581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 34) Part - 2

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar


“”حدید 🖤روشانے

“”ایول🔥مولانی اسپشیل اپپی 🥳🥳

روشنی کیسی ہے اب ۔۔۔

روم سے باہر آتے ڈاکٹر کو دیکھ حدید پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔

صبح وہ جب ناشتہ کرنے کے بعد روم میں آیا تھا جب بیڈ پر روشنی کو درد سے تڑپتے دیکھ ڈاکٹر کو بلایا تھا ۔۔۔

سب ہی پریشان ہو چکے تھے روشنی کی حالت دیکھ کر ۔۔۔

تبھی وہ بولا تھا ۔۔۔

انھوں نے کوئ میڈیسن تھی شاہد بےبی کو خت۔۔۔

آپ یہ بتاے دونوں ٹھیک ہے ۔۔۔

ڈاکٹر اسے سائید پر لے کر جاتی بول رہی تھی جب حدید دبے دبے غصے سے چیخا تھا ۔۔۔

جی سب ٹھیک ہے لیکن انہیں زیادہ ریسٹ کی ضرورت ہے ا۔۔

ماما روم میں کچھ بھی ہو آپ سب نے اندر نہیں آنا ۔۔۔

حدید بات آدھی سنتا غصے سے روم میں جاتا باقی سب کو روکتا ہوا دروازہ بند کر چکا تھا ۔۔۔

ہ۔ہادئ و۔ ۔

بکواس بند کرو اپنی تم ۔۔۔۔

روم میں آتے حدید کو دیکھ روشانے جلدی سے اٹھتی بولنے کی کوشش کر رہی تھی جب وہ غرایا تھا ۔۔۔۔

باہر کھڑے سب نے پہلی دفعہ حدید کی ایسی غراہٹ سنی تھی جبکہ روشانے کا تو سانس ہی بند ہو گیا تھا اسے تو یہ اپنے والا ہادی لگا ہی نہیں تھا ۔۔۔

بولو ہمت بھی کیسے ہوئ خود کو اور بےبی کو نقصان پہنچانے کی روشنییییی۔۔

حدید روشنی کے قریب جاتا اس کی تھوڑی کو دبوچتے غرایا تھا ۔۔

پہلی دفعہ اپنے چہرے پر اس کی سخت گرفت محسوس کیے اس کی آنکھیں پانی سے بھری تھی ۔۔۔

ن۔نہیں چاہے تو نہیں چاہے یہ منحوس بچہ گندہ خو۔۔۔۔۔

چٹاخخخخخ۔۔۔

اگر اب تم نے میرے بےبی کے خلاف کوئ بات کی تو زبان کاٹ کر ہاتھ پر رکھ دو گا ۔۔۔۔

روشنی طش سے لال ہوتے چہرے سے بول رہی تھی جب حدید نے اسے مجبور ہوتے تھپڑ مارتے غرایا تھا۔۔۔

روشانے کو اس کی آنکھوں میں صاف کرب نظر آرہا تھا ۔۔۔۔

پ۔پھر م۔مجھے طلاق دے دو کیونکہ میں ایسے تمہارے پاس نہیں ر۔۔۔۔

دو گا تمہیں طلاق لیکن تب جب میرا بے بی اس دنیا میں نہیں آ جاتا خبردار اگر تم نے پہلے کچھ کیا کچھ ماہ ہے مجھے برداشت کر لو پھر بعد میں لینا طلاق لیکن پہلے مجھے اپنا بچہ چاہے سمجھی ۔۔۔۔

اب اٹھو یہاں سے یہ تماشے بند کرو تمہیں عزت دی پیار دیا تم میرے سر ہی چڑھ گی ہو زرا لحاظ نہیں ہے تمہیں کہ شوہر سے کیسے بات کی جاتی ہے ۔۔۔۔

اپنے غصے کا کنٹرول کیے وہ بیڈ سے اٹھتا چکر لگاتے ناک پھلاے اسے اگنور کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

روشنی اس کی بات سنتی شرمندہ ہوئ تھی ۔۔۔۔

ڈاکٹر نے کہا تھا مجھ پر کسی نے غصہ بھی نہیں کرنا ہادی ۔۔۔۔

روشنی رونی شکل بناے جلدی سے آٹھتی اسے بیک ہگ کیے اس کی کمر پر اپنے لب رکھتی بولی تھی ۔۔۔۔

روشنی کی بات سنتے حدید کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا تھا ۔۔۔

نہیں کرتا غصہ اب خوش چلو نیچے آ جا۔۔۔۔

ہادی مجھے تیار تو کرو جیسے روزانہ کرتے ہو ۔۔۔

اسے خود سے دور کرتے وہ بولتا روم سے باہر جانے والا تھا جب وہ اس کی شرٹ پکڑے لاڈ سے بولی تھی ۔۔۔

آؤ میرے ساتھ ۔۔۔

اس کی طرف موڑتے وہ مسکراتا بولا تھا جب روشنی بچوں جیسے جمپ کرتی حدید کی گود میں آئ تھی ۔۔۔۔

بھاگ نہیں جا رہا تھا جو ایسے آئ ہو اگر گر جاتی ۔۔۔

واش روم کی طرف جاتے وہ اس کے ماتھا چومتے بولا تھا ۔۔۔

ہممممم۔۔۔

روشنی مسکراتی اس کی گردن میں منہ چھپاے بولی تھی ۔۔۔۔

پاگل ۔۔۔

حدید اس کی حرکت دیکھ بولتا واش روم انٹر ہوا تھا ۔۔۔۔

میں زندہ ہو ہاےےےےے۔۔۔

رعنا نے نیند میں کروٹ لی تھی جب دھڑام کرتی وہ صوفے سے قالین پر گری تھی تبھی جاگتی خوشی سے سوچا تھا ۔۔۔

وہ ویسے ہی قالین پر گری ہوئ تھی ۔۔۔۔

ایول اسے روم میں دیکھائ نہیں دیا تھا ۔۔۔۔

ہاےےے روحا ماما کی بات مان کر تو میں وہ سب کیا تھا لیکن یہ کھڑوس ہے واقعی برفانی ریچھ۔۔۔

رات کا سوچتے وہ وہی دل میں سوچ رہی تھی چہرہ اس کا لال ہو چکا تھا ۔۔

ناشتہ بنا د۔۔۔۔

اس سے پہلے وہ اٹھتی نیچے سے جب اسے اپنے سامنے سے آتی دو سفید ٹانگیں نظر آئ تھی جیسے جیسے وہ اپنی نظر اوپر کرتی دیکھ رہی تھی وہی اس جان لیوا انسان کو پرسکون کھڑے دیکھ منہ کھول چکی تھی ۔۔۔۔

صاف شفاف سفید مضبوط خوبصورت جسم پر وہ اپنی کمر پر بلیک ٹاول لگاے برہنہ سینہ لیے وہ اسے نیچے گرا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

کیا پہلی دفعہ دیکھا ہے ۔۔۔۔

ایول کو ایسی حالت میں دیکھ کر رعنا کا منہ ویسے ہی کھولا تھا جب وہ تھوڑا سا اس کی طرف جھکتا ہوا اس کی شرٹ کا کالر پکڑتے وہ اپنے سامنے کھڑا کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

جبکہ حیرت میں کھڑی رعنا نے ہاں اور نہیں میں ایک ساتھ سر ہلایا تھا ۔۔۔۔

رات کو تمہارے اندر ٹھرک پن کی روح کہاں سے آتی ہے

جو صبح ہوتے ہی گم ہو جاتی ہے ۔۔

ایول اس کی سرخ گردن اور شولڈر پر اپنی شدت کے نشان دیکھتا اس پر انگلی پھیرتے بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

براون بھیگے بالوں سے ٹپ ٹپ کرتا پانی اس کے سینے سے لگی رعنا کے چہرے پر برس رہا تھا ۔۔۔۔

ایول کے برہنہ سینے پر لگے پانی سے اس کی شرٹ گیلی ہو چکی تھی ۔۔۔

رعنا کو ہوش ہی کہاں تھا وہ اس کی بات پر توجہ دے اس کی توجہ تو ایول کا خوبصورت چہرہ تھا جس پر آج اسے ہلکی ہلکی مسکراہٹ دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

کوما میں چلی گی ہو ۔۔۔

اسے ایسے حواس باختہ دیکھ وہ پھر بولا تھا ۔۔۔

اووو ہم بھول گے تمہاری آواز ہی نہیں ہے ویسے ہمیں سکون بہت پسند ہے تمہاری زبان سکون دے رہی ہ۔۔۔۔

وہ طنزیہ مسکراہٹ لاے رعنا کو اپنے بے حد قریب کرتا اس کے بھیگے چہرے کو دیکھتا بول رہا تھا جب اسے اس کے لال لبوں کے پاس چھوٹا سا تل چمکتا ہوا دیکھای دیا تھا ۔۔۔۔

یہ اتنا خوبصورت کیوں ہے افففف جب بھی قریب آتا میرے دل کو بند کر دیتا ہ۔۔۔

یہ تو اچھی بات ہے ہمارے قریب آنے سے تمہارا دل بند ہوتا ہے تو ہم یہ کام روزانہ کرے گے تاکہ ایک آدھ منی ہارٹ اٹیک تو آ ہی جاے تمہیں ۔۔۔۔

ایول کے لبوں اور گال کے ڈمپل دیکھ وہ دل میں سوچ رہی تھی جب ایول دونوں کے درمیان فاصلے کو بھی ختم کرتا اس کے تل پر اپنے لب رکھتے بولا تھا ۔۔۔۔

رعنا کے جسم پر سنسناہٹ ہوئ تھی اس کے لبوں کو اپنے تل پر محسوس کیے ۔۔۔۔

اپنے دل کی بات ایول کی زبان سے سنتے اس نے ڈری سمہی نظروں سے اسے گھورا تھا ۔۔۔

جو مسلسل اس کے گال اور تل کو چھونے میں بزی تھا ۔۔۔۔

۔۔نہ۔۔۔

بولنے کی کوشش کرتی وہ دور ہوئ تھی جب ایول نے اس کی شرٹ کے بٹن سارے ہی کھولے تھی ۔۔۔

یہ جو تم ہماری ماما سے کلاس لیتی ہو روزانہ اس کا اثر بھی دیکھایا کرو شکایت تو ایسی لگاتی ہو کہ آپ کا بیٹا رومانٹک نہیں بلا بلا بلا ۔۔۔

روم نے جلدی سے اپنا رخ چینج کیا تھا جب اسے دوبارہ اپنی گرفت میں لیے اس کی کمر اپنے سینے سے لگاے وہ جھکتا اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

اس کی بات سنتے شرمندگی سے رعنا نے زور سے آنکھیں بند کی تھی واقعی کچھ دن پہلے وہ روحا سے شکایت لگا رہی تھی جب اس کی آواز تھی ۔۔۔

وہ سوچ رہی تھی کیسے ایول کو ہر بات کا پتہ چل رہا تھا وہ تو اب بول بھی نہیں رہی تھی ۔۔۔

اپنے دماغ پر کم زور ڈالو ہماری سوچ وہاں شروع ہوتی جب تمہاری ختم ہوتی ہے ۔۔۔

ویسے یہ شرٹ پیاری ہے ۔۔۔

اس کی کان کی لو کو کاٹتے وہ طنزیہ مسکراتے بولا تھا ۔۔۔۔

رعنا نے غور سے خود کو دیکھا تھا جہاں اس کی ساری شرٹ اتارے کلاہیوں میں اٹکی ہوئی تھی ایول کا طنز فیل کیے وہ شرم سے پانی پانی ہوئ تھی ۔۔۔

وہ تو شکر تھا روم کی لائٹ اتنی تیز نہیں تھی ورنہ وہ اتنی روشنی میں اس کے سامنے ایسی حالت میں کھڑے ہوتے ڈوب جاتی پانی میں۔۔۔۔

ہم کھڑوس ہے اٹیٹیوڈ والے ہے لیکن بے شرم بھی کافی ہے یہ ہماری ماما کو کم تنگ کیا کرو فون کر کے ورنہ جس دن اپنی بے شرمی پر اتر آئے تو سر سے پاؤں تک لال ہو گی تم تبھی کہتے ہے خود دور ہم بڑے خطرناک ہے ضائع ہو جاؤ گی ہمارے ہاتھوں سے مولانی عرف جنگلی بلی ۔۔۔۔

تھر تھر کانپتی رعنا کو دیکھ وہ مسکراتا اس کی گردن میں ہاتھ ڈالے چہرہ اپنی طرف کرتا وہ اس کے لبوں پر اپنا شدت بھرا لمس چھوڑتے بہکے ہوے بولا تھا ۔۔۔۔

اس کی بات کا مطلب سمجھتے رعنا کے کانوں سے دھواں نکلا تھا اس سے پہلے ایول کی اور بے باک باتیں سنتی وہ وہی بے ہوش ہوتی جلدی سے اس کی باہوں سے نکلتی وہ باہر کو بھاگی تھی ۔۔۔

ہاہاہہاہہاہاہاہا۔۔۔۔

جب ہمت نہیں ہوتی لڑنے کی ہمیں چھڑا بھی مت کرو جنگلی بلی ۔۔۔

بنا دیکھے وہ جان بچاتی جیسے ہی باہر جانے والی تھی دروازے کی بجاے وہ دیوار سے لگتی سر پکڑے نیچے گری تھی ۔۔۔

جب ایول قہقہ لگاتا ہوا بیڈ پر پڑی شرٹ اٹھاے اس کے قریب نیچے بیٹھتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

جاو ناشتہ بناو اچھا سا ہمارا موڈ اچھا ہے ۔۔۔

آنسو بہاتی وہ آنکھیں بند کیے بس ایول کے ہاتھوں کا لمس اپنے جسم پر محسوس کر رہی تھی جو اسے شرٹ پہناے بٹن بند کرتا بولا تھا ۔۔۔

دھیان سے جانا ایسا نہ ہو دیوار ہی توڑنی پڑے ہمیں ۔۔۔

اسے کھڑا کیے وہ دوبارہ اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔

جب سرخ چہرے کے ساتھ لال ماتھے پر نشان لیے گھورتے ہوے باہر گی تھی اب ۔۔۔۔

ایول کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا تھا ۔۔۔

جو اسے بنا دیکھے بھاگی جا رہی تھی ۔۔

ہووووے ہوےےےے آج تو بڑے بڑے مہمان آے ہے یہاں ۔۔۔

حدید ہال میں آتا زینب کے ساتھ بیٹھے وقار کو دیکھ ہوئٹنگ کرتا بولا تھا ۔۔۔

تمہیں ہی ہوش آج آیا ہے ورنہ میں تو دو دن سے یہاں ہو ۔۔۔

وقار اس سے ملتا سادگی سے بولا تھا ۔۔۔

میں بہت حیران ہو یہ اکڑو خان کب سے اتنا نرم مزاج ہو گیا ۔۔۔

زینب کو تنگ کرتے حدید پھر بولا تھا ۔۔۔

جب سے تو نے باپ بنے کی گڈ نیوز دی میں بھی سوچا رہا ک۔۔۔۔

ہادی لالہ ۔۔۔

وقار زینب کا لال چہرہ دیکھ بول رہا تھا جب وہ گھبراتی ہوی جلدی سے چیخی تھی ۔۔۔

کیا ہوا تمہیں ۔۔۔۔

حدید اس کی طرف دیکھ اب بولا تھا ۔۔۔۔

و۔وہ میں کہہ رہی تھی وہ سامنے والے انکل نیاز بانٹ رہے ہے تو کیا آپ ہمیں لا دے گے۔۔۔۔

زینب جلدی سے بہانہ بناتے بولی تھی ۔۔۔

اپنے شوہر کو کہو یار ا۔۔۔۔

روشنی آپو کا دل تھا وہ نیاز کھانے کا وہ بریانی بانٹ رہے ہے ۔۔۔۔

وہ بول رہا تھا جب زینب جلدی سے لالچ دیتی بولی تھی ۔۔۔

چلو میں لے کر آتا ہو ۔۔۔

اس کا نام سنتے وہ جلدی سے باہر جاتا بولا تھا ۔۔۔۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا یار تم جانتی ہو وہاں صام انکل بھی ہو گے انہیں غصہ آیے گا پتہ تو ہے اس کی حرکتوں کا ۔۔۔۔

وقار قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

جب وہ بھی مسکراہی تھی ۔۔۔

نہیں ہادی لالہ میں یہ بریانی نہیں دو گی ۔۔۔۔

حدید جیسے ہی سرمد انکل کے گھر آیا تھا جہاں کافی سارے غریب لوگ نیاز لینے میں بزی تھے وہی سرمد انکل صام کے ساتھ ایک سائیڈ بیٹھے باتیں کر رہے تھے ۔۔۔۔۔

سرمد کی بیٹی حدید کو دیکھ غصے سے بولی تھی ۔۔۔۔

کیونکہ لاسٹ بار وہ بھی ان کے گھر نیاز لینے گی تھی جب حدید نے اسے نہیں دی تھی کیونکہ وہ آپس میں دشمن تھے کشف سرمد ہمشیہ صام کو حدید کے خلاف کرتی تھی جب وہ غصے سے حدید کو ڈانٹتے تھے ۔۔۔

تبھی اب بھی وہ بولی تھی ۔۔۔۔

بروان بالوں کی پونی بناے جو شولڈر پر آرہی تھی سفید گردن میں لاتعداد چینز کلاہیوں میں بریسلٹ بیلو جنیز پر کریم کلر کا کرتا پہنے حدید صام آفندی ایک بریانی کے لیے اس لڑکی سے لڑ رہا تھا ۔۔۔

سرمد سے بات کرتے صام نے یہ منظر ایک دفعہ دیکھا تھا لیکن جلد ہی اپنی گلاسز گرین آنکھوں پر سیٹ کرتے یقین دہانی کی تھی یہ انہی کا نالائق بیٹا تھا ۔۔۔۔

اچھا میری بہن تم جو کہو گی وہی کرو گا پہلے مجھے یہ دے ۔۔۔۔

حدید اس کے ہاتھوں سے پلیٹ لیتا لالچ دیتا بولا تھا ۔۔۔

نہیں دینی تو بس نہیں دینی اس دن بھی آپ نے مجھ سے اپنا ہوم ورک کروایا تھا اسکریم بھی نہیں کھلانے گے آپ ۔۔۔۔

وہ روٹھی سی اپنی پرانی شکایت لگا رہی تھی ۔۔۔۔

اسکریم کم ہے تمہیں میں اسی فکیٹری لے جاو گ۔۔۔۔

اہہہہہ ہادی لالہ یہ کیا کر دیا ۔۔۔۔

حدید اس سے پلیٹ لیتا بھاگنے کی تیاری میں تھا جب اسی کے ڈوپٹے سے الجھتے وہ دھڑام کرتا گرا تھا ۔۔۔۔

جب وہ پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔۔

یار کیا تھا دے دیتی مجھے میرے کپڑے پھٹ گے ۔۔۔

اپنے کرتے کا دامن پھٹے دیکھ وہ رونی شکل بناے بولا تھا ۔۔۔

یہ تمہارا بیٹا ہے شاہد صام۔۔۔

کافی دیر بعد کشف کو مناے حدید ویسے ہی کرتے کی جھولی بنا کر بریانی لے کر آفندی پلیس جاتا روشانے کو دے آیا تھا لیکن اب پلیس کے سب ملازم کی بات سنتے روشانے نے اسے کہا تھا وہ ایسے ہی سب کو بریانی لا کر دے ۔۔۔

اب وہ خوشی خوشی یہ سب کر رہا تھا جب سرمد حدید کے بکھرے بال اور گندے کپڑے دیکھ صام کی طرف دیکھتے مسکراہٹ روکے بولے تھے ۔۔۔۔

جبکہ وہ لال چہرے سے حدید کی حرکتیں دیکھ رہے جو مسلسل اپنے باپ کو اگنور کر رہا تھا ۔۔۔۔

ہاں دشمن ہے میرا یہ اس کی خبر گھر جا کر لیتا ہو ۔۔۔

صام دانت پیستے ہوے بولے تھے ۔۔۔۔

ہاہہاہاہہاہاہاہہا۔۔۔

سرمد کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔۔

یہ کون کھاتا ہے چچچ۔۔۔

ٹیبل پر پڑے پلیٹ میں بلیک ٹوس اور ساتھ بلیک کافی دیکھ وہ دل میں بولی تھی مطلب یہ ایول کا ناشتہ تھا ۔۔۔۔

تم کھاو یہ آج سے آجکل موٹی ہو گی تم ۔۔۔۔

ایول ڈائنگ ٹیبل کے پاس آتا سکون سے چیئز پر بیٹھتا بولا تھا ۔۔۔

چاکلیٹ کلر کی پینٹ ساتھ بلیک ٹی شرٹ بالوں کی ماتھے پر بکھرے خوبصورت چہرے پر سنجیدگی لاے گرین آنکھیں لیے وہ تھوڑی پر ہاتھ رکھے رعنا کا حیرت سے منہ کھولا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

اسی کلر کی سیم ڈریسنگ رعنا نے کی تھی فرق صرف اتنا تھا ابھی اس نے فراک کے ساتھ حجاب نہیں کیا تھا بس نیٹ کا ڈوپٹہ سر پر رکھا تھا ۔۔۔۔

کھڑوس برفانی ریچھ جاہل خود بریانی کھا رہا ہے ۔۔۔

وہ چپ چاپ کرسی پر بیٹھتی اب دل میں بولی تھی ۔۔۔۔

جہاں ایول سکون سے اسے اگنور کیے بریانی سے انصاف کر رہا تھا ۔۔۔۔

کیا ہمیں کھانا ہے تم نے ۔۔۔

ٹوس کھاتی رعنا ویسے ہی لبوں میں دباے بس ایول کے چلتے ہاتھ اور لب دیکھ رہی تھی جب وہ پلیٹ پر سر جھکاے کھاتا بنا دیکھے بولا تھا ۔۔۔۔

یہہیییییی۔۔۔۔

رعنا اب واقعی ڈرتی آس پاس دیکھتی چیخی تھی کیونکہ ایول مسلسل وہی باتیں سنا رہا تھا جو وہ دل میں سوچ رہی تھی ۔۔۔

کل سے تم ہمارے ساتھ جم کرو گی اوکے ۔۔۔

آرام سے اٹھتا وہ اس کے قریب آتا اس کے لبوں میں دبے ٹوس پر بائٹ کرتا بولا تھا جب اس کے لب اپنے لبوں پر محسوس ہوے تھے ۔۔۔۔

حیرت سے پھٹی نیلی آنکھوں سے وہ اپنا منہ کھول چکی تھی ۔۔۔

ٹوس گر کر اس کی گود میں آیا تھا ۔۔۔

تمہیں اب آواز کی ضرورت ہے ہمارے خیال سے کیونکہ یہ شوک سے تمہارا منہ بار بار کھولتا ہے ۔۔۔۔

کھولے منہ کے اندر اس کے منہ کو سرخ دیکھتے اب وہ اپنی شیو کو کجھاتے مسکراتے بولا تھا ۔۔۔

رعنا کے ہاتھوں پر پیسنے کے قطرے آے تھے کیونکہ وہ نہیں سمجھ رہی تھی ایول کیوں اتنا بول رہا تھا ۔۔

کیوں اتنا نرم ہو گیا تھا اس کے لیے ۔۔۔

اب اسے چھوڑے وہ واپس روم جا رہا تھا ۔۔۔

افففف نفرت میں اتنا ظلم کرتا ہے ایسی شدت ہے اگر میں اس کا عشق بن گی تو کیا حال ہو گا میرا ۔۔۔۔۔

کیسے وہ اتنا میرے دل کی ہر بات سن لیتا ہے کیا کرو ۔۔۔۔

اس کی نفرت ٹھیک تھی یہ والا ایول تو خطرناک ہے ۔۔۔

ماما کدھر پھسا دیا مجھے ایویں اس کو احساس کروانے چلی تھی فیلینگز کیا ہوتی ہے میرا ہی برا حال کیا ہو ا ہے کل سے ۔۔۔۔

رعنا اب روم میں شیشے کے سامنے اپنا دوپٹہ اتارے مسلسل دل میں سوچ رہی تھی اس کی نظریں بار بار اپنی گردن کے سرخ نشان پر جا رہی تھی ۔۔۔۔

وہ بہت گھبرای ہوی تھی یہ سوچ کر ایول آگے کیا کرے گا ۔۔۔۔

ہاں بولو ہاں پلان تیار ہے ہو سکے تو زوبی کو شامل کر لے گء۔۔۔۔

رعنا جو اپنے آپ میں مگن کھڑی شیشے میں خود کو کوس رہی تھی جب اچانک شرٹ لیس اندر آتے فون میں بزی ایول کو دیکھ وہی شیشے کے پیچھے چھپ چکی تھی ۔۔۔۔

جبکہ وہ کافی دیر حدید سے فون پر بات کر رہا تھا ۔۔۔۔

یہ تمہاری ہارٹ بیٹ تیز ہے کیا ۔۔۔۔

اچانک اپنی واچ پر تیز الارم سنتے وہ سیریس ہوتا حدید سے بولا تھا ۔۔۔

نہیں تو ۔۔

وہ سکون سے بولا تھا ۔۔۔

تو سوہا کو چیک کرو وہ ٹھیک ہے ۔۔۔

ایول نے اگلا حکم دیتے فون بند کیا تھا ۔۔۔۔

اب وہ واچ پر بجتے الارم کو مسلسل سنتا سیریس شکل بناے چکر کاٹ رہا تھا ۔۔۔۔

جبکہ شیشے کے پیچھے چھپ کر بیٹھی رعنا کو ایول کو شرٹ لیس دیکھ کر ہی گھبرا رہی تھی ۔۔۔۔

سوہا ٹھیک ہے ایول ا۔۔۔۔

جب ہم تینوں میں سے سب کی ہارٹ بیٹ تیز نہیں ہے تو کون ہے ایسا جس کی حالت اتنی بری ہو رہی ہے ۔۔۔۔

حدید کی آدھی بات سنتے وہ فون کٹ کرتا اب مسلسل آپنا ماتھے کو مسلتے سوچ رہا تھا ۔۔۔۔

جو دشمن ہوتا ہے وہ سامنے کھڑا ہوتا ہے پر افسوس تم تو بزدل ہو تبھی ہماری جاسوسی کر رہی ہو یارررر۔۔۔۔

کافی دیر سوچنے کے بعد ایول نے جیسے ہی روم میں نظر ڈورائ تو شیشے کے پیچھے سے قالین پر پڑی فراک کے دامن کو دیکھ اب وہ طنزیہ مسکراہٹ لاے رعنا کے سر پر کھڑے بولا تھا ۔۔۔

جو تھر تھر کانپتی اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔

س۔۔۔

ہم نے کہا تھا تمہاری خاموشی شور مچاتی ہے لیکن تمہاری دھڑکنیں بھی شور کرتی ہے دیکھو کیسے یہ واچ شور مچا رہی ہے ۔۔۔

رعنا ڈرتی اٹھ کر کھڑی ہوتی بولنے کی کوشش کر رہی تھی جب ایول اس کے منہ کو دبوچتے ہوے اپنی واچ اسے دیکھاے بولا تھا جو مسلسل بج رہی تھی ۔۔۔۔

اس کی نظریں واچ پر تھی کہ کیوں بج رہی تھی ۔۔۔۔

ویسے تم کیا نہیں چاہتی تمہاری آواز آے ۔۔۔

اسے کمر سے پکڑتے دیوار سے پن کیے اب وہ اس کا منہ کھولے بولا تھا ۔۔۔

اگر چپ ہو تب مسئلہ اگر بول لو تب مسئلہ رہتا ہے تمہ۔۔۔

اس کی گرین آنکھوں میں دیکھ وہ دل میں سوچ رہی تھی جب وہ مسکراتا ہوا اس کے منہ کے اندر انگلی ڈالے بولا تھا ۔۔۔۔

تمہارا بولنا اچھا ہے بجاے یہ کہ تمہاری دھڑکنیں مجھے پاگل کر دے ۔۔۔۔

ایول اب اس کی دار میں لگی چیپ کو نکالے بولا تھا ۔۔۔

اور تبھی اس کی واچ نے سائرن کرنا بند کیا تھا ۔۔۔

پ۔گ۔پاگل کو ک۔کیا پاگ۔گل کرنا۔۔۔۔

جیسے ہی چیپ باہر آئ تھی رعنا اسے لال چہرے سے گھورتی اٹکتی بامشکل بولی تھی ۔۔۔۔

ہاےےے پاگل تو بہت کم ہے تمہاری یہ دھڑکنیں مجھے جنونی بنا رہی ہے بس دعا کرنا کہ ہم تمہارے لیے بہک نہ جاے ۔۔۔۔

اسے کمر سے پکڑتے اپنے چہرے کے قریب لاتے اب وہ شوخ ہوتا پہلی بار اپنے دل کی بات اس پر عیاں کرتا بولا تھا ۔۔۔۔

رعنا نے حیرت سے اسے دیکھا تھا پہلی بار اسے ایول کا لہجہ اتنا نرم اور مدہوش گن لگا تھا ۔۔۔

م۔مطلب ت۔۔۔

اپنی بے ساختگی پر وہ رعنا بولنے کا موقع دیے بنا اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔۔

ب۔بر۔۔نن

اس کا جنونی لمس پاتے رعنا بولنے کی کوشش کرتی اس کے سینے پر مکے مارتی بول رہی تھی ۔۔۔

جب ایول مکمل مدہوش ہوا اس کی کلاہیوں کو پکڑتے اوپر دیوار سے پین کرتا اس کی سانسوں کو اپنی سانسوں میں الجھا چکا تھا ۔۔۔۔

رعنا کے لیے مشکل ہو گیا تھا ایول کا ایسا انداز دیکھ کر وہ بار بار مزاحمت کرتی ناکام ہو رہی تھی ۔۔۔۔

آج کے بعد آگر تمہاری یہ فضول سی مزاحمت ہوئ تو بھول جانا ہم تمہں معاف بھی کرے گے ۔۔۔

کافی دیر بعد اپنی سانسوں کی پیاس بجھاتے وہ رعنا کو چھوڑتے اس کے سرخ لبوں کو سہلاتے غرایا تھا ۔۔۔۔

گہرے گہرے سانس لیتی اب وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

جو مسلسل اسے ہی دیکھنے میں بزی تھا ۔۔۔

کدھر سے آ رہے ہو ۔۔

حدید مسکراتا ہوا اندر ہال میں انٹر ہو رہا تھا جب آگ بگولہ ہوتا صام دھاڑے تھے۔۔۔

ہال میں کھڑے سارے ہی اپنی دبی دبی مسکراہٹ لیے اب حدید کی حالت دیکھ رہے تھے جو ویسے ہی جھولی میں بریانی ڈالے اندر آرہا تھا ۔۔۔

اسی قدموں سے باہر چلے جاوووو۔۔۔۔

و۔وہ ڈی ڈیڈ انھوں نے کھانی ت۔۔۔

کیا کھانی تھییییی۔۔۔

حدید ہکابکا ہوتا بول رہا تھا جب وہ دھاڑے۔۔۔۔

ب۔بریانی ۔۔۔

وہ بامشکل لفظ ادا کر پایا تھا سمجھ گیا تھا کشف اس کی شکایت لگا چکی ہے ۔۔۔

کیوں گھر نہیں بن سکتی تھی کیا اربوں مالیت کے مالک ہو کس چیز کی کمی ہے تمہارے پاس کون سا ایسا کیڑا ہے اندر تمہارے جو ہر دفعہ فقیر کے روپ میں باہر آتا ہے ۔۔۔

صام اب اکیلے ہی اس پر چیخ چلا رہے تھے ۔۔۔۔

جو مزہ مانگ کر کھانے کا وہ ان پیسوں سے ن۔۔۔۔

نکلو باہر ابھی کہ ابھی تم ساری رات باہر رہو گے صام آفندی کا بیٹا ہو کر تم فقیروں کی طرح حرکتیں کرتے ہو ۔۔۔

مان لیا تم نے روشنی کے لیے لینی تھی لیکن یہ کون سا طریقہ تھا جھولی میں ڈالنے والا۔۔۔

وہ شدہ غصے سے بول رہے تھے ۔۔۔

اچھا بس کرے بیٹا ہے ہ۔۔۔

جس نے بھی اسے اندر لانے کی کوشش کی وہ باہر ہی رہے گا بات ختم ۔۔۔

روحا بول رہی تھی جب وہ اپنی کہتے روم میں چلے گے تھے ۔۔۔۔

چلے میں پھر جا رہا ہو۔۔۔

حدید مسلسل دانت نکالے اب سکون سے باہر جاتا بولا تھا ۔۔۔

ہاہہاہاہاہہاہہاہاہاہا۔۔۔

اس کی حالت دیکھ سب کا قہقہ گونجا تھا یہ کام اکثر ہوتا تھا صام اسے کسی نہ کسی بات پر سزا دیتے ہی تھے جیسے وہ خوش ہوتا قبول کرتا تھا ۔۔۔

جب رہ نہیں جاتا تو ایسا کیوں کرتے ہے میرے پوتے کے ساتھ ۔۔۔۔

صام سگریٹ لبوں میں دباے مسلسل ونڈو سے باہر پلیس کے سامنے والی سڑک پر رات کے وقت اتنے سرد موسم میں سزا لیے حدید کو دیکھ رہے تھے جب وردہ بیگم پاس آتی بولی تھی ۔۔۔۔

تین گھنٹوں سے وہ باہر تھا بہانے بہانے سے صام نے اس کی لیے سردی سے بچنے کے لیے جیکٹ شال لے کر بیجھی تھی لیکن وہ ہر بار کی طرح واپس کر دیتا تھا ۔۔۔

ماما اس کی بھی اولاد ہونے والی لیکن اس کی شرارتوں کا ڈرامہ ختم ہی نہیں ہوتا ۔۔۔

صام حدید کو کھڑے دیکھ بولے تھے ۔۔۔

تم بھی ایسے تھے یاد کرو ہر وقت اپنے بابا کو تنگ کرتے تھے وہ بھی ایسے ہی تمہیں سزا دیتے تھے لیکن حقیقت میں تم کیا نکلے تھے ۔۔۔

وہ مسکراتی بولی تھی ۔۔۔

ماما میں تو اپنی ڈیوٹی کے لیے ایسا بنا تھا اس کی تو اسٹڈی ہی کپملیٹ نہیں ہوئ ۔۔۔

صام حیران ہوتے بولے تھے ۔۔۔

اچھا اتنی فکر ہے تو خودی پوچھ لو اس کو سردی لگی یا نہیں۔ ۔۔

وردہ بیگم بات بدلتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔

انہہہہ چونے ایلفیاں دشمن میں نہیں پوچھ رہا ۔۔۔۔

یہ جرسی لے جاو باہر اس نکمے کو دو ۔۔

سردی بہت ہے ۔۔۔

صام برا سا منہ بناتے ملازم کو اپنی جرسی دیتے اپنے روم میں چلے گے ۔۔۔

ان کی اپنے بچوں کے لیے ایسی محبت دیکھ وردہ بیگم مسکرای تھی ۔۔۔۔

تم یہاں کیا کرنے آ۔۔۔

تم باہر تھے میں بھی آ گی مجھے نیند نہیں آرہی تھی ۔۔۔

پلیس سے باہر آتی دوشانے شال لیے حدید کے پاس آی تھی جب وہ دانت پیستے بول رہا تھا جب آپنی شال کو اتارے اس کو دیتی بولی تھی ۔۔۔

میری خیر ہے ڈیڈ ایسی سزا دیتے ہے تم اپنا خیال رکھو طب ۔۔۔

تم ہو میرے پاس تو مجھے فکر نہیں تم باہر ہو میں بھی باہر رہو گی بس بات ختم ۔۔۔

حدید اسے لیے بنے پنچ پر بیٹھاے بول رہا تھا جب اس کے سینے سے لگتی وہ لاڈ سے بولی تھی ۔۔۔

یار روشنی رات کافی ہو رہی ایسے اچھی ن۔۔۔

اووےےےے ہوےےےے کیا سین ہے تم لوگوں کو روم نہیں ملا گیا جو یہاں رومینس کر رہے ہو ۔۔۔۔

وہ بول رہا تھا جب چار پانچ آوارہ لڑکے وہاں آتے ہوٹ کرتے بولے تھے ۔۔۔

روشانے کے سامنے وہ آپنا بین والا روپ نہیں شو کروانا چاہتا تھا تبھی تحمل سے انہیں اگنور کیا تھا ۔۔۔۔

چلو روشنی ۔۔۔

اسے لیے وہ ساتھ جاتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔

ہادی تمہیں انہیں مارنا چاہے تھا یار اتنے بھی بزدل نہ بنو ۔۔۔

ان سب کی مسلسل بکواس اگنور کیے حدید اسے لیے جا رہا تھا جب وہ غصہ ہوتی چیخی تھی ۔۔۔

اچھا کہتا ہو ۔۔

بھای ہمیں معاف کرو جاو یہاں سے ۔۔

حدید ان کی طرف رخ کرتا ہاتھ جوڑے سکون سے بولا تھا ۔۔م

معافی تو ہم نہیں دیتے ۔۔۔

ان میں سے ایک نے حدید کی ٹانگ کو پکڑتے اپنے قدموں میں گراتے سکون سے بولا تھا ۔۔۔۔

جب نیچے گرے حدید نے طش کے عالم میں انہیں گھورا تھا ۔۔۔۔

ہادی مارو ان کو تم ویسے ہی خاموش ہو ۔۔۔

دور کھڑی روشانے بھی طش سے بولی تھی ۔۔۔

نہیں لڑنا مجھے معاف کر۔۔۔۔

حدید کنٹرول کیے اٹھتا ہوا روشانے کے قریب جاتا بول رہا تھا جب ان میں سے کسی نے اسے شولڈر سے پکڑا تھا ۔۔۔۔

وہ مسلسل دونوں کو تنگ کر رہے تھے روشانے کو غصہ تھا حدید کی بزدلی پر۔۔۔