581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 35)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar


تم یہاں کیا کرنے آ۔۔۔

تم باہر تھے میں بھی آ گی مجھے نیند نہیں آرہی تھی ۔۔۔

پلیس سے باہر آتی دوشانے شال لیے حدید کے پاس آی تھی جب وہ دانت پیستے بول رہا تھا جب آپنی شال کو اتارے اس کو دیتی بولی تھی ۔۔۔

میری خیر ہے ڈیڈ ایسی سزا دیتے ہے تم اپنا خیال رکھو طب ۔۔۔

تم ہو میرے پاس تو مجھے فکر نہیں تم باہر ہو میں بھی باہر رہو گی بس بات ختم ۔۔۔

حدید اسے لیے بنے پنچ پر بیٹھاے بول رہا تھا جب اس کے سینے سے لگتی وہ لاڈ سے بولی تھی ۔۔۔

یار روشنی رات کافی ہو رہی ایسے اچھی ن۔۔۔

اووےےےے ہوےےےے کیا سین ہے تم لوگوں کو روم نہیں ملا گیا جو یہاں رومینس کر رہے ہو ۔۔۔۔

وہ بول رہا تھا جب چار پانچ آوارہ لڑکے وہاں آتے ہوٹ کرتے بولے تھے ۔۔۔

روشانے کے سامنے وہ آپنا بین والا روپ نہیں شو کروانا چاہتا تھا تبھی تحمل سے انہیں اگنور کیا تھا ۔۔۔۔

چلو روشنی ۔۔۔

اسے لیے وہ ساتھ جاتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

ہادی تمہیں انہیں مارنا چاہے تھا یار اتنے بھی بزدل نہ بنو ۔۔۔

ان سب کی مسلسل بکواس اگنور کیے حدید اسے لیے جا رہا تھا جب وہ غصہ ہوتی چیخی تھی ۔۔۔

اچھا کہتا ہو ۔۔

بھای ہمیں معاف کرو جاو یہاں سے ۔۔

حدید ان کی طرف رخ کرتا ہاتھ جوڑے سکون سے بولا تھا ۔۔م

معافی تو ہم نہیں دیتے ۔۔۔

ان میں سے ایک نے حدید کی ٹانگ کو پکڑتے اپنے قدموں میں گراتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

جب نیچے گرے حدید نے طش کے عالم میں انہیں گھورا تھا ۔۔۔۔

ہادی مارو ان کو تم ویسے ہی خاموش ہو ۔۔۔

دور کھڑی روشانے بھی طش سے بولی تھی ۔۔۔

نہیں لڑنا مجھے معاف کر۔۔۔۔

حدید کنٹرول کیے اٹھتا ہوا روشانے کے قریب جاتا بول رہا تھا جب ان میں سے کسی نے اسے شولڈر سے پکڑا تھا ۔۔۔۔

وہ مسلسل دونوں کو تنگ کر رہے تھے روشانے کو غصہ تھا حدید کی بزدلی پر۔۔۔

ارے بھائی لوگ جانتے نہیں ہو میرے شوہر کو منٹوں میں مارے گا ۔۔۔

روشانے واپس ان سب کے پاس آتی سرخ چہرہ لیے بولی تھی۔۔۔

حدید نے غصے سے اپنا سر پکڑا تھا ۔۔۔

پاگل لڑکی مروانے کا ارادہ ہے کیا مجھ معصوم کو ۔۔

حدید جلدی سے اسے بازوں سے پکڑتے ساتھ لے کر جاتا بولا تھا ۔۔۔۔

روکو تو سہی ۔۔۔

ہاں کس سے پنگا لینے والے تھے جنرل صام آفندی کا بیٹا ہے حدید صام آفندی۔۔۔

روشانے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئ ان میں سے کسی کے منہ پر تھپڑ رسید کرتی سکون سے بولی تھی ۔۔۔

تیری ت۔۔۔۔

وہ سب طش سے روشانے کو پکڑتے غرا رہے تھے جب روشانے کے پیچھے کھڑے حدید نے گردن ٹیڑھی کیے اپنی براون آنکھوں سے گھورا تھا۔۔۔

سب ڈرتے وہی رک چکے تھے ۔۔۔

دیکھا ڈیڈ کا کتنا نام ہے یہ ڈر گے چلو چلتے ہے ۔۔۔

اپنے چہرے پر معصومیت لاے وہ مسکراتا ہوا روشنی کو ساتھ لے کر جاتا بولا تھا ۔۔۔۔

س۔سوری بہن غلطی ہو گی معاف کرن۔۔۔۔۔

ہاں ہاں بس دیکھو میرے چاچو بہت دہشت والے ہے ان کا یہ بیٹا بھی ہے لیکن میں ساتھ ہو تبھی چپ ہے یہ ۔۔۔۔

حدید کی گھوریوں سے ڈرتے وہ روشنی سے معافی مانگ رہے تھے جب وہ خوش ہوئ جاتی بولی تھی ۔۔۔

کتنے بزدل ہو تم تھوڑا سا غصہ کو دیکھاتے ایویں ڈر گے دیکھا تھا میرے نام لینے سے وہ کتنا ڈر گے۔۔۔۔

دور جاتی اب روشنی حدید کو بول رہی تھی جو اچانک سینجدہ شکل بناے ساتھ جا رہا تھا ۔۔۔

ہاں دیکھ لیا تھا اچھا تم جاو شال وہی رہ گی ہے ۔۔

پلیس کے گیٹ پر اسے چھوڑے وہ سکون سے واپس جاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

لیکن ہادی اب تو ہم اندر ہی جا رہے تھے اور ت۔۔۔

جاو میری جان میں ابھی آیا وہ شال تمہاری ہے اسے لینے جانا جلدی آندر جاو ۔۔۔

روشنی بول رہی تھی جب واپس آتے وہ اس کا ماتھا چومتا ہوا کہتا چلا گیا تھا ۔۔۔۔

پاگل انسان ہے بلکل مجھے بچا نہیں سکا اور شال کی دیکھو کتنی فکر ہے ۔۔۔۔

روشنی اسے دور جاتا دیکھ بولتی اندر گی تھی ۔۔۔۔

ہاں تو شراب پی لی تم لوگوں نے ۔۔۔

وہ سارے وہی بنچ پر بیٹھے تھے جب وہ وہاں آتا ان سب نے پیچھے کھڑے ہوتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

س۔سوری معاف ک۔۔۔۔

میرے لالہ نے سکھایا ہے جو آپ کی عزت پر نظر رکھے اس کی آنکھیں نوچ لی جاے ۔۔۔۔

اپنی پاکٹ سے منی چاقو نکالے وہ مسکراتا بولا تھا ۔۔۔۔

ن۔نہیں پلیز ہم یہاں سے چل۔۔۔۔

حدید صام آفندی کی عزت ہے وہ تم لوگوں نے نظر رکھی تو اتنی سزا بنتی ہے ۔۔۔۔

ا۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہہ ۔۔

وہ بول رہے تھے جب وہ ان سب کے درمیان اپنی ٹانگ رکھتا ان پر جھکتا جلدی سے چاقو کا وار کیے تینوں کی آنکھیں نکال چکا تھا جب وہ درد کی شدت سے تڑپتے چیخ رہے تھے ۔۔۔۔

بلاوجہ مجھے غصہ کروا کر مجھ معصوم کو تنگ کرتے ہو ۔۔۔۔

ان سب کی بری حالت کرتا اب وہ مسکراتا چہرے پر معصومیت لاتا واپس جاتا بولا تھا ۔۔۔۔

دور کھڑے ونڈو کے پاس صام آفندی نے حیرت سے اپنے بیٹے کا ایسا روپ دیکھا تھا ۔۔۔۔

جو سب کے سامنے بزدل بن کر رہتا تھا ۔۔۔۔

کچھ تو ہے جو مجھ سے چھپایا جا رہا ہے ۔۔۔۔

صام مسلسل گہرئ سوچتے فون نکالے کان کو لگاتے بولے تھے ۔۔۔

میرے بچے مجھے پاگل بنا رہے واہ ہ ہ مطلب ڈیول کو پاگل بنایا شاہد یہ بھول گے ڈیول ان کا باپ ہے ۔۔۔۔

فون پر کچھ سنتے اب وہ نظریہ مسکراہٹ لاے بولے تھے ۔۔۔

جبکہ حدید اپنا کام کرتا سکون سے پلیس انٹر ہو رہا تھا اس کے انداز میں اسے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔۔۔

تم ناراض نہیں ہو مجھ سے ۔۔۔

اگلی صبح سوہا کو جم روم میں آتے دیکھ فارس اس کا سوجھا ناراض سا چہرہ دیکھ بولا تھا ۔۔۔

سوہا کو ہوش آگیا تھا لیکن وہ فارس کو بلا نہیں رہی تھی تبھی وہ اسے اپنے سامنے پا کر پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

ناراض کیوں ہونا مجھے کتنی خوشی ہو رہی تمہیں قدموں پر کھڑا دیکھ فادیییییی۔۔۔

خوشی سے چہکتے وہ بچوں جیسا منہ بناے اس کے سینے سے لگتی چیخی تھی

۔۔۔۔

واقعی خو۔۔۔

یار فادی تم نہیں جانتے تمہیں ایسے دیکھنے کے لیے میں نے کتنی دعائیں کی تھی جو آج قابو ہوئ ۔۔۔

فارس کے پیسنے سے بھیگے چہرے کو اپنے ہاتھوں سے چھوتی وہ بولی تھی ۔۔۔

یار میری غلطی نہیں یہ میرے جو دشمن سالے ہے انہیں کی وجہ سے یہ سب کرنا پ۔۔۔۔

اچھا بابا تمہارے بھاہیئوں کو کچھ نہیں کہتا اب خوش ۔۔۔

فارس اسے گود میں اٹھاے اب صوفے پر بیٹھتا بول رہا تھا جب اس کی گرین آنکھوں میں غصہ دیکھ کر وہ بات بدلتا بولا تھا ۔۔۔۔

جرمنی تھا جب ایک میشن کو پورا کرتے میری ٹانگیں واقعی مفلوج ہو گی تھی ۔۔۔

یہاں پاکستان آیا تو رحمان کو پکڑنے ہی لیکن تب ہادی اور ایول نے ساتھ دیا میرا ڈاکٹر سے آہستہ آہستہ علاج کروایا کچھ ایول کی سخت نگرانی تھی مجھ پر میں ایک ماہ کے اندر ٹھیک ہو گیا تھا مکمل صحتیاب ۔۔۔

ڈاکٹروں کا کہنا تھا آگر میری ٹانگوں میں طاقت نہ ہوئ تو کاٹنی پڑے گی ۔۔۔۔

وہی تمہارا رونا سٹارٹ تھا شادی مجھ سے کرو گی ۔۔۔۔

میں نہیں کرنا چاہتا تھا شادی کہ کل کو تم ہی مجھے طعنے دو ۔۔۔۔

لیکن تمہارے وہ باڈی بلڈر بھاہیوں نے دھمکیاں دی تھی میں ان کی بہن سے شادی کرو اگر میری وجہ سے ان کی بہن کے آنکھوں میں آنسو آئے تو وہ خودی مجھے معذور کر دے گے ۔۔۔۔

دن رات میں روتا تھا تم میرا بے پناہ عشق ہو کیسے تمہیں چھوڑ دیتا تبھی فصیلہ کیا شادی کر لو شاہد کچھ دن بعد تمہارا دل مجھ سے بھر جاے اور خودی چھوڑ دو ۔۔۔۔

ایک طرف تمہاری ہر وقت کی کیئر اور دوسری طرف تمہارے بھاہیوں کی توجہ اور سختی سے میں بلکل ٹھیک ہو چکا تھا ۔۔۔

اب مسئلہ یہ تھا رحمان سے تمہاری حفاظت کے لیے مجھے یہ ڈرامہ جاری رکھنا پڑا تب ہی وہ ہمارے قبضے میں آتا لیکن۔۔۔

لیکن کیا ۔۔۔

سوہا اس کے گال سہلاتی ساری بات سکون سے سن رہی تھی جب وہ بولتا ہوا روکا تھا ۔۔۔۔

“””کچھ دن پہلے ۔۔۔

ایول اس میں خطرہ ہے ا۔۔۔۔

کبھی کبھی کسی کو پکڑنے کے لیے اپنی کوئ عزیز چیز سامنے رکھی جاتی ہے تاکہ وہ شخص پکڑ لیا جاے ۔۔۔

تم فکر مت کرو ہم اپنی بیٹی کا پورا خیال رکھے گے ۔۔۔

ایک پل بھی اپنی نظروں سے اسے اوجھل نہیں کرے گے تم بس وہی کرو جو ہم نے کہا ہے کیونکہ اس انسان نے ہماری اکلوتی دشمن پر نظر رکھی تھی ۔۔۔

ایول میں اتنی طاقت ہے وہ اس انسان کی آنکھیں نوچ سکے ۔۔۔

بہت ہو گیا چوہے بلی والا کھیل اب ہم جنگ لڑے گے ۔۔۔۔

شکار کو باہر نکالنے کے لیے شیر کو منظر سے ہٹنا پڑتا ہے تاکہ وہ شکار باہر آے۔۔۔۔

“””حال ۔۔۔

فارس اسے کلب کی ساری بات رعنا پر اس انسان کا حملہ اور ایول کا پلان سب بتا چکا تھا ۔۔۔۔

پ۔پھر۔۔۔

سوہا منہ کھولے سب سن رہی تھی تبھی ہکلاتی بولی تھی ۔۔۔۔

پلان کے مطابق میں ایول کے ہاؤس ایک سکرٹ روم میں چلا گیا تھا ایول خود کو امریکہ جانے کا شو کرواتا دو رات وہ یہ والے درخت پر بیٹھا تمہاری حفاظت کرتا رہا ۔۔۔

اور ہادی وہ رحمان کے گھر کے پاس پہرہ دیتا رہا درخت پر بیٹھ کر ۔۔۔۔

ہم چاہتے تھے وہ تمہیں اکیلا دیکھ کر باہر اور ایسا ہی ہوا ۔۔۔۔

میرے لالہ یہاں تھے ہاےےےے مجھے پتہ ہوتا میں انہیں اندر بلا لیتی ۔۔۔۔

سوہا اب ساری بات سنتی اٹھتی ہوئ ونڈو کے پاس کھڑی ہوتی فکرمندی سے بولی تھی ۔۔۔۔

جہاں باہر بڑا سا درخت اپنی شان میں کھڑا تھا ۔۔۔

ہاں اسے زیادہ فکر تھی تمہیں کچھ ہو نہ جاے تبھی وہ یہی رہ تھا تمہارے لیے اور ہادی وہاں ۔۔۔۔

ہاےے فادی میرے بھائیوں کو کتنی فکر تھی میری مجھے فخر ہے اپنے باڈی بلڈر بھاہیوں پر ۔۔۔۔

سوہا خوشی سے جھومتی ہوئی فارس کے گلے لگی بولی تھی ۔۔۔۔

ہاں ان کے لیے بیٹی ہو تم بس اب دعا کرو وہ واپس ہم سب کے ساتھ آجاے ۔۔۔۔

فارس اسے کمر سے پکڑتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

لالہ آجاے گے دیکھنا ۔۔۔

سوہا اب مسکراتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔

ہاں ایک تو تمہارے بھاہیوں نے مجھے اچھے سے رومینس بھی نہیں دیا ڈرامہ جو کرتے تھے ۔۔۔

سوہا کو کمر سے پکڑتے اپنے چہرے کے پاس لاتے وہ شوخ ہوتا اس کے لبوں پر جھکتا بولا تھا ۔۔۔

اس کی بات سنتے سوہا کا چہرہ لال ہوا تھا ۔۔۔۔

اچھا بس ب۔۔۔۔

اس سے دور ہوتی وہ بول رہی تھی جب اسے اپنے قابو کرتا فارس اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔۔

فارس کا شدت بھرا لمس پاتے سوہا شرمای تھی ۔۔۔۔

امن باہر آؤ یار کتنا پیارا موسم ہے ۔۔۔۔

وانیہ امن کے روم میں آتی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔۔

مہر اور وانیہ کے ساتھ امن بھی مری آگی تھی اس کا موڈ نہیں تھا لیکن وانیہ کی ضد پر وہ آ چکی تھی ۔۔۔۔

وانیہ نے مہر کو کچھ نہیں کہا تھا اس کا مانا یہ تھا جو ہوگیا اسے بھول کر آگے کا سفر گزارنا چاہے ۔۔۔

نہیں بھابھی میں نہیں آتا تم جاو باہر میری لالہ دیکھ رہی ہو گی ۔۔۔۔

امن وانیہ کو اتنا کچھ پہنے بھولو بنے دیکھ اس کے لال گال چھوتی بولی تھی ۔۔۔۔

میں جانتی ہو آغا کو یاد کر رہی ہو لیکن امن۔ تم آغا کو تھوڑا نکھرا دیکھاو گی تب ہی انہیں احساس ہو گا تمہارا ۔۔۔

وانیہ امن کا کرب بھرا چہرہ دیکھ بولی تھی ۔۔۔

میں نہیں رہ سکتی ان کے بنا وانی ۔۔۔

احمد نے بار بار اسے فون کر کے معافی مانگی تھی لیکن وانی کی سنتے وہ ہر بار دل پر پھتڑ رکھتی اگنور کر چکی تھی ۔۔۔

تبھی وہ اب پھوٹ پھوٹ کر روتی بولی تھی ۔۔۔

دیکھا میرے لالہ یہاں آتے اب منہ سیدھا کرو اور باہر آؤ برف انجواے کرتے ہے ۔۔۔۔

اپنی لال ہوتی ناک سے وانیہ اس کا ذہین بدلتی ہوئی بولی تھی جب وہ بھی اس کا دل رکھتے ساتھ باہر چلی گئ تھی ۔۔۔۔

اہممم اہمممم لالہ خیر تو ہے ۔۔

حدید ایول سے ملنے وہاں آیا تھا جب جم روم میں اسے ورزش کرتے دیکھ خود بھی اس کے ساتھ کرنے لگ گیا تھا جب برہنہ سینے گردن اور کمر پر ناخنوں کے سرخ زخم دیکھ وہ شوخ ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔

نہیں تمہاری زبان کی خیر نہیں ہے اگر چاہتے ہو سلامت رہے تو چپ رہو ۔۔۔

ایول اب پش اپس کرتا سردپن سے بولا تھا ۔۔۔۔

کچھ تو ہوا ہے کچھ ہو گیا ہے ۔۔۔۔

ناجانے کیسے پیار ہو گیا ہے ۔۔۔”””

ایول کی کمر پر بیٹھتے وہ جھولے لیتا سریلی آواز میں اپنے حساب سے گانا گاتا اسے تنگ کر رہا تھا ۔۔۔۔

بچپن میں بھی حدید اس کی کمر پر بیٹھتے جھولے لیتا تھا ۔۔ جیسے اب لے رہا تھا ۔۔۔۔

ہو گی بکواس پر گیا سکون دل کو اب منہ بند رکھنا سمجھے ۔۔۔۔

ایول ویسے ہی آپ انیڈ ڈوان ہوتا اپنی گردن موڑتے اوپر بیٹھے حدید کو دیکھ سردپن سے بولا تھا ۔۔۔

کہاں میری بکواس تو شروع ہونی ہے چلے میرے پیارے سے لالہ بتاے اس مس فائر سے عشق ہو گیا آپ ک۔۔۔

ایسی کوئ بات نہیں ہے تم اپنی زبان کو سکون دیا کرو۔ ۔۔

وہ بول رہا تھا جب ایول سکون سے کھڑا ہوتا اب بولا تھا جبکہ حدید قالین پر گرا اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔

اچھا اگر ایسی بات ہے تو اس کی ڈار سے وہ زہریلی چیپ کیوں نکالیی جو اس کی رگ رگ میں زہر گھول رہی تھی ۔۔۔۔

رحمان جیسے اور زوبی کے بندوں سے اسے کیوں بچایا مرنے دیتے تم ۔۔۔۔

حدید بھی اٹھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔

جب زینب اور وقار کا نکاح ہوا تھا تب ماما نے سمجھایا تھا ہمیں کہ نکاح میں ایسی کشش ہوتی ہے جس سے دو اجنبی بھی محبت کرنے ل۔۔۔۔

بس کرے لالہ بول دے کہ عشق ہے وہ آپ کا جھوٹ کس کے سامنے بول رہے ہے ۔۔۔۔

ایول صوفے پر بیٹھتا بول رہا تھا جب سامنے کھڑے ہوتا بولا تھا ۔۔۔

عشق تو چھوٹا لفظ ہے وہ ہمارے جنون کی آخری حد ہ۔۔۔۔

ایول بے ساختہ اپنی زبان سے بول چکا تھا اپنے دل کی بات ۔۔۔۔

ہاےےےے مطلب میں جلد ہی چاچو بننے والا ہو لالہ جلدی سے یہ خوشخبری دینا ۔۔۔۔

کیا بکواس ہے ہر وقت فضول بولتے ہو ۔۔۔۔

حدید ایول کا سرخ چہرہ دیکھ چہکتا بول رہا تھا جب وہ اپنی جلدبازی مٹانے کے لیے بولا تھا ۔۔۔۔

و۔ویسے تم نے ڈیڈ کو بتایا کہ تم کون ہو ۔۔۔۔

ایول اچانک اپنے جم روم میں بلیک ہڈی بلیک لونگ شوز گلوز اپنے خوبصورت چہرے پر سنجیدگی گرین آنکھوں پر گلاسز لگاے بھاری قدم آٹھاے انٹر ہوتے صام آفندی کو دیکھ جلدی سے حدید کی طرف دیکھ بولا تھا ۔۔۔۔

ایول کو شوک لگا تھا صام کو سامنے دیکھ جو حدید کے پیچھے کھڑے ہو چکے تھے۔۔۔۔

کیا بتاو ڈیڈ کو وہ تو مجھے بزدل نکما جانے پتہ نہیں کیا کیا بولتے ہے ۔۔۔

وہ منہ بناے صام کی نقل اتارے بولا تھا ۔۔۔۔

تمہیں ڈر نہیں لگتا ڈیول س۔۔۔۔

ایول اپنی شیو کجھاے سکون سے بول رہا تھا جب حدید اپنی گردن اکڑتے ہوے اٹیٹیوڈ سے بولا تھا ۔۔۔۔

میں نہیں کسی سے ڈرتا آخر کو میںںںںںںںںںںںںںں۔۔۔

اہہہہہہہ اییییییییی ۔۔۔

آخر کار تم سی آی ڈی آفیسرز ہو حدید صام آفندی عرف مسٹر بینننننننن ۔۔۔

حدید بول رہا تھا جب صام نے زور سے لات مارتے ایول پر گرایا تھا جب وہ چیختا ہوا بولا رہا تھا جب صام نے دانت پیستے ہوئے بات مکمل کی تھی ۔۔۔۔

و۔وہ ڈ۔ڈیول ڈیڈ ۔۔۔

ہاےےےے ڈیڈ مجھ معصوم نے کچھ نہیں کیا یہ سارا قصور اس ایول کا ہے میں تو ہوں ہی معصوم ۔۔۔

حدید جلدی سے ایول کی طنزیہ مسکراہٹ دیکھ وہ صام کے سینے سے لگے معصوم سی شکل بناے بولا تھا ۔۔۔۔

ہاں تم دونوں معصوم ہو اتنے زیادہ کہ اپنے ہی باپ کو پاگل بنانے کی کوشش کر رہے تھے کیا بھول گے تھے ڈیول ہو میں ۔۔۔۔

صام حدید اور ایول کو گھورتے طش سے غراے تھے ۔۔۔۔

ان کی غراہٹ سالوں بعد سنتے ایول جٹکھے سے اٹھ کر کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔

س۔سوری ڈیول ۔۔۔۔

حدید سے پہلے ایول اپنے ہاتھ پیٹ پر باندھتے اچھے بچوں کی طرح بولا تھا ۔۔۔

کیا سوری ہاں کیا اپنے باپ کو گلے لگ کر نہیں ملو گے ترس گیا ہو تمہیں گلے لگانے کے لیے ۔۔۔۔

اچانک وہ ایول کو دیکھتے اپنا غصہ بھلاے اپنی بائیں پھلاے بولے تھے ۔۔۔۔

ک۔کیا واقعی ہمیں گلے لگاے گے مطلب ہم تو قاتل ہے ایک برے انسان ہے ہم سے تو ہمارا سایہ بھی بھاگتا ہے اتنے برے ہم ۔۔۔۔

ایول ویسے ہی سکون سے کھڑے بولا تھا ۔۔۔۔

نہیں تم برے نہیں معصوم بچے ہو میرے اس دنیا کے بھیڑیوں نے تمہیں بچے سے حیوان بنا دیا ۔۔۔۔

لیکن میں جانتا ہو اندر سے تمہارا دل بچوں جیسا ہے ۔۔۔

صام خودی اسے ہگ کرتے اسںکا چہرہ چومتے پیار سے بولے تھے ۔۔۔۔

صام کے قد سے زیادہ بڑا حازم کا وجود تھا ۔۔۔۔

وہ خود اسے سینے سے لگانے کی بجاے خود اس کے سینے سے لگے تھے ۔۔۔۔۔

ہ۔ہم نے بہت یاد کیا آپ کو ڈیول ڈیڈ ۔۔۔۔

اتنے سالوں بعد باپ کی شفقیت اور لمس پاتے ایول اپنے خول سے باہر آتا ننھا سا حازم بنا اپنی شکایت لگا رہا تھا ۔۔۔۔

کرب و ضبط سے اس کی لال گرین آنکھیں نمی سے بھری ہوئ تھی ۔۔۔۔

میرا ببر شیر تو بڑا ہو گیا کافی ۔۔۔۔

صام اس کا دیوانہ وار چہرہ ہاتھوں میں لیے چومتے آنسو بہاے بولے تھے ۔۔۔۔۔

ب۔بیٹا گھر آ جاو اب تو تمہارا باپ بھی کمزور ہو گیا مجھ میں ات۔۔۔۔

ڈیڈ ڈیول کبھی بھی کمزور نہیں ہو سکتا جب تک اس کے دو کندھے ایول اور بین زندہ ہے ۔۔۔۔

تب تک کوئ بھی طاقت ڈیول کو کمزور نہیں کر سکتی۔ ۔۔

صام آبدیدہ ہوتے بول رہے تھے جب حدید بھی انہیں ہگ کرتا مضبوط لہجے سے بولا تھا ۔۔۔۔

ڈ۔ڈیڈ ہمارا ہادی بڑا ہو گیا تبھی سمجھداری کی بات کرتا کبھی کبھی ۔۔۔۔

ایول حدید کی آنکھوں سے بہتے آنسو صاف کرتا خود بھی بھاری آواز سے بولا تھا ۔۔۔۔

ہاں آخر سی آی ڈی آفسرر ہے بڑا تو ہو گا ۔۔۔۔

صام حدید کا ماتھا چومتے بولے تھے ۔۔۔۔

تینوں باپ بیٹا خوش تھے آخر اتنے سالوں بعد وہ مل ہی چکے تھے ۔۔۔

اس بات سے انجان کہ تینوں میں ایک کی جان کو اب خطرہ تھا اب دیکھنا یہ تھا کون کس کو کیسے بچاتا ہے ۔۔۔۔