Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 3)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 3)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
یہ دیکھو کیسا ڈریس ہے میرا ۔۔
سوہا اپنی ریڈ فراک فارس کے سامنے کرتی بولی تھی۔۔۔
بہت پیارا ہے بلکل تمہارے جیسا ۔۔۔
فارس مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔
اسے سوہا کی کمپنی پسند تھی جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتی تھی ۔۔
فارس ہی سے سوہا باتیں کرتی تھی باقی سب کے لیے وہ کھڑوس تھی ۔۔
اچھا چلو تیار ہو جاٶ بڑی ماں بھی تیار ہو گی شاہد ۔۔۔
سوہا کے سنہری بالوں والی پونی کو دیکھتے فارس بولا تھا ۔۔۔
اسے وہ سنہری گڑیا لگتی تھی کیوٹ سی چھوٹی سی ۔۔۔
تم بھی تیار ہو جاٶ فادی ۔۔۔
سوہا شرماتی فارس کے گال پر کس کرتی بولی تھی ۔۔۔
ہاہہاہاہہاہا ۔۔۔
فارس کا قہقہ گونجا تھا سب کے سامنے کھڑوس رہنے والی فارس کے سامنے ہی بچوں والی حرکتیں کرتی تھی ۔۔۔
انہہ ۔۔
اسے قہقہ لگاتا دیکھ سوہا منہ بناتی وہاں سے گی تھی۔۔۔
————————————————————
لالہ جلدی کرے یار وہ روشن دان بڑی ماما کے پاس بیٹھ جاۓ گی ۔۔۔
حدید حازم سے تیار ہوتا بے چین ہوتا بول رہا تھا۔۔۔
جہاں اپنے جیسا بلیک کلر کے شلوار کرتے میں اسے تیار کر رہا تھا۔۔۔
چپ کرے ہو جاٶ مسٹر بین چلے جانا وہاں ۔۔۔
حازم اس کے سر پر تپھڑ مارتا دانت پیستے بولا تھا ۔۔۔
اچھا لالہ ۔۔
حدید اس کے گال چومتا ہوا بولا تھا اسے اپنے بابا کے بعد کوئ انسان زیادہ اچھا لگتا تھا وہ تو حازم صام آفندی ۔۔۔
اچھا لالہ سنے ۔۔
چپ کھڑے حازم کو دیکھ حدید ایک دفعہ پھر بولا تھا ۔۔۔
یہ جو زبان آپ کے پاس ہے اسے ادھار دیا کرے سچی پیسے کماۓ گے ۔۔۔
حدید اس کے گال پر ننھا سا ہاتھ رکھتا شرارتی انداز سے بولا تھا۔۔۔
کیوں۔۔۔
حازم نے صرف ایک لفظ میں سوال پوچھا ۔۔۔
یہ یوز نہیں کرتے مطلب بولتے نہیں زیادہ میں سوچ رہا ت۔۔۔
ہاے تم کتنے پیارے لگ رہے بلکل شہزادوں جیسے ۔۔۔۔
حدید اپنی زبان ٹرین کی طرح چلا رہا تھا جب بلیک فراک پہنے رعنا روم میں آتی بولی تھی ۔۔۔
اب یہ بات کس کو کہی تم نے ۔۔
حدید دانت نکالے بولا تھا۔۔۔
تمہی کہا ہے میں نے کون سا اس سڑیل کو کہہ میں نے ۔۔۔
تم بہت پیارے لگ رہے ہو۔۔۔۔
رعنا اپنی نیلی آنکھوں سے شرارت لیے حازم کا سرخ چہرہ دیکھتی بولی تھی ۔۔۔
تم بھی بہت پیاری لگ رہی مس فائر ۔۔۔
حدید اس کے بالوں کی پونی کیچھتا ہوا بولا تھا۔۔۔
چلو آو باہر چلے ورنہ یہ برفانی ریچھ ہمیں گھورتا ہی رہے گا ۔۔۔
رعنا حدید کا ننھا ہاتھ پکڑے روم سے باہر جاتی بولی تھی ۔۔۔
جبکہ اپنی اتنی توہین پر حازم برا سا منہ بناۓ روم سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔۔
مس فائر لالہ کو تنگ مت کیا کرو یار مجھے بہت عزیز ہے وہ ۔۔۔
حدید باہر آتا رعنا کا چہرہ دیکھتا تحمل سے بولا تھا۔۔۔۔
یار کتنا بور بندہ ہے یہ مجال ہے جو زرا بول لے وہ میں چاہتی ہو وہ بولے لڑے بات کرے بس اس لیے ۔۔
اچھا اپنا یہ کدو جیسی شکل مت بناٶ نہیں تنگ کرتی اس برفانی ریچھ کو ۔۔۔
رعنا حدید کا گال چومتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
جبکہ دور کھڑا حازم نے یہ منظر نفرت سے دیکھا تھا۔۔۔
ہاے اللہٌ۔۔
حدید شرمانے کی ایٹنگ کرتا اپنے چہرے پر چھوٹے سے ہاتھ رکھتا بولا تھا۔۔۔
حدید کی کیوٹ سی حرکت پر حازم پہلی دفعہ مسکرایا تھا۔۔۔
————————————————————
اففف آپی کتنی خوبصورت لگ رہی آپ آج تو آہان لالہ گے کام سے ۔۔۔
ہہاہاہاہاا ہہاہاہاہااہاہا ۔۔
ریڈ کلر کے بھاری لہنگے میں ملبوس دلہن بنی ہیر بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔
جب روحا اس کے گال چومتے ہوۓ قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔
آہان کے روم سے گزراتا صام روحا کا قہق سنتا باہر وہی روک چکا تھا۔۔۔
پیاری تو تم بھی لگ رہی انیجل پھر تو میرا دیور گیا ۔۔۔
ہیر بھی روحا کے گال چومتی بولی تھی جہاں ریڈ بلڈ کلر کی ساڑھی پہنے بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔
کیا آپی ہم آپ کی بات کر رہے آپ نے ڈیول کا نام لے لیا ۔۔۔
ابھی آ جاۓ گے اندر ۔۔۔
روحا سرخ چہرہ لیے بولی تھی ۔۔۔
م۔۔
اچھا چھوڑے یہ ڈوپٹہ لے تاکہ آہان لالہ آپ کا حسین چہرہ دیکھنے کو ترس جاۓ ۔۔۔
ہیر اسے صام کی طرف اشارہ کرتی بول رہی تھی جب روحا ڈوپٹہ اٹھاۓ اس کے سر پر دیتی بولی تھی۔۔
دودھ پلائ کی رسم ہم کرے گے آپی ۔۔۔
روحا خوشی سے پاگل ہوتی خودی بول رہی تھی ۔۔۔
کر لینا اب خوش ۔۔۔
ہیر اپنی بہن کو اتنا خوش دیکھ پیار سے بولی تھی ۔۔۔
انیجل کیا خیال ہے تمہاری بھی رخصتی دوبارہ کی جاۓ ۔۔۔
صام اندر آتا سکون سے بولتا اس کی روح فنا کر چکا تھا۔۔۔
ک۔کیوں ۔۔
روحا اچانک اس کی طرف رخ کرتی ہکلاتی بولی تھی ۔۔۔
تم اتنی خوش ہو بھابھی کی رخصتی پر اگر تم۔۔۔
آپی آپ کو ماما لینے آے گے ہم چلتے ہے یہ تو پاگل ہے ان کی بات پر
غور مت کرنا۔۔
روحا جلدی سے جان بچاتی بھاگتی بولی تھی ۔۔
آجاۓ بھابھی لالہ ویٹ کر رہے اب ۔۔۔
صام ہی ہیر کو لینے آیا تھا۔۔۔
تبھی مسکراتا اپنا بھاری سفید ہاتھ اس کے آگے کرتا بولا تھا۔۔۔
شکریہ دیور جی میری بہن کو اتنی محبت دینے کا اور خیال رکھنے کا ۔۔۔
ہیر اس کا شکرگزار ہوتی بولی تھی ۔۔۔
اور آپ کا شکریہ جو میرے لالہ خوش رہتے ہے ۔۔۔
صام اس کے سر پر ہاتھ رکھتا مسکراتا بولا تھا۔۔۔
———————————————————–
لالہ یہ غلط ہے ہم سب کو دودھ پلائ کی پوری رقم چاہے ۔۔۔
خوبصورت سجاۓ اسیٹچ پر ہیر اور آہان دلہا دلہن بنے بیٹھے تھے جب بلیک فراک پہنے خوبصورت سی تیار یافی بولی تھی ۔۔۔
یار رقم دے تو رہا اب کیا کرو ۔۔۔
آہان رونی شکل بناۓ بولا تھا ۔۔۔
کیونکہ سب نے جیتنے پیسے مانگے تھے وہ دے رہا تھا جبکہ وہ پھر زیادہ رقم دینے کو کہتی تھی ۔۔۔
انیجل بتاٶ کیا کرے اب ۔۔
روحا کے پاس کھڑی مرحا اس کے کان میں سرگوشی کرتی بولی تھی ۔۔۔
ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کیا کرے لالہ تو ہماری بات مان ہی ر۔۔۔
رکو آہان لالہ کو ہم نے دودھ دیا رسم کے طور پر اگر ان سب کو یہ پلایا جاۓ پھر ان سے پیسے لے گے ۔۔۔
روحا خود پریشان ہوتی بول رہی تھی جب پاس کھڑی رانیہ کچھ شیطانی دماغ سے سوچتی بولی تھی۔۔۔
ویسے شرم تو نہیں آتی ہو گی تم سب کو اتنے امیر شوہروں کی بیویاں ہو پھر بھی فقیر کی طرح پیسے مانگ رہی ہو ۔۔۔
پیچھے کھڑے مستقیم اور شعیب نے یک زبان ہوتے ان کا مذاق بناتے کہا تھا۔۔۔۔
ہم سب نے فصیلہ کیا ہے لالہ ہے اب کوئ پیسے نہیں لے گا ۔۔۔
یہ گلاس میں جو بھی چیز ہو گی آپ سب کو پینا پڑے گی تب ہی ہم سب ہیر بھابھی کی رخصتی کرواۓ گے ۔۔۔
ہانیہ اسیٹج پر ایک ٹرے لاتی مسکراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
یہ تو اتنا آسان ہے صرف پینا ہی ہے ا۔۔۔۔
پینا بھی ہے اور جو ہار گیا وہ اپنے جیب میں جیتنی رقم ہو گی وہ دینی پڑے گی ۔۔۔
زرجان سکون سے بول رہا تھا جب ہانیہ اسے ہی دیکھتی بولی تھی ۔۔۔۔
نوفل لالہ نہیں پیے گے یہ ہم سب کے شریف بھای ہے ۔۔۔
نوفل مسکراتا گلاس اٹھا رہا تھا جب یافی بولی تھی ۔۔۔
دیکھو سوتیلی ناگن میں تمہارا معصوم شریف بھای ہو یہ تم میرے حصے کا پی لو ۔۔۔
مستقیم گلاس اٹھاتا اس میں آتی عیجب سی سمیل پر برا سا منہ بناۓ یافی کو مکھن لگاتا بولا تھا۔۔۔۔
اہہہہ سانڈ تم ڈر گے یہ غلط بات ہے تم سے اتنا سا گلاس نہیں پیا گیا۔۔۔
مرحا اس کے شولڈر پر مکہ مارتی رٶٹھے پن سے بولی تھی ۔۔
یہ دیکھو میں نے پی بھی لیا انہہ۔۔۔
مستقیم جلدی سے گلاس کو ایک ہی گھونٹ میں ختم کرتا بولا تھا اب وہی جانتا تھا کتنی مشکل سے وہ پی سکا تھا۔۔۔
یککککک اہہہ ۔۔۔
مستقیم کو دیکھتے زرجان نے بھی گلاس اٹھایا تھا لیکن ایک ہی گھونٹ میں وہ قے کرنے والے انداز سے جھکا تھا۔۔۔
اتنا گندہ ہے یہ جوس بلکل مشعوق کی شکل جیسا یار ۔۔
زرجان مستقیم کی طرف دیکھتا بولا تھا وہ مرحا کی خاطر پی تو گیا تھا لیکن منہ اس نے بھی برا قے والا بنایا تھا۔۔۔
یار مجھ سے نہیں پیا جاۓ گا ۔۔۔
منان اور شعیب نے یک زبان ہوتے کہا تھا۔۔
پینا پڑے گا ورنہ رات کو گھر مت آنا ۔۔
رانیہ اور ہانیہ نے دمھکی دیتے کہا تھا۔۔۔
دونوں نے ایک ہی گھونٹ میں گلاس ختم کیا تھا۔۔۔
ہاےےے اگر میں مر گیا میرے قتل کا کیس صام ٹھرکی پر ڈالنا۔۔۔
شعیب رونی شکل بناے سنجیدہ کھڑے صام کو مکہ مارتا دہای دیتا بولا تھا۔۔۔۔
انہہ کورنا کی جعلی ویکسن ۔۔۔
صام برا سا منہ بناۓ بولا تھا۔۔۔
آپ بھی پیے زرا ڈیول ۔۔۔
سب ہی اب سائیڈ سے کھسکتے ہوۓ دیکھ چلاۓ تھے جب روحا کی توجہ اس پر گی تھی۔۔۔
ہاں ہاں ڈیول پیے گا ویسے رانیہ اس کے اندر کیا ڈالا ہے ۔۔۔
روحا خود سے دور جاتے صام پر اپنا نازک سا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھتی بولی تھی۔۔۔۔
وہ کچن میں جو بھی سامان تھا سب کو ملا کر بنا لیا ۔۔۔
جیسے ادرک ٹماٹر لہسن پیاز مرچ پالک گاجر میتھی کریلا سب کچھ یار اب تو میں بھول گی کیا ڈالا تھا۔۔۔
رانیہ اپنا سر کجھاتے ہوۓ بولی تھی ۔۔۔
جبکہ اس کی بات سنتے صام کو الٹی آنے والی ہو گی تھی ۔۔۔۔
اچھا چلو ایک ڈیل کرتے ہے ۔۔۔
صام آہستہ سے روحا کو کمر سے پکڑے شیطانی مسکراہٹ لاۓ بولا تھا۔۔۔۔
بولو ۔۔
سب بے تاب ہوتے بولے تھے ۔۔۔
دیکھو وہ لان کی آخری حدود تک گیا یہ میرے کاڈر میں بیس لاکھ روپے ہے جو جیتا اسے مل جاۓ گا ۔۔۔۔
صام اپنی پاکٹ سے کاڈر نکالتا سامنے پڑی ٹیبل پر رکھتا بولا تھا۔۔۔۔
میں کاونٹ کرتی ہو ۔۔۔
ون۔
ٹ۔۔۔۔
ارے صامے یہ غلط ہے یار ۔۔۔۔
ہیر چہکتی ہوئ بول رہی تھی جب دیکھتے ہی دیکھتے صام روحا کو اپنے شولڈر پر ڈالے وہاں سے بھاگ چکا تھا ۔۔۔
جب سب نے چلا کر کہا تھا۔۔۔۔
ہاہااہاہاہہاہاہاہاا ڈیول ہو میں ڈیول کسی کی نہیں سنتا ویسے لالہ انجواۓ کرے
صام قہقہ لگاتا اُونچی آواز سے بولا تھا جبکہ روحا کو ابھی تک سمجھ نہیں آیا تھا یہ سب ہوا کیا ہے ۔۔۔
سب ہی اپنی خوشیوں میں بے حد خوش تھے ۔۔
آہان بہت عزت سے ہیر کی رخصتی کروا کر لے کر گیا تھا وہی بچے بھی خوش تھے انہیں اچھے دوست ملے تھے ۔۔۔۔
سب کی نظروں میں وہ سب سے اچھی فمیلی تھی لیکن بہت جلد ان کو نظر لگنے والی تھی ۔۔۔۔
———————————————————–
انکل ایک بات پوچھو آپ سے ۔۔
وقار اپنی گود میں بیٹھی دو سالہ زینب کو دیکھ بولا تھا۔۔۔
ہاں بولو نیلے بلے ۔۔۔
مستقیم مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔
انکل کیا یہ لٹل ڈول مجھے مل سکتی ہے کتنی پیاری ہے ۔۔۔
وقار زینب کی آنکھوں میں دیکھتا سکون سے بولا تھا۔۔۔
م۔مطلب ۔۔۔
مستقیم کی بجاۓ مرحا ہکلاتی بولی تھی۔۔۔
جیسے آپ انکل کے پاس رہتی جیسے ماما بابا کے پاس ویسے یہ لٹل ڈول چاہے مجھے ۔۔۔
وقار ابھی بھی سکون سے بولا تھا۔۔۔
ہاہاہاااہایای ابھی بچے ہو تم جاٶ یہ زنیب دو خود اپنے گھر جاٶ۔۔۔
مستقیم بات کو ٹالتا ہوا قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔۔
گڈ نائنٹ لٹل ڈول میں جلد ہی آٶ گا تمہیں لینے ۔۔۔
زینب کے گال چومتا وقار اپنی آنکھیں اس کی کالی آنکھوں میں گاڑھتے ہوۓ بولا تھا۔۔۔۔
با۔ے باۓ و۔تار ۔۔۔
باۓ وقار۔۔۔
زینب کھکھلاتی ہوئ اپنا ننھا سا ہاتھ ہوا میں لہراتی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
وقار مسکرایا تھا اپنی لٹل ڈول کی حرکت پر ۔۔۔
————————————————————
کیا ہوا ہے خان آپ ایسا ہی کرتے ہے دیکھیں رعنا اب بڑی ہو رہی ہے ۔۔۔
رانیہ کب سے شعیب کو سمجھاتی تھک کر بولی تھی جو گہری نیند سوتی رعنا کو اپنے سینے سے لگاۓ وہ رو رہا تھا۔۔۔۔
اس کا یہ روز کام ہوتا تھا رات ساری وہ ایسے ہی روتا رہتا تھا۔۔۔۔
ر۔رانیہ ت۔تمہیں پتہ میں کتنا بڑا گناہگار بندہ ہو کتنی جانیں لی ہے میں نے ہر لڑکی کے ساتھ برا کیا ۔۔۔
م۔میں اپنے مکافات سے ڈرتا ہو کہ کہی اس کی سزا میری جان سے پیاری بیٹی کو نہ سنہی پڑے ۔۔۔
م م۔میں اپنے رب سے روز معافی مانگتا ہو چاہے مجھے سزا ملے لیکن میری بیٹی کو نہ ملے ۔۔۔
م۔میرے بعد اگر کوئ میری بیٹی کی حفاظت کر سکتا ہے تو وہ۔۔۔
وہ کون ۔۔۔۔
شعیب مسلسل روتا ہوا بول رہا تھا جب رانیہ بھی پریشان ہوتی بولی تھی۔۔۔۔
صام آفندی کا بیٹا ۔۔۔۔
تم نے دیکھا ہے صام نے ہمیشہ بلیک بیوٹی کا کتنا خیال رکھا ہے مجھے یقین ہے اس کا بیٹا بھی میری بیٹی کا خیال رکھے گا میں بات کرو گا ڈیول سے ۔۔۔۔
شعیب اپنے دل کی بات کہتا وہی رعنا کو سینے سے لگاۓ لیٹ چکا تھا۔۔۔۔
رانیہ تو اپنے خان کی حالت دیکھ ترس آتا تو جو اپنے مکافات پر روز روتا تھا۔۔۔۔
لیکن شعیب بھول چکا تھا جس کے حوالے وہ اپنی بیٹی کرنے والا تھا وہی اس کی بیٹی کو درد و تکلیف دینے والا تھا بہت جلد ۔۔۔۔
———————————————————–
“””چند سال بعد۔۔۔۔۔
تو ناظرین جیسا کہ آپ سب دیکھ رہے میں یہاں آپ سب کو لائف ویڈیو دیکھا رہی ہو کیسے ایک سیاست دان کی موت ہو گی ۔۔۔
اس شخص کی موت نے پورے آسلام آباد شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔۔۔۔
باقی کی روپوٹ میں آپ سب کو جلد ہی دو گی تب تک میرے ساتھ رہے آپ سب کی نیوز انیکر زینب مستقیم آفندی ۔۔۔۔
رات کے اندھیرے میں وہ سنسنان ایک ٹوٹی پھوٹی بلڈنگ کے باہر اپنی پوری ٹیم کے ساتھ رپوٹنگ کر رہی تھی ۔۔۔۔
جہاں زمین پر ایک انتہائ وحشت ناک لاش پڑی تھی ۔۔۔
تبھی وہ پولیس کی گاڑی روکتی دیکھ جلدی سے ایک جگہ جا کر چھپ گی تھی ۔۔۔۔
پتہ کیا یہ کس کا کام تھا ۔۔۔
گاڑی سے پولیس کی یونفارم میں ملبوس وہ اپنی رعب دار پرسنلیٹی سے باہر نکلتا لاش کے پاس آتا بولا تھا۔۔۔
س۔سر یہ کام ایول کا ہے یہ دیکھیں اس نے باڈی کے اندر سے ایک چیپ ڈالی تھی جب ہم نے یہ چلائ تو صرف E نام شو ہو رہا اور کچھ نہیں ۔۔۔۔
سپاہی جلدی جلدی ڈرتے ہوۓ بول رہا تھا۔۔۔۔
ہمممم ۔۔۔
وہ اپنی شیو کھجاتا ہوا سوچ میں گم تھا ۔۔۔
ت۔۔۔
السلام و علیکم آئ جی سر ۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ کوئ حکم دیتا جب دوسری گاڑی سے آتے آی جی مستقیم آفندی کو دیکھ اس نے سلیوٹ کرتے کہا۔۔۔۔
وعلیکم السلام ایس پی وقار شعیب خان ۔۔۔
کچھ پتہ چلا یہ کس کا کام ہے ۔۔
مستقیم بہت سیریس انداز سے بولے تھے جبکہ نظریں سامنے پڑی لاش پر تھی جس کی ساری باڈی ایسے جلائ گی تھی سواۓ آنکھوں کے کوئ چیز دیکھائ نہیں دے رہی تھی ۔۔۔۔
ایول کا کام یہ سر اور دیکھے صرف ہر لاش کی آنکھیں چھوڑ دیتا ہے اب اس کی آنکھوں سے ہم کیسے مان لیے یہ وہی سیاست دان ہے ۔۔۔
وقار غصہ ہوتا بولا تھا۔۔۔۔
دیکھ لے گے سب تم یہ لاش لیباٹری بھیجو ۔۔۔۔
مستقیم خود پریشان ہوتے بولے تھے ۔۔۔
جبکہ دور کھڑی زنیب اپنے باپ اور اس انسان کو دیکھتی وہی اس کے پیسنے چھوٹے تھے ۔۔۔۔
و۔وہ ا
آ گیا ہاےے میں کیا کرو اب ۔۔۔۔
زینب پریشان ہوتی جلدی سے اپنی کار میں بیٹھتی چلاتی ہوئ دور چلی گی تھی ۔۔۔۔
وقار وقار میری بات سن رہے ہو ۔۔۔۔
دور جاتی کار کو وقار نے بڑی غور سے دیکھا تھا جب مستقیم اسے مخاطب کرتے بولے تھے ۔۔۔
ج ۔جی سر میں سن رہا بولے کیا کہا ۔۔۔
وقار جلدی سے اپنی توجہ ان کی طرف کرتا بولا تھا۔۔۔۔
جب مستقیم اسے بہت سی باتیں بتا رہے تھے ۔۔۔۔
ہاہاااہااہاہا ۔۔۔
کوئ بھی ایول کو نہیں پکڑ سکتا نہ ہی ایسا کوئ دن آے گا ۔۔۔۔
بلڈنگ کے اوپر وہ گرین ہڈی لیے اپنی وحشت ناک گرین آنکھوں سے نیچے سب پولیس کو دیکھتا طنزیہ قہقہ لگاتا بولتا اب اپنے گلابی ہونٹوں میں سگریٹ کو دباۓ وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا تھا۔۔۔۔
اگر پولیس دیکھ لیتی جس ایول کو وہ مسلسل دو سالوں سے ڈھونڈ رہے تھے وہی ان کے کتنا قریب تھا تو شاہد اسے پکڑ پاتے ۔۔۔۔
