Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 32)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 32)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
“””احمد امن
“مہر وانیہ اسپشیل اپپی
یہ سب تمہارا قصور ہے کیوں فارس کو وہاں آنے دیا ہم اسے مارنے والے ہی تھے پہلی دفعہ ہوا کہ کوئ بچ گیا ہم سے ۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہ لالہ میں معصوم ہو میرا قصور نہی۔۔
نہیں یار اسی کا قصور ہے میں نے کہا بھی تھا کہ انجکشن لگا دو پھر بھی ۔۔۔
ایول اپنے سکیرٹ روم میں آتا آگ بگولہ ہوتا لیپ ٹاپ میں بزی حدید کو آتے ہی چیئر سے گراتے وہ اسے مارتے غرایا تھا ۔۔۔
جب فارس بھی پاس کھڑا مسکراہٹ روکے آگ لگا رہا تھا ۔۔۔۔
ت۔تم بچ جانا مج۔مجھ سے میں اپنا بدلہ لو گااااااااااا۔۔۔۔
ہاےےےےے لالہ میری نازک سی کمر۔۔۔۔
حدید قالین پر گرا چیختا گہرے سانس لیتا بول رہا تھا جب کمر پر ایول کا بھاری بوٹ کی ضرب پڑتے وہ چیخا تھا ۔۔۔۔
ہاہہاہاہہاہہاہاہہاہاہہاہاہہ۔۔۔
“”دل کو اقرار آیا پہلی پہلی بار آیا اووووو یارا ۔۔۔
ہاہہاہاہہاہاہاہاہہا۔۔۔
حدید کو مسلسل مارتا کھاتا دیکھ فارس دل پر ہاتھ رکھتا قہقہ لگاتے گانا گایا تھا ۔۔۔
تو ہے ہی جاہل انسان بیغرت دیکھنا میں تیرے ساتھ کیا کرتا ہو ۔۔۔
ویسے ہی سکون سے لیٹے وہ بولا تھا ۔۔۔۔
تم کچھ نہیں کر سکتے میرے انجکشن لگاؤ میں جاؤ سوہا کے پاس۔۔۔۔
فارس ابھی بھی مسکراتا ہوا وہیل چئیر پر بیٹھتا بولا تھا ۔۔۔۔
لالہ میں نے کہا تھا اس کو کہ لگا لو انجکشن کہتا میں پہلے رحمان کو بچا لاو اور الزام مجھ معصوم پر لگا دیا اس نے ۔۔۔۔
ایول فارس کی ٹانگوں پر جھکا انجکیشن لگا رہا تھا جب حدید دانت نکالے اپنی پٹھی ہڈی صحیح کرتا بولا تھا ۔۔
جب اپنی لال سرد گرین آنکھوں سے فارس کی کالی گہری آنکھوں میں گھورا تھا جب وہ گڑبڑیا تھا ۔۔۔
ن۔نہیں وہ یہ جھوٹ ب۔۔۔
اہہہہ ہمارا بے بی کچھ زیادہ مار دیا تم بھی حد کرتے ہو ہمیں غصہ دلا کر ۔۔۔
فارس بول رہا تھا جب ایول اسے انجکشن لگاتے اب حدید کو ہگ کیے بولا تھا ۔۔۔
یہاں مارا تھا آپ نے ۔۔
حدید اپنا نیلا گال دیکھاتا رونی شکل بناے بولا تھا ۔۔۔
آؤ مرہم لگاے ہم۔۔۔
ایول فارس کو اگنور کرتا اب مکمل حدید کی طرف متوجہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
فارس مسکرایا تھا یہ روزانہ کا کام تھا وہ حدید کو دل کھل کر مارتا تھا پھر بعد میں اس کے ہر زخم پر مرہم لگاتا تھا ۔۔۔۔
ہو گیا دونوں بھائیوں کا رومینس۔۔۔۔
فارس شوخ ہوتا بولا تھا جہاں بیڈ پر حدید کو لیٹاے ایول اس کے گال پر مرہم لگا رہا تھا ۔۔۔۔
تم دو دن کے لیے ملتان جا رہے ہو ہیری ۔۔۔
لیکن ایول میں سوہا کو۔۔۔
یہ سزا ہے تمہاری تم جاو گے ملتان تیاری کرو ۔۔۔
فارس کی بات اگنور کیے ایول ویسے ہی سکون سے ںولا تھا جب وہ بے چین ہوتا بول رہا تھا جب ایول نے پھر اس کی بات کو کاٹتے اپنی کہی تھی۔۔۔۔
پتہ نہیں کون سا منحوس ٹائم تھا جو تم دونوں سے مل لیا میں ۔۔۔۔
خود تو اس انسان کو رومنیس فیل نہیں ہوتا اور مجھے بھی ایسا کچھ فیل نہیں ہونے دیتا کھڑوس سڑیل انسان ۔۔
انہہہ۔۔۔
فارس حدید کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ دیکھ بڑبڑاتا ہوا اب باہر جا رہا تھا ۔۔۔۔
کیا بولا تھا یہ ۔۔۔
حدید کے لبوں پر کاٹن سے خون صاف کرتے وہ لاپرواہی سے پوچھا تھا ۔۔۔
کہتا آپ جلاد ہے آپ کو کچھ فیل نہیں ہوتا ۔۔۔
حدید دانت نکالے بولا تھا ۔۔۔
ہاں صیح بولا وہ اب چلو جاو گھر ۔۔۔
وہ ابھی بھی سکون سے بولا تھا ۔۔
ل۔لالہ وہ آگر آپ مس فائر کو معاف ک۔۔۔۔
تم روشنی کے ناجائز بچے کو اپنا نام دے رہے ہو ہم دونوں کے علاؤہ کوئ نہیں جانتا اس رات کیا ہوا تھا ۔۔۔
تم یہ سب کر رہے ہو ہم نے روکا تمہیں کچھ کہا تم بھی ہمارے پرسنل میں نہ آؤ ۔۔۔۔
حدید گھبراتا بول رہا تھا جب صوفے پر بیٹھتے سگریٹ لبوں میں دباے وہ سکون سے بولتا حدید کا سکون برباد کر چکا تھا ۔۔
لالہ کتنی دفعہ کہا ہے وہ میرا بچہ ہو گا حدید صام آفندی کا آپ ایک ہی بات کیوں بار بار دہراتے ہا۔۔۔۔۔
تمہاری جگہ ہم ہوتے تو ان دونوں کو وہی شوٹ کرت۔۔۔۔
چٹاخخخخخ۔۔۔
جب بکواس کر رہا وہ میرا بچہ ہے آپ کو سمجھ نہیں آتی کیوں یہ لفظ کہہ کر مجھے اذایت دیتے ہے ۔۔۔
ہاے میں بھی بھول گیا اس انسان سے سر کھپاتا ہو جس کے پاس دل ہی نہیں ہے ۔۔۔
ایول کی بات سنتے حدید اس کے پاس طش میں آتا بول رہا تھا جب ایول دوبارہ بول رہا تھا تبھی آپے سے باہر ہوتے حدید نے تھپڑ مارتے غراتے کہا تھا ۔۔۔
ایول مسکرایا تھا ۔۔۔
تمہیں کوئ شرمندگی نہیں اس لڑکی کو اپنا رہے ہو جو پہلے ہ۔۔۔۔۔
جب کسی سے عشق ہوتا تب اس کی ہر خوبی اور خامی کے ساتھ اپنایا جاتا ہے آپ کو ابھی تک عشق نہیں ہوا تبھی سکون میں ہے ۔۔۔
ایول مسکراتا بول رہا تھا جب حدید اپنی کہتا جلتا ہوا باہر چلا گیا تھا ۔۔۔
ہاہہاہاہاہا ہمارا بچہ بڑا ہو گیا کتنی زور سے مارا ہے بین نے ۔۔۔
ایول اب قہقہ لگاتا اپنے لبوں سے نکلتے خون کو انگوٹھے سے صاف کرتا بولا تھا ۔۔۔
وہ یہی دیکھنا چاہتا تھا حدید روشانے کو اپنا کر دکھی تو نہیں تھا لیکن اس کی بات سنتے اور ری ایکشن دیکھ کر وہ دل سے خوش ہوا تھا آخر اس کا چھوٹا بھای بڑا ہو گیا تھا۔۔۔۔
ہمیں فخر ہے تم ڈیول کے بیٹے ہو ہمیشہ خوش رہو اور ہاں تمہارے بچے کا ویٹ رہے گا کب وہ ہمیں بڑے بابا کہے گا ۔۔۔۔
ایول مسکراتا ہوا جلدی سے روم سے باہر آتا سیڑھیوں پر کھڑے حدید کو بیک ہگ کیے اس کی گردن کو چومتے بولا تھا ۔۔۔۔
شرم کرے لالہ کیوں میری عزت پر ہاتھ ڈال رہے ہے اپنی بیوی کے ساتھ کرے رومینسسسسسسسس ۔۔۔۔
دفع ہو جاؤ جاہل انسان ۔۔۔
حدید اپنی مسکراہٹ روکتا ہوا بولا تھا اسے بہت پیار آیا تھا اپنے لالہ پر جو اظہار کے معاملے میں بھی بچہ تھا کم ہی وہ اپنی فیلگنز شیئر کرتا تھا ۔۔۔
جب ایول جلدی سے سیریس ہوتا حدید کو لات مارتا غرایا تھا ۔۔۔
شیٹ اپ ۔۔۔
سیڑھیوں سے نیچے گرے وہ بھی برا سا منہ بناے بولا تھا۔۔۔
دفع۔۔۔
ہاتھ سے اشارہ کرتا ایول اب برا سا منہ بناے بولا تھا ۔۔۔۔
ہاےےےے میری گردن ٹھنڈی ہو گی ظالم انسان ۔۔۔
اپنی سرد گردن کو ہاتھ لگاے وہ چیخا تھا ۔۔۔
جب روم میں جاتے ایول کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ آئ تھی ۔۔۔
کافی ۔۔۔
امن روم میں آتی احمد کو کافی کا مگ دیتی بولی تھی ۔۔۔
تم ناراض نہیں ہو ۔۔۔
احمد اس کے پر سکون چہرہ دیکھ شوک ہوتا بولا تھا ۔۔۔
کیوں ناراض ہونی چاہے تھا کیا ۔۔۔
امن سکون سے کھڑی بولی تھی ۔۔۔
ہاں میں نے مہر کی انسلٹ کی تھی میں نے سوچا کہ تم چلی گی ہو ۔۔۔
احمد امن کا ہاتھ پکڑے اپنی گود میں بیٹھاے بولا تھا ۔۔۔
یہ آپ کیا کر رہی ہ۔۔۔۔
میں نے بہت سوچا کہ تھوڑا سا عشق میں بھی کرلو۔۔۔
امن اس کی گود بیٹھتی ہکلاتی بول رہی تھی جب احمد اس کے لبوں کو سہلاے آرام سے بولا تھا ۔۔۔
ا۔آپ کو مہ۔مہر لالہ سے آرام سے بات کرنی چاہے م۔میں جانتی ہو وانیہ سے زیادہ محبت آپ کو لیکن ہر رشتے کو برابر سے مانا چاہے ۔۔۔
میرے کہنے کا مطلب ت۔تھی کہ اب وہ شادی شدہ ہے مہر لالہ کا حق اس پر زیادہ ہے آپ ہر بات پر سنیجدہ ہوتے اس کے لیے تو ایسے عیجب لگاتا ہے ۔۔
سم۔سمجھ رہے میری بات کو آپ۔۔۔
احمد اب بہکا ہوا اس کے لبوں کو چھوڑ اس کی گردن کو سہلا رہا تھا جب اٹکتی سانسوں سے وہ بات پوری کرتی اس کی طرف دیکھ بولی تھی ۔۔۔
ہاں سمجھ رہا ہو ا۔۔
کدھر جا رہے اب ۔۔۔
امن کو گود سے باہر نکالے وہ روم سے جاتا بول رہا تھا جب وہ آنکھیں پھاڑے بولی تھی ۔۔۔
مہر سے سوری کرنے ۔۔۔
احمد اپنی جکیٹ پہنے باہر جاتا بولا تھا ۔۔۔
رات کا ایک بج رہی ہے۔۔۔
امن چیخی تھی احمد کے جذباتی پن سے ۔۔۔
ہاں تو مانگ کر آجاو گا معافی غلطی میری ہے ۔۔۔
احمد کہتا اب نکل گیا تھا اب امن نے اپنا سر پکڑا تھا ۔۔۔۔
افففف کتنے جلد باز ہے یہ ہاے ابھی ہی چلے گے سوری کرنے ۔۔۔
امن اب بے چین ہوتی روم میں چکر لگاتی بولی تھی ۔۔۔
شکر مہر تم ابھی کام نہیں کر رہے ہو ۔۔۔
وانیہ نائٹ ڈریس پہنے روم میں آتی سکون سے بیٹھے مہر کو دیکھ بولی تھی ۔۔۔۔
ہاں سوچا تم سے باتیں کر لو ۔۔۔
وانیہ کا ہاتھ پکڑتے اپنے سینے پر گراے وہ مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
باتیں صبح ہو سک۔۔۔
میں سوچ رہا تھا ہنی مون پر جاے ۔۔۔۔
وہ بول رہی تھی جب مہر اس کا گال چومتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
کہاں جانا ہے ۔۔۔
وہ شرماتی بولی تھی ۔۔
جہاں تم کہو گی وہی چلے گے ۔۔۔۔
اب وہ اس کی گردن کے چومتے بولا تھا ۔۔۔
م۔مری چلتے ہے مجھے وہی ج۔۔۔۔
ٹھاہہہہہہہ اوووو سوری مجھے پوچھ کر آنا چاہے تھا ۔۔۔۔
وانیہ مسکراتی بول رہی تھی جب روم کا دروازہ کھولے احمد اندر آتا جلدی سے گھبراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
ل۔لالہ آے۔۔۔۔
مہر اور وانیہ جلدی سے اٹھتے زرا شرمندہ ہوتے بولے تھے ۔۔۔
باہر آ جاو۔۔۔
احمد باہر جاتا بولا تھا ۔۔۔
اففف مہر ڈور تو بند کرتے ہاے لالہ کیا سوچے گے ا۔۔۔۔
تو آغا کی بھی شادی ہو گی ہے انھوں نے کیا سوچنا ۔۔۔
مہررانی تم میرا سوچا کرو اوکے ۔۔۔
وانیہ لال چہرہ لیے بول رہی تھی جب وہ اس کا ماتھا چومتا ہوا باہر جاتا بولا تھا ۔۔۔۔
سوری مجھے ایسے نہیں آنا چ۔۔۔
ارے آغا کوئ بات نہیں یہ گھر بھی آپ کا ہے ۔۔۔
مہر نیچے ہال میں آیا تھا جب احمد جلدی سے بول رہا تھا جب وہ بولا تھا ۔۔۔۔
مجھے معاف کر دو مہر بس وانیہ کے لیے کچھ زیادہ ہی ٹیچی ہو تو بس شروع سے اپنے پاس رکھا ہے اس لیے عادت ہے اس کے لیے فکر مند ہونے کی ۔۔۔۔
احمد زرا شرمندہ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
مجھے خوشی سے آپ کو محبت ہے مہررانی سے بھای ایسے ہی ہونے چاہے جو شادی کے بعد بھی بہن کا خیال رکھے اس سے پوچھے کہ وہ اپنے گھر خوش ہے یا نہیں ۔۔۔
اور یہ سوری نہ کرے کیوں شرمندہ کر رہے ہے مجھے بلکہ میں تو آپ کا شکرگزار ہو آغا میری حقیقت جان کر بھی مجھ جیسے انسان کو اپنی لاڈلہ بہن دی ہے ۔۔۔
میں بہت خوش نصیب ہو آغا ۔۔۔
مہر احمد کے ہاتھوں کو پکڑتے مسکراتا بولا تھا ۔۔۔۔
حازم وقار حدید فارس انس کی طرح تم بھی میرے بھای رہے ہو میں نے کبھی نہیں سوچا تمہارا پاسٹ کیا ہے ہمشیہ زرجان خان کا بیٹا سمجھ کر تم سے پیار کیا ہے ۔۔۔
تم یہ فضول مت سوچا کرو اور رہ گی میری بات تو میں زیادہ ہی وانیہ کے لیے سیریس ہو ۔۔۔
چھوٹی سی تھی جب وہ میرے ہاتھوں میں ننھی پری بن کر آئ تھی بس تبھی شاہد مجھے اپنی جان سے زیادہ عریز ہ۔۔۔
جی جانتا ہو آپ کیوں شرمندہ ہو رہے ہے اچھا لگتا مجھے مہررانی کی جب فکر کرتے آپ آغا ۔۔۔۔
ویسے ہم لوگ مری جا رہے ہنی مون کے لیے ۔۔۔
احمد پھر کھڑے ہوتا بول رہا تھا جب مہر مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
وہاں برف باری ہوتی ہے وانی کو سردی لگ جاتی ہے زیادہ تم ایسا کرنا۔۔۔۔
مری کا نام سنتے احمد فکر مند ہوتا اب دوبارہ وانیہ کے بارے میں مہر کو بتانا سٹارٹ ہو چکا تھا ۔۔۔
وہ اسے بتا رہا وانی کیا کھاے گی کیا پہنے گی ۔۔۔
مہر اپنی مسکراہٹ روکے احمد کی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔۔
ہاہہاہاہاہا ہاہہاہاہہاہاہاہ آغا آپ بھی ساتھ آجاے ایسے مجھ سے زیادہ آپ خیال رکھ لینا۔۔۔۔
مہر قہقہ لگاتا ہوا احمد کو ہگ کرتا بولا تھا ۔۔۔
جب احمد بھی شرمندہ سی مسکراہٹ لاے روکا تھا ۔۔۔
ہاں وہ بس وانی کے کی۔۔۔۔
ریلکس سمجھتا ہو میری بھی بہن ہے امن مجھے بھی فکر رہتی اس کی ۔۔۔
وہ بول رہا تھا جب مہر سکون سے بولا تھا ۔۔۔
چلو تم جاو میں امن کو دیکھ لو جاگ رہی ہو گی وہ ۔۔۔
احمد جلدی سے اٹھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔۔
چاے کافی آغ۔۔۔
نہیں بس سوری یار بس اس ٹائم نہیں آنا چاہے تھا مجھے ۔۔۔
مہر بول رہا تھا جب وہ کہتا باہر گیا تھا ۔۔۔
ہاہہاہاہہاہاہ
احمد کی بات سنتے مہر قہقہ لگاتا اب روم میں جا رہا تھا ۔۔۔۔
روشن دان کدھر تھی تم ۔۔۔
حدید اب روم میں آیا تھا جب روم میں اسے نہ دیکھ کر جلدی سے پریشان ہوتا باہر آرہا تھا جب وہ آہستہ سی چلتی اندر آئ تھی ۔۔۔
تبھی وہ بولا تھا ۔۔۔
ہ۔ہادی ہادیییییی۔۔۔۔
روشانے حدید کو دیکھ اس کے سینے سے لگتی پھوٹ پھوٹ کر روتی چلای تھی ۔۔۔
کیا ہوا تمہیں سب ٹھیک ہے روشنی ۔۔۔
اس کا رونا دیکھ وہ فکر مندی سے بولا تھا ۔۔۔
جبکہ وہ مسلسل آنسو بہا رہی تھی ۔۔۔
کیا ہوا یار کہی پیٹ میں درد تو نہیں ہ۔۔۔
ن۔نہیں نہیں ہادی ۔۔۔
وہ پریشان ہوتا اسے خود سے دور کرتا بول رہا تھا جب دوبارہ وہ سینے سے لگی رو رہی تھی ۔۔۔
یار بتاو گی تو ہی پتہ چلے گا تمہارے آنسو درد دیتے ہے جانتی ہو اچھا رونا تو بند کرو ۔۔۔
کافی دیر وہی کھڑے سینے سے لگاے اسے رونے دیا تھا لیکن اس کا رونا نہ روکتے دیکھ وہ کرب سے بولا تھا ۔۔۔۔
ہ۔ہادی و۔۔۔۔
بولو ہادی کی جان کچھ تو بولو کب سے رو رہی ہو ۔۔۔
وہ ہیچیکاں لیتی ہوی بول رہی تھی جب وہ اس کے آنسو صاف کرتا نرمی سے بولا تھا ۔۔۔۔
ت۔تم مجھے چھوڑنا م۔مت ہادی۔۔۔۔
اس کی گردن میں منہ چھپاے وہ پھر سے روتی بولی تھی ۔۔۔۔
یار بتاو گی تو ہی کچھ پتہ چلے گا ۔۔۔۔
اسے گود میں اٹھاے اب وہ بیڈ کی طرف لے کر جاتے بولا تھا ۔۔۔
جبکہ اب بھی وہ مسلسل رونے میں بزی تھی وہ ایک لفظ بھی نہیں بول رہی تھی ۔۔۔
بیڈ سے ٹیک لگاے سینے پر اسے لیٹاے اب وہ اس کے بال سہلاتا ہوا اس کی سسکیاں سن رہا تھا ۔۔۔
اس نے اسے رونے دیا تھا ۔۔۔۔
جب بھی وہ پوچھتا تبھی وہ زیادہ رونے لگ جاتی تھی ۔۔۔
کیاااااا واقعی تم لوگ جا رہے ہاےےےےے۔۔۔
اگلے دن مہر اور وانیہ آفندی پلیس اے تھے جب مہر نے اپنے ہنی مون کا بتایا تھا تبھی امن چیختی ہوی بولی تھی ۔۔۔
ہاں تم لوگوں نے جانا تو آ جاؤ مزہ آے گا ۔۔۔
وانیہ مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
میری لالہ رومانٹک ہے تمہاری لالہ جیسی نہیں ان رومانٹک ۔۔۔
امن اس کی بات سنتی برا سا منہ بناے بولی تھی ۔۔۔
ہاہہاہاہاہہا کیا یار میرے لالہ اتنے اچھے ہے تمہیں ہی شکایت رہتی ہے ۔۔۔
وانیہ سڑھیوں سے اترتے احمد کو رف ڈریسنگ میں دیکھ قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔
کہاں اچھی ہے وہ مجال ہے کبھی کوئ پیار سے بات کر لے ہر دفعہ ایسا لگاتا جیسے کھا جاے گی ۔۔۔
امن اپنے مگن میں سب بول رہی تھی جبکہ اس کے پیچھے کھڑے احمد نے اپنی مسکراہٹ روکے سنی تھی ساری بات ۔۔۔
خیال رکھنا اپنا بچہ سردی پہلے ہی کافی ہے ۔۔۔۔
احمد کی بھاری آواز اپنے پیچھے سنتے امن وہی سانس روکے کھڑی ہو چکی تھی ۔۔۔۔
جی لالہ ۔۔
مہر اور وانیہ نے مسکراہٹ روکے کہا تھا کیونکہ امن کا رنگ زرد پڑ چکا تھا اس کی آواز اتنے قریب سن کر ۔۔۔
ہم نانی جان سے مل لے۔۔۔
مہر اور وانیہ جلدی سے وردہ بیگم کے روم میں جاتے بولے تھے ۔۔۔
کیا پکایا آج بھوک لگی ہے ۔۔۔
امن کو کمر سے پکڑتے اپنی تھوڑی اس کے شولڈر پر رکھے وہ سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔
و۔وہ کچن میں قورمہ بنایا ہے ۔۔۔
امن اپنے حلق کو تر کرتی بامشکل بولی تھی ۔۔۔
آؤ کچن میں دیکھتا ہو خود بنایا تم نے ۔۔۔
اسے کچن میں ساتھ لے کر جاتے وہ بولا تھا ۔۔۔
چ۔چاچوووووو۔۔۔۔
اپنی کمر پر احمد کے ہاتھ سامنے ہال میں انٹر ہوتے صام کو ہڈی میں ملبوس دیکھ امن چیخی تھی ۔۔۔
چونے ان سب کے لیے بیڈ روم ہوتا ہے یارررر ہم معصوم لوگ ہے ۔۔۔۔
امن کا لال چہرہ اور احمد کی مسکراتی گرین آنکھیں دیکھ صام ان کے قریب آتے شوخ ہوتے بولے تھے ۔۔۔
ارے چاچو جان اب میں نے اپنے ٹیچر سے ہی سیکھنا تھا یہ سب ۔۔۔
احمد ڈھیٹ ہوتا وہی کھڑا بولا تھا ۔۔۔
ٹیچر کون ۔۔۔
صام اپنی گلاسز اتارے شوک ہوتے بولے تھے ۔۔۔
جب احمد نے آنکھ سے اشارہ کیا تھا جیسے کہہ رہا ہو آپ سے بڑا کون ٹیچر ہو سکتا ہے ۔۔۔
آہاننننن لالہ آپ کا بچہ بگڑ رہا ہے اور الزام مجھ معصوم پر ڈال رہا ہے ۔۔۔۔
انیجل دیکھو اپنا ڈمپل بواے ۔۔۔
اس کا اشارہ سمجھتے صام لال چہرہ لیے سب کو چیخ کر بولتے اپنے روم میں گے تھے ۔۔۔
ہاہہاہاہہاہاہاہہاہاہا۔۔۔۔
احمد کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
جبکہ امن کچن میں بھاگ گئ تھی ۔۔۔
اسے تو آج احمد سے ڈر لگ رہا تھا جو ایسے بدلتے رہ رہا تھا اس کے ساتھ
افففف کتنا یمی بنایا ہے مزہ آگیا اس دن بھی کھانا ایسے بنا لیتی باہر سے نہ منگواتا میں ۔۔۔
کچن میں آتے اب وہ قورمہ کھاتے امن کی تعریف کر رہا تھا جب امن کا منہ کھولا تھا ۔۔۔
وہ سب بھی میں نے بنای تھی جو سب نے کھای تھی کھانا ۔۔۔
امن برا سا منہ بناے اب احمد کے سامنے سے برتن اٹھاتی بولی تھی ۔۔۔
میں نہیں مان رہا۔۔۔۔
احمد اپنے لبوں کو ٹشو سے صاف کرتا بولا تھا ۔۔۔
مت مانے آپ میں نے ہی بنای تھی وہ آپ کے والا کھانا ملازم کو دے دیا تھا میں نے ۔۔۔
امن سکون سے باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔۔
تم مجھے اگنور کر رہی ہو ۔۔۔
امن کو باہر جاتا دیکھ احمد اسے کمر سے پکڑتے دیوار سے لگاتے بولا تھا ۔۔۔۔
میں نے کب کی اگنور جھوٹ کم بولا کرے ۔۔۔
امن لال چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔۔
کل سے تمہیں ٹائم دے رہا اور تم ہو کہ بھاگ رہی ہو پہلے تو میرے آگے پیچھے رہت۔۔۔۔
میری تو عشق ہے آپ تبھی پاس رہتی ہو آپ کی کون سی میں عشق ہو بیوی ہی ہو جو آپ کی ہر ضرورت کو پورا کرے گی۔۔۔
احمد اس پر جکھتا ہوا بول رہا تھا جب امن بھی مسکراتی ہوئی اس کی گال کو سہلاتی بولی تھی ۔۔۔
اگر میں تمہیں اپنا عشق بنا لو پھر چھوڑو گی تو نہیں مجھے۔۔۔
امن کے لبوں کو سہلاتے وہ مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
و۔وہ مہر لالہ نے جانا آج مری میں نے ان سے بات کرنی ا۔۔۔۔
امن بہانہ بناتی دور ہوتی بول رہی تھی جب احمد اسے بالوں سے پکڑتے چہرے کو قریب لاتے اس کے لبوں کو قید کیا تھا ۔۔۔۔
ی۔یہ والے نہیں اچھے آپ ۔۔۔
جلدی سے دور ہوتی وہ گہرا سانس لیتی لال چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔۔
ہاہاہہاہاہہاہا تمہیں میں کس روپ میں اچھا لگتا ہو پھر ۔۔۔
احمد دور جاتی امن کے پیچھے قہقہ لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
جب امن مسکراتی ہوئی بھاگی تھی وہاں سے ۔۔۔
لالہ آپ کیوں اس گندے انسان کے گھر پر ماہ پیسوں کا چیک بیھجتے ہے جبکہ وہ اب زندہ نہیں رہا ۔۔۔۔
مہر فون پر بات کرتا اپنے مینجر کو بتا رہا تھا ایک ہیوی آماونٹ کا چیک اہشتام ہمدانی کے گھر دیا جاے ۔۔۔
جو کہ وہ ہر ماہ ایسا ہی چیک بھیجتا تھا ۔۔۔۔
یار اب انہیں کیا پتہ وہ مر چکا ہے ایک ہی بیٹا تھا ان کا ۔۔۔
مہر فون بند کرتا امن کو مسکراتا دیکھ وہ بولا تھا ۔۔۔
مہر امن کو سب بتا چکا تھا ۔۔۔۔
لالہ میں بڑی خوش نصیب ہو آپ میری لالہ ہے سب سے بیسٹ ہے آپ ۔۔۔
امن مسکراتی ہوی اس کے سینے سے لگتی بولی تھی ۔۔۔۔
میں خوش نصیب ہو جو تمہاری جیسی بہن ملی مجھے ورنہ میرے پاس کون سا ایسے رشتے تھے ۔۔۔۔
مہر خود کلامی کرتا بولا تھا ۔۔۔۔
اچھا لالہ آپ وانیہ کو بتا دے یہ سب آپ نے کیا ہے دیکھنا وہ خوش ہو جاے گی آپ کو کتنی محبت ۔۔
نہیں امن میں بہت شرمندہ ہو میری وجہ سے نانا جان کی موت ہو گی وانیہ نفرت کرے گ۔۔۔۔
چٹاخخخخ چٹاخخخخخ۔۔۔
امن اور مہر بات کر رہے تھے جب وہاں سے گزارتے احمد نے ساری بات سنی تھی جب وہ طش میں آتا اسے تھپڑ مارتا ہوا کالر سے پکڑتے سیڑھیوں سے گیھسٹتا ہوا لے کر جا رہا تھا ۔۔۔
آغا اغا ایسا مت کرے میری لالہ کی بات تو سنے آغا ۔۔۔۔
امن روتی چیختی چلاتی اس کے پیچھے جاتی بول رہی تھی جبکہ وہ اسے ایسے ہی لے کر جا رہا تھا ۔۔۔۔
ہال میں بیٹھے سب ہی حیران تھے ہوا کیا ہے ۔۔۔
احمددددددد یہ کیا طریقہ ہے مہر بچہ ہے ہمارا ا۔۔۔۔
نہیں ہے آپ کا بچہ یہ ایک دہشتگرد کا بیٹا ہے جو کہ اس نے ثابت کیا ہے جیسا باپ تھا لوگوں کو مار دیتا تھا ویسے اس نے کیا میرے دادا جان مر گے اس کی وجہ سے وانیہ کی برارت نہیں آئ اس کی عزت خراب کرنے کی کوشش کی اور خودی اچھا بن کر آیا گیا ہمارے سامنے ۔۔۔۔
زرجان مہر کا گربیان احمد کے ہاتھ میں دیکھ غراے تھے جب احمد اسے ہال میں گراتا چیخا تھا ۔۔۔
سب ہی کھڑے ہو چکے تھے ۔۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ ۔۔۔
صام اچانک طش سے چلاے تھے ۔۔۔۔
ا۔آغا جو کہہ رہے ہے وہ سچ ہے میں نے ہی سب کچھ کیا تھا ۔۔۔۔
مہر نظریں چڑہاے بولا تھا ۔۔۔
وانیہ منہ کھلے سب سن رہی تھی ۔۔۔
کتنا غلط تھا میں جو تمہارے لیے ڈبل زی کو کہا تھا کہ اس کے بیٹے بنو گے لیکن افسوس تم وہی نکلے دیکھا دیا اپنا خون تم نے ۔۔۔
تمہاری وجہ سے میرے ڈیڈ چلے گ۔۔۔۔
نہیں چاچو ایسا مت کہے میں نے مہررانی سے محبت کی ہے یہ سب جو کچھ ہوا میں بھی نہیں جانتا تھا یہ سب ہو گا ۔۔۔۔
صام طش سے بول رہے تھے جب مہر کرب سے بولا تھا ۔۔۔۔
چھوڑے چاچو اس کو میں ابھی اسے شوٹ کرو گا ہمت بھی کیسے ہوئ میرے بچے کو اتنی تکلیف دے ک۔۔۔۔
چٹاخخخ۔۔۔
احمد دور کھڑی وانیہ کے آنسو دیکھ غصے سے پاگل ہوتا مہر کے ماتھے پر اپنی جیکٹ سے گن نکالتے اس پر رکھتے بول رہا تھا ۔۔۔
جب امن نے اسے تھپڑ مارا تھا ۔۔۔
ہمت بھی کیسے ہوئ میری لالہ کو اتنا سب کہنے کی ۔۔۔
آپ کو صرف اپنی بہن دیکھتی ہے میں نہیں ۔۔
میری لالہ سب سے بیسٹ ہے جانتے ہے آپ کی بہن کو بچایا اس نے اس شیطان سے ۔۔۔
امن غصے اور غم سے پھٹتی روتی ہوی چلای تھی ۔۔۔
ہال میں صرف اس کی آواز گونج رہی تھی ۔۔۔
جب چاہا بول دیتے ہے میری لالہ کو وہ چپ ہو کر سن لیتے ہے سب ۔۔۔
کبھی سوری مانگ لی تو کبھی ایسا کرتے ہے یہ بھی نہیں سوچتے مجھ پر کیا گزارتی ہے اپنے لالہ کو دیکھ کر ۔۔۔۔
عشق کیا تھا انھوں نے گناہ نہیں جو ایسے سنا رہے ہے میری نظر میں سب ٹھیک تھا یہ ۔۔۔۔
امن کی سب بات سنتے سب کے ساتھ احمد بھی چپ ہوتا شرمندہ ہو چکا تھا ۔۔۔
اسے غصے پر قابو پا کر مہر کی بات سنی چاہے تھی ۔۔۔
اگر آپ کو لگتا وانی نہیں خوش لالہ کے ساتھ تو اپنے پاس رکھ لیے مجھے فخر ہے اپنی لالہ پر ۔۔۔
اور ہاں میری لالہ ہے زرجان خان کا بیٹا جھنوں نے بہت اچھی تربیت کی ہے میری لالہ کو پتہ ہے کہاں غصہ کنٹرول کرکے بات کرنی کہاں نہیں ۔۔۔
لڑکی کی عزت کرنا جانتے ہے وہ تبھی آج تک وہ وانی پر نہیں چلاے نہ ہی غصہ کیا ہے ۔۔۔
کوئ دہشگرد کا بیٹا نہیں وہ ۔۔۔
امن غصے سے لال ہوتی مہر کا ہاتھ پکڑتے ہال سے باہر جاتی چیختی بولی تھی ۔۔۔۔
سب کو سانپ سونگھ گیا تھا اپنی جگہ ہر کوئ شرمندہ سا کھڑے تھے ۔۔۔
ت
تم کدھر جا رہی ہ۔۔۔
مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ جہاں منٹوں میں اپنا بناتے ہے تو منٹوں میں غیر کرتے ہے ۔۔۔۔
احمد سب بھولتا اب امن کا ہاتھ پکڑتے پریشانی سے بولا تھا جب وہ طش سے چیخی تھی ۔۔۔
بیوی ہو میری ایسے نہیں جا سک ۔۔
بیوی ہو عشق تو نہیں جو جا نہیں سکتی مجھے ایسے شخص کے ساتھ نہیں رہنا جو بنا بات کی تصدیق کیے بلاوجہ مارنے پیٹنے پر آ جاتا ہے ۔۔۔۔
احمد غصہ کنٹرول کیے چیخ رہا تھا جب امن بولی تھی۔ ۔۔۔
نہیں نہیں امن دیکھو تم کہتی ہو میں معافی مانگ لو گا مہر سے ایسے ت۔۔۔۔
سوری آغا میں نے آپ کا ہر دفعہ غصہ برداشت کیا آپ کے لیے اپنی جان لینی کی کوشش کی ہر چیز کو سہہ لیا لیکن اپنی لالہ کی انسلٹ میں نہیں برداشت نہیں کر سکتی ۔۔۔
مجھے یہ بہت مشکل سے ملے ہے کبھی لالہ نے فیل نہیں ہونے دیا وہ سگے نہیں ہے آج ان کی انسلٹ پر مجھے بہت دکھ ہو رہا ہے ۔۔۔
کبھی اپنے اس سڑیل خول سے نکل کر باہر آکر دوسروں کی فیلینگز کو فیل کرے تب پتہ چلے گا کسی کو اپنی جان سے عزیز کی انسلٹ پر کیسا دکھ ہوتا ہے ۔۔۔
چلے لالہ ۔۔۔
امن مسلسل روتی اپنی کہتی اب مہر کا ہاتھ پکڑتے باہر نکل گی تھی ۔۔۔۔
امن امن امنننننن ۔۔۔
خود سے دور جاتی امن کو دیکھ احمد وہی چیختا ہوا رویا تھا ۔۔۔۔
آج اسے خود سے دور جاتے دیکھ محسوس ہوا تھا وہ کتنی محبت کرتا اس نادان سی لڑکی سے ۔۔۔
ہر کوئ اپنی ہی نظروں میں شرمندہ ہو رہا تھا انہیں مہر سے پوچھنا چاہے تھا اس نے یہ سب کیوں کیا تھا ۔۔۔
