Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 34) Part - 1
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 34) Part - 1
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
“””حدیدروشانے
“”ایولمولانی اسپشیل اپپی
“””ایک دن پہلے ۔۔۔
سوہا بیٹا آپ یہی روم میں ہو کل صبح کی ۔۔۔
فارس تو پہنچ بھی گیا ملتان آپ یہی ہو ۔۔۔
رات کو ہانیہ اس کے روم میں آتی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
جی ماما بس ویسے ہی دل نہیں کر رہا باہر نکلنے کو ۔۔۔
سوہا ویسے ہی بیڈ پر بیٹھتی اداس سی بولی تھی ۔۔
دو دن کی بات ہے بیٹا تم تو اداس ہی ہو گی اس کے بنا ۔۔
ہانیہ اس کے بالوں کو سنوارتے ہوے بولی تھیں ۔۔۔
ماما میں فادی کے بنا کبھی رہی ت۔۔۔
لو یہ شیطان کے فون آگیا اب ۔۔۔
سوہا اداس سی مسکراتی بول رہی تھی جب حدید کی آتی کال دیکھ وہ بولی تھی ۔۔۔
چلو بات کرو ہادی سے ۔۔
بولو چوزے ۔۔۔
سوہا کال اٹھاتی ہوئ بولی تھی ۔۔
یار کیسی پھپھو ہو تم کوئ شاپنگ ہی نہیں کر رہی ہو ایسے تو مت کرو میرے معصوم بچوں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا میں جانتا ہوں کل کو تم نے ہی پھپھو کا کردار اچھے سے کرنا ہے مطلب لڑائ کروانی آگے تم سمجھ دار ہ۔۔۔
یارررر ہادی بلکل موڈ نہیں ہے باہر جانے کا ویسے بھی میں اکیلی جا کر کیسے شاپنگ کرو گی تم بھی یہاں نہیں ہو ۔۔۔
حدید اپنی پٹر پٹر زبان چلانے میں بزی تھا جب وہ اداس ہوتی بولی تھی ۔۔
یار سوہا ایسے تو مت کرو تم ایسے اداس ہو رہی جیسے ہم فارس کو کہیں دور لے گے ہے کل تک ہم آجاے گے تب تک تم شاپنگ کر لو ۔۔۔
حدید اچانک سیریس ہوتا بولا تھا وہ تو اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے مذاق کر رہا تھا ۔۔۔۔
ہمممم ۔۔۔۔
سوہا کچھ بھی نہ کہتی فون کٹ کر چکی تھی ۔۔۔۔
یار وہ اداس ہو گی ہے ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہے تھا ۔۔۔
حدید ایول اور فارس کو دیکھ بولا تھا جو لیپ ٹاپ میں کچھ دیکھتے بزی تھے ۔۔۔
پاگل ہو گی ہے پوری وہ ۔۔۔
ایول اچانک سرد لہجہ لیے غرایا تھا ۔۔۔
تم کرو کچھ ہمیں کسی بھی حال میں سوہا کو باہر لانا ہے ۔۔۔
ایول اب مسکراہٹ روکے فارس کو دیکھ بولا تھا جو سکون سے مسکرا رہا تھا ۔۔۔
دیکھو تم باڈی بلڈر کی بہن ہو گی وہ لیکن میری بیوی ہے میرے لیے پاگل اب دیکھنا کیسے وہ کل شاپنگ کرنے جاے گی ۔۔۔
فارس اپنے فرضی کالر پکڑتے ایٹیٹوڈ سے بولا تھا ۔۔۔
ہاں ہاں بس کر ۔۔
ایول برا سا منہ بناے بولا تھا ۔۔۔
مان گی ہے وہ صبح چلی جاے گی شاپنگ کرنے ۔۔۔
کافی دیر بعد فارس سوہا سے بات کرتے مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
انہہہ تمہاری بیوی بھی ہماری وجہ سے بنی ہے ہماری بہن ہے وہ بس تمہیں زیادہ عزت دیتی ہے وہ ۔۔۔
ایول اور حدید دونوں ہی جلتے ہوے یک زبان بولے تھے ۔۔
ہاہہاہاہاہہاق۔۔۔
دونوں کی بچوں والی شکل دیکھ فارس کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
“””ایک دن بعد۔۔۔
سر شکار سامنے ہے سوہا اکیلی ہی شاپنگ کرنے آگی ہے ۔۔۔
رحمان کا آدمی اگلے دن سوہا کو ایک شاپنگ مال کے اندر جاتے دیکھ وہ بولا تھا ۔۔۔
میں شکار کرو گا اس کا بس نظر رکھو ۔۔۔
رحمان کال سنتا جلدی سے اپنے بنگلے سے نکلتا ہوا کار سٹارٹ کرتا بولا تھا ۔۔۔
ہاں ایول رحمان نکل گیا اپنے گھر سے فارس کو کہو تیار رہے سوہا کو کچھ نہیں ہونا چاہے ۔۔۔۔
درخت پر چڑھ کر بیٹھا حدید جلدی سے ایول کو کال ملاے بولا تھا ۔۔۔
اس کمینے انسان کو باہر نکالنے کے لیے ہم نے اپنی بیٹی کو اس کے سامنے کیا ہے بس فارس پہنچ جاے ٹائم سے ۔۔۔۔
ایول کی دھڑکنے زوروشور سے دھڑک رہی تھی آخر کیوں نہ ہوتی اپنی جان سے عزیز بہن کو ایک حیوان کے سامنے کیا تھا۔۔۔۔
ہاں ہو جاے گا میں بھی نکل رہا ۔۔۔
حدید درخت سے اترتا ہوا بولا تھا پریشان وہ بھی تھا دو بھائیوں کی لاڈلی بہن تھی ہر جگہ انھوں نے اس کی حفاظت کی تھی ۔۔۔
جلدی نکلو تم فارس سوہا کو کچھ نہیں ہونا چاہے اگر اسے کچھ ہوا تمہاری آخری سانس ہم نکالے گے ۔۔۔
ایول اب شدید پریشان ہوتا روم میں آتا فون میں بزی غرایا تھا ۔۔۔
جبکہ بیڈ پر بیٹھی رعنا قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی ۔۔۔۔
اپنی نیلی آنکھوں سے اس نے ایول کو دیکھ تھا جو کان کو فون لگاے مسلسل چکر کاٹ رہا تھا ۔۔۔
یار کچھ نہیں ہو گا جس مال میں وہ گی ہے وہاں تمہارے سو سے زاہد آدمی پہرہ دے رہے ہے اور حدید کی ٹیم کے آدمی الگ سے مال کے آس پاس چکر کاٹ رہے میں بھی بس نکلنے و۔۔۔۔
اتنے پرسکون بھی نہ ہو تم ہماری بیٹی ہے وہ ہم جانتے ہے وہ کتنا بڑا ہوس پرست انسان ہے اگر اس نے ہماری بیٹی کو چھوا بھی تو وہی ہاتھ کاٹ دو گا ۔۔
کتنے سست ہو تم سب ہم ہوتے تو منٹوں میں مار دیتے اسے ۔۔
ایول اتنا غصہ بھی ٹھیک نہیں ہے یہ پلان بھی تمہارا تھا بیوی ہے میری میں حفاظت ک۔۔۔۔
خوف سے سوہا بے ہوش ہو جاتی ہے ہم نہیں چاہتے وہ بے ہوش ہو تم جلدی کرو ۔۔۔
ایول مسلسل غرا رہا تھا جب فارس بھی اپنی کار میں بیٹھتا بول رہا تھا جب وہ بولا تھا ۔۔۔
ا۔ایول و۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔
فارس کی اسے ہکلاتی آواز گونجی تھی جب وہ الرٹ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
کار پنچر ہے اور مال جانے میں مجھے بیس منٹ ل۔۔۔۔
تمہاری موت ہمارے ہاتھوں پکی ہے ہماری بیٹی کو کچھ ہوا تو دیکھنا تم ۔۔۔
فارس بول رہا تھا جب ایول آپے سے باہر ہوتا شدید طش میں چیختا ہوا موبائل دیوار پر مارا تھا ۔۔۔
بیڈ پر بیٹھی رعنا کانپی تھی ۔۔۔
سنو تم دعا کرو ہماری بیٹی اس درندے سے محفوظ رہے ۔۔۔
مسلسل چکر کاٹتے وہ اب رعنا کے پاس آتا اس کے ہاتھوں کو پکڑے بولا تھا ۔۔۔
جب اس نے حیران ہوتی نظروں سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔
بول تو وہ سکتی نہیں تھی۔ ۔۔۔
رعنا نے اپنے ہاتھوں کے درمیان ایول کے بھاری سفید ہاتھوں کو قید کیے دعا کی طرح پھیلاے آنکھیں بند کیے دعا مانگی تھی ۔۔۔
ایول نے اس کے ہلتے لبوں اور بند آنکھوں کو دیکھتے پرسکون ہوا تھا ۔۔
وہ سمجھ گیا تھا رعنا دعا مانگ رہی تھی ۔۔۔۔
دعا مانگنے کے بعد اس نے اپنی آنکھوں کو ہلکے سے کھولے ایول کو دیکھا تھا جو خود بھی آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا ۔۔
اپنے گال پر گرم لب محسوس کیے ایول نے آنکھیں کھولی تھی ۔۔۔
نیلی اور گرین آنکھوں کا ٹکراؤ ہوا تھا ۔۔۔۔
اس کے ہاتھوں کو سہلاتے رعنا نے اسے پرسکون کیا تھا ۔۔۔۔
چ۔چھوڑو م۔مجھے تم۔۔۔۔
سنسنان راستے کے درمیان سوہا گرتی سامنے کھڑے حیوان پرست رحمان کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔۔
سوہا شاپنگ کرتے واپس جا رہی تھی جب کار میں بیٹھتے وہ گھر جا رہی تھی ۔۔
راستے جاتے اچانک اس کی کار کو ٹکر ہوئ تھی وہ طش سے کار سے اتری تھی جب پیچھے کار سے نکلتے رحمان کو دیکھ وہ روکی تھی وہ تو جانتی ہی نہیں تھی کون ہے وہ ۔۔۔
سوہا اسے اگنور کرتی واپس کار میں جانے والی تھی جب ایک ہی جست میں وہ اس کے قریب آتا دھکا دیتا گرا چکا تھا ۔۔۔
سوہا ڈری تھی اس نے بہت کوشش کی تھی اس سے جان بچا کر بھاگنے میں وہ بزدل نہیں تھی ہمیشہ صام اور حدید نے سکھایا تھا کیسے سامنے والا کا سامنا کرنا ہے لیکن تھی تو وہ لڑکی ہی رحمان کے آگے وہ ہار گی تھی ۔۔
تبھی وہ بولی تھی اب ۔۔۔
کہاں چھوڑنا تمہیں ویسے ان سب کے حصار میں رہتی تھی تم افففف کتنی خوبصورت ہو تم۔۔۔۔
اس پر جھکتے وہ خباثت سے بولا تھا ۔۔۔۔
م۔میرے لالہ اے گ۔۔۔۔
کدھر آنا اس نے وہ تو امریکہ بیٹھا ہے تمہارا باپ لندن تمہارا شوہر اور بھای ملتان ہے اب تم اکیلی ہو ۔۔۔
سوہا ویسے ہی نیچے سے پیچھے ہوتی بول رہی تھی جب اس کا پاؤں پکڑتے مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
ن۔۔نہیںںں۔۔۔
سوہا یہ سب سنتی اب واقعی چیختی بولی تھی ۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے ۔۔۔۔
رحمان کو ہاتھ سوہا کی ٹانگ سے ہوتا تھای پر آیا تھا جب وہ چیختا ہوا پیچھے ہوا تھا ۔۔۔۔
سوہا نے ڈرتے ہوے آنکھیں کھولیں تھی جب سامنے کا منظر دیکھ اس کی گرین آنکھیں باہر کو آئ تھی ۔۔۔۔
جہاں رحمان کا ہاتھ کاٹا ہوا سائیڈ پر پڑا تھا جبکہ رحمان کے شولڈر پر وہ شخص اپنے لونگ شوز میں قید بھاری پاؤں رکھے سکون سے کھڑا تھا جبکہ اس کے سفید ہاتھوں میں چاقو تھا ۔۔۔۔
رحمان کا منہ زمین کے اندر دبا ہوا تھا وہ ویسے ہی تڑپ رہا تھا ۔۔۔۔
فارس وہی کھڑا سب دیکھ رہا تھا ایول کو تنگ کرنے کے لیے وہ جھوٹ بولا تھا کار خراب ہونے کا ورنہ وہ وہی درختوں کے قریب کھڑا سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
چچچچچ افسوس تم نے اور میرے لاڈلے سالوں نے مجھے ہلکے میں لے لیا تھا ۔۔۔
اب اتنا بھی کمزور نہیں یار میں میجر فارس نام ہے میرا ۔۔۔
رحمان کی گردن کو زمین کے اندر اور زیادہ کرتے وہ اپنی کالی مسکراتی آنکھوں سے سوہا کی گرین آنکھوں کو دیکھتا بولا تھا ۔۔۔
ف۔فارسسسسس۔۔۔۔۔
سوہا فارس کو صیح سلامت دیکھ چیخی تھی اسے امید نہیں تھی یہاں فارس کے آنے کی ۔۔۔۔
یس بےبی تمہارا فادی ۔۔۔
فارس آنکھ ونک کرتا مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
چہرے سے وہ اسے پر سکون لگا تھا جو سکون سے ویسے ہی کھڑا تھا ۔۔۔۔
بڑا شوق ہے کسی کے جسم کو چھونے کا ۔۔۔
سوہا کی برہنہ اور زخمی ٹانگ دیکھتے فارس ویسے ہی اس کے شولڈر پر پاؤں کا دباؤ بڑھتا دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔۔
م۔میں۔ تجھے۔چ۔۔۔۔
رحمان نے ہمت جمع کرتے اپنی گردن باہر نکالے بول رہا تھا جب جھٹکے میں چاقو اس کی گردن پر چلایا تھا فارس نے ۔۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہ ہہیییییییی۔۔۔۔
رحمان کی گردن منٹوں میں اس کے جسم سے الگ ہوتی دور جا کر گرتی دیکھ سوہا چیختی بے ہوش ہوی تھی ۔۔۔۔
فارس کا ایسا وحشت بھرا روپ دیکھ وہ شوک ہوئ تھی ۔۔۔۔
رحمان کے ادھورے دھڑ سے خون بہہ رہا تھا جب فارس کے لونگ شوز بھی خون میں بھیگے تھے لیکن اب وہ سوہا کی چیخ اور بے ہوش ہوتا دیکھ جلدی سے اس کے پاس آتا چلایا تھا ۔۔۔۔
چھوڑ اس کو ہماری بہن ہے یہ ۔۔۔۔
حدید اپنی بائیک سے آرہا تھا جب سامنے کا منظر ایک طرف رحمان کی گردن اور لاش دوسری طرف بے ہوش سوہا کو دیکھ پریشان ہوتا بھاگتا اس کے نزدیک آیا تھا ۔۔۔
اس سے پہلے فارس اسے اٹھاتا جب وہ خودی اپنی گود میں اٹھاے وہاں سے بھاگتا بولا تھا ۔۔۔
پریشان تو اب فارس بھی ہو گیا تھا سوہا کی حالت دیکھ کر ۔۔۔۔
کیا کچھ نہیں ہو گا ہماری بچی ابھی تک نہیں آئ اس فادی کو ہم نہیں چھوڑے گے ۔۔۔
ایول کو حدید نے بتا دیا سوہا محفوظ تھی لیکن اس کا بے ہوش ہونے کا سن کر پریشان ہوا تھا تبھی اس نے کہا تھا یہی ایول ہاؤس لے اے جیسے فارس اور حدید آرہے تھے۔۔۔
اب وہ لان میں چکر کاٹ رہا تھا جب رعنا بھی شال لیے اس کے پاس آتی پیپر پر کچھ لکھا تھا جب وہ غرایا تھا ۔۔۔۔
وہ کب سے دیکھ رہی تھی ایول کہ بے چینی ۔۔۔
چھوڑو سوہا کو ہم لے کر جاے گے تم زوبی کو فون کرو جلدی ۔۔۔۔
حدید کو گیٹ سے انٹر ہوتے وہ جلدی سے اس کی گود میں سوہا کو لیتے ایول نے خود اسے اٹھاے اندر جاتے بولا تھا ۔۔۔۔
حدید کے ساتھ فارس بھی تھا ۔۔۔۔
رعنا بھی خاموشی سے اندر چلی گی تھی وہ ابھی تک شوک تھی حدید اور فارس کو کیسے پتہ چلا ایول کے ہاؤس کا ۔۔۔
کون ہے یہ ایول ۔۔۔
زوبی ایول کے روم میں انٹر ہوتی بولی تھی فارس اور حدید کو وہ دوسرے روم میں روک چکا تھا کہ زوبی انہیں نہ دیکھ لے اور خود وہ رعنا کے ساتھ سوہا کے پاس بیٹھا تھا جب اندر آتی زوبی بیڈ پر بے ہوش لیٹی سوہا کو دیکھ بولی تھی جو بلکل ایول جیسی تھی ویسے ہی بال ویسے ہی چہرہ ویسے ہی ناک پر رہتا غصہ ۔۔۔
زوبی کی ڈریسنگ وہی بے ہودہ تھی جیسے دیکھ رعنا نے منہ بنایا تھا ۔۔۔۔
تم چیک کرتی ہو یا کسی کو بلا۔۔۔
نہیں میں چیک کر رہی ہو یار اب تم نے بلایا تو اتنا کر سکتی ہو ۔۔۔
ایول اپنی لال آنکھوں سے زوبی کو دیکھ بولا تھا جب وہ جلدی سے بولتی پاس آی تھی ۔۔۔۔
شوک کی وجہ سے بے ہوش ہوی ہے ۔۔۔
ویسے ٹھیک ہے انجکشن لگے گا ۔۔۔
زوبی سوہا کا چیک اپ کرتی بولی تھی ۔۔۔
زوبی کے تنگ اور بے ہودہ ڈریس کی وجہ سے اس کے جسم کا ہر حصہ عیا ہو رہا تھا جب وہ بار بار جھک کر سوہا کو چیک کر رہی تھی ۔۔۔
لال ہوتے چہرے سے رعنا کنٹرول کیے ایول کے قریب آ کر کھڑی ہوئی تھی ایول کا دھیان سوہا پر تھا لیکن رعنا دیکھ رہی تھی وہ جان بوجھ کر ایسا کر رہی تھی ایول کے سامنے ۔۔۔
ایول بے بی بازو پکڑو اس کا ۔۔۔
انکجشن تیار کیے وہ ایک ادا سے واپس ایول کی طرف موڑتی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
پین نہ ہو بس ۔۔۔
ایول سوہا کا بازو پکڑتے بولا تھا ۔۔۔
ارے بے بی اتنی چھوٹی سوئ ہے اسے فیل بھی نہیں ہو گا یہ ضروری ہے ۔۔۔
زوبی پیار سے اس کے گال پر ہاتھ رکھتے بولی تھی۔ ۔۔۔
یہاں سے پکڑو بازو ۔۔۔
زوبی ایول کا ہاتھ سوہا کے بازو پر فٹ کرتی خود جھکتی انجکشن لگانے والی تھی ۔۔۔
رعنا جو کب سے یہ دیکھ رہی زوبی بہانے بہانے سے ایول کو چھو رہی اب وہ جان بوجھ کر ایول کے بازو پر زیادہ جھکتی سوہا کو انکجشن لگانے والی تھی ۔۔
رعنا نے دیکھا تھا جیسے ہی وہ نیچے کو جھکتی تو ایول کی کہنی زوبی کے سینے سے ٹچ ہونی تھی۔ ۔۔
اس سے پہلے زوبی ایول سے ٹچ ہوتی تبھی ایول کے قریب کھڑی رعنا نے نیچے کو جھکتے اس کے شولڈر سے لگتے ایول کے بازو کے اوپر اپنا ننھا ہاتھ رکھتے زوبی کی کوشش کو ناکام بنایا تھا ۔۔۔۔
زوبی کا اب دھیان رعنا پر گیا تھا وہ تو اسے بھول ہی گی تھی ۔۔۔
ایول دونوں سے انجان بس سوہا کے لیے ٹیشن میں تھا۔ ۔
زوبی کا شکشت سے لال ہوتا چہرہ دیکھ رعنا مسکراتی نظروں سے اسے گھورا تھا ۔۔۔۔
خود وہ بھول گی تھی وہ ایول کے کتنے قریب آچکی تھی ۔۔۔۔
ریسٹ کی ضرورت ہے اسے صبح تک ہوش آجاے گا ۔۔۔
زوبی اب منہ بناتی ہوی بولی تھی ۔۔۔
شکریہ تمہارا آؤ باہر تک چھوڑ دے ہم ۔۔۔
اپنے شولڈر پر جھکی رعنا کو کمر سے پکڑتے وہ سیدھا کھڑا ہوتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
زوبی اور رعنا دونوں ہی ایک دوسرے کو گھور رہی تھی ۔۔۔۔
یہی رہو مولانی ۔۔۔
اپنے پیچھے آتی رعنا کو روکتے وہ کہتا باہر گیا تھا۔ ۔۔
ویسے کہنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ بات گروجی کو نہ پتہ چلے ۔۔۔
ایول باہر آتا ویسے ہی سکون سے بولا تھا ۔۔۔
تم نے مجھے ایسا سمجھا ہے کیا ۔۔۔
زوبی اس کی گردن میں بائیں حائل کیے سکون سے بولی تھی ۔۔۔
زہر لگتی ہو تم ہمیں ۔۔۔
اسے خود سے دور کرتے وہ سردپن سے بولا تھا ۔۔۔
اچھا چھوڑو یہ بتاؤ یہ خوبصورت لڑکیاں کون ہے ۔۔
زوبی ایول کے پیچھے دروازے سے گردن باہر نکالے رعنا کو دیکھ مسکراتی دوبارہ اس کے سینے سے لگی بولی تھی ۔۔۔
تم سے مطل۔۔۔
ہاےےےے میرے سارے مطلب تم سے ہی ہوتے ایک بار ایول بس ایک میرے قریب آؤ میں تمہیں مایوس نہیں کرو گی ۔۔۔
ایول اسے دوبارہ دور کرتا بول رہا تھا جب زوبی اس کے لبوں کو سہلاتے بے باک ہوتی بولی تھی ۔۔۔
بکواس کروا لو تم سے بس یہی کام آتا ہے اب شکل گم کرو ورنہہہہہہہہ۔۔۔۔
زوبی کا ایسا انداز دیکھ ایول اچانک آگ بگولہ ہوتا بھڑکا تھا ۔۔۔
دروازے سے لگی رعنا ڈر سے دھڑام کرتی نیچے گری تھی ۔۔۔۔
اچھا اچھا جا رہی ہو کاٹنے کو ہی آجاتے ہو انہہ۔۔۔
زوبی کا مقصد تھا ایول کو رعنا کا بتانا وہ دیکھ رہی ہے جس میں وہ اب کامیاب ہوئ تھی اسے نیچے گرا دیکھ کر ۔۔۔۔
تمہیں دماغ کا آپریشن کرنا آتا ۔۔۔
اگر آتا ہے تو اسے عقل دو تھوڑی سی ۔۔۔
ایول اب اپنی توپوں کا رخ رعنا کی طرف کرتا زوبی پر غرایا تھا ۔۔۔
ہاں کر دے گے اس کے آپری۔۔۔
ہاہہاہہاہاہاہہاہا ہاہہاہاہہاہاہاہ بھاگ گئ یہ ۔۔۔
رعنا ان دونوں کی بات سنتی جلدی سے اٹھتی وہاں سے بھاگی تھی جب زوبی کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
ساری رات وہی سوہا کے سرہانے ایول حدید فارس اسی روم میں رہے تھے ۔۔۔
رعنا بار بار آ کر دیکھتی واپس چلی جاتی تھی اسے بہت خوشی ہوئ تھی کیسے دونوں بھای اپنی بہن کے لیے پریشان سے بیٹھے تھے ۔۔۔
یار تم دونوں ریسٹ کر لو کب سے ایسے ہی بیٹھے ہو اب تو صبح بھی ہونے والی ہے ۔۔۔
سوہا کے پاس بیٹھے فارس نے دونوں کو دیکھ تھا ایول تو ویسے ہی سکون سے بیٹھا تھا لیکن حدید مسلسل نیند میں جا رہا تھا ۔۔۔
جب تک یہ آنکھ نہیں کھولتی ہم یہی ہے ۔۔
ایول ویسے ہی بولا تھا ۔۔۔
اچھا پھر لیٹ ہی ج۔۔۔
اچھا مرو پھر دونوں ہی انہہہ۔۔۔
فارس بولتا اچانک بات بدلتے بولا تھا کیونکہ دونوں نے اسے خطرناک نظروں سے گھورا تھا ۔۔
مجھے جانا ہو گا لالہ ماما کی عادت ہے وہ فجر کے وقت روم میں آکر چیک کرتی ہے مجھے ۔۔۔
فجر کی آذان سنتے وہ جلدی سے اٹھتا بولا تھا ۔۔۔
جاو فارس چھوڑ کر آؤ اس ۔
لیکن لالہ میں چلا جاؤ گا ۔۔۔
حالت دیکھو نیند میں کھڑی نہیں ہوا جا رہا تم سے اور باتیں سنو اس کی ۔۔۔
حدید بامشکل کھڑا ہوتا بول رہا تھا جب ایول بولا تھا ۔۔۔
اجاو ہادی ۔۔
فارس اسے لے کر جاتا بولا تھا ۔۔۔
کدھر سے آرہے ہو ہادی ۔۔۔
ہادی آہستہ آہستہ چلتا ہوا ہال میں انٹر ہوا تھا جب سیڑھیوں پر کھڑی حجاب کیے روحا بولی تھیں ۔۔۔
و۔وہ ماما نماز پڑھنے ہی جا رہا تھا ۔۔۔
حدید اپنے قدم الٹے لے کر جاتا جلدی سے بولا تھا ۔۔۔
ساری رات روشنی کو درد رہا ہے پیٹ میں اور تمہیں فکر ہی نہیں ہے اس کی اگر ایسا کرنا تھا تو شادی ہی کیوں ک۔۔۔
کیا ہوا روشنی کو سوری ماما میری غلطی تھی مجھے خیال رکھنا چاہے تھا ۔۔۔
روحا کی بات سنتے وہ جلدی سے روم کی طرف بھاگتا بولا تھا ۔۔۔
اب اٹھا مت دینا ابھی سوئ ہے وہ ۔۔۔
روحا دور جاتے اسے دیکھ پیچھے سے چلای تھی ۔۔۔
جی ماما ۔۔۔
حدید جلدی سے روم میں انٹر ہوتا بولا تھا ۔۔۔
روحا مسکرای تھی کیونکہ وہ جھوٹ بولی تھی روشنی کو کچھ نہیں ہوا تھا ۔۔۔
کیا یار کتنا ستاتی ہو مجھ معصوم کو ۔۔۔
روم میں آتے اسے پرسکون سوتے دیکھ حدید وہی روم میں نماز پڑھتے اب بیڈ پر اس کے قریب آتا بولا تھا ۔۔۔
جو اب جاگ چکی تھی ۔۔۔
مجھے مزہ آتا ہے ۔۔
حدید کی گود میں آتی وہ مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
اچھا تمہیں مزہ آتا تو مجھے بھی دو ۔۔۔
روشانے کو کمر سے پکڑتے وہ اس کی گردن پر جھکتے بولا تھا ۔۔۔
کہاں تھے ہادی ۔۔
حدید کو اپنے کام میں بزی دیکھ وہ اسے تھوڑا سا خود سے دور کرتی بولی تھی ۔۔۔
اس کی آنکھیں لال ہوئ پڑی تھی ۔۔۔
کام تھا مج۔۔۔
تم ہڈحرام کو کام بھی ہوتا واہ ہ۔۔۔
ہاہہاہاہہاہاہ ہاہہاہاہہاہاہاہ ہادی نہ کرو سچی پین ہوتا پیٹ میں نہ کرو پلیز۔۔۔
حدید کے بالوں کو پکڑتے وہ بول رہی تھی جب حدید نے اپنی زبان اس کے کان کے گرد سہلائ تھی جب وہ قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔
ہادی میں کچھ کہنا چاہتی ہو ۔۔۔
روشانے اسے دور کرتی سیریس ہوتی بولی تھی۔ ۔۔
ہاں بولو سن رہا ۔۔۔
حدید اس کی گردن پر جھکتے بولا تھا ۔۔۔
و۔وہ میں چاہتی ہو آپ اپنی باقی کی زندگی تمہارے ساتھ اچھے سے گزارو ہر خوشی انجواے کرو مطلب مجھے تمہارا ساتھ ہر پل چاہے لیکن ۔۔۔
لیکن ۔۔۔
روشانے اٹکتی ہوئ بات کر رہی تھی جب وہ جلدی سے بولا تھا ۔۔۔
لیکن مجھے یہ بچہ نہیں چاہے ہادی ابھی میں ہنیڈل نہیں کر سکتی ا۔۔۔۔
مجھے زہر لگتی وہ لڑکیاں جو فضول بولے چپ رہو مجھے پیار کرنے دو اب ۔۔۔۔
روشانے کی ساری بات سمجھتے وہ جلدی سے اپنی شرٹ اتارے اسے بیڈ پر گراے اس پر حاوی ہوتا بولا تھا ۔۔۔۔
ش۔شرم کرو ایک تو لیٹ آے ہو بجاے سونے کے یہ کام ک۔۔۔۔
لو مجھ معصوم نے تو سکون سے سونا تھا لیکن تم کیوں جاگی بس سزا تمہاری ۔۔۔
روشانے اسے شرٹ لیس دیکھ گہرے سانس لیتی بول رہی تھی جب وہ اس کے لبوں کو اپنی قید میں لیتا مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
حدید اپنی قربت سے روشانے کا دھیان بدل چکا تھا ۔۔۔
جبکہ روشانے حدید کا ساتھ پاتی شرماتے اسی کے سینے میں منہ چھپا گی تھی ۔۔۔۔
ہمیں ضرورت نہیں اس کی ۔۔۔
ایول فارس کو سوہا کے پاس چھوڑے خود روم میں آیا تھا جب صوفے پر بیٹھتے رعنا نے اسے کافی کا مگن دیا تھا ۔۔۔
تبھی وہ سردپن سے بولا تھا ۔۔۔
یہ بیویوں والے کام تمہیں زیادہ ہی آتے ہے ۔۔۔
اسے خاموش دیکھ اب رعنا اس کے پیچھے آتی آرام سے اس کے شولڈر پر ہاتھ رکھے تھے تبھی وہ گردن موڑ کر اسے دیکھتا بولا تھا وہ اسے اگنور کیے آہستہ آہستہ شولڈر دبا رہی تھی۔۔۔
اس کی نرم نرم انگلیوں کا لمس اپنے جسم پر پاتے ایول کے اعصاب اچانک پر سکون ہوے تھے ۔۔۔
جہاں وہ پہلے صوفے پر بیٹھا تھا اب آہستہ آہستہ خودی صوفے پر لیٹ رہا تھا ۔۔۔
ہوش میں ہو تم کیا کر رہی ہو ۔۔۔
ایول کو پر سکون دیکھ کر رعنا نے اس کی ہڈی اتارتے اب اسے مکمل صوفے پر گرایا تھا اور خود اپنا حجاب اتارے وہ اس کے اوپر جھکی تھی جب وہ آنکھیں پھاڑے اس نیلی بلی کو دیکھتا غرایا تھا ۔۔۔
تمہیں پرسکون نیند کی ضرورت ہے جب سے میں یہاں آئ ہو تمہیں جاگتے ہی دیکھا ۔۔۔۔
اب سو جاؤ ۔۔۔
رعنا مکمل اسں پر آتی اس کے برہنہ سینے پر منہ رکھے اپنے لب ہلاتے بولی تھی ۔۔۔
سنہری بال جو چہرے اور گردن پر گرے تھے وہی ایول کی شرٹ پہنے نیلی آنکھیں اور گلاب جیسے ہلتے لب جیسے ہلتے دیکھ ایول اس کی بات سمجھ رہا تھا وہ کیا بول رہی تھی ۔۔۔
تم کیوں اپنی موت کو دعوت دیتی ہو جانتی ہو ہمیں ۔۔۔
ایول اپنی نیند سے بوجھل گرین آنکھوں سے اسے کمر سے پکڑتے اپنے قریب لاتا غرایا تھا ۔۔۔
دونوں کے لب ٹچ ہو رہے تھے رعنا ہمت کرتی یہ کر چکی تھی لیکن اب ایول کی سانسوں کے قریب آتی وہ اندر سے کانپی تھی ۔۔۔
سو بار مرنے کو تیار ہو میں بشرطیکہ وہ موت تمہارے ہاتھوں ہو ۔۔۔
رعنا پھر اپنے لب ہلاتے خود کو پر سکون کرتی اس کی شیو کو چھوتی بولی تھی ۔۔۔
تمہاری گردن پر آج بھی گولی کا نشان ہے ۔۔
ایول جو اس کی بات سمجھ رہا تھا اچانک اس کی گردن پر گولی کا نشان دیکھ ہلکے سے چھوتے بولا تھا ۔۔۔
اپنی گردن پر اس کی چھوتی سرد انگلیاں محسوس کیے وہ کانپی تھی ۔۔۔
ایول کے سینے پر وہ اپنی گرفت اتنی ہی سخت کرتی جا رہی تھی جیسے جیسے ایول مدہوش ہوتا اب اس کی گردن کو چھوتے نیچے کی طرف ہاتھ لےکر جا رہا تھا ۔۔۔
اب کدھر جا رہی ہو اگر ہمت نہیں ہوتی تو سوتے شیر کو جاگایا بھی مت کرو ۔۔۔
ہزار دفعہ کہا ہے دور رہو ہم سے ۔۔۔
رعنا جلدی سے اس سے دور ہوتی بھاگنے والی تھی جب ویسے ہی لیٹے ایول نے اسے بالوں سے پکڑتے اپنی طرف گھوماتے سرگوشی کی تھی ۔۔۔
رعنا کی شرٹ اس کے شولڈر سے سرکتی نیچے آئ تھی شرم سے اپنی نظریں جھکاے وہ واپس اس کے سینے پر گری تھی ۔۔۔
جس دن تمہارے اندر اتنی ہمت آجاے ہم سے مقابلہ کرنے کی تب آنا ویسے ہر بار ہار جاتی ہو ۔۔۔
اس کی شرٹ کو اور نیچے کیے ایول اس کی بیک نیک پر اپنی انگلی چلاتا طنزیہ مسکراہٹ لاے بولا تھا ۔۔۔
خاموش رعنا اپنی دھڑکنوں کو قابو کر رہی تھی ۔۔۔
لو اب تو خاموش ہی ہو گی ویسے یہ دو دن ہمارے سکون کے ت۔۔۔
اہہ۔۔۔
جنگلی بلی یہ تم دن کو مولانی بنتی ہو اتنی معصوم سی اور رات کو جنگلی بلی بن جاتی ہو جیسے کھا جاؤ گی ۔۔۔
اس سے پہلے ایول اس کی شرٹ پوری اتارتا جب دو بے بس ہوتی اس کے سینے پر کاٹا تھا تبھی وہ ہلکا سا سسکتا بولا تھا۔۔۔
یہ ناخن بھی کاٹو گی تم بلیوں جیسے رکھے ہے ۔۔۔
ایول کو مزہ آرہا تھا اسے تنگ کرنے میں تبھی وہ اب صوفے پر کروٹ لیتا ہوا بولا تھا اس کے ناخن اسے اپنی کمر پر محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔
رعنا جو کب سے جان بچا کر بھاگنے کا سوچ رہی تھی اب صوفے کی دوسری سائیڈ کی طرف لگتے اس کی چلتی سانسیں بھی روکی تھی کیونکہ اسے صرف اب ایول دیکھائی دے رہا تھا ۔۔۔
افففف یہ تم لڑکیوں کے آنسو نفرت ہے ہمیں اس سے ۔۔۔
ایول مسلسل اسے گھور رہا تھا جب شرم سے رعنا نے آنکھیں بند کر لی تھی کیونکہ اس کی حالت کافی خراب ہو چکی تھی اور ایسے میں ایول کے سامنے وہ اور زیادہ شرم سے ڈوبتی رو پڑی تھی ۔۔۔
جب وہ اس کے بہتے آنسوں کو دیکھ بیزار ہوا تھا ۔۔۔
تم خوبصورت ہو یا ہمیں ہی لگ رہی ہو ۔۔۔
رعنا کی مدھم چلتی سانسوں کو چہرے پر محسوس کیے وہ مکمل بہکا ہوا اس کے لبوں کو ہلکا سا ٹچ کیے بولا تھا۔۔۔
اپنے لبوں پر اس کا لمس پاتے وہ خشک حلق لے اس کی طرف دیکھا تھا جو مسلسل اسے ہی گھور رہا تھا ۔۔۔۔
ب۔برفانی ریچھ پلیز این ۔
۔۔
ایول کے سینے پر اپنی کانپتی انگلی کو اس پر چلاتے وہ لکھنے کی کوشش کررہی تھی جب وہی انگلی ایول نے لبوں میں دبائ تھی ۔۔۔۔
نہ۔۔۔
اپنی انگلی کے ساتھ وہ اسے کے زیادہ قریب آی تھی کیونکہ ایول نے دونوں کے درمیان فاصلہ بھی ختم کر لیا تھا جب وہ ڈری آنکھوں سے بول رہی تھی جب اسے کچھ سوچنے کا وقت نہ دیتے ایول کنٹرول کھوتا اس کی سانسوں کو الجھا چکا تھا ۔۔۔۔
اپنے سانسوں کو اسے کے قبضے میں آتے دیکھ اس نے شولڈر پر اپنے ناخن اور مکے مارے تھے۔۔۔
لیکن جتنی زور سے وہ اسے مارتی دور کرے ایول اتنا ہی قریب آتا اس پر اپنی شدت کا ظلم ڈھاتا ۔۔۔۔
بالآخر رعنا نے ہی ہمت ہارتے مزاحمت چھوڑ دی تھی ۔۔۔۔
رعنا کو چھوڑے اس کی نیم واہ آنکھیں اور سرخ انار جیسے چہرے اور لبوں کو دیکھ ایول دوبارہ اس پر جھکتا اپنی پیاس بجھانے میں بزی ہو گیا تھا ۔۔۔۔
رعنا جو سکون کا سانس لینے کا شکر کر رہی تھی اب دوبارہ اپنی سانسوں کو اس کی قید میں آتے دیکھ وہ اب مکمل آنکھیں بند کر چکی تھی ۔۔۔۔
وہ جانتی تھی وہ کتنا ضدی اور جنونی تھا ہر کسی کو سزا دینے کے معاملے میں وہ جانتا تھا کس کو کیسے اور کون سی سزا دینی ہے ۔۔۔
روشنی کیسی ہے اب ۔۔۔
روم سے باہر آتے ڈاکٹر کو دیکھ حدید پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
صبح وہ جب ناشتہ کرنے کے بعد روم میں آیا تھا جب بیڈ پر روشنی کو درد سے تڑپتے دیکھ ڈاکٹر کو بلایا تھا ۔۔۔
سب ہی پریشان ہو چکے تھے روشنی کی حالت دیکھ کر ۔۔۔
تبھی وہ بولا تھا ۔۔۔
انھوں نے کوئ میڈیسن تھی شاہد بےبی کو خت۔۔۔
آپ یہ بتاے دونوں ٹھیک ہے ۔۔۔
ڈاکٹر اسے سائید پر لے کر جاتی بول رہی تھی جب حدید دبے دبے غصے سے چیخا تھا ۔۔۔
جی سب ٹھیک ہے لیکن انہیں زیادہ ریسٹ کی ضرورت ہے ا۔۔
ماما روم میں کچھ بھی ہو آپ سب نے اندر نہیں آنا ۔۔۔
حدید بات آدھی سنتا غصے سے روم میں جاتا باقی سب کو روکتا ہوا دروازہ بند کر چکا تھا ۔۔۔
ہ۔ہادئ و۔ ۔
بکواس بند کرو اپنی تم ۔۔۔۔
روم میں آتے حدید کو دیکھ روشانے جلدی سے اٹھتی بولنے کی کوشش کر رہی تھی جب وہ غرایا تھا ۔۔۔۔
باہر کھڑے سب نے پہلی دفعہ حدید کی ایسی غراہٹ سنی تھی جبکہ روشانے کا تو سانس ہی بند ہو گیا تھا اسے تو یہ اپنے والا ہادی لگا ہی نہیں تھا ۔۔۔
