Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 28)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 28)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
“”ماضی ۔۔۔
جان کب تک ایسا ہو گا امن کو کتنا تیز بخار ہے ۔۔۔
یافی زرجان کے پاس آتی پریشانی سے بولی تھی ۔۔
پتہ نہیں کون سا بھای چاہے اس کو میں نے وہاں دیکھا کوئ بھی لڑکا ایسا نہیں تھا جیسا امن بتا رہی ہے ۔۔۔
زرجان خود بھی پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
ب۔بابا میلی لالہ لاے۔۔۔۔
اس سے پہلے یافی کچھ کہتی جب امن روم سے نکلتی بخار میں پپتی ہوی رینگ کر آئ تھی ۔۔۔
ہم کوئ اور بچہ لے آتے ہ۔۔۔
نہیں وہی لالہ چاہے مجھے ۔۔۔
زرجان اس کا گال چھوتا نرمی سے بول رہا تھا جب وہ روٹھی سی بولی تھی ۔۔۔
یافی وہ لڑکا وہی ایریا میں ہے جہاں دو دن بعد صام آرمی کی ریٹ کرنے والا ہے دہشگرد ہے وہاں ان کا بیٹ۔۔۔
جان وہ معصوم سا بچہ ہے اس کا کیا قصور آپ لے آے ہم پال لے گے ویسے بھی ہمارا بیٹا ہوگا وہ ۔۔۔
زرجان بول رہا تھا جب وہ سکون سے بولی تھی ۔۔
ہمممم میں صام سے بات کرتا ہو وہ خیال رکھے اس بچے کا اگر مل جاے ۔۔۔
زرجان مسکراتے ہوے بولا تھا ۔۔۔
سوہا کدھر ہے لالہ ۔۔۔
چار سالہ حدید حازم کے پاس بیٹھا منہ بناے بولا تھا ۔۔
فادی کے پاس ہے ۔۔
وہ سکون سے بولا تھا ۔۔
لالہ یہ فادی کے پاس کیوں رہتی ہے ہم اچھے نہیں کیا ۔۔۔
حدید جلیس ہوتا بولا تھا ۔۔
اسے وہ پسند ہے تبھی اور ہم دونوں بھی تو اپنی سوہا کو پسند ہے ۔۔۔
حازم اپنا ننھا سا ہاتھ حدید کے بالوں میں ڈالے سکون سے بولا تھا ۔۔۔
لالہ آپ جانتے ہے امن کو بھای چاہے ۔۔۔
حدید کچھ سوچتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
پھر۔۔۔
وہ سکون سے اپنی آئ برو اچکاتے بولا تھا ۔۔۔
میں لالہ بن جاو اس کا ویسے بھی سوہا ہمارے پاس نہیں آتی ۔۔۔
حدید شدید جلیس ہوتا اپنا پلان بناے بولا تھا ۔۔۔
کیا ہوا کچھ ہوا ہے ۔۔۔
حازم اس کے پریشان ہوتا بولا تھا ۔۔۔
لالہ سوہا ہم دونوں کی بیٹی ہے تو وہ ہمارے پاس رہ کرے جیسے روشن دان زینی وانی اپنے بابا کے پاس رہتی ہے ۔۔۔
حدید ایک ہی بات سوچتا بولا تھا ۔۔۔
ہاں ہماری بیٹی ہے لیکن اسے دوست بنانے کا حق ہے ۔۔۔
حازم اس کا گال چھوتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
حدید ایسا ہی تھا ہر چھوٹی بات کا ایشو بنا لیتا تھا ۔۔۔
وہ اپنی ہر بات اس سے شئیر کرتا تھا ۔۔۔
ل۔۔۔
ارے ہماری گڑیا آئ ہے یہاں آو ۔۔۔
دو سالہ زینب قالین پر رینگ رہی تھی جب وہ حازم کے پاؤں کے آئ تھی ۔۔۔
تبھی وہ گول مولو سی زینب کو اٹھا کر گود میں بیٹھایا تھا ۔۔
ب۔بھوت۔ل۔لالہ۔۔
حازم کے ڈمپل پر اپنی ننھی سی انگلی رکھے وہ کھکھلا کر بولی تھی ۔۔۔
میرے لالہ بھوت نہیں ہے چونٹی ۔۔۔
حدید اس کی طرف دیکھ منہ بناے بولا تھا ۔۔۔
دور رہو میرے لالہ ہے ۔۔۔
سوہا جو لان میں فادی کے ساتھ کھیل رہی تھی جب بھاگ کر آتی ایک سائیڈ پر بچھے قالین پر بیھٹے حازم حدید زینب کو دیکھتی بھاگتی ہوی آتی حازم کی گود میں بیٹھی تھی ۔۔۔
پیچھے ہو جاو کیا ہمارے بیٹے کی جان لینی ہے پہلے ہی اسے بخار ہے ۔۔۔
روحا جو لان میں یہ دیکھنے آئ تھی کہ بچے کیا کر رہے ہے اب حازم کی ایک ٹانگ پر حدید دوسری پر زینب گود میں سوہا کو بیٹھا دیکھ وہ چیختی ہوی بولی تھی ۔۔
ہم ٹھیک ہے انیجل ۔۔۔
حازم اپنی ماما کو دیکھ چمکتی گرین انکھوں سے دیکھ بولا تھا ۔۔۔
مجھ سے کوئ پیار نہیں کرتا ۔۔۔
حدید کا ڈرامہ سٹارٹ ہو چکا تھا ۔۔۔
تم تو ہمارے گھر کے لاڈلے بیٹے ہو مجھے اپنے ہادی سے بہت پیار ہے ۔۔
دس سالہ احمد مسکراتا ہوا باہر آتا حدید کو دیکھ بولا تھا ۔۔۔
ہہاہہاہاہاہہاہہاہاہاہہا یہ بندر رکھو لو لالہ میرے ہے اب ۔۔
سوہا دل کھول کر قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔۔
میں تمہارا منہ توڑ دو گا لالہ میرے ہے ۔۔
حدید اچانک اس کے گال پر تھپڑ مارتا خودی روتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
اب صورت حال یہ تھی سوہا کو ہی مار کر وہ اسی کے گلے لگے گلا پھاڑ کر روتا بول رہا تھا ۔۔
افففف صام ٹھیک کہتے ہے کیسے بچے ملے ہے ہمیں ۔۔۔
حدید کا رونا دیکھ وہ پریشان ہوتی اسے گود میں اٹھاے بولی تھی ۔۔۔
زینب کو احمد اٹھا چکا تھا جبکہ سوہا حازم کی گود میں جا رہی تھی اور ساتھ فارس کا ہاتھ بھی پکڑ رکھا تھا ۔۔۔
بہت غلط کیا صام آپ نے سارے بچوں کو آپنے ساتھ لے گے وہ بھی اس ایریا میں جہاں خطرہ اتنا ہے ۔۔۔
روحا اب فون میں طش سے بول رہی تھی جبکہ صام مسکرایا تھا ۔۔۔
افففف انیجل کچھ نہیں ہوتا بچوں کو ۔۔۔
میں ہو یہاں بلکہ سب ہی ہے یہاں اب امن کے لیے اس بچے کو ڈھونڈنا تو ہے ۔۔۔
صام اب اسی جگہ کو آس پاس دیکھتا ہوا بولا تھا ۔۔۔
وقار ۔احمد حازم حدید ۔چاروں وہی کار میں بیھٹے تھے جبکہ اسی کار کے پاس چالیس کے قریب گارڈز کھڑے تھے ۔۔۔
آپ سے بات کرنا فضول ہ۔۔۔
میرے ساتھ رومینس کرنا فضول نہیں ہے انیجل وہی کرنا اوکے ۔۔۔
روحا بول رہی تھی جب وہ شوخ ہوتا بولا تھا ۔۔۔
توبہ ہے ہماری جو آپ سے بات کی افففف افففف۔۔۔
روحا سرخ چہرہ لیے فون کان سے ہٹاتی بولی تھی ۔۔۔
ہاےےےےے تمہاری وہ چین جو پیٹ پر لگی ہے ا۔۔۔
ٹھرکی انہہہ ۔۔
صام اسے تنگ کرتا بول رہا تھا جب وہ جلدی سے لال چہرہ لیے فون بند کر چکی تھی ۔۔
لالہ وہ دیکھیں کوئ کسی کو مار رہا ہے ۔۔۔۔
کار کی ونڈو سے باہر اپنی ننھی سی گردن باہر نکالے حدید ایک طرف دیکھ بولا تھا ۔۔۔
بیھٹے رہو ہادی ڈیول ڈیڈ نے کہا تھا باہر نہیں نکلنا ۔۔۔
حازم اسے ڈاٹتا ہوا بولا تھا ۔۔
لیکن ل۔۔۔
چپ بلکل ۔۔۔
وہ بول رہا تھا جب وہ بولتا اسے چپ کروا گیا تھا ۔۔
کیا ہوا ملا وہ لڑکا ۔۔
صام اپنے آفسررز کو بستی سے باہر آتا دیکھ بولا تھا ۔۔۔
نہیں سر جیسا آپ نے بتایا یہاں وہ لڑکا نہیں ہے شاہد وہ چلے گے ہو ۔۔۔۔
وہ سب سکون سے کھڑے بولے تھے ۔۔۔
ہاں ایسا ہی ہو سکتا ہے ایسا کرو کل ہم یہاں ریٹ کر رہے ہے یہ کام بہت جلدی کرنا ہے ٹیم تیار رکھنا ۔۔۔
فون کان کو لگاے وہ بزی سا بولا تھا ۔۔۔
دیکھو یہ واپس کرو میری بہن کی ہے ۔۔
مہر اپنے گھر سے نکلتا ہوا ساتھ والی دوکان سے چھوٹی سی گڑیا لایا تھا ۔۔۔
وہ امن کے لیے خرید رہا تھا وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ دوبارہ امن اسے ملے گی یا نہیں لیکن وہ دل کی تسلی کے لیے لے رہا تھا ۔۔۔
جب اسی بستی کے چار پانچ لڑکوں نے اس سے وہ چھن لی تھی تبھی وہ غصہ کرتا بولا تھا ۔۔۔
تم اور لے لو یہ ہماری ہے ۔۔۔
ان سب نے گڑیا کو پکڑتے کہا تھا ۔۔۔
جب کہا ہے میری بہن کی ہے تو دو واپس ۔۔۔
زمین سے انیٹ اٹھاے اب وہ طش سے بولا تھا ۔۔۔
امن کے جانے کے بعد مہر کا دل اپنی زندگی سے اٹھ گیا تھا وہ اب اکیلا نہیں رہنا چاہتا تھا یہی وجہ تھی سب کو اکٹھا دیکھ وہ غصہ کرنے والا اور چڑچڑا ہو گیا تھا ۔۔۔
یہ دیکھ ہم نے توڑ دی ا۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہ اہہہہہہ۔۔۔
وہ اسے چڑہاتے گڑیا کا ہاتھ توڑتے بول رہے تھے جب مہر نے انیٹ اٹھا کر ماری تھی ۔۔۔
وہ چاروں چیختے چلاتے اس پر حاوی ہوتے اب اسے مار رہے تھے ۔۔۔
دور کھڑی گاڑی میں حدید نے یہ منظر دیکھ کر چلایا تھا جب حازم نے منع کیا تھا ۔۔۔
آپ وہ لڑای ختم کروا دے ۔۔۔
احمد کار سے باہر آتا گارڈ کی طرف دیکھ سکون سے بولا تھا ۔۔۔
وقار احمد حازم حدید سب نے ہی چھوٹی چھوٹی بلیک ہڈی پہنی تھی ۔۔۔
گارڈز نے جا کر مہر کو ان سب سے بچایا تھا جو خود بھی خون سے لہو لہان ہوا تھا ۔۔۔۔
اسے بہت دکھ تھا گڑیا کے ٹوٹ جانے کا ۔۔۔
یہ لو پانی پی لو ہم تمہیں دوسری لا دیتے ہے ڈول ۔۔۔
حدید گارڈز کے ساتھ ہی بھاگتا ہوا وہاں آیا تھا جب احمد حازم وقار بھی ساتھ آے تھے ۔۔۔
تبھی اداس سے بیھٹے مہر کو دیکھ حازم پانی کی بوتل اسے دیتے بولا تھا ۔۔۔
مہر نے پہلی دفعہ اتنے خوبصورت بچے دیکھے تھے جو شکل اور کپڑوں سے ہی امیر ترین لگ رہے تھے وہ خود بھی خوبصورت تھا لیکن اس کے پاس ایسے کپڑے نہیں تھے جیسے انہوں نے پہنانے تھے ۔۔۔۔
مہر نے خاموشی سے پانی کی بوتل پکڑ لی تھی ۔۔۔
یہ خون زیادہ نکل گیا تمہیں اسے مارنا چاہے تھا ۔۔۔
احمد اور حازم کی گھوریوں کو اگنور کیے حدید اس کے قریب جاتا ہڈئ سے رومال نکالے اس کا گال صاف کرتا بولا تھا ۔۔۔
انہہہ امیر لوگ ۔۔۔
مہر رومال اس لیتا خودی برا سا منہ بناے بولا تھا ۔۔۔
یہ اٹیٹیوڈ کس کو دیکھا رہے ہو ایک تو ہم نے تمہیں بچایا اوپر سے ہمیں ہی نکھرہ انہہہ ۔۔
حدید کا اچانک چہرہ اداس ہوا تھا جیسے مہر بولا تھا تبھی حازم آگ بگولہ ہوتا مہر کو گردن سے دبوچتے ہوے طش سے بولا تھا ۔۔۔
لالہ چھوڑے وہ اداس ہے ہمیں مدد کرنی۔ چاہے اس ک۔۔۔
انھوں نے تمہیں مارا تو ہم بھی مارے گے ۔۔۔
حدید بول رہا تھا جب احمد کے ماتھے پر پیتھڑ پڑا تھا ۔۔۔
اب اتنا تو حق بنتا ہے ہم سب کا یہ دیکھانے کا ہم کس خاندان سے ہے ۔۔۔
زمین پر پڑے ڈنڈے کو پکڑے حازم گردن ٹیڑھی کرتا ہوا اپنی چمکتی گرین سرد آنکھوں سے وہ بولا تھا ۔۔۔
سامنے وہی چار آوارہ لڑکے کھڑے تھے ۔۔۔
صام انکل ہینڈل کر لے گ۔۔
ڈیول کے بیٹے ہے ہم کسی سے نہیں ڈرتے ۔۔۔
وقار بول رہا تھا جب حازم ڈنڈے کو گھومتا ہوا سامنے والے کے ماتھے پر مارتا غرایا تھا ۔۔۔
حازم کا ایسا وار دیکھ مہر ہکا بکا کھڑا ہو چکا تھا ۔۔۔
میرے لالہ ہے یہ ۔۔۔
حازم کی طرف دیکھ حدید فخر سے مہر کو بتایا تھا ۔۔۔
کمال ۔۔۔
حازم کو ان سب سے لڑتا دیکھ مہر بھی امپریس ہوتا بولا تھا ۔۔۔
پکڑے آغا ابھی تو فلم سٹارٹ ہوی ہے ۔۔۔
حازم انیٹ احمد کو پکڑاتا آنکھ ونک کرتا بولا تھا ۔۔۔
حدید اور مہر کو چھوڑ وقار حازم احمد نے ان چاروں کی چیٹنی بنای تھی ۔۔۔۔
وہ بنا کسی کی پرواہ کیے مسلسل وار کر رہے تھے ۔۔۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔۔۔
کافی دیر اب سب کو مارتے وہاں صام طش سے اتے غراے تھے ۔۔۔
گارڈز کے منع کرنے پر بھی وہ نہیں روکے تھے اب تو حدید اور مہر بھی ان کے ساتھ مل کر مار رہے تھے ۔۔۔
ڈیول۔ڈی۔ڈیڈ یہ کمزور لوگوں کو مارتے ہے ۔۔۔
ماتھے سے بہتے خون کی پرواہ کیے بنا وہ گہرے سانس لیتا بولا تھا ۔۔۔
چھوڑو سب یہ ا۔۔۔۔
ہمارے بیٹے یا بیٹی پر کسی نے گندی نظر یا مارنے کی کوشش بھی کی تو ہم قہر بن کر برسے گے تمہیں اپنی یہ چند سانسیں راس نہیں آئ ۔۔۔
مہر اور حدید دونوں ایک لڑکے کو مار رہے تھے جب وہ دونوں صام کو دیکھ رہے تھے جب پیچھے والا لڑکا نے لوہے کا راٹ اٹھاے حدید کے سر پر وار کرنے کی کوشش کی تھی جب حازم صام کی بات اگنور کرتا بھاگ کر حدید اور مہر کے آگے آتا غرایا تھا ۔۔۔
حازم کی ننھی سی کمر پر وہ لوہے کا راٹ لگا تھا ۔۔۔
صام کا منہ کھولا تھا اپنے چار سالہ بیٹے کی اتنی وحشت دیکھ کر جو اپنی پرواہ کیے ان سے لڑتا اپنے بھای کو بچا رہا تھا ۔۔۔۔
پکڑو ان بچوں کو ۔۔۔
احمد اور وقار کو بھی زخمی دیکھ صام نے حکم دیا تھا ۔۔۔
ہمارے بیٹے کے ہاتھ پر چار جگہ پر خون نکل رہا ہے ہم تمہارا یہ ہاتھ ہی توڑ دے گے جس کا استعمال کیا ہے ۔۔۔
صام احمد وقار حدید۔ حازم کو لے کر جا رہے تھے جب
وہ دوبارہ ان سب لڑکوں کے پاس اتا غرایا تھا وہ سارے بچے بھی زخمی ہوی ان نڈھال ہو چکے تھے ۔۔۔
مہر بھی سائیڈ پر کھڑا تھا ۔۔۔
جب حازم دوبارہ پتھڑ اٹھاے اس لڑکا کا ہاتھ پکڑے اسے کچلتے ہوے غرایا تھا ۔۔۔
شکریہ تمہارا ۔۔۔
صام دور جاتے کار میں بچوں کو بیٹھا رہے تھے جب حازم اپنے کام سے فارغ ہوتا جا رہا تھا جب مہر پاس آتا مسکراتا بولا تھا ۔۔۔
جب تک تم خود کو بہادر نہیں بناو گے تب تک یہ دو ٹکے کے لوگ تمہیں کمزور بناے گے ۔۔۔
حازم اپنے رومال سے اس گال صاف کرتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
ی۔یہ تمہارے ڈیڈ تھے ۔۔۔
مہر صام کی پرسلنٹی کو دیکھ خوش ہوتا بولا تھا ۔۔۔
ہاں ۔۔
وہ یک لفظ بات کہتا اب دور جا رہا تھا ۔۔۔
جبکہ مہر ان سب کو دور جاتا دیکھ کر مسکرایا تھا ۔۔
اور ایک نظر نڈھال سے زمین پر گرے بچوں کو دیکھ مسکرایا تھا ۔۔۔
یار انیجل یہ غلط ہے میں بچوں کو لندن بھیج ہی دیتا ا۔۔۔۔
صاممممم ہمارے ننھے سے بچے ہے آپ کو کیا مسئلہ ہے ابھی تو وہ سکول بھی نہیں جاتے ۔۔۔
صام کو ایک بار پھر بچوں کو لندن بھیجنے کا دورہ پڑ چکا تھا ۔۔
میں نہیں چاہتا تم لوگ یہاں رہو ۔۔
کی۔کیا مطلب ہے ہمیں بھی بھیج رہے ۔۔
روحا جلدی سے پریشان ہوتی اس کے سینے سے لگے بولی تھی ۔۔۔
انیجل وعدہ کرو مجھے کچھ ہو گیا تم دوسری ش۔۔
چٹاخ ہم آپ کی ویسے ہی جان لے لیتے ہے تاکہ یہ آپ کی تڑپتی ہوئ روح نکل جاے ۔۔
اپنے فون پر مسلسل کال آتے دیکھ صام بول رہا تھا جب وہ اسے تھپڑ مارتی کالر سے پکڑتے بولی تھی ۔۔
میں نے ویسے ہی بات کی تھی یار کتنی زور سے مارا ہے ۔۔
صام اسے اچانک روتا دیکھ جلدی سے سینے سے لگاے بات بدلتا بولا تھا ۔۔
پھر ایسے بات کیوں کی صام جانتے ہے ہماری سانس ر۔۔۔
صام کے لال گال پر اپنے لب رکھے وہ بول رہی تھی جب روحا کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑتے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھ چکا تھا ۔۔۔۔
صام کا جنونی اور شدت بھرا لمس پاتے روحا دل و جان سے کانپتی اسے شولڈر سے پکڑ چکی تھی ۔۔۔
چ۔چھوڑے ص۔صام بچے دیکھ رہے ہے ۔۔
جلدی سے روم میں انٹر ہوتے حدید کو دیکھ روحا دور ہوتی گہرے سانس لیتی بولی تھی ۔۔۔
حدید جو منہ کھولے ویسے ہی کھڑا تھا ۔۔۔
ماما۔ آپ کو کیا ہوا ۔۔۔
حدید پریشان ہوتا روحا کا لال چہرہ دیکھ بولا تھا ۔۔۔
ہہاہاہہاہاہاہہاہاہہاہاہاہہاہا اب بتاو شوق سے انیجل کیا ہوا تمہیں ۔۔۔
صام شرمندہ سی روحا کو دیکھ قہقہ لگاتا ہوا حدید کا گال چومتا بولا تھا جو ابھی بھی فکر مندی سے دونوں کا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔
حازم کدھر ہے ۔۔۔
روحا حدید کا گال چومتی ہوی بولی تھی ۔۔۔
وہ سوہا کا کام کر رہے ہے ۔۔۔
حدید کی بات سنتے صام اور روحا کا قہقہ گونجا تھا ۔۔۔
کیونکہ وہ جانتے تھے سوہا کا کام تھا اسے تیار کرنا جو کہ حازم خود اسے تیار کرتا تھا ۔۔
خیال رکھنا اپنا ۔۔۔
روحا کا ماتھا چومتے صام جلدی سے فون کان کو لگاے باہر گیا تھا ۔۔۔
جاو حازم اور سوہا کو لاو ہم آتے ہے ۔۔۔
روحا جلدی سے حدید کو نیچھے اتارے خود صام کے پیچھے بھاگتی بولی تھی ۔۔۔
جبکہ ننھا سا حدید پریشان ہوا تھا اپنے ماں باپ کو دیکھ کر جو ایسی حرکتیں کر رہے تھے ۔۔
ہم نے ابھی گڈ باے کہنا تھا ڈیول ۔۔
روحا بھاگ کر باہر آئ تھی جہاں پانچ چھ آرمی کی گاڑیاں کھڑی تھی جبکہ صام اپنے کار میں بیٹھ رہا تھا ۔۔۔
گڈ باے کہا تو دیا تھا اب یہاں آنے کا فائدہ ۔۔۔
کار میں بیٹھتے صام نے اسے اگنور کیے اپنی آرمی ہڈی پہنتے کہا تھا ۔۔۔
آپ نے کہا تھا لیکن ہم نے نہیں ۔۔۔
جلدی سے کار کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھتی روحا نے کار کا بٹن دباے کار میں بلیک شیشے گراے تھے ۔۔۔
بلیک شیشوں کی وجہ سے باہر کچھ نہیں دیکھای دیتا تھا اندر کیا ہو رہا ہے ۔۔۔
ہم انتظار کرے گے ڈیول ۔۔۔
اپنی انیجل کو انتظار مت کروانا ۔۔۔
صام کو کالر سے پکرتے اسے اپنے قریب لاتی سرگوشی کرتی بولی تھی ۔۔۔
تمہیں کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ میں کوئ میشن کو ختم کرنے جا رہا ہو ۔۔۔
صام اب اپنی واچ کو دیکھ بولا تھا ۔۔۔
وہ ابھی بھی روحا کی آنکھوں میں نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جب آپ نے اپنا میشن کمپلیٹ کرنا ہوتا ہے تبھی ایسے نظریں چڑہاتے ہ۔۔۔
کیونکہ میں سمجھتا ہو ہر میشن میں لاسٹ ہو گا پتہ نہیں کب موت گلے لگا لے مجھے۔۔۔
روحا صام کی گلاسز لگی آنکھوں پر اپنے لب رکھتی بول رہی تھی جب وہ کمر سے پکڑتے اپنے قریب کرتے اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھتا بولا تھا ۔۔۔
پتہ نہیں کیوں اتنا فضول بولتے پھر زہر ل۔۔۔
جسیٹ ٹو منٹس روحا ۔۔۔
باہر گاڑیوں کا ہائرن سنتے صام دو ٹوک بولا تھا ۔۔۔
جلدی آنا آپ جانتے ہے ہمیں نیند نہیں آتی آپ کے بنا ۔۔
روحا اپنے لب اس کے لبوں پر رکھتی آنسو بہاے بولی تھی ۔۔۔
واپس آیا میں تو تمہارے یہ ہر آنسو کی سزا دو گا ۔۔۔
روحا کی خوشبو میں خود کو بہکنے سے روکتے وہ جلدی سے دور ہوتا دو ٹوک بولا تھا ۔۔۔
انہہہہ ٹھرکی ۔۔۔
صام کے کان کی لو کو کاٹتے وہ جلدی سے کار سے نکلتی باہر کو بھاگی تھی ۔۔۔
صام اس کی بچوں جیسی حرکیتں دیکھ مسکرایا تھا ۔۔۔
کام ہو گیا ۔۔۔
رات کو مہر کی ماں نے اپنے شوہر سے پوچھا تھا ساتھ ہی مہر سونے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔
مہر کو اتنا زخمی دیکھ کر بھی انہیں ترس نہیں آیا تھا نہ ہی انہوں نے اس سے پوچھا تھا کیا ہوا ہے ۔۔۔
ہاں ہو گیا پورے چھ ہزار بچے گروجی کے پاس بیھج دے ہے اب ہم نے یہاں بمب بلاسٹ کرنا ہے ۔۔۔
اس کا باپ سکون سے بولا تھا ۔۔۔
آج رات ہی ہونا چاہے کام تم جانتے ہو کوئ کرنل صام ہے جس نے کل رات یہاں ریٹ کرنی ہے ہمیں ابھی جانا ہو گا ۔۔۔
اس کی بیوی سرگوشی کرتی بولی تھی ۔۔۔
ہم چلے جاے لیکن اس کا کیا کرنا ہے ہر جگہ ساتھ رہتا ہے مجھے تو ڈر ہے یہ کہی کسی کو ہمارا نہ بتا دے۔۔۔
اس کا شوہر اب سوتے مہر کو دیکھ نفرت سے بولا تھا ۔۔۔
میں نے تو کہا تھا جن بچوں کو گروجی کے حوالے کر رہے ہو اسے بھی کر دیتے زندگی کا عذاب بنا ہے ۔۔
وہ بھی نفرت سے بولی تھی دونوں ہی اپنے پلان میں بزی تھی جبکہ پاس لیٹے مہر نے کرب سے سوچا تھا وہ کیوں پیدا ہوا تھا ۔۔۔
سر یہاں سب کو نکال دیا ہے ہم نے ۔۔۔
رات کے اندھیرے میں وہ سب کھڑے صام کے پاس آتے ایک آرمی آفسرز نے کہا تھا ۔۔۔
وہ شام سے وہاں پہرا دیے کھڑے ہوتے بستی سے سب کو نکال چکے تھے ۔۔۔۔
ہمممم گڈ ورک لیکن وہ بچہ ملا کہ نہیں ۔۔۔
صام آہان مستقیم زرجان منان وہی کھڑے تھے جب زرجان فکر مندی سے بولا تھا ۔۔۔
نہیں سر ہمیں ایسا کوئ بچہ نہیں ملا ۔۔۔
آفسرر نے سر جھکاے کہا تھا ۔۔۔
ہم ڈھونڈ لے گے پہلے وہ کپل کو پکڑ لیے جھنوں نے بمب فٹ کیے تھے ۔۔۔
صام اپنی ہڈی کی پاکٹ سے گن نکالے بولا تھا بمب ڈیکیٹو کرنے والے وہ آدمی لایا تھا جنھوں نے بستی کے ہر گھر سے بمب کو ڈی فیوز کیا تھا سواے ایک گھر کہ جہاں وہ کپل رہائش پذیر تھا ۔۔
امن کو بلاو ڈبل زی کیونکہ اس نے وہ لڑکے کی شکل دیکھی ہے ا۔۔۔
لیکن صام یہاں خطرہ ہے می۔۔
جہاں ڈیول ہو وہاں خطرے سے نہیں ڈرتے تم بلاو جلدی ٹائم نہیں ہے ۔۔۔
زرجان بول رہا تھا جب صام نوفل کے ہاتھوں میں سوتی امن کو دیکھ بولا تھا جو وہ یافی سے چھپا کر لاے تھے اسے یہاں تاکہ وہ مہر کو پہنچان سکے ۔۔۔
سر بیس منٹ ہے بمب کے بلاسٹ ہونے میں ہمیں وہ کپل پکڑنا ہو گا ۔۔
آرمی کے آدمی صام کی طرف دیکھ بولے تھے ۔۔۔
ی۔یہ یہاں کیسے آ گے ہمیں جانا تھا ۔۔۔
اچانک اپنے مکان کے دروازے پر دستک اور ساتھ ہی صام کی غراہٹ سنتے وہ کانپتے بولے تھے ۔۔۔
مہر کی طرف دونوں نے ہی نہیں دیکھا تھا جو بیڈ کے ساتھ والے ٹیبل کے نیچے ڈرتا ہوا چھپ گیا تھا ۔۔۔
نکلو باہر ورنہ ہم سے برا کوئ نہیں ہے خود کو سرنڈر کرو۔۔۔
صام مسلسل دروزاے کے پیچھے سے غراتا بولا تھا ٹائم مسلسل ختم ہو رہا تھا ۔۔۔
اسے ڈر تھا کہی اسے دھماکے میں وہ ننھی سی جان نہ مر جاے ۔۔۔
س۔سر اندر جانا خطرہ ہے ل۔۔۔
صام صامے صامےےےےےےے۔۔۔
صام کے کولنگ اسے روکتے بول رہے تھے جب اندر مسلسل خاموشی دیکھ صام دروازہ توڑتا ہوا اندر گیا تھا ۔۔۔
سڑک کے دوسری پار کھڑے آہان مستقیم نوفل زرجان منان سب ہی چیخے تھے ۔۔۔۔
ایسے ماں باپ ہوتے ہے جو خود بھی مرتے ہے اپنے معصوم بچے کو بھی مار دیتے ہے ۔۔۔
پوری آرمی فورس اندر آتی پورے مکان کو چیک کیا تھا جب انہیں مہر کہی نہیں دیکھای دیا تھا تبھی وہ اس کے باپ کو گربیان سے پکڑتے باہر لاتا غرایا تھا ۔۔۔
ان دونوں کو آرمی پکڑے اپنی گاڑی کی طرف لے گی تھی ۔۔۔
جبکہ صام وہی اکیلا کھڑا سوچ میں بزی تھا مہر گیا کہاں ہے ۔۔۔۔
جو انہیں بھی نہیں ملا ۔۔۔
ص۔صامے واپس آ جاو ہم اسے ڈھونڈ لے گے ا۔۔۔۔
لالہ ریلکس مجھے اسے ڈھونڈنے د۔۔۔۔۔
ٹھاہہہہہہہ ٹھاہہہہہہہہ۔۔۔
اہہہہہہ اہہہہہہہ۔۔۔
آہان فکر مند ہوتا چیخا تھا جب صام بھی فون کان کو لگاے بول رہا تھا جب پیچھے وہ سارا مکان بمب سے بلاسٹ ہوتا زمین بوس ہوا تھا ۔۔۔
دور گرتے صام نے مکان کے اندر سے بچے کے چیخنے کی آواز سنی تھی ۔۔۔۔
رکے سر ہمیں دیکھ ل۔۔۔
بچہ ہے وہ میں کیسے چھوڑ دو جانے دو مجھے ۔۔۔
صام اپنی ہڈی اتارے خون سے لت پت ہمت جمع کرتا اس آگ لگے مکان کے آندر جا رہا تھا جب آرمی اس کی طرف اتی بولی تھی جب وہ اپنی کہتا اس آگ لگے اور ٹوٹتے مکان کے اندر وہ بنا ڈرے گیا تھا ۔۔۔۔
ہ۔ہم انیجل کو کیا جواب دے گے صام نے یہ اچھا نہیں کیا ۔۔۔
نوفل اپنے موبائل پر روحا کی مسلسل کال آتے دیکھ فکر مند سے بولا تھا ۔۔۔
صامے نے ہر مشکل کا سامنا کیا ہے مجھے امید ہے وہ زندہ واپس آے گا ۔۔۔
مستقیم ان سے زیادہ خود کو تسلی دیتا بولا تھا ۔۔۔
کافی دیر ہو گی صام اس مکان سے باہر نہیں آیا تھا بلکہ وہ مکان بھی آگ کی لیپٹ میں آتا راکھ بن رہا تھا ۔۔۔
اپنی ہڈی شولڈر پر رکھے صام اندر گیا تھا جہاں پورے گھر کو آگ لگی تھی ایک جگہ ٹیبل پر لگی آگ کو دیکھ نیچے گرے مہر کو روتا دیکھ وہ بھاگ کر اس تک گیا تھا ۔۔۔
شششش چپ کچھ نہیں ہوا ۔۔۔
زخمی ہوے مہر کو صام نے جلدی سے ٹیبل سے نکالے اپنی ہڈی میں لیٹاے گود میں اٹھایا تھا ۔۔۔
اپنی زخمی ہوی گرے آنکھوں سے مہر نے صام کا خون آلود چہرہ دیکھتے چپ ہوا تھا ۔۔۔۔
جس کے چہرے سے ٹپکتا خون مہر کے چہرے پر پڑ رہا تھا ۔۔۔
بہت خوبصورت ہو تم پتہ نہیں تمہارے والدین نے ترس کیوں نہیں کھایا ۔۔۔
صام خود آگ سے اسے بچاتا ہوا باہر جاتا بول رہا تھا جب مہر کی آنکھیں پھٹی تھی ۔۔۔
کیونکہ سائیڈ پلر آگ سے جھلستا ہوا صام کے شولڈر پر گرا تھا ۔۔۔
اب دونوں ہی پلر کے نیچے دب چکے تھے ۔۔۔۔
صام کے شولڈر پر پلر کا وزن تھا جبکہ اس کے باہر نکلے ہاتھوں میں مہر ویسے ہی ہڈی میں لیٹتا ہوا طنزیہ مسکرایا تھا کیونکہ وہ جان گیا تھا کوی انہیں اب یہاں سے بچانے نہیں آے گا تبھی اس نے کرب سے آنکھیں بند کی تھی ۔۔۔
اےےے لڑک۔لڑکے ایسے ہار نہیں مانتے جب تک ہماری آخری سانس بھی نہ نکل جاے ۔۔۔۔
اتنا بزدل انسان کو بھی ن۔نہیں ہونا چاہے م۔مجھے تمہیں باہر زندہ لے کر جانا ہے آنکھیں کھولو اپنی ۔۔۔
صام جیسے تیسے ہمت جمع کرتا پلر کو اپنے شولڈر سے اٹھاتے وہ بامشکل دوبارہ کھڑا ہوتا اسے ہوش میں لاتا غرایا تھا ۔۔۔
صامے صامے تم ٹھیک ہ۔۔۔
جلدی سے بچے کی سانسیں چیک کرو ڈاکٹر۔۔۔
صام مشکل سے ہی لیکن اس آگ سے باہر آ گیا تھا جب سڑک کے اس پار آتے مستقیم لوگوں نے اسے دیکھ بولے تھے جب وہ جلدی سے ہڈی میں قید بے ہوش مہر کو پاس کھڑے ڈاکٹر کو دیکھ بولا تھا ۔۔۔
خود وہ خون سے پورا بھیگا ہوا تھا ۔۔۔۔
س۔سر آپ بھی اپنے زخموں پر م۔۔۔۔
مجھے بس اس کی فکر یہ ٹھیک ہو بس ۔۔۔
نرس صام کے برہنہ سینے پر بہتے خون کو دیکھ بول رہی تھی جب وہ دو ٹوک بولا تھا ۔۔۔
اس کی گرین سرخ آنکھیں بے ہوش پڑے مہر کے معصوم اور خون سے لت پت چہرے پر ٹھہری تھی ۔۔۔
جس کی سانسیں ڈاکٹر چیک کر رہا تھا ۔۔۔
