581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 39)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

ی۔یہ کہاں آے ہم ۔۔۔۔

رعنا اپنے بنگلے کے سامنے روکتی بائیک دیکھ پریشانی سے اس کی گرین آنکھیں دیکھ بولی تھی جو اس کی نیلی آنکھیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

صرف دس منٹ ہے مولانی مل لو اپنے بابا سے ۔۔۔۔

اس کے بھیگے چہرے کو ہاتھوں میں لیتا آرام سے بولا تھا ۔۔۔۔

ب۔بابا یہاں ہ۔۔۔۔

روکو یہ پہن لو ۔۔۔۔

وہ خوشی سے بولتی اس کی گود سے نکلنے کی کوشش کرتی رہی تھی جب اسے گود میں اٹھاے گیٹ تک لاے اب اپنی ہڈی اسے اتارے دے رہا تھا ۔۔۔۔

ل۔کیکن سردی ب۔بہت ت۔۔۔۔

نو منٹ رہ گے مولانی ۔۔۔۔

اسے شرٹ لیس دیکھ وہ گھںبراتی بول رہی تھی جب وہ اپنی واچ دیکھ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

جب وہ بکھرے سنہری بالوں کے ساتھ اندر کو بھاگی تھی ۔۔۔۔

بابا باباببابابباببااااا۔۔۔۔

ک۔کیسے ہے آپ بابا دیکھیں میں آ گی بابا ۔۔۔۔

وہ روتی ہوئی اندر آتی شعیب خان کے روم میں آتی سامنے لیٹے شعیب خان کے سینے سے لگتی وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی۔۔۔

جبکہ ونڈو کے پاس صام اور وقار خاموشی سے کھڑے تھے ۔۔۔۔

رعنا نے انہیں نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔

م۔میں۔ٹھی۔۔۔۔

ہوا کیا تھا جو ایسی حالت ہو گی آپ کی بابا ۔۔۔۔

وہ بامشکل بول رہے تھے جب وہ پھر سے روتی بولی تھی ۔۔۔۔۔

ویسے انکل برا مت مناے گا آپ کا بیٹا واقعی بے حس انسان ہے کوئ ایسا کرتا ہے بیوی اس کی رو رو کر پاگل ہو چکی ہے اور اسے صرف سگریٹ پینے کی پڑی ہے ۔۔۔۔

ونڈو کے باہر نیچے دیکھتے وقار دانت پیستے ہوے بولا تھا جہاں بائیک پر بیٹھے ایک ٹانگ نیچے کو لٹکاے وہ سکون سے شرٹ لیس سگریٹ پینے میں بزی تھا ۔۔۔۔۔

وقار نے پہلی دفعہ دیکھا تھا اسے اتنے دور سے بھی وہ اسے بے حد خوبصورت لگا تھا لیکن اس کا سکون اور رعنا کا رونا دیکھ اسے اب غصہ آیا تھا اس کی بے حسی پر ۔۔۔۔

ہممم جانتا ہو تبھی کہا تھا وہ پلان ٹرائ کرتے ہے یہ والا تو فلوپ ہو گی۔۔۔

آپ کو کیوں لگتا ہے پلان فلوپ ہو گا دیکھنا ہم رعنا کو یہاں روک لے گے ۔۔۔۔

وقار ان کی بات سنتا بولا تھا ۔۔۔۔

جو شخص اتنی سردی میں باہر بیٹھا اپنی بیوی کا ویٹ کر رہا تم چاہتے ہو ہم روک پاے گے اسے کبھی بھی نہیں وہ ابھی آے گا اور لے جاے گا ۔۔۔۔

صام بائیک سے اٹھتے ایول کو دیکھ مسکراتے بولے تھے جب اپنی پینٹ کو ٹھیک کرتا ہاتھوں سے سگریٹ گراے اب بھاری قدم اٹھاے بنگلے میں انٹر ہو چکا تھا ۔۔۔۔

نہیں لے ک۔۔۔۔

چلو بس کرو اب کیا پانی والی ٹنگی سٹارٹ کی ہے سسسر جی ڈرامہ ختم ہوا اب آٹھ جاے ۔۔۔۔

وقار بول ہی رہا تھا جب وہ بھاری قدم اٹھاے اندر آتا شعیب کے سینے سے لگی رعنا کا بازوں پکڑتے اپنی گرفت میں کرتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

صام نے اپنی مسکراہٹ روکی تھی مطلب وہ جان گیا تھا یہ صرف ڈرامہ تھا ۔۔۔۔۔

ک۔کیا مطلب یہ ڈرامہ میرے بابا کا تمہیں ڈرامہ لگ رہا ہے حازم افسوس ۔۔۔

وہ اب اس سے دور ہوتی چیختی ہوئی چلای تھی ۔۔۔۔

ہاں ظاہر سی بات ہے جس کو ہارٹ اٹیک آیا ہوتا ہے وہ ہاسپٹل ہوتا ہے نہ کہ اپنے بیڈ روم میں ۔۔۔۔

پہلے پورا پلان تیار کیا کرے پھر عمل ایسے تو مزہ نہیں آتا ۔۔۔۔

رعنا کو دوبارہ کمر سے پکڑتے وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔

ب۔بیٹا مجھے تمہاری ضرورت ہے تم یہی روک جاؤ میرے پاس رہو ا۔۔۔۔

نہیں بابا میں آپ کے ساتھ رہو گی ہمیشہ کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤ گی وعدہ ۔۔۔

شعیب خان کو جب لگا ایول سچ جان گیا وہ ڈرامہ کر رہے تبھی بہانہ بناے بول رہے تھے جب وہ دوبارہ ان کے سینے سے لگتی بولی تھی ۔۔۔۔

رعنا کی بات پر ایول نے دانت پیسے تھے ۔۔۔۔

سسر جی جب کبھی اصلی والا ہارٹ اٹیک چاہے تو ہمیں بتانا ہم سب کچھ اصلی کرے گے یہاں تک ہاسپٹل کے روم کا اچھا سا سیٹ اپ بھی ۔۔۔۔

باقی ہماری معصوم مولانی کو بہلانے کا فائدہ نہیں ہے وہ ایول کی ہے اور رہے گی آئندہ ایسا کوئ ڈرامہ کیا تو بھول جاے گا ہم اپنی اور اس کی شکل کسی کو دیکھاے گے ۔۔۔۔

کیوں ڈیول ڈیڈ ہم صیح کہہ رہے ہے نا ۔۔۔۔

رعنا کو ان سے دور کرتا وہ خود ان پر جھکتا کان میں سرگوشی کرتا اب گردن موڑے ونڈ کے پردے پیچھے کھڑے صام کو دیکھ طنزیہ مسکراہٹ لاے بولا تھا ۔۔۔۔

شعیب خان کو گھبراے تھے اس کی بات پر ۔۔۔

چلو گڈ باے کہو جلدی ۔۔۔۔

رعنا کا رونا اگنور کیے وہ اسے باہر لے کر جاتا بولا تھا ۔۔۔۔

م۔میں یہی رہو گی سنا تم نے بابا کو ضرورت ہے میں ن ۔۔

ایول ایول برفانی ریچھ میں خون کر دو گی تمہارا ۔۔۔۔

جنگلی ۔۔۔۔

وہ روتی بول رہی تھی جب وہ اسے کمر سے پکڑتا اپنے شولڈر پر ڈالے وہ سکون سے نیچے جا رہا تھا جب وہ روتی و طش سے اسے مکے مارتی چلا رہی تھی ۔۔۔۔

ہہاہاہہاہہاہا ہاہہاہاہاہہاہا ہاہہاہاہاہہاہاہاہ۔۔۔۔

کرونا کی جعلی ویکسین کہہ تھا ہاسپٹل یہ ڈرامہ کرتے ہے پر تجھے یہی تھا کہ وہ یہاں اے گی اب دیکھو وہ نہیں لاے گا ا۔۔۔۔

صامے تیرا بیٹا کتنا پیارا ہے بلکل تیرے جیسا میں نے دیکھا حازم کی نظروں میں اپنی بیٹی کے لیے جنون میں خوش ہو اب ۔۔۔۔

پردے کے پیچھے سے باہر آتے وہ قہقہ لگاتے بیڈ پر ہکا بکا بیٹھے شعیب خان کی گردن پر تپھڑ مارتے بول رہے تھے جب وہ خوش ہوتے بولے تھے ۔۔۔۔

ہاں ڈیول کا بیٹا ایول ہے تو میرے جیسا ہی ہو گا ۔۔۔

وہ فخر سے بولے تھے ۔۔۔۔

لیکن حازم کا ایسا روپ بھی خطرناک ہے اتنا جنونی ہمیں اسے گھر لانا ہو گا ۔۔۔۔

شعیب خان پریشان ہوتے بولے تھے۔۔۔

میں جانتا ہو اسے اب گھر کیسے لایا جاے گا تمہارا پلان فلوپ ہو گیا کرونا کی جعلی ویکسین۔۔۔۔

صام کچھ سوچتے اب باہر جاتے بولے تھے ۔۔۔۔

شعیب جانتے تھے صام کیا کرنے والے تھے ۔۔۔۔

کافی ۔۔۔

زوبی کافی کا مگ لیے حدید کے پاس آئ تھی جو صبح صبح ہی ایول کا ویٹ کرتا جم روم آیا تھا ۔۔۔۔

دفع ہو یہاں سے میں تمہارا چہرہ بھی نہیں دیکھنا چاہتا گندی ع۔۔۔۔

کافی کے مگ کو ہاتھ مارتے وہ غراتے اس کی طرف دیکھ بولتا روکا تھا ۔۔۔۔

جہاں وہ ریڈ شلوار قمیض کے ساتھ ڈوپٹے کا حجاب کیے بنا میک اپ کیے کھڑی اسے ہی دیکھ مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔

تم کون ہو ۔۔۔

حدید جلدی سے غرایا تھا وہ پہچان نہ پایا تھا وہ زوبئ ہے یا کوئ اور۔ ۔۔۔

میرا نام زریش ہے ویسے شارٹ نیم زوبی اب تم جو چاہو وہ بلا لو ۔۔۔

وہ مسکراتی اس کے سامنے بیٹھتی بولی تھی ۔۔۔۔

یہ کایا کب پلٹ گی مطلب زوبی سے زریش واہ ہ اچھا ڈرامہ ہے میرے لالہ کے سامنے اچھا بنے کا میں ایسا کچھ نہیں ہونے دو گا تمہارے سایے سے بھی اپنے لالہ کو دور رکھو گا سمجھ ۔۔۔۔

وہ ابھی بھی نفرت سے اس کی طرف دیکھ غرا رہا تھا ۔۔۔۔

جو وہ مسلسل مسکراتی اس کی سن رہی تھی ۔۔۔

کیا برش آج کیا ہے جو کلوگییٹ کا اشتہار دے رہی ہو پاگل لڑکی ۔۔۔

اسے مسلسل مسکراتا دیکھ حدید اب چڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

جو مرضی کرو ایول بےبی میرا دوست ہے۔۔۔

وہ اسے تنگ کرتی ویسے ہی بولی تھی ۔۔۔۔

ایک بار اور کہو تمہاری زبان ک۔۔۔۔

دھڑاممممممم۔۔۔

وہ دونوں لڑنے میں بزی تھے جب ہال میں کسی کے گرنے کی آواز آئ تھی ۔۔۔۔

پورے راستے رعنا اسے مکے مارتی روتی رہی تھی لیکن وہ بے نیاز ہوتا بائیک چلا رہا تھا ۔۔۔

اب بھی آتے وہ جلدی سے بائیک سے اترتی اندر کی طرف گی تھی جب ایول کی پہنی ہڈی سے پاؤں اٹکتے وہ دھڑام کرتی قالین پر گری تھی ۔۔۔۔

چ۔چھونا بھی مت ورنہ مار دو گی قریب مت آنا برفانی ریچھ۔۔۔

اندر انٹر ہوتے ایول کو دیکھ وہ ویسے ہی قالین پر گری بولی تھی جو مسکراتا ہوا اس کے پاس ا رہا تھا ۔۔۔

مولانی وہ ڈرامہ تھا سارا سمجھتی کیوں نہی۔۔۔۔

تم یہی چاہتے تھے کہ مجھے یہاں ویران جگہ لاو بدلہ لینا تھا تم نے مجھ سے کتنے ماہ ہو گے میں کسی سے نہیں ملی میرے بابا سے واپس لے اے تمہیں تو محبت بھی نہیں مجھ سے یہ سب تم ڈرامہ کر رہے ہو مجھے بے بس کرنے کے لیے جانتی ہو ۔۔۔

اگر ایسا ہی کرنا تھا تو میرے قریب کیوں اے کیوں احساس کروایا کہ مجھے بھی کوئ چاہنے والا ہے ۔۔۔

بہت برے ہو تم حازم ب۔۔۔۔

کیا بولی جا رہی ہو دماغ سیٹ ہے تمہارا ۔۔۔۔

اس کی بات کاٹتے وہ روتی ہوئی جو دل میں آیا بول رہی تھی جب وہ شیر کی طرح اس کے قریب جاتے اسے گردن سے پکڑتے وہ غرایا تھا ۔۔۔۔

حدید اور زوبی خاموشی سے دونوں کی لڑای دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔

ہمیں گنوارہ نہیں تم ہمارے علاؤہ کسی کا بھی سوچو کسی کے لیے فکر مند ہو کسی کے لیے تمہارے یہ لب الفاظ نکالے تمہاری سانس بھی ہمارے لیے آنی چاہے سمجھی اب جاو روم میں ۔۔۔۔

اسے کھڑا کیے وہ اپنا رخ موڑتا کہتا بولا تھا ۔۔

جب وہ اپنی نیلی آنکھوں سے بس اسے گھور رہی تھی ۔۔۔۔

ایسے رکھنے سے اچھا ہے جان سے مار د۔۔۔۔

جان تو تمہاری ہم اپنے طریقے سے نکلاتے ہے اب اگر چاہتی ہو وہی طریقہ تمہارے ساتھ ابھی نہ اپناے تو جلدی سے اپنی شکل گم کرو ۔۔۔۔

وہ اپنی نازک ٹانگ اس کی کمر پر مارتی بول رہی تھی جب وہ واپس اس کا منہ دبوچتے گھورتا سردپن سے غرایا تھا ۔۔۔۔

ن۔نفرت ہے تم سے مجھے دفع ہو۔۔۔۔

خود کو بے بس محسوس کیے وہ اپنے پاؤں اس کے پاؤں پر مارتی خودی پاؤں پر درد محسوس کیے جاتی بولی تھی ۔۔۔۔

ہادی تم بھی جاو ہم نے بات نہیں کرنی کسی سے اور اس لڑکی کو بھی لے کر جاو اسے کہنا مولانی سے پھر کبھی مل لے۔۔۔

غصہ کنٹرول کیے وہ جم روم میں آتا زوبی اور حدید کو بولا تھا ۔۔۔

کون لڑکی لالہ یہ تو ز۔۔۔۔

یار یہ شاہد مولانی کی دوست ہے اسے کہو جاے اب ۔۔۔۔

وہ پریشان ہوتا بول رہا تھا جب وہ زوبی کے حیلے سے رعنا کی دوست سمجھ کر بولا تھا ۔۔۔۔

اچھا ۔۔

اسے اس کے حال پر چھوڑتے وہ دونوں باہر جاتے بولے تھے ۔۔۔

آ ۔اپ یہاں کیا کر رہی ہے ۔۔۔

امن اپنے روم میں آتی سامنے احمد کو بیڈ پر بیٹھا دیکھ گھبراتی بولی تھی ۔۔۔۔

شوہر بیوی کے ہی روم میں آتا ہے اور کون سا کسی لڑکی کے پاس جاتا ہے ۔۔۔۔

احمد اپنی گرین آنکھوں سے مسکراتے ہوے بولا تھا ۔۔۔۔

لالہ سے کہتی ہو آپ کو دوسری روم د۔۔۔۔

کیوں یہاں جانور رہتے ہے جو نہیں رہ سکتا میں ۔۔۔۔

دروازے کے پاس جاتی وہ بول رہی تھی جب ایک ہی جست میں اس کے قریب جاتے وہ مسکراتے بولا تھا ۔۔۔۔

آپ جیسی جانور رہ سکتی ہے یہاں ۔۔۔

امن اپنی کمر پر اس کا ہاتھ محسوس کیے جلتی ہوئی بولی تھی دور وہ خود بھی نہیں ہوئ تھی ۔۔۔۔

ہاے امن تمہاری کمر پ۔۔۔

ک۔کیا ہے میری کمر پر۔۔۔

احمد شرارتی موڈ میں آتا اسے دیکھ جان بوجھ کر بولتا چپ ہوا تھا جب وہ اس کے سینے سے لگتی ڈرتی بولی تھی ۔۔۔۔

چھپکلی ہ۔۔۔

یییییی یییییی ہاے چھپکلی بچاے بچاے میں مر جاو گا۔۔۔۔

وہ سکون سے بول رہا تھا جب وہ سینے سے چپکتی چیخی تھی ۔۔۔۔

لیکن تم تو ناراض ہو ا۔۔۔۔

کہاں ناراض رہ جاتا آپ کے ساتھ میں ڈرامہ کر رہا تھا اب جلدی اسے دور کرے ۔۔۔۔

وہ پھر بول رہا تھا جب وہ روتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔۔

میں نے کافی سوچا کہ کس سے عشق کیا جاے پھر میرے دل نے کہا ک۔۔۔۔

کیا کہا دل نے ۔۔۔۔

احمد اسے زور سے سینے سے لگاتے اب خوش ہوتا بول رہا تھا جب وہ سب بھولتی اس کی آنکھوں میں بولی تھی ۔۔۔۔

دل نے کہا امن احمد آفندی کے ساتھ عشق کیا جاے ۔۔۔۔

میں آج اپنے دل سے کہتا ہو مجھے تم سے بے پناہ عشق ہے پاگل لڑکی ۔۔۔۔

امن کا رخ چینج کیے وہ اس کی کان کی لو کو چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جب وہ شرمای تھی ۔۔۔۔

ا۔اچھا۔۔۔۔

وہ شرماتی ہوئی اس سے دور ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

لندن میں میرے اور بابا کے علاؤہ کوئ نہیں ہوتا تھا تب میں چھوٹا تھا جب مجھے بابا کے بعد صرف انیجل موم کا پتہ تھا وہ روزانہ بات کرتی تھی مجھے پیاری لگتی تھی وہ ۔۔۔۔

ایک دن پاکستان آ گیا میں انیجل موم کو جب سامنے دیکھا تو میں خوش تھا میری ماما کتنی خوبصورت ہے ۔۔۔۔

صام چاچو کو اچھا نہیں لگتا تھا میرا موم کہنا ان کو پھر میری ماما آگی میں نے انیجل کو آنی کہنا سٹارٹ کر دیا ۔۔۔

پانچ سال ایسے ہی اکیلا رہ میرا دل کرتا تھا ایک چھوٹی سی بہن ہو جس کو بہت زیادہ پیار دو ۔۔۔۔

جس دن وانی میرے ننھے ہاتھوں میں آئ تب مجھے ایسے لگا جیسے میں اس کا بڑا بھای اس کی عزت کا محافظ بن گیا ہو ۔۔۔۔

چھوٹی سی شرارتی وانی بلکل ماما جیسی تھی ۔۔۔

میں نے اسے ہینڈل کرنا شروع کر لیا سکول سے جلدی واپس آ کر میں اس کے ساتھ کھیلتا تھا ۔۔۔۔

حدید حازم سوہا بھی گھر آ چکے تھے ان تینوں کی محبت ایک دوسرے کے لیے دیکھ مجھے بھی خوش ہوا جیسے وہ دونوں بھای اپنی بہن کا اتنا خیال رکھتے ہے ویسے میں بھی وانی کا رکھو گا لالہ تھا اس کا ۔۔۔۔

جیسے جیسے ہم دونوں بڑے ہوتے گے میری محبت اس کے لیے باپ جیسی ہونی لگ گی کچھ زیادہ ہی پویسوز ہو گیا اس کے معاملے میں ۔۔۔۔

بس اس لیے جذباتی بھی کافی ہو ایک ہی بہن میری جیسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پالا ہے ۔۔۔

مجھے آرمی پسند تھی ایک سال وہاں کام کیا میں بہت خوش تھا اپنے چاچو جیسا بنو گا لیکن وانیہ کا رونا اور ڈر دیکھ کر میں نے اپنی خواہش کو ختم کر لیا اسے ڈر تھا کہ میں کہیں ملک کی حفاظت کرتے اپنی جان ہی نہ دے دو ۔۔۔۔

بہنوں والی محبت جاگی تھی اس کے دل میں ۔۔۔۔

میں سب چھوڑ کر بابا کا بزنس ہینڈل کر لیا ۔۔۔۔

اب اگر اسے کوئ کچھ کہے تو میں غصے سے پاگل ہو جاتا ہو بس اس دن میری غلطی تھی جو مہر کو اتنا سب کہا ورنہ سوچا جاے تو وہی تھا جس نے وانی کی عزت رکھی ورنہ اگر وہ شادی سے انکار کر دیتا تو کیا ہوتا ۔۔۔

میں اپنی ہر غلطی کی سوری کرتا ہو جان احمد مجھے معاف کر دو ۔۔۔

احمد امن کو گود میں اٹھاے بیڈ پر لاتا اسے سینے سے لگاے آرام سے بولا تھا ۔۔۔۔

اس کی بات سنتے امن کے آنکھوں میں آنسو تھے

نہیں سوری تو نہ کرے آپ بھای ہے اس کے اتنا بنتا تھ۔۔۔۔

اب مجھے اپنی بے بی گرل چاہے بلکل تمہاری جیسی ۔۔۔۔

وہ اس کی طرف دیکھ بول رہی تھی جب وہ پرسکون ہوتا اس کی تھوڑی پکڑتے بولا تھا ۔۔۔

و ۔۔۔۔

امن شرماتی بول رہی تھی جب احمد نے جھکتے نرمی سے اس کے لب اپنے لبوں میں قید کیے تھے ۔۔۔

امن شرماتے اس کے سینے میں منہ چھپا گی تھی ۔۔۔۔

اب ایسے بچوں جیسی شکل بنا کر بیٹھو گئ ہمیں نخرے نہیں پسند ۔۔۔۔

ایول روم میں آیا تھا جب بیڈ پر منہ بناے بیٹھی رعنا کو دیکھ بولتا صوفے پر جا کر بیٹھتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

وہ ویسے ہی چپ بیٹھی تھی ۔۔۔۔

یار ایسے چپ تو مت رہو تمہارے بابا کا ڈرامہ تھا تاکہ تمہارے ساتھ ہمیں بھی گھر لایا جاے ۔۔۔۔

ورنہ تم خود سوچو ہارٹ اٹیک کے مریض ہاسپٹل کی بجاے بیڈروم کیوں لیٹا تھا ۔۔

تمہیں ہادی نے جھوٹ بولا تھا ۔۔۔

اس کی مسلسل خاموشی دیکھ وہ خود اٹھتا اس کے قریب جاتا اسے گود میں اٹھاے صوفے پر لاتا اپنی تھای پر بیھٹاے سکون سے بولا تھا ۔۔۔

ایسے نہ کرو ہمیں بہکاتی ہو تم بولو کیا غلط کہا ہم نے اگر یقین نہیں تو ہادی سے پوچھ ل۔۔۔

جب کہہ رہا ایسے مت کرو تو کیوں کر رہی ہو پھر شکوہ کرتی ہو کہ ہم نے تمہاری ننھی سی جان پر ظلم ڈھایا ہے ۔۔۔۔

اپنے گال پر رعنا کے نرم گرم لبوں کا لمس پاتے وہ بول رہا تھا جب پھر رعنا نے اپنے لب اس کے ڈمپل پر سہلاے تھے ۔۔۔۔

جب اسے منہ سے دبوچتے وہ گھور سے اس کے ریڈ ہونٹ دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔

افففف پاگل لڑکی تمہارا بھی بھی کریز نہیں گیا میک اپ والا وہ لیپ اسٹک نہیں تھی ۔۔۔۔

اس کے ہونٹ کے قریب اپنی ناک کرتے اس نے سونگھا تھا جب کچھ غلط محسوس کیے وہ سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر کاسمیٹک بیگ دیکھ بیزار ہوتا بولا تھا ۔۔۔

جہاں کافی میک اپ کا سامان باہر نکالا پڑا تھا ۔۔۔۔

جم روم میں ایکسائز کرتے حور اس کے پاس میک اپ کا بیگ لائ تھی جب ایول نے کہا تھا وہ اسے روم میں رکھ دے ۔۔۔

دیکھنے میں وہ سادہ سا میک اپ کا سامان تھا لیکن اصل میں وہ ایول کے یوز کا سحلہ تھا ۔۔۔۔

جو ایسی چیزوں کے روپ میں کوئ نہیں جان سکتا تھا وہ کتنے خطرناک آلات لے کر گھومتا تھا ۔۔۔

حور وہ بیگ چھوڑ کر چلی گئ تھی جب رعنا کی نظر آس خوبصورت سامان پر پڑی تھی بچپن میں اسے بہت شوق تھا میک اپ کا جب سے حازم جیل گیا تھا تب سے وہ اپنا یہ شوق بھی بھول چکی تھی ۔۔۔

لیکن کافی سالوں بعد اس کا دل کیا تھا میک اپ کرنے کا تبھی سب بھلاے وہ بیگ سے منی ریڈ لیپ اسٹک نکالے شوق سے اپنے لبوں پر لگا چکی تھی یہ دیکھنے بنا ہی وہ ایلفی لگا رہی تھی تب سے وہ ویسے ہی چپ بیٹھی تھی اب ایول کو غصہ دیکھ وہ روی تھی جو مسلسل بول رہا تھا ۔۔۔۔

جب پتہ ہوتا ہے پنگا نہیں لینا چاہے تو مت لیا کرو تمہیں شوق تھا تو شاپنگ کر کے لے آتی پاگل لڑکی اب ان کا کیا کرے ہم ۔۔۔

اس کے چپکے لبوں کو تھوڑا سا کھولنے کی کوشش کرتے وہ اب طش سے بولا تھا کیونکہ لب کھولنے کی بجاے خون نکالتے اور اس کے آنسوں نکلنے تھے ۔۔۔۔

حور حوررررررر۔۔۔۔

ج۔جئ لالہ۔۔۔۔۔

کافی دیر کوشش کرنے بعد بھی جب اس کے لب نہیں کھولے تب وہ شیر کی دھاڑ سے غرایا تھا جب وہ جلدی سے حاضر ہوتی بولی تھی ۔۔۔

جاو برف لاو کافی ساری۔۔۔

رعنا کو تھای پر ویسے ہی بیٹھاے وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

یہ فضول حرکتیں مت کیا کرو غیر نہیں ہے شوہر ہے ہمیں جب کوئ اعتراض نہیں ہوتا تو مت کیا کرو ایسا ۔۔۔۔

اپنی برہنہ ٹانگوں کو ہڈی سے ٹھیک کرنے کی وہ کوشش کر رہی تھی جب اس کے ننھے ہاتھوں پر اپنے بھاری ہاتھ رکھتا وہ اس کی نیلی آنکھوں میں دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔

افففف یہ انسان دشمن ٹھیک تھا یہ والا اچھا نہیں اتنا سویٹ اور جنونی کہاں پھس گی کون سا ٹائم تھا جو اس منحوس کو لگایا ۔۔۔۔

اپنی تھائی پر اس کا بھاری ہاتھ آپنے چہرے پر پڑتی اس کی سرد سانسیں سردبرف جیسی لال گرین آنکھیں دیکھ وہ آنکھیں بند کیے تیز ہوتی دھڑکن اور سانس پر دل میں سوچ رہی تھی ۔۔۔۔

جنونی بھی تو تمہاری یہ بہکانے والی حرکیتں بناتی ہے ہمیں ورنہ ہم پہلے ہی ٹھیک تھے ۔۔۔۔

ہمیں تو کبھی دوستی میں ملاوٹ نہیں پسند ۔۔۔

تم تو پھر ہماری دشمن پلس مولانی پلس جنگلی بلی ہو ہمیں اس میں بھی ملاوٹ پسند نہیں ۔۔۔

اس کے دل کی بات سنتے وہ اس کی شہ رگ پر اپنے ناخن جو سہلاے سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

رعنا کی سانس اٹک گی تھی اس کی بات سن کر۔۔۔۔

درد ہو گا پر رونا نہیں اوکے ۔۔۔۔

پاگل برفانی ریچھ آنسو آئے تو رویا ہی جاتا ہے ۔۔۔

حور سے برف لیے وہ بول رہا تھا جب وہ دل میں بولی ۔۔۔۔

رونا ہے شوق سے رو لو آنکھوں سے نہ گرے ایک بھی آنسو ۔۔۔۔

برف کا ایک ٹکڑا لیے وہ اس کے خون آلود لبوں پر رکھتا سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

اب نہیں سوچنا یہ انسان جن ہے افففف۔۔۔۔

اپنے لبوں پر پیھرتی برف کو محسوس کیے وہ دل میں بولی تھی ۔۔۔۔

سوچ لو انسان کا اپنا دماغ ہوتا ہے ۔۔۔

وہ اسے اور قریب کرتا اب اپنے لب میں برف رکھے اس کے لبوں پر چلاے بولا تھا ۔۔۔۔

نہیں نہیں یہ برف نہ پیگھلے ورنہ میرے لب اس ک۔۔۔۔۔

پیگھلتی برف کو دیکھ وہ دل میں ڈرتی بولی تھی کیونکہ اب اسے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے ٹچ ہوتے محسوس ہوے تھے ۔۔۔۔۔

جنگلی بلی اتنا ڈرتی ہو ہم سے ۔۔۔۔

برف کے پانی سے رعنا کا خون بھی شامل ہوا تھا اس کے لب آہستہ آہستہ کھول رہے تھے جب وہ تھوڑا سا پیچھے ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

جب رعنا نے دل کھول کر سانس لیا تھا ۔۔۔۔

اہہہ اہہ۔۔۔۔۔

اپنی انگلیوں سے وہ اس کے دونوں لب آرام سے کھول رہا تھا جب وہ چیخ رہی تھی وہی ایول جو کب سے کنٹرول کیے بیٹھا تھا اسے کمر سے پکڑتے وہ اس کے زخمی ہونٹوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔۔

اپنے برف سے سن ہوتے لب اب اس کی گرفت میں آتے اور زیادہ سرد محسوس کیے وہ رونے والی ہو گی تھی ۔۔۔۔

جبکہ وہ مکمل مدہوش ہوا اس کی سانسوں کو پی رہا تھا جبکہ اس کے ہاتھ کی گردش اب اس کی نازک کمر اور گردن پر ہو رہی تھی ۔۔۔۔

ز۔زخ۔زخمی ہے ہونٹ اور ت۔۔۔

بڑی مشکل سے اسے دور کیے وہ بولنے کی کوشش کر رہی تھی جب اس کے حد سے زیادہ سرخ گرین آنکھوں میں اپنے لیے جذبات کا ٹھٹھاے مارتے دریا کو دیکھ لال چہرہ لیے نظریں جھکا چکی تھی ۔۔۔

تو ہم مرہم ہی رکھ رہے ہے ویسے بھی ہماری سانسیں ہے یہ تم چپ رہو ۔۔۔۔

وہ بہکے ہوے سرگوشی کرتا دوبارہ اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔

جیسے جیسے وہ اس کی سانسوں کو قید کیے خود کو سیراب کر رہا تھا ویسے ہی نڈھال ہوتی رعنا نے ہار تھک کر اپنا سر اس کے شولڈر پر رکھا تھا ۔۔۔

ب۔برفانی موٹا ریچھ۔۔۔۔

گہرے گہرے سانس لیتی وہ اپنا نازک سا مکہ اس کے مضبوط پیٹ پر مارتی بولی تھی ۔۔۔۔

تو اس ریچھ کو بھی تم ہی پاگل کرتی ہو نہ لگاتی وہ ایلفی نہ ہم تمہاری مدد کرتے ۔۔۔۔

اسے کمر سے پکڑتے صوفے پر سیدھا لیٹاے وہ اس پر جھکتا بولا تھا ۔۔۔۔

م۔میرئ حالت دیکھ ک۔کدھر مدد کی ہونٹ دیکھ میرے ۔۔۔۔

اس کو خود پر جھکتے دیکھ وہ طش سے لال چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔

اہہہہہ ہماری مولانی غصہ کر گی پر ہم سوری بلکل نہیں کرے گے تمہاری سانس تک ہماری ہے تو شکوہ کیوں ۔۔۔۔

اس کے سرخ انار جیسے لبوں کو سہلاے وہ ایک بار کہتا دوبارہ اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔۔۔

اہہ۔۔۔

خود کی جان اس کی گرفت سے نکالنے کے لیے رعنا جان بوجھ کر صوفے سے قالین پر گری تھی ۔۔۔۔

لیکن خود کو ایول کی گرفت سے آزاد نہ پاتے اسے بھی اپنے ساتھ نیچے گرے دیکھ وہ چیخی تھی کیونکہ ایول نے اسے نہیں چھوڑا تھا وہ ویسے ہی قالین پر گرا خود کو سیراب کر رہا تھا ۔۔۔۔

رعنا نے ہار مانتے اپنی آنکھیں بند کی تھی ۔۔۔

جانتی تھی وہ کسی صورت اسے نہیں چھوڑنے والا اب ۔۔۔

اس کی ہار دیکھ وہ دل سے مسکرایا تھا ۔۔۔۔