581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 22)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

تم آج بھی نہیں بدلے ہماری برای ہمارے سامنے کیا کرو حق مہررررررر۔۔۔

ایول آگے چلتا ہوا طنزیہ مسکراہٹ لاے بولا تھا۔۔۔

میرا نام مہر ہے سنا تم نے تم سے بڑا ہو شرم کرو کچھ ۔۔

مہر شوک نہیں ہوا تھا ایول کی بات سن کر جانتا تھا وہ تو خاموشی کو بھی سن لیتا تھا یہ تو پھر اس کی برای کر رہا تھا۔۔۔

ایول بچپن میں بھی اس کے نام کا مذاق بناتا حق مہر کہتا تھا۔۔

بلا بلا بلا بلا۔۔۔

ایول برا سا منہ بناے اس کی نقل اتارے بول ایک روم کے اندر دھکا دیا تھا۔۔۔

اپنا کام کرو اور جاٶ یہاں سے ۔۔

ایول روم کا دروازہ بند کرتا سردپن سے بولا تھا۔۔۔

انہہہ۔۔

مہر روم کے اندر جاتے برا سا منہ بناتے بولا تھا۔۔۔

م۔م۔مہر ت۔تم آ گ۔گے پلیز۔ا۔ایول سے بچا لو مجھے۔۔۔

مہر روم میں آتا لائٹس آن کیے کھڑا ہو چکا تھا جہاں روم کے درمیان میں لٹکتے زنجیروں سے اہتشام نے کمزور سی آواز سے پکارہ تھا۔۔۔

یہ تو وہ اہتشام ہمدانی تھا ہی نہیں جو خوبصورت پرسلینٹی کا مالک تھا یہ تو کوئ ہڈیوں کا ڈھایچہ تھا۔۔۔

تمہیں کہا تھا کہ مہررانی کی زندگی سے چلے جاٶ کیوں نہیں مانے تھے ۔۔۔

اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ مسکراتا سکون سے بولا تھا۔۔۔

ج۔ج۔جو تم نے کہا وہ۔وہی کیا تھا می۔میں نے تم سے چھ کڑور لے کر یہاں سے چلے ج۔جانا تھا و۔وہ تو بس ایک نظ۔۔۔

اہشتام روتا ہوا اٹکتا ہوا بول رہا تھا بار بار اس کا سانس پھول رہا تھا۔۔۔

جب پاس آتے مہر نے خنجر سے اس کی آنکھ پر وار کیا تھا۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ۔۔۔

د۔دیکھو یہ غلط ہے مہر تم نے کہا میں نے وانیہ سے شادی کرنے پر انکار کر دیا۔۔

لیکن یہ مجھے ک۔۔

اہہہہہ اہہہہہہ۔۔۔

اہتشام خون آلود آنکھ کے ساتھ بول رہا تھا جب مہر نے اس کے دونوں ہاتھ کاٹے تھے ۔۔

جب وہ درد کی شدت سے چلایا تھا۔۔۔

مہررانی تمہاری چوتھی بیوی بنتی تمہارا کام ہی یہی تھا پاکستان کی لڑکیوں سے شادی کرنا پھر بیرون ملک جا کر انہیں سیل کر دینا ۔۔

لیکن تم بھول گے تھے تم کس کے ساتھ پنگا لینے والے تھے۔۔۔

مہر اسے درد سے تڑپتا ہوا چھوڑ کر دور کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔

پاٶں سے باندھی زنجیر نیچے ابلتے تیزاب کے ڈرم سے آتے دھواں سے میلٹ ہو رہی تھی۔۔۔

ن۔نہیں یہ غلط ہے م۔میں نے ای۔۔۔

تمہارا ٹائم ہی اتنا تھا۔۔۔

اہشتام بول رہا تھا جب دیوار پر لگے بٹن کو دباے مہر سکون سے بولا تھا۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ اہہہہہ۔۔۔

دھڑام کرتے اہتشام اس ڈرم میں گرتا چلا رہا تھا جیسے ان سنا کرتا وہ روم سے باہر چلا گیا تھا۔۔۔

“““کچھ دن پہلے ۔۔

مہررانی کی خوشی کے آگے مجھے کوئ بھی چیز عزیز نہیں ہے ۔۔۔

مہر اپنا سوٹ کیس لیے ائیرپورٹ پر اکیلا بیٹھا اپنی فلائٹ کا ویٹ کرتا سوچ رہا تھا۔۔۔

آج وانیہ کی مہندی تھی۔۔۔

اسے بہت دکھ تھا وانیہ کو چھوڑنے پر ۔۔

اس کے دل میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ اگر وانیہ کو پتہ چلے وہ زرجان کا بیٹا نہیں ایک دہشتگرد کا بیٹا ہے تو اسے قبول کرے گی یا نہیں ۔۔۔

شاہد میری قیمست ہی ایسی ہے ۔۔

میرا سیاہ ماضی مجھ سے ہر چیز چھین لیتا ہے ۔۔۔

پہلا میرا وہ ماں باپ جنھوں نے پیدا کیا اب وہ لڑکی جس سے میں بے پناہ عشق کرتا ہو۔۔

مہر کی فلائٹ کی اٶنسمنٹ ہو چکی تھی ۔۔

تبھی وہ اٹھتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ہ۔ہل۔ہلیو لالہ ۔۔۔

اس سے پہلے مہر جاتا جب اس کا فون رنگ ہوا تھا کال اٹھاتے اسے امن کے رونے کی آواز سنای دی تھی۔۔۔

کیا ہوا امن ۔۔

مہر پریشان ہوتا بولا تھا۔۔۔

ل۔لالہ و۔واپس آ جاۓ میں نہیں رہ سکتا آپ کے بنا لالہ وانی نہ سہی میں تو آپ کے ساتھ ۔۔

آ۔غا۔آغا نے بھی چھوڑ دی۔مجھے ۔۔۔

امن مسلسل روتی ہو بنا سوچے بول رہی تھی۔۔۔

سنو امن میرا جانا ضروری ہے مجھے جانے دو میں ت۔۔۔

آپ اگر چلے گے میں اپنی جان لے لو گی سمجھے آپ لالہ ۔۔

مہر اسے سمجھاتے بول رہا تھا جب وہ شدید طش سے چلای تھی۔۔۔

میں اپنی جان لے لو گی لالہ۔۔۔

امن دوبارہ کہتی فون کاٹ چکی تھی۔۔۔

اسے آغا کی ضرورت تھی جب اس نے انکار کیا اب مہر کا لندن جانے کو سن کر امن اندر سے ٹوٹ گی تھی تبھی وہ پاگلوں کی طرح چلای تھی۔۔۔

م۔۔

مہر بولنے والا تھا جب اسے کسی نے شدید طش سے گردن سے دبوچتے پلیر کے ساتھ لگایا تھا۔۔۔

کیا طریقہ ہے یہ جاہل انس۔۔۔

ہمیں بزدل لوگ نہیں پسند۔۔۔

مہر اپنے اوپر ای اچانک آفت پر طش سے چلاتا بول رہا تھا جب چہرے پر ماسک لگاے ایول اپنی سرد گرین آنکھوں سے بولا تھا۔۔

ک۔کون بزدل ہے ۔۔

مہر ایول کی آواز سنتا ہکلاتا بولا تھا۔۔۔

اپنے ہی گھر کی لڑکیوں کی حفاظت نہ کر پاٶ تو تف ہے تم جیسے مرد پر ۔۔

ایسا عشق ہے تمہارا کہ تم ایک حیوان کے حوالے اسے کر کے جا رہے ہو ۔۔۔

ہمت ہے تو اپناو اسے پورے حق سے بزدل انسان۔۔

ایول مہر کی گردن پر اپنی گرفت مضبوط کرتا غرایا تھا۔۔۔

ک۔کیا مطلب ہے تمہاری بات کا اور تم کون ہ۔۔۔

اپنی محبت کو بچا سکتے ہو تو بچا لو یوں بزدلوں کی طرح بھاگنے سے کچھ نہیں ہو گا ۔۔

محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے ۔۔۔

مہر طش سے چلا رہا تھا جب ایول اسے کچھ پکس دیتا سکون سے کھڑا بول رہا تھا۔۔۔

مہر ان پکس کو دیکھتا غصے میں آیا تھا جس میں اہتشام کی کافی بولڈ پکس لڑکیوں کے ساتھ تھی۔۔۔

یہ کام ہے اس انسان کا کچھ بھی کرو بچاو وانی کو آغا کو ہم بتا سکتے ہے لیکن وہ غصہ میں جلد باز ہے سب کے سامنے اس کا پول کھل دے گے ہمیں یہ چاہے ۔۔

مہر کو چھوڑے ایول ایک سائیڈ بنے اندھیرے میں کھڑا ہوتا بولا تھا۔۔۔

ک۔کون ہو تم جو ہم سب کو جانتے ہو ۔۔۔

مہر اب ایول پر دھیان دیتا بولا تھا جو مسلسل اپنی گرین آنکھیں آس پاس گھومتا دیکھ رہا تھا۔۔۔

اہہہہ نہیں جانتے ہمیں حق مہررررر۔۔۔

ایول اپنے چہرے سے ماسک اتارے طنزیہ مسکراہٹ لاۓ بولا تھا۔۔۔

ح۔حا۔حازم تم زندہ ہ۔ہو افففف مجھ۔مجھے یقین نہیں آ ۔۔

حازم صام آفندی اسی دن مر گیا تھا جس دن اسے قتل کی سزا سنای گی تھی ۔۔

ہم ایول ہے ایول اندھیروں کا بادشاہ ۔۔۔

مہر اس کا گال چھوتا ہوا بول رہا تھا جب ایول کے اپنے سامنے آے چالیس بندوں کو دیکھ چہرے پر ماسک لگاے ان کے ساتھ جاتا بولا تھا۔۔۔

ان سب آدمیوں کے درمیان میں چلتا ہوا وہ واقعی بلیک ہڈی میں سایہ لگا تھا جو شان بے نیازی سے چل رہا تھا۔۔۔

پہلی دفعہ تم مجھے اچھے لگے ہو حازم۔۔

مہر مسکراتا اسے دور جاتا دیکھ بولا تھا۔۔۔

ائیرپورٹ سے واپس آ کر وہ گھر گیا تھا جب امن کی خودکشی کا سن کر دکھی ہوا تھا لیکن رات ہی وہ اہتشام کے گھر گیا تھا اس سے ڈیل کی وانیہ سے شادی کے انکار پر اسے چھ کڑور دے گا۔۔۔

پیسوں کا لالچی اہتشام مان گیا تھا تبھی وہ شادی کے دن انکار کر چکا تھا۔۔۔

لیکن آفندی صاحب کی موت کا سن کر اسے دھچکا لگا تھا وہ یہ نہیں چاہتا تھا یہی وجہ تھی اب وہ یہ بتانے سے ڈرتا تھا کہی وانیہ اسے چھوڑ ہی نہ دے۔۔

اہتشام کو لے وہ ایول کے پاس آیا تھا اسے موت دی جاے ۔۔

””حال ۔۔۔

اتنے بھی برے نہیں ہو تم گھر کی سب لڑکیوں کی حفاظت کرتے ہو اچھی بات ہے ا۔۔۔

جن سے محبت کی جاۓ اسے نبھایا بھی جاتا ہے یوں بزدلوں کی طرح بھاگا نہیں جاتا امید ہے تم خیال رکھو گے وانی کا ۔۔

ہم چاہتے تھے وانی ہم سے ویسی محبت کرے لیکن وہ تم سے کرتی تھی ویسے اچھی بات تھی ہم سے اس نے محبت نہیں کی ہم اچھے انسان نہیں ہے تم بہت اچھے ہو۔۔۔

مہر روم سے باہر آتا ایول کے پاس آتا بول رہا تھا جب شراب کی بوتل لبوں سے لگاے وہ سکون سے بولا تھا۔۔۔

حازم تم بہت اچھے ہو جیسے بچپن میں تھے اب و۔۔۔

ایول ہے ہم تمہیں سنای نہیں دیتا ہم برے ہے بے حد برے لوگ کانپ جاتے ہے ہمارا نام سن کر ۔۔

انہہہہ زرا سی ہلیپ کیا کر دی تمہاری تمہیں ہم اچھے لگتے ہے ۔۔۔

مہر مسکراتا ہوا بول رہا تھا جب ایول شراب کی بوتل توڑتا ہوا کہتا وہاں سے چلتا روم میں گیا تھا۔۔۔

و۔وہ لالہ ایسے ہی ہے ۔۔

حور جلدی سے ہال میں آتی مہر کی طرف دیکھ زبردستی مسکراتی بولی تھی۔۔

ہاں جانتا ہو وہ کیسا ہے خیال رکھا کرو ا۔۔۔

وہ تو بھابھی رکھے گی ان کا خیال وہی ہے جو ان کو کنٹرول کر سکتی ہے ورنہ سارا دن میں یہی شیشے اٹھاتی بوڑھی ہو جاتی ہو۔۔۔

مہر بول رہا تھا جب حور مسلسل اپنی زبان کے جوہر دیکھاتے بول رہی تھی۔۔۔

ہاہااہاہاہااہاہاہاہاہہا۔۔۔

مجھے ایسا لگتا جیسے تم حدید سے اتنا بولنے کی کلاس لیتی ہو وہ بھی سارا دن ایسے ہی بولتا ہے ۔۔

مہر قہقہ لگاتے بولا تھا۔۔

یہ کون ہے اب۔۔

حور شیشہ اٹھاتی شوک ہوتی بولی تھی۔۔

تمہارا یہ لالہ جیتنا خاموش ہے اس کا چھوٹا بھای اتنا ہی بولتا ہے ٹرین جیسی زبان چلتی اس کی ۔۔

مہر حدید کا بتاتے بولا تھا۔۔۔

اچھا میں ملو گی ان سے ۔۔

حور دانت نکالے بولی تھی۔۔

ہاہاہہاہاہا۔۔

مہر کا یہی سوچ کر قہقہ گونجا تھا حور اور حدید میں سے کون جیتے گا بولنے کی سپیڈ پر ۔۔۔

یہ تم نے کیا پہنا ہے ۔۔۔

مولانی ۔۔

ایول روم میں آتا طش سے چلایا تھا جہاں رعنا گاٶن پہنے بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔۔

گ۔گاٶ۔گاٶن پہ۔پہنا ہے ۔۔

بیڈ سے ڈرتی ہوی رعنا اٹھتی بولی تھی۔۔۔

نہیں تم یہ پہنو گی آج سے ایول ہاوس میں ہمارے اور حور کے علاوہ کوی نہیں ہوتا ۔۔

م۔میں نہیں پہنو گی تم نے بدلا لینے کے لیے شادی کی ہے تو بدلا لے کر چھوڑ دو مجھے۔۔

اہہہ ویسے بڑی تیز ہو چلو بدلا لیتے ہے اب وہی کرو جو ہم کہے گے۔۔۔

کیا کرنا ہوگا مجھے؟” وہ ہمت جمع کرتی بولی تھی۔۔۔

یہ گاٶن کس سے لیا وہ اتارو پہلے ۔۔۔

ایول روم کا ڈور بند کرتا اب اس کی طرف رخ کیے شیطانی مسکراہٹ لاے بولا تھا۔۔

” یعنی تمہیں اپنے انا کی تسکین چاہیے تم اپنی ہوس پوری کرنا چاہتے ہو۔۔

ایول کی بات سنتے رعنا سرخ چہرہ لیے کنٹرول سے باہر ہوتی چلای تھی۔۔

” بہت بولتی ہو تم ۔ ۔۔

ایول اپنے کان میں انگلی ڈالے بے پرواہ ہوتا بولا تھا۔۔

ہر کسی کو اپنے جیسا مت سمجھ لیا کرو مولانی ہمیں کبھی ایسی طلب کی ضرورت ہو گی ایسے جھوٹ یا بہانے نہیں بناے گے سمجھی بیوی ہو ہماری۔۔

ایول اس کے قریب آتا اس پر جھکتا بولا تھا۔۔۔

کیا تم واقعی بیوی مانتے ہو مجھے۔۔

رعنا اپنی نیلی آنکھوں سے اسے گھورتے پوچھا تھا۔۔

” کافی حبس ہوگیا ہے نا کمرے میں؟ ” ۔

وہ کان کھجاتے ہوئے بولا تھا مطلب وہ اس کی بات اگنور کر چکا تھا۔۔۔

” میں نے کچھ پوچھا ہے تم سے۔” رعنا اپنی مسکراہٹ روکے بولی تھی ۔۔

حوری نے تمہاری میڈیسن دی تھی۔۔۔

ایول اپنے آپ کو اس کے سوال پر پھستے دیکھ بات بدلتا بولا تھا۔۔۔

” پہلے میرے سوال کا جواب دو۔” رعنا مسلسل اس کے چہرے کو دیکھ کہا تھا۔۔۔

چلو گاٶن اتار کر یہ شرٹ پہنو گی بس تم آج سے ۔۔

ایول اس سے جلدی سے دور ہوتا اپنی شرٹ اتارے اسے دیتا بولا تھا۔۔

” میں کچھ کہہ رہی ہوں تم سے۔۔۔ ” رعنا ابھی بھی اپنے سوال پر قائم تھی ۔۔

“ہمیں زیادہ سوالات کرنے والی لڑکیاں زہر لگتی ہیں۔” ۔

ایول اپنی شیو کھجاتا ہوا کہتا باہر چلا گیا تھا۔۔

مسٹر برفانی ریچھ بیوی تو مان ہی لو گے ایک نہ ایک دن۔۔۔

ایول کی شرٹ کو چومتی ہوی رعنا شرماتی ہوی بولی تھی۔۔۔

باہر جاتے ایول نے باہر جا کر یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔

جب برا سا منہ بنایا تھا۔۔۔

ک۔کیا کھاٶ گے میں م۔ماما کو بتاتی ہ۔۔۔

روشانے کی نظروں کے سامنے مسلسل وہی باڈی بلڈر بین آ رہا تھا تبھی اس کی بات پر دھیان دیتے بنا وہ بولتی چپ ہوی تھی۔۔۔

کیونکہ حدید مسکراتا اس پر جھک رہا تھا۔۔

ن۔نہی۔نہیں ہادی پلیز۔۔۔

اپنے چہرے پر پڑتی اس کی سانسوں کی تیپش دیکھ روشانے ہکلاتی چلای تھی۔۔

جبکہ حدید اس پر حاوی ہو چکا تھا۔۔۔

روشانے نے پورے زور سے آنکھیں بند کیے چلای تھی۔۔۔

میں جاتا ہو جب بھی روم سے باہر جایا کرو یہاں پر کس کر کے باہر جاٶ۔۔

روشانے جو آنکھیں بند کیے لیٹی تھی جب اپنے ماتھے پر حدید کے لب محسوس اور سرگوشی سنای دی تھی۔۔۔

روشانے نے جلدی سے آنکھیں کھولی تھی۔۔۔

انہہ ٹھرکی۔۔

اپنا ماتھا صاف کرتے روشانے بولی تھی ۔۔

جبکہ سانس اس کا ابھی تک اٹکا تھا۔۔۔

تم سے کم ہو جانی ۔۔

حدید اٹھ کر آنکھ ونک کرتا بولا تھا۔۔۔

اپنے اوپر سے اٹھتے حدید کو دیکھ روشانے بھی شرٹ ٹھیک کرتی اٹھی تھی۔۔۔

ہادی تمہیں کوئ کام ہے اگر فری ہو ت۔۔۔

ارے بڑی ماما یہ ہر وقت فری اور ہڈ حرام رہتا ہے کوی بھی کام بتا دے اسے ۔۔

ہیر ہال میں آتی حدید کو بول رہی تھیں جب روشانے منہ میں ببل چباے آتی بولی تھی۔۔۔

جبکہ حدید بھی سیڑھوں پر اچھلتا ہوا آ رہا تھا۔۔۔

دھیان سے بیٹا لگ جاۓ گی ۔۔۔

ہیر اسے ایسا آتا دیکھ فکر مند ہوتی بولی تھی۔۔۔

ارے ماما کچھ نہیں ہوتا میں بڑا بہادر ہ۔۔۔

اہہہہہ اہہہہہہ ماما ڈیڈددددددد۔۔۔

حدید ویسے ہی آتا سیڑھوں کے درمیان میں کھڑی روشانے کو کراس کرتا نیچے آ رہا تھا جب اس کے پاٶں سے پاٶں اٹکتے وہ سیڑھیوں سے گرتا چلایا تھا۔۔۔

ہاے ہاے ہاے میری نازک ٹانگ ٹوٹ گی ظالموں ۔۔

ہاے ےےےےے۔۔۔

حدید کے چیخو و پکار پورے پیلس میں گونج رہی تھی ۔۔۔

کی۔کیا ہوا ہادی بیٹا سب ٹھیک ہے ۔۔۔

مستقیم جو ابھی یونفارم پہنے باہر جا رہے تھے فکر مند ہوتے پاس آتے بولے تھے۔۔۔

و۔وہ بڑے پاپا روشن دان نے گرا د۔۔۔

روشنی شرم کرو تم یہ کیا حرکت ہے شوہر ہے تمہارا وہ اور تم ہو کہ آج بھی اسے مارتی ہو۔۔۔

حدید دانت نکالے بول رہا تھا جب مستقیم اچانک سنیجدہ ہوتے اس پر غراے تھے۔۔۔

س۔سو۔سوری بابا۔۔۔

روشانے آنکھوں میں آنسو لاتے ہکلاتی بولی تھی۔۔۔

پہلی دفعہ اس نے مستقیم کا شدید غصہ دیکھا تھا۔۔۔

ارے بڑے پاپا میں کہہ رہا تھا کہ روشن دان نے مجھے گرنے سے بچانے کی کوشش کی تھی مجھے دیکھنا چاہے تھا۔۔۔

اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ حدید جلدی سے جھوٹ بولا تھا۔۔۔

مجھے پتہ ہے کتنا بچایا ہے اس نے تمہیں اٹھاٶ اب اسے اور لے کر جاٶ روم میں ۔۔

مستقیم روشانے کو گھورتے ہوے بولے تھے۔۔۔

ج۔جی ب۔۔۔

روشانے جلدی سے مانتی حدید کا ہاتھ پکڑے بول رہی تھی جب اسے ہی گود میں حدید نے لیتے واپس سیڑھیاں چڑی تھی۔۔۔

ت۔تمہیں چوٹ آی ہے ہادی مت چلو ایسا۔۔۔

روشانے اپنا رونا سٹارٹ کرتی بولی تھی۔۔۔

مستقیم نے غصے سے اپنا ماتھا پیٹا تھا وہ کہہ روشانے کو رہے تھے جبکہ عمل

حدید نے کیا تھا۔۔۔

ہاں چوٹ آی ہے مجھے۔۔۔

حدید ضبط کرتا اسے لے کر جاتا بولا تھا۔۔۔

ایول تم سمجھتے کیوں نہیں وہ بمب بلاسٹ گروجی نے جان بوجھ کر کروانا تھا اسے پتہ تھا جنرل صام اسی مال میں ہے۔۔۔

بین ایول کے ساتھ کار سے نکلتا بولا تھا جہاں وہ گرو سے ملنے آیا تھا۔۔۔

ہم نہیں مانتے گروجی نے ایسا کیا ہے ان کی وجہ سے ہم آج یہاں ہے۔۔۔

ایول اپنی انگلیوں میں سگریٹ دباے ساتھ چلتا ہوا بولا تھا۔۔

اب وہ گروجی کے آڈے میں انٹر ہوے تھے۔۔۔

پورے پاگل ہو تم ا۔۔

اور اسی پاگل کا مینٹل ہاسپٹل تم ہو ۔۔

بین دانت پیستا ہوا بول رہا تھا جب ایول نرمی سے اس کا گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔

ہاےےےے ہاےےے کاش میں اس کالو بین کی جگہ میں ہوتی ایول افففف۔۔۔

اچانک روبی ان دونوں کے سامنے آتی بے باک ہوتی بولی تھی۔۔۔

بکواسسسسس۔۔۔

ایول اسے اگنور کرتا ہوا پاس سے گزارتا بولا تھا۔۔۔

ہاہہاہاہاا ہاہہاہاہہااا ویسے بندری تمہاری اتنی انسلٹ ہوتی ہے کبھی ٹائم نکال کر مر ہی جاٶ زمین کا بوجھ کم ہو گا۔۔۔

بین روبی کا لال چہرہ دیکھ دل کھول کر قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔

انہہہ ایول کی وجہ سے ہم سب تمہیں یہاں برداشت کرتے ہے ورنہ کتوں کے آگے ک۔۔۔

اہہہہ روبی بے بی مجھے چھوڑو اپنا سوچو جب دن رات انہی کتوں کے پاس ہوتی ہو تم ۔۔۔

روبی جلتی بھنتی بول رہی تھی جب بین بھی دو ٹوک کہتا وہاں سے گیا تھا۔۔۔

اہہہہ اہہہہ تمہاری موت پکی ہے بین۔۔

اس کی بات کا مطلب سمجھ کر روبی آگ بگولہ ہوتی چلاتی بولی تھی۔۔۔

جبکہ بین مسکراتا ہوا اندر جا رہا تھا وہ جانتا تھا گروجی اسے پسند نہیں کرتا تھا ان کے باقول بین ایول کو گروجی کے خلاف کرتا تھا۔۔۔

وہ سب ایول کی وجہ سے ہی چپ رہتے بین کو برداشت کرتے تھے۔۔

یہ یہاں کیوں آیا ہے ایول ۔۔

گروجی بین ایول اور باقی کے آدمی بریانی کھانے کے لیے ساتھ بیٹھے تھے یہ بریانی پارٹی ایول ہی رکھتا تھا جب سب کو مل کر بریانی کھانی ہوتی تھی۔۔۔

ابھی بھی ایول کے قریب بیٹھے بین کو دیکھ گروجی طش سے غراے تھے ۔۔۔

جبکہ بین اور ایول ایک ہی پلیٹ میں بریانی سے انصاف کر رہے تھے۔۔۔

آپ کو نہیں پسند تو ہم چلے جاتے ہے کیونکہ آپ کو پہلے دن سے بتایا ہے جہاں ایول ہو گا وہاں بین لازمی ہو گا ۔۔

ایول اپنی چیئر سے اٹھتا دو ٹوک بولا تھا۔۔۔

نہ۔نہیں رہنے دو تم کھاٶ بیٹھ کر میں نے ویسے ہی پوچھا تھا۔۔۔

گروجی جلدی سے ہار مانتے بولے تھے وہ بین کی وجہ سے ایول جیسا بندہ کھونا نہیں چاہتے تھے۔۔۔

ی۔یہ کیا ہے منہ میں اہہہہہ ۔۔ اہہہہ ۔۔

سب دوبارہ بریانی کھانے میں بزی ہو گے تھے جب گروجی منہ میں آی انگلی کو دیکھتے بول رہے تھے جب یہ پتہ چلتے ان کے ہاتھ میں انسانی جسم کا ٹکڑا ہے تو خوف سے چلاے تھے۔۔۔

یہ تمہارے کام ہے بین باز آو اپنی ایسی حرکتوں سے ۔۔

ایول جانتا تھا ان کے علاوہ باقی سب آدمیوں کی پیلٹوں میں اہتشام کے مردہ جسم کے حصے تھے۔۔۔

تبھی گردن زرا اس کے قریب کرتے وہ دانت پیستے غرایا تھا۔۔۔

”””میری روح کا پرندہ پھڑپھڑاے ۔۔

لیکن مجھے سکون کا جریزہ مل نہ پاے ۔۔

میں کی کراں میں کی کراں ۔۔۔

بین اپنا منہ بریانی سے بھرے بامشکل بولا تھا۔۔۔

ایول نے دانت پیستے اسے گھورا تھا۔۔۔

ا۔اٹھاٶ اس کو کس جاہل انسان نے ایسی بریانی بنای ۔۔

گروجی اور اس کے آدمی وہی پر قے کرتے چلاے تھے۔۔۔

ارے بڈھے یہ اتنی مزے کی ہے مان جاٶ تم بڈھے ہو گے ہو کہاں ایسی ہڈی ہمیں ملی ۔۔

بڈھا پاگل ہو گیا۔۔۔

بین مسلسل بریانی سے انصاف کرتا روکھے پن سے بولا تھا۔۔۔

گروجی نے ضبط کرتے وہاں سے گے تھے۔۔۔

ارے میرا دلبرجانی ۔۔

شیٹ اپ بین ۔۔

گروجی کو ایسے جاتے دیکھ ایول نے اسے گھورتے اٹھا تھا جب بین بھی منہ بھرے ساتھ جاتا بولا تھا۔۔

جب وہ دو ٹوک بولا تھا۔۔۔

ہاے میری دل روبااااااااااا۔۔۔

بین اس کے پیچھے جاتا اپنی کمر ہلاتا بول رہا تھا جب ایول نے اسے لات سے پکڑتے ویسے ہی کار تک گھسیٹ کر لے کر گیا تھا۔۔۔

جبکہ بین کے ایک ہاتھ میں بریانی کی پلیٹ تھی۔۔۔جو کو وہ مسلسل کھانے میں بزی تھا ۔۔

ایویں بڈھے نہ کہا بریانی اچھی نہیں اففف کمال کی بریانی ت۔۔۔

اہہہہہی اہہہہہ جاہل انسان کتنی دفعہ کہا زبان یوز کیا کر ہاتھ کم چلایا کر ۔۔۔

کار میں اسے گھسیٹ کر بیٹھاتے ایول کار سٹارٹ کر رہا تھا جب بین کی بولتی ایول نے مکہ مارتے روکی تھی۔۔

جب وہ شدید درد سے چلایا تھا۔۔

اب ٹھوس بریانی شوق سے ۔۔

سوجے گال اور آنکھ کو دیکھ ایول مسکراہٹ روکے بین کی ایسی شکل دیکھ سکون سے بولا تھا۔۔

اچھا سن دلبر جانی میں کہہ ۔۔

ایول نے سر پکڑتے کار سٹارٹ کی تھی کیونکہ بین اب چپ ہونے کی بجاۓ بولنا سٹارٹ کر چکا تھا۔۔۔