Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 36)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 36)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
ہممم اہمممم لالہ خیر تو ہے ۔۔
حدید ایول سے ملنے وہاں آیا تھا جب جم روم میں اسے ورزش کرتے دیکھ خود بھی اس کے ساتھ کرنے لگ گیا تھا جب برہنہ سینے گردن اور کمر پر ناخنوں کے سرخ زخم دیکھ وہ شوخ ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
نہیں تمہاری زبان کی خیر نہیں ہے اگر چاہتے ہو سلامت رہے تو چپ رہو ۔۔۔
ایول اب پش اپس کرتا سردپن سے بولا تھا ۔۔۔۔
کچھ تو ہوا ہے کچھ ہو گیا ہے ۔۔۔۔
ناجانے کیسے پیار ہو گیا ہے ۔۔۔”””
ایول کی کمر پر بیٹھتے وہ جھولے لیتا سریلی آواز میں اپنے حساب سے گانا گاتا اسے تنگ کر رہا تھا ۔۔۔۔
بچپن میں بھی حدید اس کی کمر پر بیٹھتے جھولے لیتا تھا ۔۔ جیسے اب لے رہا تھا ۔۔۔۔
ہو گی بکواس پر گیا سکون دل کو اب منہ بند رکھنا سمجھے ۔۔۔۔
ایول ویسے ہی آپ انیڈ ڈوان ہوتا اپنی گردن موڑتے اوپر بیٹھے حدید کو دیکھ سردپن سے بولا تھا ۔۔۔
کہاں میری بکواس تو شروع ہونی ہے چلے میرے پیارے سے لالہ بتاے اس مس فائر سے عشق ہو گیا آپ ک۔۔۔
ایسی کوئ بات نہیں ہے تم اپنی زبان کو سکون دیا کرو۔ ۔۔
وہ بول رہا تھا جب ایول سکون سے کھڑا ہوتا اب بولا تھا جبکہ حدید قالین پر گرا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اچھا اگر ایسی بات ہے تو اس کی ڈار سے وہ زہریلی چیپ کیوں نکالیی جو اس کی رگ رگ میں زہر گھول رہی تھی ۔۔۔۔
رحمان جیسے اور زوبی کے بندوں سے اسے کیوں بچایا مرنے دیتے تم ۔۔۔۔
حدید بھی اٹھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
جب زینب اور وقار کا نکاح ہوا تھا تب ماما نے سمجھایا تھا ہمیں کہ نکاح میں ایسی کشش ہوتی ہے جس سے دو اجنبی بھی محبت کرنے ل۔۔۔۔
بس کرے لالہ بول دے کہ عشق ہے وہ آپ کا جھوٹ کس کے سامنے بول رہے ہے ۔۔۔۔
ایول صوفے پر بیٹھتا بول رہا تھا جب سامنے کھڑے ہوتا بولا تھا ۔۔۔
عشق تو چھوٹا لفظ ہے وہ ہمارے جنون کی آخری حد ہ۔۔۔۔
ایول بے ساختہ اپنی زبان سے بول چکا تھا اپنے دل کی بات ۔۔۔۔
ہاےےےے مطلب میں جلد ہی چاچو بننے والا ہو لالہ جلدی سے یہ خوشخبری دینا ۔۔۔۔
کیا بکواس ہے ہر وقت فضول بولتے ہو ۔۔۔۔
حدید ایول کا سرخ چہرہ دیکھ چہکتا بول رہا تھا جب وہ اپنی جلدبازی مٹانے کے لیے بولا تھا ۔۔۔۔
و۔ویسے تم نے ڈیڈ کو بتایا کہ تم کون ہو ۔۔۔۔
ایول اچانک اپنے جم روم میں بلیک ہڈی بلیک لونگ شوز گلوز اپنے خوبصورت چہرے پر سنجیدگی گرین آنکھوں پر گلاسز لگاے بھاری قدم آٹھاے انٹر ہوتے صام آفندی کو دیکھ جلدی سے حدید کی طرف دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔
ایول کو شوک لگا تھا صام کو سامنے دیکھ جو حدید کے پیچھے کھڑے ہو چکے تھے۔۔۔۔
کیا بتاو ڈیڈ کو وہ تو مجھے بزدل نکما جانے پتہ نہیں کیا کیا بولتے ہے ۔۔۔
وہ منہ بناے صام کی نقل اتارے بولا تھا ۔۔۔۔
تمہیں ڈر نہیں لگتا ڈیول س۔۔۔۔
ایول اپنی شیو کجھاے سکون سے بول رہا تھا جب حدید اپنی گردن اکڑتے ہوے اٹیٹیوڈ سے بولا تھا ۔۔۔۔
میں نہیں کسی سے ڈرتا آخر کو میںںںںںںںںںںںںںں۔۔۔
اہہہہہہہ اییییییییی ۔۔۔
آخر کار تم سی آی ڈی آفیسرز ہو حدید صام آفندی عرف مسٹر بینننننننن ۔۔۔
حدید بول رہا تھا جب صام نے زور سے لات مارتے ایول پر گرایا تھا جب وہ چیختا ہوا بولا رہا تھا جب صام نے دانت پیستے ہوئے بات مکمل کی تھی ۔۔۔۔
و۔وہ ڈ۔ڈیول ڈیڈ ۔۔۔
ہاےےےے ڈیڈ مجھ معصوم نے کچھ نہیں کیا یہ سارا قصور اس ایول کا ہے میں تو ہوں ہی معصوم ۔۔۔
حدید جلدی سے ایول کی طنزیہ مسکراہٹ دیکھ وہ صام کے سینے سے لگے معصوم سی شکل بناے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں تم دونوں معصوم ہو اتنے زیادہ کہ اپنے ہی باپ کو پاگل بنانے کی کوشش کر رہے تھے کیا بھول گے تھے ڈیول ہو میں ۔۔۔۔
صام حدید اور ایول کو گھورتے طش سے غراے تھے ۔۔۔۔
ان کی غراہٹ سالوں بعد سنتے ایول جٹکھے سے اٹھ کر کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔
س۔سوری ڈیول ۔۔۔۔
حدید سے پہلے ایول اپنے ہاتھ پیٹ پر باندھتے اچھے بچوں کی طرح بولا تھا ۔۔۔
کیا سوری ہاں کیا اپنے باپ کو گلے لگ کر نہیں ملو گے ترس گیا ہو تمہیں گلے لگانے کے لیے ۔۔۔۔
اچانک وہ ایول کو دیکھتے اپنا غصہ بھلاے اپنی بائیں پھلاے بولے تھے ۔۔۔۔
ک۔کیا واقعی ہمیں گلے لگاے گے مطلب ہم تو قاتل ہے ایک برے انسان ہے ہم سے تو ہمارا سایہ بھی بھاگتا ہے اتنے برے ہم ۔۔۔۔
ایول ویسے ہی سکون سے کھڑے بولا تھا ۔۔۔۔
نہیں تم برے نہیں معصوم بچے ہو میرے اس دنیا کے بھیڑیوں نے تمہیں بچے سے حیوان بنا دیا ۔۔۔۔
لیکن میں جانتا ہو اندر سے تمہارا دل بچوں جیسا ہے ۔۔۔
صام خودی اسے ہگ کرتے اسںکا چہرہ چومتے پیار سے بولے تھے ۔۔۔۔
صام کے قد سے زیادہ بڑا حازم کا وجود تھا ۔۔۔۔
وہ خود اسے سینے سے لگانے کی بجاے خود اس کے سینے سے لگے تھے ۔۔۔۔۔
ہ۔ہم نے بہت یاد کیا آپ کو ڈیول ڈیڈ ۔۔۔۔
اتنے سالوں بعد باپ کی شفقیت اور لمس پاتے ایول اپنے خول سے باہر آتا ننھا سا حازم بنا اپنی شکایت لگا رہا تھا ۔۔۔۔
کرب و ضبط سے اس کی لال گرین آنکھیں نمی سے بھری ہوئ تھی ۔۔۔۔
میرا ببر شیر تو بڑا ہو گیا کافی ۔۔۔۔
صام اس کا دیوانہ وار چہرہ ہاتھوں میں لیے چومتے آنسو بہاے بولے تھے ۔۔۔۔۔
ب۔بیٹا گھر آ جاو اب تو تمہارا باپ بھی کمزور ہو گیا مجھ میں ات۔۔۔۔
ڈیڈ ڈیول کبھی بھی کمزور نہیں ہو سکتا جب تک اس کے دو کندھے ایول اور بین زندہ ہے ۔۔۔۔
تب تک کوئ بھی طاقت ڈیول کو کمزور نہیں کر سکتی۔ ۔۔
صام آبدیدہ ہوتے بول رہے تھے جب حدید بھی انہیں ہگ کرتا مضبوط لہجے سے بولا تھا ۔۔۔۔
ڈ۔ڈیڈ ہمارا ہادی بڑا ہو گیا تبھی سمجھداری کی بات کرتا کبھی کبھی ۔۔۔۔
ایول حدید کی آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کرتا خود بھی بھاری آواز سے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاں آخر سی آی ڈی آفسرر ہے بڑا تو ہو گا ۔۔۔۔
صام حدید کا ماتھا چومتے بولے تھے ۔۔۔۔
تینوں باپ بیٹا خوش تھے آخر اتنے سالوں بعد وہ مل ہی چکے تھے ۔۔۔
اس بات سے انجان کہ تینوں میں ایک کی جان کو اب خطرہ تھا اب دیکھنا یہ تھا کون کس کو کیسے بچاتا ہے ۔۔۔۔
لیکن بیٹا تمہیں ہمارے ساتھ رابطہ کرنا چاہے تھا اگر تم اس جیل سے بھاگ گے تھے جانتے ہو کتنے سال میں ایک انجان قبر کے پاس بیٹھ کر روتا رہا ہو کہ سوچ کر اپنے ببر شیر حازم کا قاتل میں تھا ۔۔۔
چھوڑے ڈیول ڈیڈ اب سب ویسا نہیں ہو سکتا واقعی اس رات حازم صام آفندی مر چکا تھا جس سے آپ آج ملے ہے وہ ایول ہے برائ کا بے تاج بادشاہ۔۔۔
صام حدید ایول تینوں بیٹھے تھے جب اپنے گزاری ہر بات ایول نے سکون سے بتائ تھی ۔۔۔
تبھی وہ کرب بھرے لہجے سے بولے تھے ۔۔۔
تبھی وہ بھی اٹھتا ہوا اپنی شرٹ پہنے بولا تھا ۔۔۔
جس انسان کے پاس تم سالوں رہے جس نے تمہیں حیوان بنایا جانتے ہو وہ کیسا ہوس پرست انسان ہے کتنے عرصے سے مجھے اس کی تلاش تھی ۔۔۔
اور اسی انسان نے میرے بیٹے کا یہ حال کیا چھوڑو گا نہیں می۔۔۔۔۔
جیل گے تو کافی ہفتے ہم نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا کسی سے بات نہیں کرتے تھے وہاں کافی بچے برے اور اچھے تھے ۔۔۔
جب کوئ جیلر ہم سے پوچھتا ہمارے ماں باپ کہاں ہے تب ہم سکون سے کہہ دیتے کوئ نہیں ہے ۔۔۔۔
حازم کا نام ہٹا کر ہم ایول نام سے مشہور ہوے وہاں ۔۔۔۔
ہر بچے کو ظلم سے بچاتے تھے وہاں جیل میں کافی ایسے لوگ تھے جو بچوں کو تنگ کرتے تھے ۔۔۔۔
ایک دن پتہ چلا اس جیل میں ہر ماہ ایک شخص ایسا آتا ہے جو بچوں کی مدد کرتا ہے ۔۔
ہم نے دو سال اس جیل میں روتے تڑپتے گزاری ۔۔۔
ہر کسی کا ظلم برداشت کیا ایک ہی بات ذہین میں تھی کہ ہماری ہی دشمن نے ہمیں دھوکا دیا ۔۔
جب ہمیں پتہ چلا وہاں وہ شخص جیل میں آیا ہے جو بچوں کی مدد کرتا ہے ہم اس کے پاس گے جانتے ہے وہ کون تھا شخص ۔۔۔
صام بول رہے تھے جب وہ سگریٹ جلاے اپنے لبوں میں دباتے سکون سے کھڑا بولتا ہوا اچانک روکتے دیکھا تھا ان کو ۔۔
کون ۔۔۔
انھوں نے حیرت سے پوچھا تھا ۔۔۔۔
کرنل صام آفندی جو ہر ماہ اس جیل میں آتے تھے سب کی مدد کرنے اور یہ سوچ کر وہ اپنے بیٹے سے مل سکے گے ۔۔۔
جیسے ہی آپ کو دیکھا ہم وہاں سے بھاگ گے تھے ہم نہیں چاہتے تھے کبھی کسی سے بھی ملے ہم وہ اپنی ماما کی نظروں اپنی بہن یا کسی کی نظروں کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتے تھے کہ اس رات رعنا کو بچانے کے لیے وہ قتل کیوں کیا تھا ۔۔۔۔
بچوں سے لڑنا اور بدسلوکی کی وجہ سے ہمیں دوسری جیل بھیج دیا گیا ۔۔۔
وہاں ہمیں گروجی ملے ۔۔۔
پہلی نظر سے جان گے وہ آپ کا وہی دشمن ہے جس کو ہم نے دیکھا تھا لیکن خاموش رہے ۔۔۔۔
وہ ہر پل ہماری ہر بات پر گھور کرتے تھے جیسے انہیں ہم چاہے تھے ۔۔۔۔
وہاں ہم بلکل ربورٹ کی طرح رہنے لگ گے تھے ۔۔۔۔
گروجی اپنے آدمیوں کے ساتھ باتیں کرتے اور ہم خاموشی سے سن لیتے ۔۔۔۔۔
وہاں کے جیلر کی نظر ہم پر تھی ۔۔۔۔
ہہاہاہہاہاہہاہاہاہا خوبصورت جو تھے ہم بلکل اپنے ماں باپ جیسے بے حد خوبصورت۔۔
ایول ابھی بھی سکون سے بولتا اس نے کرب بھرا قہقہ لگایا تھا ۔۔۔۔
بیٹا تم سب بھول کیوں نہیں بھ۔۔۔
صام اس کے کرب بھرے قہقے میں اس کے بچپن کے خواب ٹوٹتے محسوس کیے بول رہے تھے جب وہ تحمل سے بولا تھا ۔۔۔۔
وہاں رہ کر بھی ہمیں اپنے سب یاد آتے تھے جس دن سوہا اور ہادی کی یاد آتی تب دل کرتا تھا بھاگ جاے یہاں سے ۔۔۔
وہ بھی ایک ایسی ہی رات تھی ۔۔۔۔
گروجی نے ہمیں پلان بتایا تھا کہ وہ جیل کو آگ لگا کر بھاگ جاے گے اگر ہم چاہے تو ان کا ساتھ دے سکتے ہے ۔۔۔
لیکن ہمارا دل نہیں تھا جیل سے جانے کا ہم چاہتے تھے ہماری سزا پوری ہو ۔۔۔
وہ جیلر جب بھی ہمارے پاس آتا تو ہمیں عیجب سا ٹچ کرتا تھا مسکرا مسکرا کر بات کرنا ہمیں اس سے نفرت ہوتی تھی ۔۔۔۔
جس رات گروجی کے آدمیوں نے بھاگنا تھا اس رات وہ جیلر ہمارے پاس آیا ہم نے جب کھانے سے انکار کیا اس نے دھکا دے کر ہم پر حاوی ہوا تھا ۔۔۔
اس وقت اس کی نظروں میں کیا کچھ تھا ہوس ہمارے وجود کو نوچنے کی خواہش ۔۔۔
وہ ایک انسان اس وقت ایک ننھے بچے کے سامنے بھیڑیا بن کر کھڑا تھا ۔۔۔۔
اپنی ہوس میں پاگل وہ شخص ہمارے وجود سے کپڑے اتار چکا تھا ۔۔۔
ہم اپنے بچپن کو برباد ہوتا دیکھ رہے تھے اتنی طاقت ہی کہاں تھی جو اس حیوان کا مقابلہ کر سکتے ۔۔۔
اس سے پہلے وہ ہمارے جسم کو نوچتا جب وہاں گروجی کے آدمیوں نے بچایا تھا ۔۔۔
گروجی نے اپنی شال اتار کر ہمیں دی ہم ایک سائیڈ پر کھڑے بس آنسو بہا رہے تھے ۔۔۔۔
تب ہمیں آپ کی بات یاد آی تھی جب تک انسان خود نہ چاہے اپنی مدد کرنا تب تک وہ کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکتا ۔۔۔۔
بس پھر گروجی کے ساتھ مل کر ہم وہاں سے بھاگ گے اس جیل کو آگ لگا دی ۔۔۔
اس دن کے بعد ہم ان کے پاس رہے ۔۔۔۔
ڈیول ڈیڈ وہ انسان چاہے برا ہی سہی لیکن اس نے ہماری جان بچائی تھی اس رات وہ نہ آتے تو آج ہم زندہ نہ ہوتے ۔۔۔۔
ہماری نظر میں وہ برا نہیں ہے جس دن وہ ہماری نظر میں برا ہوا ہم خود اسے موت کے منہ میں دھکیلے گے ۔۔۔۔
ایول اپنی پوری بات کرتا جم روم سے باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
اس کی بھاری آواز میں گھلتی نمی کو صام اور حدید محسوس کر سکتے تھے ۔۔۔۔
یہ صیح کہہ رہا تھا میں نے اپنے بچے کا بچپن خراب کر دیا حازم کو ہمشیہ گرو جیسے لوگوں سے بچایا آج اسی انسان کی سائیڈ پر حازم ایول بن کر کھڑا ہے ۔۔۔۔
کتنا بڑا گناہ ہو گیا مجھ سے ا۔۔۔۔
ریلکس ڈیڈ لالہ ابھی غصے میں ہے تبھی وہ ایسا بول رہے ہے ورنہ آپ اور میں جانتے ہے گرو کتنا گندہ انسان ہے بہت جلد لالہ کو احساس ہو گا جس انسان کو وہ اپنا محیسا سمجھ رہا ہے وہ کتنا بڑا حیوان ہے ۔۔۔۔
صام آبدیدہ ہوتے بول رہے تھے جب حدید نرمی سے بولا تھا ۔۔۔۔
کاش وہ دن جلدی آے میرے بیٹے کو دیکھ جاے گرو کی اصلی شکل۔۔۔
وہ ضبط کرتے بامشکل بولے تھے ۔۔
چلے گھر چلتے ہے ڈیڈ لالہ بھی ایک دن گھر خود آے گے ۔۔۔
حدید انہیں لیے اب باہر جاتا بولا تھا ۔۔۔
وہ خاموشی سے ساتھ چلے گے تھے ۔۔۔
یہ دیکھو روشنی میں شاپنگ کر کے آیا ہو یہ والے جو کپڑے ہے تم پہنا کرو اس میں تمہارا جسم اتنا ہیوی نہیں لگے گا ۔۔۔
اور یہ دیکھو یہ میری چھوٹی سی بے بی گرل کے کپڑے ۔۔۔۔
روشنی سب سے باتیں کرتی اپنے روم آئ تھی جب حدید کو کافی سارے شاپنگ بیگز لاتے روم میں آتے دیکھ تھا جو ہر چیز نکالے اسے دیکھا رہا تھا ۔۔۔۔
ایول سے مل کر وہ شاپنگ کرنے چلا گیا تھا ۔۔۔
روشانے حدید کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ رہی تھی ۔۔
یہ تمہارا بے بی نہیں ہے نہ ہی مجھے یہ چاہے ا۔۔۔۔
میرا ہے سمجھی کتنی دفعہ کہا ہے ایسی بکواس نہ کیا کرو ۔۔۔۔
روشانے طش میں آتی بول رہی تھی جب حدید اس کا منہ دبوچتے غراتے بولا تھا ۔۔۔
یہ تمہارا نہیں تقی کا گندہ خون ہے ہادی ۔۔۔۔
میں سب جان گی ہو ہادی اس رات تم نے نہیں تقی نے میرے ساتھ غلط کیا تھا ۔ ۔۔
اپنے چہرے کو ہاتھوں میں چھپاے وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی چلای تھی ۔۔۔۔
ت۔تمہہں کیسے پتہ چلا ۔۔
حدید اچانک پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
“””کچھ دن پہلے ۔۔۔۔
ہماری بیٹی کیسی ہے اب ۔۔۔
روحا روشانے کو ڈاکٹر کے پاس لے کر آئ تھی جب وہ فکر مند ہوتی بولی تھیں ۔۔۔۔
دونوں ہی کافی ویک ہے آپ خیال رکھے زیادہ سے زیادہ ۔۔۔
ڈاکٹر روشانے کا چیک اپ کرتی بولی تھی ۔۔۔۔
ماما میں باہر جا رہی ہو آپ آجاے ۔۔۔
اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس کیے وہ اٹھتی باہر آگی تھی جبکہ روحا ڈاکٹر سے پوچھ رہی تھی اس کی حالت کا ۔۔۔۔
اہہہہ۔اہہہہہ۔۔۔۔
روشنی وہی باہر کھڑی تھی جب کسی کے چیخنے چلانے کی آواز سنتی ایک روم کی طرف گی تھی۔ ۔۔۔
جہاں کافی زیادہ مشینوں کے درمیان ایک وجود سسک رہا تھا ۔۔۔۔
ہاتھ ٹانگیں آنکھیں یہاں تک اس کے لب بھی کاٹے گے صرف اوپر والا جسم ہی مشینوں کے درمیان پڑا اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اس کے قریب کھڑی لڑکی زور و شور سے رونے میں بزی تھی ۔۔۔۔
ت۔ت۔تقی ۔۔۔۔
روشانے اندر انٹر ہوتی تقی کا ایسا وجود دیکھ ڈرتی بولی تھی ۔۔۔۔
پاس کھڑی حور سمجھ گی تھی یہ بین کی بیوی تھی ۔۔۔۔
ی۔یہ سب کیسے ہوا ۔۔۔۔
وہ خودی بولی تھی حور شرمندہ ہوتی وہاں سے گی تھی جب تقی کا دوست اندر آیا تھا ۔۔۔۔
میں بتاتا ہو ۔۔۔۔
اس کا دوست روشانے کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔۔
روشانے تقی کی حالت دیکھ مشکل سے کھڑی تھی اس کے وجود کا ہر حصہ کاٹا گیا تھا سواے سانس لینے کے وہ کچھ نہیں کر رہا تھا ۔۔۔۔
“””کچھ ماہ پہلے ۔۔۔۔
یہ ہادی کا روم ہے باقی رومز بند ہے میں تمہیں شرٹ دیتی ہو پہن کر نیچے آ جانا ۔۔۔
روشانے پیلس آتی ہال سے سیڑھیاں چڑتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
تم آج بہت حیسن لگ رہی ت۔۔۔۔
پلیز تقی تم شادی کر لو پھر چاہے قریب آ جانا یہ گناہ ہے میں نہیں چاہتی میری محبت گناہ بنے ۔۔۔
یہی روکو میں تمہیں شرٹ دیتی ہو ۔۔۔
دور جاتی روشانے کو کمر سے پکڑے تقی بہکتا اس پر جکھتا ہوا بول رہا تھا جب وہ شدید غصے میں دور جاتی چلای تھی۔۔۔
باہر آ جانا جلدی ۔۔
روشانے برا سا منہ بناۓ حدید کی شرٹ اسے دیتی روم سے باہر چلی گی تھی۔۔۔۔
تقی نے بھی برا سا منہ بناے باہر جاتی روشانے کو دیکھ
شرٹ اتاری تھی۔۔۔
روشانے کو جلدی تھی یہاں سے جانے کی جلدی سے ۔۔۔
روشنیںںں۔۔۔
کیا ہوا تقی ۔۔۔
اس کے چیخنے کی آواز سنتے روشنی جلدی سے اندر جاتی بولی تھی ۔۔۔۔
جو شرٹ لیس ویسے ہی کھڑا تھا ۔۔۔
یار یہ شرٹ تو پھٹ گی ۔۔۔
ہادی کی شرٹ کو دو حصوں میں لے کر وہ شیطانی مسکراہٹ لاے بولا تھا ۔۔۔۔
اچھا لاو ایک اور دیتی ہو ۔۔۔
روشانے نے جیسے ہی ہاتھ کیا تقی وہ تھام کر اسے اپنے سینے سے لگا چکا تھا ۔۔۔۔
ک۔کیا۔کر رہے ہو تقی ی۔یہ غلط ہے دور رہو ۔۔۔۔
روشانے اپنی کمر پر اس کے ہاتھوں کا لمس پاتی چیختی دور ہوتی بولی تھی ۔۔۔
افففف کتنی خوبصورت ہو تم کتنے مہنیوں سے میں نے ان لمحوں کا ویٹ کیا ہے اب دیر مت کرو ۔۔۔
اسے کلاہیوں سے پکڑتے وہ منٹوں میں بیڈ پر گراے اس پر حاوی ہوتا شیطانی مسکراہٹ لاے بولا تھا ۔۔۔
د۔دیکھو ہم شادی کے بعد ایسا کر سکت۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہہ۔۔۔
روشانے اسے خود پر حاوی دیکھ بول رہی تھی جب اس نے اسے گردن سے نوچا تھا ۔۔۔۔
وہ تڑپ رہی تھی اس کی قید میں جبکہ وہ خوش ہوتا اس کے جسم سے اپنی ہوس مٹا رہا تھا ۔۔۔۔
اپنے ساتھ اتنا غلط ہوتا دیکھ غنودگی میں جاتی روشنی کو حدید کے لفظ یاد آئے تھے وہ ٹھیک کہتا تھا تقی اچھا انسان نہیں ہے ۔۔۔۔
یار یہ کیا کر دیا تم نے جانتے ہو آئ جی مستقیم کی بیٹی اور جنرل صام کی بیتھجی کتنے پاور فل آدمی ہے یہ اگر انہیں پتہ چل گیا یہ تم نے کیا ت۔۔۔۔
یار اسے یاد ہی نہیں رہے گا تو بتاے گی کس کو تم بس پکس اور ویڈیو بناو اس کی جلدی ۔۔۔
بیڈ پر سسکتی روشنی کو ویسے ہی برہنہ دیکھ تقی کا دوست اندر اتا ڈرتا بولا تھا ۔۔۔
تقی نے اسے فون کر کے بلایا تھا ۔۔۔
یہ دیکھو یہ گولی گی اس کے منہ کے اندر اب یہ جو بھی کر لے اسے کچھ یاد نہیں آے گا ہوا کیا تھا اس کے ساتھ ۔۔۔۔
تقی اب ایک گولی روشانے کے منہ میں ڈالتا بولا تھا ۔۔۔۔
تقی اور اس کے دوست نے ویڈیو پکس بنا کر اسے ویسے ہی چھوڑے وہاں سے بھاگ گے تھے ۔۔۔۔
ہال سے واپس آتے جب حدید اپنے روم میں انٹر ہوا تو لائٹ آن کیے بنا ہی بیڈ پر گرتا سونے لگ گیا تھا ۔۔۔۔
جب کافی دیر بعد اپنی ٹانگ پر کسی کی ٹانگ محسوس کی تو جلدی سے اٹھتے روم کی لائٹ آن کی تھی ۔۔۔۔
اپنے قریب روشانے کا بکھرا وجود دیکھ کر حدید نے جلدی سے اپنی شرٹ اتارے اسے پہنائ تھی اور خود وہ یہ سوچ رہا تھا روشانے کے ساتھ اتنا برا کس نے کیا تھا ۔۔۔۔
بے ہوش ہوئ روشانے بھی درد سے رو رہی تھی اس کے آنسوں دیکھ پاس بیٹھا حدید بھی آنسو بہا رہا تھا ۔۔۔۔
وہ کیسے دیکھ سکتا تھا اپنے عشق کو ایسی حالت میں۔ ۔۔۔
تقی کے دوست نے روشانے کو ہر بات بتا دی تھی ۔۔۔
جب آنسوں بہاے اس نے یہ سب سنا تھا ۔۔۔۔
مر کیوں نہیں جاتے تم حیوان مر جاو تم بیغرت انسان ۔۔۔
شدید طش میں آتی روشانے تقی کی گردن پکڑے بولی تھی جب اس کے دوست نے اسے روکا تھا ۔۔۔۔
مر ہی رہا ہے اپنی ایک ایک سانس پر وہ ہر بار موت محسوس کرتا ہے ۔۔۔۔
روشانے نے نفرت سے دونوں کی طرف دیکھتی وہاں سے گی تھی ۔۔۔۔
یہ سب جانے کے بعد اس نے وعدہ کیا تھا وہ کبھی ہادی کو نہیں بتاے گی وہ سب سچ جان گی ہے ۔۔۔۔
“””حال ۔۔۔۔
م۔میں بدکردار لڑکی ہو م۔میں کتنی گندی ہو چچچچ۔۔۔
ت۔تمہں گھن نہیں آتی میرے وجود سے ہادی کیوں اتنے اچھے ہو کیوںںںںنںںں۔۔۔۔
نیچے بیٹھتی وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔۔
جب وہ اس کے قریب بیٹھا تھا۔ ۔۔۔
میری نظر سے دیکھو تم بے حد حسین ہو اور یہ فضول سوچنا بند کرو بھول جاؤ سب کچھ اب ہماری زندگی میں پیاری سی بیٹی آے گی بلکل تمہاری جیس۔۔۔
ن۔نہیں نہیں مجھے یہ وجود نہیں چاہے ی۔یہ میری جیسی نہ ہو گندی لڑکی۔۔۔۔
اس کے بالوں کو سہلاے وہ نرمی سے بول رہا تھا جب وہ طش سے چلائ تھی ۔۔۔۔
میری وش ہے جب ہماری بیٹی ہو اس کا نام پری وش رکھے گے ۔۔۔۔
بلکل پریوں جیسی پیاری ہو گی وہ ۔۔۔۔
حدید نے اپنی بات جاری رکھی تھی ۔۔۔۔
مجھے نہیں چ۔۔۔۔
روشانے اس کی مسلسل ایک ہی بات سنتی بول رہی تھی جب حدید نے گردن سے پکڑتے اس کی بولتی بند کی تھی ۔۔۔۔
حدید کا لمس اپنے لبوں پر پاتے روشانے کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ کرتے گرے تھے ۔۔۔۔۔
جو حدید گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
یہ کس نے میرے کپڑے رکھے ہے ۔۔۔
حور ح۔۔۔۔
رعنا باتھ لیے باہر آئ تھی جب بیڈ پر پڑی ریڈ شرٹ دیکھ وہ بولی تھی ۔۔۔۔
جہاں صرف شرٹ ہی پڑی ہوئ تھی ۔۔۔۔
روم میں انٹر ہوتے ایول کو دیکھ وہ چپ ہوئ تھی جو سنجیدہ چہرہ بناے وہی کھڑا ہو چکا تھا۔ ۔۔۔
سزا تمہاری ۔۔۔
ایول اپنے ہاتھوں میں سگریٹ لیتے آرام سے بولا تھا ۔۔۔
ک۔کون۔س۔سی سزا ۔۔۔
اپنے باتھ روب کو نیچے کی طرف کرتی وہ گھبراتی بولی تھی ۔۔۔۔
پہلے آغا کو بتایا ہمارا پھر ماما سے رابطہ کیا اس کے بعد ڈیول ڈیڈ کو بتا دیا اس کی سزا۔۔۔
اس کی سفید دودھیا ٹانگیں دیکھ وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔
ن۔نہ۔نہیں بتایا میں نے صام ڈیڈ نے خود پتہ کیا ہو گیا مجھ پر الزام لگا دیتے ہے ہر دفعہ ۔۔۔۔
باتھ روب کو نیچے کرتے وہ شولڈر سے سرکا تھا جب جلدی سے اوپر پکڑتے وہ رخ چینج کیے بولی تھی ۔۔۔۔
ہماری بات پوری نہیں ہوئ یہی کھڑی رہو ۔۔۔
شرٹ اٹھاے واش روم کی طرف جاتی رعنا کو روکتے وہ غرایا تھا ۔۔۔
جب ڈر کے مارے شرٹ نیچے گری تھی اس سے خود وہ تھر تھر کانپتی کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔
اتنا بھی خوبصورت نہیں ہونا چاہے ۔۔۔
انسان کو ۔۔۔
بھاری قدم لیے وہ اس کے پیچھے آتا کان میں بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔
اس کے جسم اور بالوں میں آتی شمپو کی خوشبو ایول کو مدہوش کر رہی تھی ۔۔۔
ک۔کس کو بول رہے ہ۔۔۔۔
ظاہر سی بات ہے خود کو ہم کتنے خوبصورت ہے ۔۔۔۔
لال ہوتے چہرے اور تیزی ہوتی سانسوں کے درمیان وہ بول رہی تھی جب وہ اس کی بیک نیک کو چومتا بولا تھا ۔۔۔۔
یقیناً یہ بات اس زوبی خوبی شوبی ڈوبی نے کہی ہو گی انہہہ چڑیل کہی کی ۔۔۔۔
اپنی خوبصورتی کی توہین محسوس کیے وہ جلدی سے اپنا رخ اس کی طرف کرتی لال چہرے سے بولی تھی ۔۔۔۔
نہیں کچھ دن پہلے سنا تھا کسی کے الفاظ کہ ہم خوبصورت ڈیشنگ ہنڈسیم ۔۔۔۔
رعنا کی گردن سے نیچے سینے پر انگلی رکھے وہ شوخ ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
نظریں خود پر کرتی رعنا کو احساس ہوا تھا ایول اس کے باتھ روب کی ڈوری کھول چکا تھا ۔۔۔۔
پ۔پاگل ہو گی تھی وہ جس نے یہ کہا ۔۔۔۔
جلدی سے اس کی سائیڈ سے نکلتی وہ ہکلاتی ہوئ باتھ روم بھاگتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں تم پاگل ہو ہم جانتے ہے ۔۔۔
بیڈ پر سکون سے بیٹھتے وہ اب مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
جبکہ باتھ روم کے اندر کھڑی رعنا کا چہرہ شرم سے لال ہوا تھا ۔۔۔
یہ باتیں اس نے واقعی روحا کو فون پر کہی تھی جو ایول بتا رہا تھا ۔۔۔۔
اففف شرٹ باہر رہ گی اب تو ۔۔
تم بے شرم بھی ہو کافی زیادہ توبہ میری ۔۔۔۔
باتھ روم سے باہر گردن نکالے وہ دیکھ رہی تھی ایول کدھر ہے تاکہ شرٹ لے سکے ۔۔۔
لیکن اچانک باتھ روم میں انٹر ہوتے ایول کو دیکھ وہ دیوار سے لگتی غصے سے دھاڑی تھی ۔۔۔۔
اہہہہ یہ تو اچھی بات ہے تم ہمیں جان گی گڈ گرل ۔۔۔
شاور کے نیچے اسے کھڑا کیے وہ سکون سے مسکراتا بولا تھا ۔۔۔۔
ی۔یہ والا ایول نہیں ٹھیک ت۔تم پہلے وا۔والے ٹ۔ٹھیک تھے برف جیسے س۔سرد۔۔۔۔
اپنی کمر پر اس کا ایک ہاتھ اور دوسرا اپنے باتھ روب کے اندر جاتا اس کے ہاتھ محسوس کیے وہ گہری سانسوں سے بول رہی تھی ۔۔۔۔
برف بھی پگھلتی ہے آگ کے پاس آکر یہ تمہارے ہی آلفاظ تھے ۔۔۔۔
ہم اگر برف ہے تم وہ آگ ہو جو ہمیں لمحہ لمحہ پگھلا رہی ہو مولانی ۔۔۔۔
رعنا آنکھیں بند کیے اپنے دل کے مقام پر اس کا بھاری ہاتھ محسوس کرتی اس کی سرگوشیاں سن رہی تھی جب اپنے دل کے مقام پر کچھ چبتا ہوا محسوس ہوا تھا اسے ۔۔۔۔
اگر ہم پگھلے تو تمہاری ننھی سی جان پر قہر برسے گا ہمارا تبھی کہتے ہے پنگے نہ لیا کرو ۔۔۔۔
ایول اور رعنا دونوں کی ہی آنکھیں سرخ ہوئ تھی جب وہ ہاتھ باہر نکالے بولتا ہوا بنا سنے واپس باہر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
باہر جاتے اس نے اپنے لیپ ٹاپ کو آن کیا تھا جہاں اسے رعنا کی دھڑکن اور لوکیشن صاف دیکھای دے رہی تھی ۔۔۔
اسے بتاے بنا ایول نے اس کے دل پر ایک چھوٹی چیپ لگای تھی جس سے وہ اس کی ہر بات ہر کام اور لوکیشن دیکھ اور سن سکتا تھا ۔۔۔۔
جبکہ باتھ روم میں کھڑی رعنا ابھی بھی اس کے سحر میں کھڑی تھی جیسے وہ اس کے آس پاس کھڑا ہو ۔۔
میں نہیں چھڑ رہی اس برفانی ریچھ کو میری جان کا عذاب بن جاتا ہے ۔۔۔۔
رعنا اسی کی شرٹ پہنے پورے ایول ہاؤس گھومتی تھک گی تھی جب حور اس کے پاس بھاگی ہوئ آی تھی ۔۔۔۔
اس کی بات سنتے وہ ڈرتے اور سرخ چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔۔
اب تو شام ہونے والی تھی رعنا نے ایول کی شکل نہیں دیکھی تھی وہ پتہ نہیں کہاں رہ گیا تھا ۔۔۔۔
حور کا کہنا تھا ایول نے گرو جی کے کہنے پر کچھ لوگوں کا قتل کرنا تھا جو کہ حور چاہتی تھی ایول ایسا کام نہ کرے ۔۔۔۔
وہ رعنا کو کہہ رہی تھی آج کی رات وہ اسے روک لے ۔۔۔
یار کیسے روکو میں ا۔۔۔۔
لالہ اے گے آپ آے میرے ساتھ ۔۔۔
بسیمنٹ کی سیڑھیاں چڑھتے ایول کو اوپر آتے دیکھ حور اس کا ہاتھ پکڑے پلیس کی بیک سائیڈ لے کر جاتی بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں مجھے مردہ ثابت کر دو جب کہ میری جان پر موت بنے گا ا۔۔۔۔
لالہ آگے ۔۔۔۔
وہی گھاس پر رعنا کو لیٹاے حور نے اپنا پلان بتایا تھا ۔۔
اس کا پلان سنتے وہ لال چہرے سے بول رہی تھی جب وہ چہکتی بولی تھی ۔۔۔
کیا ہو رہا یہاں اور رات کے اس وقت یہاں ک۔۔۔۔
دیکھے لالہ بھابھی چھت سے گر گی شاہد مر گی ہے ۔۔۔۔
آیول جو اپنے آدمیوں کے ساتھ باہر جانے کی تیاری کر رہا تھا جب پیلسں کی بیک پر کھڑی حور کو دیکھ اس کے پاس آتا بول رہا تھا جب حور نقلی آنسو بہاے بولی تھی ۔۔۔۔
حور کا رونا اور رعنا کا آرترچھا لیٹے دیکھ وہ سمجھ گیا تھا دونوں ڈرامہ کر رہی ہے ۔۔۔۔
اوووو کہاں سے گری یہ جو بنا خون نکلے ہی مر گی۔ ۔۔
ایول کی دی ہوئی ریڈ شرٹ میں وہ بچوں جیسی شکل بناے مرنے کا ڈرامہ کر رہی تھی جب وہ لمبا چوڑا وجود اس کے قریب بیٹھتا اس کی شہ رگ کو چھوتا حور سے سوال کر رہا تھا ۔۔۔۔
پاگل لڑکی خون کا انتظام کرتی پہلے ۔۔۔
ایول حور کو گھور رہا تھا جب ایک آنکھ کھولے رعنا نے اشارہ کرتے حور کو کہا تھا۔ ۔۔۔
و۔وہ لالہ کبھی کبھی خون کیا نکلتا سمجھا کرے بھابھی شاہد مر گی ہے دیکھے سانس بھی نہیں لے ر۔ ۔۔
کدھر لے کر جا رہے ہے ۔۔۔۔
تمہاری بھابھی کو سانس دینے اگر تب بھی زندہ نہیں ہوئ تو قبر میں دفن کر دے گے ہم ۔۔۔
تم روم میں جاؤ رات ہو رہی ۔۔۔۔
حور فضول سا بہانہ بناے بول رہی تھی جب ایک ہی جٹکھے میں گود میں اسے اٹھاے وہ اندر جا رہا تھا جب وہ بولی تو اپنے بندوں کو نہ جانے کا اشارہ کرتے وہ اندر چلا گیا تھا ۔۔۔۔
اس کی باہوں میں سانس روکے رعنا نے افسوس سے خود کو کوسا تھا وہ کیوں اس سے ڈرامہ کرنے جا رہی تھی جو آگلے بندے کی رگ رگ سے واقف ہوتا ہے ۔۔۔
کیا کر رہا ہے یہ پاگل انسان افففف حور کی بچی کہاں پھسا دیا مجھے ۔۔۔
ایول اسے روم میں لاتا سب لائٹ کو آف کیے صرف زیروبلب ان کیے اسے بیڈ پر لیٹاے اپنی شرٹ بھی اتارے اس پر حاوی ہوتا اس کی گردن منہ شولڈر کمر کو چھو رہا تھا ۔۔۔
جبکہ سانس اور آنکھیں بند کیے وہ لال چہرے سے ایول کی آنگلیوں کا لمس اپنے جسم پر پاتے وہ دل میں بولی تھی ۔۔۔۔
ایول گہری نظروں سے اس کے لال چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
اسے مزہ آرہا تھا رعنا کو تنگ کرنے میں ۔۔۔۔
یہ پہلی دفعہ دیکھا کوئ اتنی اونچائی سے گرا لیکن خون نہیں نکلا حیرت ہے ۔۔۔
اس کی شرٹ کے بٹن کھولے وہ سرگوشی کرتا خود سے بولا تھا ۔۔۔۔
یییییی یییییی یہ کیا کر رہ رہے ہو چھوڑو ۔ی یہ سب ڈرامہ ح۔حور کا تھا ۔۔۔۔
اپنی شرٹ کو شولڈر سے نیچے ہوتی دیکھ رعنا جلدی سے اٹھتی چیختی ہوئی بول رہی تھی جب مدھم روشنی میں ایول کی لال گرین آنکھیں دیکھ چپ ہوئ تھی ۔۔۔۔
تمہیں خون خرابے کا شوق ہے وہ شوق پورا کیا جاے پھر ۔۔۔
اس کی ٹانگ کو پکڑتے دوبارہ بیڈ پر لیٹاے وہ اس کی باقی کی شرٹ بھی اتارے شوخ ہوتا اس کے کان میں بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔
اس کی بے باک بات پر رعنا کا چہرہ ٹماٹڑ جیسا لال ہوا تھا ۔۔۔۔
و۔وہ حور نے کہا تھا تم کہی جا ر۔۔۔۔
اب نہیں جا رہے ہم کہی بھی منع کر چکے ہے ۔۔۔
رعنا اپنی گردن اور شولڈر پر اس کے لبوں کا لمس پاتی آنکھیں بند کیے بول رہی تھی جب وہ اس کا گال چومتا ہوا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
ی۔یہ تو اچھی بات ہے پھر یہ ڈرامہ کیوں ا۔۔۔۔
تمہاری یہ بہکا دینے والی ادائیں اور شور مچاتی دھڑکنیں ہمیں پاگل کرتی ہے کافی ہم نے سوچا پہلے اس کا علاج کیا جاے ۔۔۔۔
رعنا جلدی سے اس کی گرفت سے نکلتی بول رہی تھی جب ایک ہاتھ میں اس کی دونوں کلاہیوں کو پکڑتے تیکے پر لگاتے دوسرے ہاتھ سے اس کے بالوں میں ہاتھ چلاے وہ اس کے بے حد قریب آتا اس کے لبوں پر اپنی سرد سانسیں رکھے بولا تھا ۔۔۔۔
د۔دشمن ہو م۔میں تمہاری ا۔۔۔۔
ہم بس اتنا یاد ہے تم بیوی ہو ہماری ۔۔۔
ہمارا حق تم پر ۔۔۔۔
وہ گہرے سانس لیتی بول رہی تھی جب اپنے دل کی بات زبان پر لانے کی بجاے وہ جھوٹ بولتا اس کی سانسوں کو الجھا چکا تھا ۔۔۔۔
رعنا کو آج اس کے عمل میں اپنے لیے نرمی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
جیسے وہ گلاب کو چھو رہا ہو بہت پیار اور نرمی سے۔ ۔
تمہارے نام کا مطلب ہے بے حد خوبصورت ۔۔۔
ہمیں آج یقین ہوا تم واقعی بہت خوبصورت گلاب ہو ۔۔۔
جنگلی بلی ۔۔۔۔
اس کی سانسوں کو چھوڑے وہ اپنے بھیگے ہونٹ اس کے کان پر رکھتے سر گوشی کرتا مسکراتا بولا تھا ۔۔۔۔
یہ بات سنتے رعنا نے شرم کے مارے اس کے مضبوط سینے میں منہ چھپایا تھا ۔۔۔۔
ہمارے ساتھ زندگی گزارنے کا مطلب ہے ہر روز موت کو دعوت دینا ہم نہیں جانتے کب کہاں ہماری موت سامنے کھڑی ہو جاے ابھی بھی وقت ہے دور جانا چاہتی ہو تو چلی ج۔۔۔۔
دور جانا ہوتا تو کبھی تمہارے نکاح میں نہ آتی کبھی یہاں اس وقت تمہاری قربت میں نہ رہتی ۔۔۔۔
میں تمہارے ساتھ ایک ایک لمحہ جینا چاہتی ہو اگر موت بھی آجاے تو وہ بھی قبول ہو گی مجھے ۔۔۔۔
ایول اپنے جذبات کو کنٹرول کیے اس سے دور ہوتا بول رہا تھا جب وہ اپنی بائیں اسکی گردن میں حائل کرتی اس کے ڈمپل کو چومتی بولی تھی ۔۔۔۔
تم میرا بے پناہ عشق ہو ا ۔۔۔
تم ہمارا بے پناہ جنون ایسا جنون جس کی آخری حد موت ہو گی صرف موت ۔۔۔۔
رعنا اپنے دل کی بات زبان پر لاتی بول رہی تھی جب وہ اپنے ہی دل میں کہتا رعنا کے وجود پر حاوی ہوا تھا ۔۔۔۔
ساری رات وہ اس کی شدت میں بھیگی تھی رعنا کو آج احساس ہوا تھا سب کے سامنے رہنے والا یہ پھتڑ دل انسان اس کے سامنے ایک معصوم سا حازم تھا جو اپنی ہر فیلینگز کو اس پر ظاہر کرتا تھا ۔۔۔۔
ایول رعنا کو اپنی زندگی میں پا کر خوش تھا اور دل سے وعدہ کیا تھا وہ کبھی اسے نہیں بتاے گا اسے بھی اس جنگلی بلی سے بے پناہ عشق ہو گیا تھا ۔۔۔
دونوں ہی اپنی زندگی میں خوش تھے دونوں ہی ایک دوسرے کی قربت میں مگن تھے ۔۔۔
جیسے جیسے رات گزار رہی تھی رعنا کو ایول کی شدت میں اضافہ محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
