581.1K
47

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 20)

Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar

““ایول💞رعنا

حدید💞روشانے

فارس💞سوہا اسیپشل 💝💝🔥

““کچھ گھنٹے پہلے ۔۔۔

اندھے ہو دیکھ نہیں سکتے جاہل انسان ۔۔

سوہا روم سے باہر آتی کوریڈور سے جا رہی تھی جب سامنے سے آتے ایول کو دیکھ وہ چلای تھی ۔۔

جلدی میں جانے کی وجہ سے سوہا خود ہی اپنے لہنگے سے الجھتی ہوئ گرنے والی تھی جب ایول نے اسے باہوں سے پکڑا تھا تبھی وہ سرخ ہوتی بولی تھی ۔۔۔

ایول اپنے سامنے اپنی بہن کو اتنا خوبصورت تیار دیکھ مسکرایا تھا ۔۔۔

جب اس نے اس کا گال چھوا تھا ۔۔

ل۔لال۔لالہ۔۔۔

اپنے گال پر اس کا سرد لمس پاتے سوہا ہکلاتی بولی تھی ۔۔۔

تمہارا لالہ بہت جلدی اپنی مس کھڑوس سے ملنے آے گا ابھی ہمارا بچہ نیچے جاے فادی کے پاس ۔۔۔

ایول سوہا کا ماتھا چومتا ہوا بولا تھا۔۔

ل۔لالہ آپ۔آپ ات۔ات۔اتنے بڑے ہو۔گ۔گے لالہ آپ میرے لا۔لالہ ہ۔۔۔

سوہا بیٹا جاٶ یہاں سے ۔۔۔

سوہا پاگلوں کی طرح ایول کو شولڈر گال چہرے کو چھوتی روتی بول رہی تھی جب ایول نے اسے گردن سے دبوچتے غراتے ہوے کہا تھا۔۔۔

ج۔جی۔۔۔

سوہا اس کی سرد برف جیسی آنکھیں دیکھ ہکلاتی کہتی وہاں سے بھاگی تھی ۔۔۔

اہہہ ہمارا بے بی ۔۔۔

ایول اپنے ہاتھ کو چومتے طنزیہ مسکرایا تھا۔۔۔

اب وہ بنا ڈرے رعنا کے روم میں چپ چاپ انٹر ہوا تھا روم میں کم روشنی کی وجہ سے وہ نہیں دیکھ سکی تھی اسے جو آرام سے صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔

یہ گرمی کیوں لگ رہی ہے شاہد بخار کی وجہ سے ۔۔۔

سوہا کے جانے کے بعد وہ بیڈ پر لیٹ چکی تھی جب گرمی محسوس کیے وہ دوبارہ اٹھتی بولی تھی ۔۔۔

یہ اتار دیتی ہو ویسے بھی کوی یہاں نہیں ۔۔

روم کے ڈور اور ونڈو بند دیکھ وہ اپنے لہنگے پر پہنی نیٹ کی جیکٹ کو اتارے بولی تھی ۔۔

افففف وکی نے یہ ہلدی کب لگای ۔۔

شیشے میں اپنا چہرہ ہلدی سے بھرا دیکھ وہ بولی تھی ۔۔۔

بخار کبھی بھی کم نہیں ہو گا جب تک میں اپنا ڈر کسی کو نہ بتا دو صام انکل کو بتاتی ہو ۔۔

ٹشو سے اپنی گال صاف کرتی وہ دل میں سوچ رہی تھی ۔۔۔

دونوں مل کر بتاے گے شادی کا ظاہر سی بات

ہے انہیں بھی خوشی ہونی چاہے ان کی بیٹی کی شادی ایک اس کے ساتھ ہوی ہے مس جنگلی بلی ۔۔۔

وہ ابھی اپنے خیالوں میں مگن تھی جب صوفے سے اٹھتے ایول نے اسے پیچھے سے پکڑتے شیشے کے ساتھ لگاے بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔

ب۔برفانی ریچھ ۔۔

رعنا اپنے قریب اسے پاتے ہلاتی بولی تھی اسے امید نہیں تھی وہ یہاں بھی ا جاے گا ۔۔

دشمن کو ہمشیہ قریب رکھنا چاہے ہم تمہیں اپنی قید میں رکھے گے ۔۔

ایول اس کی گردن پر اپنے سرد لب رکھتا بولا تھا ۔۔۔

پ۔پلیز۔۔

اپنے جسم پر اس کا لمس پاتے ہ تڑپتی بولی تھی۔۔

ہم نے کچھ نہیں کیا ابھی یہ آنسو بہانے بند کرو ۔۔

شدید غصے میں رعنا کا رخ اپنی طرف کرتے ایول غرایا تھا ۔۔۔

د۔دور رہا کرو ڈ۔ڈر لگتا ہے ۔۔

اپنے سامنے روشنی میں ایول کا خوبصورت چہرہ دیکھ وہ آنسو بہاتے روتی بولی تھی ۔۔

وہ اس بات پر مانے کو راضی ہو گی جتنا وہ بچپن میں خوبصورت تھا جوانی میں بے تحاشہ خوبصورتی کا پیکر کر بن چکا تھا جو بھی اس کی طرف ایک نظر دیکھے وہی جم جاے اس کا حسن دیکھ کر ۔۔۔

ارے ہمارا بے بی ابھی تو ان سانسوں کو ختم کرنا ہے ۔۔

رعنا کا منہ دوبوچتے وہ طنزیہ بولا تھا ۔۔

اپنے چہرے پر اس کے برف جیسے سرد ہاتھ پاتے وہ گھبرای تھی۔۔۔

وہ انجان تھی ایول کیا کرنے والا تھا اس کے ساتھ ۔۔

م۔می۔میں ت۔تمہارے پاٶں پ۔۔

چچچچ ہمیں ایسا دشمن نہیں چاہے جس کے ساتھ لڑنے میں مزہ نہ آے ۔۔۔

ہاےےےے ہم چاہے تمہیں خاموشی سے لے جاۓ لیکن جہاں ایول ہو وہاں خاموشی نہیں موت کا ڈر ہونا چاہے ۔۔۔

رعنا بخار سے تپتی ہوی اس کے قدموں پر بیٹھتے بول رہی تھی جب اسے شولڈر سے پکڑ اپنے قریب کرتے وہ سرد سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔

م۔۔

اہہہ اہہہہ اہہہہہ۔۔

وہ بولنے والی تھی جب ایول نے شیشے پر مکہ مارتے توڑا تھا جب شیشہ بکھر کر سارا نیچے گرا تھا تبھی وہ ڈرتی ہوئ چلای تھی۔۔۔

ہم تمہارا خون بھی یوز کر سکتے ہے لیکن تم کمزور ہو جاٶ گی تو لڑانے میں مزہ نہیں آنا ۔۔۔

رعنا کو زیادہ بخار اور ڈر سے غنودگی میں جاتے دیکھ وہ اسے کمر سے پکڑے بولا تھا جس کی آنکھیں بند ہو رہی تھی۔۔۔

اپنے ہاتھ پر شیشہ لگاے اب وہ اس کے لہنگے کی جیکٹ اور ڈوپٹے پر اپنا خون بہا رہا تھا۔۔۔۔

ت۔تم مجھے جیسی مرضی سزا دو لی۔۔۔

ایول اب شعیب خان کو فون کرتا مسکرایا تھا جب باہوں میں جھولتی وہ بولی تھی ۔۔۔

ارے مولانی ابھی تو گیم سٹارٹ ہوا ہے آگے تو بہت کچھ ہے ۔۔۔

اس کا خوبصورت چہرہ دیکھ وہ اسے قالین پر گراتے بولا تھا۔۔۔

ن۔نہ مج۔۔

قالین پر گرے وہ بول رہی تھی جب ایول نے جھکتے ہوۓ اس کے لبوں پر اپنے لب رکھے تھے ۔۔۔

اپنے دہکنے لب پر اس کے سرد برف جیسے لب محسوس کیے وہ پوری کانپی تھی۔۔۔۔

رعنا کو اپنی سانسوں میں کوی چیز گلے کے نیچے سے جاتی محسوس ہوی تھی۔۔۔۔

۔ب۔ب۔۔۔

ایول کے سینے پر اس نے اپنے ننھے سے ہاتھ کے مکے مارے تھے تبھی وہ اسے چھوڑے پیچھے ہوا تھا ۔۔۔

ایول کے لبوں پر مسلسل طنزیہ مسکراہٹ تھی ۔۔۔

رعنا نے جیسے ہی بولنے کی کوشش کی تھی منہ سے جھاگ آتے دیکھ وہ بے ہوش ہوی تھی۔۔۔

کم ز کم اب یہ نہیں بولنے والی ۔۔۔

رعنا کو بے ہوش دیکھ ایول اپنے لبوں سے کیپسول کا خول نکالے قالین میں اسے فولڈ کرتا بولا تھا۔۔۔

اب وہ اسے شولڈر پر ڈالے سکون سے روم سے باہر نکالا تھا۔۔۔۔

جہاں سامنے صام اور شعیب رومز دیکھنے میں بزی تھے ۔۔۔

ایول جان بوجھ کر ڈیول سے ٹکڑایا تھا۔۔۔

جس میں وہ کامیاب ہوا تھا۔۔۔

کیا حرکت تھی یہ ایول ۔۔

ایول ابھی روم میں آیا تھا جب بین کی کال آی تھی جب وہ غرایا تھا۔۔۔

جم روم ملنا ہمیں ۔۔

لبوں میں سگریٹ دباۓ وہ سکون سے اپنی بات بولا تھا۔۔۔

یہ تم اچھا نہیں کر رہے جان سے مار د ۔۔۔

شیٹ اپ بے بی ۔۔۔

وہ اپنی بات اگنور ہوتا دیکھ غرا رہا تھا جب ایول اسے اور آگ لگاتا فون بند کر چکا تھا۔۔۔

ہاہہاہاہااہاہہاہاا بزدل ۔۔

ایول اکیلا اپنے روم میں بیٹھا قہقہ لگاتا بولا تھا۔۔۔

ہو گی شادی ویسے اس شادی کی ضرورت نہیں تھی اپنا مقصد تم پورا کر چکے ہو پہلے ہی ۔۔۔

حدید روم میں آیا تھا جب روشانے ویسے ہی لہنگے میں تیار اسے اندر آتا دیکھ طش سے بولی تھی۔۔۔

ویسے بہت پیاری لگ رہی تھی آج روشن دان بلکل بلب کی طرح چمک رہی تھی۔۔۔

حدید اسے کمر سے پکڑتے دانت نکالے بولا تھا۔۔۔

روشانے کا چہرہ سرخ ہوا تھا اس کے چھونے پر۔۔

میرا دل کر رہا جان سے مار دو ۔۔

روشانے اسے دیوار کے ساتھ پن کرتی غرای تھی۔۔۔

ہاے مار دو پہلی دفعہ ہو گا کوئ شوہر اپنی بیوی کے ہاتھوں سے مر جاۓ کیسا۔۔۔

حدید اس کے بالوں کی لٹ کو پکڑتے آنکھ ونک کرتا بولا تھا۔۔۔

ہادی مجھے غصہ آ رہا ہے ۔۔۔

روشانے دانت پیستے ہوے بولی تھی۔۔۔

دیکھو ہماری گولڈن نائٹ ہے تم جو چاہو کرو مجھے مارنا چاہتی ہو مار لو میں سامنے ہی ہو ۔۔۔

حدید اس کا پھولا گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔

چٹاخ چٹاخ ۔۔

روشانے اسے اتنا پر سکون دیکھتی غصے سے باہر ہوتی اس کے گال پر دو تھپڑ مارے تھے ۔۔

اور مار لو جیتنا غصہ ہے نکال سکتی ہو لیکن یاد رکھنا آج سے جو بھی ہو گا وہ صرف روم میں سب کے سامنے ہم اچھے میاں بیوی ہو گے ۔۔

حدید اپنے ہاتھ پھیچے کی طرف کرتا سکون سے بولا تھا۔۔۔

نفرت ہے مجھے تم سے اچھا انسان سمجھا تھا ۔۔۔

روشانے اس کی بات سنتی سر پکڑتی اس کا سر دیوار پر مارتی بولی تھی ۔۔۔

حدید چپ ہوتا اس سے مار کھا رہا تھا وہ چاہتا تھا اپنے دل کا غبارہ وہ نکال لے ۔

روشانے اب اسے مسلسل مار رہی تھی حدید کا پورا چہرہ اور گال لال ہو چکے تھے ۔۔۔

تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہے تھا ہادی میں تمہیں اچھا انسان سمجھتی تھی لیکن تم نے ہی میری عزت کا جنازہ نکال دیا ۔۔۔

نفرت ہے بے پناہ تم سے سنا تم نے ۔۔۔

حدید کو مسلسل مارتے وہ اس کے لبوں سے نکلتے خون کو دیکھ اچانک ہوش میں آتی دور ہوتی چلای تھی ۔۔۔

میں اپنے ہر گناہ کا ازلہ کرو گا ا۔۔

طلاق دو مجھے ابھی کہ ابھی م۔میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی میں تقٰی کے ساتھ رہو گی ۔۔

م۔۔۔

روشانے اس سے دور جاتی چیختی بول رہی اسے یہی سمجھ نہیں آ رہا تھا اتنی مار کھا کر بھی وہ اتنا پر سکون کیسے رہ سکتا ہے ۔۔۔

حدید نے دوبارہ اسے کمر سے پکڑتے اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں قید کیا تھا۔۔۔۔

حدید کے لبوں کا خون کا ذائقہ روشانے کو محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔

کپڑے چینج کرو تم چاہے مجھے جان سے مار دو لیکن حدید صام آفندی تمہیں کبھی طلاق نہیں دے گا ۔۔۔

رہ گی اس جاہل کمینے انسان کی بات تم ملتی رہو ۔میں نہیں روکتا ۔۔۔

روشانے کی اٹکتی سانسوں کو محسوس کیے وہ اسے نرمی سے چھوڑے اپنے لبوں پر لگے خون کو صاف کرتا بولا تھا۔۔۔

گندے انسان ا۔۔۔

میں سب کچھ ہو اب جاٶ کپڑے چینج کرو ۔۔۔

وہ لال چہرہ لیے بول رہی تھی جب وہ سکون سے بولتا روم سے باہر گیا تھا۔۔

روشانے اس کی شرٹ پوری پھاڑ چکی تھی جس میں حدید کی سفید کمر نظر آی تھی۔۔۔

زیادہ ہی مار دیا۔۔۔

دور جاتے حدید کی کمر پر خون دیکھ وہ دل میں بولی تھی۔۔۔

انہہہہ ڈرامے ہے سارے۔۔۔

روشانے اس رات کا سوچتی نفرت سے کہتی ویسے ہی بیڈ پر منہ اوندہ کیے لیٹتی رونا سٹارٹ کر چکی تھی ۔۔۔

روشانے کے رونے کی آواز حدید کو روم کے ڈور تک سنای دے رہی تھی ۔۔۔

حدید اس کی آواز سنتا شرمندہ ہوا تھا۔۔۔

وہ دوبارہ روم میں انٹر ہوتا روم میں لگے ساونڈ پروف والا بٹن آن کر چکا تھا تاکہ روم سے باہر آواز نہ جا سکے ۔۔۔

پورے روم میں اب ایک ساونڈ پروف جیسی دیواریں گری تھی ۔۔۔

جو کسی کو بھی نظر نہیں آ رہی تھی۔۔

سوہا ایول سے ملتی نیچے ہال آ گی تھی جب اس کی کچھ دوستیں فارس کا مذاق بنا رہی تھی جب وہ شدید غصہ کرتی فارس کو لے گھر آ گی تھی ۔۔۔

فارس کے کانوں میں ابھی تک وہی آوازیں گونج رہی تھی ۔۔۔

جب اس کی دوستیں یہ کہہ رہی سوہا نے ایک معذور سے شادی کی ہے جو اپنی ٹانگوں پر بھی نہیں چل سکتا ۔۔۔

کیا تم پھر مجھے چھوڑ دو گی۔۔

فارس اس کی طرف دیکھتا بولا تھا جس کے لہجے میں بے بسی اور دکھ شامل تھا۔۔

سوہا اپنی نائٹی پہنے شیشے کے قریب کھڑی ہاتھوں کو لوشن لگا رہی تھی جبکہ فارس وہیل چیئر پر ویسے ہی بیٹھا تھا۔۔۔

سوہا کچھ دیر اس کی طرف دیکھتی رہی۔۔

جبکہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی ۔۔

سوہا پھر آہستہ سے دو قدم چل کر اس کے بالکل قریب آکر قدموں میں بیٹھی تھی ۔۔۔

یہ بتاٶ تمہاری جو یہ حالت ہے اگر میں ہوتی تم مجھے چھوڑ دیتے کیا ۔۔۔

سوہا اس کی بات اگنور کرتی اپنا بولی تھی۔۔

سوہا اس کے دونوں ہاتھ پکڑتے مسکراتے بولی تھی۔۔۔

نہیں میں کیا پاگل ہو ۔تم سے عشق ہے مجھے کیوں چھوڑو گا تمہیں ۔۔۔

فارس اس کے ہاتھوں کو چومتے روٹھے سے لہجے میں بولا تھا۔۔۔

مجھے تمہاری یہ سانسیں بہت پسند ہے یہاں رہنا چاہتی ہو بس ۔۔۔

سب کے ساتھ رہنے والی مس کھڑوس اپنے فادی پر دل وجان سے فدا ہے ۔۔۔

اس کے دونوں ہاتھ تھام کے باقی کا بھی فاصلہ ختم کرکے اس کی پیشانی سے اپنی پیشانی لگا کر ایک لمبی سانس کھینچ کر اس کی خوشبو کو محسوس کرتے سوہا مسکراتی بولی تھی ۔۔۔

سوہا کی بات سنتے فارس نے کرب سے آنکھیں بند کی تھی ۔۔۔

دیکھو فادی ماما کہتی ہے جو مکمل انسان ہے اسے ہر کوی محبت کرتا ہے لیکن جو ادھورہ انسان ہو اسے کوی بھی بات نہیں کرتا سب حقارت سمجھتے ہے ۔۔

ضروری تو نہیں کہ انسان کو سب چیزیں ہی پرفیکٹ ملے ہر کام میں اللہٌکی محصلیت ہوتی ہے میں اپنے رب کی رضا میں راضی ہو ۔۔۔

سوہا اسے کمر سے پکڑتی کھڑا کرتی آہستہ آہستہ بولتی اسے بیڈ کی طرف لے کر جاتی بول رہی تھی ۔۔

تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے سوہا فارس تمہیں چھوڑ دے گی بے پناہ عشق ہو میرا میں اپنی سانسوں سے جا سکتی ہو تم سے نہیں ۔۔

تم مجھے ایسے بھی بے حد پسند ہو کیوٹ سے ۔۔

فارس کی شرٹ اتارے اسے بیڈ پر بیٹھاۓ اپنا ایک ہاتھ اس کے بائیں گال پر رکھتے وہ بولی تھی۔۔

فارس نے سکون سے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی ۔۔۔

پاگل ہو پوری تم ۔۔۔

فارس اپنے قریب اسے لیٹتے دیکھ اس کی طرف گردن کرتا بولا تھا۔۔۔

جانتا تھا وہ کتنی دیوانی اور ضدی تھی اس کے لیے ۔۔۔

تمہارے عشق میں پاگل ایک کھڑوس لڑکی ۔۔

فارس کو گردن سے پکڑتے اپنی طرف جھکاے وہ دانت نکالے بولی تھی۔۔۔

شکریہ سوہا ت۔۔

ایسے شکریہ نہیں کیا جاتا میجر فارس ۔۔

شکریہ ایسے ہوتا جہاں آپ اپنی دیوانگی ظاہر کرے ۔۔

فارس اس پر جھکتا بول رہا تھا جب سوہا اس کے لبوں کو اپنی قید میں کرتی بولی تھی ۔۔۔

مجھے نہیں پتہ تھا میری کھڑوس رومانٹک بھی ہے ۔۔

سوہا جلدی سے اسے چھوڑے رخ چینج کیے لیٹی تھی جب فارس شوخ ہوتا اسے اپنی طرف کرتا اس کی سانسوں کو قید کرتا بولا تھا۔۔۔

و۔وہ فادی میں ۔۔۔

سوہا تو اس کا مائنڈ چینج کرتے یہ حرکت کی تھی لیکن اب اپنی جان فارس کے ہاتھوں میں قابو دیکھ وہ پیچھے ہوتی گہرے سانس لیتی لال چہرے سے بول رہی تھی جب فارس نے دوبارہ وہی حرکت کی تھی۔۔۔

سوہا اس کی قربت میں اب چپ ہو گی تھی ۔۔

ڈر اور بخار کو ایک کیا جاۓ تو کیا ہوتا ہے جانتی ہو ۔۔۔

ایول اپنے فارم ہاوس بنے کولڈ روم میں آتا بولا تھا جہاں رعنا صرف اس کی شرٹ پہنے وہاں بنے بیڈ پر بیٹھی سردی سے کانپ رہی تھی ۔۔۔

ہوش میں آتے ہی وہ اسے صرف یہ پتہ تھا وہ یہاں ایسی حالت میں تھی جہاں وہ بنا ڈوپٹے یا جیکٹ کے شرٹ میں ملبوس بیٹھی تھی۔۔۔

ڈر اور بخار کو اکٹھا کیا جاے تو سانسیں بند ہوتی ہے جیسے تمہاری ہو رہی ہے چچچچچ افسوس۔۔۔

ایول شرٹ لیس ہوتا اس کے قریب آتا بولا تھا۔۔۔

ایول کی اتنی ہیوی باڈی دیکھ جس پر سرخ اور نیلی رگیں صاف دیکھای دے رہی تھی رعنا نے اپنے خشک برف جیسے ہونٹوں پر زبان پھیری تھی۔۔۔

س۔س۔سردی ۔ل۔لگ ۔رہی۔۔

ہم جانتے ہے تمہیں سردی بہت جلدی لگتی ہے ویسے انجواے کر رہی ہو یا اور زیادہ کولڈ کرو روم کو ۔۔

رعنا جو اپنی ٹانگوں کو فولڈ کرتی بول رہی تھی جب ایول اس کی دونوں ٹانگوں کو پکڑے سکون سے بولا تھا۔۔۔

رعنا کی سانسیں اٹکی تھی کیونکہ ایول اپنا سرد ہاتھ اس کی دونوں ٹانگوں پر آہستہ آہستہ چلا رہا تھا۔۔۔

ویسے ہمیں تو گرمی لگ رہی ہے کافی کولڈنیس زیادہ کرنی چاہے ۔۔۔

ایول کا بھاری سفید ہاتھ رعنا کو اپنی تھای پر محسوس ہو رہا تھا جب وہ طنزیہ مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔۔

اس کے ہاتھ میں ریموٹ تھا جس سے وہ روم کی کولڈنیس زیادہ اور کم کر رہا تھا۔۔۔

ن۔نہیں ۔پلی۔۔۔

رعنا روتی بولتی اچانک چپ ہوی تھی ۔۔۔

کیونکہ اس کے جسم کا

ٹمریچڑ حد سے زیادہ کم ہو چکا تھا ۔۔

پورا جسم اب نیلا ہو رہا ۔۔۔

اففف یہ نازک لڑکیاں اتنی سی سردی برداشت نہیں کر سکتی ۔۔۔

بابا کی پریاں انہہہ۔۔۔

رعنا کی حالت دیکھ ایول جلدی سے اسے کمر سے پکڑے گود میں اٹھاتا بولا تھا۔۔۔

جہاں وہ اب سردی سے کانپتی غنودگی میں جا رہی تھی ۔۔۔

ویسے دشمن کے ساتھ تب لڑنا چاہے جب وہ طاقتور ہو تم کمزور نہیں اچھی لگتی ۔۔

اور ہمیں مزہ نہیں آے گا ۔۔۔

ایول اسے ویسے ہی گود میں اٹھاے اب اپنے ہاٹ روم میں لایا تھا جو اتنا ہاٹ تھا جیسے کوئ جہنم میں آ گیا ہو رعنا کو بیڈ پر بیٹھاۓ وہ سکون سے بولا تھا۔۔۔

کولڈ ائنڈ ہاٹ روم اس نے اپنے فارم ہاوس ہی بناے تھے وہ تب یوز کرتا تھا جب کسی کو سزا دینی ہوتی تھی ۔۔۔

ا۔ایول س۔۔

اسے کہو ویٹ کرے میرا ۔۔۔

ایول ابھی رعنا کو بیڈ پر لیٹانے کی کوشش کر رہا تھا جس نے اسے کمر سے زور سے پکڑا تھا۔۔۔

تبھی روم کے باہر کھڑی لڑکی بول رہی تھی جب وہ غرایا تھا۔۔۔

میں کیسے بھول جاتی ہو ایول کو سب پتہ ہوتا ہے ۔۔

وہ اپنا ہاتھ ماتھے پر مارتی ہوی مسکراتی بولی تھی وہ اسے بین کے آنے کا بتانے آی تھی۔۔۔

س۔سر وہ کہتے آتا ہو آپ تب تک کافی پی ۔۔۔

وہ جم روم میں آتی بین کو دیکھتی بول رہی تھی جب اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کو کہا تھا۔۔۔

افففف توبہ یہ دونوں کتنے چپ رہتے ہے پتہ نہیں باتیں کیسے کرتے ہے ۔۔

وہ اب جم روم سے باہر آتی برا سا منہ بناے بولی تھی ۔۔۔

صرف وہی جانتی تھی ایول اور بین صرف ایک دوسرے کے ساتھ ہی اتنا زیادہ بولتے تھے زیادہ بولنا ان دونوں کو فضول لگتا تھا۔۔۔

اففف اس لڑکی کے ڈرامے اب تو جسم بھی ٹھیک ہو گیا ہے ۔۔

آدھے گھنٹے بعد رعنا کو چیک کرتے ایول بولا تھا جو آہستہ آہستہ سانسیں لے رہی تھی ۔۔۔

یہ مر گی تو فائدہ لڑنے کا اسے ہوش دلانا چاہے تھوڑا سا۔۔۔

رعنا کے پاس لیٹتے اسے منہ سے پکڑتے بولا تھا جو آنکھیں بند کیے ہلکا سا منہ کھولے سانسیں لے رہی تھی ۔۔

جب ٹیبل سے سگریٹ لیتے اسے جلاتے وہ اس کے لبوں پر رکھ چکا تھا۔۔۔

اہہہہ ہہہہہ اہہہہہہ باب۔۔۔

اپنے لبوں کو جلتا محسوس کیے پٹ سے آنکھیں کھولے وہ چلا رہی تھی جب ایول نے اس کی سانسوں کے ساتھ اپنی سانسیں الجھائ تھی ۔۔۔

رعنا نے شوک ہوتے ایول کو کمر سے پکڑا تھا اسے یہی سمجھ نہیں آ رہا تھا اس کی سانسیں گرم ہو رہی یا سرد ۔۔۔

ہمارے خیال سے اتنا کافی تھا آج کے لیے ۔۔۔

ایول اس کی سانسوں میں خود کو مدہوش ہوتا دیکھ جلدی سے چھوڑے بولا تھا ۔۔

جو اسی کے برہنہ سینے پر منہ رکھے گہرے گہرے سانس لے رہی تھی۔۔۔

س۔سیی۔۔

شرم سے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ رعنا نے شدید غصے سے اپنے دانت ایول کے سینے پر گاڑھے تھے جب وہ تھوڑا سا سسکا تھا۔۔۔

ایول کی حرکت پر رعنا کے ہوش ٹھکانے آ چکے تھے ۔

مولانی آج بھی جنگلی بلی ہو تم۔۔۔

رعنا نے یہ سوچ کر اسے کاٹا تھا وہ ڈر کے مارے اسے چھوڑ دے گا ۔۔۔

لیکن ایول اسے دوبارہ بالوں سے پکڑے اس کا چہرہ اپنے قریب کرتا اس کی سانسوں پر قبضہ کر چکا تھا۔۔۔

ایول کے دوبارہ وہی شدت بھرے عمل پر رعنا ہمت ہارتی بے ہوش ہوی تھی ۔۔۔

ہوش میں لاٶ اسے فوراً۔۔

رعنا کو بیڈ پر لیٹاۓ ایول نے اس کے لبوں سے نکلتا خون اپنے آنگوٹھے سے صاف کرتے باہر آیا تھا ۔۔

جب باہر کھڑی لڑکی سے وہ بولتا اب سکون سے جم روم چلا گیا تھا۔۔۔

میں ابھی تک شوک ہو یہ لڑکی بچ کیسے گی ہاے ڈول جیسی ہے ۔۔۔

وہ روم میں آتی رعنا کو بے ہوش اور بکھری حالت میں دیکھ بولی تھی۔۔۔

اسے ترس آیا تھا رعنا پر اور ایول پر غصہ بھی ۔۔

ب۔ب۔بچاٶ۔بچاٶ م۔مجھے پل۔پل۔پلیز۔۔۔

روشانے سنسنان راستے پر بھاگتی ہوی جا رہی تھی اس کے پیچھے چار پانچ غنڈے بھاگتے جا رہے تھے جب بھاگتے ہوے وہ کسی چٹان جیسے مرد سے ٹکڑاتی بولی تھی۔۔۔

جو بیلو ہڈی پہنے اس سنسنان راستے پر اکیلا کھڑا تھا۔۔

تبھی اس کے سینے سے لگی وہ روتی ہوی بولی تھی ۔۔

ہڈی والے انسان نے روشانے کو شدید غصے سے گھورا تھا۔۔۔

کیا کرنے آی تھی۔۔

روشانے کا منہ دبوچتے وہ طش سے غرایا تھا۔۔۔

اس کی بھاری آواز سنتے روشانے کانپی تھی ۔۔

روشانے آنکھیں کھولے اس انسان کو دیکھ رہی تھی جس کے صرف کالے ہونٹ دیکھ رہے تھے ۔۔۔

روشانے خود کو کوس رہی تھی کیونکہ گھر سے بھاگی تھی ۔۔