581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 21)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

““ماضی ۔۔۔

صام یہ کیا کر رہے ہے ہمارا بیٹا چھوٹا ہے ایسے کیسے اسے شوٹ کرنا سکھا سکتے ہے ۔۔۔

روحا لان میں آتی سامنے کا منظر دیکھتی چلاتی ہوئ پاس آتی بولی تھی۔۔

جہاں صام کی طرح بلیک چھوٹی چھوٹی ہڈی پہنے حدید اور حازم اپنے ننھے ہاتھوں میں گن لیے کھڑے تھے ۔۔۔

میں کیا کر دیا اب انیجل اپنے بیٹوں کو سکھا رہا ہو اگر کبھی ضرورت پڑے تو شوٹ کیسے کیا جاتا ہے ۔۔۔

صام اس کا ہاتھ پکڑتے مسکراتا بولا تھا۔۔۔

ی۔یہ غلط ہے صام ابھی نو سال کے ہے اگر کبھی کسی کو شوٹ ک۔۔۔

شوٹٹٹ۔۔۔

ٹھاہہہ ٹھاہہہہہ۔۔۔

اہہہہ اہہہہہ ڈیڈ آہہہہ اہہہہہہ۔۔۔

روحا منہ بناۓ بول رہی تھی جب صام گردن موڑتے طنزیہ مسکراہٹ لاے غرایا تھا ۔۔۔

حازم نے آواز سنتے ہی بنا ڈرے پہلی ہی دفعہ سامنے لگی بوتلیز پر شوٹ کیا تھا ۔۔۔

جبکہ حدید شوٹ کرنے کی بجاۓ گن اپنے ہی منہ پر گرتے بھاں بھاں کرتا رونا سٹارٹ کر چکا تھا۔۔

ہاے ہمارا بچہ زیادہ لگ گی ک۔۔۔

بزدل۔۔۔

روحا پریشان ہوتی حدید کو گود میں اٹھاے بول رہی تھی جب حازم اپنی ہڈی کی کیپ ٹھیک کرتا بولا تھا۔۔۔۔

ہاں تم دونوں ہی بہادر رہ گے ہو انہہ ہمارے بچے کو اپنی طرح بنا رہے ہے ڈیول ہمیں یہ اچھا نہیں لگتا ہم ناراض ہے آپ سے ۔۔

روحا حازم کی بات سنتی روتے ہوے حدید کو گود میں آٹھاتے وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔

ڈیول انیجل تو ناراض ہو گی ۔۔۔

حازم اچانک پریشان ہوتا بولا تھا۔۔

فکر مت کرو ڈیول اپنی انیجل کو منا لے گا ۔۔

صام اس کے گول پھولے گال چومتے ہوے بولے تھے۔۔۔

اچھا اب ایسے شوٹ کرتے ہے ۔۔

صام زمین پر لیٹتے ایک ہاتھ میں گن لیے دوسرا ہاتھ زمین پر ٹھکاۓ وہ شوٹ لینے کا طریقہ بتا رہے تھے جب ننھا سا حازم بھی اسی پوزیشن میں لیٹا تھا۔۔۔

کیا مسئلہ ہے جنگلی بلی ۔۔۔

حازم جو شوٹ کرنے والا ہی تھا جب دھڑام کرتی رعنا اس پر گری تھی تبھی وہ گردن موڑتے اس پر غرایا تھا۔۔۔

کیا ہے ٹم ٹو (کیا ہے تم کو)..

اسے پر گرتی وہ منہ بناے بولی تھی۔۔

انتل ۔۔

رعنا اب اپنی نیلی آنکھوں سے گھورتی صام کو بولی تھی۔۔۔

بولو بیٹا ۔۔

صام اسے اٹھاتے مسکراتے بولے تھے۔۔

انتل میں بھی شوٹ کرو گی ۔۔

رعنا اپنی نیلی آنکھوں میں چمک لاتی بولی تھی۔۔۔

یہ تم جیسے بزدل کا کام نہیں ہے دفع ہ۔۔۔۔

حازم کھڑا ہوتا اپنی ہڈی صاف کرتا بول رہا تھا جب قریب جاتی رعنا نے اس کا گال پر کاٹا تھا۔۔۔

اہہہ۔۔

رکو ابھی شوٹ کرے گے ہم ۔۔

شدید طش میں آتے حازم وہی لوڈ کی گن ہاتھوں میں لیتے اس کے قریب آتے غرایا تھا۔۔۔

ب۔بچاو بابا ۔۔۔

اس سے ڈرتی رعنا چیختی وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔

جب حازم بھی غصے سے اس کے پیچھے بھاگا تھا۔۔۔

حازم۔حازم روکو بیٹا۔۔۔

اچانک اس کے ہاتھ میں لوڈ ہوی گن دیکھ صام پریشان ہوتے بھاگتے چلاے تھے جو وہ اگنور کیے رعنا کی جان لینے کے لیے بھاگا جا رہا تھا۔۔۔

““حال۔۔

بیٹھو تم ۔۔

ایول ویسے ہی شرٹ لیس جم روم میں آتا بولا تھا جہاں وہ سنجیدہ شکل بناۓ بین کھڑا تھا۔۔۔

جب اس سے ہاتھ ملاتے ایول نے کرسی کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔

دو بجے کا آیا ہو تم چار بجے آ رہے ہو۔۔

بین کرسی پر بیٹھتا سیریس ہوتا بولا تھا۔۔۔

تو سمجھتا ہے ہم جواب دہ ہے تمہارے ۔۔۔

ایول اپنے لبوں میں سگریٹ دباۓ سکون سے بولا تھا۔۔۔

س۔سر کا۔کافی ۔۔

بین کافی نہیں پیتا شکل دیکھو اس کی تم جاٶ یہاں سے ۔۔۔

وہ روم میں دوبارہ آتی ڈرتی بولی تھی جب ایول سگریٹ کا دھواں اُڑتا ہوا بولا تھا۔۔

شیٹ اپ ۔۔

بین برا سا منہ بناے بولا تھا۔۔۔

ایول مسلسل مسکرا رہا تھا۔۔۔

کیوں مجھے بلایا ہے جانتے ہو کتنا کام ہوتا مجھے ۔۔۔

ایول کو خاموش دیکھ بین دوبارہ بولا تھا۔۔۔

تمہیں بریانی پسند ہے آج کسی کی موت ہونے والی ہے سوچا تمہیں پارٹی دو۔۔۔

ایول اپنی گرین لال آنکھوں سے گھورتا برا سا منہ بناے بولا تھا۔۔۔

ہااہاہہاہاہاہہاہاہاہ ہہاہاہااہاہاہاہہاہاہااہاہاہا۔۔۔

یقین وہ موت تیری نہ ہو ورنہ بریانی کھانے میں مزہ نہیں آے گا سڑی بریانی ہو گی۔۔۔

بین اس کا جلتا انداز دیکھ قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔

آ جا پہلے تجھے موت کا سامان بنا دو پھر ۔۔

ایول جلتا بھنتا ہوا اسے گردن سے دبوچتے بولا تھا۔۔۔

شروع ہے اب تمہارا بخار کم ہوا ہے ۔۔

وہ رعنا کے روم میں آتی اسے چیک کرتی مسکراتی بولی تھی ۔۔۔

ت۔تم کون ہو۔۔۔

رعنا نے کمزور سی آواز میں پوچھا تھا۔۔۔

ارے میں نے اپنا تو بتایا ہی نہیں میں ایول لالہ کی بہن کو چاہے سگی نہ سہی لیکن انہوں نے ہمیشہ میرا خیال رکھا ہے میرا نام حور ہے ۔۔۔

حور مسکراتی روم کی صفای کرتی بولی تھی۔۔۔

رعنا نے اسے دیکھا تھا واقعی وہ خوبصورت تھی اپنے نام کی طرح ۔۔۔

اا۔اچھا۔ا۔اور یہ۔یہاں کون۔کون رہتا ہے۔۔

رعنا بامشکل کھڑی ہوتی بولی تھی کمزور سے ٹانگیں کانپ رہی تھی اس کی ۔

یہاں ایول اور اس کی خاموشی رہتی ہے ۔۔

ہہاہاہہاہااہاہاہاا۔۔۔

حور اسے پکڑتی قہقہ لگاتی بولی تھی ۔۔

اس کا قہقہ اتنی زور آواز سے گونجا تھا۔۔۔

رعنا کو یقین ہو گیا تھا وہ ٹھیک کہہ رہی ہے ۔۔

و۔وہ کدھر ہے ۔۔

رعنا ڈرتی ہوی بولی تھی۔۔۔

وہ جم روم میں بین کے ساتھ ۔۔۔

حور اسے واش روم کی طرف لے کر جاتی بولی تھی۔۔۔

ن۔نہیں مجھے اسے دیکھنا ہے ۔۔۔

رعنا روکتی ہوی بولی تھی۔۔۔

مارننگ مہررانی ۔۔۔

فجر کے وقت مہر کی آنکھ کھولی تھی جب اپنی باہوں میں گہری نیند سوتی وانیہ کو دیکھ وہ سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

جو اسی کی شرٹ پہنے سو رہی تھی۔۔۔

مارننگ مہر۔۔

نیند میں بڑبڑاتی وہ بولتی دوبارہ اسی کے سینے میں منہ چھپاے بولی تھی۔۔۔

لگتا تمہاری نائٹ نہیں ختم ہوی ۔۔

وانیہ کو دوبارہ نیند میں جاتے دیکھ وہ شوخ ہوتا بولا تھا۔۔۔

ت۔تم نے سونے ہی کب دیا ت۔۔

وانیہ اس سے دور ہوتی بول رہی تھی جب مہر مسکراتا ہوا اس کی سانسوں کو قید کر چکا تھا۔۔۔

وانیہ خود کو کوس رہی تھی کیوں مہر کی بات کا جواب دیا تھا۔۔۔

ی۔یہ کون ہے برفانی ریچھ کے ساتھ۔۔

رعنا حور کے ساتھ چلتی ہوی جم روم کے باہر کھڑی ہوتی بولی تھی۔۔۔

جہاں شیشے کی دوسری طرف بین اور ایول دونوں کوی بات کر رہے تھے۔۔

یہ بین سر ہے ایول لالہ کے رائیٹ ہائنڈ۔۔

حور بین کی طرف دیکھتی بولی تھی جو مسلسل ایول کے پیٹ پر مکے مار رہا تھا۔۔۔

ی۔یہ آواز کیوں نہیں آ رہی۔۔۔

رعنا نے بہت کوشش کی تھی سنے کو جب وہ بولی تھی۔۔۔

جم روم میں بیٹھے ایول نے بین کے کان میں کچھ کہا تھا جب بین نے اسے لات سے پکڑتے ماربل پر گریا تھا۔۔۔

یہ ساونڈ پروف ہے ۔۔

حور مسلسل مسکراتی بولی تھی۔۔۔

جہاں نیچے گرے ایول پر بین اس کے سینے پر بیٹھا مکے برسا رہا تھا۔۔۔

جبکہ ایول مسلسل قہقے لگا رہا تھا۔۔۔۔

رعنا نے یہ منظر دیکھا تھا اسے شوک ہوا تھا رات والے ایول میں اب والے ایول میں کتنا فرق تھا۔۔۔

کیسے گدھے بیچ کر سو رہا ہے انہہ۔۔۔

روشانے رات ایسے ہی آنسو بہاتی وہی سو گی تھی جب بیڈ پر ایک طرف کمبل لیے گہری نیند سوتے حدید کو دیکھ بولی تھی جس کے کمبل سے باہر پاٶں نکلے تھے۔۔۔

نفرت ہے مجھے تم سے میں یہاں سے چلی جاٶ گی دور تقٰی کے پاس ہاں۔۔

بیڈ سے جلدی سے اٹھتی وہ اپنا لہنگا ہنیڈل کیے روم سے باہر نکلی تھی اس وقت اس کا دماغ نہیں چل رہا تھا۔۔۔

بس یہی بات تھی کہ اسے اس پیلس سے باہر جانا تھا ۔۔

پیلس کے بیک ڈور سے باہر نکلتی پیچھے بنے جنگل کی طرف جاتے سنسنان راستے پر چل پڑی تھی۔۔۔

لہنگے پر ڈوپٹہ لے وہ جلدی جلدی قدم اٹھاۓ سڑک پر جا رہی تھی ابھی دن کا سورج مکمل نہیں نکالا تھا۔۔۔

م۔مجھے تو تقٰی کے گھر کا بھی نہیں پتہ اب کہاں جاٶ گی ۔۔۔

مسلسل اکیلے چلتے وہ زمین پر بیٹھتی بولی تھی ۔۔۔

ارے او جانمن کہاں چلی اتنی صبح صبح۔۔

روشانے زمین پر بیٹھتی اپنے سوجے پاٶں دیکھ رہی تھی جب چار پانچ نئشی اسکے قریب کھڑے بولے تھے۔۔۔

د۔دفع ہو جاٶ تم لوگ۔۔۔

وہ ہمت جمع کرتی وہاں سے اٹھتی چلتے ہوے بولی تھی۔۔۔

ارے روکو تو سہی۔۔۔

ان میں سے ایک نے دور جاتی روشانے کا ڈوپٹہ پکڑتے کہا تھا جب اس کا ڈوپٹہ جسم سے اترا تھا۔۔۔

ب۔بچاٶ بچاٶ۔۔۔

روشانے اپنی جان بچاتی وہاں سے بھاگتی بولی تھی۔۔۔

چل پھر ملتے ہے بریانی پارٹی پر۔۔۔

بین ایول کو ہگ کرتا بولا تھا۔۔۔

چل اب دفع ہو جا۔۔

کافی دماغ کھا لیا ہمارا۔۔۔

ایول اسے ہگ کرنے کے بعد بین کے منہ پر مکہ مارتے غرایا تھا۔۔۔

جاہل انسان زبان چلایا کر ہاتھ کم چلایا کر جبڑہ توڑ دیا میرا۔۔۔

اپنے جبڑے کو پکڑتے بین بھی غرایا تھا۔۔۔

ایول ہمیشہ ایسا ہی کرتا تھا اس کے ساتھ۔۔۔

م۔۔

حور یہ چلا جاے تو ڈور بند کر دینا۔۔۔

اس سے پہلے بین کچھ کہتا جب ایول اپنی سناتا جم روم سے باہر گیا تھا۔۔۔

جاہل انسان ۔۔

اپنے منہ سے نکلتے خون کو صاف کرتے بین برا سا منہ بناتے بولا تھا ۔

ب۔ب۔بچاٶ۔بچاٶ م۔مجھے پل۔پل۔پلیز۔۔۔

روشانے سنسنان راستے پر بھاگتی ہوی جا رہی تھی اس کے پیچھے چار پانچ غنڈے بھاگتے جا رہے تھے جب بھاگتے ہوے وہ کسی چٹان جیسے مرد سے ٹکڑاتی بولی تھی۔۔۔

جو بیلو ہڈی پہنے بین اس سنسنان راستے پر اکیلا کھڑا تھا۔۔

تبھی اس کے سینے سے لگی وہ روتی ہوی بولی تھی ۔۔

ہڈی میں ملبوس بین نے روشانے کو شدید غصے سے گھورا تھا۔۔۔

کیا کرنے آی تھی۔۔

روشانے کا منہ دبوچتے وہ طش سے غرایا تھا۔۔۔

اس کی بھاری آواز سنتے روشانے کانپی تھی ۔۔

روشانے آنکھیں کھولے اس انسان کو دیکھ رہی تھی جس کے صرف کالے ہونٹ دیکھ رہے تھے ۔۔۔

روشانے خود کو کوس رہی تھی کیوں گھر سے بھاگی تھی ۔۔

بتاٶ کیوں نکلی تھی باہر۔۔۔

بین اسے چپ دیکھتا غرایا تھا۔۔۔

کالے لمبے بال کالا حبشیوں والا

رنگ تھا لمبا چوڑا ہیوی باڈی والا بین جس کا رنگ کالا تھا ۔۔۔

اپنی سرخ ہوتی براٶن آنکھوں سے اسے گھورتے غرایا تھا۔۔۔

م۔مجھے ب۔بچاٶ پلیز۔۔۔

اپنے پیچھے آتے غنڈوں کو دیکھ وہ مسلسل روتی بولی تھی۔۔۔

پنک کلر کے بھاری لہنگا جس کی کرتی کے بٹن اوپر سے کھلے تھے بکھرے بال آنسووں سے مٹا میک اپ سوجی آنکھیں وہ اپنی بکھری حالت میں بین کی باہوں میں کانپتی بول رہی تھی۔۔۔

لڑکی تمہیں سوچ سمجھ کر نکلنا چاہے تھا گھر سے اپنی نہ سہی ماں باپ کی عزت کا خیال کر لیتی ۔۔

پتہ نہیں کیا ہوا ہے آج کل لڑکیوں کو ۔۔۔

بین اپنی انگلیوں سے اس کی کرتی کے بٹن بند کرتا طش سے بولا تھا۔۔۔

اوےے چھوڑو اسے یہ ہماری ہے ۔۔

وہ سارے غنڈے اس کے قریب آتے نشے میں جھولتے بولے تھے ۔۔۔

ہاں تو لے جاٶ اٹھا کر ۔۔۔

بین روشانے کو چھوڑے سکون سے بولا تھا۔۔۔

ن۔نہیں پ۔پلیز ت۔تم مجھے گ۔گھر چھوڑ دو پ۔پلیز۔۔۔

روشانے جو اس کو اپنا محافظ سمجھتی زرا سکون میں تھی اچانک اس کی باہوں سے نکلتی روتی بولی تھی۔۔۔۔

ارے جان یہاں آ۔۔۔

وہ سارے ابھی پاس آتے بول ہی رہے تھے جب بین اپنی ہڈی سے خنجر نکالے منٹوں میں سب کے ہاتھ کاٹ چکا تھا۔۔۔

اہہہہ اہہہہ اہہہہ۔۔

روشانے ان سب کے ہاتھ زمین پر گرے اور خون دیکھ چلای تھی۔۔۔

جو زمین پر گرے اب تڑپ رہے تھے۔۔۔۔

ش۔ش۔۔۔

دفع ہو جاٶ یہاں سے لڑکیوں کو زینب نہیں دیتا یوں سنسنان راستے پر اکیلا آنے کو ۔۔

جہاں بھی جانا ہے دن کی روشنی میں جانا۔۔۔

روشانے اس کا شکریہ ادا کر رہی تھی جب بین غرایا تھا۔۔

ل۔لیک۔۔

اسی پاٶں سے جاٶ جس پر چلتی آی ہو چلو جاٶ ورنہ اسی خنجر سے کاٹ دو گا بھاگو ۔۔۔

وہ ڈرتے بول رہی تھی جب بین اس پر غراتا بولا تھا۔۔۔

ج۔ی۔۔

روشانے اپنی جان بچاتی بھاگتی بولی تھی۔۔

اب وہ بھاگتی واپس پیلس کی طرف جا رہی تھی جبکہ بین بھاری قدم لیے اس کے پیچھے جا رہا تھا۔۔۔

اب تو یقین ہو گیا میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔

زینب صبح جاگتی شیشے کے سامنے کھڑی تیار ہو رہی تھی جب وقار نیند سے جاگتا اس کے قریب آتا اس کے شولڈر پر تھوڑی رکھے بولا تھا۔۔۔

ج۔جی ۔۔۔

زینب اپنی کمر پر اس کا ہاتھ پاتے ہکلاتی شرماتے ہوے بولی تھی۔۔۔

ویسے اتنے سال ویسٹ کیے تم نے لٹل ڈول اگر دو سال پہلے تم مان جاتی تو آج ہماری ایک چھوٹی سی بے بی ہوتی۔۔۔

وقار اس کا رخ اپنی طرف کرتا شوخ ہوتا بولا تھا۔۔۔

زینب بات سنتے حیا سے لال ہوی تھی۔۔۔

۔وہ ماما ویٹ کر رہی ہے ۔۔۔

زینب جلدی سے بہانہ بناتی وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔

ہاہہاہاہاہاااا ویسے ابھی بھی لیٹ نہیں ہوے ہم لٹل ڈوللللللل۔۔۔۔

وقار اس کے پیچھے قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔

جب زینب نے شرماتے ہوے سر جھکاے روم سے باہر چلی گی تھی۔۔۔

ابھی بھی سونا ہے کیا تم نے سوہا۔۔۔

گہری نیند سوتی سوہا کو دیکھ فارس بولا تھا ۔۔

جو اس کی شرٹ میں ملبوس اسی کے سینے پر سر رکھے سو رہی تھی۔۔۔

ابھی سونے دیا ہے تم نے مجھے فادی۔۔۔

نیند سے بھری لال گرین آنکھیں کھولے وہ اسکے سینے پر مکہ مارتی بولی تھی۔۔۔

کوئ کام تھا تمہیں فادی میں کر دیتی ہو۔۔۔

سوہا اچانک اٹھ کر بیٹھتی ہوئ بولی تھی۔۔۔

فارس مسکرایا تھا جو لڑکی نیند میں کہی بار بلانے پر اٹھتی نہیں تھی اس کی آواز پر اٹھ کر بیٹھی ہوی تھی۔۔۔

نہیں میری جان پہلے سو جاۓ ۔۔۔

فارس اسے کمر سے پکڑتے مسکراتا بولا تھا۔۔۔

نہیں فادی اب نیند نہیں آے گی تم م۔۔

ہاےےے اللہٌدس بج گے تمہارا ناشتہ اور میڈیسن رہ گی افففف مجھے کیسے بھول گیا۔۔۔

سوہا اپنے بالوں کا بن بناے بول رہی تھی جب ٹائم پر دس بجتے دیکھ وہ چلاتی بیڈ سے اٹھی تھی۔۔۔

ارے یار تم سو جاٶ ویسے بھی ماما آتی ہو گ۔۔

بیوی ہو تمہاری کام کر سکتی ہو غلطی میری ہے مجھے خیال رکھنا چاہے تھا۔۔۔

فارس اس کی جلدبازی دیکھ بول رہا تھا جب اب شرٹ پر ہی باتھ گاٶن پہنے اس کے پاس آتی لبوں کو ہلکا سا چومتی ہوئ باہر چلی گی تھی۔۔۔

میں بہت غلط کر رہا ہو سوہا کے ساتھ یہ میرے ساتھ خوش نہیں رہ پاے گی ۔۔۔

فارس کو واقعی بھوک لگی تھی تبھی وہ اسے جاگا رہا تھا اب باہر جاتی سوہا کو دیکھ وہ افسوس سے دل میں بولا تھا۔۔۔

وہ دیکھ رہا تھا سوہا اتنے کم دنوں سے اس کا خیال اچھے سے رکھ رہی تھی۔۔۔

اوےےے میڈم ابھی بھی جاگنے کا دل نہیں کیا۔۔۔

احمد ناشتہ کرتا اب روم میں آیا تھا جہاں اتنی صبح ہوتے بھی امن بیڈ پر گہری نیند سو رہی تھی۔۔۔

امن کو بیڈ پر الٹا سیدھا لیٹا دیکھ احمد کو واش روم والا سین یاد آ گیا تھا ۔۔

تبھی مسکراہٹ روکے اسے تنگ کرنے کے لیے اس پر جھکتے بولا تھا۔۔

جو پھولے گال لیے بچوں جیسی شکل بناے سو رہی تھی۔۔

صرف دس منٹ آغا میں اٹھتا ہو ابھی۔۔۔

تکیہ اپنے منہ پر رکھتے وہ نیند میں بولی تھی۔۔۔

تم ایسے نہیں جاگو گی ویسے رات مجھے بڑے سکون کی نیند آی تھی۔۔۔

اپنے دونوں بازوں اس کے دائیں بائیں کرتا اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب کرتا سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔

م۔مطلب۔۔

امن نے جلدی سے آنکھیں کھولی تھی جب اپنے اتنے قریب اسے دیکھ وہ گھبراہٹ پر قابو پاتے بولی تھی۔۔۔

مطلب یہ کہ تم اب بچی نہیں رہی ۔۔

احمد اپنی گرین آنکھوں میں شررات لیے اس کی تھوڑی پر لب رکھتے بولا تھا۔۔۔

ج۔ج۔جی وہ م۔مجھے ناشتہ کرنی ہ۔۔۔۔

امن اس کا لمس اپنی تھوڑی پر پاتے اس کی باہوں سے کھسکتی ہوئ بیڈ سے نیچے جاتی دھڑام کرتی قالین پر گری تھی۔۔۔۔

ہاہاہہاہاہااااا میرا بےبی ۔۔۔

بکھرے بال اور بکھری شرٹ لیے امن منہ بناے قالین سے اٹھی تھی جب احمد سکون سے کھڑا ہوتا قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔

ب۔بچی نہیں ہو میں سمجھی آپ ۔۔۔

اپنی گرے آنکھوں میں غصے لاے وہ سینے پر بازوں باندھے بچوں کی طرح بولی تھی بالوں کا مکمل گھونسلہ بن چکے تھے۔۔۔

ہاں دیکھ رہا تم بچی نہیں ہو یہی کہہ رہا تھا۔۔

امن پر گہری نظریں گاڑھے احمد بولا تھا۔۔۔

ب۔بے شرم آغا۔۔۔

اس کی نظروں کا مطلب سمجھ کر امن اپنی شرٹ کا گلا سیدھا کرتی کہتی واش روم کی طرف بھاگی تھی۔۔۔

افففف احمد کیا ہو کیا ہے تمہیں تم بڑے ہو اس سے ۔۔

احمد شیشے میں اپنے فیس پر مسکراہٹ دیکھتا خود کو کوستا بولتا روم سے باہر گیا تھا۔۔

روشنی بیٹا ۔۔۔

روشانے دوبارہ پلیس آ چکی تھی بین اسے وہاں تک چھوڑ کر گیا تھا پیلس آتے ہی روشانے اپنے روم ہی آ گی تھی کپڑے چینج کیے وہ گہری نیند سو گی تھی۔۔۔

تبھی اب ناشتہ کرتی دوبارہ روم کی طرف جا رہی تھی جب مرحا نے روکا تھا۔۔۔

جی ماما۔۔

روشانے ان سے ملتی بولی تھی۔۔۔

بیٹا جاٶ ہادی کو ناشتے کو پوچھو پہلی دفعہ ہوا وہ ابھی تک نیچے نہیں آیا ناشتے کے لیے۔۔

مرحا اسے پیار سے سمجھاتی بولی تھی۔۔۔

جی ماما۔۔

روشانے منہ بناتی وہاں سے جاتی بولی تھی۔۔۔

وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی کسی بات پر گھر میں کسی کو شک کرے تبھی وہ جلدی مانتی گی تھی۔۔۔

ہاے زیادہ ہی مار دیا اس کو ایسے نہیں کرنا چاہے تھا۔۔۔

روشانے روم میں آی تھی جب بیڈ پر شرٹ لیس اوندھے منہ لیٹے حدید کو دیکھ وہ دل میں سوچتی بولی تھی۔۔۔

جہاں وہ سکون سے لیٹا موبائل یوز کر رہا تھا۔۔۔

اتنا مارا تھا تمہیں تم روک سکتے تھے مجھے ہادی۔۔۔

روشانے اس کے قریب آتی آنسو روکتی بولی تھی جہاں حدید کی پوری کمر چوٹ کے نشانوں سے ریڈ ہوی تھی۔۔۔

اگر روک دیتا روشن دان تو تمہارا غصہ نہیں نکلنا تھا۔۔۔

حدید اپنی کمر پر اس کا ہاتھ محسوس کیے بولا تھا۔۔۔

وہ جانتا تھا روشانے دل کی بری نہیں تھی بس زبان ایسی تھی اس کی وہ منہ پر سب کہہ دیتی تھی۔۔۔

اچھا روشن دان تم کہی گی تھی مطلب میں جب جاگا تم یہاں نہیں تھی۔۔۔

روشانے یٹوب لیتی اس کے ہر زخم پر لگا رہی تھی جب اچانک حدید اپنا رخ اس کی طرف کرتا بولا تھا۔۔۔

ن۔نہیں و۔وہ میں اپنے روم چلی گی تھی کپڑے وہی تھے می۔میرے۔۔۔

روشانے حدید کی طرف دیکھ نظریں چڑہاے بولی تھی۔۔۔

اچھا مجھے ناشتے میں میٹھا پسند ہے روشن دان۔۔۔

حدید روشانے کو اپنے خیال میں مگن دیکھ کروٹ چینج کیے اس کے لبوں پر انگلی رکھتا بولا تھا۔۔

ک۔کیا کھاٶ گے میں م۔ماما کو بتاتی ہ۔۔۔

روشانے کی نظروں کے سامنے مسلسل وہی باڈی بلڈر بین آ رہا تھا تبھی اس کی بات پر دھیان دیتے بنا وہ بولتی چپ ہوی تھی۔۔۔

کیونکہ حدید مسکراتا اس پر جھک رہا تھا۔۔

ن۔نہی۔نہیں ہادی پلیز۔۔۔

اپنے چہرے پر پڑتی اس کی سانسوں کی تیپش دیکھ روشانے ہکلاتی چلای تھی۔۔

جبکہ حدید اس پر حاوی ہو چکا تھا۔۔۔

ل۔لالہ وہ آیا ہے۔۔

ایول شراب پی رہا تھا جب حور اس کے روم میں آتی ہکلاتی بولی تھی۔۔۔

ہاں بھیجو ۔۔

ایول ہاتھ کا اشارہ کرتا بولا تھا۔۔۔

آو مہر زرجان خان۔۔۔

مہر اس کے روم میں آیا تھا جب ایول طنزیہ مسکراہٹ لاے بولا تھا۔۔۔

ایول وہ م۔۔

اپنا کام کرو اور جاٶ یہاں سے ۔۔

مہر ایول کے سامنے آتا بول رہا تھا جب ایول بولا تھا۔۔۔

م۔میں نے تمہارا ش۔۔

شکریہ والی بات نہیں ہے ۔۔

مہر ایک بار پھر بول رہا تھا جب ایول روم سے خودی باہر جاتا بولا تھا۔۔۔

انہہہ آج بھی اس بندے کا ایٹیٹوڈ پہلے والے دن جیسا ہے انہہہہ۔۔۔

مہر اس کے پیچھے جاتا برا برا سا منہ بناے بولا تھا۔۔۔

تم آج بھی نہیں بدلے ہماری برای ہمارے سامنے کیا کرو حق مہررررررر۔۔۔

ایول آگے چلتا ہوا طنزیہ مسکراہٹ لاے بولا تھا۔۔۔

میرا نام مہر ہے سنا تم نے تم سے بڑا ہو شرم کرو کچھ ۔۔

مہر شوک نہیں ہوا تھا ایول کی بات سن کر جانتا تھا وہ تو خاموشی کو بھی سن لیتا تھا یہ تو پھر اس کی برای کر رہا تھا۔۔۔

ایول بچپن میں بھی اس کے نام کا مذاق بناتا حق مہر کہتا تھا۔۔

بلا بلا بلا بلا۔۔۔

ایول برا سا منہ بناے اس کی نقل اتارے بول ایک روم کے اندر دھکا دیا تھا۔۔۔