Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 25)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 25)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
ویسے اگر تمہاری عزت کی چلی جاے وہ بھی تمہارے شوہر کے سامنے۔۔۔
وہ سوہا کی شرٹ کے بٹن توڑتے ہوے بولا تھا۔۔۔
دور رہو تم ورنہ تم اپنی موت کو خود آواز دے رہے ہو ۔۔
فارس وہی بے بس ہوتا چلایا تھا۔۔۔
جو سوہا پر مکمل حاوی ہو چکا تھا۔۔۔
اہہہہہ اہہہہہ اہہہہہ ۔۔۔
سوہا آنکھیں بند کیے سانس روکے لیٹئ تھی جب اسے کسی کے چیخنے کی آوازیں سنای دی تھی۔۔۔۔
سامنے کا منظر دیکھ کر سوہا کی آنکھیں پھٹی تھی۔۔۔۔
جہاں اس لڑکے کو زمین پر گرے ایول ہڈی پہنے اپنا بھاری پاؤں اس کے سینے پر رکھے کھڑا اپنی سرخ گرین برف جیسی آنکھوں سے گھور رہا تھا ۔۔۔
جبکہ وہ گرا لڑکا درد سے چلا رہا تھا۔۔۔
وہ جو سوہا پر جھکنے والا تھا جب پیچھے سے گردن سے دبوچتے ایول نے اسے اپنی طرف کیچھتے ہوے گرایا تھا۔۔
بڑا ہے شوق ہے تجھے لڑکیوں کی عزت لوٹنے کا ۔۔
ایول اپنے بھاری پاؤں کا دباؤ اس کے سینے پر ڈالتے غرایا تھا۔۔
م۔میں۔اںہہہہ۔۔
وہ جو اپنے سامنے اس ہری بلا کو دیکھ سانسیں روکے بول رہا تھا جب ایول کا پاؤں اپنی گردن کی شہ رگ پر محسوس کیے چلایا تھا۔۔۔
ل۔لالہ ۔۔
سوہا سامنے ایول کو ہڈی میں دیکھ جلدی سے اٹھتی بھاگ کر ایول کی کمر پکڑے اپنا چہرہ چھپاے ہکلاتی بولی تھی۔۔۔
اسے گھر لے جاو ۔۔
ایول فارس کو بنا دیکھے سردپن سے بولا تھا ۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا اس کی بہن اسے قتل کرتا دیکھے ۔۔
ج۔جی ۔۔
فارس جلدی سے حامی بھرتا ہوا بولا تھا اس کے دل کو سکون ایا تھا ایول کو وہاں دیکھ کر ۔۔
نہیں مجھے لالہ کے پاس رہنا ہے ۔۔۔
سوہا اور مضبوطی سے ہڈی پکڑے بولی تھی۔۔۔
جاو بچہ یہاں سے لالہ پھر ملنے اے گا اپنی جان سے ۔۔۔
اس لڑکے کو چھوڑے ایول اب سوہا کو مکمل اپنی باہوں میں لیتا اس کا سر چومتے بولا تھا ۔۔۔
ا۔اپ اپ ایسا ہی کہتے ہے ہمیشہ پھر نہیں ا۔۔۔
سوہا انسو بہاے بول رہی تھی جب ایول اس کی گردن کی مخصوص نس دبای تھی جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوی تھی ۔۔۔
ایوللللللل۔۔۔
باہوں میں جھولتی سوہا کا خوبصورت چہرہ دیکھنے میں ایول بزی تھا جب فارس چیخا تھا کیونکہ وہ سب لڑکے اب ایول پر وار کر چکے تھے شیشے کی ٹیوب اس کے شولڈر پر ماری تھی ۔۔۔
دھیان رکھنا ہمارے بچے کا تھوڑا ضدی ہے لیکن دل کی اچھی ہے ۔۔۔
شولڈر سے بہتے خون کی پرواہ کیے بنا وہ سوہا کو فارس کی گود میں لیٹاے اس پر اپنی ہڈی اتارے وہیل چئیر کو گھسٹتے ہوے کار کے قریب لے کر جاتے بولا تھا۔۔۔
ایول وہ خون ا۔۔
فکر مت کرو یہ معمولی خون ہے تم دھیان سے جانا ۔۔۔
فارس کو بھی کار میں بیٹھاے وہ سکون سے بولتا کار کو سٹارٹ کر چکا تھا۔۔
فارس کی کار اٹومیٹک تھی جو وہ آسانی سے چلا لیتا تھا۔۔
ارے تھک گے کیا تم سب اہہہہ ابھی تو گیم سٹارٹ ہونا تھا کوئ نہ ابھی بھی ٹائم ہے ۔۔۔
ایول اب اپنے روپ میں اتا بھاری قدم اٹھاے واپس وہی آتا ہوا سکون سے بولا تھا جہاں وہ پانچوں ڈرگز لینے میں بزی تھے ۔۔۔
تم جاو یہاں سے پتہ نہیں کون ہو ۔۔
وہ سارے نشے میں مدہوش بولے تھے وہ بھول گے تھے موت ان کے کتنی قریب کھڑی مسکرا رہی تھی ۔۔۔
چلو ہمیں بھی دو ڈرگز۔۔۔
ایول ویسے ہی گھاس پر ان سب کے قریب بیٹھتا ہوا بولا تھا ۔۔
دور ہو ک۔کر بیٹھو اندھیرہ ہو رہا ہ۔۔۔
جو اندھیرہ ہو اسے دوشنی کی ضرورت نہیں پڑتی ۔۔۔
ان میں سے ایک نشے میں بول رہا تھا جب ایول اسے گردن سے دبوچتے ہوے غرایا تھا۔۔۔
کو۔کون ہو تم۔۔۔
وہ سب اچانک اسے غصے میں دیکھ ڈرتے بولے تھے۔۔۔
تم سب کی موت ۔۔۔
ایول نے کہتے منٹوں میں ان سب کے منہ میں ڈرگز بھرتے بولا تھا۔۔۔
ایک مچھلی پورے تالاب کو گندہ کرتی ہے ویسے ہی ایک شخص کی وجہ سے تم سب بھی جان سے جاو گے۔۔۔
ایول اپنے گلوز لگے ہاتھوں میں خنجر کو گھوماے بولا تھا سب کے منہ ڈرگز سے بھرے تھے تبھی وہ بے بس ہوے غو۔ غوں کر رہے تھے ۔۔۔
چچچچ افسوس۔۔
ایول ان سب کی آنکھوں میں دیکھتے خنجر کو گھوماے ان چاروں کی گردنوں پر وار کرتا سکون سے بولا تھا ۔۔۔
وہ سب آنکھیں پھاڑے اپنی شہ رگوں سے خون نکلتا دیکھ منٹوں میں موت کے منہ میں گے تھے۔۔۔
م۔معاف ک۔کر د۔۔۔
رکو ابھی تو تمہیں موت دینی باقی ہے ۔۔۔
اس ہاتھ سے ہماری بچی کو چھوا تھا ۔۔۔
وہ لڑکا سب کو مرتا دیکھ ویسے ہی گھاس سے اٹھاتا بھاگتا بول رہا تھا جب ایول اپنے بوٹ میں قید پاؤں اس کی ٹانگ میں اٹکاے اسے گراتے بولا تھا۔۔۔
جبکہ اس پر جھکے وہ اس کا ہاتھ پکڑتے غرایا تھا ۔۔
م۔معاف۔ک۔ک۔۔۔
ا۔ی۔ایول س۔سررررر۔۔۔
ایول اب سکون سے اس کا ہاتھ کاٹنے میں بزی تھا جب چہرے سے ماسک گرتا دیکھ وہ ہکلاتا بولا تھا ۔۔
گروجی کے آدمی ہو تبھی اتنی آسان موت دے رہے ہم ۔۔۔
ہماری فمیلی کو جس نے بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کی ایول اسے کتوں سے بتر موت دے گا ۔۔۔
ایول اپنا خنجر اس کے سینے میں گاڑھے سکون سے بولا تھا۔۔۔
م۔مہ۔اااہہہہہہ۔۔
وہ بول ہی رہا تھا جب ایول اٹھ کر کھڑا ہوتا سینے میں گاڑھے خنجر پر اپنا بھاری پاؤں کا دباو دیا تھا۔۔۔
سینے پر دباو پڑتے ہی خنجر سینے کی پسلیاں توڑتا ہوا اندر گیا تھا ۔۔۔
جہاں ان ایول کا بلیک بوٹ اس کے خون اور قیمے بنے دل سے بھرا ہوا تھا۔۔۔۔
ہماری فمیلی نے چھوڑا ہے ہمیں لیکن ہم نے نہیں ۔۔۔
فضول لوگ ایول سے پنگے لینے ا جاتے ہے اہننہہہ۔۔
ان پانچوں کو گہری نیند سوتا دیکھ اب ایول سکون سے رات کے اندھیروں میں گھم ہوتا بولا تھا۔۔
دور کھڑے پارک کے گارڈ نے جب یہ خوفناک منظر دیکھا تو تھر تھر کانپا شروع کر دیا تھا۔۔۔
پ
پولیسسس۔۔
جلدی سے فون کال ملاے وہ سامنے سے اتے ایول کو دیکھ سانیسں روکے دیکھا تھا۔۔۔۔
وہ حیران تھا اتنا خوبصورت چہرے والا لڑکا کسی کو اتنی خوفناک موت دے سکتا تھا کیا ۔۔۔
شششش سو جاو سکون سے ۔۔۔
ایول اس کی حیرت سے کھولی آنکھیں دیکھ طنزیہ مسکراہٹ لاے اس کا گال چھوتے بولا تھا۔۔
جب وہ اسے اتنا قریب دیکھ وہی ہارٹ اٹیک سے زمین بوس ہوتا اسی کے قدموں میں گرا تھا ۔۔
اب اتنے بھی خوفناک نہیں کہ لوگ ہی مر جاے اففففف۔۔۔
گاڈر کی چلتی سانسوں کو روکتا دیکھ ایول سردپن سے کہتا وہاں سے گھم ہوا تھا۔۔۔
بھابھی کدھر ہے دیکھ نہیں رہی ۔۔۔
ولید اور اس کی بیوی آفندی پلیس ا چکے تھے جب سب سے ملتے ولید نے مسکراتے ہوے احمد سے پوچھا تھا۔۔۔
و
وہ اتی ہو گی ۔۔
احمد جلدی سے بولا تھا کافی دیر ہو گی تھی امن اسے نہیں دیکھ رہی تھی جبکہ وہ کہہ کر ایا تھا جلدی انے کا ۔۔
ویسے یار تمہاری فمیلی بہت پیاری ہے سارے ہی بہت خوبصورت ہے دیکھو تو تمہارے بابا چاچو ابھی بھی اتنے ینگ ہے ۔۔
ولید سامنے بیھٹے صام آہان مستقیم کو دیکھ مسکراتا ہوا بولا تھا ۔۔
ہاہہاہہاہاہاہہاہا لالہ آپ نے ابھی میری خوبصورتی نہیں دیکھیییییییی۔۔۔
حدید ہال میں آتا قہقہ لگاتا ولید کے پاس آتا بول رہا تھا جب روشانے کے پاؤں سے اٹکتے وہ گرا تھا۔۔۔۔
ہاہہاہاہہاہاہہاہاہا کبھی جو میری بیٹی نہ گرے جب دیکھو زمین سے لگی رہتی ہے ہر وقت ۔۔۔
صام جو باتیں کرنے میں بزی تھے جب حدید کو گرتا دیکھ وہ قہقہ لگاتے اس کے پاس آتے بولے تھے ۔۔۔
لیکن یہ تو لڑکا ہے انکل ۔۔۔
ولید حیران ہوتا بولا تھا۔۔
میں اپنے ڈیول ڈیڈ کی بیٹی ہو ۔۔
حدید صام کا ہاتھ پکڑے کھڑا ہوتا دانت نکالے بولا تھا ۔۔
ہاہہاہاہہاہاہ ولید بھای اس کا دماغ سیر کرنے گیا ہے پاگل ہے یہ ۔۔۔
روشانے اسے تنگ کرتی قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔
ہاں یہ میرا مینٹل ہاسپٹل ہے ۔۔
حدید اس کی طرف انکھ ونک کرتا بولا تھا۔۔۔
ہوووووو۔۔۔
و۔وہ لالہ کھانا لگ گیا چلے ا جاے ۔۔۔
سب کی ہوئٹنگ سنتے روشانے جلدی سے گھبراتی اٹھتی ہوی بولی تھی ۔۔۔
حدید اس کا سرخ چہرہ دیکھ مسکرایا تھا۔۔۔
بہت یمی ہے کھانا آنٹی مزہ آ رہا ۔۔۔
ولید اور اس کی بیوی رابعہ کھانے کھاتے مسکراتے ہیر کی طرف دیکھ بولے تھے ۔۔۔
مزہ تو آنا ہی تھا باہر جو منگوایا ہے ۔۔۔
کیا بولے ہو تم ۔۔۔
احمد اس کے قریب بیٹھا کھاتے سرگوشی کرتا بولا تھا جب ولید شوک ہوتا بولا تھا۔۔
یہ میری بیوی نے بنایا ہے ۔۔
احمد زبردستی مسکراتے بولا تھا جبکہ دل سے جانتا تھا یہ سارا کھانا امن نے نہیں بنایا تھا۔۔۔
بھابھی کے ہاتھ جا ذائقہ ہے ۔۔
آخر بہن کس کی ہے ۔۔۔
ولید مسلسل کھاتا تعریف کر رہا تھا جب مہر بریانی سے انصاف کرتا فخر سے بولا تھا۔۔۔
وہ جان گیا تھا ٹیبل پر جو بھی ڈیشز تھی ساری امن نے خود بنای تھی ۔۔۔
آپو کہاں ہے امن بلاے اسے ۔۔۔
روحا بھی بریانی کھاتی ہیر کی طرف دیکھ بولی تھی ۔۔
آتی ہو گی شاہد سو گی کیونکہ میری بچی تھک ہی بہت گی تھی اتنا کام کر کے ۔۔۔
آہان فروٹ چاٹ کھاتے مسکراتے بولے تھے ۔۔۔
کھاؤ کچھ تم بھی ۔۔۔
چپ بیٹھی روشانے کے کان میں سرگوشی کرتے حدید بولا تھا ۔۔
و۔وہ پیٹ میں درد ہو رہا تبھی کھانے کو دل نہیں کر رہا ۔۔۔
روشانے شرمندہ ہوتی بولی تھی ۔۔
تم نے فروٹ چاٹ زیادہ کھا لی تبھی پین ہے چلو جوس پی ہو خالی پیٹ نہیں سونا ۔۔۔
وہ پریشان ہوتا جلدی سے جوس کا گلاس اس کے لبوں پر لگاے بولا تھا ۔۔
ٹیبل پر بیھٹے مستقیم نے یہ منظر خوش ہوتے دیکھا تھا ۔۔۔
جبکہ وہ دل میں ابھی تک شرمندہ تھے ۔۔۔
صامے تمہارا بیٹا بہت اچھا ہے اچھی تربیت کی ہے تم نے اس کی ۔۔۔
مستقیم مسکراتے بولے تھے ۔۔
بڑے بابا اس کا مطلب میں آپ کا بیٹا نہیں ۔۔۔
جاے اب سے میری فیورٹ دوست مرحا ماما ہے ۔۔
ان کی بات کا مطلب سمجھتے حدید ان کی طرف دیکھ روٹھے لہجے سے بولا تھا ۔۔
ارے یہ تو غلط ہے پھر نہ بابا تم میرے ہی بیٹے ہو ۔۔۔
مستقیم حدید کا ہاتھ پکڑے مسکراتے جلدی سے بات بدلتے بولے تھے۔۔۔
یہ کہاں اچھا ہے میری بیٹی بہت اچھی ہے تبھی اس نکمے ہڈحرام کو ملی ہے ۔۔۔
صام روشانے کے سر پر ہاتھ رکھتے مسکراتے بولے تھے ۔۔۔
مستقیم کے چہرے پر بدلتے رنگ کو روشانے نے حیرت سے دیکھا تھا وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی جس نے اتنا برا کیا تھا وہ اس کے بابا کے زیادہ قریب ہو گیا تھا جبکہ وہ نہ بھی کچھ کرتی اپنے بابا کی نظروں میں مجرم بنی تھی۔۔۔
ہمارے گھر کا لاڈلا ہے یہ خاص کر لڑکیوں کا ۔۔
احمد بھی مسکراتے ہوے بولا تھا ۔۔
ہاے اللہ شرم آ گی اتنی تعریف۔۔
حدید شرمانے والے انداز سے بولا تھا۔۔۔
ہاہہاہاہاہہاہاہاہا لالہ آپ بیسٹ ہے ۔۔۔
امن سڑھیوں سے اترتی ہوی قہقہ لگاتے بولی تھی ۔۔۔
ہاں یہ بیسٹ ہے میں نہیں ۔۔۔
مہر امن کو اتنا تیار دیکھ مسکراتا ہوا روٹھے لہجے سے بولا تھا۔۔۔
ارے لالہ آپ کو میری سکون ہے دل کی ۔۔۔
امن جلدی سے مہر کے پاس آتی اس کا گال چومتی ہوی بولی تھی۔۔۔
آغا منہ بند کر لے مکھی چلی جاے گی ۔۔۔
امن جو سب سے مل رہی تھی جب احمد اسے ریڈ ساڑھی پہنے ہلکے میک اپ میں تیار پہلی دفعہ دیکھ وہی منہ کھولے حیرت سے دیکھ رہا تھا جب حدید شرارتی انداز سے بولا تھا۔۔۔
اسلام علیکم لالہ کیسی ہے آپ اور بھابھی ۔۔
امن مسکراتی ہوی اب احمد کی ساتھ والی سیٹ پر بیٹھتی بولی تھی ۔۔
وعلیکم اسلام بھابھی ہم دونوں ٹھیک ہے آپ تو بہت پیاری ہے ۔۔۔
ولید اور رابعہ مسکراتے ہوے بولے تھے ۔۔۔
یہ کھاے فتوے میں نے بنای ہے ۔۔۔
امن مسکراتی ہوی اب ڈیشز کو اٹھاے بولی تھی ۔۔
بنای ہے ۔۔۔
ولید نے شوک ہوتے پوچھا تھا۔۔۔
اس کا مذکر مونث بہن بھای ہے جب چاہے جہاں چاہے یوز کر لیتی ہے ۔۔۔
احمد سکون سے بولا تھا ۔۔۔
آپ کی سر درد کیسی ہے اب ۔۔۔
امن برا مناے بنا اب احمد کی طرف متوجہ ہوتی بولی تھی۔۔
درد ہے کافی ۔۔
احمد بریانی کھاتا سکون سے اس کی طرف دیکھ بولا تھا جو اب وانیہ کو دیکھ کوی بات کرنے میں بزی تھی ۔۔۔
بابا میں آتا ہو روشانے چلو یہاں سے ۔۔۔
روشانے چپ ویسے ہی بیٹھی تھی جب حدید اس ک ہاتھ پکڑتے بولا تھا۔۔۔
ہمیں لگتا روشنی کی طیبعت نہیں ٹھیک ہم صبح اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاے گے ۔۔
روحا پریشان ہوتی صام کے کان میں سرگوشی کرتی بولی تھی ۔۔
ہاں لے جانا اسے پہلے خود کھا لو کچھ ۔۔
سنیڈوچ روحا کے لبوں پر لگاے صام مسکراتے بولے تھے۔۔۔
شرم کرے بچے بیٹھے ہے ۔۔
روحا حیا سے سرخ گال لیے زرا سختی سے بولی تھی۔۔
اپنی انیجل کو ڈیول کھلا رہا کون سا کوئ لڑکی ہے ۔۔۔
صام ڈھیٹ ہوتے سکون سے بولے تھے۔۔۔
اففف ہم بھی بھول جاتے کس مینٹل سے بات کر رہے ہے ۔۔۔
روحا اپنا ماتھا پیٹتے ہوے بولی تھی ۔۔
آپ کچھ اور کھاے اگے آغا ۔۔۔
چپ بیھٹے احمد کو دیکھ امن اب اس کی طرف دیکھ بولی تھی ۔۔
نہیں ۔۔
امن کے ریڈ لیپ اسٹک لگے ہونٹوں کو دیکھ وہ سکون سے بولا تھا۔۔
کیا اچھی نہیں بنی کھانا ۔۔۔
امن اچانک پریشان ہوتی بولی تھی۔۔
اچھا ہے۔۔
احمد ایک بار پھر سکون سے بولا تھا۔۔
یار کھانا بہت یمی تھا بھابھی نے بہت اچھا بنایا تھا ۔۔
میرا پیٹ بھر گیا پر نیت نہیں ۔۔۔
ولید ہال میں آتا احمد کے ساتھ صوفے پر بیھٹتے مسکراتا بولا تھا۔۔
ویسے مجھے کیوت سی امن بہت پیاری لگی بچوں والی حرکتیں ہے ۔۔۔
مزہ آیا مجھے کافی لالہ آپ تو لکی ہے آپ کو اتنی فنی وائف ملی ۔۔
رابعہ بھی احمد کی طرف دیکھ بولی تھی ۔۔۔
ہمممم۔۔
کچن سے باہر آتی امن کو دیکھ وہ بس اتنا بول سکا تھا۔۔۔
وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا امن اس کے لیے بیسٹ تھی یا نہیں ۔۔۔
کیا ہوا سب ٹھیک ہے میں کافی دیر سے دیکھ رہا بھابھی کو دیکھ کر تو چپ ہو جاتا ہے ویسے تو چپ ہی رہتا ہے تو ۔۔۔
ولید احمد کے شولڈر پر ہاتھ رکھے بولا تھا بچپن کا دوست تھا دونوں کا ساتھ ہی بچپن گزارا تھا ۔۔۔
اب تجھے سب پتہ ہے پھر بھی پوچھتا ہے حد ہے ۔۔۔
اچانک احمد اٹھ کر ونڈو کی طرف جاتا بولا تھا ۔۔۔
ولید سمجھ گیا تھا وہ اکیلا بات کرنا چاہتا ہے ۔۔۔
ماما بابا نے ایک ایسی لڑکی سے شادی کروا دی جو بلکل بچوں جیسی ہے ہمیشہ بچہ سمجھا اسے حرکتیں بھی ویسی ہی ہے یہ میرے مزاج کی نہیں ہے اور کتنی چھوٹی ہے مجھ سے پورے پانچ سال چھوٹی ۔۔۔
مجھے کوئ میچور لڑکی چاہے تھی ج۔۔۔
اتنی بھی چھوٹی نہیں بھابھی میں نے دیکھا ہے کب سے وہ کام کر رہی ہے دوسری بات تو کون سا بوڑھا ہو گیا جو چھوٹی تم سے بلکہ لڑکیوں کی اسی ایج میں شادی ہو جاتی ہے اسے اپنے رنگ میں ڈال ۔
کچھ ان کی سن کچھ اپنی سنا ۔۔
میریڈ لائف ایسی ہی چلتی ہے ہنسی مذاق میں اگر ایک ہی مزاج کے دو لوگ شادی کر لے تب شادی بورننگ لگتی ہے ۔۔۔
تو غور کر بھابھی پر باقی بات سمجھ گے ہو گے تم اب میں آگے بولنے سے رہا ۔۔۔
احمد اپنا سر پکڑے بول رہا تھا جب ولید نے مسکراتے اسے سمجھایا تھا ۔۔
لیکن میں کیسے یار وہ بچی ہ۔۔۔
یہ کیا کر دیا لالہ آپ نے ہاے گر گیا ساری ۔۔۔
احمد بول رہا تھا جب اسے امن کے چلانے کی آواز سنای دی تھی جو اب بھاں بھاں کرتی رو رہی تھی۔۔۔
سوری میری جان لالہ تمہارے لیے ابھی بناے گا ۔۔۔
امن احمد کے لیے بلیک کافی بنا کر لای تھی جب مہر سے ٹکراتی وہ بولی تھی ۔۔۔
نہیں آپ رہنے دے میں پھر بنا لو گی ۔۔۔
کاجل سے بھری آنکھوں کو رگڑتے وہ بولی تھی۔۔۔
دیکھ بچوں جیسی ہے اور تو کیا بکواس کر رہا ت۔۔
دیکھ اسے اپنے دل سے محسوس کرے گا تجھے وہ بچی نہیں لگے گی میری تو شادی ہو گی ورنہ اس سے کرتا پکا ۔۔
احمد بول رہا تھا جب ولید شوخ ہوتا بولا تھا۔۔۔
شیٹ اپ بکواس نہ کیا کر ۔۔
احمد بھی مدھم سے مسکراتا ولید کے پیٹ پر مکہ مارتا بولا تھا۔۔۔
اچھا اگلی بار آو تو مجھے چاچو بنے کی گڈ نیوزززززززززز دینا۔۔۔۔
ہہاہاہہاہاہہاہہاہذہہاہاہذ ہاہہذہاہاہہذہذہاہاہہاہاہ ۔۔
ولید جلدی سے دور جاتا بول رہا تھا جب بات سمجھتے احمد نے اپنا بوٹ اتارے اس کی کمر پر نشانہ لیا تھا۔۔۔
جب خود دل کھول کر قہقہ لگایا تھا ۔۔۔
امن اپنا رونا بھول کر اس کی طرف دیکھنے میں مگن ہو گی تھی جو مسکراتا ہوا بے حد خوبصورت لگ رہا تھا۔۔۔
مستقیم کچھ ہوا ہے کیا ۔۔
بیڈ پر آتئ مرحا مستقیم کے سینے پر سر رکھے فکر مندی سے بولی تھی ۔۔۔
کیوں کیا ہوا۔۔
مرحا کا ماتھا چومتے وہ بولے تھے ۔۔۔
مجھے سے زیادہ آپ کو اپنی دونوں بیٹیوں سے محبت ہے بلکہ ان کی ایک تکلیف پر آپ تڑپ جاتے ہے پھر آج ایسا کیوں ۔۔۔
زینب کو چار بار فون کر کے پوچھا وہ کیسی ہے جبکہ روشنی سے ایک بار بھی نہیں پوچھا وہ تڑپ رہی اپنے پیٹ درد سے ۔۔۔
مرحا پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔
وہ دیکھ رہی مستقیم کم ہی روشانے کو بولاتے تھے ۔۔۔
کہاں وہ ہر وقت مستقیم کے قریب پای جاتی تھی ۔۔۔۔
ہاں وہ اس کی شادی ہو گی تبھی اب اچھا نہیں لگ۔۔۔
شادی تو زینب کی بھی ہوی ہے بلکہ وقار تو جلیس ہوتا جب زینب یہاں آ جاے وہ کہتا لٹل ڈول اس کی ہے ۔۔
مستقیم بہانہ بناے بول رہے تھے جب مرحا بولی تھی۔۔
اچھا میں پوچھ آتا ہو اس کا حال اب خوش تم ۔۔۔
وہ جلدی سے اٹھ کر کھڑے ہوتے جان چھڑواتے بولے تھے ۔۔
اہہہہ سانڈ جھوٹ کم بولا کرے ہزار دفعہ کہا ہے کچھ تو ہے جو چھپا رہے آپ ۔۔۔
مرحا برا سا منہ بناے بولی تھی ۔۔۔
جب نہ پوچھو تب مسئلہ جب پوچھ لو تب مسئلہ افففف ٹڈی ۔۔۔
مستقیم اپنی کمر پر ہاتھ ٹکاے بولے تھے۔۔
اب جاے گے رات ہو گی عقل کب آنی آپ کو۔۔۔
مرحا منہ پھولاے بولے تھے ۔۔۔
ہاں یار رات ہو گی میں کیسے بھول گ۔۔۔
نہیں نہیں جاے آپ جلدی ۔۔
مستقیم شرارتی انداز میں ان پر جھکتے بول رہے تھے جب وہ چہرے پر تکیہ رکھتی بولی تھی۔۔
یار روشنی زیادہ پین ہے تو بتاو ۔۔۔
حدید پریشان ہوتا بولا تھا جہاں وہ آنسو سے بھری آنکھوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
نہیں ڈانس ہو رہا پیٹ میں تبھی بیٹھی ہو ۔۔۔
روشانے جل کر بولی تھی ۔۔۔
اچھا دیکھاو کیسا ڈانس ہوتا ہے ۔۔
حدید اسے کمر سے پکڑتے بیڈ پر لیٹاے اس کے پیٹ پر لب رکھتے بولا تھا۔۔۔
ہر وقت یہی کام کرتے ہو دفع ہو یہاں سے جاہل انسان ۔۔۔
دوشانے جلدی سے دور کرتی غرای تھی ۔۔
تم کہاں مجھے کچھ کرنے دیتی ہو دوشن دان ۔۔
روشانے کو پکڑے اپنے سینے سے لگاے اب وہ بیڈ سے ٹک لگاے بولا تھا۔۔۔
ہادی بابا معاف کرے گے مجھے کیا لیکن میں نے کچھ بھی ن۔۔۔
سب کچھ میں نے کیا تھا میری جان اور دیکھنا بڑے بابا تمہیں معاف کر دے گے ۔۔۔
تم بھول کیوں نہیں جاتی روشنی ۔۔۔
روشانے کو بالوں سے پکڑتے وہ زرا سختی سے بولا تھا ۔۔۔
تمہاری وجہ سے میں کچھ نہیں بھولتی تمہاری شکل دیکھ سب یاد آجاتا ہے نفرت ہے تم سے بے پناہ نفرت ۔۔۔
مر جاو تم سنا ت۔۔۔
اہہہہ اہہہہہ۔۔۔
اس کی طرف چہرہ کیے وہ اسے گردن سے دبوچتی ہوی بول رہی تھی جب پیٹ میں شدید درد سے چلای تھی ۔۔
اچھا سو جاو باقی کی لڑای صبح کرے گے ۔۔۔
حدید سکون سے سینے سے لگاے بولا تھا۔۔۔
جب سوں سوں کرتی روشانے سینے میں منہ چھپاے سو گی تھی ۔۔۔
ہم نے سوچا تھا شاہد تم مر چکی ہو لیکن تم زندہ ہو ۔۔۔
ایول شرٹ لیس اپنے روم میں اندر آتا سامنے حجاب لیے رعنا کو دیکھ سکون سے بولا تھا ۔۔۔
جو خاموشی سے جاۓ نماز پر بیھٹی دعا مانگ رہی تھی ۔۔۔
تمہارے آنے سے پہلے میں کیسے مر جاتی برفانی ریچھ۔۔
سکون سے اٹھتی وہ اس کے قریب آتی گردن میں بائیں حائل کرتی اس پر پھونک مارتی بولی تھی ۔۔۔
ویسے تمہیں کچھ زیادہ ہی پسند نہیں ہمارے پاس آنا۔۔۔
اپنے یخ ٹھنڈے چہرے پر اس کی گرم پھونک کو محسوس کیے وہ اسے بالوں سے پکڑتا غرایا تھا۔۔
میں یہاں رہنا چاہتی ہو تم اجازت دو مجھے ۔۔۔
ایول کے سینے پر دل کے مقام پر اپنے لب رکھے وہ مسکراتی بولی تھی ۔۔۔
جنگلی بلی نشہ کیا ہے تم نے ۔۔۔
اپنی ہارٹ بیٹ مس ہوتے محسوس کیے وہ اسے دور کرتا غرایا تھا ۔۔۔
وہ اسے روتے تڑپتے سسکتے دیکھنا چاہتا تھا لیکن وہ تو یہاں اس کے ساتھ بے حد خوش تھی ۔۔۔
ایول پریشان ہوا تھا اس کا پر سکون چہرہ دیکھ ۔۔۔
تم میرے محرم ہو مطلب شوہر تو اس کا مطلب یہ ہوا تم میرے نشے ہو تمہاری قربت مجھے مدہوش کرتی ہے ۔۔
رعنا ہمت جمع کرتی دوبارہ اس کی گردن میں بائیں ڈالے اس کے گال پر اپنے لب رکھے بولی تھی ۔۔۔
ہم سے دور رہو تم ہمیں نہیں جانتی اپنی موت کو خود دعوت دیتی ہو ۔۔۔
اسے خود سے دور کیے اب وہ بیڈ کی طرف جاتا بولا تھا ۔۔۔
اہہہہ برفانی ریچھ عرف ایول ڈر گیا مجھ سے ۔۔۔
مانتے کیوں نہیں ہو میرے قریب آنے سے تم ڈر جاتے ہ۔۔۔
رعنا اس کا مذاق بناتی ہوی بولتی اچانک چپ ہوی تھی ۔۔
کیونکہ شولڈر سے نکلا خون اس کی کمر پر جم چکا تھا ۔۔۔
ی۔یہ کیا ہوا تم نے ک۔کچھ کیا تھا ۔۔۔
افففف برفانی ریچھ تم اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر سکتے ہر وقت غصہ ناک پر رہتا تمہارے ۔۔
رعنا اسے بیڈ پر ویسے ہی سکون سے لیٹتے دیکھ پاس آتی بولی تھی ۔۔۔
بلا بلا بلا جاو سکون سے سو جاو ہمیں بھی سونے دو ۔۔۔
ایول اس کی نقل اتارتا ہوا بیڈ پر الٹی کروٹ لیے بولا تھا ۔۔۔
جن بھوت برفانی ریچھ ڈیش ڈیش ۔۔۔
میڈیسن باکس لیے وہ اب چلتی ہوی بیڈ کے قریب آی تھی جہاں اب وہ آنکھیں بند کیے سکون سے لیٹ چکا تھا ۔۔۔
تم جانتے ہو ماما کو خون سے ڈر لگتا ہے بچپن میں تم جب لڑ کر خون خرابہ کر کے آتے تھے تب ماما کتنا روتی تھی تمہارا خون دیکھ کر ۔۔۔
اس کے قریب بیھٹے وہ آہستہ سے کاٹن سے خون صاف کرتی بول رہی تھی وہ دیکھنا چاہتی تھی ایول کیا بولتا ہے ۔۔۔
ایول خاموشی سے ویسے ہی لیٹا ہوا تھا ۔۔۔
اچھا تمہیں ہماری فرسٹ کس تو یاد ہو گ۔۔
مسکراہٹ روکے وہ اس کے کان پر جھکی بول رہی تھی جب ایک ہاتھ سے اپنے قریب کرتے اس کے اوپر آتے ایول نے نیند سے بھری سرخ گرین آنکھوں سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔
ہمیں خاموشی پسند ہے کب سے پٹر پٹر کر رہی ہو تم ۔۔۔
ایول اپنی پوری آنکھیں کھولے اس کا چہرہ دیکھ غرایا تھا جب آنکھیں اور منہ کھولے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
و و۔وہ میں پ۔ہ۔۔
وہ وہ وہ کیا لگا رکھی ہے مولانی جب دور ہو جاو تب اتنا بولتی ہو ہمارے قریب آنے سے ڈر جاتی ہو ۔۔۔
اپنے آنگوٹھے کو اس کے نیم وا لبوں پر پھیرتے وہ بولا تھا۔۔
جو سانس لینا بھول گی تھی ۔۔۔
و۔وہ میں کہہ رہی ت۔۔۔
ہاں یاد آیا تم فرسٹ کس کی بات کر رہی تھی تمہاری نظر میں وہ کس تھی ۔۔
اپنے لبوں پر چلتے اس کے انگوٹھے مسلسل دیکھ وہ ہکلاتی بول رہی تھی جب ایول اس کا حجاب اتارے اس کے سنہری بالوں کو دیکھ سکون سے بولا تھا ۔۔
رعنا نے شرٹ ایول کی دی ہی پہنی تھی بس اوپر وہ حجاب لیے گھومتی تھی ۔۔۔
ہ۔ہاں ۔۔۔
اپنے بالوں سے اترتے حجاب کو دیکھ وہ بامشکل بولی تھی ۔۔۔
کیونکہ ایول کی پہنی شرٹ میں اسے اپنا گلا کافی ڈیپ لگتا تھا اسے تو وہ شرٹ ہی بڑی لگتی تھی جو اس قد سے کافی بڑی تھی ۔۔
تب ہم چھوٹے تھے تم تب بھی بڑی چالاک تھی ویسے بھی ائیرپورٹ پر گال پر کس کیا تھا تم نے ۔۔۔
رعنا کی لمبی شفاف گردن کو وہ گہری نظروں سے دیکھ بولا تھا ۔۔۔
پ۔پھر کیسے ہوتی ک۔کس وہی ہوتی ہے۔۔۔
جلدی سے شرٹ کو گلے سے پکڑتے وہ ہکلاتی ہوی بولی تھی روم کی اتنی لائٹس میں ایسی حالت میں جہاں وہ بنا ڈوپٹے اور حجاب کے اس کے سامنے لیٹی تھی اسے کافی شرم آی تھی وہ تو ایول کو تنگ کرنے کے کیے بہادر بنے کا ڈرامہ کرتی تھی ۔
لیکن آج تو اسے اپنی جان جاتی محسوس ہو رہی تھی ایول کو اپنا قریب دیکھ جو مسلسل اسے ہی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ہماری کس تو ایسے ہوتی ہے اب بدلہ تو لینا ہم نے مولانی ۔۔۔
ایول نے یہ کہتے ہی اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے بھاری ایک ہاتھ میں قید کرتے دوسرے ہاتھ کو اس کے بالوں میں ڈالے اسے قریب کرتا اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ چکا تھا ۔۔۔
ایک ماہ بعد ایول کا دوبارہ شدت بھرا لمس پاتے وہ پورے دل و جان سے کانپی تھی ۔۔۔۔
ب۔برفا۔برفانی۔۔۔
رعنا کو جب محسوس ہوا ایول اسے چھوڑنے کی بجاے اپنی شدت میں آگے بڑھ رہا ہے تبھی مشکل سے اپنے ہاتھ چھڑواتے وہ اسے دور کرتی بول رہی تھی ۔۔۔
جب ایول بنا کچھ سنے اسے اپنی لال آنکھوں سے گھورتے واپس اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔
م۔مان ہی می۔میں یہ۔یہی کس ت۔تھی اب چھوڑو م۔مجھے ورنہ سانس بند ہو جاے گا میرا ایول ۔۔۔
کافی دیر بعد اپنی سانس کو بند ہوتا دیکھ وہ اسے دور کرتی گہرے گہرے سانس لیتی بولی تھی ۔۔۔
شرم سے اس پورا چہرہ لال ٹماٹڑ ہو گیا تھا ۔۔۔
ہمیں یہ موت اور زندگی کا کھیل کھیلنے میں بڑا مزہ آیا اس سے آسان موت ہم تمہیں ہی دے سکتے ہے ۔۔۔
رعنا کا لال چہرہ دیکھ اب وہ اپنا ہاتھ اس کی شرٹ کے اندر کرتا طنزیہ مسکراہٹ لاے بولا تھا ۔۔۔
ن۔نہیں پ۔پلیز تم مج۔مجھے شوٹ کر دو زہر دو کچھ بھی کرو لیکن تمہارا یہ طریقہ میری جان لے گا ۔۔۔
ایول کا ہاتھ اپنے پیٹ پر محسوس کرتی جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑے وہ منت کرتی بولی تھی ۔۔۔
گولی مارنے یا زہر دینے والی موت کا وہ مزہ کہاں جو تمہں یوں پل پل مرتے دیکھ مزہ آ رہا ہمیں ۔۔
ایول اب اپنے ہاتھ واپس نکالے اس کی گردن پر جھکتے دانت گاڑھے بولا تھا ۔۔۔
درد کی شدت سے رعنا نے اسے شولڈر سے پکڑا تھا زور سے ۔۔۔
ن۔ن۔نفرت میں تم مجھے اپنی قربت دیتے ہو جس دن عشق ہو گا م۔مجھے سے تب تم مجھے جان سے مار دو گے ۔۔۔
رعنا اپنی نیلی پانی سے بھری آنکھیں کھولتے اس کی لال آنکھوں میں دیکھ سکون سے بولی تھی ۔۔۔
نفرت ہے بے پناہ تم سے ا۔۔۔
اور وہی نفرت تمہاری بے پناہ عشق میں بدلے گی برفانی ریچھ۔۔۔
ایول جو مسلسل اس کی گردن کان شولڈر پر اپنے دانت گاڑھتے بول رہا تھا جب رعنا اپنی ہی گردن سے نکلے خون کو اس کے لبوں سے صاف کرتے سکون سے بولی تھی ۔۔۔
ایسا کبھی نہیں ہو گا کہ ایول ایسی پاگلوں والی باتیں کرے ۔۔۔
ایول اس کے ناک پر اپنے دانت گاڑھے بولا تھا ۔۔۔
جو لڑکا نو سال کی ایج میں اس لڑکی کی عزت بچا سکتا ہے جس سے وہ بچپن سے نفرت کرتا تھا وہ لڑکا چوبیس سال کی ایج میں اسی لڑکی سے عشق کر سکتا ہے ۔۔۔
رعنا اسے گردن سے پکڑے اپنے قریب کرتی سرگوشی کرتی بولی تھی ۔۔۔
خوش فہمی ہے تمہاری مولانی کہ ہم ۔۔۔
چلو تم نہ سہی میں تو اپنے برفانی ریچھ سے بے پناہ عشق کرتی ہو ۔۔
ایول اچانک سرد ہوتا بول رہا تھا جب وہ مسکراتی ہوی اسی کی گردن میں بائیں حاہل کرتی منہ چھپاے بولی تھی ۔۔۔
ہم ایسا کبھی نہیں کرے گے سنا تم نے مولانی عرف جنگلی بلی ۔۔۔
اپنے سینے سے لگے اسے دیکھ وہ دور کرتا بولا تھا ۔۔۔
بلا بلا بلا برفانی ریچھ ۔۔۔
رعنا اس کی نقل اتارے دوبارہ منہ چھپا گی تھی ۔۔
ایول سوچ میں پڑ چکا تھا رعنا کی اتنی بہادری دیکھ جو پہلے رو رہی تھی اب سکون سے اسی کے سپنے میں منہ چھپاے سو رہی تھی ۔۔۔
پاگل لڑکی ۔۔
نیند میں جاتی رعنا کو دیکھ وہ اب پاؤں سے دونوں کے اوپر کمفڑٹر دیتا بولا تھا ۔۔۔
ایسا ہی چلتا رہا تو ہم بدلا کیسے لے گے اس پاگل لڑکی سے جو دور ہونے کی بجاے پاس ہی آ جاتی ہے ۔۔۔
کافی دیر جاگنے کے بعد ایول نے رعنا کو خود سے دور کیا تھا جب وہ نیند میں ہی برا سا منہ بناے سینے سے لگتی اپنی ٹانگیں بھی اس پر رکھتی سکون سے سو۔ چکی تھی ۔۔
جب اپنے پہاڑ جیسے مضبوط وجود کی قید میں اس ننھی بلی کو دیکھ دل میں سوچا تھا جب معصوم سی شکل بناے سو رہی تھی ۔۔۔
افففف ہم پاگل ہو جاے گے کل یہ ہمارے ساتھ روم میں نہیں سوے گی ۔۔۔
اس کے سنہری بالوں کو پکڑے اپنے چہرے پر گراے وہ گہری سانس لیتا ہوا آنکھیں بند کرتا بولا تھا ۔۔۔
رات کی خاموشی میں اسے صرف رعنا کی مدھم چلتی سانسیں سنای دے رہی تھی ۔۔۔
اس کی سانسوں کا مدھم گیت سنتے ایول بھی گہری نیند میں جا رہا تھا ۔۔۔
اففف کتنی بھوک لگی ہے ۔۔
آدھی رات کو روشانے نیند سے جاگتی بولی تھی ۔۔
پاس پڑے حدید کو کمبل میں دیکھ وہ خودی روم سے باہر آ گی تھی ۔۔۔
ہادی کو اٹھا دیتی میں وہ دیتا کچھ کھانے کو ۔۔۔
سڑھیوں سے اترتی ہوی وہ بولی تھی جہاں پورے ہال کو اندھیرے میں ڈوبا دیکھ وہ ڈرتی ہوی بولی تھی۔۔
ہمت کرو روشنی تم کر سکتی ہو ۔۔
ہال میں آتی وہ ہمت جمع کرتی بولی تھی ۔۔
آہستہ آہستہ چلتی وہ کچن میں آگی تھی ۔۔۔
اب فریج سے بریانی نکالے وہ اون میں رکھے اسے گرم ہونے کا ویٹ کر رہی تھی ۔۔۔
اہہہہ اہہہہہ اہہہہہہہ۔۔۔
روشانے بریانی کھانے میں بزی تھی جب کچن کی بیک ڈور سے اسے کسی کے چلانے کی اآواز ای تھی تںھی وہ ڈرتی ہوی ہمت جمع کرتی باہر نکلی تھی ۔۔
جہاں اس کا دروازہ پیچھلے جنگل کی سنسنان راستے میں کھولتا تھا ۔۔۔
سامنے کا منظر دیکھ روشانے بریانی سے منہ بھرے چیخی تھی ۔۔۔
جہاں سامنے نیلی ہڈی پہنے چہرے پر ماسک لگاے گلوز لگے ہاتھوں میں خنجر پکڑے وہ سامنے کھڑے آدمی کو سر سے لے کر پاؤں تک منٹوں میں کاٹا تھا ۔۔۔
روشانے کے دیکھتے ہی دیکھتے اس آدمی کے جسم کے دو ٹکڑے ہوے تھے ۔۔۔
خنجر پکڑے بین کی پوری ہڈی خون سے بھری تھی ۔۔۔
جبکہ اب وہ غصے سے دور کھڑی روشانے کو دیکھ رہا تھا ۔۔
جو بکھرے بال لیے نائٹ ڈریس میں کھڑی اب ڈرتی ہوی بھاگتی ہوی دروازے کے اندر واپس گی تھی ۔۔۔
خبردار اگر ایک لفظ بھی اندر جا کر کسی کو کہا جان نکال دو گا تمہاری ۔۔۔
اس سے پہلے وہ اندر جاتی جب بھاری قدم اٹھاے وہ اس کے قریب جاتا دروازے کے ساتھ پین کرتا غرایا تھا ۔۔۔
اتنے اندھیرے میں روشانے کو کم سی روشنی میں بین کا کالا چہرہ دیکھ رہا تھا جس کا ماسک اتر چکا تھا۔۔
م۔مجھ۔مجھے جان۔جانے د۔۔۔
کانپتے ہونٹ سے وہ بامشکل بول رہی تھی جب بنا سوچے سمجھے بین نے اپنے لب اس کے لبوں پر رکھے تھے ۔۔۔
روشانے کسی غیر محرم کا لمس اپنے ہونٹوں پر پاتی کانپی تھی ۔۔۔
چ۔چھوڑو م۔مجھ۔۔۔
ہمت جمع کرتی وہ لال چہرہ لیے بول رہی تھی جب کچھ سیکنڈ کا ٹائم دیے وہ دوبارہ اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا ۔۔۔
روشانے کے مسلسل آنسو بہا رہے تھے وہ خود کوس رہی تھی اکیلی باہر کیوں آی تھی ۔۔۔
