Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 2)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 2)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
آغا جان آغا جان آپ ہماری بات تو سنے زرا۔۔۔
حازم اندر آتا اس کے پیچھے آتا چلایا تھا۔۔۔
دیکھو تم میرے بچے جیسے ہو بلکہ تم سب ہو میں بڑا ہو میرا یہ فرض ہے تم سب کے لیے اچھا کرو وانی میرا بچہ وہ مہر کے ساتھ دوستی رکھنا چاہتی ہے تم کسی اور سے کر لو دوستی امن روشانے زینب سوہا رعنا سب ہے یہاں مجھے اعتراض نہیں ہے لیکن میری بہن سے دوستی مت کرو اگر وہ نہیں چاہتی۔۔۔
احمد حازم کو صوفے پر بیٹھاۓ ایک بڑے بھای کی طرح سمجھا رہا تھا جو کہ حازم آرام سے سن رہا تھا۔۔۔۔
جو چیز حازم صام آفندی کو چاہے ہوتی ہے وہ ہر حال میں لیتے ہم ۔۔۔
ہم جس سے دوستی کرنا چاہتے ہے وہی دوستی کرے گی ہم سے ۔۔۔
اچانک حازم اپنی گردن ٹیڑھی کرتا اپنی وحشت ناک آنکھوں سے گھورتا بولا تھا۔۔۔
جبکہ اس کے بچپنے پر احمد مسکرایا تھا۔۔
وہ جانتا تھا اس کا یہ کزن اپنے باپ جیسا ضدی تھا۔۔۔۔
چلو جو تم سے دوستی کرنا چاہتا ہے تم اسی سے کرنا دوستی باقی سب سے مت کرنا۔۔۔
اوکے۔۔۔
احمد ابھی بول رہا تھا جب حازم راضی ہوتا کہتا وہاں سے تن فن کرتا چلا گیا تھا۔۔۔
————————————————————
حازم حازم حازم ۔۔
مہر مہر ۔مہر۔۔۔
حدید ۔حدید ۔۔۔۔۔
حازم اور مہر دونوں فٹ بال لان میں کھیل رہے تھے جب لڑکیوں میں روشانے امن سوہا رعنا چیخ رہی تھی حازم کا نام لے کر جبکہ اکیلی وانیہ تھی جو مہر کا نام لے رہی تھی اسی بات پر حازم کو غصہ آ رہا تھا۔۔۔۔
جب روشانے کے پاس بیٹھے حدید نے دانت نکالے نعرہ لگایا تھا۔۔۔
تم کس خوشی میں اپنا نام لے رہے ہو۔۔
روشانے سڑا ہوا منہ بناتے اس کو بالوں سے پکڑتے بولی تھی۔۔۔
دیکھو روشن دان بات یہ ہے حازم لالہ کی شکل مجھ سے ملتی ہے تو یہ کھیل میں بھی کھیل رہا ہو تم زیادہ ایس پی نہ بنا کرو سمجھی۔۔۔
حدید اسے بالوں سے پکڑے اس کی گردن کو جھٹکا دیتے بولا تھا۔۔۔
اہہہہ جانور سانڈ کہیں کا رکو ابھی بتاتی ہو۔۔۔
روشانے اپنی گردن پکڑتے چیختی ہوئ اب اسے گھورتی بولی تھی۔۔۔
””ہمارے پاکستان کا ہے ایک روشن دان اوووو ہوووو ۔۔۔
ہمارے پاکستان کا ہے ایک روشن دان ””
حدید اپنی سریلی آواز میں گاتا ہوا وہاں سے بھاگا تھا۔۔۔
جب آگ بگولہ ہوتی روشانے بکھرے بال لیے اس کے پیچھے بھاگی تھی۔۔۔
————————————————————
مہر تم ہی جیتو گے مجھے پتہ ہے ۔۔
فٹ بال سے کھیلتے مہر کو دیکھ وانیہ چہکتی ہوئ بولی تھی جب حازم وانیہ کو خوش کرنے کے لیے ہارنے والا تھا۔۔۔
اسے صرف وانیہ کی خوشی عزیز تھی۔۔۔
بلکل نہیں برفانی ریچھ تم جیتو گے مجھے پتہ ہے ۔۔۔
اس سے پہلے حازم کھیل سے ہارتا جب اسے رعنا کی چیختی آواز سنائ دی تھی ۔۔۔
اسی کی نیلی آنکھوں کی طرف دیکھتے وہ فٹ بال کا کھیل جیت چکا تھا۔۔۔۔
یاہوووو یاہووووو مجھے پتہ تھا تم ہی جیتو گے برفانی ریچھ ہاےےےےے۔۔۔
رعنا خوشی سے چہکتے ہوئ حازم کے گلے لگتی بولی تھی۔۔۔
وہ آسانی سے دیکھ سکتا تھا اس ننھی پری کے چہرے پر وہ خوشی کے رنگ جو وہ وانیہ کے چہرے پر دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔
سوری مہرانی میں ہار گ۔۔۔
ہم جیتے ہے آٶ ڈول سے کھیلتے ہے اب۔۔۔
مہر اداس ہوتا بول رہا تھا جب وانیہ مسکراتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
مہر خوش تھا وانیہ اس کے ساتھ دوستی رکھنا چاہتی تھی۔۔۔
نیلی بلی تم کچھ زیادہ ہی خوش ہو ۔۔
حازم اس کی طرف دیکھتا بولا تھا جو صرف مسکرا رہی تھی۔۔۔
برفانی ریچھ تم ہار جاتے تو حدید اداس ہو جاتا بس اس کے لیے خوش ہو ۔۔
ورنہ تمہاری شکل تو سڑے ہوۓ ٹماٹر جیسی ہے ۔۔
اپنی بالوں کی دو پونیوں کو جھٹکا دیتے رعنا مسکراتی کہتی وہاں سے گی تھی۔۔۔
دشمن۔۔
حازم دانت پیستا ہوا بولا تھا۔۔
————————————————————
یہ دیکھو اس لڑکے کو ۔۔
نکلو باہر ابھی کہ ابھی ۔۔
آہان سب کو بتا چکا تھا وہ ہیر کی رخصتی کروانا چاہتا تھا تبھی آفندی صاحب کے کہنے پر پورے پیلس کو دلہن کی طرح سجایا جا رہا تھا۔۔۔
جبکہ اب مرحا کا کہنا تھا رات کو رخصتی ہے تو ابھی ڈولکی رکھ لی جاۓ تبھی سب اب ہال میں بیٹھی ہوئ تھی۔۔
جب ہانیہ اپنی گود میں بیٹھے فارس کو دیکھ بولی تھی انہوں نے بوائز کو پیلس سے باہر نکال دیا تھا ان کا کہنا تھا یہ انجوامیٹ صرف گالز کی ہے ۔
فارس نے معصوم سا چہرہ بنایا تھا۔۔۔
ماما پلیز روک لے ۔۔۔
فارس ابھی بھی رونی شکل بناۓ بولا تھا۔۔۔
م۔۔
۔
کوئ بات نہیں ہانیہ روک جاۓ یہ بچہ ہے ۔۔۔
اس سے پہلے وہ بولتی جب رانیہ بولی تھی ۔۔۔
چلو چلو شروع کیا جاۓ ۔۔
مرحا اور یافی چہکتی ہوئ بولی تھی ۔۔
جبکہ یلیو فراک میں سادہ سی تیار ہیر بیٹھی
دانت نکال رہی تھی باقی سب نے بھی یلیو کلر کی فراک پہنی تھی۔
بھابھی آپ دلہن ہے زرا شرما لے ۔۔۔
مرحا ہیر پر طنز کرتی بولی تھی ۔۔
اس چیز کی بات کرو جو مجھ میں ہے یہ شرم کیا ہوتی میں نہیں جانتی ۔۔
ہیر ابھی بھی دانت نکالے بولی تھی ۔۔
ہاہہاہاہااہاہااہاہا۔۔
سب کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔
————————————————————
“”اب تو ہوش نہ خبر ہے یہ کیسا اثر ہے “
“ہوش نہ خبر ہے یہ کیسا اثر ہے “![]()
”تم سے ملنے کے بعد دلبر “
”تم سے ملنے کے بعد دلبر”![]()
تو میرا خواب ہے تو میرے دل کا اقرار”
دیکھ لے جانمن دیکھ لے بس ایک بار “![]()
“چین کھو گیا ہے کچھ تو ہو گیا ہے “
“چین کھو گیا ہے کچھ تو ہو گیا ہے “![]()
”تم سے ملنے کے بعد دلبر “
تم سے ملنے کے بعد دلبر “![]()
یہ کون عورتیں ہے یہ سب تو شاہد رات کو آنے والی تھی ۔۔۔
سب مل کر سونگ پر ڈانس کر رہی تھی جب اچانک ہال میں یلیو فراک پہنے چہرے پر ماسک لگاۓ چھ عورتوں کو اندر آتا دیکھ روحا بولی تھی۔۔۔
ڈانس کی وجہ سے سب کے گلے سے ڈوپٹے گرے ہوۓ تھے ۔۔۔
آپ سب کون ہے ویسے بھی رات ہونے میں کافی ٹائم ہے آپ سب ابھی آ گی ۔۔۔
مرحا اپنی کمر پر ہاتھ رکھتی زرا غصے سے بولی تھی۔۔۔
جب اس کی حالت دیکھ کسی کی ہنسی چھوٹنے والی ہو گی تھی۔۔۔
تم سب ڈانس کر رہی تو سوچا آ ج۔۔
چلیں اب آ گی ہے تو ڈولکی بجاۓ ویسے یہ ماسک کیوں پہنے ہے ۔۔
ان میں سے ایک بولی تھی جب یافی بھی قریب آتی انہیں گھورتی بولی تھی۔۔۔
وہ بہن بات یہ ہے آج کل کورنا وائرس آیا ہوا ہے تبھی حفاظت کے لیے پہنا ہے ۔۔۔
دوسری عورت اپنے قریب کھڑی عورت کی کمر پر زور سے مکہ مارتی بولی تھی۔۔۔۔
اہہہ اہہہہ میرا کیا قصور تھا اپنا یہ ہتھوڑے جیسا ہاتھ سے مکہ مارا۔۔۔۔
وہ عورت درد سے چلاتی اسے گھورتی بولی تھی ۔
ویسے انیجل یہ عورتیں تو نہیں لگتی پہلی دفعہ دیکھی ہے ایسی ہٹی کٹی عورتیں ۔۔
باڈی بلڈر جیسی ۔۔۔
ہانیہ سب کو اپنے سامنے دیکھتی روحا کے کان میں سرگوشی کرتی بولی تھی ۔۔
ہممم چلو چھوڑو آو ڈانس کرتے ہے ہیر آپی کتنی خوش ہے ۔۔۔
روحا نے دیکھا جہاں ان میں سے ایک عورت ہیر کے قریب بیٹھی ہیر کو ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
ہیر کے پاس وہ ساری عورتیں بیٹھ چکی تھی ماسک ویسے ہی چہروں پر لگے ہوۓ تھے۔۔۔
————————————————————
ویسے آپ کہاں سے آی ہے مطلب کون سے انکل کی بیوی ہے ۔۔۔
مرحا سب کو جوس کے گلاس دیتی ہوئ دانت پیستے ہوۓ بولی تھی۔۔۔
کیونکہ وہ سب خاموشی سے سب کو گھور رہی تھی۔۔۔
غ۔غووووںن۔۔۔
و۔وہ میں مسز ہمدانی ہو یہ سب میری کزنز ہے ۔۔
ان میں سے جو جوس کا گلاس پکڑ رہی اچانک ایک کھانسی کرتی بولی تھی۔۔۔
ارے اچھا یہ پی لے ۔۔
مرحا اس کی کھانسی سنتی جلدی سے ٹرے سامنے رکھتی وہاں سے جاتی بولی تھی اسے ڈر تھا کہی اسے ہی کورنا نہ ہو جاۓ۔۔۔
دیکھو نوفل لالہ آے ہے یہ ہمیں ڈانس کے سیٹپ سکھاۓ گے۔۔۔
ہال میں انٹر ہوتا نوفل پریشان سی صورت بناۓ آیا تھا جب روحا چہکتی ہوئ بولی تھی۔ ۔۔
ن۔نہیں ۔انیجل و۔وہ میں ڈیول کا پوچھنے آیا تھا ۔۔۔
تمہیں پتہ کہاں ہے ۔۔۔
نوفل سامنے اب چھ عورتوں کو دیکھ اچانک گھبراتے بولا تھا جن میں سے ایک اسے ہی گھور رہی تھی ۔۔۔
کیا لالہ کس بلا کا نام لے لیا شکر ہے وہ یہاں نہیں ورنہ ابھی آ جاۓ گے اور کہے گے انیجل ڈانس مت کرو ۔۔۔
انہیں چھوڑے وہ تو مینٹل ہاسپٹل کے کنگ ہے ۔۔۔
آج کے دن ہم بھول گے ان کو آپ بس ہمیں ڈانس کرواۓ ہماری آپی کی رخصتی ہے ۔۔۔
نوفل ابھی سامنے ہی دیکھ رہا تھا جب روحا جنجھلاتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
لیک۔۔۔۔
کیا ہے لالہ رات کو آ جانا انھٶں نے ہمیں یہ انجواۓ کرنے دے بعد میں اپنے ڈیول سے مل لینا ۔۔۔
ابھی ڈانس کرتے ہے۔۔۔
نوفل حلق تر کرتا بول رہا تھا جب سب نے اسے پکڑے گھومایا تھا۔۔۔۔
————————————————————
““آسمان میں جیسے بادل ہو رہے
“ہم دھیرے دھیرے پاگل ہو رہے ![]()
![]()
“میں تو مرجانا ہاے وہ جو نہ ملنے آے “![]()
“سانسیں ملی ہے راتوں میں
یاد پیا کی آنے لگی بھیگی بھیگی راتوں میں ““
سونگ پر ڈانس کرتی مرحا جوش سے بیٹھی عورت کا ہاتھ پکڑے ڈانس کرنا سٹارٹ کر چکی تھی ۔۔۔
جو وہ خود بھی مرحا کو کمر سے پکڑے کر رہی تھی ۔۔۔
“””تیرے بنا کیا حال ہے اپنا کیا تم کو بتاے رے ![]()
““چوڑیاں میری روحیں میری ““
““بن تیرے سب سزا ہے بن تیرے کہاں مزہ ہے ![]()
![]()
![]()
![]()
““
یاد پیا کی آنے لگی بھیگی بھیگی راتوں میں ““
یافی بھی نوفل کے بتاۓ سپیٹ کرتی دوسری عورت کا ہاتھ پکڑتے ناچی تھی ۔۔۔
باقی ساری عورتیں خاموشی سے ماسک لگاے ڈانس دیکھ رہی تھی ۔۔۔
””کب وہ دن آے گا جب ہم مہندی بھی لگواۓ گے ![]()
![]()
““ راجا کب تم آو اور ڈولی میں لے جاٶ گے ![]()
““
مرحا اور یافی کا ڈانس دیکھ ہیر بھی اپنی جگہ سے اٹھتی منہ میں ڈوپٹہ ڈالے ڈانس کر رہی تھی ۔۔۔
جب انہی عورتوں میں سے ایک ہیر کے پاس آی تھی جب ہیر خوشی سے پاگل ہوتی اس سے ڈانس کرنے لگ چکی تھی ۔۔۔
اب ان چھ میں سے تین عورتیں ابھی بھی بیٹھی یہ سب دیکھ رہی تھی جب نوفل کے ساتھ ڈانس کرتی روحا اپنے آپ میں مگن تھی ۔۔۔
””یویہی گرج گرج کالی گھیٹا برسے
ہم یار بھیگ جاۓ اس چاہت کی بارش میں ![]()
![]()
![]()
![]()
““تیری کھلی کھلی لٹوں کو سلجھاٶ میں اپنی انگلیوں سے
””میں تو ہو بس اس خواہش میں ![]()
![]()
ہانیہ ساونڈ سسٹم پر سونگ لگاتی ساتھ بیٹھی عورت کے ساتھ ڈانس کرنے لگ چکی تھی ۔۔۔
سب ہی ان عورتوں کو اپنا شوہر سمجھتی خوش ہوتی ڈانس کر رہی تھی ۔۔۔۔
انیجل یار یہ غلط ہے میں نے اس سونگ پر اپنے خان کے ساتھ ڈانس کرنا تھا ۔۔۔
اب میں اپنا خان کہاں سے لاٶ یار ان سب کو بلا لو اندر وہ معصوم سے تو ہے ۔۔۔
کافی دیر برداشت کرتے آخر رانیہ برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔
ارے گڑیا اس عورت کو اپنا خان سمجھ لو انیجل کی بات ٹھیک تھی سب اندر آ جاتے تو ڈیول یہ ڈانس بلکل نہیں ہونے دیتا ۔۔۔
نوفل اب اپنی ہنسی کنٹرول کیے بولا تھا۔۔
کیونکہ ان سب میں دو عورتیں ایسی تھی جو مسلسل قہقہے لگاتی ہنس رہی تھی۔۔
اچھا بہن تم ہی آ جاٶ تمہیں ہی خان سمجھ لیتی ہو ۔۔۔
رانیہ رونی سی شکل بناۓ بولی تھی۔۔۔
””سردی کی راتوں میں ہم سوۓ رہے ایک چادر میں ۔![]()
”ہم دونوں تنہا ہو نہ کوئ بھی ہو اس گھر میں ![]()
“زرا زرا بہکتا ہے مہکتا ہے آج تو میرا ![]()
دن با دن میں پیاسا ہو مجھے بھر لے اپنی باہوں میں ““
رانیہ بھی اس عورت کو شعیب سمجھتی جوش سے ڈانس کر رہی تھی ۔۔۔
اچھا اچھا ہماری طرف دیکھو زرا۔۔۔
سب کو ڈانس کرتا دیکھ روحا چہکتی ہوئ بولی تھی۔۔۔
اب صوفے پر بس ایک ہی عورت بیٹھی ہوئ تھی ۔۔۔
اچھا بہن آپ تو جوس پیے۔۔۔
نوفل روحا کی بات اگنور کیے اپنی ہنسی کنٹرول کیے سامنے دیکھتا بولا تھا۔۔۔
موڈ نہیں ۔۔
وہ اسے گھورتی بولی تھی ۔۔۔
ارے جوس ہی ہے آنٹی آپ پی لے کون سا زہر ایڈ کر دیا ہم لوگوں نے ۔۔۔
روحا برا سا منہ بناۓ بولی تھی ۔۔۔
اچھا تم بتاٶ کیا کہہ رہی تھی۔۔۔
مرحا اس کی طرف متوجہ ہوتی بولی تھی۔۔۔
ہم نے ایک فلم دیکھی تھی اس میں ایک لڑکی نے ڈانس کرتے اپنی جکیٹ کو اتار کر دور گرای تھی ہم بھی ایسا کرنا چاہتے ہے۔۔۔
روحا جلدی سے بتاتی ٹیبل پر کھڑی ہوتی بولی تھی ۔۔۔
لیکن انیجل اس کے پاس جکیٹ تھی تمہارے پاس کیا ہے ۔۔۔
ہانیہ پریشان ہوتی بولی تھی ۔۔۔
نوفل پہلے ہی اپنی جان بچاتا باہر بھاگ گیا تھا۔۔۔۔
یہ ہم فراک کا اپر گراۓ گے۔۔۔
روحا اپنی فراک پر پہنے اپر کو دیکھ بولی تھی۔۔۔۔
یاہووو یاہووہہو انیجل کرو پھر سپیٹپ ۔۔۔
ساری جوش سے کھڑی ہوتی اسے دیکھتی بولی تھی۔۔۔
اچھا چلو ہم گرانے لگے اپر آپنا سب آپنی آنکھیں بند کرے۔۔۔
آنکھیں بند کرنے کا فائدہ یار جب ہم دیکھ نہیں سکتی ۔۔۔
مرحا برا سا منہ بناۓ بولی تھی۔۔۔
اچھا ہم کرتے ہے ۔۔۔
ہاے بڑی شرم آ رہی شکر صام یہاں نہیں ہے ۔۔
اپنے اپر کی فرنٹ سے ڈوریاں کھولتی روحا سرخ چہرہ لیے بولی تھی۔۔۔
صوفے پر بیٹھا صام آفندی یلیو فراک پہنے گھور سے اپنی انیجل کو دیکھ رہا تھا جبکہ جوس کا گلاس ہاتھ میں تھا۔۔۔
————————————————————
مستقیم آہان شعیب منان صام زرجان سب نے مل کر پلان بنایا تھا وہ اندر عورتیں بن کر جاۓ گے یہ دیکھنے وہ سب کیا کر رہی ہے ۔۔۔
لیکن سب اپنی ہی بیویوں کو اتنا خوش دیکھ ناچ گانا دیکھ خاموشی سے وہی بیٹھتے سب انجواۓ کر رہے تھے ۔۔۔
مستقیم زرجان شعیب منان سے اپنی ہنسی کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا تھا کیونکہ سب اپنی کیوٹ کیوٹ حرکتوں سے اپنا دیوانہ بنا رہی تھی۔۔۔
صام تو سب بلاۓ بس اپنی انیجل کو دیکھ رہا تھا جو اپنے آپ میں ہی مگن اتنی تھی اس کی طرف توجہ ہی نہیں دی ۔۔۔
لیکن اب اپنی انیجل کو اپر اتارے دیکھ وہ شوک ہوتا اٹھ کھڑا ہو چکا تھا۔۔۔۔
یاہوووو یاہووووو
اب تو ہوش نہ خبر ہے یہ کیسا اثر ہے “
“ہوش نہ خبر ہے یہ کیسا اثر ہے “![]()
”تم سے ملنے کے بعد دلبر “
”تم سے ملنے کے بعد دلبر”![]()
تو میرا خواب ہے تو میرے دل کا اقرار”
دیکھ لے جانمن دیکھ لے بس ایک بار “![]()
“چین کھو گیا ہے کچھ تو ہو گیا ہے “
“چین کھو گیا ہے کچھ تو ہو گیا ہے “![]()
”تم سے ملنے کے بعد دلبر “
تم سے ملنے کے بعد دلبر “![]()
روحا اپنا اپر اتارے جوش سے وہی کھڑی چیختی ہوئ بولی تھی ۔۔۔
کسی کی توجہ اس پر نہ تھی سواۓ صام کی اس کی آنکھیں پھٹ چکی تھی اپنی انیجل کا ایسا روپ دیکھ کر ۔۔۔۔
جہاں وہ نیلی جینز کے ساتھ بلیک سلو لیس ٹاپ پہنے بالوں کو کھلا چھوڑے وہی ٹیبل پر ناچ رہی تھی ۔۔۔۔
روحا نے صرف فراک کے ساتھ والا اپر پہنا تھا
نیچے پوری فراک نہیں پہنی تھی ۔۔۔۔
ارے کیا ہوا یار لائٹ ہی چلی گی ۔۔۔
سب ابھی روحا کی طرف دیکھ رہی تھی جب ہال کی ساری لائٹیس آف ہوئ تبھی روحا بولی تھی۔۔۔
ہاے ہمارا ہاتھ پکڑے کوئ ہمیں ڈر لگ رہا ارے آنٹی آپ ہی پکڑ لے۔۔۔۔
روحا ڈرتی بول رہی تھی جبکہ سب شوک ہوتی اپنے قریب کھڑی آنٹیوں کو دیکھ ہوئ تھی۔۔۔
مرحا کو مستقیم ۔زرجان نے یافی ۔منان نے ہانیہ ۔ہیر کو آہان ۔شعیب نے رانیہ کو کمر سے پکڑا تھا۔۔۔
اپنے شوہروں کا لمس پاتے وہ سب سمجھ گی تھی یہ کون ہے ۔۔۔
تبھی روحا جنھجلاتی ہوئ پاس کھڑے صام کے شولڈر پر ہاتھ رکھتی بولی تھی۔۔۔۔
———————————————————–
-ہیر میری جان تمہاری مہندی تو بہت پیاری لگ رہی ہے تم کتنی خوبصورت لگ رہی ہو ہاے۔۔
ہیر کو اپنے سینے سے لگاۓ آہان اس کے کان میں سرگوشی کرتا اس کے کان کی لو کو چومتا بولا تھا۔۔۔
ہیر کو گھبراہٹ ہوئ تھی آہان کا لمس پاتے ۔۔
آہ۔آہان وہ آحمد کو دیکھ لو۔۔۔
ہیر جلدی سے اس کی باہوں سے نکلتی اندھیرے میں ہی ہال سے بھاگ گی تھی۔۔۔۔
ارے جانِرزجان بڑی بات ہے تمہیں میری بھی یاد آتی ہے واہ ہ مجھے آج پتہ چلا ویسے تم جب چاہو مجھے بلا سکتی ہو ۔۔
یافی کو اپنی باہوں میں اٹھاۓ زرجان اس کا گال چومتا سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
ز۔زرجان آپ کدھر سے آ۔۔۔
یہ تو آنٹیاں تھی۔۔۔
اس کی باہوں میں مچلتی یافی گھبراتے بولی تھی ۔۔۔
تمہیں میری یاد آ رہی تھی تبھی آ گ۔۔۔
امن اور مہر کو دیکھ لو کہی بابا کو تنگ نہ کر رہے ہو ۔۔۔
اس سے پہلے زرجان اس کے چہرے پر جھکتا جب یافی اس کی باہوں سے نکلتی باہر جاتی بولی تھی۔۔۔
————————————————————
مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا میری بونی مجھے یاد کر رہی تھی۔۔۔
مستقیم مرحا کو اپنے چہرے کے قریب کرتا اس کی آنکھوں کو چومتا سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
و۔وہ سانڈ۔م۔مطلب مستقیم میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔
مرحا ایکدم گھبراتی ہوئ اس سے دور جاتی بولی تھی ۔۔
اچ۔۔
ر۔روشانے کو دیکھو زنیب کو تنگ کر رہی ہو گی۔۔۔
اس سے پہلے مستقیم اسے قریب کرتا جب مرحا بھی جان بچاتی باہر کو بھاگتی بولی تھی۔۔۔
میری جان کو سردی زیادہ لگتی ہے میرا خیال ہے تمہیں گرمی دینی چاہے ۔۔
ہانیہ جو اندھیرے میں ہی آس پاس دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی جب منان نرمی سے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیتا لب چومتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ج۔جی۔۔۔۔
ہانیہ آنکھیں پھاڑے بس اتنا بول سکی ۔۔۔
ہاں م۔۔
فارس باہر ہے میں جاتی ہو۔۔
منان بول رہا تھا جب ہانیہ کہتی وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔
————————————————————
ویسے ہمارے گھر میں کوئ ہوتا تو نہیں اکیلے ہوتے ہے ۔۔
شعیب رانیہ کی گردن پر لب رکھے مسکراتے بولا تھا۔۔
خ۔خان آپ یہاں و۔۔۔
مجھے پتہ چلا میری خانم خان کو یاد کر رہی تھی میں آ گیا۔۔۔۔
رانیہ ہکلاتی بول رہی تھی جب شعیب نے اپنے لب دوبارہ اس کی گردن پر رکھے بولا تھا۔۔۔
ر۔رعنا باہر ہے میں جاتی ہو۔۔۔
رانیہ جلدی سے جان بچاتی باہر کو جاتی بولی تھی۔۔۔۔
میری انیجل نے تو میرے چودہ طبق روشن کر دے ۔
کیا ڈریس پہنا ہے افففف۔۔۔
صام روحا کو کمر سے پکڑے اس کی تھوڑی پر لب رکھے سردپن سے بولا تھا۔۔۔
روحا کا جسم کانپا تھا اس کے لمس اور سرگوشی پر ۔۔
و۔وہ صام م۔۔
ویسے اگر تم بوڑھی بھی ہو گی تب بھی صام آفندی کی سانسوں پر راج کرو گی ۔۔۔
روحا پیسنے سے بھیگی جلدی سے بول رہی تھی جب صام اس کے شولڈر پر اپنے دانت گاڑے سکون سے بولا تھا۔۔۔
ا۔اور آپ بھی ہمیشہ ڈیول رہے گے انہہ جنونی
اب تو بوڑھے ہو رہے آپ ۔۔
روحا صام کو بالوں سے پکڑے دانت پیستے بولی تھی۔۔۔
ڈیول ہمیشہ انیجل کا رہے گا چاہے بوڑھا ہی ہو جاۓ ۔۔
سسسی۔۔
صام طش میں آتا اپنے دانت گردن سے نیچے گاڑھتا بولا تھا جب درد سے تڑپتی روحا دور ہوئ تھی۔۔۔
جنونی ۔۔
روحا سرخ چہرہ لے وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔
اہہہ اہہہہ ۔۔۔
اففف تم دونوں کو کیا ہوا۔۔۔
رانیہ اور روحا دونوں آپس میں ٹکڑاتی چلای تھی جب ہال کی لائٹس نوفل آن کرتا بولا تھا۔۔۔
جہاں دونوں کے چہرے سرخ ہوے تھے۔۔۔
صام کے لبوں پر مسکراہٹ آی تھی روحا کی حالت پر ۔۔
و۔وہ پت۔۔
ارے نوفل بہن زرا ادھر آو میک اپ خراب ہو گیا۔۔۔
رانیہ اور روحا دونوں گھبراتی بول رہی تھی جب مستقیم اپنی سریلی آواز سے بولا تھا۔۔۔
دونوں کا منہ کھلا تھا ان سب کی ایسی حالت دیکھ کر ۔۔
آپپپپ۔۔۔
دونوں سب کو دیکھتی چلائ تھی۔۔۔۔
جہاں اب وہ ماسک اتارے فراک میں میک اپ کے ساتھ شیو کے وہ سکون سے کھڑے نمونے لگ رہے تھے۔۔۔
جی ہم۔۔۔
صام اپنی گردن ٹیڑھی کرتا بولا تھا۔۔
چ۔چلو یہاں سے ۔
اس کی طرف دیکھتی روحا جلدی سے کہتی وہاں سے بھاگی تھی۔۔۔
ہاہہاہاہا ہااہاہاہاہ ہاہاہاہا
ہاے بہن ان کو کیا ہوا۔۔۔
سب کا قہقہ گونجا تھا اپنی بیویوں کے ریکیشن پر تبھی زرجان ڈوپٹہ منہ میں ڈالے بولا تھا۔۔۔
ہااہاہہاہاااہ ۔۔
ایک بار پھر ان سب کا قہقہ گونجا تھا۔۔
(جاری ہے )..
بہت سے لوگوں کو بچوں کی سمجھ نہیں آ رہی میں زرا بتا دیتی ہو ۔۔
آہان ہیر کے بچے ۔۔۔ احمد ۔وانیہ ۔
مستقیم مرحا کے بچے ۔روشانے ۔زنیب
منان ہانیہ کے بچے ۔فارس
زرجان فیا کے بچے ۔امن ۔مہر
شعیب رانیہ کے بچے ۔ رعنا ۔وقار
صام روحا کے بچے ۔ حازم حدید۔سوہا۔
