Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar Readelle50328 Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 18)
No Download Link
Rate this Novel
Be Panah Ehd-E-Wafa (Episode 18)
Be Panah Ehd-E-Wafa By Rania Mehar
چھوڑ کر جا رہے ہے ہم اس کا مطلب یہ نہیں تم سکون سے رہ پاٶ گی بہت جلدی ہمارے پاس ہو گی۔۔
ایول اپنے کار سے رعنا کو نکالے سرد مہری سے سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔
وہ خاموش کھڑی بس اپنے سامنے شعیب خان کا بنگلہ دیکھ رہی تھی کیا جواب دے گی وہ سب کو کہاں تھی وہ ۔۔
اب تو صبح بھی ہونے والی تھی۔۔
ڈرتا نہیں کسی سے تم چاہو تو بتا سکتی ہو ۔۔
ایول اس کی کمر کو دیکھتے بولا تھا جہاں وہ اسی کی شرٹ پر گاٶن کا حجاب کیے چپ کھڑی تھی۔۔
ت۔تم ایک بار صام انکل سے م۔۔۔
رعنا اپنی گردن اس کی طرف کرتی بولتی چپ ہوی تھی کیونکہ وہاں وہ اکیلی کھڑی تھی جبکہ ایول اپنی کار لے کر دور جا چکا تھا۔۔۔
اب وہ مرے ہوے قدموں سے بنگلے کے اندر جا رہی تھی۔۔۔
بہت غلط کیا ہے ایول ۔۔
ایول جو ابھی روم میں آیا تھا جب اس کو کال آی تھی جیسے سن وہ طنزیہ مسکرایا تھا۔۔۔
ہم نے بہت اچھا کیا ۔۔
ایول شراب کی بوتل لبوں سے لگاۓ سکون سے بولتا اگلے بندے کو آگ لگا گیا تھا۔۔۔
جان لے لو گا تمہاری اگر رعنا کے ساتھ کچھ غ۔۔۔
بور مین ۔۔
وہ طش سے بول رہا تھا جب ایول منہ بناے کہتا کال کٹ کر چکا تھا۔۔۔۔
اہہہہہہہ ٹھیک کہتے ہے سب تم نہیں بدل سکتے ایول ۔۔۔
اپنی فون کال کٹتے دیکھے وہ طش سے چلاتا دیوار پر فون مارتا غرایا تھا۔۔۔۔
جبکہ غصے سے اس کا چہرہ لال ہو چکا تھا۔۔۔
بین کو فون کرو ۔۔
ایول اپنے آدمی کو روم میں بلاے بولا تھا۔۔۔
شیٹ اپ۔۔۔
ایول شراب پینے کے بعد سگریٹ اپنے لبوں میں دباۓ فون کان کو لگایا تھا جب اس کی بھاری آواز گونجی تھی۔۔۔
ایول کے چہرے پر مسکراہٹ آی تھی۔۔۔
اہہہہ ہمارا بے بی ا۔۔
شیٹ اپ ۔۔
ایول مزہ لیتا بول رہا تھا جب وہ پھر ایک دفعہ بولا تھا۔۔۔
ایول کا آدمی شوک تھا ایول کے سامنے کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی کچھ بولنے کی جبکہ یہ بین تو منہ پر اس کی انسلٹ کر دیتا تھا جس کا برا وہ بھی نہیں مانتا تھا۔۔
بزدل ۔۔
ایول سرگوشی کرتا بولا تھا۔۔۔
شیٹ اپ ۔۔
اس کی بات سنتا اب وہ چلایا تھا۔۔۔
ہاہہاہاہہاہا ہہاہہاہااہاا ہااہاہااہاہاہاا۔۔۔
بین کے چلانے کی آواز سنتے ایول کا قہقہ گونجا تھا ۔۔
مجھے لگتا اس ایول کے قریب آنے کے لیے اس منحسوس بین کو سیٹ کرنا پڑے گا کیونکہ وہی ہے جس کی ایول سنتا ہے ۔۔
روبی اس کے روم کے باہر کھڑی قہقہ سنتی چالاکی سے سوچتی مسکرای تھی۔۔۔
وہ تو اب روبی ہی جانتی تھی اس کے شیطانی دماغ میں کیا چل رہا تھا۔۔
ت۔تم نے اچھا نہیں کیا میرے ساتھ حدید۔۔
روشانے صبح نیند سے جاگتی اپنے قریب بیٹھے حدید کو دیکھ روتی بولی تھی۔۔
اچھا سنو آج رخصتی ہے میں مانتا ہو مجھ سے غلطی ہوی میں بہک گیا تھا ۔۔۔
ا۔۔۔
لیکن تم وعدہ کرو میرے اور تمہارے سوا کسی کو پتہ نہ چلے کل رات کیا ہوا تھا ۔۔
ہم دوست نہ سہی دشمن ہی سہی تمہیں کوئ مسئلہ ہو لڑای کرنی ہو یہاں روم میں کرنا۔۔۔
حدید روشانے کو کمر سے پکڑے اپنے سینے سے لگاے سکون بول رہا تھا جب وہ بولنے لگی تو اسے روکتے پھر بولا تھا۔۔
جو آنسو بہاے سن رہی تھی۔۔
کیوں حدید ایسا کیا میں کزن تھی تمہاری یہ ہی خ۔۔۔
اچھا میں نے پہلی دفعہ دیکھا تم بزدل ہو یار۔۔۔
روشانے لال چہرہ لیے بول رہی تھی جب وہ بات بدلتا بولا تھا۔۔۔
تم ہو گے بزدل میں نہیں ہو سمجھے دشمن ہو میرے دیکھنا تمہارا جینا حرام کرتی میری یہ حالت کر دی تم نے ۔۔
روشانے اس سے دور ہوتی طش سے چلای تھی۔۔۔
حدید سمجھ سکتا تھا اس کی حالت کو وہ کیا فیل کر رہی ہے تبھی مسکراہٹ دباے وہ سن رہا تھا۔۔۔
اچھا تم وہ بیلو لہنگا پہنا رخصتی پر اور میک اپ بھی کر لینا ہاں یہ نوڈلز بھی کھلے چھوڑنا پیاری لگو گی۔۔۔
روشانے کو گود میں اٹھاے اسے روم کے دروزاے کے قریب لے کر جاتے حدید دانت نکالے بولا تھا۔۔۔
جبکہ وہ طش سے اسے مکے مار رہی تھی۔۔
نہیں کروانی رخصتی م۔۔۔
باقی کی لڑای رات کو کرے گے شوق سے اب جاٶ جانی ۔۔
روشانے جو بول رہی تھی جب اسے روم سے باہر کھڑا کیے نرمی سے اس کے لبوں کو چھوتے وہ اندر جاتا بولا تھا۔۔
حدید نے یہ کام منٹوں میں کیا تھا روشانے کو پہلے سمجھ ہی نہیں آی جب سمجھ آی تب اس کا دروازہ پٹ رہی تھی۔۔۔
تم ٹھرکی حیوان جاہل انسان۔۔۔
روشانے مسلسل دروازے پر مکے مارتی بولی تھی۔۔۔
اوےےے مس فائر ۔۔
کیا ہوا ہے کب سے آ کر بیٹھا ہو تم چپ ہو گی ۔۔
رعنا اپنے بنگلے ا گی تھی کسی سے اس نے کوئی بات نہیں کی تھی ویسے ہی چپ ہی رہی تھی ۔۔ تبھی ناشتہ کرنے جب وہ نیچے آئ سامنے حدید کو دیکھ بھی چپ تھی۔۔
تبھی وہ چہکتا بولا تھا۔۔
کتنا فرق ہے دونوں بھائیوں کا ایک دوست بنتا ہے تو ایک دشمن اہہہہ۔۔
اس کے خوبصورت چہرہ کو دیکھ وہ گہری سوچ میں ڈوبی سوچ رہی تھی۔۔
کچھ نہیں یہ بتاؤ صبح صبح کیوں ٹپک گے ہو ۔۔
رعنا خود پر قابو پاتے بولی تھی ۔
وہ م۔۔
ہادی لالللللللللللہہہہہہ آپ اے ہے ہاےےےے باقی سب نہیں اے ۔
زینب جو وقار کے ساتھ ڈائنگ ہال ا رہی تھی جب حدید کو دیکھ وہ چیختی بولی تھی۔۔
اپنی بہن کو ملنے آیا تھا اور بات بتانے بھی۔۔
حدید اس کے سر پر ہاتھ رکھتا بولا تھا۔۔
وہ میرا اور روشن دان کا نکاح ہو گیا ہے بس آج رخصتی کروانی ہے آپ سب ا جانا۔۔
حدید سکون سے بولتا ان سب پر بمب گرا چکا تھا ۔
کیییییییی لالہ یہ سب کیسے مطلب ۔۔
زینب شوک سے چلاتی بولی تھی۔۔
ہاں باقی باتیں گھر کرنا اب میں چلتا ہو ۔۔
زینب کا ناک دباے وہ مسکراتا ہوا اٹھ کر جاتا بولا تھا۔۔
تم خوش ہو ۔۔
اس کے پیچھے جاتی رعنا نے تحمل سے پوچھا تھا۔۔
تم خوش ہو مس فائر۔۔
حدید اسی سے الٹا سوال کرتا بولا تھا۔۔۔
م۔مطلب۔مطلب کیا ہے ۔۔
وہ ایکدم گھبراتے بولی تھی۔۔
تم مجھے پسند ہو شادی کر ل۔۔۔
چٹاخخخ۔۔
حدید بول رہا تھا جب رعنا نے شدید غصے سے تھپڑ مارا تھا۔۔
شرم کرو کچھ تم میرے دوست تھے ہادی لیکن ایسی بکواس جانتے ہو میرا عشق کون ہے کس کو میں بچپن سے چاہتی آی ہو مجھے اس کی دشمنی بھی پسند ہے واقف ہو میری فلیگنز سے پھر بھی۔
مطلب خوش ہو اس کے ساتھ چلو خوش رہنا اس کے ساتھ میرا لالہ بہت اچھا ہے ہاں جس دن اس کے ہاتھوں شہید ہو گی میں فاتحہ پڑھ لو گا۔۔
اور ہاں روشن دان کا پوچھا تھا تم جانتی ہو جو عشق آپ کی سانسوں میں بسا ہو اس پر خوش نہیں جشن منایا جاتا ہے مس فائر۔۔
رعنا سرخ چہرہ لیے بول رہی تھی جب وہ اپنی کہتا وہاں سے گیا تھا۔۔
اس کی بات سنتے رعنا کا منہ کھولا تھا۔۔
ا۔اسے کیسے پتہ چلا نکاح کا افففف ۔۔
کیا میرے چہرے پر لکھا گیا ہے ۔۔
رعنا ڈرتی اپنے گال چھوتی بولی تھی ۔۔
انس تم کب اے ۔۔
احمد انس سے ملتا بولا تھا جو ہال میں کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔
بابا نے بتایا تھا ہادی لالہ کا نکاح ہو گیا میں نے سوچا روشنی بھابھی کو تیار کرو گا بلکہ ان سب کو ۔۔
انس اپنا ہاتھ نچاتا ہوا بولا تھا۔۔
ہاے لالہ آپ آی ہے میرا میک اپ بیسٹ کرنا۔۔
امن بھی ہال میں مسکراتی بولی تھی ۔۔
احمد اس کی بات سنتا مسکرایا تھا۔۔
ہاں سب کا میک اپ کرو گا پہلے ہادی لالہ مل جاے کدھر ہے ۔۔
انس آس پاس دیکھتا بولا تھا۔۔
آتا ہو گا او سب سے مل لو ۔۔
احمد اسے شولڈر پر ہاتھ رکھتا بولا تھا۔۔
“”نوفل کی جو چھوٹی بہن تھی اللّٰہ نے انس جیسا بیٹا دیا تھا ۔۔
مستقیم اہان منان شعیب صام زرجان کے علاؤہ اس کی بہن جانتی تھی مسٹر این ہی نوفل ہے تبھی اپنی ایسی اولاد جو خواجہ سرا تھا نوفل کے حوالے کر دیا تھا یہ کہہ کر وہ اسے اپنے پاس نہیں رکھ سکتی ۔۔
سب بچوں کو ہینڈل کرتے نوفل نے اپنے خوبصورت بھجانے کو اپنے پاس رکھ لیا تھا سب بچوں کے ساتھ وہ بچہ مل کر بڑا ہوا تھا ۔۔۔
جس کا نام انس رکھا گیا تھا وہ اتنا خوبصورت تھا کوی بھی دیکھ کر اسے خواجہ سرا نہیں سمجھتا تھا بس وہی لوگ جانتے تھے اس کی اصلیت کو ۔۔
انس بیوٹیشن تھا جس کا بہت بڑا پارلر تھا ۔۔۔
سب ہی اس سے عزت سے بات کرتے تھے حدید کا تو بچہ تھا اس کے ساتھ زیادہ بنتی تھی لیکن روشانے کو وہ زہر لگتا تھا اسے نفرت تھی خواجہ سراؤں سے ۔۔۔
انس بلکل نوفل جیسا تھا بس اس کا فیس لک ہیوی تھا مطلب گول موٹا فیس ۔۔۔
کیا ہوا مہررانی اتنا غصہ کیوں ۔۔
مہر روم سے باہر آتا ہال میں بیٹھی ٹی وی دیکھتے وانیہ کو دیکھ بولا تھا جو شدید غصے میں تھی ۔
یہ دیکھو دہشتگرد تم جانتے ہو اس کا باپ بھی دہشتگرد تھا بیٹا بھی ویسا نکلا ۔۔
وانیہ اسے ٹی وی دیکھاتے بولی تھی۔
ضروری تو نہیں کہ بیٹا باپ پر جاے ا۔۔
اولاد باپ پر ہی جاتی ہے وہی بنتا ہے جیسا باپ ہو ہاے کتنا بہادر ہے یہ بین نام کا بندہ جس نے ایسے دہشتگرد پکڑے ہے ایسے ہونے چاہے لڑکے یقیناً اس کا باپ بھی جاسوس ہو گا جو بین ایسا بنا ۔۔۔
مہر پاس آتا گھبراتا بول رہا تھا جب صوفے پر کھڑی ہوتی وہ ناک چڑہاے بول رہی تھی جہاں اب بین نام کے ایک جاسوس کی تعریف ہو رہی تھی کہ کیسے اس نے دہشتگرد کو پکڑا تھا۔۔
اس کی بات سنتے مہر اچانک اداس ہوا تھا۔۔
اگر میں دہشتگرد کا بیٹا ہوتا تب کیا شادی کرتی ۔۔
مہر وانیہ کو کمر سے پکڑے اپنی گود میں لیتا روم کی طرف جاتا بولا تھا۔۔
ہہاہاہہاہاہہہہاہہہ مہر ایسا مذاق نہیں اچھا تم زرجان خان کے بیٹے ہو ۔۔
ہو ہی نہیں سکتا تم ان کے بیٹے نہیں ہو جھوٹ کم بولا کرو ۔۔
وانیہ قہقہ لگاتے مہر کی گردن میں بائیں ڈالے بولی تھی ۔
ہمممم ۔۔ مہر چپ ہو گیا تھا اب اسے کیا بتاتا وہ ایک دہشتگرد کا بیٹا تھا ۔۔
لالہ کدھر تھے ۔۔
میں کب سے ویٹ کر رہا تھا سب کو تیار کر دیا ۔۔
حدید شام کو پلیس آیا تھا جب انس اس کے قریب آتا روٹھا سا منہ بناے بولا تھا۔۔
ارے میرا بچہ او مجھے تیار کرو اب ۔۔
حدید اس کا گال چومتا ہوا بولا تھا۔۔
کیا لالہ ایسی حرکتیں مت کیا کرو شرم آتی ہے ۔۔
انس ہاتھ نچاتا ہوا بولا تھا ۔
ہاہاہہاہہہاہ۔۔
حدید کا قہقہ گونجا تھا۔۔۔
بھابھی کو تیار کرنا ہے بس ۔۔
انس پری پریشان ہوتا بولا تھا جانتا تھا روشانے اس سے نفرت کرتی ہے ۔۔
تیار ہو جاے گی تم فکر مت کرو او ۔۔
سیڑھیاں چڑھتے وہ سکون سے بولا تھا ۔۔
ی۔یہ مجھے تیار کرے گا چچچچ خبردار جو مجھے چھوا ۔۔
میں خودی تیار ہو جاؤ گی تم دفع ہو جاؤ ۔۔۔
انس اس کے روم میں آیا تھا جب روشانے دیکھ غصے سے پھکاری تھی۔۔
انس نے شکوہ کرتی نگاہوں سے حدید کو دیکھا تھا ۔۔
روشنی تم چاہے کسی سے بھی ایسی بکواس کیا کرو مجھے فرق نہیں پڑتا انس کو ایسا مت کہا کرو باقی تیار یہ ہی کرے گا تمہیں ۔۔
حدید اس کے پاس جاتا دانت پیستے بولا تھا ۔۔
ت۔۔۔
چلو انس میک اپ کرو اس روشن دان کا ۔۔۔
وہ بول رہی تھی جب حدید اس کے لبوں پر ٹپ لگاتے بولا تھا ۔۔۔
انس اب سکون سے اس کا میک اپ کر رہا تھا جبکہ حدید دانت نکال رہا تھا۔۔
ت۔تم نے اچھا نہیں کیا ہادی ۔۔
انس اسے تیار کرتا روم سے باہر چلا گیا تھا جب تیار ہوی روشانے برا سا منہ بناے بول رہی تھی ۔۔
جہاں پنک لہنگے کے ساتھ وہ نیٹ کا کورٹ پہنے شراکت میک اپ کیے بالوں کا جوڑا بناے وہ روٹھی ہوی حدید کو بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔
بہت پیاری لگ رہی ہو چلو باہر ا جاو۔۔
حدید اسے کمر سے پکڑے اس کا ماتھا چومتے باہر جاتا بولا تھا۔۔۔
اپنے ماتھے پر اس لمس پاتے روشانے کا جسم کانپا تھا۔۔
انہیں ٹھرکی۔۔
وہ برا سا منہ بناے بولی تھی۔۔
بہت خوبصورت لگ رہی اپو آپ سچی۔۔۔
زینب اپنے سامنے رعنا کو پہلی دفعہ اتنے میک اپ کیے اور لہنگے میں دیکھ خوش ہوتی بولی تھی ۔۔۔
جہاں وہ ہلکے سا میک اپ کیے سنہری بالوں کو کرل کیے بیلو کلر کے لہنگے میں وہ ملبوس ہال میں آی تھی جہاں اسٹیچ پر بیٹھی زینب مسکراتی بولی تھی جو گرے لہنگا پہنے بیٹھی تھی ۔۔۔سوہا نے سی گرین جبکہ روشانے نے پنک امن نے ریڈ لہنگے پہنے تھے۔۔
یہ تو انس نے اتنا تیار کر دیا مجھے ورنہ میں ایسے ہی ٹھیک تھی۔۔۔
رعنا اس کا گال چومتی ہوی بولی تھی ۔۔
اسے وہ عزیز تھی آخر اس کے بھای کی لٹل ڈول تھی وہ ۔۔۔
اپو ریسٹ کر لیتی آپ کو بخار ہے۔۔
وقار حدید احمد مہر سب ہی اسٹیچ پر اے تھے جب وقار بولا تھا۔۔۔
ڈر کی وجہ سے رعنا کو بے حد پیار ہو چکا تھا اسے اپنے قدموں پر چلنا مشکل ہو رہا تھا لیکن اپنے بھای کے لیے وہ ا گی تھی۔۔
مس فائر تمہیں بخار تھا تو رہنے دیت۔۔
میں ٹھیک ہو تم لوگ پریشان مت ہو ۔۔
حدید بول رہا تھا جب وہ مسکراتی بولی تھی۔۔۔
اچھا دیکھو میری شادی تو سیدھی ہو گی میں سوچ رہا تھا ہلدی لگاتے ۔۔
حدید اپنی سوچ بیان کرتا مسکرایا تھا۔۔
پاگل ہو کیا ہلدی پہلے ہ۔۔
آغا میں ابھی ہلدی کی رسم کرنا چاہتا چلو سب تیار رہو ۔۔۔
احمد امن کے پاس بیٹھتا بول رہا تھا جب وہ ملازمہ سے ہلدی کا باؤل منگواتے بولا تھا۔۔
سب نے اس کی طرف عیجب نظروں سے دیکھا تھا ۔۔
چلو بات ایسی ہے کہ یہاں پر جو بھی کپل ہے وہ سب ایک دوسرے کو ہلدی لگاے گے ۔۔
حدید باؤل پکڑے بولا تھا۔۔
پہلے میں کرتا ہو ہماری بھی رسم ہو جاے گی۔۔
مہر جلدی سے اپنے ہاتھوں میں ہلدی لیتا بولا تھا۔۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو مہررانی ۔۔
مہر ہلدی لیتا وانیہ کے گال پر لگاتا ہوا بولا تھا ۔۔
جب وہ شرماتے ہوے اپنی گال سے لگی ہلدی اس کی گال سے ٹچ کرتے لگایا تھی ۔۔
مہر مسکرایا تھا اس کی حرکت پر ۔۔۔
سب کے کہنے پر احمد نے بھی ہلدی لیے امن کے گال پر لگایا تھی جب امن نے دانت نکالے وہی ہلدی احمد کی آنکھوں پر لگای تھی ۔۔
مجھے یہ گرین آنکھیں پسند ہے بہت آپ کی۔۔
امن نے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی ۔۔
جب احمد نے اسے دیکھا تھا کتنا چاہتی تھی وہ اس کو ۔۔
لٹل ڈول مجھے تمہارے گال بہت پسند ہے ۔۔
وقار ہلدی زینب کے پھولے گال پر لگاتا بولا تھا ۔۔
جب اس نے بھی شرماتے ہلدی اس کے ناک پر لگای تھی ۔۔
آپ کا غصہ ناک پر رہتا ہے مجھے یہ پیاری لگتی ہے ۔۔
زینب نے ہلدی لگاتے شرماتے سرگوشی کی تھی ۔۔
روشن دان۔ اتنی پیاری ہو مجھے تمہارا ماتھا پسند ہے ۔۔
حدید ہلدی لیتا اس کے ماتھے پر لگاے بولا تھا جو شدید غصے میں اسے گھور رہی تھی۔۔
یہ جو تمہاری فضول سی آواز سے زہر لگتی مجھے ۔۔
ہلدی اپنے ہاتھوں سے بھرتے روشانے نے اس کی گردن پر لگاتے کہا تھا۔۔۔
لیکن تم مجھے تب بھی پیاری لگتی ہو ۔۔
حدید مسکراتا اس کا ماتھا چومتے بولا تھا ۔۔
روشانے کو دوسری بار اس کا لمس اپنے ماتھے پر پاتے وہ غصے میں اس کی گردن پر جکھتی دانت گاڑھ چکی تھی۔۔
ہاہہوہہہہہہہ۔۔۔
روشانے کی حرکت پر سب نے ہوئٹنگ کی تھی جب وہ ہوش میں آتی شرمندہ ہو چکی تھی جہاں حدید اپنی گردن پکڑے بیٹھا تھا۔۔۔
ہاے لڑکی صبر کر لیتی روم میں ہی جانا تھا ۔۔
حدید اس کے کان میں سرگوشی کرتا بولا تھا اس کی آواز اتنی تھی کہ سب نے سن لیا تھا ۔۔
بے شرم ٹھرکی ۔۔
شرم سے لال ہوتے چہرے کے ساتھ وہ اس کے پیٹ میں مکہ مارتی بولی تھی۔۔۔
اپ۔اپووو دھیان سے اے میں آپ کو روم تک چھوڑ دو ۔۔
رعنا ان سب کو پیار دیکھتی مسکرا رہی تھی جب وہ چکراتی گرتی تبھی وقار نے اٹھتے کمر سے سے پکڑتے بولا تھا ۔۔
م۔میں ٹھیک ہو شاہد سر درد کی وجہ سے چکر ا رہے ہے تم بیٹھو میں چلی جاتی ہو ۔۔۔
رعنا بامشکل بولی تھی وقار کے ہاتھوں کی ہلدی اس کے گال پر لگی تھی ۔۔
اے میرے ساتھ میں چھوڑ دیتی ہو تمہیں ۔۔
سوہا رعنا کا ہاتھ پکڑے ساتھ لے کر جاتی بولی تھی ۔۔
اس دن میں نے غصہ زیادہ کر دیا تھا سوری ۔۔
ہال کے ایک روم میں اسے لاتے سوہا اپنا لہنگا سنبھالتی اسے اندر لے کر جاتی بولی تھی ۔۔
کوی بات نہیں میں سمجھ سکتی ہو ۔۔
رعنا اس کے گال کو چھوتی بولی تھی ۔۔۔
تمہیں بخار زیادہ ہے ریسٹ کرو میں میڈیسن بیھجتی ہو ۔
سوہا اس کا گال چومتی ہوی بولی تھی وہ جانتی تھی رعنا کا قصور بھی نہیں تھا ۔۔
سب حالات ایسے ہی ہو گے تھے ۔۔
ی۔یہ گرمی کیوں لگ رہی ہے شاہد بخار کی وجہ سے ۔۔۔
سوہا کے جانے کے بعد وہ بیڈ پر لیٹ چکی تھی جب گرمی محسوس کیے وہ دوبارہ اٹھتی بولی تھی ۔۔۔
یہ اتار دیتی ہو ویسے بھی کوی یہاں نہیں ۔۔
روم کے ڈور اور ونڈو بند دیکھ وہ اپنے لہنگے پر پہنی نیٹ کی جیکٹ کو اتارے بولی تھی ۔۔
افففف وکی نے یہ ہلدی کب لگای ۔۔
شیشے میں اپنا چہرہ ہلدی سے بھرا دیکھ وہ بولی تھی ۔۔۔
بخار کبھی بھی کم نہیں ہو گا جب تک میں اپنا ڈر کسی کو نہ بتا دو صام انکل کو بتاتی ہو ۔۔
ٹشو سے اپنی گال صاف کرتی وہ دل میں سوچ رہی تھی ۔۔۔
دونوں مل کر بتاے گے شادی کا ظاہر سی بات ہے انہیں بھی خوشی ہونی چاہے ان کی بیٹی کی شادی ایک اس کے ساتھ ہوی ہے مس جنگلی بلی ۔۔۔
وہ ابھی اپنے خیالوں میں مگن تھی جب صوفے سے اٹھتے ایول نے اسے پیچھے سے پکڑتے شیشے کے ساتھ لگاے بھاری سرگوشی کرتا بولا تھا ۔۔۔
ب۔بدفانی ریچھ ۔۔
رعنا اپنے قریب اسے پاتے ہلاتی بولی تھی اسے امید نہیں تھی وہ یہاں بھی ا جاے گا ۔۔
دشمن کو ہمشیہ قریب رکھنا چاہے ہم تمہیں اپنی قید میں رکھے گے ۔۔
ایول اس کی گردن پر اپنے سرد لب رکھتا بولا تھا ۔۔۔
پ۔پلیز۔۔
اپنے جسم پر اس کا لمس پاتے وہ تڑپتی بولی تھی۔۔
ہم نے کچھ نہیں کیا ابھی یہ آنسو بہانے بند کرو ۔۔
شدید غصے میں رعنا کا رخ اپنی طرف کرتے ایول غرایا تھا ۔۔۔
د۔دور رہا کرو ڈ۔ڈر لگتا ہے ۔۔
اپنے سامنے روشنی میں ایول کا خوبصورت چہرہ دیکھ وہ آنسو بہاتے روتی بولی تھی ۔۔
وہ اس بات پر مانے کو راضی ہو گی جتنا وہ بچپن میں خوبصورت تھا جوانی میں بے تحاشہ خوبصورتی کا پیکر بن چکا تھا جو بھی اس کی طرف ایک نظر دیکھے وہی جم جاے اس کا حسن دیکھ کر ۔۔۔
ارے ہمارا بے بی ابھی تو ان سانسوں کو ختم کرنا ہے ۔۔
رعنا کا منہ دوبوچتے وہ طنزیہ بولا تھا ۔۔
اپنے چہرے پر اس کے برف جیسے سرد ہاتھ پاتے وہ گھبرای تھی۔۔۔
وہ انجان تھی ایول کیا کرنے والا تھا اس کے ساتھ ۔۔
