدھر ہے ۔۔۔
حدید روم میں نظریں ڈوراتا ہوا سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔۔
وہی جہاں وہ ہوتے ہے ۔۔۔
روحا مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
اففف ماما اتنی سردی میں بھی توبہ ہے ۔۔۔
حدید بات سنتا کانپتا ہوا بولا تھا۔۔۔۔
———————————————————–
جیسا کہ آپ سب دیکھ رہے یہ ہے ہنگامہ پلیس کا بیک پول سائیڈ آپ سب سوچ رہے ہو گے میں اتنی سردی میں یہاں کیوں آیا ۔۔۔
بات یوں ہے کہ یہاں پر دو بڑے ہی پاگل لوگ سوئمنگ کر رہے ہے وہ بھی ٹھنڈے پانی میں اففف۔۔۔۔
حدید پول سائیڈ پر آتا اب وہاں کے سین دیکھتا بولا تھا۔۔۔
جہاں آحمد اور صام پول میں سوئمنگ کر رہے تھے ۔۔۔۔
جی تو جنرل صام آفندی آپ بتاۓ کی شروع سے پاگل مطلب اتنے سمجھدار ہے ۔۔۔۔
حدید پول کے کنارے بیٹھتا صام کی طرف دیکھتا بول رہا تھا جب ان کی ایک گھوری پر جلدی سے بات سہی کرتا بولا تھا۔۔۔۔
گدھے ایلفی ا۔۔۔
ارے باپ ایسا ہونا چاہے دیکھے ناظرین آپ کے انیکر کو کتنا پیارا لقب ملا ہے ۔۔۔
صام دانت پیستے بول رہے تھے جب حدید دانت نکالے بولا تھا۔۔۔
افففف۔۔۔
صام بس اتنا بول سکے ۔۔۔
ڈیول ڈیڈ کم ہی بولتے ہے چلے ہم اب دنیا کے بزنس آف دی مین سے پوچھتے ہے وہ شروع سے چونے تھے ۔۔۔
حدید اب احمد کی طرف دیکھتا بولا تھا جو اپنی سرد گرین آنکھوں سے اسے ہی گھور رہا تھا۔۔۔۔
کون سی ہڈی تڑوانی ہے تم نے آج ۔۔۔۔
پول سے باہر آتے احمد نے دانت پیستے ہوۓ بولا تھا۔۔۔
ہاےےے دیکھو سب چونے مطلب آغا جان کے سکس پیک اففف میں تو گیییییی۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہ اہہہہ ۔۔۔
ہاے ظالموں بچاٶ پاکستان کے مشہور انیکر کو ۔۔
ہاے میں جوانی میں نہیں مرنا چاہتا ۔۔۔
حدید آحمد کو شرٹ لیس پول سے باہر آتا اس کے سکس پیک کی ویڈیو بناتا بول رہا تھا جب اچانک وہ پول میں گرا تھا۔۔۔
تبھی وہ دہای دیتا چلا رہا تھا۔۔۔۔
یہ دیکھو اس ملک کا حیوان مسٹر مہر زرجان خان ۔۔۔
مر جاٶ تم کیا ملا مجھے گیلا کر کے ہاے سردی لگ رہی ۔۔۔۔
مہر کو احمد کے پاس کھڑے دیکھ حدید ابھی بھی سلیفی اسٹک لیتا بول رہا تھا۔۔۔
جہاں وہ دانت نکالے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
کب سے پٹر پٹر بول رہے ہو تھوڑا سکون دو اپنی زبان کو تم نے تو لڑکیوں کو بھی کراس کر د۔۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہہ ۔۔۔
بلاوجہ لڑکیوں کو بدنام مت کیا کرو تم سب ہم اتنی معصوم ہے ۔۔۔
مہر بول رہا تھا جب پیچھے آتی شال لیے زنیب نے لات مارتے اسے بھی پول میں گراتے زرا غصے سے بولی تھی۔۔۔۔
ہاہہاہاہااہا ہہہاہہاہاہا کیا ہوا اب قلفی بھای ۔۔۔
مہر کو ٹھنڈے پانی میں کانپا دیکھ حدید قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔۔
شیٹ اپ ۔۔۔
مہر غصہ کرتا پول سے نکلتا وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
ویسے ڈیول ڈیڈ زرجان انکل اتنے اچھے ہے کبھی غصہ نہیں دیکھا لیکن یہ مہر کو دیکھ کر لگتا جیسے ان کا بیٹا نہیں ہے ۔۔۔
اچانک حدید اپنی سلیفی اسٹک زینب کو دیتا پول میں اپنے قریب کھڑے صام کی طرف دیکھتا بولا تھا۔۔۔
مسڑ این کے پاس نہیں گے تم ۔۔۔
صام اسے شولڈر سے پکڑے بات بدلتے بولے تھے ۔۔۔
اففف میں تو بڑے پاپا کو بھول گیا ابھی گیا میں ۔۔۔
حدید اپنی ٹون میں واپس آتا جلدی سے باہر نکلتا ہوا بولا تھا۔۔۔
آ جاۓ چاچو باہر اب ۔۔
احمد مسکراتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔
انہہ چونا ۔۔۔
ہاہہاہاہااہاہا کیا چاچو اب تو انیجل آنی کے پاس نہیں جاتا میں ۔۔
پول سے باہر نکلتے صام احمد کو دیکھتے برا سا منہ بناۓ بولے تھے جب وہ قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔
انیجل میری ہے دور رہو چونے ۔۔۔
صام اپنی گرین آنکھیں اس کی گرین آنکھوں میں گاڑھتے بولے تھے ۔۔۔
ہیی ہیی ہییی ۔۔۔
پاس کھڑی زنیب کھکھلاتی ہنسی تھی۔۔۔
صام اور احمد دونوں مسکراۓ تھے ۔۔۔
سب بچوں سے چھوٹی اور لاڈلی زنیب مستقیم آفندی تھی ۔۔۔
———————————————————–
جی تو ناظرین میں زرا گیلا ہو گیا تھا ۔۔۔
پہلے ہم سب ملے اولڈ جنریشن سے اب ہم ملتے ہے ینگ جنریشن سے آے میں آتا ہو اپنی جان سے پیاری بہن مس مرچی کے پاس ۔۔۔
حدید اب ڈریس چینج کیے پھر سلیفی اسٹک لیے سوہا کے روم کے باہر کھڑا بول رہا تھا۔۔۔
جیسا کہ سب جانتے ہے چھوۓ بھای بڑی بہن کی جان ہوتے ویسے ہی میں بھی جانننننن۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہہ کیا تکلیف ہے تجھے۔۔۔
حدید ڈور پر ہاتھ رکھتا بول رہا تھا جب اچانک سوہا کے ڈور اوپن کرنے پر اسی پر گر چکا تھا جب وہ نیچے گری اس پر دھاڑی تھی۔۔۔
شرم کرو مس مرچی بھای ہو زرا پیار سے بول لے تو ۔۔۔
حدید اس کے اوپر سے اٹھتا ہوا بولا تھا۔۔۔
کیا بولنا ہے ۔۔
سوہا اپنے کپڑے صاف کرتی اٹھتی سیریس ہوتی بولی تھی۔۔۔
بہن یہ بول کہ میں پیارا ہو اس موبائل کی طرف دیکھ کر ۔۔۔
میں زرا شرما لو ۔۔
حدید دانت نکالے بولا تھا۔۔۔
تم پیارے ہو ا۔۔۔
بہن رہنے دے زرا فیلنگ سے بول لے یہ کیا سڑی ہوئ شکل سے بول رہی ہو میں جا رہا دل ٹوٹ آنسو پھوٹ میرے ہاےےےے۔۔۔
سوہا سکون سے بول رہی تھی جب حدید اپنا ڈرامہ شروع کرتا روم سے باہر جاتا بولا تھا۔۔۔۔
ارے ارے رک میں تعریف کرتی ہو اپنے بھای کی ۔۔۔
میرا معصوم سا بھای اللہٌمعافی توبہ کتنا جھوٹ بولنے و۔۔۔
موبائل آن ہے ۔۔۔
سوہا اسے شولڈر سے پکڑتی پیار سے بول رہی تھی جب حدید نے اسے یاد کروایا ویڈیو بن رہی ہے تبھی وہ بولی ۔۔۔
بڑے معصوم ہو شریف سے اب نکل جا یہاں سے ۔۔۔
سوہا آرام سے اس کا گال چومتی زور سے اسے لات مارتی روم سے باہر نکال چکی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
بہن ایسی ہی ہوتی ہے ایسے ہی عزت دیتی ہے ۔۔
خیر یہ دیکھے کس کے پاٶں اتنے خوبصورت ہے ۔۔۔
زمین پر گرا حدید اب موبائل کسی کے پاٶں کی طرف کرتا بولا تھا جو اس کے سر کے پاس کھڑی تھی ۔۔۔۔
ارے یہ دیکھو معصوم آغا جان کی بیٹی وانیہ آہان افندی ۔۔۔
جی تو آپ کیا کہنا چاہے گی اگر تھوڑا کم شرما لے تو۔۔۔۔
حدید زمین سے اٹھتا سامنے وانیہ کو سرخ چہرہ لیے وہ بولا تھا۔۔۔
کیا بولو میں ۔۔۔
وانیہ معصوم سی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔
تم یہ بتاٶ آغا جان خود انتیس کے ہے تو ان کے یہ اتنے سارے بچے کیسے ہوۓ چوبیس سال والے جو سب کو کہتے بچہ میرا بچہ ۔۔
حدید اس سے سوال کرتا مسکراہٹ روکے بولا تھا۔۔۔
مطلب کیا ہے سمجھ نہیں آیا روکو میں لالہ سے پوچھ کر آت۔۔۔
اےےے کیوں چاہتی ہو بھری جوانی میں مر جاٶ میں جا بہن معاف کر جہاں جا رہی ہو وہاں جاٶ ۔۔۔
وانیہ نا سمجھی سے کہتی واپس آحمد کے روم کی طرف جاتی بول رہی تھی جب حدید جلدی سے ڈرتا اسے روکتا ہوا بولا تھا۔۔۔
اکثر وانیہ کو باتیں سمجھ نہیں آتی تھی تبھی وہ احمد سے پوچھ لیتی تھی ۔۔۔۔
اچھا۔۔۔
وانیہ آرام سے کہتی اب ہال سے نکل چکی تھی ۔۔
جب حدید نے سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔
————————————————————
س۔سر ۔۔
بولو جلدی ۔۔
مہر اپنے آفس میں بیٹھا فائلز دیکھ رہا تھا جب اس کا سکیرٹری اندر آتا ہکلاتا بولا تھا۔۔
مہر زرجان خان بلکل زرجان کے الٹ تھا وہ بلکل بھی اپنے باپ جیسا نرم مزاج نہیں تھا ۔۔۔
غصے کا تیز اور موڈی بندہ تھا تبھی سب سوچ کر بولتے تھے کہ پتہ نہیں کب غصہ کر جاۓ ۔۔
س۔سر وہ آپ کی کزن وانیہ آئ ہے ۔۔
اسے اجازت کی ضرورت نہیں ہے ۔۔
مہر اپنی چیئر سے اٹھتا ہوا بولا تھا۔۔۔
میں آ جاٶ مہر ۔۔۔
وانیہ گلادستہ لے اندر آتی معصومیت سے بولی تھی ۔۔۔
مہررانی تم جانتی ہو تمہیں اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی پھر بھی شرمندہ کرتی ہو ہر بار ۔۔
آو کیا کھاٶ گی ایک منٹ تمہارے فیورٹ گول گپے منگواتا ہو ۔۔۔
مہر اسے صوفے پر بیٹھاۓ خود فون کرتا مسکراتا بولا تھا۔۔۔۔
ہادی پر غصہ کیا تم نے ۔۔۔
وجہ مہر وہ تو اتنا اچھا اور نرم دل انسان ہے ۔۔۔
وانیہ مطلب کی بات پر آتی زرا منہ بناتی بولی تھی ۔۔
یار اس نے بات ہی ایسی کہی تھی تو اس لیے ۔۔
مہر اپنا سر کھجاتا ہوا بولا تھا۔۔۔
اچھا تم منہ مت بناٶ میں تمہارے ہادی سے معافی مانگ لو گا اب خوش۔۔۔
وانیہ کو منہ بناۓ دیکھ وہ جلدی سے بولا تھا۔۔۔
ہاں خوش۔۔
وانیہ چہکتی ہوئ بولی تھی ۔۔
مہر کو تبھی وہ پسند تھی ہر چھوٹی بات پر راضی و خوش ہوجانا وانیہ کا فیورٹ کام تھا۔۔۔
چلو یہ گول گپے کھاٶ ۔۔
مہر ٹرے لاتا اس کے سامنے رکھتا بولا تھا۔۔۔
لالہ نے منع کیا ہے وہ کہتے میں گلا خراب ہو جاۓ گا ۔۔
وانیہ منہ میں پانی لاتی رونی شکل بناۓ بولی تھی ۔۔۔
آغا جان نہیں کچھ کہے گے تم کھاٶ میں دیکھ لو گا ۔۔۔
مہر سکون سے بولا تھا۔۔۔
تم بات ک۔۔
یہ دیکھو آغا جان کو فون کر رہا تم کھاٶ ۔۔
وانیہ بول رہی تھی جب مہر فون کان کو لگاتا بولا تھا ورنہ وہ جانتا تھا آج تک کسی کا بس نہیں چلتا تھا آغا جان کے کہے پر ٹالنے کا وہ تو بس اسے دیکھانے کے لیے فون کال کا ڈرامہ کر رہا تھا۔۔۔
آغا جان کہہ رہے وانی کھا سکتی ہے ۔۔۔
مہر وانیہ کی طرف دیکھتا سکون سے جھوٹ بول چکا تھا۔۔۔
اچھا ۔۔۔
وہ خوش ہوتی اب گول گپوں سے انصاف کر رہی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
جی تو ناظرین ہم پھر سے آگے جیسا کہ آپ کو پتہ دوپہر ہو رہی اب ۔۔۔
اس کا مطلب آغا جان اپنے روم میں نہیں آے ہم اب ان کے روم میں جاتے ہے ۔۔۔۔
حدید دوبارہ اب سیلفی اسٹک لیے آہستہ سے قدم اٹھاتا احمد کے روم میں جاتا بولا تھا۔۔۔۔
یہ دیکھے ہم نے اپنے گھر میں نیو کام والی ماسی رکھی ہے اس کا نام ہے سکینہ ماسی ۔۔۔
حدید روم میں آیا تو سامنے کام میں بزی امن کو دیکھ وہ بولا تھا جو رف حیلے میں احمد کی ہر چیز اٹھاتی روم صاف کر رہی تھی ۔۔۔۔
ہاں میری بابا نے بھی نیو نوکر رکھی ہے اس کا نام ماسی ساجدہ ہے یہ دیکھے سب لوگ اس کی شکل کام والا ماسی ہے یہ ۔۔۔
امن سرخ چہرہ لیے پٹھانی آواز میں حدید کو بالوں سے پکڑتی بولی تھی ۔۔۔
ایسا ہی انجام ہوتا ہماری نیو جنریشن کا جب ماں پنجابی اور باپ پٹھان ہو ۔۔۔
پھر ایسی کی اُردو بولی جاتی ہے تم سے اچھی میری ہے ۔۔۔
یہ کیا مذکر مونث ہی ایک کر دیتی ہو جاٶ موڈ خراب کر دیا ۔۔۔۔
حدید برے برے منہ بناتا اب اُونچی آواز سے بول رہا تھا۔۔۔۔
کیا تکلیف ہے تمہیں آغا جان آ جاۓ گی وہ ابھی واش روم میں ہے تم دفع ہو۔۔۔
امن ڈرتی ہوئ اسے گھورتی بولی تھی ۔۔۔۔
تمہاری آغا جان آ گی ہے اب میں تو چلا ۔۔۔
واش روم سے باہر آتے احمد کو دیکھ حدید جان بچاتے وہاں سے بھاگتا بولا تھا۔۔۔
احمد کی آج لیٹ میٹنگ تھی تبھی وہ ابھی تک گھر تھا ۔۔۔
امن اپنے گھر سے آتی سیدھی اس کے روم میں آتی روزانہ کی طرح صاف کرتی تھی ۔۔
آج بھی آی تھی لیکن اب احمد کو سامنے دیکھ اس کی سانسیں روکی تھی ۔۔۔۔
————————————————————
آ۔آپ کب آی آغاجان ۔۔۔
امن ہکلاتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
نکلو باہر ابھی کہ ابھی ۔۔۔
اسے اپنے روم میں کھڑا دیکھ
احمد اپنی رعب دار آواز سے بولا تھا۔۔۔
وہ م۔میں تو آپ کا روم صاف۔۔۔۔
نکلو باہر سنتا نہیں تمہیں ایک لفظ میرا ۔۔۔
امن بول رہی تھی جب دانت پیستے وہ اسے گرین آنکھوں سے گھورتا بولا تھا۔۔۔۔
جیسا کہ آپ سب جانتے ہے ابھی پانچ منٹ کے اندر یہ بندی روم سے باہر گری ہوئ ملے گی ۔۔۔۔
حدید باہر کھڑا اپنی ہوسٹنگ کرتا بول رہا تھا۔۔۔۔
چلے جاتا ہو میں پہلے یہ چیزیں ا۔۔۔
کزن ہو میری بس اس سے زیادہ کچھ نہیں بیوی نہیں ہو جو یہ سب کرو گی اب نکلو ۔۔۔
امن اس کے بکھرے کپڑے اٹھا رہی تھی جب وہ اسے دروازے کے قریب لے کر جاتا بولا تھا۔۔۔
بنا لو بیوی مجھے میں پیار کرتا تم سے ۔۔۔
امن مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
نکلو ۔۔
اس کی سنے بنا منٹوں میں روم سے باہر نکال چکا تھا۔۔۔
ارے تم گری نہیں یار میری ساری عوام دیکھ رہی ہے ۔۔
امن کو کھڑا دیکھ حدید برا سا منہ بناۓ بولا تھا۔۔۔۔
بکواس بند کرو ۔۔
آغا جان یہ حدید کہتی ہے آپ گنڈے ہے دیکھے یہ ابھی بھی آپ کو کیا کچھ کہہ رہی ہے ۔۔۔۔
امن اسے جواب دیتی جان بوجھ کر شور مچاتی وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔۔
ن۔نہیں آغا جان یہ جھوٹ بول رہی میں پاگل ہو گیا جو ایسا کہو گا ۔۔۔
ماماا ۔ڈیڈ ڈڈ۔۔۔
امن کی بات سنتے احمد نے روم کا دروازہ اوپن کیا تھا جب کانپتی ٹانگوں سے حدید کہتا وہاں سے بھاگا تھا۔۔۔۔
احمد مسکرایا تھا اس کی حرکت پر پورے گھر کی رونق حدید آفندی ہی تھا اسی کی وجہ سے ہر کوئ مسکراتا تھا۔۔۔۔
————————————————————
یہ دیکھو ہمارے گھر میں چڑیل آی ہے بال دیکھے اس کے ناظرین جیسے نوڈلز ہو ۔۔۔
شکل دیکھے سب یہی ہے وہ بھوتنی جو بچوں کی چیزیں لے کر بھاگ جاتی ہے ۔۔۔
جی جی سہی سمجھے یہ ہے آی جی مستقیم آفندی کی چڑیل بیٹی روشانے مستقیم آفندی ۔۔۔
سواۓ کھانے پینے اور بچوں کو ڈرانے کے اسے کام کوئ نہیں آتا ۔۔۔۔
حدید اب روشانے کے روم میں آیا تھا۔۔۔
جہاں وہ ہینڈ فری لگاے چہرے پر ماسک لگاۓ آنکھیں بند کیے کرسی پر سر رکھے بیٹھی تھی ۔۔۔
وہ بے خبر تھی کہ حدید اس کے روم میں آ چکا تھا۔۔۔
دیکھیں اس کی شکل ویسے یہ روشن دان ہے عقل زرا نہیں ہے یہ دیکھیں نوڈلزززززز۔۔۔
اہہہہ اہہہہہ اہہہہہ ۔۔۔۔
بھوت بھوت بابا بابابا بابببببب۔۔۔
اےےےے چپ کر میں ہو کیا ہارٹ اٹیک کرواٶ گی میرا پاگل لڑکی ۔۔۔
حدید اس پر جھکا اس کے بالوں کو ہاتھ لگا رہا تھا جب قالین سے پاٶں اٹکتا وہ اس پر گرتے گرتے بچا تھا ۔۔۔
روشانے کو سریہ محسوس ہوتے جیسے ہی آنکھیں کھولی اپنے سامنے آدھے چہرے پر ماسک لگے اسے دیکھ وہ چلائ تھی ۔۔۔
اس کے چہرے کآ ماسک حدید کے چہرے پر لگ چکا تھا۔۔۔
تبھی اب پیچھے ہوتا وہ گھبراتا بولا تھا۔۔۔
کیا تکلیف ہے تمہیں زرافے ۔۔۔
روشانے کرسی سے اٹھتی اسے دیکھتی طش سے چلائ تھی ۔۔۔
ہاے ظالم کان میں تکلیف ہے کیا چیختی ہو افففف روشن دان ۔۔۔
حدید دانت نکالے اپنے کان میں انگلی ڈالتا بولا تھا ۔۔۔
دفع ہو جاٶ تم یہاں سے جب دیکھو سر کھانے آ جاتے ہو ۔۔۔
روشانے اسے دھکا دیتی بولی تھی ۔۔۔
اچھا یہ بتاٶ نوڈلز سر پر کیوں ہ۔۔۔
زرافےےےےےےے۔۔۔
تو۔ت۔تو ناظرین ۔یہاں دہشت گرد۔ک۔کا ح۔حملہ ہو گیا اگر م۔میں بچ گیا تو پھر ملے گے باے ۔۔۔
ارے چھوڑو میرے بال روشن دان ۔۔۔
حدید ابھی بول ہی رہا تھا جب اس نے اسے بالوں سے پکڑتے بیڈ پر گرایا تھا تبھی حدید اس سے مار کھاتا روکتے روکتے بولتا ویڈیو بند کر چکا تھا۔۔۔۔
روشانے اور حدید کی اب نہ ختم ہونے والی لڑای شروع ہو چکی تھی ۔۔۔
سب کو اس کی شرارتیں پسند تھی سواۓ روشانے کے یہی وجہ سے جب بھی وہ اسے تنگ کرتا وہ اسے سے لڑتی تھی چلاتی تھی ۔۔۔
لیکن پھر بھی وہ ہر بار کی طرح اسے تنگ کرنے سے باز نہیں آتا تھا۔۔۔
———————————————————-
س۔سر ۔۔۔
بولو ۔۔
وقار اپنے روم میں بیٹھا تھا جب اس کو فون آیا تھا تبھی بولا تھا۔۔۔
سر جس شخص کی لاش ہمیں ملی وہ پولیٹشن ذالفقار بھٹی کی نہیں ہے وہ اس کا ملازم ہے ۔۔۔۔
مطلب وہ زندہ ہے ۔۔۔
وقار سب سنتا اچانک الرٹ ہوتا بولا تھا۔۔۔
جی س۔۔۔
لیکن کچھ ہی گھنٹوں میں ہمیں اس کی لاش کہی اور جگہ سے ملی گے کیونکہ وہ اس وقت ایول کے پاس ہے ۔۔۔۔
کیسے بھول گیا میں وہ انسان ہر دفعہ ہمیں دھوکا دے کر نئے راستے سے نکل جاتا ہے ۔۔
ابھی اس کا آدمی بول رہا تھا جب وہ طش میں آتا اپنا ماتھے کو کجھاتے بولا تھا۔۔۔
وکی غصہ نہیں کرتے ۔۔۔
ابھی وہ شدید غصے میں تھا جب روم میں آتی رعنا ہاتھ میں کافی کے مگ لاتی آرام سے بولی تھی ۔۔۔
سوری آپو مجھے کنٹرول کرنا چاہے تھا آپ سناۓ یونی کیسی جا رہی ۔۔
وقار اسے سامنے دیکھا سکون میں آتا بولا تھا۔۔۔
بس اچھی ۔۔۔
کافی پیتی رعنا دو لفظ بولی تھی ۔۔۔
جہاں ہر وقت اس کی شرارتوں
سے گھر میں رونق گونجتی تھی وہاں اب وہ ایک پرسکون سی لڑکی بن چکی تھی اپنے آپ میں گم مگن سی ۔۔۔
آپو آپ کے دل میں جو ہے مجھ سے شیئر کرے میں سن لو گا۔۔۔
رعنا کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں پکڑتے وہ پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔
معافی چاہے مجھے تم دے سکتے ہو ۔۔۔
اچانک رعنا اپنی نیلی آنکھوں میں ویرانی لاۓ اس کی طرف دیکھتی بولی تھی ۔۔
نہیں دے سکتا ل۔۔۔
تو پوچھو بھی مت مجھے ۔۔
کل صام انکل کے گھر جانا مجھے لے جانا ۔۔
وقار بے بس ہوتا بول رہا تھا جب وہ سکون سے کہتی روم سے باہر چلی گی تھی ۔۔
وقار کی نیلی آنکھوں میں بے بسی آئ تھی ۔۔۔
وہ اپنی بہن کے لیے کچھ نہیں کر سکا ۔۔۔
———————————————————–
ہاں تو بولو ذالفقار بھٹی کیسا محسوس کر رہے ہو ۔۔۔
اندھیرے روم میں لائٹس جلاتے وہ گرین ہڈی پہنے اپنی رعب دار آواز سے بولتا اگلے بندے کی سانسیں روک چکا تھا۔۔۔
کو۔کون ہو۔۔۔
ذالفقار بھٹی اپنی آنکھوں پر باندھی پٹی کی وجہ سے ڈرتا ہوا بولا تھا اسے معلوم نہیں تھا وہ کہاں اور کس جگہ پر ہے ۔۔۔
موت چاہتے ہو یا آزادی۔۔۔
وہ سگریٹ اپنے لبوں میں دباۓ سرد پن سے بولا تھا۔۔۔
آزاد۔۔۔۔
یہ فون پر کال جا رہی سب کی نظروں میں تم مر چکے ہو لیکن تمہارے خاص آدمی کو پتہ تم زندہ ہو اب اسے ہی کہو کل میرے ڈرگز کے دس ٹرک فرانس جانے ہے بس تم یہ کہو میرے ٹرک کو روکا نہ جاۓ ۔۔۔
وہ آدمی روتا بول رہا تھا جب وہ قریب آتا اس کے کان پر فون لگاتا رعب دار آواز سے بولا تھا۔۔۔
ہلیو سنو کل رات ٹرک آے گے تم وہ جانے دینا جس آرمی کے آفسرز کی ڈیوٹی لگی ہے ان کو بھی منع کر د۔۔۔
اففف کتنی گرمی ہو رہی ہے تھوڑا ٹھنڈا ٹھنڈا ہو جاۓ ۔۔۔
وہ آدمی روتا ہوا اپنے آدمی کو حکم دیتا بول رہا تھا جب وہ اس سے دور جاتا طنزیہ مسکراہٹ لاۓ کہتا اب وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
ہیلو اب چھوڑ دو مجھے ہلیو بچاٶ ۔۔۔
وہ آدمی اکیلا ہی چیخ چلا رہا تھا ۔۔۔
اس بات سے بے خبر جس کرسی پر وہ بیٹھا تھا اس کے نیچے برف کی ایک سل رکھی گی تھی ۔۔۔
اور اس سے نیچے ابالتا ہوے تیزاب کا بڑا ڈرم تھا ۔۔۔
بھاپ سے پھگلتی برف اس کی کرسی کو دھیرے دھیرے تیزاب کے ڈرام میں گرا رہی تھی ۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہہ اہہہہہہ ۔۔۔
روم کے باہر کھڑا سگریٹ پیتے ایول نے چیخے سنتے سکون سے آنکھیں بند کی تھی ۔۔۔
ای۔ایول ۔۔
ہممم۔۔
ایول یہ سب سنتا مسکرا رہا تھا جب اس کا خاص آدمی پاس آتا ہکلاتا بولا تھا۔۔۔
جس دوسرے راستے سے ہمارے ٹرک جانے تھے اب وہاں جنرل صام آفندی نے اپنی فوجی ڈیوٹی پر لگائ ہے ہم پھس جاۓ گے۔۔۔
اس کا آدمی ڈرتا بول رہا تھا۔۔۔
جب ایول مسکرایا تھا وہ جانتا تھا یہ سب پہلے ہونے والا ہے ۔۔۔
کمزوری““ ۔۔۔۔
ایول کچھ یاد کرتا اب مسکراتا اپنے روم میں چلا گیا تھا۔۔۔۔
جبکہ وہاں پر کھڑا ہر آدمی حیران تھا اس کے مسکرانے پر وہ کسی کی نہیں سنتا تھا اپنی کرتا تھا ۔۔۔
سب کو دیکھاتا وہی تھا جو سب دیکھانا چاہتے تھے لیکن کرتا وہی تھا وہ جو اس کا دماغ کہتا تھا۔۔۔
