Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 37)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 37)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
کافی ٹائم ہو گیا ایول کو اپنے آڈے آتے ہوے دیکھ وہ کیوں نہیں آتا ۔۔۔
گروجی شراب کا گلاس لبوں سے لگاتے سامنے بیٹھی زوبی کو دیکھ بولے تھے۔۔۔
ہاں بزی ہو گا ویسے بھی آپ جانتے وہ کم ہی باہر جاتا ہے اور آجکل تو اس کی بیوی ہے کوئ کام تھا آپ کو ۔۔۔
زوبی آرام سے ساری بات بتاتے بولی تھی ۔۔۔
ہاں کام ہی تھا ڈیول کو پکا ختم کرنے کا بدوبست کرنا تھا جو کہ ایول کر سکتا ہے ۔۔۔
ویسے میں نے سنا ہے اس کا وہ خوبصورت بیٹا مر چکا ہے کاش وہ میرے پاس ہوتا پھر بتاتا اس ڈیول کو میں کیا چیز ہ۔۔۔۔
کیا وہ اتنا خوبصورت تھا ۔۔۔
وہ بول رہے تھے جب زوبی خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں بہت پیارا تھا جب میں ایول سے ملا مجھے وہ لگا تھا لیکن یہ سوچ آتے ہی کہ آگر ڈیول کا بیٹا ہے تو اگر اس نے قتل کیا تھا تو ڈیول بچا سکتا تھا یہ شک بھی ختم ہوا ۔۔۔
خیر میں ملنے جا رہا اسے کام ہے زرا ۔۔۔
گروجی کھڑے ہوتے بولے تھے ۔۔۔
میرا کام بھی آپ نے کرنا ہے ۔۔۔
زوبی خود بھی کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ہاں ہاں ۔۔۔
وہ ہاں میں سر ہلاتے بولتے وہاں سے گے تھے ۔۔۔۔
خطرہ ہے اس میں ڈیڈ کہیں ایسا نہ ہو کہ لالہ ہم سے واقعی بہت دور ہو ج۔۔۔۔
گرو کا اصلی چہرہ لانے کے لیے مجھے یہ کرنا ہو گا ہادی ورنہ ایول تو پہلے ہی دور ہے کہیں وہ ہمیشہ کے لیے اس شخص کے لیے قاتل بنتا رہے ۔۔۔
بیسمنٹ میں بیٹھے فارس صام حدید وقار ان کا پلان سن رہے تھے جب وہ سکون سے بولے تھے ۔۔۔
نہیں ڈیڈ اس میں کافی خطرہ ہے میں کیسے یہ سب برداشت کرو گا ہم مس فائر کو کہتے ہے وہ اسے لے آئے گی گھر ا۔۔۔۔
اچھا اچھا پلان کینسل کر دیا اب خوش ٹیشن میں مت آیا کرو یار ۔۔۔
حدید کو پریشان دیکھ صام جلدی سے بات بدلتے بولے تھے ۔۔۔۔
حدید کوما سے پانچ سال بعد باہر آیا تھا ان سالوں میں سب نے اذایت سے زندگی گزاری تھی ۔۔۔
ڈاکٹرز کا کہنا تھا حدید کے دماغ نے جب کبھی زیادہ ٹیشن لی وہ دوبارہ نروس بریک ڈاؤن سے شاہد مر بھی سکتا ہے ۔۔۔۔
یہی وجہ تھی اس کی ہر شرارتوں پر ہر کوئ چپ ہو جاتا کہ وہ خوش ہے کبھی اسے غصہ یا ٹیشن نہیں دی تھی کسی نے ۔۔۔
ابھی بھی حدید کی حالت دیکھ وہ سکون سے بولے تھے ۔۔۔۔
ہاں ٹھیک ہے میں لالہ سے بات کرو گا آپ کچھ نہیں کرے گے ۔۔۔
وہ خوش ہوتا اب جاتا بولا تھا ۔۔۔
کیا میں کچھ نہیں کر رہا اب جاو تم لوگ ۔۔۔۔
وقار اور فارس کو خود کو گھورتے دیکھ صام اپنی آئ برو اچکاتے سکون سے بولے تھے ۔۔۔
دونوں ہی جانتے تھے اتنے فل پروف پلان کو ڈیول اتنی آسانی سے انکار نہیں کر سکتے وہ صرف ہادی کی وجہ سے بولے تھے ۔۔۔
امن تم اداس ہو کیا کتنے دن ہو گے چپ ہی رہتی ہو اگر اچھا نہیں لگا ہم گھر چلے ۔۔۔
مہر امن کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتا فکرمندی سے بولا تھا وہ تینوں ناشتہ کر رہے تھے ۔۔۔۔
ارے نہیں لالہ بس ویسے ہی طیبعت بوجھل سی ہو رہی شاہد موسم کی وجہ سے ۔۔۔
اچانک چہرے پر مسکراہٹ لاے وہ بولی تھی ۔۔۔
آغا کو معاف کر دو دیکھو ہم دونوں نے معاف کر دیا وہ پیار کرتے تم سے میں چاہتا تم خوش رہو ان کے ساتھ ۔۔۔
مہر اسے سمجھاتے بولا تھا ۔۔۔
لالہ ہم آئسکریم کھاے گے مال روڈ پر میں ابھی تیار ہو کر آتا ہے ۔۔۔
امن جلدی سے وہاں سے اٹھتی بولی بھاگ گی تھی ۔۔۔
امن ٹھیک ہو جاے گی فکر مت کرو ہو جاتا ہے ایسے ویسے بھی آچھا ہے میرے لالہ کو بھی پتہ چلے عشق ہوتا کیا ہے ۔۔۔۔
وانیہ مہر کے شولڈر پر ہاتھ رکھتی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔۔
مجھے لگتا میری وجہ سے دونوں الگ ہو گے ا۔۔۔
ایسی بات نہیں مہر بس لالہ غصے اور جذباتی زیادہ ہے ٹیشن نہ لو دونوں ایک ہو جاے گے ۔۔۔
مہر پریشان ہوتا بول رہا تھا جب وانیہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی بولی تھی ۔۔۔
مہر اپنے سینے سے لگی وانی کے سر کے بالوں کو سہلانا شروع کر دیا تھا ۔۔۔
لگتا ہماری جنگلی بلی نے آج جاگنا نہیں ہے ۔۔۔۔
اپنے سینے پر لیٹی بلیک ٹی شرٹ پہنے بکھرے سنہری بال سوجی سرخ نیلی آنکھیں اور خوبصورت چہرے پر حیا و شرم لیے وہ گہری نیند سو رہی تھی جب ایول شرٹ لیس اپنا ایک ہاتھ اس کی کمر پر رکھتا دوسرا اپنے سر کے نیچے رکھتا سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
سونے ہی کب دیا تھا مجھے تم نے برفانی ریچھ میری توبہ جو آج کے بعد تمہارے ساتھ کوئ ڈرامہ کیا ۔۔۔۔
میری جان کا عذاب بن جاتے ہو ۔۔۔۔
نیند میں لیٹی وہ منہ میں بڑبڑاتی ہوئ اپنا منہ اس کے سینے میں چھپانے کی کوشش کرتی بولی تھی ۔۔۔
ایول کو وہ چہرے سے روٹھی ہوی لگ رہی تھی ۔۔۔
تو مولانی عرف جنگلی بلی کس نے کہا تھا ہم سے پنگا لو اچھا بھلا باہر جا رہے تھے کون آیا تھا ہمارے پاس پنگا لینے اب اتنی سزا تو بنتی تھی تمہاری ۔۔۔۔
ویسے بتاؤں سانس تو سہی چل رہی نہ تمہاری اگر نہیں ت۔۔۔
بس کوئ انتہا کے بے شرم ہو تم یہ میں جان گی ہو کوئ ایسا کرتا ہے تمہیں ترس ہی نہیں آیا مجھ پر ۔۔۔
ایول کو رات والے موڈ میں آتے اور کمر سے پیٹ جاتے اس کی انگلیوں کو محسوس کیے وہ جلدی سے دور جانے کی کوشش کرتی لال چہرے سے بول رہی تھی جب اپنی طرف کیچھتے وہ خود پر دوبارہ اسے گرا چکا تھا ۔۔۔
یہ تو اچھی بات ہے تمہیں پتہ چلا ہم کتنے بے شرم ہے ۔۔
اس کے لبوں کو سہلاے وہ بہکتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
میں بھی مان گی تمہیں عشق مجھ س۔۔۔
یہ کس پاگل نے کہا دیا تم عشق ہمارے ۔۔۔
رعنا اس کے گال پر لب رکھتی شرماتی بول رہی تھی جب وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔
م۔مطلب ت۔تمہیں م۔مجھے سے عشق نہیں تو وہ سب۔ج۔کیا تھا رات ۔۔۔
وہ آبدیدہ ہوتی اٹکتی نیلی آنکھوں سے اسے دیکھ بولی تھی ۔۔۔۔
ویسے کچھ زیادہ ہی شدت دیکھا دی تمہاری ننھی جان پر سوری یار ۔۔۔۔
کروٹ چینج کیے وہ بات بدلتا اس کی شرٹ کو شولڈر سے نیچے کرتا وہاں اپنی شدتوں کے عمل پر لب رکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
میں ک۔کیا بکواس ک۔کر رہی ہو تمہی۔تمہیں عشق نہیں ہے مجھ سے تو یہ سب۔کی۔کیا کیوں کیا حازمممممم۔۔۔۔
خود پر جھکے ایول کو بالوں سے پکڑتے وہ اپنے چہرے کے قریب اس کا چہرہ لاے گہری سانس لیتی غرای تھی ۔۔۔
ایک بار پھر نام لو ہمارا کافی سال ہو گے ہم تو اپنا نام ہی بھول گے تھے مولانی ۔۔۔۔
اس کی بیوٹی بون پر اپنے لب رکھتے وہ شدت سے بولا تھا ۔۔۔۔۔
ی۔یہ جو تماشے تم کر رہے ہو سب جانتی ہو مجھے تڑپا کہ تمہیں مزہ آتا ہے برفانی ریچھ دیکھنا تمہاری رگوں میں زہر بن کر آؤ گی ایسا زہر کہ تم مجھے کبھی نہیں بھول پاؤ گے سمجھے ۔۔۔۔
ایول کے شولڈر پر اپنا نازک ہاتھ کا مکہ مارتی وہ غرای تھی ۔۔۔۔
جس کو وہ اپنی باتیں سنا رہی تھی وہ سب اگنور کیے رات والے موڈ میں آتا اپنی شدت بھرے لمس اس کے جسم پر چھوڑتا دونوں کے درمیان فاصلے کو ختم کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
ہمیں زہر پسند ہے زہریلی ناگن ۔۔۔۔
ایک بار پھر رعنا کے وجود پر اپنا لمس چھوڑے اس کا لال حیا بھرا چہرہ دیکھ وہ خود بھی لال گرین آنکھوں سے اسے طنزیہ مسکراہٹ لاے کہتا اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔
کافی دیر اسے روکنے کے بعد بھی رعنا کو جب محسوس ہوا وہ نہیں چھوڑنے والا اس کو تبھی اسے اپنی دوبارہ خودسپردگی دی تھی اس نے ۔۔۔۔
رعنا کی حرکت پر ایول مسکرایا تھا اپنی جنگلی بلی پر ۔۔۔۔
شراب یا کسی چیز میں ایسا نشہ نہیں جو تمہاری قربت اور سانسوں کا نشہ ہے وہ تو مدہوش ہی کر دیتا ہے ۔۔۔۔
دونوں پر کمفڑٹر لیتے وہ بہکے بھاری سرگوشی کرتا دوبارہ اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔
اس کی سرگوشی پر وہ شرماتی مسکرای تھی ۔۔۔۔
ایول کدھر ہے اسے بلاو ۔۔۔
گرو جی ہال میں انٹر ہوتے حور کو دیکھ بولے تھے ۔۔۔
جی اچھا آپ بیٹھ جاے ۔۔۔
حور جلدی سے ایول کے روم کی طرف جاتی بولی تھی ۔۔۔۔
کون ہےےےےے۔۔۔۔
رعنا دوبارہ نیند میں چلی گی تھی جب اپنے سینے پر لیٹاے وہ مگن اسے دیکھ رہا تھا جب دروازے پر دستک سنتے وہ ویسے ہی غرایا تھا ۔۔۔۔
و۔و۔وہ لالہ گرو۔گروجی ا۔۔۔۔
جاو آتے ہے ۔۔۔۔
تھر تھر کانپتی وہ بول رہی تھی جب ایول دو ٹوک بولا تھا ۔۔۔۔
اس کی بات سنتے وہ بھاگی تھی وہاں سے ۔۔۔۔
یہ ساتھ رہی سارا دن تو پکا ہمارے ہی ہاتھوں مر جاے گی ہم نہیں چاہتے اب تمہاری ننھی سی جان پر ایک بار پھر ظلم کرے ۔۔۔۔
سو جاؤ سکون سے اب ۔۔۔۔
رعنا کو کمر سے پکڑتے بیڈ پر لیٹاے وہ اس کا گال چومتا اس پر کمفرٹڑ ٹھیک کرتا اٹھتے بولا تھا ۔۔۔۔
سنہری بالوں والی جنگلی بلی سکون سے سوتی جلدی سے کروٹ چینج کر چکی تھی ۔۔۔۔۔
لو یو ہماری جان لو یو سو مچچچچچ ۔۔۔۔
ہمارا بے پناہ جنون ہماری رگوں میں بستی زہریلی ناگن ۔۔۔
رعنا کی برہنہ کمر دیکھ وہ دوبارہ بہکتا ہوا اس پر جھکتا کان کی لو کو دانتوں میں دباے سرگوشی کر رہا تھا وہ جانتا تھا رعنا گہری نیند سو رہی اب ۔۔۔
اپنے دل کا راز اس کے کان میں بتاتے وہ ویسے ہی باہر چلا گیا تھا اسے ڈر تھا وہ ایک بار پھر بہک کر اس کی جان پر ظلم نہ کرے ۔۔۔۔
جبکہ وہ گہری نیند سو رہی تھی ۔۔
ہاے کتنی لیٹ ہو گیا میں لالہ باہر ویٹ کر رہی ہو گی ۔۔۔
امن جلدی جلدی اپنی جیکٹ بیڈ سے اٹھاے بولی تھی ۔۔۔۔
ا۔آغ۔اغا آپ ۔۔۔
جب اپنی کمر پر کسی کی گرفت محسوس کیے وہ اٹکتی گردن موڑے اپنے پیچھے کھڑے مسکراتے احمد کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔
جو اپنی گرین آنکھوں سے اس کی گرے آنکھیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔
کتنی بدل گئ تھی اس کی جدائ میں جہاں وہ تیار رہتی تھی اب وہ سادہ سے حیلے میں کھڑی تھی ۔۔۔
ظاہر سی بات ہے اپنی جان کے پاس ہی آنا تھا ۔۔۔۔
احمد اس کا شوک چہرہ دیکھ گال چومتا بولا تھا ۔۔۔
ل۔لیکن میں جان نہیں آپ کا ا۔۔۔۔
میں نے سوچا تھا تمہارا مذکر مؤنث ٹھیک ہو گیا ہو شاہد لیکن ابھی بھی تم ویسی ہو۔۔۔۔۔
وہ دور جاتی اپنی گھبراہٹ پر قابو پاے بول رہی تھی جب جھٹکے سے اپنے سینے سے لگاے وہ اس پر جھکتا بولا تھا ۔۔۔۔
م۔میرئ مرضئ میری آردو ہے جیسے چاہو بولو آپ کو کوئ مسئلہ نہیں ہونی چاہے ۔۔۔
دور ہوتی وہ دروازے کے پاس جاتی برا سا منہ بناے بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں جو مرضی کرو چلو پہلے جیکٹ پہن لو ورن۔۔۔
نہیں پہن رہی کیا کرے گی آپ ۔۔۔۔
اسے جیکٹ کے بنا باہر جاتے دیکھ احمد پاس جاتا بول رہا تھا جب وہ روٹھی بچوں جیسی شکل بناے باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔۔
افففف یہ پاگل لڑکی کچھ زیادہ ہی ناراض ہے چلو بیٹا اب تو منانا پڑے گا درد بھی میں نے دیا ہے ۔۔۔
اپنے ٹیچر کو فون کرتا ہو ۔۔۔۔
جیکٹ ہاتھوں میں پکڑتے وہ روم سے باہر جاتا صام کو کال ملاے بولا تھا ۔۔۔۔
یار چاچو یہ کیسے مانے گی ۔۔۔۔
احمد بیزار سی شکل بناے صام سے بولا تھا جب وہ مسکراے تھے ان کے کہنے پر ہی وہ اپنا سارا کام چھوڑے امن کو منانے مری آگیا تھا ۔۔۔۔
کچھ شرم ہوتی کچھ لحاظ اب میں یہ بھی بتاو کہ بیوی کو کیسے منایا جاتا ہے میں ڈیول ہو کوئ رومانٹک گرو نہیں جو مجھ سے پوچھ رہے ہاے میں تو بڑا معصوم ہو ۔۔۔۔
صام اسے تنگ کرتے مسکراہٹ روکے بولے تھے جب ان کی بات سنتے وہ شرمندہ ہوا تھا ۔۔۔۔
س۔سوری چاچو ۔۔۔
احمد شرمندہ ہوتا کہتا فون کٹ کر چکا تھا ۔۔۔
ہاہاہہاہاہہاہاہا ہہاہہاہاہہا۔۔۔۔
صام اس کی شرمندگی دیکھ قہقہ لگاتے فون کو گھورا تھا ۔۔۔۔
پاگل زیادہ ہو گے ہے تو مینٹل ہاسپٹل فون کرتے ہے ۔۔۔
ہال سے گزارتی روحا ان کا چھت پھاڑ قہقہ سنتے برا سا منہ بناتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں ضرور ساتھ والا بیڈ تمہارا ہو ۔۔۔
صام انہیں آنکھ ونک کرتے بولے تھے ۔۔۔
توبہ ہے ۔۔۔
وردہ بیگم کا ہاتھ پکڑتے وہ لال چہرے سے ہال سے باہر نکلتی بولی تھی ۔۔۔۔
صام مسکراے تھے آج بھی ان کی انجیل ویسے ہی شرماتی گھبراتی تھی ان سے ۔۔۔
جی کوئ کام تھا تو ہمیں بلا لیتے ۔۔۔
ویسے ہی شرٹ لیس ایول ہال میں آتا صوفے پر گروجی کے سامنے بیٹھتا بولا تھا ۔۔۔۔
گروجی کی نظریں فورا اس کے برہنہ سینے پر گی تھی جہاں لاتعداد ناخنوں کے نشانات تھے ۔۔۔۔
شاہد ڈسٹرب کر دیا ا۔۔۔۔
اب ڈسٹرب کر دیا تو سوری کا فائدہ آپ کام بتا دے ہمیں ۔۔۔۔
گروجی گہری نظروں سے دیکھتے بول رہے تھے جب لبوں میں سگریٹ دباے وہ دو ٹوک بولا تھا ۔۔۔۔
نہیں کام کوئ نہیں تھا بس دل کیا تمہارے سے مل لو اس لیے ۔۔۔
وہ بات بدلتے مسکراتے بولے تھے ۔۔۔۔
ہممممم۔۔۔
اب وہ دونوں ہی باتیں کرنے میں بزی ہوگے تھے ۔۔۔۔
کہاں ہے وہ برفانی ریچھ۔۔۔۔
ویسے ہی اٹھتی رعنا اب روم سے باہر آتی کچن میں کھڑی حور کے سر پر کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔
وہ باہر ہال میں بیھٹے ہے کام س۔۔۔۔
میں ابھی بتاتی ہو اس کو کہ خود کیسے سکون سے بیٹھ گیا ہے مجھے اپنے کپڑے بھی نہیں مل رہے ۔۔۔۔
رعنا اس کی بات سنے بنا ہی جلدی سے ہال میں جاتی بولی تھی حور نے گھبراتے اسے روکتے پیچھے بھاگی تھی ۔۔۔۔
کیا مسئلہ تمہارا برفانی ریچ۔۔۔۔
ہال میں انٹر ہوتی وہ بنا دیکھے بول رہی تھی جب ایول کے ساتھ ایک ساٹھ سالہ بد صورت انسان کو دیکھ جلدی سے وہی روکی تھی ۔۔۔
پیچھے آتی حور بھی کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔۔
ایول جو گروجی کی بات سنے میں بزی تھا وہی اب وہ اس کی طرف متوجہ ہوا تھا ۔۔۔۔
گروجی نے بھی اپنی ہوس پرست نظروں سے اسے سر سے پاؤں تک گھورا تھا ۔۔۔۔
رعنا جلدی سے بنا بولے وہاں سے بھاگی تھی ۔۔۔
حور گروجی جب جاے تب گارڈ سے کہنا اب اندر کوئ بھی انٹر نہ ہو ۔۔۔۔
رعنا کو بھاگتے اور گروجی کی ایکسرے کرتی نظروں کو ایول نے غصے سے دیکھا تھا تبھی وہ اٹھ کر ہال سے نکلتا ہوا آڈر دیتا چلا گیا تھا ۔۔۔۔
گولڈن بیوٹی اففففف ۔۔۔۔
تبھی سوچو ایول جیسا بندہ اس کے لیے نرم ہو گیا میں تو پھر ایک برا انسان ہو ۔۔۔۔
ہاہہاہاہہاہاہہاہاہا ہہاہاہاہہاہاہا۔۔۔۔
اپنی خباثت بھری گندی سوچ سوچتے گروجی اب قہقہ لگاتے اٹھے تھے وہاں سے ۔۔۔۔
ان کی نظروں میں مسلسل رعنا کا خوبصورت سراپا گھوم رہا تھا ۔۔۔۔
جنگلی بلی اتنے غصے میں کیوں ہے بتاے ہمیں ۔۔۔۔
روم میں آتے وہ تھر تھر کانپ رہی تھی یہی سوچ کر ایول کتنا غصہ کرے گا ۔۔۔
جب وہ روم میں آتا سامنے کھڑی بلیک شرٹ جو صرف تھائی تک آ رہی تھی بکھرے سنہری بال جو نازک سی کمر پر جھول رہے تھے وہ ایول کو دور سے ایک بچی لگی تھی جو ڈر سم کر کھڑی تھی ۔۔۔
تبھی اس کے سامنے آتے کمر سے پکڑتے سینے سے لگاے بولا تھا ۔۔۔
و۔وہ سوری م۔۔۔۔
کیا ہماری شدت میں کمی آئ ہے جو غصہ کر رہی آگر ہے تو بتاو ہم پوری کر دے ۔۔۔۔
وہ اپنی نیلی آنکھوں میں آنسو لاے بولنے کی کوشش کر رہی تھی جب وہ اس کی گردن اور شولڈر سے سنہری بالوں کو پیچھے کیے اس کی شہ رگ کو سہلاتے بولا تھا ۔۔۔۔
ایول اس کی بات اگنور کر چکا تھا ۔۔۔
ن۔نہیں و۔وہ تم نے میرے کپڑے پتہ نہیں کہاں رہ د۔دے ۔۔۔۔
آج سے تم ایسے کپڑے پہنو گی صرف ہمارے سامنے جب بھی ایول ہاؤس میں ہم ہو گے تم یہی پہنو گی ہماری غیر موجودگی میں تم دوسرے کپڑے پہن لینا ۔۔۔۔
اپنے پاؤں کی طرف اشارہ کرتے وہ اسے تھوڑا سا اٹھاے اپنے پاؤں پر اس کے سفید نازک پاؤں رکھتے اب واش روم کی طرف جاتا بول رہا تھا ۔۔۔۔
رعنا نے شرم سے نظریں جھکائ تھی ۔۔۔۔
ای۔ایک سوال پو۔پوچھ لو ۔۔۔۔۔
اپنی پلکوں کی جھالر اٹھاتے گراتے گھبراتی بولی تھی ۔۔۔۔
جو ایک ہاتھ سے اسے پکڑے دوسرے ہاتھ سے اب ٹاول سینڈڈ سے ٹاول نکال رہا تھا ۔۔۔
ہاں پوچھو ہم چاہتے ہے آج سے صرف تم ہماری سنو گی اور سناؤ گی اور کسی سے بات نہیں کرو گی ۔۔۔۔
شپمو نکالے اب وہ اپنے ہاتھوں میں لگاے اس کے بالوں کو لگاے آرام سے بول رہا تھا ۔۔۔۔
ی۔یہ اتنی نرمی ک۔کیسے آئ م۔مطلب ۔۔
جیتنا درد ہم نے سہہ تم نے بھی ویسے ہی سہہ اب ہم ایک نارمل زندگی گزارنا چاہتے ہے جہاں تم اور ہم ہو بس ۔۔۔۔
کوئ تیسرا ہمارے درمیان کبھی نہ ہو ۔۔۔۔
تمہاری یہ غلطی مان کر ہم معاف کرتے ہے لیکن یاد رکھنا ایول بس ایک بار معاف کرتا ہے دوسری دفعہ وہ صرف موت دیتا ہے ۔۔۔۔
اگر اب تم نے ہمارے ساتھ کوئ جھوٹ بولا یا غلطی کی تو موت کی ذمہ دار تم خود ہو گئ ۔۔۔۔
بالوں میں شپمو لگاے اب وہ شاور آن کرتا سردپن سے بولا تھا ۔۔۔۔
ج۔ی۔۔۔۔
پانی کے نیچے بھیگتی وہ گھبراتی بولی تھی ۔۔۔
جب وہ اسے چھوڑے اب باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
ہاےےےےے۔۔۔۔
دشمن ایول ٹھیک تھا یہ تو زیادہ خطرناک ہے افففف میری دھڑکنیں۔۔۔
اس کے باہر جاتے وہ ویسے ہی نیچے فرش پر بیٹھتی گہرا سانس لیتی ہوی بولی تھی ۔۔۔۔
کسی حال میں یہ لڑکی خوش نہیں ہے ۔۔۔
روم میں آتے ایول نے اس کی سرگوشی اپنے کان میں سنی تھی تبھی وہ اب برا سا منہ بناے بولا تھا ۔۔۔۔
رعنا کے دل پر لگی چیپ کے ساتھ ایٹچڈ بیلو تھوتھ ایول کے کان میں فکس تھا جو بلکل ایک تل نما تھا جو کسی کو دیکھای نہیں دے رہا تھا ۔۔۔۔
“”ایک دن پہلے ۔۔۔
تم ہمارے پاس آکر بھی یہ سن سکتے ہو بیٹا ۔۔۔۔
روحا فجر کے وقت نماز کے بعد قرآن پاک کی تلاوت سے فارغ ہوتی دعا کر رہی تھی جب انہیں لگا تھا روم کے پاس کوئ کھڑا تھا ۔۔۔۔
تبھی وہ بولی تھی ۔۔۔۔
اندر آتے ایول نے ڈرتے ہوے اپنی ماما کے روم میں قدم رکھا تھا ۔۔۔
وہ حدید بن کر آفندی پلیس آیا تھا اسے یقین تھا کوئ پہچان نہیں پایے گا لیکن ڈر تھا کہیں پکڑا نہ جاے ۔۔۔
صام سے ملنے کے بعد ایول کا دل کیا تھا اب اسے اپنی ماما کو دیکھنا تھا ۔۔۔۔
خاموش چلتے وہ سکون سے روحا کے پاس آتا گود میں سر رکھ چکا تھا ۔۔۔۔
روحا پہچان گی تھیں وہ حدید نہیں حازم ہے وہی حازم جو خاموشی سے اس کے قریب آتا تھا بنا کچھ کہے۔۔۔۔
ہمارا بیٹا اتنا خوبصورت ہو گیا ہمیں یقین نہیں آرہا کہ تم ہمارے حازم ہو کھڑوس سڑیل سے ۔۔۔۔
ما۔ماما۔۔۔
آپ ۔آک۔کو کیسے پتہ چلا ہم حازم ہے حدید نہیں ۔۔۔
ایول نے ویسے ہی سر رکھے بولا تھا ۔۔۔
حازم کی خاموشی بنا دیتی تھی ہمیں کہ تم ہو ورنہ حدید کے شور سے بھی ہمیں پتہ چل جاتا تھا وہ ہادی ہے ۔۔۔
تمہاری جگہ ہادی ہوتا تو پٹر پٹر بولنا تھا اس نے ۔۔۔
اتنے چھوٹے تھے جب ہم سے دور گے تھے اتنے سال ہم زندہ رہے کہ ہمارا حازم واپس آئے گا اور دیکھو ہمارا بیٹا آ گیا اب چاہے موت ب۔۔۔۔
ما۔ماما۔۔۔
ایول اپنے چہرے پر خاموشی سے روحا کے ٹپ ٹپ برستے آنسو محسوس کر رہا تھا جب روحا کی بات سنتے وہ تڑپتے ہوے بولا تھا ۔۔۔۔
ں۔نہیں ماما ہماری عمر بھی آپ کو لگ جاے ایسا مت کہے ہم اپنی سالوں کی ہمت جمع کرکے یہاں اے ہے ورنہ اس رعنا نے تو ہمارا سب کچھ چھین لیا تھا ۔۔۔۔
ایول اپنے نمی سے بھری آنکھوں سے روحا کے آنسو صاف کرتا نفرت سے بولا تھا ۔۔۔۔
نہیں بیٹا اس کا کوئ قصور نہیں ہے ۔۔۔
پانچ سال وہ کوما میں رہی جب وہ اپنی زندگی میں واپس آئ تب بول نہیں سکتی تھی وہ پورے چھ سال بعد کوما سے باہر آنے اور آواز آنے پر اس نے بہت کوشش کی ہم سب کو بتانے کی اس رات کیا ہوا تھا ۔۔۔
کسی نے نہیں سنی تھی اس کی بات جس دن وہ ہمارے اور صام کے پاس آتی سب بتاتی روتی بول رہی تھی تب ہمیں دکھ ہوا تھا کہ اتنے سال ہمارا بیٹا ہم سے دور رہا ۔۔۔
اگلے دن جب صام نے پولیس کو رعنا کا بیان دیا تب تمہاری سزا ختم کر دی تھی عدالت نے لیکن جیسے ہی وہ تمہیں لینے گے وہاں جا کر پتہ چلا جس جیل میں تم تھے اس کو آگ لگ گئی جس میں کافی بچے مر چکے تھے ۔۔۔۔
وہ خبر ہم سب پر ایک بار پھر قیامت بن کر ٹوٹی تھی ۔۔۔
رعنا خود یہ سنتی ایک ربوٹ بن چکی تھی پھر کوئ ایسا دن نہیں جب وہ رو کر اپنے رب سے معافی نہیں مانگتی تھی ہر روز وہ روتی تھی تڑپتی تھی خود کو قصوار سمجھتی تھی ۔۔۔
ہنسنا بولنا جیسے وہ بھول ہی گی تھی تمہیں یقین نہیں آتا تو دیکھو اس کی ڈائڑی جہاں اس نے اپنا ایک ایک اذایت بھرا لمحہ لکھا ہے ۔۔۔۔
بیٹا کوئ اپنی غلطی مان جاے اسے معاف کیا جاتا ہے تم کوشش تو ک۔۔۔۔
ہم نہیں کر سکتے ہماری ڈکشنری میں سوری ولڈ نہیں ماما ۔۔۔۔
روحا اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیے بول رہی تھیں جب وہ بیڈ سے اٹھتا سرد لہجے سے بولا تھا ۔۔۔۔
بیٹا تم دونوں نے درد و تکلیف برداشت کی ہے اتنے سال اگر تم نے وہ اذایت بھرے دن دیکھے تو کم اس نے بھی اذایت نہیں سہی ۔۔۔۔
بس وہ حادثہ لکھا تھا ہو گیا کوشش کرو اسے معاف کر سکو۔ ۔۔۔
ایک بار اسے محبت دو وہ تم سے عشق کرتی ہے دیکھنا تم بھی خوش رہو گے اس کے ساتھ ۔۔۔
دور جاتے ایول کے پیچھے وہ سکون سے کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔۔
ہمممم۔۔۔
وہ بنا کچھ کہے جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا تھا ۔۔۔۔
روحا کی باتوں اور رعنا کی لکھی باتیں پڑھ کر اسے محسوس ہوا تھا وہ بلاوجہ اسے سزا دینے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔
تبھی اس نے فصیلہ کیا تھا وہ رعنا کے لیے تھوڑا سا اچھا انسان بنے گا تاکہ دونوں ہی خوش ہو سکے ۔۔۔۔
اسٹڈی روم میں بیٹھے سگریٹ پیتے ایول یہ سب گہری سوچ میں ڈوبا سوچ رہا تھا کیسے وہ روحا سے مل کر ان کی باتوں میں آکر وہ رعنا سے اپنا رشتہ بنا چکا تھا ۔۔۔۔
جنگلی بلی ہماری ہو صرف ہماری تمہیں دیکھنے چھونے محسوس کرنے کا حق ہمارا حازم صام آفندی ہے ۔۔۔۔
لیپ ٹاپ کی سکرین میں رعنا کی الٹی سیدھی حرکتیں دیکھ وہ پہلی دفعہ مسکراتا خود سے بولا تھا ۔۔۔۔
جہاں وہ ایول کی شرٹ پہنے مسلسل روم میں اس کی نقل اتار کر حور کو دیکھا رہی تھی ۔۔۔
ہمت بھی کیسے ہوئ چھونے کی ۔۔۔
حدید ایول ہاؤس آتا اپنے روم جاتا اپنی باڈی پر بلیک پینٹ کرنے میں بزی تھا جب اپنے سینے پر کسی کے ہاتھ محسوس کیے جب اسے سامنے کیا تو سامنے انتہائ شارٹ بےہودہ ڈریس میں تیار زوبی کو دیکھ غرایا تھا ۔۔۔۔
ویسے میں ابھی تک شوک ہو جو انسان اتنا خوبصورت ہے وہ یہ بلیک پنی۔۔۔۔
دفع ہو یہاں سے ۔۔۔۔
اس کے سینے پر انگلی رکھتے وہ ہوس سے بول رہی تھی جب حدید اسے دھکا دیتا غرایا تھا ۔۔۔
تم بلکل ایول جیسے ہو فرق اتنا ہے قد سے تھوڑا چھوٹے ہو ورنہ وہی چہرہ وہی سینہ وہی ٹ۔۔۔۔۔
شیٹ اپ کہا رہا ہو نکلو باہر تو نکلو باہر ۔۔۔۔
اسے سر سے پاؤں تک گہری نظروں سے دیکھتی بول رہی تھی جو صرف شارٹس پہن کر کھڑا اسے ہی گھورتے غرایا تھا ۔۔۔۔
مجھے ایول چاہے ہر حال میں اسے پانے کے لیے مجھے تمہیں خوش کرنا پڑ۔۔۔۔۔
چٹاخ چٹاخخخخخخخ دفعہ ہو جاؤ ابھی کہ ابھی ورنہ ایسی موت دو گا سوچ بھی نہیں سکتی تم نکلو باہر گندی عورت ۔۔۔
تمہارا لحاظ بھی نہیں کرنا چاہے تم تو عورت کہلانے کے لائق بھی نہیں ہو ۔۔۔۔
زوبی جو ہر حد پار کرتی اپنی ڈریس کی شولڈر سے ڈوریاں کھل رہی تھی جب اسے تپھڑ لگاتار مارتے وہ غراتا باہر نکال رہا تھا ۔۔۔
مجھے چاہے وہ سمجھے ہر حال میں سمجھے ۔۔۔
بین بین دروازہ کھولو بینننننننن۔۔۔۔
زوبی پاگل ہوتی جنونی پن سے کہتی وہی باہر دروازے کو لات مارتی غرا رہی تھی ۔۔۔
جبکہ اندر کھڑے حدید نے نفرت سے دروازے کو دیکھا تھا اسے شرمندگی ہو رہی تھی یہی سوچ کر کوئ لڑکی اتنی گھٹیا ہو سکتی تھی کیا ۔۔۔۔
“”کچھ گھنٹے بعد۔۔۔۔
ہمیں نیند آ رہی ہے تم جاو اب ۔۔۔
زوبی اب ایول کے پاس اس کے روم میں آتی اسے شراب دیتی بیٹھ چکی تھی ۔ ۔
جب وہ کافی زیادہ پینے کے بعد اب غنودگی میں جاتا سر پکڑے بولا تھا ۔۔۔۔
اس کے ساتھ پہلی دفعہ تھا کہ اتنی پینی کے بعد ایول کو نیند آ رہی تھی ۔۔۔
ہاں سو جاؤ میں بھی جاتی ہو ۔۔۔۔
زوبی اسے نیند میں جاتی دیکھ مسکراتی اٹھتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں ج۔جا ۔۔۔۔
ہاےےےے بےبی تم تو جلدی سو گے افففف چلو کوئ بات نہیں میرا کام ویسے بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔
ایول کھڑا ہوتا بول رہا تھا اچانک گرنے والا تھا تبھی زوبی اسے اپنی باہوں میں تھامتی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔۔
ایول جیسے مضبوط جسم کے مالک کو پکڑنا زوبی کے لیے مشکل تھا کافی ۔۔۔۔
آج کی رات صرف میں اور تم ہو گے پورے دس سال بعد میری وش پوری ہو گی تمہاری قربت کے وہ چند پل جس کا میں برسوں سے انتظار کر رہی تھی ۔۔۔
جیسے تیسے اسے بیڈ پر لیٹاے ایول کی شرٹ اتارے وہ جلدی سے اس کے قریب آتی اس کے چہرے پر جھکتی بولی تھی ۔۔۔۔
زوبی اپنی ہوس میں اتنی پاگل ہو چکی تھی وہ بھول گئ تھی ایول ہوش میں آنے کے بعد اس کا کیا حشر کرنے والا تھا ۔۔۔۔
کیوں اتنے خوبصورت ہو اففففف مجھ سے صبر نہیں ہو رہا ۔۔۔
گہری نیند میں بھی تم مجھے مدہوش کر رہے ہو ۔۔ ۔
دونوں پر کمبل سیٹ کیے وہ اس کے لبوں پر جھکتی کہتی لائٹ آف کر چکی تھی ۔۔۔۔
برفانی ریچھ میں سوچ رہی تمہارے لیے بریانی بناو تمہیں پسن۔۔۔۔۔۔
کافی دیر بعد جب رعنا ایول کے روم میں آتی بنا دیکھتے بول رہی تھی جب سامنے کا منظر دیکھ اس نے شوک کی حالت میں دیوار کو پکڑا تھا ۔۔۔۔
اس کی نیلی آنکھیں وہ منظر دیکھ رہی تھی جہاں پورے کمرے میں ایول اور زوبی کے کپڑے بکھرے پڑے تھے جبکہ کمبل کے اندر ایول کے برہنہ سینے پر زوبی سکون سے سر رکھے لیٹی سو رہی تھی ۔۔۔۔
ایول ویسے ہی گہری نیند سو رہا تھا شراب کے گلاس میں زوبی نے نیند کی گولیاں ڈالی تھی ۔۔۔۔
وہ بے خبر تھا اس کے ساتھ کیا ہو چکا ہے ۔۔۔۔
ز۔زوبی ا۔۔۔۔
ہاے بے بی کیسی ہو ۔۔۔۔
رعنا اپنی چیخیوں کا گلا گھونٹ کر بول رہی تھی جب وہ مسکراتی ہوئی ایک ادا سے اٹھتی چادر لیتی اس کے سامنے آتی بولی تھی ۔۔۔
رعنا کو اپنی آنکھوں کے سامنے اندھیرہ ہوتے محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔
جبکہ زوبی مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔
